بھارت پاکستان کے تمام مطالبات پر ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے سابقہ موقف پر قائم رہا
بلوچستان کے حوالے سے پاکستان کے ثبوت بے بنیاد قرار دے کر مستر کر دئیے
پاکستان سے جماعۃ الدعوۃ سمیت دیگر تنظیموں کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ
ممبئی حملوں کے حوالے سے پاکستانی اقدامات کو ناکافی قرار دے دیا، پانی کا مسئلہ سندھ طاس معاہدے کے تحت حل کیا جائے گا
بھارتی سیکرٹری خارجہ نروپماراؤکی نئی دہلی میں سیکرٹری خارجہ سلمان بشیر سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب
نئی دہلی۔بھارت کی ہٹ دھرمیکے باعث پاکستان اور بھارت کے درمیان خارجہ سیکرٹری سطح کے مذاکرات ناکام ہو گئے ہیں۔ بھارت پاکستان کے تمام مطالبات پر ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے سابقہ موقف پر قائم رہا۔ بلوچستان کے حوالے سے پاکستان کے ثبوت بے بنیاد قرار دے دئیے۔ پاکستان سے جماعۃ الدعوۃ سمیت دیگر تنظیموں کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ کر تے ہوئے ممبئی حملوں کے حوالے سے پاکستانی اقدامات کو ناکافی قرار دے دیا۔ پانی کا مسئلہ سندھ طاس معاہدے کے تحت حل کیا جائے گا۔ بھارتی سیکرٹری خارجہ نروپماراؤ نے گزشتہ روز نئی دہلی میں سیکرٹری خارجہ سلمان بشیر کی قیادت میں پاکستانی وفد سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ممبئی حملوں کے بعد پاک بھارت جامع مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے تھے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا ختم ہو گئی تھی اور اس اعتماد کی فضا کو اونا بم دھماکو ںنے مزید نقصان پہنچایا انہوں نے کہا کہ پاکستانی وفد کے ساتھ ملاقات میں کھلے ذہن کے ساتھ بات کی ہے سب سے پہلے اعتماد بحال کر نا ہو گا اس کے بعد مرحلہ وار بات آگے بڑھے گی دہشت گردی کے حوالے سے ہمارے جو خدشات تھے ان سے پاکستان کو آگاہ کیا ہے اور اپنے ہم منصب کو بتایا ہے کہ وہ اپنی سر زمین بھارت کے خلاف دہشت گردوں کو استعمال نہ کر نے دیں انہوں نے کہا کہ پاکستان ممبئی حملوں کے ملزمان کو انصاف کے کٹہرے تک لائے۔ لشکر طیبہ اور جماعۃ الدعوۃ کے خلاف کاروائی کی جائے لشکر طیبہ نے آزادکشمیر کے اندر ریلیاں نکالی ہیں اور بھارت کے خلاف اشتعال انگیز باتیں کی ہیں ۔ پاکستان نے ممبئی حملوں کے حوالے سے تسلی بخش اقدامات نہیں کئے۔ بھارتی حکومت اپنے شہریوں کو مکمل تحفظ فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے دوران سرحد پر بلا اشتعال فائرنگ کے واقعات پر بھی بات چیت کی گئی ہے۔پاکستان نے بھی دیگر مسائل پر بات چیت کی ہے اور ہم نے ان کے سامنے اپنے قومی موقف کا اعادہ کیا ہے ۔ پاکستان اگر دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کرے گا تو دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا بحال ہو گی ہم پاکستان کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنا چاہتے ہیں ۔ بھارت نے کبھی مذاکرات کے راستے بند نہیں کئے ۔ نروپماراؤ نے کہا کہ پاکستان نے بتایا ہے کہ وہ ممبئی حملوں کے ذمہداران کو انصاف کے کٹہرے تک لانے کے لئے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے دوران افغانستان پر کوئی بات چیت نہیں کی گئی تاہم بلوچستان کے حوالے سے پاکستان میں جو ثبوت فراہم کیے ہیں وہ بے بنیاد ہیں بھارت کو کسی دوسرے ملک کے اندر اندرونی معاملات میں مداخلت کی کوئی ضرورت نہیں۔ مذاکرات خوش آئند ہیں لیکن ان میں سارک کانفرنس کے حوالے سے کوئی بات چیت نہیں کی گئی انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے حوالے سے ہمارے موقف کو سنا ہے اور کہا ہے کہ وہ خود دہشت گردی کا شکار ہیں اور اس مسئلے کو اچھی طرح سے سمجھتے ہیں کہ پاکستان نے اس مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کر نے کی یقین دہانی کروائی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے مذاکرات کے دوران پانی کا مسئلہ بھی اٹھایا ہے ہم نے انہیں کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کے مطابق پانی کے مسائل حل کئے جا سکتے ہیں دونوں ممالک کے انڈس واٹر کمشنر کی ملاقاتیں جاری رہنی چاہئیں ۔ سندھ طاس معاہدے کے تحت طے شدہ میکانیزم کے ذریعے ہی پانی کا مسئلہ حل کیا جا سکتا ہے انہوں نے کہا کہ ہم نے پاکستان کو ممبئی حملوں کے حوالے سے شواہد کی تین دستاویزات دی ہیں ۔ حافظ سعید کا بھارت کے خلاف اشتعال انگیز ایجنڈا ہے پاکستان اس کے خلاف کاروائی کرے کیونکہ اس طرح کے بیانات دونوں ممالک کے تعلقات خراب کر نے کا باعث بنتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سے ہماری بات چیت جاری رہے گی ۔ الیاس کشمیری نے اونا بم دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی ہے پاکستان نے اس کی مذمت کی ہے ۔ ایک سوال پر انہو ںنے کہا کہ پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کی اشد ضرورت ہے ایک اور سوال پر انہو ںنے کہا کہ پاکستانی ہم منصب نے انہیں پاکستان کے دورے کی دعوت دی ہے۔
Entries Tagged as 'ہندوستان'
بھارت کی ہٹ دھرمی،پاکستان اور بھارت کے درمیان خارجہ سیکرٹری سطح کے مذاکرات ناکام
February 25th, 2010 · 1 Comment
انڈیا پاکستان مذاکرات شروع ‘ کشمیر بنیادی مسئلہ ہے اسے ایڈریس کیا جانا لازمی ہے ۔ پاکستان
February 25th, 2010 · No Comments
بھارت سے مذاکرات میں کشمیر ، بلوچستان اور دہشت گردی سمیت دیگر اہم معاملات زیر غورآئیں گے۔ سلمان بشیر
اگرجموںو کشمیر کا مسئلہ 60 سال پہلے حل ہو جاتا تو یقینا آج حالات کچھ اور ہوتے
ترجمان دفتر خارجہ عبدالباسط کی نئی دہلی میں میڈیا سے گفتگو
نئی دہلی ‘ سیکرٹری خارجہ سلمان بشیر نے کہا ہے کہ مذاکرات میں کشمیر ،بلوچستان اور دہشت گردی کے مسئلے پر بات چیت ہو گی ۔ یہاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ ایک اہم مسئلہ ہے جبکہ پانی اور بلوچستان کے معاملات کے علاوہ دہشت گردی کے حوالے سے بھی بات چیت ہو گی ۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک دہشت گردی کا معاملہ ہے یہ پاکستان سمیت پوری دنیا کا مسئلہ ہے دریں اثناء میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے دفتر خارجہ کے ترجمان عبدالباسط نے کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ مذاکرات میں جموں وکشمیر کے مسئلے سمیت دہشت گردی اور دیگر اہم معاملات زیر غور آئیں گے انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر ایک بنیادی مسئلہ ہے اور اس کو ایڈریس کیا جانا بہت ضروری ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستانی وفد مثبت سوچ کے ساتھ بھارت آیا ہے اس لیے بجا طور پر توقع کی جا سکتی ہے کہ مذاکرات کا نتیجہ بھی مثبت ہو گااور یہ مذاکرات دونوں ممالک کے لیے سود مند رہیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی حکومتیں اور عوام تمام باہمی تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں اور یہ سوچ علاقے کے استحکام اور خوشحالی کے لیے مفید ہے ۔ ترجمان نے کہا کہ ان کے وفد کی پوری کوشش ہو گی کہ مذاکرات مثبت اور نتیجہ خیز ثابت ہوں۔ دہشت گردی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ ایک عالمی مسئلہ ہے ۔ اور پاکستان بھی دہشت گردی کے حوالے سے بات چیت کانچا ہے گا کیونکہ پاکستان کے بھی تحفظات ہیں تاہم انہوں نے کہا کہ جموںو کشمیر ایک بنیادی مسئلہ ہے اور باقی تمام مسائل اس کے ساتھ وابستہ ہیں۔ اگر جموںو کشمیر کامسئلہ60 سال پہلے حل ہو جاتا تو یقینا آج حالات کچھ اور ہوتے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ یہ مسئلہ ان مذاکرات میں بھی اٹھائیں گے ۔ ترجمان نے کہا کہ یقینا دونوں ممالک یہ مسئلہ حل کرنا چاہتے ہیں انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر ایک اہم اور بنیادی مسئلہ ہے اور اس پر اقوام متحدہ کی قرار دادیں موجود ہیں ۔ اور پاک بھارت تعلقات کی خرابی کی اصل وجہ مسئلہ کشمیر ہے ۔ انہوں نے کہا کہا گر ان مذاکرات میں جموںو کشمیر کے مسئلے پر بات چیت نہ کی گئی تو بقول ان کے یہ ان مذاکرات کے ساتھ ناانصافی ہوگی ایک سوال کے جواب میں دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ممبئی حملوں کے حوالے سے پاکستان میں بھی مقدمہ جاری ہے۔ اور امید ہے کہ اس کے ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں ضرور لایا جائیگا
سچن ٹنڈولکر نے ون ڈے کرکٹ میں ڈبل سنچری بنا کر نیا عالمی ریکارڈ قائم کر دیا
February 24th, 2010 · No Comments
گوالیار۔جنوبی افریقہ کے خلاف کھیلے جانے والے ایک روزہ میچ میں بھارتی کھلاڑی سچن ٹنڈولکر نے ایک روز میچوں کی تاریخ کی پہلی ڈبل سنچری بنائی ہے اور پاکستان کے سابق کرکٹر سعید انور کا 194رنز کا انفرادی عالمی ریکارڈ توڑ کر ون ڈے کرکٹ میں ڈبل سنچری بنانے والے پہلے کھلاڑی بن گئے ہیں۔گوالیئر میں جنوبی افریقہ کے خلاف کھیلے جانے والے دوسرے ایک روزہ سچن نے 147 گیندوں پر 25 چوکوں اور 3 چھکوں کی مدد سے دو سو رن بنائے اور وہ ناٹ آؤٹ رہے۔یہ ایک روزہ میچوں کی تاریخ کا سب سے بڑا سکور ہے۔بھارت نے جنوبی افریقہ کو 402کا ہدف رکھا ہے ۔ سچن ٹنڈولکر نے ڈبل سنچری سکور کر نے کی اننگز کے دوران ٹنڈولکر نے سعید انور کا ریکارڈ توڑنے سے قبل زمبابوین بیٹسمین کو ینٹری کا ریکارڈ بھی توڑا اور اب وہ ایک اور نیا ریکارڈ یعنی ون ڈے میں ڈبل سنچری کی جانب بڑھ رہے ہیں۔یاد رہے کہ سعید انور نے اپنی مذکورہ بالا اننگز بھارت ہی کے خلاف 1997 میں بنایا تھا۔
بھارت سے مذاکرات کیلئے سیکرٹری خارجہ کی زیر قیادت وفد نئی دہلی روانہ ہوگیا
February 24th, 2010 · No Comments
مذاکرات میں کوئی طے شدہ ایجنڈا نہیں مسئلہ کشمیر اورپانی سمیت تمام معاملات پر بات ہوگی
دہشت گردی کے سدباب کیلئے دونوں ممالک کو مل کر کام کرنا ہوگا، مذاکرات میں بلوچستان ودیگر علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات میں بھارت کے ملوث ہونے پر بھی بات ہوگی
سیکرٹری خارجہ سلمان بشیر کی لاہور ایئرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو
لاہور۔ سیکرٹری خارجہ سلمان بشیر نے کہا ہے کہ کل دہلی میں شروع ہونے والے پاک بھارت سیکرٹری خارجہ کی سطح کے مذاکرات میں مسئلہ کشمیر اور پانی کے ایشو سمیت تمام معاملات پر بات ہوگی تاہم فی الحال ان مذاکرات کو کامیابی یا ناکامی کی نظر سے نہیں دیکھنا چاہئے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز بھارت روانگی سے قبل لاہور ایئرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان سیکرٹری خاجہ کی سطح پر مذاکرات کل نئی دہلی میں شروع ہورہے ہیں۔ سیکرٹری خارجہ نے کہا کہ وہ اس امید پر بھارت جارہے ہیں کہ مذاکرات کے نتائج مثبت برآمد ہوں گے۔ ہماری خواہش ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان وزراء خارجہ کی طح پر کمپوزٹ ڈائیلاگ کو آگے بڑھایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کل شروع ہونے والے مذاکرات کا کوئی طے شدہ ایجنڈا نہیں ہے دونوں اطراف سے کوئی بھی ایشو اٹھایا جاسکتا ہے تاہم مذاکرات میں پاکستان کی ترجیح مسئلہ کشمیر ہوگا جبکہ پانی کے مسئلے کے علاوہ لاہور سے 13سالہ بچے کے ریل کے ڈبہ میں غلطی سے اٹاری چلے جانے ارو اس کی رہائی سمیت تمام ایشوز پر بات ہوگی۔ ایسے مسائل کا حل دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بھارت کے سامنے نہ صرف کشن گنگا بلکہ پانی سے متعلق دیگر ایشوز بھی اٹھائے جائیں گے۔ بھارت کی جانب سے ممبئی حملوںاور دیگر دہشت گردی کے واقعات سے متعلق ملزمان کی گرفتاری وحوالگی کے مطالبہ کے سوال پر انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اس وقت عالمی ، ریجنل اور لوکل مسئلہ ہے جسے بھارت بھی تسلیم کرچکا ہے۔ ایسے واقعات کے سدباب کیلئے دونوں ممالک کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ ہم بلوچستان اور دیگر علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات میں بھارت کے ملوث ہونے سے متعلق معاملہ پر بھی بات کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے مذاکرات میں شرکت کرنے والے پاکستانی وفد میں تبدیلی کا کوئی مطالبہ نہیں کیا۔ آٹھ رکنی وفد بھارت سے مذاکرات کیلئے جارہا ہے جو 26فروری کو واپس آئے گا۔ اس سوال پر کہ کیا بھارت کو بھی وفد پاکستان بھیجنے کی دعوت دی جائے گی انہوں نے کہا کہ ہم تو پہلے سے ہی ان مذاکرات کو آگے بڑھانے کے خواہاں ہیں اب کل نئی دہلی میں ان مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کرنے جارہے ہیں۔
پاک بھارت حالیہ مذاکرات بے معنی ہیں جن میں محض دہشت گردی پر بات ہو گی ، بیرسٹر سلطان محمود چوہدری
February 24th, 2010 · No Comments
عالمی برادری خطے میں امن کے لیے سنجیدہ ہے تو بھارت پر مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے دباؤ ڈالے
اسلام آباد۔آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم وجموںوکشمیر پیپلزمسلم لیگ کے صدر بیرسٹر سلطان محمودچوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان بدھ سے شروع ہونے والے مذاکرات اس لحاظ سے بے معنی ہیں چونکہ وہ جامع مذاکرات نہیں ہیں بلکہ بھارت کی ڈکٹیشن پر محض دہشت گردی کی حد تک بات چیت ہوگی۔اسطرح ایجنڈے پر کشمیر سمیت اہم اور بنیادی ایشوز شامل نہیں ہیں۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے آج یہاں اپنی رہائش گاہ پر اخبار نویسوں سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ بیرسٹر سلطان محمودچوہدری نے کہا کہ اگرچہ ہم کسی قسم کی بات چیت کی حوصلہ شکنی نہیں کرنا چاہتے اور ان مذاکرات کے بھی خلاف نہیں ہیں تاہم جن مذاکرات سے کچھ حاصل نہ ہو ان کا کوئی فائدہ بھی نہیں ہے۔ بیرسٹر سلطان محمودچوہدری نے کہا کہ 9/11 کے بعد انٹرنیشنل کمیونٹی کے دباؤ میں آکر بھارت نے پاکستان کے ساتھ جامع مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا تھا جس میں کشمیر سمیت تمام کور ایشوز پر بات ہوئی تھی لیکن ممبئی دھماکوں کا بہانہ بنا کر بھارت نے جامع مذاکرات کا سلسلہ نہ صرف ختم کردیا بلکہ علاقے میں کشیدگی پیدا کردی اور بھارتی آرمی چیف کے دھمکی آمیز بیانات آنے لگے اسطرح بھارت کے اصل عزائم کھل کر سامنے آگئے ہیں۔تاہم بھارت اب دکھاوے کے لئے بات چیت تو کررہا ہے لیکن بھارت امن کے لئے نہ تو کبھی مخلص رہا ہے اور نہ ہی سنجیدہ بلکہ اپنی روایتی ہٹ دھرمی پر ہمیشہ قائم رہا ہے۔ بیرسٹر سلطان محمودچوہدری نے کہا کہ اگر بین الاقوامی برادری اس خطے میں قیام امن کے لئے واقعی سنجیدہ ہے تو وہ بھارت پر مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے دباؤ ڈالے کیونکہ اس ریجن میں امن مسئلہ کشمیر کے حل سے ہی منسلک ہے بیرسٹر سلطان محمودچوہدری نے کہا کہ کشمیریوں نے باسٹھ برس میں بہت تشد د دیکھا ہے اور بھارت کی آٹھ لاکھ فوج کے ذریعے ظلم و بربریت کا نشانہ بنے ہوئے ہیں اور اب یقینی طور پر وہ امن چاہتے ہیںاس لئے ہم کسی قسم کی بھی بات چیت کے تو خلاف نہیں ہیں تاہم ہمارا یہ واضح موقف ہے کہ اس ریجن کا اصل مسئلہ کشمیر ہے اور مسئلہ پر بات چیت کے لئے اس مسئلہ کے اصل فریق کشمیری عوام کومذاکرات میں شامل کیا جائے۔تاکہ یہ مسئلہ حل ہو سکے۔کیونکہ دوطرفہ مذاکرات سے نہ تو پہلے کوئی نتیجہ سامنے آیا ہے اور نہ ہی آئندہ سامنے آئے گااور اس مسئلے کے حل نہ ہونے سے نہ ہی امن کی طرف کوئی پیش رفت ہو سکے گی۔
بھارت سے بات چیت میں مسئلہ کشمیر کو ترجیح دی جائے گی ‘ سلمان بشیر
February 24th, 2010 · No Comments
بھارتی ہم منصب سے ملاقات میں پانی سمیت دیگر امور بھی زیر بحث آئیں گے
نئی دہلی روانگی سے قبل سیکرٹری خارجہ کی میڈیا سے گفتگو
لاہور۔سیکرٹری خارجہ سلمان بشیر نے کہا ہے کہ بھارت سے بات چیت میں مسئلہ کشمیر کو ترجیح دی جائے گی جبکہ پانی سمیت دیگر امور بھی زیر بحث آئیں گے ۔ بدھ کو یہاں نئی دہلی روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان بشیر نے کہا کہ بھارت جانے والے وفد میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے ۔ خارجہ سیکرٹریز ملاقات میں پانی کے مسئلے سمیت دیگر امور پر بات ہو گی ۔ انہوں نے کہا کہ کشیدگی میں کمی کے حوالے سے عالمی برادری پاکستان کی کاوشوں کو سراہتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ کل ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے پرامید ہیں ۔
پاکستان کے بعد بھارت نے بنگلہ دیش کے ساتھ بھی کشیدگی بڑھا دی
February 23rd, 2010 · 1 Comment
بھارت، بنگلہ دیش سرحد پر فوج آمنے سامنے، فائرنگ کا تبادلہ،لوگ خوف سے نقل مکانی کرنے لگے
بھارت نے ماؤنواز باغیوں سے مشروط مذاکرات سے بھی انکار کر دیا
