Urdu News-Online Urdu Newspaper

Urdu news Online Urdu Newspaper

Urdu News-Online Urdu Newspaper header image 4

Entries Tagged as 'کشمیر'

Pages: 1 2 3 4 5 6 Next

بھارتی فوجی نے اپنی بندوق سے گولی مار کر خود کشی کرلی

March 15th, 2010 · Comments Off

سری نگر‘ مقبوضہ کشمیر کے علاقے کشتواڑ میں ایک بھارتی فوجی اہلکار نے اپنی بندوق سے اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔ 11آر آر سے تعلق رکھنے والے 26سالہ بھارتی فوجی گووردن رام ساکن جودھپور راجستھان نے مغل میدان کیمپ میں اپنی سروس رائفل کا استعمال کرکے خود پر گولی چلائی ۔ آواز سنتے ہی دیگر فوجی اہلکار جائے واقعہ کی طرف دوڑ پڑے جہاں مذکورہ اہلکار خون میں لت پت پڑا تھا۔ گووردن کو فوری طور پر اسپتال پہنچایا گیا تاہم ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دیا۔ اس سلسلہ میں پولیس نے کیس رجسٹر کرلیا ہے

Tags: کشمیر , ہندوستان

سعودی عرب مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے مثبت کردار ادا کرے ، میرواعظ عمرفاروق

March 15th, 2010 · Comments Off

ًًجدہ ‘ کل جماعتی حریت کے چیئرمین میر واعظ نے سعودی عرب پر زور دیا کہ وہ پاکستان اور بھارت کے درمیان بنیادی تنازعہ مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لیے مثبت کردار ادا کرے میر واعظ نے جدہ میں کشمیر اوور سیز کمیٹی ،جس میں پاکستان اور آزاد کشمیرکی جملہ سیاسی جماعتوں کے ارکان شامل ہیں ،نے استقبالیہ دیا ۔میرواعظ نے تقریر کرتے ہوئے ان تمام ممبران خاص طور پر پاکستانی شہریوں کا شکریہ ادا کیا جو مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے برابر اپنے بھرپور حمایت کرتے آئے ہیں۔ میر واعظ نے کہا کہ سعودی عرب جو دین اسلام کے تعلیمات کا مرکز ہے ،کا ملت اسلامیہ کو متحد کرنے میں ایک بنیادی اور اہم رول بنتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب جس کے بھارت اور پاکستان کے ساتھ دوستانہ مراسم اور تعلقات ہیں، کو چاہئے کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان بنیادی تنازعہ مسئلہ کشمیر ہے کے حل کے لیے مثبت کردار ادا کرے ،جس طرح وہ موجودہ مسلم امہ کو درپیش مسائل ،جن میں خاص طور پر افغانستان اور فلسطین کے تنازعات شامل ہیں، کے حل کے سلسلے میں کوششیں کر رہا ہے ۔اس موقعے پر میرواعظ نے او آئی سی پر زور دیا کہ وہ جلد سے جلد ایک خیرسگالی وفد کشمیر روانہ کرے تاکہ وہ یہاں کے اصل حالات اور واقعات اور زمینی صورتحال اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا بچشم خود مشاہدہ کر سکے۔میر واعظ نے یہ بات زور دیکر کہی کہ جموں کشمیر کے عوام اپنے جائز جدوجہد آزادی سے ہر گز نہیں تھکے ہیں بلکہ انہوں نے اپنی جدوجہد آزادی کے تئیں بارہا اپنے عزائم کا اعادہ کرکے دکھایا اور آج بھی دکھا رہے ہیں

Tags: کشمیر

مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے زیر انتظام انتخابات کا بائیکاٹ کیا جائے گا ‘ سید علی گیلانی

March 13th, 2010 · Comments Off

سوپور۔حریت کانفرنس کے راہنما سید علی شاہ گیلانی نے سوپور میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ ماہ ہونے والے انتخابات سے کشمیری عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا ۔ مقبوضہ وادی میں بھارت کے زیر انتظام ہونے والے ہر قسم کے انتخابات کا بائیکاٹ کیا جاتا رہے گا ۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی نوعیت اور درجے کے انتخابات کا بائیکاٹ کیا جانا چاہئے ۔ سید علی گیلانی نے کہا کہ اقوام متحدہ نے کشمیری عوام کو حق خودارادیت دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن اس وعدے پر عمل کرنے سے بھارت گریز کر رہا ہے ۔

Tags: پاکستان , کشمیر , ہندوستان

مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران 97 ہزار بچے یتیم اور 32 ہزار خواتین بیوہ ہوئیں ‘ رپورٹ

