Urdu News

Urdu News…The 3rd Largest Online Urdu Newspaper

Urdu News header image 4

Entries Tagged as 'کشمیر'

سید علی گیلانی نے بھارتی مذاکراتی ٹیم سے مذاکرات کی پیش کش مسترد کر دی

February 9th, 2011 · No Comments · کشمیر

بھارت مذاکرات میں سنجیدہ نہیں ، مذاکرات سے پہلے پانچ نکاتی فارمولے کا جواب دے
مسئلہ کشمیر کو نظر انداز کر کے پاکستان بھارت مذاکرات کامیاب نہیں ہوں گے ، علی گیلانی کا خصوصی انٹرویو
اسلام آباد ‘ کل جماعتی حریت کانفرنس ( گ ) کے چیئرمین سید علی گیلانی نے بھارتی مذاکراتی ٹیم کی مذاکراتی پیشکش مسترد کر دی ہے اور واضح کیا ہے کہ کشمیر سے بھارتی فوجی انخلاء سہ فریقی مذاکرات پر آمادگی اور کشمیر کو متنازعہ تسلیم نہیں کئے جانے تک مذاکرات بے معنی ہوں گے ۔ بدھ کے روز نئی دہلی سے ثناء نیوز کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے سید علی گیلانی نے کہا کہ 31 اگست 2010 ء کو حریت کانفرنس نے پانچ نکاتی فارمولا دیا تھا ۔ اس فارمولے میں مقبوضہ کشمیر سے بھارتی فوجی انخلاء پاکستان بھارت اور کشمیری قیادت پر مشتمل سہ فریقی مزاکرات پر آمادگی ، کشمیر کو متنازعہ تسلیم کرنا ، قیدیوں کی رہائی ، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خاتمے کے مطالبات شامل ہیں ۔ بھارت کی طرف سے جب تک ان کا جواب نہیں دیا جاتا بھارتی مذاکراتی ٹیم سے مذاکرات بے معنی ہوں گے ۔ سیّد علی گیلانی نے کہا ہے کہ ہم بھارت کی آندھی طاقت کے سامنے سرنڈر نہیں کریں گے بھارت کے فوجی قبضے کو کسی بھی صورت میں قبول کرنے کیلئے تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکمرانوں کو عوامی رائے عامہ کا احترم کرتے ہوئے اپنی ضد اور ہٹ دھرمی ترک کرلینی چاہئے اور کشمیریوں کو اپنے مستقبل کے تعین کے حوالے سے فیصلہ کرنے کا موقع فراہم کیا جانا چاہئے۔سید علی گیلانی نے کہا کہ بھوٹان میں پاکستان بھارت خارجہ سیکرٹری سطح کے مذاکرات ہوئے ہیں۔ہم پاکستان بھارت مذاکرات کے خلاف نہیں تاہم مذاکرت کبھی نتیجہ خیز نہیں ہوئے صرف ایک ہی اعلان ہوتا ہے مذاکرات خوشگوار ماحول میں ہوئے بات چیت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔انہوں نے بھارتی مذاکرات کاروں کے اس اعلان کو مسترد کر دیا کہ حریت رہنما ان سے مزاکرات کریں یا تحریری تجاویز دیں۔ علی گیلانی نے کہا کہ 31 اگست 2010 کو حریت نے پانچ نکاتی فارمولے کی صورت میں اپنا موقف بھارت پر واضح کر دیا تھا ۔ جب تک ان تجاویز کا جواب نہیں آتا بات چیت بے معنی ہوگی۔مذاکرات کاروں کے مشن کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے علی گیلانی نے کہا کہ آخر وہ کون سی بات ہے جس کو ایک سال تک تحقیقات کرکے وہ معلوم کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ بھارتی حکمرانوں اور مذاکرات کاروں کو کیا اردو زبان سمجھ نہیں آتی ہے اورکیا وہ لفظِ آزادی کا مطلب نہیں سمجھتے ہیں؟ حریت چیئرمین نے کہا کہ مذاکرات کاروں کا یہ کہنا کہ وہ لوگوں کے پاس جاکر ان کی رائے معلوم کرنا چاہتے ہیں ، کشمیری قوم کا مذاق اْڑانے کے مترادف ہے 2010 میں جو کچھ کشمیر کی سڑکوں پر ہوتا رہا ہے کیا وہ حقائق سمجھنے کے لئے کافی نہیں ہے؟انہوں نے کہا کہ دلی والوں کو اب مہذب طریقہ اختیار کرلینا چاہئے، دن کو رات کہنے سے خود اْن کی پوزیشن مضحکہ خیز بن جاتی ہے اور وہ بے اعتبار ہوجاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 63 سال گذرنے کے بعد بھی کشمیری قوم بھارتی افواج کی موجودگی کو اْسی طرح ناپسند کرتی ہے جس طرح انہوں نے پہلے دن اْس کو ناپسند کیا تھا۔ اس عرصے کے دوران کشمیری عوام پر مظالم کے پہاڑ توڑے گئے لیکن اْن کا جذبہ آزادی ختم نہیں ہوسکا، بلکہ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ نئی جلاء اور نئی قوت ملتی رہی ۔ آج کی تاریخ میں اس قوم کی جو نسل جوان ہوکر تیار ہوگئی ہے وہ تو بھارتی قبضے کے خلاف ایسی شعلہ جوالا بن گئی ہے ۔ سید علی گیلانی نے پاکستانی اورکشمیری عوام سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ انہیں یہ حقیقت سمجھ لینی چاہئے کہ کشمیریوں کی محنت رائیگان نہیں جارہی ہے، بلکہ اْن کی قربانیاں رنگ لارہی ہیں اور عالمی برادری کے ساتھ ساتھ خود بھارت کے لوگ بھی کشمیریوں کے دکھ درد کو سمجھنے لگے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلہ کن مرحلے پر کسی بھی طرح کی کمزوری کا مظاہرہ نہیں کیا جانا چاہئے ، بلکہ ایک بڑے کاز کیلئے چھوٹے چھوٹے نقصانات کو خوشی خوشی انگیز کیا جانا چاہئے۔علی گیلانی نے کہا کہ موجودہ مزاحمتی تحریک کو ایک سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے تحت حصول مقصد تک برابر جاری رکھا جائے گا اور اس کو ابارشن کی نذرکرانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں ہماری تحریک کو متعدد بار کئی طرح کے جھٹکے لگے ہیں اور غیروں کے ساتھ ساتھ اپنوں نے بھی ہمارے ساتھ دھوکہ اور فریب کیا لیکن اب کی بار ایسا نہیں ہونے دیا جائے گا اور جب تک بھارت کشمیر کی متنازعہ حیثیت تسلیم نہیں کرتا بھارت سے بات چیت نہیں ہو سکتی۔ بھارت میں پاکستان کے ڈپٹی ہائی کمشنر ذوالفقار گردیزی سے ملاقات کے حوالے سے بتایا کہ ڈپٹی ہائی کمشنر مزاج پرسی کے لیے آئے تھے اس دوران پاکستان بھارت خارجہ سیکرٹری سطح کے مذاکرات کا مسئلہ بھی زیر بحث آیا ۔ انہوںنے کہا کہ میں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کے کئی ادوار ہوئے سیکرٹری سطح ، وزراء کی سطح ، وزیر اعظم کی سطح پر مذاکرات ہوئے ۔ سابق صدر پرویز مشرف بات چیت کے لیے خود بھارت تشریف لائے مگر ان مذاکرات کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا ۔ مذاکرات کے بعد ہر بار یہی بیان جاری کیا جاتا ہے کہ مذاکرات اچھے اور خوشگوار ماحول میں ہوئے ۔ بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق ہوا ہے ۔ علی گیلانی نے کہا کہ اچھے اور خوشگوار ماحول کے الفاظ کے آگے ہمیں کچھ سننے کو نہیں ملا کون سا مسئلہ حل کر لیا گیا ہے ۔ اس لیے ہمیں مذاکرات پر تحفظات ہیں جب تک کشمیریوں کو شامل کر کے کور ایشو پر بات چیت نہیں ہوتی یہی کچھ ہوتا رہے گا ۔ذوالفقار گریزی نے علی گیلانی کو بتایا کہ پاکستانی قوم حق خود ارادیت کی جدوجہد میں کشمیریوں کے ساتھ ہے ۔ اس بات کا اظہار اس دفعہ پھر یوم یکجہتی کشمیر منا کر کیا گیا ہے ۔ علی گیلانی نے کشمیریوں سے یکجہتی کادن منانے پر حکومت پاکستان اور پاکستانی قوم کا شکریہ ادا کیا ۔

Tags: ·

سوویت یونین جیسا بڑا ملک ٹوٹ سکتا ہے تو بھارت کا ٹوٹنا بھی ناممکن نہیں ۔۔میاں خورشید محمود قصوری

February 5th, 2011 · No Comments · پاکستان, کشمیر

بھارت میں انتہا پسندی پاکستان سے کم نہیں ۔مقبوضہ کشمیر میں پتھر اٹھانے والے بچے کل کچھ اور بھی اٹھا سکتے ہیں۔میاں خورشید محمود قصوری
لاہور ‘ سابق وزیر خارجہ اور متحدہ مسلم لیگ کے رہنما خورشید محمود قصوری نے کہا ہے کہ اگر سوویت یونین جیسا بڑا ملک ٹوٹ سکتا ہے تو مسئلہ کشمیر کی وجہ سے بھارت کا ٹوٹنا بھی نا ممکن نہیں ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوںنے گذشتہ روز متحدہ مسلم لیگ کے رہنما ہمایوں اختر کی رہائش گاہ پر یوم کشمیر کے سلسلہ میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ خورشید محمود قصوری نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان کشمیر کی وجہ سے چار بڑی جنگیں ہو چکی ہیں ان جنگوں میں دونوں طرف سب سے زیادہ نقصان عوام کا ہو اہے ۔بھارت مسئلہ کشمیر کی وجہ سے پاکستان سے خوف زدہ ہے اسی لیے وہ اسلحہ کے انبار لگا رہا ہے اگر بھارت یہی پیسہ اپنے ملک میں غربت کے خاتمے کے لیے استعمال کر ے تو کروڑوں عوام اپنا پیٹ بھر سکتے ہیں ۔بھارت میںترقی ہونے کے باوجود وہاں پر غربت بھوٹان اور نیپال سے بھی زیادہ ہے ۔پاکستان پر انتہا پسندی کا الزام لگانے والوں کو سوچنا چاہیے کہ بھارت میں انتہا پسندی اور بنیاد پرستی پاکستان کی نسبت کہیں زیادہ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ نہتے کشمیریوں کی تیسری نسل بھارتی تسلط کے خلاف نبرد آزما ہے آج یہ نئی نسل کے لڑکے مقبوضہ کشمیر میں پتھر اٹھائے آزادی مانگ رہے ہیں ۔اگر بھارت نے آزادی نہ دی تو یہ لڑکے کل کو کچھ اور بھی اٹھا سکتے ہیں ۔مسئلہ کشمیر پر بھارت سے بات چیت جاری رہنی چاہیے لیکن بھارت کو یاد رکھنا چاہیے کہ جب تک مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج موجود ہے اس وقت تک کشمیر میں امن ممکن نہیں ہے ۔اس موقع پر چوہدری ناصر محمود ایڈووکیٹ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں ہر طرح کے ہتھکنڈے استعمال کر چکا ہے لیکن آزادی کی آواز کو دبا نہیں سکا۔بھارت اس وقت امریکہ کے اسلحے کا دوسرا بڑا خریدار ہے ۔ جس کی بڑی وجہ مسئلہ کشمیر اور پاکستان ہے ۔کیونکہ بھارت پاکستان سے خوف زدہ ہونے کی وجہ سے یہ اسلحہ خرید رہا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کو حق خود ارادیت دے