ڈھاکہ۔پاکستان اور چین کے بعد بھارت نے تیسرے ہمسایہ ملک بنگلہ دیش سے بھی سرحدی کشیدگی بڑھانا شروع کردی۔ منگل کو سرحد پر دونوں ممالک کی افواج کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے ۔ سرحد کے مقامی لوگوں نے نقل مکانی شروع کر دی ہے ۔ادھر بھارت نے ماؤ نواز باغیوں سے مشروط بات چیت سے بھی انکار کر دیا ہے ۔اطلاعات اور بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست میگھالئے میں بنگلہ دیشی سرحد پر بھارت اور بنگلہ دیش کی فورسز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا،جس سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے اور دوطرفہ فائرنگ سے خوفزدہ ہو کر مقامی لوگ اپنے گھر کھلے چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں اور تاحال اپنے گھروں کو واپس نہیں لوٹے ۔ بنگلہ دیش نے کہا ہے کہ بھارتی فورسز کی جانب سے سرحدوں پر بلا اشتعال فائرنگ معمول بنتی جارہی ہے۔ادھر بھارتی وزیر داخلہ چدم برم نے ماؤباغیوں سے مشروط بات چیت سے انکار کردیا ۔برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارتی وزیر داخلہ کاکہنا تھا کہ وہ ماؤباغیوں سے سادہ سے بیان کی امید کرتے ہیں کہ وہ تشدد ترک کرنے کا اعلان کریں ۔انہوں نے کہا کہ وہ ماؤ باغیوں سے مذاکرات میں کسی قسم کا’’ اگر ‘‘اور’’ لیکن ‘‘نہیں چاہتے ۔ان کا کہنا تھا کہ ماؤ باغیوں کی جانب سے پہلے بھی متعدد مرتبہ اس طرح کے بیانات دیئے جاچکے ہیں لیکن کسی مستند بیان کے آنے تک حکومت اس حوالے سے کسی قسم کی پیشرفت نہیں کرسکتی ۔وزیر داخلہ پی چدامبرم نے ماؤنواز باغیوں کی جنگ بندی کی پیشکش کے جواب میں ان سے سیدھا اور صاف بیان طلب کیا ہے۔ماؤنواز باغیوں کے ترجمان کشنجی نے پیر کو کہا تھا کہ اگر حکومت پچیس فروری سے 72 روز تک اپنا آپریشن بند رکھیں تو وہ تشدد بھی روکنے کے لیے تیار ہیں۔ماؤنواز باغیوں کی پیشکش پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ وہ ماؤنواز باغیوں سے اپیل کرتے ہیں کہ تشدد کا راستہ چھوڑ دیں اور انہیں ایک سیدھا اور صاف بیان فیکس کر دیں جس کے بعد وہ اس معاملے پر وزیر اعظم سے بات چیت کریں گے۔وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ ماؤنوازوں کی جانب سے کوئی شرائط نہیں چاہتے ہوں اور وہ ماؤنواز بات چیت کے لیے کوئی شرط نہ رکھیں۔ ماؤنواز باغیوں کی جانب سے جنگ بندی کی پیشکش کے دوسرے باغیوں نے لالگڑھ کی ایک پولیس پوسٹ پر حملہ کیا ہے۔مغربی بنگال کے پولیس کے سپریٹنڈنٹ منوج ورما نے بتایا کے حملے میں کم از کم تین ماؤنواز ہلاک ہوئے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ لاڑ گڑھ کے نزدیک نارچہ گاؤں میں واقع سی آر پی ایف کے ایک کیمپ کے باہر تین میں سے ایک لاش برآمد ہوئی ہے جبکہ دو لاشوں کو وہ گاؤں سے باہر کھینچ کے لے گئے تھے۔
Tags: بریکنگ نیوز , مڈل ایسٹ , پاکستان , ہندوستان
پاکستان نے بھارتی مطالبے پر وزارت پانی وبجلی اور داخلہ کے نمائندوں کو وفد سے ہٹا دیا
February 23rd, 2010 · No Comments
پاکستان بھارت مذاکرات: پاکستانی وفد کل( بدھ) نئی دہلی روانہ