March 13th, 2010 · Comments Off

سرینگر ‘ مقبوضہ جموں و کشمیر میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران معصوم اور بے گناہ کشمیریوں پر بھارتی فوج کے بے جا ظلم و ستم اور تشدد کی مختلف کارروائیوں میں 32 ہزار خواتین بیوہ اور 97 ہزار بچے یتیم ہوئے ہیں ۔ ایک رپورٹ کے مطابق سیکورٹی فورسز کی بیوہ خواتین کی زندگی عام شہریوں اور دیگر افراد کی بیواؤں سے بہتر ہے افواج کی جانب سے معصوم کشمیریوں پر ظلم وستم کی یہ کارروائیاں ابھی تک جاری ہے اور جس سے یتیموں اور بیواؤں کی تعداد بڑھنے کا بھی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے ۔ ایک رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران بھارتی فوج کا قبضہ ایک طرف دوسری جانب معصوم لوگوں پر ظلم و ستم اور سر عام قتل عام کی واقعات عام ہو رہے ہیں ۔ بھارتی فوج کے لئے کشمیریوں کا قتل عام ایک عام بات ہے وہاں پر آئے روز بھارتی جارحانہ رویئے میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ کشمیری مردوں کے خلاف ان کارروائیوں میں تشدد کا نشانہ اور شہید ہونے سے ہزاروں گھر اجڑ گئے ہیں ۔ کشمیر میں گزشتہ 60 سالوں سے کشمیری عوام بھارتی مظالم کا سامنا کر رہے ہیں اور اب تک ان کا سامنا کرتے کرتے لاکھوں لوگ قربانیاں دے چکے ہیں ۔ کشمیر میں انسانی حقوق کی کھلے عام خلاف ورزیوں کی سنگین واقعات ہو رہے ہیں ۔ کشمیریوں کی شہادتوں کے بعد نہ تو ان کی بیواؤں اور بچوں کا خیال رکھا جاتا ہے بلکہ ان کی زندگی مزید متاثر ہو جاتی ہے ۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ ان متاثرین افراد کے لئے نہ تو مقامی سطح پر این جی اوز مدد کرتی ہے اور نہ ہی کوئی دوسرا تعاون فراہم ہے بلکہ صورت حال مزید گھمبیر بتائی جاتی ہے ۔ رپورٹ کے مطابق بھارتی فوج کی ظلم و ستم سے مزید خواتین کا بیوہ ہونے اور بے شمار بچوں کے یتیم ہونے کا خدشہ ہے کیونکہ اس کشمیر کے مسئلے کا کوئی حل نہیں نکالا جاتا ۔ خواتین بیواؤں کی حالت زار کا کوئی پرسان حال نہیں ۔ اس لئے مقبوضہ کشمیر میں بیواؤں اور بچوں کے لئے این جی اوز کا اعلیٰ سطح پر کام آنا بہت ضروری ہے تاکہ ان کی بنیادی ضرورتوں کو پورا کیا جائے ۔ اور انفرادی طور پر ہر شخص ان کوششوں میں اپنا کردار ادا کرے ۔ واضح رہے کہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران بھارتی مظالم سے مقبوضہ کشمیر میں بیوہ ہونے والی خواتین کی تعداد 32 ہزار ہو گئی ہے اور 97 ہزار بچے یتیم ہوئے ہیں

Tags: کشمیر

بھارت میں برطانوی ہائی کمیشن کے وفد کی مقبوضہ کشمیر میں حریت رہنماؤں سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری

March 13th, 2010 · Comments Off

سری نگر‘ پاک بھارت خارجہ سیکریٹری سطح پر بات چیت کے بعد مقبوضہ جموںو کشمیر جموں و کشمیر کی تازہ ترین صورتحال جاننے کیلئے برطانوی ہائی کمیشن کے خصوصی وفد نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنما پروفیسر عبدالغنی بھٹ سے ملاقات کی اور مسئلہ کشمیر کے مختلف پہلوں پر تبادلہ خیا ل کیا۔اطلاعات کے مطابق آج دلی میں مقیم برطانیہ کے ہائی کمیشن سے وابستہ فسٹ سیکریٹری ویٹفورڈ وایل ویکٹوریہ اور ایرون ساشل نے پروفیسر عبدالغنی بھٹ کی رہائش گاہ پر ان سے ملاقات کی۔ برطانوی وفد سے ملاقات کے دوران پروفیسر بٹ نے انہیں مقبوضھ جموںو کشمیر جموں و کشمیر کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کیا جبکہ ملاقات کے دوران موجودہ سیاسی صوتحال پر غور و خوض کرنے کے علاوہ مذاکراتی عمل کے تناظر میں سیاسی صورتحال کے مختلف پہلوؤں اور کشمیر کے مسئلے کے حل کی تلاش میں اعتماد سازی کے اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ۔ پروفیسر بٹ نے وفد کو بتایا کہ چونکہ مسئلہ کشمیر کے حل میں جنوبی ایشیائی خطے اور اہم تر بات یہ کہ افغانستان میں بھی امن کا راز مضمر ہے، اسلئے بھارت اور پاکستان کو چاہئے کہ وہ مذاکراتی عمل کا آغاز کرتے ہوئے کشمیری قیادت کو اعتماد میں لیکر آگے بڑھیںتاکہ ایٹمی جنگ کی تباہ کاریوں سے بھی بچاجا سکے اور محفوظ و روشن مستقبل کی ضمانت فراہم ہوسکے ۔عبدالغنی بھٹ نے کہا کہ جنوبی ایشیاء میں قیام امن کے خواب کو شرمندہ تعبیر بنانے کیلئے مسئلہ کشمیر کاحل ناگزیر ہے اسلئے بھار ت اور پاکستان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس دیرینہ تنازعہ کو حل کرنے کیلئے بامعنی اور سنجیدہ مذاکرات شروع کریں اور اس سلسلے میں کشمیر کے حقیقی نمائندوں کو بھی شامل کریں۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر ہی ہندپاک کے مابین کشیدگی کی بنیادی وجہ ہے لہٰذا اس مسئلہ کو حل کرنے میں جتنی دیر لگائی جائے گی اتناہی دونوں ممالک کیلئے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ پروفیسر بٹ نے کہا کہ ہند پاک کے مابین اگر چہ اس دیرینہ مسئلہ کو حل کرنے کیلئے بات چیت شروع کی گئی تاہم یہ بات چیت اس دیرینہ تنازعہ کو حل کرنے میں سودمند ثابت نہ ہوسکی

Tags: کشمیر

بھارت کا کشمیر کو متنازعہ علاقہ تسلیم کرنے تک اس سے مذاکرات ممکن نہیں ۔سید علی گیلانی

March 5th, 2010 · No Comments

ہم مذاکرات سے انکاری نہیں لیکن مسئلے کا واحد سہ فریقی مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے
مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے میرے اصولی موقف میں تبدیلی کا سوال ہی پیدا نہیں ہو تا
بھارت کو اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد اور بھارتی جیلوں میں قید ہزاروں کشمیریوں کو رہا کرنا ہوگا
کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین کی ٹیلی فون پرثناء نیوز سے خصوصی بات چیت