Tags:

بھارت کشمیر چھوڑ دے یا بڑی جنگ کے لئے تیار ہو جائے۔حافظ سعید

February 5th, 2011 · No Comments · پاکستان, کشمیر

٭۔ ۔ ۔ وزارت جہاد بنی تو زرداری اور گیلانی اس وزارت پر کرپٹ ترین شخص کو مقرر کردیں گے۔لیاقت بلوچ
٭۔ ۔ ۔ امریکیوں ، ہندوؤں اور یہودیوں کا دور ختم ہونے کو ہے ار سال 2011 ء کشمیر ار افغانستان کی تحریکوں کی کامیابی کا سال ہے
٭۔ ۔ ۔ امریکی فوج کی بندوق سے نکلی ہوئی گولی اور امریکن جج کی قلم سے نکلے الفاظ مسلمانوں کے خلاف زہر اگلتے رہے ہیں
٭۔ ۔ ۔ ریمنڈ ڈیوس یہودی ایجنٹ ہے اگر پنجاب پولیس سے قابو نہیں آرہا تو اسے کرنٹ لگائیں سب مان جائے گا اور اگر پھر بھی نہ مانے تو میرے حوالے کرو شام تک سب مان جائے گا۔امیر حمزہ
٭۔ ۔ ۔ مشرف نے بھارت کے ساتھ مل کر کشمیر پالیسی کو ختم کر دیا اور بھارت سے مذاکرات کی بھیک شروع کر دی
۔ ۔ ۔ کشمیر کانفرنس و ریلی سے مقررین کا خطاب

لاہور ‘ جماعۃ الدعوۃ پاکستان کے مرکزی امیر پروفیسر حافظ محمد سعید نے کہا ہے کہ کشمیر پاکستان کی ترقی ، حفاظت اور بقاء کا راستہ ہے ۔ بھارت کشمیر کے ذریعے پاکستان آنے والا پانی روک کر صوبوں کولڑانا اور کشمیر سے آگے بڑھ کر بلوچستان پر اپنا ہاتھ صاف کرنا چاہتا ہے ۔ بھارت کشمیر چھوڑ دے یا بڑی جنگ کے لئے تیار ہو جائے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز 5 فروری کے موقع پر یوم یکجہتی کشمیر ریلی کے بعد ’’کشمیر کانفرنس‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ کانفرنس سے جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ ، کشمیری رہنما غلام محمد شفیع ؛ پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی ، امیر حمزہ ، جمعیت علماء اسلام کے مرکزی رہنما حافظ حسین احمد ، امیر جماعت اسلامی لاہور امیر العظیم اور دیگر نے بھی خطاب کیا ۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حافظ سعید نے کہا کہ ہم مذاکرات کے قائل ہیں لیکن ہم بھارت سے کئی بار ڈسے ہوئے ہیں اس لئے مزید اعتبار نہیں کر سکتے۔ بھارت مذاکرات کا ڈھونگ رچا کر پاکستان اور کشمیر میں غلط فہمیاں پیدا کرنا چاہتا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ امریکیوں ، ہندوؤں اور یہودیوں کا دور ختم ہونے کو ہے ار سال 2011 ء کشمیر ار افغانستان کی تحریکوں کی کامیابی کا سال ہے ۔ انہوںنے کہا کہ امریکی فوج کی بندوق سے نکلی ہوئی گولی اور امریکن جج کی قلم سے نکلے الفاظ مسلمانوں کے خلاف زہر اگلتے رہے ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ چائنہ نے بھارتی فوجی کو ویزہ نہ دے کر ثابت کیا ہے کہ وہ کشمیر پر بھارت کے تسلط کو قبول نہیں کرتا۔ انہوںنے کہا کہ حکمران عوام کی امنگوں کے مطابق فیصلے نہیں کر رپا رہے کیونکہ وہ عالمی دباؤ کا شکار ہیں ۔ عوام سید علی گیلانی کے ساتھ ہیں اور وہ وقت دور نہیں جب کشمیر پاکستان کا حصہ ہو گا ۔ انہوںنے کہا کہ بین الاقوامی میڈیا سے اپیل کی کہ وہ ان کے پیغام کو من و عن پیش کریں اور دنیا کو بتائیں کہ جہاد ظلم و زیادتی کا نام نہیں بلکہ امن کا پیغام ہے۔ انہوںنے بھارت پر واضح کیا کہ وہ اپنی حرکتوں سے باز آجائے اور امریکہ کے اشارے پر پاکستان کی شہ رگ کو دبانا چھوڑ دے ۔ امریکہ خود پوری دنیا سے مار کھا کر اور ناکام ہو کر واپس لو ٹ رہا ہے وہ اسے نہیں بچا سکے گا ۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے کہا کہ کشمیر میںجدوجہد کرنے والے کشمیریوں کو پیغام ہے کہ وہ تنہا نہیں ہیں پورا پاکستان ان کے ساتھ ہے ۔ انہوںنے کہا کہ ار وزارت جہاد بنی تو زرداری اور گیلانی اس وزارت پر کرپٹ ترین شخص کو مقرر کردیں گے ۔ انہوںنے کہا کہ مشرف نے بھارت کے ساتھ مل کر کشمیر پالیسی کو ختم کر دیا اور بھارت سے مذاکرات کی بھیک شروع کر دی ۔ انہوںنے کہا کہ مذاکرات کی بھیک مانگنے والے سمجھ لیں کہ کشمیر مذاکرات سے حاصل نہیں ہو گا ۔ انہوںنے کہا امریکہ ہمیں اپنے ایجنٹوں کے ذریعے زیر کرنا چاہتا ہے جو ممکن نہی ںہے ۔ بھارت کے لئے بہتر یہی ہو گا کہ وہ علقمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کشمیر کو آزاد کر دے ورنہ من موہن اور سونیا گاندھی بھارت کو اکٹھا نہیں رکھ سکیں گے ۔ کشمیری رہنما غلام محمد شفیع نے کہا کہ کشمیریوں کے دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتے ہیں اور کشمیریوں کو پاکستان پر پورا اعتماد ہے ۔ پروفیسر عبدالرحمن مکی نے کہا کہ حکومت وزارت جہاد بنائے تمام اخراجات ہم برداشت کریں گے ۔ امیر حمزہ نے کہا کہ ریمنڈ ڈیوس یہودی ایجنٹ ہے اگر پنجاب پولیس سے قابو نہیں آرہا تو اسے کرنٹ لگائیں سب مان جائے گا اور اگر پھر بھی نہ مانے تو اسے میرے حوالے کرو شام تک سب مان جائے گا ۔ حافظ حسین احمد نے کہا کہ کشمیریوں نے پاکستان کی آزادی کے بعد سمجھ لیا کہ اب کشمیر آزاد ہو جائے گا لیکن آنے والے تمام حکمرانوں نے دوغلی پالیسی اپنا کر کشمیر کو پس پشت ڈال دیا ۔ امیر العظیم نے کہا کہ کشمیر کی پہچان اس کی خوبصورت نہیں بلکہ وہاں پر موجود شہیدوں کی قبریں ہیں جو کشمیر کے چپے چپے پر کشمیریوں کی تحریک کی کامیابی کی گواہی دے رہی ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ تمام جماعتیں اسلام آباد کا گھیراؤ کر لیں تو مسئلہ کشمیر حل ہو سکتا ہے۔

Tags:

پاکستان کشمیریوں پر ریاستی دہشت گردی بند ہونے تک بھارت سے مذاکرات نہ کرے ، سید علی گیلانی

February 5th, 2011 · No Comments · کشمیر

کشمیری 63 سال سے قربانیاں دینے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں ، بھارتی جدوجہد تشدد کے سامنے مرعوب نہیں ہوں گے
میرپور میں جماعت الدعوۃ کے زیر اہتمام یوم یکجہتی کانفرنس سے ٹیلی فونک خطاب
میرپور ‘ کل جماعتی حریت کانفرنس ( گ ) کے چےئرمین سید علی گیلانی نے کہا ہے کہ بھارت ایک طرف تو کشمیریوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا ہے اور دوسری جانب سلامتی کونسل کا مستقل ممبر بننے کا خواہاں ہے ۔ پاکستان بھارت کے ساتھ اس وقت تک مذاکرات نہ کرے جب تک وہ کشمیریوں کے خلاف ریاستی دہشت گردی بند نہ کرے ۔ میرپور کے لوگوں کو مقبوضہ کشمیر کے بھائیوں کا سلام پیش کرتا ہوں ۔ کشمیری 63 سال سے قربانیاں دینے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ کشمیری بھارتی جبر و تشدد کے سامنے مرعوب نہیں ہوں گے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوںنے جماعت الدعوۃ کے زیر اہتمام یوم یکجہتی کانفرنس سے ٹیلی فونک خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر ممبر پنجاب اسمبلی میر فیاض ، مرکزی رہنما جماعت الدعوۃ حافظ عبد الرؤف ، مسلم لیگ ( ن ) کے رہنما راجہ نوید اختر گوگا ، جماعت اسلامی سٹی کے امیر مولانا عتیق الرحمن ، طالب علم رہنما راجہ ذوالقرنین ، مفتی اویس خان ایوبی ، چوہدری ابرار نیاز ، شیر احمد ، محمد شبیر صفی ، ملک محمد اسحاق ، رفیق مغل کے علاوہ دیگر نے بھی خطاب کیا۔ سید علی گیلانی نے کہاکہ پاکستان و بھارت مسئلہ کشمیر کے دو فریق ہیں لیکن جب تک اس مسئلہ کے اہم فریق کشمیریوں کو ان مذاکرات میں شامل نہیں کیا جاتا مسئلہ کشمیر پر ہونے والے مذاکرات کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکتے ۔ انہوںنے کہا کہ کشمیری چٹان کی طرح ڈٹے ہوئے ہیں ۔ وہ بھارت کے فوجی تسلط کو ہرگز قبول نہیں کرتے ۔ مضبوط پاکستان ہی کشمیریوں کی آزادی کا ضامن ہو سکتا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ بھارت کشمیریوں پر ریاستی دہشت گردی بند کرے اور کشمیریوں کو حق خود ارادیت دے ۔ کانفرنس سے جماعت الدعوۃ کے مرکزی رہنما حافظ عبد الرؤف نے کہا کہ وہ دن دور نہیں جب آر پار کشمیری ایک ہو جائیں گے ۔ امریکا بھارت کو سلامتی کونسل کا ممبر بنانے کے لیے کام جاری رکھے ہوا ہے برطانیہ جو آج جمہوریت کا چمپئین بنا ہوا ہے اس نے کشمیر کو فروخت کیا تھا ۔ انہوںنے کہا کہ کشمیری بھارت سے آزادی تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے

Tags:

راولپنڈی اسلام آباد میں یوم یکجہتی کشمیر جوش و جذبے کے ساتھ منایا گیا،لیاقت باغ چوک سے کشمیر ریلی نکالی گئی

February 5th, 2011 · No Comments · پاکستان, کشمیر

مظلوم کشمیری بھائیوں کے حق خود ارادیت کے حصول تک ہر سطح پر ان کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان
اسلام آباد میں اقوام متحدہ کے نمائندے کو مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمدکے حوالے سے یادداشت پیش کی گئی

راولپنڈی ‘ آزاد کشمیر اور شمالی علاقہ جات سمیت ملک بھر کی طر ح راولپنڈی اسلام آباد میں بھی یوم یکجہتی کشمیر اس جوش و جذبے کے ساتھ منایا گیا کہ پاکستانی قوم کشمیری بھائیوں کے حق خود ارادیت کے حصول تک ہرسطح پر انکی حمایت جاری رکھے گی ۔ بھارتی مظالم کے خلاف مظلوم کشمیری بھائیوں کے ساتھ یکجہتی کے لئے ریلیوں کانفرنسزاور سیمینارز کا انعقاد کیا گیا۔ راولپنڈی میں سب سے بڑی یکجہتی ریلی جماعت اسلامی کے زیراہتمام نکالی گئی جس کی قیادت ضلع راولپنڈی کے امیر سجاد احمد عباسی نے کی جن کے ہمراہ شمس الرحمن سواتی ، محمد وقاص خان ، راجہ محمد جواد، اور دیگر راہنماسمیت ہزاروں کی تعداد میں کارکنوںنے شرکت کی ۔ لیاقت باغ کی طرح مری روڈ پر استقبالیہ کیمپ لگائے گئے تھے پوری مری روڈ کو بینرز اورپوسٹرز سے سجایا گیا تھاجن پر کشمیر آزاد کرائیںگے پاکستان بچائیںگے ، حریت دشمن کشمیر پالیسی ختم کرو، کشمیر سے بھارتی افواج نکل جاؤ، حکومت اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عمل کروائے ، حکومت لاحاصل مذاکرات کی بجائے تحریک حریت کشمیر کی مکمل حمایت کرے کے نعرے تحریرتھے ۔ دن گیارہ کے قریب لیاقت باغ چوک سے یکجہتی کشمیر ریلی کا آغاز ہواجبکہ جماعت اسلامی کے زیر اہتمام مرکزی وصوبائی دارالحکومتوں اور ضلعی و تحصیل ہیڈکوارٹرز میں ریلیاں نکالے جانے کے ساتھ ساتھ انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنائی گئی ،استقبالیہ کیمپس میںلاؤڈاسپیکر کے ذریعے جہاں جہاں سے قافلے گزرتے رہے وہاں وہاں کشمیر کے ساتھ اظہار یکجہتی کے بلند آواز نعرے لگتے رہے اورتقریریں ہوتی رہیں ،لاؤڈ سپیکر کے ذریعے عوام کو بھی ریلی میں شرکت کے لئے دعوت دی گئی ۔راولپنڈی کی طرح ڈاکٹر مسعود احمد ٹیکسلا/واہ کینٹ، خالد محمود مرزا پوٹھوہار ٹاؤن،زاہد حسین قریشی گوجرخان ٹاؤن، ضمیر الرحمن کلر سیداں ٹاؤن،محمد حنیف کہوٹہ ٹاؤن، دین محمد ضیاء کوٹلی ستیاں ٹاؤن،عتیق احمد عباسی مری ٹاؤن، اور رضوان احمد راول ٹاؤن سے اپنے اپنے قافلوں کی قیادت کرتے ہوئے اسلام آباد پہنچے،جبکہ کشمیر سے اظہار یکجہتی کے لئے ریلی میں اسلامی جمعیت طلبہ، شباب ملی، جمعیت طلبہ عربیہ، جمعیت اتحاد العلماء، تحریک محنت، انجینئرز فورم اور دیگر تنظیموںکے عہدیداران اور کارکنان نے بھی شرکت کی۔اسلام آباد میں یکجہتی کشمیر ریلی کی قیادت امیر جماعت اسلامی پاکستان سید منور حسن نے کی۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان سید منور حسن کی اپیل پرریلی کوبھر پور انداز سے نکالاگیا جس کا مقصدکشمیر پر بھارت کے غاصبانہ قبضے کے خلاف اور مظلوم کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کرنا تھا ، اسلام آباد میں اقوام متحدہ کے نمائندے کو مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمدکے حوالے سے یادداشت پیش کی گئی ۔ راولپنڈی اوراسلام آباد کی طرح جماعت اسلامی کے مرکزی امیر سید منور حسن کی ایک کال پرملک کے دوسرے صوبوں میں بھی کشمیر کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے ریلیاں نکالی گئیں۔ لاہور میں ناصر باغ سے پنجاب اسمبلی تک ریلی نکالی گئی جس کی قیادت سابق امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد اور سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کی،کراچی میں جیل چورنگی سے مزار قائد تک یکجہتی کشمیر ریلی نکالی گئی جس میں جماعت اسلامی کے مرکزی نائب امیر پروفیسر غفور احمد اور امیر کراچی محمد حسین محنتی نے خطاب کیا،پشاور میں مرکزی نائب امیر سراج الحق اور صوبائی امیر پروفیسرمحمد ابراہیم خان کی قیادت میں ریلی نکالی گئی ،اسی طرح سے امیرصوبہ پنجاب ڈاکٹر سید وسیم اختر بہاولپور، امیر صوبہ سندھ اسداللہ بھٹو ملتان، مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر فرید احمد پراچہ فیصل آباد،صوبائی سیکرٹری جنرل نذیر احمدجنجوعہ روالپنڈی، صوبائی نائب امرا ظفرجمال بلوچ گجرات، وقار ندیم وڑائچ سیالکوٹ، عزیر لطیف ساہیوال، سید وقاص جعفری شیخوپورہ، بلال قدرت بٹ منڈی بہاؤالدین اور صوبائی ڈپٹی سیکرٹری جنرل شیخ عثمان فاروق ڈیرہ غازی خان کی قیادت کی ، جماعت اسلامی کے مرکزی نائب امیر سراج الحق مردان، صوبائی سیکرٹری جنرل شبیر احمد خان ایبٹ آباد، سابق رکن قومی اسمبلی عثمان خان صوابی، مولانا اسداللہ دیر، مولانا فضل سبحان سوات ،جماعت اسلامی کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل حافظ محمد ساجد انور حیدرآباد، صوبائی نائب امرا ڈاکٹر معراج الہدی صدیقی میرپور خاص، ڈاکٹر ممتازعلی میمن گھوٹکی، ڈاکٹر ممتاز حسین سہتو خیرپور میرس، عبدالحفیظ بجارانی جیکب آباد اور قائم مقام صوبائی سیکرٹری جنرل حافظ نصراللہ چنا شکار پور ،بلوچستان کے ضلعی مقامات سے جماعت اسلامی کے صوبائی امیرعبدالمتین اخونزادہ اورسابق امیر عبدالحق ہاشمی کوئٹہ ، صوبائی سیکرٹری جنرل بشیر احمد ماندئی نصیرآباد، جعفرآباد، صوبائی نائب امرا امان اللہ شادیزئی ہرنائی، مولانا ہدایت الرحمن گوادر، ڈاکٹر محمد ابراہیم چمن، مولانا محمد عارف دمڑ دکی، مولانا مجیب الرحمن ساسولی واشک و خاران، حافظ مطیع الرحمن نوشکی وژوب میں یکجہتی کشمیر ریلی کی قیادت میں ریلیاں نکالی گئیں اورعوام سے خطاب کیا گیا ،اس موقع پرہاتھوں کی زنجیر بناتے ہوئے اس بات کا عہد کیاگیا کہ مرتے دم تک کشمیری عوام کے ساتھ اظہاریکجہتی کیا جاتارہے گا،کشمیر پاکستان کا اٹوٹ انگ ہے جس کے حقوق کا تحفظ کرنا پر پاکستانی شہری کے ساتھ ساتھ حکومت وقت کا فرض ہے ،حکومت کو چاہے کہ ملکی سطح کے ساتھ بین الاقوامی سطح پر بھی کشمیر کے حق کے لئے آواز اٹھائی جائے تاکہ کشمیری عوام کا دیرینہ مسئلہ پایہ تکمیل تک پہنچ سکے اسی طرح جمعیت علماء اسلام(ف) آزاد کشمیر کے زیر اہتمام بھی لیاقت باغ سے اسلام آباد تک ریلی نکالی گئی جس کی قیادت جے یو آئی (ف ) آزاد کشمیر کے امیر مولانا سعید یوسف ضلع راولپنڈی کے امیرمولانا مقصود عثمانی اور مولانا سعید الرحمٰن نے کی ریلی کے شرکاء کشمیریوں کی حمائیت اوربھارتی مظالم کے خلاف نعرے بازی کر رہے تھے جبکہ تیسری بڑی ریلی نواز شریف لوورز کے زیر اہتمام مری روڈ سے نکالی گئی جسکی قیادت لوورز کے چئیرمین راجہ سکندر محمود نے کی سکستھ روڈ سے شروع ہونے والی ریلی رحمٰن آباد چوک سے ہو کر واپس سکستھ روڈ چوک پر اختتام پذیر ہوئی جہاں پر لوورز کے سرپرست اعلیٰ سینیٹر سید ظفر علی شاہ نے خصوصی خطاب کیا اسی طرح مختلف تعلیمی اداروں میں کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کے خصوصی تقریبات کا انعقاد کیا گیا جس میں بچوں نے ملی نغموں قومی ترانوں ٹیبلوز اور تقاریر کے ذریعے مظلوم کشمیریوں سے بھر پور اظہار یکجہتی کیا۔

Tags:

آزادی کی منزل قریب تر ہے ، آئندہ 5فروری کو یوم آزادی کے طور پر منایا جائے گا ، منور حسن