نئی دہلی ۔پاکستان اور بھارت کے درمیان سیکرٹری خارجہ کی سطح کے مذاکرات جمعرات 25 فروری کو نئی دہلی میں ہوں گے ۔پاکستان کا6 رکنی وفد آج بدھ کو واہگہ کے راستے نئی دہلی روانہ ہو گا ۔ پاکستان نے بھارت کے مطالبے پر وفد میں شامل وزارت پانی و بجلی اور داخلہ کے نمائندوں کو ہٹا دیا ہے۔ پاکستانی وفد کی قیادت سلمان بشیر کریں گے ۔ ان کی معاونت کے لیے ترجمان دفتر خارجہ عبد الباسط کے علاوہ دفتر کی انڈیا ڈیکس کے 2 اہلکار بھی بھارت جارہے ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان 26 نومبر 2008ء کے بعد یہ پہلا ضابطہ رابطہ ہے سیکرٹری خارجہ سلمان بشیر اپنی بھارتی ہم منصب نروپماراؤ سے جمعرات کو مذاکرات کریں گے۔ پاکستان کی جانب سے اس بات چیت کو جامع مذاکرات کی بنیاد کہا جا رہا ہے ۔ بھارت کی خواہش ہے کہ اس بات چیت کو صرف دہشت گردی کے معاملات سے نمٹنے کے طریقہ کار تک محدود رکھا جائے ۔بھارتی وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا کا کہنا ہے کہ جامع مذاکرات بد ستور معطل ہیں۔ ان کے اس بیان پر پاکستان کی جانب سے باضابطہ طور پر سخت رد عمل کا اظہار کیا گیا ہے اگر جمعرات کی بات چیت کے نتیجہ میں پاکستان اور بھارت جامع مذاکرات پر راضی ہوئے ہیں تو پانی کے ساتھ کشمیر سیاچن سرکریک تجارت کھیل ثقافت بلوچستان میں بھارتی مداخلت دہشت گردی اورقیدیوں کے تبادلے کے موضوعات پر بات چیت ہو سکتی ہے ۔ پاکستان نے بھارتی مطالبے پر 25 فروری کو بھارت جانے والے وفد میں تبدیلی کرتے ہوئے ۔ وفد میں شامل وزارت پانی و بجلی اور داخلہ کے نمائندوں کو ہٹا دیا ہے اور اب 8 رکنی وفد میں صرف وزارت خارجہ کے اراکین ہی شامل ہوں گے ۔ یاد رہے بھارت نے پاکستان سے وفد میں شامل وزارت پانی و بجلی اور داخلہ کے اراکین کو ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا جسے پاکستان نے تسلیم کر لیا ہے ۔
دفاعی ترقی کیلئے عالمی تعاون حاصل کیا جاسکتاہے ، بھارتی آرمی چیف
February 23rd, 2010 · No Comments
نئی دہلی۔بھارتی آرمی چیف جنرل دیپک کپور نے کہا ہے کہ بھارت دفاعی پیداوارکو ترقی دینے کیلئے عالمی تعاون کی تمام توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکتا ہے۔ نئی دہلی میں ایک تقریب میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ عالمی تعاون اور باہمی امداد کے ذریعے دنیا بھر میں وہ اپنا اعتماد بحال کرا سکتے ہیں جس سے ملکی سطح پر ٹیکنالوجی کے حوالے سے تمام مقاصد میں میں کامیابی مل سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیفینس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائیزیشن کا حالیہ آکاش میزائل تجربے سمیت بھارت کے جوہری طاقت بننے بھی اہم کردار رہا ہے۔
Tags: ہندوستان
پاک بھارت مذاکرات خوش آئند اور پیشرفت کی امید ہے ‘ امریکہ
February 23rd, 2010 · No Comments
نائب وزیر خارجہ برائے جنوبی ایشیاء رابرٹ بلیک کا انٹرویو
واشنگٹن۔امریکی نائب وزیر خارجہ برائے جنوبی ایشیاء رابرٹ بلیک نے کل بدھ کو ہونے والے پاک بھارت خارجہ سیکرٹریز مذاکرات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے دونوں ممالک کے درمیان جامع مذاکرات کی بحالی میں مدد ملے گی ۔ برطانوی خبر رساں ایجنسی کو ایک انٹرویو میں رابرٹ بلیک نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان خارجہ سیکرٹریز کی سطح پر مذاکرات اہم پیش رفت ہے ۔ امریکی نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ دونوں ممالک کے پاس ہی جامع مذاکرات کا عمل بحال کرنے اور دوطرفہ تعلقات کو معمول پر لانے کا نادر موقع ہے ۔ رابرٹ بلیک نے کہا کہ دونوں ممالک نے 2004 ء اور 2007 ء کے مذاکرات میں خاصی پیش رفت کی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کو پاکستان اور بھارت سے امید ہے کہ مذاکرات میں پیشرفت ہو گی ۔