اسلام آباد ‘ کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئر مین سید علی شاہ گیلانی نے واضح کیا ہے کہمسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے میرے اصولی موقف میں تبدیلی کا سوال ہی پیدا نہیں ہو تا۔ہم مذاکرات سے انکاری نہیں لیکن جب تک بھارت جموں کشمیر کی متنازعہ حیثیت تسلیم نہیں کرتا ا سوقت تک اس سے مذاکرات ممکن نہیں ۔ مسئلے کا واحد حل سہ فریقی مذاکرات سے ہی ممکن ہے ۔بامقصد مذاکرات کیلئے بھارت کو اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کرانا ہو گا۔ بھارتی جیلوں میں قید ہزاروں کشمیریوں کو رہا کرنا پڑے گا۔ نئی دہلی سے ٹیلی فون پر’’ثناء نیوز‘‘ سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے سید علی شاہ گیلانی نے کہا کہ ہم مسئلہ کشمیر کا پر امن اور منصفانہ حل چاہتے ہیں۔ اس سلسلے میں بھارت سے مذاکرات اسی وقت ممکن ہیں جب تک بھارتی حکومت جموں و کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو تسلیم کرے ۔انہوں نے کہا کہ جب بھارت مسئلہ کشمیر کو متنازعہ تسلیم کر نے کو تیار نہیں تو ایسے حالات میںبھارت سے مذاکرات کس طرح کامیاب ہو سکتے ہیں مذاکرات سے قبل بھارتی حکومت کو جموں و کشمیر سے فوج کا مکمل انخلاء اور وہاں پر رائج کالے قوانین کا خاتمہ کر نا ہو گا ۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا میںبے بنیاد خبریں پھیلائی جارہی ہیں کہ ہم نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اپنے موقف میں تبدیلی لائی ہے ۔ میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہم نے اپنے اصولی موقف پر قائم ہیں اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی ہے ۔ بھارت سے اسی وقت مذاکرات ممکن ہیں جب بھارت کی حکومت کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو تسلیم کرے۔ سید علی گیلانی نے کہا کہ گزشتہ ساٹھ سالوں سے بھارت نے کشمیریوں کو غلام بنا رکھا ہے ۔ خواتین کی بے حرمتی اور نوجوانوں کو قتل کر نا بھارتی فوج کا وطیرہ بن چکا ہے ایسے حالات میں بھارت سے مذاکرات کیسے کامیاب ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ حقیقت یہ ہے کہ بھارت مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے کبھی بھی سنجیدہ نہیں رہا اور نہ ہی اس نے مذاکرات کی کامیابی کے لئے کوئی موثر پالیسی اختیار کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے کشمیر پر دو طرفہ مذاکرات کی کبھی حمایت نہیں کی بلکہ ہمارا موقف واضح ہے کہ اس مسئلے کے پاکستان ،بھارت اور کشمیری عوام تین بنیادی فریق ہیں۔ اس لئے سہ فریقی مذاکرات کے ذریعے ہی اس مسئلے کو حل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ با مقصد مذاکرات کے لئے بھارت کو اقوام متحدہ کی قرارداوں پر عملدر آمد کا واضح لفظوں میں اعلان کر نا ہو گا جن کے تحت کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو تسلیم کیا گیا ہے کہ کشمیری اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے سلسلے میں ان کا موقف وہی ہے جو پہلے تھا اس میں تبدیلی یا انحراف کا سوال ہی پیدا نہیں ہو تا۔ دریں اثناء نئی دہلی میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی شاہ گیلانی نے اس امر کا ایک بار پھر اعادہ کیا ہے کہ ریاست جموںو کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے جس کا حل ہونا ابھی باقی ہے اور مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل ہونا چاہیئے تاکہ 62 سالہ متنازعہ پرامن انداز سے حل کیا جا سکے اور جنوبی ایشیاء میں دیر پا امن کا قیام ممکن بنایا جا سکے ۔چیئرمین حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ سہ فریقی مذاکرات کے ذریعے بھی مسئلہ کشمیر کو حل کیا جا سکتا ہے اگر بھارت پاکستان اور کشمیری قیادت کو عالمی برادری کے زیر نگرانی بامعنی ، بامقصد اور نتیجہ خیز مذاکرات کروائے جائیں تو اس مسئلہ کے حل کی امیدیں پیدا ہو سکتی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اپنی سات لاکھ افواج کو ریاست سے واپس بلائے اور مقبوضہ ریاست کے اندر کالے قوانین کا خاتمہ ، انسانی حقوق کی پامالی کو بند کرنے اور جیلوں کے اندر پڑے بے گناہ کشمیریوں کو رہا کرانے کے لیے جدوجہد کی ہے سید علی گیلانی نے کہا کہ عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیمیں مقبوضہ ریاست کے اندر کشمیریوں کی نسل کشی کو روکنے اورجنوبی ایشیا ء کے خطے کے اندر ، امن خوشحالی اور ترقی کے لیے اپنا کردار اداکریں ۔ تاکہ اس خطہ کے اندر رہنے والے ڈیڑھ ارب انسانوں کی معاشی زندگیوں میں تبدیلی لائی جا سکے ۔ پاک بھارت دو طرفہ مذاکرات وقت کا ضیاع اور بے مقصد ریہرسل ہے ۔ کیونکہ دونوں ممالک چھ دہائیوں سے دو طرفہ مذاکرات کرتے رہے ہیں جس کا آج تک کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہو سکا بلکہ مسئلہ کشمیر کو مزید پیچیدہ بنا دیا گیا ہے۔

Tags: کشمیر

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی ، 2 کشمیری شہید

March 4th, 2010 · No Comments

سرینگر ‘ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی فائرنگ سے 2 بے گناہ کشمیری شہید ہوگئے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی دہشت گردی جاری ہے ۔ راشٹریہ رائفلز سنٹرل ریزرو پولیس اور سپیشل آپریشن گروپ نے تراہ کے علاقے میر محلہ داد سر میں چھاپہ مارا اور فائرنگ سے دو بے گناہ کشمیری شہید کر دئیے ۔ شہداء کے نام محمد امین اور غلا م محمد ہیں ۔ بھارتی فوج نے جنگی ہیلی کاپٹروں سے کارروائی کی جس سے 3 مکانات تباہ ہوگئے۔ تراہ کے علاقے لڈر گام میں ایک بھارتی فوجی زخمی بھی ہوا ۔ دوسری جانب سولہ سالہ کشمیری نوجوان زاہد فاروق کی ہلاکت میں ملوث بارڈر سیکورٹی فورس کے کمانڈر آر کے بیدی کو گرفتار کیا جا رہا ہے ۔