February 5th, 2011 · No Comments · پاکستان, کشمیر

افغانستان میں امریکی شکست کی طرح جلد مقبوضہ کشمیر میں بھی ذلت و رسوائی بھارت کا مقدر ہو گی
دنیا بھر میں امریکی قلعے مسمار ہو رہے ہیں ،پاکستان کو بھی امریکی مداخلت سے نجات حاصل ہونے والی ہے
پاکستانیوں کے قاتل ریمنڈ ڈیوس کو دو بار سرعام پھانسی دی جائے
امیر جماعت اسلامی پاکستان کا یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر آبپارہ میں ریلی سے خطاب

اسلام آباد(ثناء نیوز ) جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سید منور حسن نے کہا ہے کہ افغانستان میں امریکی شکست کی طرح جلد مقبوضہ کشمیر میں بھی ذلت و رسوائی بھارت کا مقدر ہو گی ۔ آزادی کی منزل قریب تر ہے آئندہ پانچ فروری کو’’ یوم آزادی ‘‘ کے طور پر منایا جائے گا ۔ دنیا بھر میں امریکی قلعے مسمار ہو رہے ہیں پاکستان کو بھی امریکی مداخلت سے نجات حاصل ہونے والی ہے ۔ پاکستانیوں کے قاتل ریمنڈ ڈیوس کو دو بار سرعام پھانسی دی جائے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو اسلام آباد کے مرکزی مقام آبپارہ مین جماعت اسلامی ضلع اسلام آباد کے تحت یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ سید منور حسن نے کہا کہ منزل قریب تر ہے امریکہ بھارت اسرائیل کا سرپرست اور اسلام کا دشمن ہے وہ مسلمانوں وار منبر ومحراب کی آواز کو دبانا چاہتا ہے کامیابی جدوجہد کرنے والوں کی مقدرہوتی ہے چاروں اطراف اندھیرے چھٹ رہے ہیں اور اجالے پھیل رہے ہیں تمام امریکی قلعے ایک ایک کرکے مسمار اور امریکی مداخلت سے جگہ جگہ لوگ نجات پا رہے ہیں ۔ تیونس ، مصر ، اردن یمن کے حالات سب کے سامنے ہین ان کے حکمرانوں نے لوگوں کے گلے میں امریکی غلامی کے طوق کے ڈا لے مگر یہ امریکی قلعے مسمار اور اس کا قتدار مانند پڑ رہا ہے بھارت میں آزادی کی تحریکیں مضبوط ہو رہی ہیں بھارت خود دہشت گردی میں خود کفیل ہے ۔ درجنوں علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہے ۔ دہشت گردی کے سینکڑوں واقعات ہو چکے ہیں بھارتی انتہا پسندوں نے مسلمانوںکا خون بہا نے کا اعتراف کیا ۔ جو قومیں جذبہ جہاد سے سرشار ہوں ان کو دبایا نہیں جا سکتا ۔ ان کے بڑھتے ہوئے قوموں کو نہیں روکا جا سکتا ۔ جدوجہد ہی میں کامیابی ہے ۔ دنیا کی 60 فیصد فوجیں افغانستان میں قبضہ گروپ کی صورت میں موجود ہیں ۔ افغانستان کمونیزم اور سوشلزم کا قبرستان بن چکا ہے مغرب کی ذہانت ،فطانت ، بصیرت اور بصارت کا اور عسکری طاقت و قوت کا بھافغانستان قبرستان بن چکا ہے ۔ دنیا کی 60 فیصد فوجیں نہتے افغانوں کو خوفزدہ نہیں کر سکی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان کمزور نہیں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کمزور طاقتور اور طاقتور ضعیف ہو گئے ہین چاروں اطراف کے ان منظر ناموں میں فلسطین ، کشمیر بھی آزاد ہوگا ۔ عراق میں بھی ظلم ختم ہو گا۔ پاکستان سے امریکی مداخلت ختم ہو گی ۔ انہوںنے کہا کہ پاکستانیوں کے قاتل ریمنڈ ڈیوس کو دوبارہ سرعام پھانسی دی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ ڈیوس کی مدد کرنے والی گاڑی میں 4 مسلح امریکی سوار تھے یہ گاڑی کیسے نکل گئی پنجاب حکومت اس حوالے سے جواب دہ ہے ۔ سید منور حسن نے کہا کہ بزرگ رہنما سید علی گیلانی ، سید صلاح الدین جدوجہد کی علامتیں ہیں کوئی کشمیر کا سودا نہیں کر سکتا ۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد ہے ۔ بھارت اسرائیل بھی اس کی سرپرستی مین ریاستی دہشت گردی کا مرتک ہو رہے ہین ۔ یہ دہشت گرد بے نقاب ہو چکے ہیں ۔ سید منور حسن نے کہا کہ بھارت کبھی سید علی گیلانی کے مقابلے میں کامیاب نہیں ہو سکتا فوجیں پسپا ہو رہی ہیں ۔ گو امریکہ گو امریکہ کا نعرہ کشمیر فلسطین کی آزادی کی تحریک ہے ۔ ہم چاروں اطراف غلامی کے سائے سے نجات کی جدوجہد کررہے ہیں ۔ عوام کی پرامن آئینی جدوجہد کے نتیجہ میں بھارت کی فوج کو بھی ذلت ورسوائی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سب کا متفقہ موقف ہے کہ کشمیریوں کو حق خودارادیت کا اختیار دیا جائے ۔ بھارت کے یوم جمہوریہ کے موقع پر کشمیر ی یوم سیاہ منا کر ریفرنڈم کے ذریعے اپنے فیصلے سے دنیا کو آگاہ کرتے ہیں ۔ کشمیر کی تحریک آزادی جلد بھارت کو دیوار سے لگا دے گی ۔ ہم تن من دھن کے ساتھ کشمیریوں کے ساتھ ہیں ۔ پاکستان کے بچے، خواتین، بوڑھے جوان سب کشمیریوں کے ساتھ ہین ۔ نصرت قریب ہے ۔ بھارت نوشتہ دیوار پڑھ لے ۔ آئندہ پانچ فروری کو آزادی کے تشکر کے طور پر منایا جائے گا۔ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر پروفیسر خورشید احمد نے کہا کہ کشمیریوں کی جدوجہد اور قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی پاکستان کی تمام حکومتوں اور عوام نے مسئلہ کشمیر پر ایک موقف اختیار کیا کہ کشمیرپر بھارت کا غاصبانہ قبضہ ہے ۔ کشمیریوں کو غاصبانہ قبضہ کے خلاف تحریک آزادی کا حق حاصل ہے پرویز مشرف جیسے آمر نے اس متفقہ پالیسی کو پارہ پارہ کیا اور بھارت کو سیز فائر پر مضبوط باڑ قائم کرنے کا موقع دیا ۔ اسی آمر نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کو نظر انداز کیا اور مزاحمتی تحریک کی مدد سے دستبردار ہوئے جب تک کشمیریوں کو آزادی اورمرضی سے مستقبل کے فیصلے کا حق نہیں ملتا وہ متنازعہ علاقہ ہے جب تک بھارت کشمیر کو متنازعہ تسلیم نہ کرے اس سے مذاکرات نہ کیے جائیں ۔ دہشت گردی اور حق خودارادیت کی جدوجہد میں فرق ہے ۔ اقوام متحدہ کے منشور کے تحت کشمیریوں کو مزاحمت کاحق حاصل ہے مقبوضہ کشمیر مین انسانی حقوق کی پامالی کو اجاگر اور حکومت مزاحمتی تحریک کی مکمل حمایت کرے ۔ جدوجہد کامیابی کے ساتھ منزل کی طرف بڑھ رہی ہے ۔ جماعت اسلامی ضلع اسلام آباد کے امیر میاں محمد اسلم نے کہا کہ کشمیری عوام تحریک آزادی کے حوالے سے نہ تھکے ہیں نہ بکے اور نہ جھکے ہیں ۔ کشمیر کل بھی اور آج بھی پاکستان ہے ۔ انہوںنے کہا کہ کشمیر کے بغیر پاکستان ریگستان بن جائے گا ۔ کشمیری پاکستان کی بقاکی جنگ لڑرہے ہیں یکجتی کا تقاضا ہے کہ عملی طورپر تحریک آزادی میں شامل ہوں ۔ تبدیلی کی ہوا شروع ہو چکی ہے مصر ، تیونس میں طوفان آچکے ہیں ۔ ہمارے حکمران اس سے سبق سیکھیں اور امریکی چوکھٹ سے ا پنے سر کو اٹھالیں گے یہ آئی ایم ایف کے ایجنڈے کے ذریعے پاکستان اور عوام کو غلام بنانا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں امیر جماعت اسلامی پاکستان سید منور حسن جیسی قیادت چاہیے جو امریکہ اور بھارت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کریں اور کشمیر کو آزاد کرائیں گے یہ محب وطن اور اسلام سے محبت کرنے والوں کا ملک ہے شمع رسالت ﷺ کے کروڑوں پروانوں کا ملک ہے بھارت کی مذمت سے نہیں بھارت کی مرمت سے آزاد ہوگا کوئی خود دار قوم شہ رگ کو دشمن کے حوالے کرکے زندہ نہیں رہ سکتی امیر جماعت اسلامی ضلع راولپنڈی سجاد احمد عباسی نے کہا کہ کشمیر کے ساتھ ہی ہماری سلامتی وابستہ ہے ۔ دنیا کا رویہ کشمیریوں کے ساتھ جانبدارانہ ہے ۔

Tags:

مظلوم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لئے کوہالہ کے تاریخی پل پر پاکستان اور آزاد کشمیر کے عوام کے ہاتھوں کی زنجیر

February 5th, 2011 · No Comments · پاکستان, کشمیر

صبح 10 بجے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی اور تمام ٹریفک رک گئی
تحریک آزادی کشمیر اپنے منطقی انجام تک جاری رہے گی ، پاکستان اور آزاد کشمیر کے عوام مشکل کی ہر گھڑی میں مقبوضہ کشمیر کے مظلوم بھائیوں کا بھرپور ساتھ دیں گے
راجہ محمد نسیم ، ماجد خان ، چودھری عبدالغفور ، شجاع سالم ، قاضی اسد اور ماروی میمن کا تقریب سے خطاب

کوہالہ /باغ ‘یوم یکجہتی کشمیر کے حوالہ سے کوہالہ کے تاریخی پل پر پاکستان اور آزاد کشمیر کے عوام نے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر اپنے مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا ۔ صبح دس بجے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی اور تمام ٹریفک رک گئی ۔ یکجہتی کشمیر کے حوالہ سے کوہالہ کے تاریخی مقام پر بہت بڑی تقریب کا انعقاد کیا گیا تھا ۔ جس میں پنجاب ، خیبرپختونخوا ، آزاد کشمیر اور ممبران اسمبلی نے شرکت کی ۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آزاد کشمیر کے وزراء کرنل ( ر ) راجہ محمد نسیم خان ، ماجد خان ، پنجاب کے وزیر خوراک چودھری عبدالغفور ، خیبر پختونخوا کے صوبائی وزراء شجاع سالم ، قاضی اسد اور ممبر قومی اسمبلی ماروی میمن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کا دن منانے کا مقصد صرف یہ ہے کہ دنیا کو بتایا جا سکے کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام گزشتہ نصف صدی سے بھی زائد عرصہ سے اپنی آزادی کے لئے قربانیاں دیتے چلے آ رہے ہیں ۔ اقوام متحدہ کی قرار داد میں مسئلہ کشمیر کا بہترین روڈ میپ ہیں ۔ اقوام عالم اور مہذب قومیں کشمیریوں کو حق خوداردیت دلانے میں اپنا کردار ادا کریں ۔ مقررین نے کہا کہ جب تک تحریک آزادی کشمیر اپنے منطقی انجام تک نہیں پہنچتی آزادی کی تحریک جاری رہے گی ۔ پاکستان اور آزاد کشمیر کے عوام مشکل کی ہر گھڑی میں اپنے مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کا بھرپور ساتھ دیں گے ۔ عالمی برادری بھارت کو طاقت کے استعمال سے باز رکھے ۔ جبر اور طاقت کے نشے میں کشمیریوں کو زیادہ دیر تک غلام نہیں رکھا جا سکتا ۔ مقررین نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا پائیدار اور دیرپا حل کے لئے کشمیریوں کی رائے کو بھی اہمیت دی جائے کیونکہ کشمیریوں کی خواہشات کے برعکس مسئلہ کشمیر کا کوئی بھی حل دیرپا ثابت نہیں ہو گا ۔ آزاد کشمیر کے وزراء کرام نے کہا کہ ہم پاکستان کے عوام اور حکومت کے شکرگزار ہیں کہ انہوں نے ہر سال کی طرح اس سال بھی کشمیری عوام کے ساتھ یوم یکجہتی کشمیر بنا کر یہ ثابت کر دیا کہ کشمیری اور پاکستانی یک جان و دو قالب ہیں ۔ پاکستان کے صوبائی وزراء کرام اور ممبر قانون ساز اسمبلی نے کہا کہ پاکستان کبھی بھی کشمیریوں کی سیاسی ، سفارتی اور اخلاقی حمایت سے دستبردار نہیں ہو گا ۔ ملتان اور کشمیر کے عوام تاریخی جغرافیائی ، معاشی اور مذہبی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں ۔ جنہیں کبھی بھی ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جا کستا ۔ اس موقع پر مختلف قرار دادوں کے ذریعے کشمیری عوام کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا گیا ۔ تقریب سے مختلف سیاسی ، سماجی اور مذہبی تنظیموں کے نمائندوں نے بھی خطاب کیا ۔

Tags:

آزادکشمیر قانون ساز اسمبلی اور کشمیر کونسل کی مقبوضہ کشمیر میں جاری تحریک آزادی کی بھرپور حمایت

February 5th, 2011 · No Comments · پاکستان, کشمیر

مجاہدین کشمیر اور حریت قیادت کی عظیم جدوجہد کو سلام ، شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا گیا
بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو فوجی سٹیٹ میں تبدیل کردیا ہے ۔ راجہ ذوالقرنین
جنوبی ایشیا کا امن مسئلہ کشمیر سے تعبیر ہے ، عالمی برادری کشمیریوں کو حق خودارادیت لانے کیلئے بھارت پر دباؤ ڈالے ، سردارعتیق احمد خان
ذوالفقارعلی بھٹو نے انتہائی مشکل وقت میں بھی کشمیر پر پسپائی اختیار نہیں کی ، انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں مقبوضہ کشمیر میںبھارتی مظالم کیخلاف آواز اٹھائیں ۔ چوہدری عبدالمجید

مظفرآباد‘ آزادجموںو کشمیر قانون ساز اسمبلی اور کشمیر کونسل کے مشترکہ اجلاس میں مقبوضہ کشمیر کے اند رجاری تحریک آزادی کی بھرپور حمایت کی گئی اور مجاہدین کشمیر اور حریت قیادت کی عظیم جدوجہد کو سلام پیش کرتے ہوئے شہداء کشمیر کی قربانیوں پر انہیں خراج عقیدت پیش کیا گیا ۔ گزشتہ روز قانون ساز اسمبلی ا ور کونسل کے مشترکہ اجلاس میں صدر آزادکشمیر راجہ ذوالقرنین خان نے شرکت کی ۔ مشترکہ اجلاس سے وزیراعظم پاکستان نے خطاب کرنا تھا لیکن اچانک وزیراعظم پاکستان کا دورہ منسوخ کردیا گیا ۔ مشترکہ اجلاس سے صدر آزادکشمیر راجہ ذوالقرنین خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 63 سالوں سے کشمیری قوم آزادی کے لیے لازوال قربانیاں دے رہی ہے ۔پاکستان کی عوام اور حکومت نے کسی مرحلے پر بھی کشمیریوں کو تنہا نہیں چھوڑا ۔ گزشتہ بیس سالوں سے پاکستان کی قوم ہر سال 5 فروری کو یکجہتی کشمیر منا کر کشمیریوں کو احساس دلانا ہے کہ پاکستان کی عوام اور حکومتیں ان کے ساتھ ہیں ۔کشمیری بھی اس تکمیل میں گزشتہ 63 سلاوں سے قربانیاں دے رہے ہیں ۔ مقبوضہ کشمیر کے اندر بھارتی افواج کے مظالم کسی بھی موقع پر کم نہیں ہوئے ۔نہتے کشمیریوں کو گولیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے 1947 ء میں مقبوضہ کشمیر سے آنے والے 15 لاکھ کشمیریوں کو پناہ دی اور 63 سالوں سے ان کی شناخت برقرا ررکھی اور کشمیریوں کو دوہرے ووٹ کا حق دیا ۔ انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں سات لاکھ بھارتی افواج کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ وادی کو فوجی سٹیٹ میں تبدیل کردیا گیا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر سے آزادکشمیر اور پاکستان کی طرف سے آنے والے دریاؤں کا پانی روک کر پاکستان کی اقتصادی حالت کمزور کرنے کی سازش ہو رہی ہے ۔ اس موقع پر وزیراعظم آزادکشمیر سردارعتیق احمد خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پانچ فروری کو پاکستان کی پوری قوم کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرکے کشمیریوں کے حوصلوں کو بلند کرتے ہوئے اس عزم کی تجدید کرتے ہیں کہ 18 کروڑ پاکستانی ان کی پشت پر موجود ہیں وزیراعظم پاکستان سید یوسف رضا گیلانی موسم کی خرابی کے باعث شرکت نہ کر سکے ۔ لیکن پاکستان میں جگہ جگہ کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کی ریلیاں ، جلے جلوس سیمینار ہو رہے ہیں انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کے اندر نہتے عوام کو ظلم و تشدد کا شکار کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا کا امن مسئلہ کشمیر سے تعبیر ہے ۔ پوری دنیا بھارت پردباؤ ڈالے کہ وہ کشمیریوں کو انکا بنیادی حق حق خودارادیت دے اور اقوام متحدہ اپنی پاس شدہ قراردادوں پر عملدرامد کرائے ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت دنیا کشمیر کے انتہائی اہم مسئلے سے آگاہی حاصل کرے ۔ چین نے مقبوضہ کشمیر کے عوام کو ایک سفید کاغذ پر ویزا جاری کرنے کا فیصلہ کیا۔ کینیڈا کی حکومت نے سابق بھارتی جرنیل کو اس بنیاد پر ویزا جاری نہیں کیا کہ انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی ہے ۔ امریکی صدر اوباما کی طرف سے دورہ بھارت کے دوران مسئلہ کشمیر کا ذکر کرنا اور پاکستان کے ساتھ متنازعہ امور پر بات چیت کرنے کا کہا ۔ ایران کے صدر کی جانب سے مسئلہ کشمیر پر بات کرنے سے دنیا ایک مرتبہ اس طرف جا رہی ہے کہ وہ بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں افواج کے مظالم سے روکے اور کشمیریوں کو ان کا بنیادی حق حق خودارادیت دے۔ مشترکہ اجلاس سے قائد حزب اختلاف چوہدری عبدالمجید نے کہا کہ پانچ فروری 1974 ء کو شہید ذوالفقارعلی بھٹو نے یکجہتی کشمیر کا تسلسل برقرار رکھتے ہوئے کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ذوالفقارعلی بھٹو نے انتہائی مشکل وقت میں بھی کشمیر پر پسپائی اختیار نہیں کی ۔ 1971 ء کے بعد انہوں نے شملہ معاہدہ میں کشمیر کو اولیت دی ۔ پیپلزپارٹی کی حکومتوں میں مسئلہ کشمیر کو سر فہرست رکھا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی موجودہ حکومت آصف علی زرداری کی قیادت میں کشمیریوں کی مکمل حمایت کرتی ہے ۔ انہوںنے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں بھارتی مظالم کو اجاگر کریں گے ا ور مقبوضہ کشمیر کے رہائشی علاقوں سے بھارتی افواج کا انخلاء فوری طور پر یقینی بنائیں اور کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ان کا پیدائشی حق دلائیں پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقارعلی بھٹو نے کشمیر کی آزادی کے لیے ایک ہزار سال تک جنگ کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کشمیریوں کو یقین دلایا تھا کہ ان کی جنگ آزادی میں پاکستانی قوم ان کے ساتھ ہے ۔

Tags:

پاکستان آزادکشمیر و گلگت بلتستان اور مقبوضہ کشمیر کی سیاسی و دینی قیادت کا ’’ مسئلہ کشمیر ‘‘ بارے حکومت کی پالیسی پر شدید مایوسی کا اظہار

February 3rd, 2011 · No Comments · پاکستان, کشمیر

پاکستان آزادکشمیر و گلگت بلتستان اور مقبوضہ کشمیر کی سیاسی و دینی قیادت کا ’’ مسئلہ کشمیر ‘‘ بارے حکومت کی پالیسی پر شدید مایوسی کا اظہار
حکومتِ پاکستان مسئلہ کشمیر کے حوالے سے یکساں موقف والی ’’ قومی کشمیر پالیسی ‘‘ تشکیل دی جائے
پاکستان کے معذرت خواہانہ رویے جھکی ہوئی پالیسی سے کشمیری عوام میں مایوسی پھیلی ہے
مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے پاکستان سفارتی کردار موثر طریقے سے ادا کر ے
کشمیر کو متنازعہ علاقہ تسلیم کرنے، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کے خاتمے اور جیلوں میں قید کشمیری حریت رہنماؤںکی رہائی تک بھارت سے مذاکرات نہ کیے جائیں
’’قومی کشمیر کانفرنس‘‘ سے مولانا فضل الرحمن ،سید منور حسن ،، قاضی حسین احمد ، مشاہد حسین سید ، پروفیسر خورشید احمد ،راجہ ذوالقرنین ، عبدالرشید ترابی، راجہ فاروق حیدر خان ، عنایت اللہ شمالی ، خالد ابراہیم ، محمود ساغر ، جسٹس عبدالمجید ملک ، امان اللہ خان ، مولانا یوسف سعید ، اعجاز الحق ، عبدالرشید عباسی ، اعجاز چوہدری و دیگر کا خطاب