Tags: کشمیر

بھارت ہمیشہ مذاکرات کی فضول مشق کا سہارا لیتے ہوئے بین الاقوامی رائے عامہ گمراہ کر نے کی کوشش کر رہا ہے۔کشمیری قیادت

February 26th, 2010 · No Comments

پاکستان بھارت کے جھانسے میں نہ آے بلکہ جارحانہ انداز میں مسلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کے لیے اقدامات کرے

سری نگر + مظفر آباد۔کشمیری قیادت نے پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات میں بھارتی ہٹ دھرمی پر مایوسی اور افسوس کا اظہار کرتے ہوے عالمی برادر پر زور دیا ہے کہ بھارت کو تنازعہ کشمیر کے حل کے لیے بامعنی بات چیت پر امادہ کیا جاے۔ تاکہ خطہ میں پائیدار امن کو یقینی بنایا جا سکے۔جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر شعبہ خارجہ امور کے سربراہ مولانا غلام نبی نوشہری نے پاکستان بھارت مذاکرات کی کو ناکام قرار دیتے ہوے کہا کہ یہ مذاکرات نہیں بھارت کا طلب کردہ اجلاس تھا جس مین بھارت نے پاکستان کو چارج شیٹ پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت مذاکرات کے زریعے مسائل حل کرنے میں سنجیدہ نہین ہے بلکہ مزاکرات کو پاکستان پر دباو بڑھانے کے لیے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے ،پاکستان کو اس صورتحال پر مزاکرات اور کشمیر پالیسی کا پھر سے جائزہ لینا ہوگا ۔پاکستان بھارت کے جھانسے میں نہ آے بلکہ جارحانہ انداز میں مسلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کے لیے اقدامات کرے ۔جمعیت المجاہدین کے چیف کمانڈر جنرل عبداللہ نے پاک بھارت مذاکرات کو فریب اور دھوکہ بازی قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی نیت شروع دن سے ہی خلوص پر مبنی رہی ہے تاہم بھارت نے ہمیشہ مذاکرات کی فضول مشق کا سہارا لیتے ہوئے بین الاقوامی رائے عامہ گمراہ کر نے کی کوشش کر رہا ہے اور آج بھی اسی ڈگر پر چل رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ان مذاکرات میں اہل کشمیر کے لئے خیر کی کوئی خبر بر آمد ہو نے والی نہیں ہے ۔ایک بیان میں جمعیت المجاہدین کے چیف کمانڈرجنر ل عبداللہ نے کہا کہ امریکہ بھارت کا اتحادی ہے اور وہ بھارتی مفادات کا بڑھ چڑھ کر حفاظت کر رہا ہے یہی وجہ ہے کہ اس نے پاکستان اور بھارت کو ایک بار پھر وقت کے زیاں کے لئے میز پر بٹھایا ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سیکریٹری خارجہ سے ملاقات کا تب تک کوئی فائدہ نہیں جب تک حکومت پاکستان یہ اعلان نہ کر ے کہ وہ بھارت کے ساتھ صرف کشمیر مسئلہ کے حل کے لئے مذاکرات کر رہا ہے۔جنرل عبداللہ نے کہا کہ پاکستان میں بر سر اقتدار طبقہ پر یہ واضح ہوجانا چاہیے کہ بھارت جس فریب کا ری کا سہارا لے رہا ہے اس کا مقصد کشمیر کو سرد خانہ کی نذر کر نا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس خطے کا سب بڑا مسئلہ کشمیر کا تنازعہ ہے یہ حل ہوجائے تو تمام مسائل خود بخود حل ہوجائیں گے۔بیان میں انہوں نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ کشمیر کے ساتھ نتھی نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت چاہتا ہے کہ ٹیبل پر جب بیٹھا جائے تو بیک وقت کشمیر اور بلوچستان پر بارگینگ کی جا سکے۔فریڈم پارٹی نے مسئلہ کشمیر کو پاک بھارت تعلقات میں کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں جاری خوف وہراس ،ماردھاڑ اور پکڑ دھکڑ کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر اگر چہ کشمیر ی عوام کو ان مذاکرات میں کوئی سنجیدگی نظر نہیں آ تی ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ عالمی سطح پر رونما ہو نے والے سیاسی واقعات کے نتیجہ میں بھارت پر پا کستان کے ساتھ تعلقات بہتر کر نے کیلئے دبا ؤ بڑ ھ رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات اس عالمی دبا ؤ کو کم کر نے کیلئے ایک رسمی کاروائی ہے تا ہم ان مذاکرات کی کا میابی کا دارومدار بھارت کے رویے پر ہو گا ۔ذرائع ابلاغ کے لئے جاری ایک تحریری بیان میں مولانا طاری نے کہا کشمیر ی عوام بھارتی حکمرانوں سے اْ س وعدے کا نباہ چا ہتے ہیں جو بھارت کے پہلے وزیر اعظم آنجہانی پنڈت جو اہر لال نہرو نے 1947ء میں تقسیم ہند کے وقت کشمیری قوم سے کیا تھا کہ مناسب وقت آ نے پر کشمیر ی قوم کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کر نے کا موقعہ دیا جا ئیگا۔ انہوں نے کہا بھارت اور پا کستان کے درمیان جتنے بھی حل طلب مسائل ہیں اگر ان سب پر بات چیت نہیں ہو تی ہے تو کشمیری عوام کو بہت مایوسی ہوگی اسلئے کہ مسئلہ کشمیر پر بات نہ ہونے کا صاف مطلب یہ ہو گا کہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پا ما لیاں جاری رہیں گی ۔

Tags: پاکستان , کشمیر , ہندوستان

شمالی کشمیر کے قصبے سوپر میں اپنی نوعیت کا طویل ترین فوجی آپریشن مسلسل تیسرے روز بھی جاری رہا

February 26th, 2010 · No Comments

شلنگ اور ہوائی فائرنگ کی گئی جبکہ چنکی پورہ جھڑپ میں خاکستر ہوئے رہائشی مکانوں کے ملبے کی تلاشی

سری نگر۔شمالی کشمیر کے قصبے سوپر میں اپنی نوعیت کا طویل ترین فوجی آپریشن مسلسل تیسرے روز بھی جاری رہا جسکے دوران قصبے میں مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے شلنگ اور ہوائی فائرنگ کی گئی جبکہ چنکی پورہ جھڑپ میں خاکستر ہوئے رہائشی مکانوں کے ملبے کی تلاشی کے دوران گرد و نواح میں بھاری ہتھیار نصب کئے گئے۔ قصبہ کے چنکی پورہ علاقہ میں 23 فروری منگل کی صبح شروع ہونے والا فوجی آپریشن کل بھی جاری رہااور پولیس اور فوج نے جھڑپ میں تباہ ہونے والے مکانوں کے ملبے کی تلاشی جاری رکھی کیونکہ پولیس کو شبہ ہے کہ ملبے میں مزید مجاہد ین کی لاشیں ہو سکتی ہیں ۔علاقہ کا سخت فوجی محاصرہ بدستور جاری ہے جس کے تحت آس پاس بھاری ہتھیار نصب کئے گئے جبکہ فوجی ہیلی کاپٹر دن بھر چنکی پورہ اور گرد و نواح کے علاقوں کا گشت کرتے رہے۔محاصرہ جاری رہنے کی وجہ سے قصبہ میں مسلسل ساتویں روز دکانیں اور کاروباری ادارے و ٹرانسپورٹ سرگرمیاں معطل رہنے سے معمول کی زندگی درہم برہم ہو کر رہ گئی ۔ قصبہ کے بازار ویران اور سڑکیں سنسان پڑی رہیں اور ہر طرف پولیس اور فوجی اہلکار سڑکوں پر تعینات رہے۔دوپہر ہوتے ہی قصبے کے مختلف علاقوں میں مساجد کے لاؤڈ اسپیکروں سے اس بات کا اعلان کیا گیا کہ لوگ گھروں سے باہر آئیں اور چنکی پورہ کی طرف مارچ کر کے فوجی محاصرہ توڑ دیں کیونکہ وہاں کے لوگ 3روز سے اپنے گھروں میں یرغمال بنے ہوئے ہیں ۔ اعلان ہونے کے فوراً بعد کئی علاقوں سے نوجوان سڑکوں پرنکل کر جلوس کی صورت میں چنکی پورہ کی طرف جانے لگے اور اسلام وآزادی کے حق میں زور دار نعرے بازی کی ۔لوگوں کے یہ جلوس نیو کالونی ، چھانہ کھن،ہاتھی شاہ ،بٹہ پورہ ،جامع اور ملحقہ علاقوں سے بر آمد ہوئے تاہم پولیس اور سی آر پی ایف کے ساتھ ساتھ فوجی اہلکاروں کی بڑی تعداد نے مختلف سڑکوں پر خار دار تار لگا کر سخت ناکہ بندی کی اور مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روکا اورٹیر گیس شلنگ کی جسکے باعث وہاں اتھل پتھل مچ گئی۔اس دوران مظاہرین مشتعل ہوئے اور انہوں نے پولیس پر زبردست پتھراؤ? کیا جسکے جواب میں پولیس نے لاٹھی چارج کیساتھ ساتھ اشک آور گیس کے درجنوں گولے داغے اور جھڑپوں کا یہ سلسلہ پورے قصبے میں پھیل گیا ۔مظاہرین اور پولیس کے درمیان پر تشدد تصادم آرائی وقفے وقفے سے دن بھر جاری رہا جس کے نتیجے میں ٹیر گیس کے گولیوں کی گن گرج سے پورا قصبہ لرزتا رہا۔ چنانچہ احتجاجی مظاہروں کی لہر بھڑک اٹھنے کے پیش نظر فورسز کی مزید کمک طلب کر کے ایک طرف چنکی پورہ کا محاصرہ مزید سخت کیا گیا اور دوسری طرف مظاہرین کو روکنے کیلئے سخت ناکہ بندی عمل میں لائی گئی جس کے تحت اہم سڑکوں اور شاہراہوں پر ناکے لگائے گئے۔نیوکالونی،بٹہ پورہ ، چھانکھناور آرمپورہ علاقوں میں فورسز نے مکانوں کے اندر داخل کر شدید توڑ پھوڑ کے علاوہ مکینوں کی بے تحاشہ مار پیٹ سے خوف و ہراس پھیلایا ۔ کئی علاقوں میں گلی کوچوں اور سڑکوں پر موجود راہگیروں کو دبوچ کر ان کا زد و کوب کیا گیا اور مظاہروں پر قابو پانے کیلئے ہر طرف پولیس اور سیکورٹی اہلکاروں کا جال بچھایا گیا ۔واضح رہے کہ منگل سے قصبے کے چنکی پورہ علاقے کو فوج نے محاصرے میں کر رکھا ہے جسکے دوران فائرنگ کے نتیجے میں دو مجاہدین کی لاشیں برآمد کی گئیں اور کیپٹن سمیت 4فوجی اہلکار مارے گئے۔اس جھڑپ میں کئی رہائشی مکان تباہ ہوئے اور متعدد مکانوں کو شدید نقصان پہنچا۔اس دوران محاذ آزادی کے لیڈر قطب عالم نے سوپر میں لوگوں کو یرغمال بنانے اور مظاہرین پر طاقت کا استعمال کرنیکی مذمت کی ہے ۔

Tags: کشمیر

مسئلہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان بنیادی تنازعہ ہے

February 25th, 2010 · No Comments

جنوبی ایشیاء میں امن کا قیام دونوں ممالک کی مشترکہ ذمہ داری ہے

بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور افغانستان کے ذریعے پاکستان میں مداخلت بند کرے

پاکستان مسئلہ کشمیر ،سرکریک اور سیاچن سمیت تمام مسائل بات چیت کے ذریعے حل کر نا چاہتا ہے

دہشت گردی ایک مقامی یا علاقائی نہیں بلکہ بین الاقوامی مسئلہ ہے

سیکرٹری خارجہ سلمان بشیر کا بھارتی سیکرٹری خارجہ نروپماراؤ سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب

نئی دہلی۔ پاکستان نے مسئلہ کشمیر کو پاکستان اور بھارت کے درمیان بنیادی تنازعہ قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ جنوبی ایشیاء میں امن کا قیام دونوں ممالک کی مشترکہ ذمہ داری ہے بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور افغانستان کے ذریعے پاکستان میں مداخلت بند کرے۔حافظ سعید کے حوالے سے دئیے جانے والے ثبوت محض لٹریچر ہے۔پاکستان مسئلہ کشمیر ،سرکریک اور سیاچن سمیت تمام مسائل بات چیت کے ذریعے حل کر نا چاہتا ہے۔ بھارت کو پانی کے مسئلے پر اپنے خدشات سے آگاہ کر دیا۔دہشت گردی ایک مقامی یا علاقائی نہیں بلکہ بین الاقوامی مسئلہ ہے۔ ان خیالات کااظہار گزشتہ روز سیکرٹری خارجہ سلمان بشیر نے بھارتی سیکرٹری خارجہ نروپماراؤ سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں پاکستان اور بھارت اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر امن قائم کر سکتے ہیں پاکستان بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتا ہے اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ بہتر تعلقات کی طرف راستہ با مقصد اور نتیجہ خیز مذاکرات کے ذریعے ہی جاتا ہے ہماری کوشش ہے کہ بھارت کے ساتھ اعتماد سازی بحال ہو میری بھارتی ہم منصب سے ملاقات مفید اور انتہائی خوشگوار ماحول میں ہوئی ہے ہم نے ایک دوسرے کو صبر و تحمل سے سنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان بنیادی مسئلہ کشمیر ہی ہے ۔ بھارت کو بتایا ہے کہ پاکستان کشمیر سمیت تمام تنازعات کا پر امن حل چاہتا ہے پاکستان کو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کے جارحیت پر تشویش ہے۔ ہم یقین رکھتے ہیں کہ کشمیر سمیت سیاچن ،سرکریک اور دوسرے مسائل کو مذاکرات کے ذریعے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔ انہوںنے کہا کہ مذاکرات کے دوران پانی کے مسئلے پر بھی بات چیت ہوئی ہے پاکستان سندھ طاس معاہدے کے تحت اس مسئلے کو حل کر نا چاہتا ہے ہم نے بھارت کی طرف سے مختلف دریاؤں پر بنائے گئے ڈیمز پر اپنے خدشات سے بھارتی سیکرٹری خارجہ کو آگاہ کر دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارت کو دہشت گردی کے حوالے سے ہر قسم کا تعاون دینے کے لئے تیار ہے ۔ دہشت گردی صرف مقامی یا علاقائی نہیں بین الاقوامی مسئلہ ہے دہشت گردوں کا کوئی مذہب اور سرحدیں نہیں ہوتیں ۔ پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کے لئے بھر پور کوششیں کر رہا ہے اور آئندہ بھی اسے جاری رکھے گا ۔ہمیں اس کے لئے بین الاقوامی برادری کے تعاون کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ممبئی حملوں کے حوالے سے ہر ممکن اقدام کیا ہے ۔ اور مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ پاکستان بد اعتمادی کی فضا کو ختم کر نا چاہتا ہے میں نے اپنی بھارتی ہم منصب کو پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی ہے کیونکہ ہم مذاکرات کھلے دل کے ساتھ اور مخلصانہ طور پر شروع کر نے کے خواہاں ہیں ۔ سلمان بشیر نے کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تصفیہ طلب مسائل کو باہمی احترام کی بنیاد پر حل کیا جائے ۔ کیونکہ دونوں ایٹمی ممالک ہیں اس لئے ان کی زیادہ ذمہ داری ہے کہ وہ جنوبی ایشیاء کو پر امن بنائیں دونوں ممالک کے درمیان مسائل حل کر نے کے لئے سیاسی بصیرت کی ضرورت ہے۔ ہم بھارت کے ساتھ مذاکرات کو جاری رکھنا چاہتے ہیں ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی سر زمین کسی کو بھی کسی دوسرے ممالک کے خلاف استعمال کر نے کی اجازت نہیں دے گا ۔ بھارت کے ساتھ جب بھی مذاکرات ہوئے جموں کشمیر کے مسئلے کو اٹھایا گیا ہے۔ بھارت نے حافظ سعید کا معاملہ اٹھایا ہے ۔ اس حوالے سے جو ثبوت ہمیں فراہم کئے گئے ہیں وہ لٹریچر کے علاوہ کچھ نہیں ۔ قانونی لحاظ سے ان ثبوتوں کو ناکافی ہی سمجھا جائے گا۔ حافظ سعید حکومت پاکستان کی طرف سے بات نہیں کرتے۔ سیکرٹری خارجہ نے ممبئی حملوں اور پونا بم دھماکوں میں ہلاک ہو نے والوں کے لواحقین سے ہمدردی کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان نے بھی کئی ممبئی حملوں جیسے واقعات کو برداشت کیا ہے۔ پاکستان افغانستان کے اندر نیٹو ،امریکہ اور دوسرے ممالک کے ساتھ دہشت گردی کے حوالے سے مکمل تعاون کر رہا ہے۔ غیر ریاستی عناصر سے خطے کو محفوظ بنایا جائے۔پاکستان اور بھارت کے درمیان خطے کو محفوظ بنانے کے لئے تعاون کو بڑھانے کی ضرورت ہے اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب دونوں ممالک کی طرف سے ذمہ دار لوگ اکٹھے ہو کر بیٹھیں اور انٹیلی جنس کا تبادلہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو غیر ذمہ دارانہ بیانات خراب کرتے ہیں اس لئے سیاسی بصیرت کی ضرورت ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان توازن قائم کر نے کے لئے ہم نے بین الاقوامی برادری کی توجہ مبذول کر وائی ہے تا کہ خطے میں بھی توازن قائم ہو سکے۔ دہشت گردی کو مذاکرات سے منسلک کر نا غیر منصفانہ ہے پاکستان کو بھی بھارت کی طرف سے سیز فائر لائن پر فائرنگ کے واقعات پر خدشات ہیں ۔ ہمیں بھارت کی طرف سے بلوچستان کے ذریعے پاکستان میں مداخلت پر شدید خدشات ہیں جس سے بھارتی ہم منصب کو آگاہ کر دیا ہے ۔

Tags: پاکستان , کشمیر , ہندوستان