اسلام آباد ‘ پاکستان آزادکشمیر و گلگت بلتستان اور مقبوضہ کشمیر کی سیاسی و دینی قیادت نے ’’ مسئلہ کشمیر ‘‘ کے حل کیلئے موجودہ حکومت کی پالیسی پر شدید مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے یکساں موقف والی ’’ قومی کشمیر پالیسی ‘‘ تشکیل دی جائے پاکستان کے معذرت خواہانہ رویے جھکی ہوئی پالیسی سے کشمیری عوام میں مایوسی پھیل گئی ہے ۔ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے پاکستان سفارتی کردار موثر طریقے سے ادا کرے ۔ ماضی میں کئی بار مسئلہ کشمیر کو سرد خانے میں ڈالنے کی کوشش کی گئی لیکن کشمیری عوام نے اسے اپنے لہو سے زندہ رکھا اب بھارت سے اس وقت تک مذاکرات نہیں ہونے چاہیں جب تک وہ کشمیر کو متنازعہ علاقہ تسلیم نہیں کرتا انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند نہیں کرتا اور جیلوں میں قید کشمیری حریت رہنماؤں کو رہا نہیں کرتا۔ ان خیالات کا اظہار’’ جماعت اسلامی آزاد جموںو کشمیر ‘‘ کے زیر اہتمام ’’ قومی کشمیر کانفرنس ‘‘ سے پاکستان ، آزادکشمیر و گلگت بلتستان اور مقبوضہ کشمیر کی سیاسی و دینی قیادت نے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس سے پارلیمانی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین مولانا فضل الرحمن ، جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سید منور حسن ، سابق امیر جماعت اسلامی پاکستان ، قاضی حسین احمد ، مسلم لیگ (ن) کے سیکرٹری جنرل ، مشاہد حسین سید ، پروفیسر خورشید احمد ، صدر آزادکشمیر راجہ ذوالقرنین ،امیر جماعت اسلامی،آزاد جموں و کشمیر عبدالرشید ترابیؔ، راجہ فاروق حیدر خان ، عنایت اللہ شمالی ، خالد ابراہیم ، محمود ساغر ، جسٹس عبدالمجید ملک ، امان اللہ خان ، مولانا یوسف سعید ، اعجاز الحق ، عبدالرشید عباسی ، اعجاز چوہدری ودیگر نے خطاب کیا جبکہ غلام محمد صفی نے مقبوضہ کشمیر سے سید علی شاہ گیلانی کا پیغام پڑھ کر سنایا ۔ کانفرنس کا آغاز کرتے ہوئے اپنے خطاب میں امیر جماعت اسلامی آزاد جموں وکشمیر عبدالرشید ترابی نے کہاکہ کانفرنس کے انعقاد کا مقصد مسئلہ کشمیر پر قومی قیادت کو یکساں موقف احتیار کرنے کیلئے ایک پلیٹ فارم مہیا کرنا تھا جماعت السامی نے ہفتہ اظہار یکجہتی کشمیر منایا ۔ انہوں نے کہاکہ قائدین حریت کے عزم واستقامت اور کشمیری عوام کی لازوال قربانیوں کے باعث آج مقبوضہ کشمیر میں زبردست انتفاضہ برپا ہوئی ہے پہلی بار بھارت مجبور ہوا ہے اس وت کشمیری عوام کی سیاسی ، اخلاقی اور سفاتی حمایت کی ضرورت ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان جو کہ مسئلہ کشمیر کا ایک فریق ہے اس کا اس وقت کردار مایوس کن ہے انہوں نے کہاکہ اس سلسلے میں حکومت پاکستان ایک یکساں موقف والی ’’ قومی کشمیر پالیسی تشکیل دے۔ امیر جماعت اسلامی ،پاکستان ،سید منور حسن نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ اور مغربی دنیا سے کہا ہے کہ مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان کے عوام کے لیے ریفرنڈم کی طرح کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کے لیے ریفرنڈم کرایا جائے ۔ حکومت پاکستان کشمیر کاز کے لیے آگے بڑھے اور اپنی ذمہ داری پوری کرے ۔ امیر سید منور حسن نے کہا کہ گزشتہ سال کی نسبت اس دفعہ 5 فروری کو یوم یکجہتی میں بڑا فرق ہے ۔ کشمیریوں نے عوامی انتفادہ کے ذریعے واضح کر دیا ہے کہ انہیں آزادی سے کم کوئی چیز درکار نہیں ۔ انہوںنے کہا پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات مسئلہ کشمیر کو سرد خانے میں ڈالنے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں اس لیے مذاکراتی عمل پر شکوک ہیں ۔ ماضی دسمبر 1992 ء سے مئی 1993 ء میں مسلسل چھ ماہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات بھی ناکام ہوئے تھے ۔ سوان سنگھ اور بھٹو کے مذاکرات کا نتیجہ کچھ نہ نکلا ۔ بھارت کے اٹوٹ انگ کی رٹ ختم نہیں ہوئی ۔ انہوںنے کہا کہ بھارت مذاکرات میں ماضی میں سنجیدہ تھا نہ اب ہے ۔ ماضی میں ہر سطح پر مذاکرات ہوئے ، سابق صدر پرویز مشرف خود مذاکرات کے لیے دہلی پہنچ گئے تھے ۔ 1988 ء میں کشمیریو ںنے بنیادی طور پر تحریک شروع کر کے لوگوں کو مسئلہ کشمیر کی طرف متوجہ کیا ۔ وہ مسئلہ جسے مذاکرات کے ذریعے سرد خانے میں ڈال دیا گیا تھا مسئلہ کشمیر دراصل کشمیریوں کی قربانیوں اور تحریک کے نتیجے میں زندہ ہوا ہے ۔ گزشتہ چند ماہ میں کشمیر میں بڑے پیمانے پر قربانیاں دی ہیں چنانچہ بھارت اب زیادہ کشمیر پر قابض نہیں رہ سکتا ۔ کشمیر کی آزادی کے سلسلے میں پاکستان نے ذمہ داریاں پوری نہیں کیں ۔ اگر کشمیر کمیٹی کام کرتی تو کشمیر میں کرفیو ، محاصروں کے دوران عالمی برادری میں بے نقاب کرتی تو یہ بڑا کام ہوتا ۔ انہوںنے کہا کہ مشرقی تیمور کے بعد جنوبی سوڈان میں ریفرنڈم ہوا ۔ کیا کشمیر کمیٹی کشمیر کے حوالے سے یہ مطالبہ بین الاقوامی سطح پر نہیں دہرا سکتی تھی ۔ حکومت پاکستان شہ رگ کی حفاظت کے لیے اقدامات سے حکمران سنجیدگی کا مظاہرہ کریں ۔ عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا جائے ۔ کل جماعت حریت کانفرنس ( گ ) کے چےئرمین سید علی گیلانی نے کانفرنس کے لیے اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان پر زور دیا ہے کہ کشمیر کے سلسلے میں اصولی موقف اور متفقہ پالیسی سے انحراف نہ کیا جائے ۔ کسی دباؤ کے نتیجے میں فوری حل کے بجائے صبر سے کام لے ۔ پائیدار حل کے لیے جارحانہ سفارتکاری شروع کرے ۔ حریت کانفرنس ( گ ) کے چےئرمین سید علی گیلانی نے کہا ہے کہ پاکستان اور آزاد کشمیر کی طرف سے یکجہتی کشمیر کے ساتھ یکسوئی بھی ضروری ہے ۔ ماضی میں یکجہتی کے نعرے یکسوئی سے عاری تھے ۔ انہوںنے کہا کہ فوجی انخلاء اور حق خود ارادیت سے کم کشمیریوں کے لیے کوئی حل قابل قبول نہیں ۔ علی گیلانی نے کہا کہ پاکستان اصولی موقف اور متفقہ کشمیر پالیسی سے انحراف نہ کرے ۔ کشمیر بارے میں کوئی دباؤ خاطر میں نہ لائے ۔ پاکستان فوری حل کے لیے بے تاب ہونے کے بجائے صبر سے کام لے ۔منصفانہ اور پائیدار حل کے لیے جارحانہ سفارتکاری شروع کرے ۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جموں و کشمیر لبریشن لیگ کے صدر جسٹس ( ر ) مجید ملک نے کہا کہ گزشتہ 63 سال سے پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کی مشق کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا ۔ پاکستان نے مسلسل پسپائی اختیار کی ۔ معذرت خواہانہ رویہ اپنایا ۔ انہوںنے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں عظیم الشان تحریک برپا ہوئی ۔ خود بھارت کے دانشوروں نے اعتراف کیا کہ 1994 ء میں مجاہدین نے بھارت کو بے بس کر دیا تھا ۔ دوسری طرف پاکستان کا سیاسی اور سفارتی محاذ ناکام رہا حتی کہ کشمیر کی تحریک دم توڑتی گئی ۔ پاکستان نے نئے حالات کی روشنی میں تحریک کو روک دینے کا فیصلہ کیا ۔ خیال یہ تھا کہ پاکستان بچانا ہے ۔ کشمیری مجاہدین چاہتے تو بھارت سے اپنی بات منوا سکتے تھے ۔ مگر انہوںنے پاکستان کو آگے کیا ۔ پاکستان نے پسپائی اختیار کی ۔ انہوںنے کہا کہ اب پھر بھارت پریشان ہے من موہن سنگھ نے کشمیر کے لیے مذاکرات کار مقرر کئے ۔ سیاسی جماعتوں کے وفود بھیجے ۔ مقبوضہ کشمیر کی سیاسی قیادت نے جموں و کشمیر چھوڑ دو تحریک کو آگے بڑھایا ۔ ان کی اس تحریک میں مذاکرات ، ثالثی کی گنجائش نہیں وہ 60 سال سے مذاکرات سے نالاں ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ سید علی گیلانی کو پاکستان سے شکایت کہ پاکستان ہم پر توجہ نہیں دے رہا ۔ انہوںنے کہا کہ پرنٹ میڈیا نے آزاد کشمیر کی قیادت کو آزاد کشمیر تک محدود کر دیا ہے ۔ چنانچہ ہماری آواز پاکستان تک نہیں پہنچ رہی اقوام متحدہ میں کیسے پہنچے گی ۔انہوںنے کہا کہ گزشتہ سال جون میں مقبوضہ کشمیر کی عظیم الشان تحریک شروع ہوئی ۔ پاکستان اس تحریک کو اب اقوام متحدہ میں کیوں نہیں لے گیا ۔ انہوںنے کہا کہ پاکستان کے قائدین روایتی طور پر کشمیر کا نام لیتے ہیں تاہم اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل میں کشمیر کا مسئلہ کیوں نہیں اٹھایا جاتا ۔ انہوںنے کہا کہ پارلیمانی کشمیر کمیٹی اقوام متحدہ میں وفد بھیجے ۔ صدر آزاد کشمیر مقبوضہ کشمیر کی صورت حال پر اقوام متحدہ کو خطوط لکھ سکتے ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ بھارت یہ سوچ رہا ہے کہ کشمیری آزادی کے بعد پاکستان کا حصہ نہیں بنے گا تو کشمیر کو خود مختاری دے دی جائے ۔ اس صورتحال میں پاکستان نے اپنی ذمہ داریاں ادا نہ کی تو پاکستان کو نقصان ہوگا ۔ گلگت بلتستان نیشنل الائنس کے چےئرمین عنایت اللہ شمالی نے کہا کہ آزاد کشمیر ، مقبوضہ کشمیر اور گلگت بلتستان کی قیادت پاکستانی قیادت سے مل کر کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے حصول کا پروگرام طے کرے ۔ اس سلسلے میں حکومت پاکستان کا تعاون حاصل کیا جائے ۔ حکومت پاکستان مقبوضہ کشمیر کی جدوجہد کے تناظر میں چار قدم آگے بڑھ کر کام کرے ۔ حریت کانفرنس ( ع ) کے رہنما محمود ساغر نے کہا کہ پاکستان کی دو بڑی جماعتیں کشمیر کاز کی حمایت نہیں کر رہی ہیں ۔انہوںنے کہا کہ چین اپنا کام کر رہا ہے پاکستان بتائے وہ کیا کر رہا ہے ۔ پاکستان نے بھارت سے شملہ معاہدہ ، معاہدہ لاہور کیا ، مشرف نے معاہدے کئے لائن آف کنٹرول پر مشرف کے دور میں باڑھ لگا دی گئی ۔ انہوںنے کہا کہ آزاد کشمیر کی حکومت کا تحریک آزادی میں رول واضح کیا جائے ۔ آئینی طور پر مسئلہ کشمیر پر بات کرنے کے لیے ان کے پاس کوئی اختیار نہیں ۔ انہوںنے کہا کہ پاکستان کشمیر کے سلسلے میں پہلے اپنا قبلہ درست کرے ۔ پاکستان کی قیادت فیصلہ کرے کہ کیا کرنا ہے رات کو ایک چیز اور صبح دوسرا فیصلہ ہوتا ہے ۔ اگر آزاد کشمیر کو پاکستان میں ملانے کا فیصلہ ہے تو بتایا جائے ۔ انہوںنے کہا کہ ہمیں بھارت سے گلہ نہیں وہ ہمارا دشمن ہے ۔ ہمیں اپنوں سے گلہ ہے پاکستان کشمیر کو شہ رگ قرار تو دیتا ہے اس کی حفاظت نہیں کرتا ۔ تحریک انصاف کے کنوینئر اعجاز چوہدری نے کہا کہ پاکستان کے حکمرانوں کی ترجیح میں کشمیر کبھی بھی پہلے نمبر پر نہیں رہا ۔ انہوںنے کہا کہ پاکستان کی سیاسی قیادت کشمیر کے سلسلے میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرے ۔ مسلم لیگ(ق) کے جنرل سیکرٹری مشاہد حسین سید نے اپنے خطاب میں کہا کہ مغربی دنیا کشمیر کے سلسلے میں دہرے معیار پر کاربند ہے کشمیر کے سلسلے میں ذمہ داریاں پوری نہیں کی گئیں۔ اہل پاکستان اور کشمیری قیادت کشمیر کے نئے حالات کے تحت مسئلہ کشمیر پھر سے اقوام متحدہ میں لے جائے ۔ مشاہد حسین سید نے کہا کہ کشمیر، نیوکلیئر ایشو ہے ، چین سے تعلقات پر پاکستانی قوم ایک ہے کوئی اختلاف نہیںہے ۔ کئی دفعہ ان ایشوز کو سائیڈ لائن کرنے کی کوشش کی گئی ، شملہ معاہدے کے بعد مسئلہ کشمیر سردخانے میں ڈالنے کی کوشش تھی مگر ایسا نہیںہوا ۔ کشمیریوں نے ان حالات میںخود بھرپور احتجاجی تحریک شروع کردی ۔ جب تک کشمیرفلسطین جیسے مسائل حل نہیں کیے جاتے خطے میں امن قائم نہیں ہو سکتا ۔ ا نہوں نے کہا کہ اس دفعہ کشمیر کے سلسلے میں مختلف صورت حال ہے ۔ کشمیر اور فلسطین کے لیے عالمی صورت حال زیادہ سازگار ہے امریکہ کے مقابلے میں چین ابھررہا ہے ۔ چین نے کشمیر بار سے دو ٹوک موقف اختیار کیا ہے چین کی ویزا پالیسی بڑی اہم ہے ، چین ، مقبوضہ کشمیر کے شہریوں کو بھارتی ویزے پر ویزا جاری نہیں کرتا ۔ چین نے جنرل جسپال کو ویزہ دینے سے انکار کردیا تھا کہ وہ کشمیر ی نہیں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ زمینی حقائق پالیسی پر اثر انداز ہوتے ہیں اگر زمینی حقائق تبدیل ہوتے تو پالیسی تبدیل ہوتی ہے ۔ گزشتہ روز USIC کا امریکہ میں ایک سیمینار ہوا ۔ سیمینار میں امریکیوں نے کہا کہ بھارت کی طرح پاکستان سے نیو کلیئر معاہدہ کیا جائے سول نیوکلیئر معاملے پر امریکہ کی پالیسی تبدیل ہو رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر کشمیر پر مضبوط کیس اجاگر کای جائے تو حالات بدل سکتے ہیں ۔ امریکی دانشوروں نے کہا ہے کہ اوبامہ کی کشمیر پالیسی غلط ہے کشمیر بارے نمائندے کا تقرر ہونا چاہیے مشاہد حسین نے کہا کہ چین اور امریکہ کی پالیسی میں تبدیلی آئی دوسری طرف اسلامی دنیا میں جمود تھا اس میں تبدیل آ رہی ہے ، تیونس ، مصر ،اردن میں تبدیلی آرہی ہے ۔ لبنان میں سعد حریری کی حکومت ختم اور حزب اللہ کے تعاون سے نئی حکومت بن گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے دانشور کشمیر کی تحریک کو مقامی تحریک کہہ رہے ہیں ، میزورام ، آسام ، منی روم کے دانشوروں نے کشمیر میں جمود ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے کہاکشمیری پاکستانی قیادت کو تازہ دم ہو کر کشمیر کے لیے کام کرنا چاہیے ۔ جنوبی سوڈان کے حوالے سے اقوام متحدہ سے کہا جائے کہ وہ دھرے معیار پر کاربند ہے ماضی میں ایسٹ تیمور کو الگ کیا گیا اب جنوبی سوڈان میں ریفرنڈم ہوا ہے کیا کشمیر میں ریفرنڈم نہیں کیا جا سکتا حالانکہ کشمیر بارے سلامتی کونسل کی قرار دادیں موجود ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مشرق وسطی میں تبدیلی سے فلسطینی کاز کو تقویت پہنچ رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے سلسلے میں اقوام متحدہ اور مغربی دنیا میں پھر سے کیس لے کر جانا چاہیے ہم اس سلسلے میں جماعت اسلامی سے تعاون کے لیے تیار ہیں۔ پارلیمانی کشمیر کمیٹی کے چیئر مین مولانا فضل الرحمان نے مسئلہ کشمیر پر حکومتی کارکردگی پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکمرانوں کی کارکردگی کبھی بھی اس حوالے سے اچھی نہیں رہی۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی قیادت کو مسئلہ کشمیر کے سلسلے میں روڈ میپ تیار کر نا ہے اس سلسلے میں کشمیر کمیٹی آنے والے دنوں میں ان کیمرہ کانفرنس منعقد کرائے گی۔ قومی کشمیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پارلیمانی کشمیر کمیٹی کے چیئر مین مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ جب میں قومی اسمبلی کی خارجہ امور کا چیئر مین تھا اس دور سے مسئلہ کشمیر کے قریب رہا ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت کشمیریوں کاہم پر بھرپور اعتماد تھا مگر اب گلے شکوے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کمیٹی کے گزشتہ اجلاس میں مسئلہ کشمیر پر حکومتی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کو زمینی تنازعہ نہیں بلکہ لوگوں کے حقوق کا مسئلہ ہے ہمیں کشمیر کے مستقبل کے ساتھ اپنے مستقبل پر نظر رکھنی چاہیے۔ نائن الیون کے بعد پاکستان کے حالات بدل گئے افغانستان اور مغربی دوروں پر پاکستان الجھ گیا ہے حتی کہ مسئلہ کشمیر نظر انداز ہوا۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ مذاکرات کی میز پر کشمیر پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی حکمرانوں اور عوام کے کردار میں توازن نہیں رہا حکمرانوں کی کارکردگی کشمیر کے حوالے سے اچھی نہیں رہی ۔ انہوں نے کہا کہ خارجہ پالیسی کا محور کشمیر تھا اس حوالے سے پالیسی بدل گئی ہے ہم کوشش کرتے ہیں کہ حکومتی اداروں کو کشمیر کی طرف سے متوجہ کر سکیں۔ پاکستان دباؤ میں ہے ماضی میں اتنا دباؤ نہیں ہوتا تھا فوج اپنے فیصلے خود نہیں کر سکتی۔ امریکی مفادات کے تحت فیصلے ہوتے ہیں ۔ اقتدار اعلیٰ محفوظ ہے نہ آئین۔ انہوں نے کہا کہ عالمی فیصلوں پر پاکستان میں عملدر آمد ہو رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے دباؤ پر آر جی ایس ٹی لگایا جاتا ہے پٹرولیم کی قیمتیں بڑھائی جا رہی ہیں سارا ملک ان کے دباؤ میں ہے ۔ اس سب صورت حال کی وجہ سے مسئلہ کشمیر پر سے ہماری توجہ کم ہو گئی ہے ۔مشرف کے دور میں کشمیر کی جنگ بند ہو گئی ہے مجاہدین سے کہا گیا ہے کہ وہ اسلحہ رکھ دیں انہوں نے کہا کہ ہمارے ادارے کشمیر کی جنگ بند کرا سکتے ہیں تو مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے کر دار کیوں نہیں ادا کر سکتے ۔ دوسری طرف مغربی سرحدیں محفوظ نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کئی سال بعد وزیر خارجہ نے جنرل اسمبلی میں کشمیر پر بات کی۔ یقیناً کشمیر آسان مسئلہ نہیں ہے کشمیریوں کے گلے شکوے بجا ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں مل بیٹھ کر کشمیر پر سوچنا چاہیے ہم ایک پالیسی بنانے میں آگے نہیں بڑھے اس سلسلے میں ایک کانفرنس کی ضرورت ہے چاہے وہ ان کیمرہ ہو ۔ اس کانفرنس میں اپنے لئے راستہ تلاش کیا جانا چاہیے ایک راہ بنانی چاہیے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی اس سلسلے میں کر دار ادا کر نا چاہیے پاکستان آزاد کشمیر اور حریت کی مشترکہ مجلس ہو نی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی یہ طے نہیں ہوا کہ پاکستان کشمیر کے لئے کیا کر سکتا ہے ہمیں باہمی مشاورت سے روڈ میپ تیار کر نا ہے ۔ سیاسی جماعتیں حالات کو مد نظر رکھ کر سوچیں اور مستقبل کی حکمت عملی طے کریں۔ پاکستان کی کشمیر پالیسی کی وضاحت طلب کی جاتی ہے تمام کشمیری جماعتوں کو برابری کا درجہ دیتے ہیں ۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ میں اور میری جماعت گلگت بلتستان کو کشمیر کا حصہ سمجھتے ہیں ۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر آزاد کشمیر راجہ ذوالقرنین نے کہا کہ پاکستانی قوم کشمیریوں کے ساتھ ہے ہم شکر گزار ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے مسئلے کے حوالے سے چند اقدامات ضروری ہیں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی ایک اسمبلی ایک وحدت ہو نا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے لئے گورنر اور وزیر اعلیٰ کی اصطلاح بے کار بات ہے اس کی اصلاح ہو نی چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ یوم یکجہتی کشمیر کے ذریعے پاکستانی ملت کشمیریوں سے وابستگی کا اظہار کرتی ہے ۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے سابق امیر قاضی حسین احمد نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو اجاگر کر نے کا کریڈٹ کشمیری مجاہدین کو جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کا حصہ ضرور کشمیریوں کی آزادی پر منتج ہو گا ۔ انہوں نے کہا کہ عالم اسلام میں جو روح پیدا ہوئی ہے پاکستان اور آزاد کشمیر میں بیدار ہو گی۔ قاضی حسین احمد نے کہا کہ 1989 میں ہم نے 5 فروری کو پہلی بار ’’یوم یکجہتی کشمیر‘‘ منانے کا اعلان کیا تھا ۔ اس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب نواز شریف نے پہلے اور بعد میں وزیر اعظم بے نظیر نے اس کی حمایت کی تھی ۔ انہوں نے مقبوضہ کشمیر کی جدوجہد کی پشتی بانی کو لازمی قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت اسے جائز قرار دیا ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بھارت کشمیر سے فوجی انخلاء کرے ۔ قیدیوں کو رہا کرے ۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرے۔ راجہ فاروق حیدر خان نے قومی کشمیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایکٹ 74 کی موجودگی میں آزاد کشمیر میں با مقصد حکومت قائم نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے معاملے کو صرف اسلام آباد کی نظر سے نہ دیکھا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے نوجوان سوچتے ہیں کہ وہ کہاں کھڑے ہیں اگر صورت حال پر توجہ نہ دی گئی تو حالات خراب ہوں گے کشمیریوں نے اپنے طور پر کوئی فیصلہ کیا تو پاکستان کی قیادت گلہ نہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ صدر مشرف نے کشمیر پالیسی کو تباہ و برباد کر دیا تھا ۔ اس اثر کو زائل کر نے کے لئے پاکستان کی پارلیمنٹ کشمیر پر موقف کا اعادہ کرے ۔ انہوں نے کہا کہ چیئر مین کشمیر کمیٹی مظفر آباد کے صرف حکومت کے ذمہ داران سے ملے ۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ خیبر پختونخوا کو بجلی کی رائلٹی ملتی ہے ہم مطالبہ کرتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ ہم پاکستان کا حصہ نہیں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم سے یہ مذاق نہ کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت سے کشمیر پر بات کر نے کی ضرورت نہیں ہے پاکستان کے پالیسی ساز کشمیر سے مل کر کشمیر پالیسی بنائیں ان کو نظر انداز کر کے پالیسی بنائی گئی تو خود کشی ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں گورنر کس قانون کے تحت بنایا گیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا میڈیا ہمیں نظر انداز کر رہا ہے ٹی وی چینلز جتنی کوریج باقی ملک کو دے رہا ہے اتنا کشمیر کو دے تو بڑی بات ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں نے پاکستان کی پالیسیوں کی مخالت میں سروے پول میں 96% خود مختاری کے حق میں ووٹ دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں الیکشن آنے والے ہیں ایم آئی کے بریگیڈیئر غضنفر ٹکٹ تقسیم کرے نہ پاکستانی مخالفت کی جائے۔ آزادانہ منصفانہ انتخابات کرائے جائیں۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے نائب امیر سینیٹر پروفیسر خورشید احمد نے کہا کہ کشمیر اور پاکستان دو الگ موضوعات نہیں اس لئے قائد اعظم نے کشمیر کو شہ رگ قرار دیا تھا۔ جب تک کشمیریوں کو اپنے مستقبل کے فیصلے کا اختیار نہیں ملتا پاکستان کا ایجنڈا ادھورا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کشمیر کے سلسلے میں اصولی موقف پر قائم رہا ہے ۔ اصولی موقف پر قائم رہنے کے حوالے سے جنرل مشرف کا دور تاریک رہا ہے کشمیر کاز کو نقصان پہنچایا گیا ۔ پاکستان سے کشمیر کے حوالے سے مشرف کے دور میں مایوسی کشمیریوں کو دی گئی۔ مسئلہ کشمیر کے سلسلے میں سفارتی ،سیاسی اور معاشی اقدامات کی ضرورت ہے ۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ(ضیاء الحق) کے رہنما اعجاز الحق نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام پاکستان سے مایوسی کا اظہار کر رہے ہیں چونکہ پاکستان کی کارکردگی مایوس کن ہے ۔ پاکستان مسئلہ کشمیر کو اجاگر کر نے میں ناکام رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانی کشمیر کمیٹی قومی کشمیر پالیسی بنائے اور پارلیمنٹ میں لے جائے۔ اعجاز الحق نے کہا کہ بیرونی سفارت خانوں میں کشمیر ڈیسک قائم کیے جائیں ۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آزاد کشمیر کے وزیر عبدالرشید عباسی نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی پر امن تحریک کو عالمی سطح پر اجاگر کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بھارت دفاعی پوزیشن پر ہے ۔ اسلامی کانفرنس کے علاوہ یورپی یونین اور دوسرے فورمز مسئلہ کشمیر کے حل پر زور دے رہی ہیں ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کشمیریوں کی مرضی کے مطابق قومی کشمیر پالیسی تشکیل دے جمعیت علمائے جموں و کشمیر کے سعید یوسف نے کہا کہ پاکستان کی شہ رگ دشمن کے پنجے میں ہے پاکستان اسے دشمن کے پنجے سے چھڑا کر اپنی سانسیں بحال کریں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان حکومت کی موجود پالیسیوں کے باعث کشمیری عوام میں مایوسی پھیلی ہے ۔ اس مایوسی کا ازالہ کرنے کے لئے حکومت پاکستان اپنا کر دار کرے۔

Tags:

کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے جسے سیاسی بنیادوں پر ہی حل کیاجاسکتا ہے۔بھارتی جنرل کا اعلان

February 1st, 2011 · No Comments · کشمیر, ہندوستان

سری نگر ‘ بھارتی فوج کے لیفٹیننٹ جنرل عطا محمد حسنین نے مسئلہ کشمیر کو سیاسی مسئلہ قرار دیتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں واضح کردیا کہ موجودہ حالات میں ریاست جموں و کشمیر سے فوجی انخلاء کیلئے ماحول سازگار نہیں ہے تاہم فورسز کو حاصل خصوسی اختیارات واپس لینے کیلئے بھارتی حکومت ہی اقدامات اٹھاسکتی ہے۔ فوج کے اہتمام سے جنوبی کشمیر کے قصبے اسلام آباد میں قائم فسٹ سیکٹر آر آر کے ہیڈکوارٹر پر ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل عطا حسنین نے کہا کہ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے جسے سیاسی بنیادوں پر ہی حل کیاجاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افسپا مجاہد مخالف کارروائی کے دوران فوج کو ایک ڈھال فراہم کرتی ہے تاہم ان کاکہناتھا کہ اگر فورسز کو حاصل خصوصی اختیارات چھین لینے کیلئے مرکزی سرکار کی طرفسے کوئی فیصلہ لیا جاتا ہے تو فوج اس میں رکاوٹ نہیں بنے گی۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا حل تلاش کرنا اور افسپا کو ہٹانا دونوں سیاسی نوعیت کے فیصلے ہیں اور فوج کا ان میں کوئی عمل دخل نہیں۔ ایک سوال کے جواب میں جنرل آفیسر کمانڈنگ نے کہا کہ آزاد کشمیر میں ابھی بھی درجنوں ٹریننگ کیمپ موجود ہیں جہاں مجاہدین کو بھارت کی سالمیت اور انفرادیت کو زک پہنچانے کیلئے اسلحہ چلانے کی تربیت فراہم کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ برف باری اور موسمی حالات کی وجہ سے فی الوقت سرحد پر کوئی دراندازی نہیں ہورہی ہے تاہم انہوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ برف پگھلنے اور موسمی حالات میں سدھار آنے کیساتھ ہی مجاہدین ایک مرتبہ پھر سرحد کے اِس پار دراندازی کرنے کیلئے کوششیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ فوج کو خفیہ ذرائع سے اطلاع موصول ہورہی ہے کہ سرحد کے اْس پار درجنوں مجاہدین بھاری ہتھیاروں سے لیس ہیں اور وہ اِس پار داخل ہونے کیلئے موقعے کی تلاش میں ہیں۔ انہو ں نے کہا کہ لائن آف کنٹرول پر تعینات فوج کو انتہائی چوکس کردیا گیا ہے اور کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کیلئے فوج کو ہروقت تیاری کی حالت میں رکھا گیا ہے۔ جنرل آفیسر کمانڈنگ نے کہا کہ سرحد کیساتھ ساتھ میدانی علاقوں میں بھی تعینات فوج کو چوکنا کردیا گیا ہے ۔ اس موقعہ پر فوجی انخلاء سے متعلق صحافیوں کی طرف سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں جنرل حسنین نے کہا کہ فی الوقت ریاست جموں و کشمیر سے فوجی انخلاء کیلئے ماحول ساز گار نہیں ہے کیونکہ ابھی بھی سینکڑوں مجاہدین کارروائیاں انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فوجی سربراہ جنرل وی کے سنگھ نے فوجی انخلاء سے متعلق جو بیان دیا ہے فوج کا وہی موقف ہے۔اس سے قبل تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جنرل حسنین نے کہا کہ وہ امن کا پیغام لیکر اسلام آباد آئے ہیں

Tags: