سری نگر۔حریت کانفرنس کے چےئرمین سید علی گیلانی نے نیا احتجاجی پروگرام جاری کرتے ہوئے 30جون سے 2 جولائی تک مکمل ہڑتال جبکہ 3جولائی جمعہ کو وادی کے طول و ارض میں شہداء کے حق میں غائبانہ نماز جنازہ ادا کرنے کی اپیل کی ہے۔حریت کی طرف سے شام دیر گئے موصولہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حریت کا ایک غیر معمولی اجلاس قائمقام جنرل سیکریٹری جنرل موسیٰ کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں حریت کی جملہ اکائیوں نے شرکت کی ۔ اجلاس میں موجودہ صورتحال کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا ۔بیان کے مطابق اجلاس میں حریت کا تحقیقاتی کمیٹی کی غیر اعتباریت کا موقف دہراتے ہوئے کہا گیا کہ چونکہ اس کمیٹی کی اعتباریت پہلے سے ہی مشکوک تھی اور ڈاکٹر نگہت کی معطلی سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو گئی ہے کہ اصل مجرموں کو ایک منصوبے کے تحت بچانے کی کوششیں جاری و ساری ہیں ۔اجلاس میں شوپیاں واقعہ کے حوالے سے کہا گیا کہ ابھی یہ معاملہ سلگ ہی رہا تھا کہ صورہ اقور آج بارہمولہ میں عفت مآب خواتین کی عصمت پر تابڑ توڑ حملے کئے گئے اور پھر پر امن احتجاج کرنے ویالوں پر گولیاں برسائی گئیں جس کی اجلاس میں شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ۔ بیان کے مطابق اجلاس میں واضح کر دیا گیا کہ شوپیاں کے غیور عوام کے شانہ بشانہ حریت کانفرنس بسوء منزل رواں دواں ہے اور رہے گی ۔بیان میں کہا گیا ہے کہ چونکہ بارہمولہ میں ظلم و زیادتی کے خلاف پر امن مظاہرین پر اندھا دھند فائرنگ کر کے 2نوجوانوں کو شہید کر دیا گیا ،لہٰذاان غیر معمولی حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے اجلاس میں طے پایا کہ 30جون منگلوار،یکم جولائی بدھوار اور2جولائی جمعرات کو جموں و کشمیر میں مکمل ہڑتال رہے گی جبکہ 3جولائی جمعتہ المبارک کو بعد نماز جمعہ تمام جامع مساجد میں شہداء کے حق میں غائبانہ نماز جنازہ ادا کرنے کے علاوہ دعائیہ محفل کا انعقاد ہوگا۔حریت پروگرام کے مطابق 4جولائی بین الاقوامی سطح پر تمام کشمیری برادری کو اپنی اپنی جگہوں پر سانحہ شوپیاں ،صورہ اور بارہمولہ کے دلدوز واقعات کے خلاف اور حصول حق خود ارادیت کے حق میں پر امن احتجاجی مظاہرے کرنے کیلئے کہا گیا ہے ۔بیان کے مطابق آزاد کشمیر میں حریت کانفرنس کے کنوینرمحمد فاروق رحمانی کی قیادت میں پر امن احتجاج کیا جائے گا ۔بیان میں کہا گیا ہے کہ آئندہ پروگرام کیلئے حریت کانفرنس کی شوریٰ میں فیصلہ لیا جائے گا
Tags: ali gilani, All Parties Hurriat Conference, kashmir, kashmir protestEntries Tagged as 'Kashmir'
سید علی گیلانی نے اپنا احتجاجی پروگرام جاری کر دیا
June 30th, 2009 · No Comments
Tags: Kashmir , Urdu , Urdu News
بارہمولہ میں کرفیو کا نفاذ ، عوام کے قابض بھارتی فوج کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری
June 30th, 2009 · No Comments
سری نگر(۔مقبوضہ کشمیر کے شمالی قصبہ بارہ مولہ میں بھارتی فوج کی فائرنگ سے ایک نوجوان کی شہادت کے خلاف ہزاروں لوگ احتجاج کرنے کے لیے سڑکوں پر نکل آئے جس کے بعد حْکام نے پورے ضلع بارہ مولہ میں کرفیو نافذ کر دیا ہے۔بارہ مولہ پولیس کے ایک سینئر افسر نے بتایا ’یہ معاملہ دراصل ایک پندرہ سالہ لڑکے کے اغوا اور اس سے متعلق گرفتاریوں سے جْڑا ہے، لیکن اس سلسلے میں گرفتار ایک شہری کی بیوی نے پولیس پر زیادتیوں کا الزام عائد کرکے حالات کو بگاڑ دیا۔‘بارہ مولہ کے رہائشی شوکت احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ سوموار کی صبح ہزاروں لوگ بارہ مولہ کے پولیس تھانہ کی طرف مارچ کرنے لگے تو پولیس اور سی آرپی ایف اہلکاروں نے ان پر فائرنگ کی جس کے نتیجہ میں چار افراد زخمی ہوگئے، جن میں جلال صاحب بارہ مولہ کا محمد سلیم زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے سرینگر کے ایک ہسپتال میں دم توڑ کر گیا۔عینی شاہدین کے مطابق یہ واقعہ اتوار کی شام اس وقت پیش آیا جب ایک مقامی خاتون نسیمہ پولیس سٹیشن کے باہر احتجاج کرنے لگی اور اس نے وہاں پر جمع لوگوں کو بتایا کہ جب وہ اپنے خاوند کی رہائی کا مطالبہ کرنے کے لیے پولیس تھانہ میں گئی تو پولیس حکام نے اس کو نازیبا کلمات کہے اور اس کے ساتھ دست درازی بھی کی۔ خاتون کے اس بیان سے مشتعل ہوکر مقامی نوجوانوں نے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع کر دیا۔ضلع کے سینئر پولیس افسر وپلو کمار کے مطابق ’پندرہ جون کو بارہ مولہ کے نزدیکی گاؤں کے عبدالرشید گنائی نے اپنی پندرہ سالہ بیٹی کے لاپتہ ہونے کی رپورٹ پولیس میں درج کی تھی۔ اسی تفتیش کے سلسلے میں بارہ مولہ میں کافی عرصہ سے سرینگر کے رہائشی محمد یوسف اور معراج الدین کو پولیس نے دور روز قبل گرفتار کرلیا۔پولیس افسر وپلو کمار نے کہا کہ یوسف کی بیوی بارہ مولہ پولیس سٹیشن پہنچی اور اپنے خاوند کی رہائی کا مطالبہ کرنے لگی جس پر اسے بتایا گیا کہ وہ ایک نابالغ لڑکی کے اغوا میں زیر تفتیش ہے اور اس کے خلاف باقاعدہ کیس درج ہے۔ اس کے بعد اس نے باہر جاکر شورمچایا اور حالات بگڑ گئے۔وپلو کمار کا مزید کہنا ہے کہ مغویہ لڑکی کو اتوار اور سوموار کی درمیانی رات کو سرینگر کے صورہ علاقہ سے برآمد کرلیاگیا اور کیس کی مزید تفتیش ہو رہی ہے۔واضح رہے جنوبی ضلع شوپیان میں تیس مئی کو دو خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی اور قتل کے معاملہ پر ہڑتال اور مظاہروں کا سلسلہ پچھلے ایک ماہ سے جاری ہے اور مقامی لوگوں نے اعلان کیا ہے کہ قصورواروں کو سزا دلوانے تک وہ احتجاج جاری رکھیں گے اور اسے دوسرے اضلاع تک پھیلائیں گے۔اِدھر حکومت نے بار بار یہ اعلان کررکھا ہے کہ قصور وار چاہے کوئی بھی اسے سزا دی جائے گی۔ اس کیس کی تفیش حکومت کا نامزد عدالتی کمیشن کررہا ہے۔
Tags: kashmir, kashmir protestاوپر والی خبر سے ملتی جلتی خبریں دیکھیں
Tags: Kashmir , Urdu , Urdu News
بھارت مقبوضہ کشمیر سے مرحلہ وار فوج نے انخلاء پر غور کر رہا ہے ‘ ٹائمز آف انڈیا
June 30th, 2009 · No Comments
انخلاء ان علاقوں سے ہو گی جہاں گزشتہ ایک سال کے دوران پرتشدد کارروائیوں میں کمی واقع ہوئی ہے
حکومت اور فوج کے درمیان مشاورت جاری ہے ‘ سرینگر ‘ بڈگام ‘ جموں اور کھٹوعہ اضلاع قدرے پرامن ہیں
بھارتی اخبار کی وزارت داخلہ کے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ
نئی دہلی ۔ بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا نے انکشاف کیاہے کہ حکومت مقبوضہ کشمیر کے ان علاقوں سے مرحلہ وار فوج کے انخلاء پر غو کر رہی ہے ۔ جہاں گزشتہ ایک برس کے دوران پرتشدد کارروائیوں میں کمی واقع ہوئی ہے ۔ ٹائمز آف انڈیا نے اپنی رپورٹ میں وزارت داخلہ کے ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کے بعض اضلاع سے فوج کی واپسی کے لئے مشاورت شروع کر دی ہے ۔ حکومت اور فوج کے درمیان مشاورت میں مقبوضہ کشمیر کے ایسے علاقوں سے فوج کے مرحلہ وار انخلاء کے طریقہ کار پر بات چیت کی جا رہی ہے جہاں گزشتہ ایک دو سال میں پرتشدد کارروائیاں کم ہوئی ہیں ۔ رپورٹ کے مطابق سرینگر ‘ بڈگام ‘ جموں اور کھٹوعہ کے اضلاع قدرے پرامن رہے ہیں اور اس بات کا امکان ہے کہ ان اضلاع سے فوج کی واپسی کا مرحلہ شروع ہو سکتا ہے ۔ جبکہ حکومت نے کم تشدد والے دیگر علاقوں کی تفصیل بھی طلب کی ہے ۔ واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر سے فوج کی واپسی کی تجویز بھارتی وزیر داخلہ چدمبرم نے دورہ جموں و کشمیر کے دوران کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے ملاقات کے بعد پیش کی تھی ۔ حال ہی میں عمر عبداللہ بھارتی وزیر دفاع ایکے انتھونی سمیت دیگر اعلیٰ بھارتی حکام سے بھی ملاقاتیں کر چکے ہیں ۔ جن میں فوج کی مرحلہ وار واپسی کی ضرورت پر بات چیت کی گئی ۔
Tags: india, indian army, kashmirاوپر والی خبر سے ملتی جلتی خبریں دیکھیں
Tags: Kashmir , Urdu , Urdu News
لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک گرفتار ،مقبوضہ کشمیر میں شدید مظاہرے ، بھارتی فورسز کی شیلنگ اور لاٹھی چارج
June 29th, 2009 · No Comments
سری نگر۔ پولیس نے گزشتہ روز لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک کو شوپیاں جانے سے روک کر اونتی پورہ میں ساتھیوں سمیت حراست میں لے لیا۔ان کی گرفتاری کی خبر پھیلتے ہی مائسمہ میں لوگوں نے احتجاجی مظاہرے کئے جس کے دوران پولیس اور احتجاجی نوجوانوں کے مابین جھڑپیں ہوئیں۔ یاسین ملک کے گھر سے پولیس کا پہرہ ہٹایا گیا تو انہوں نے دیگر کارکنوں کے ہمراہ آسیہ اور نیلو فر کے لواحقین کے ساتھ اظہار یکجہتی اور تعزیت پرسی کرنے کیلئے شوپیاں کا رخ کیا ۔ یاسین ملک اپنے ساتھیوں کے ہمراہ مختلف مقامات پر پولیس کے کڑے پہرے کو بائی پاس کرتا ہوا اونتی پورہ پہنچا تو وہاں موجود پولیس کی ایک جمعیت نے ان کا راستہ روکا اور انہیں واپس جانے کوکہا۔ فرنٹ ممبران نے پولیس کی ہدایت کو نظر انداز کرتے ہوئے آگے جانے کی کوشش کی لیکن پولیس نے یاسین ملک کودیگر کارکنوں کے ہمراہ گرفتار کرکے پولیس لائنز لیتہ پورہ پہنچایا۔ گرفتار شدگان میں فرنٹ کے سینئر لیڈر نور محمد کلوال ،شوکت احمد بخشی اور الطاف حسین شامل ہیں۔ شوپیاں روانہ ہونے سے قبل یاسین ملک نے کہا کہ پولیس کا پہرہ ہٹتے ہی انہوں نے یہ ضروری سمجھا کہ پہلے شوپیاں جاکر وہاں آسیہ اور نیلو فر کے لواحقین کیساتھ تعزیت اور یکجہتی کا اظہار کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ شوپیاں میں پیش آیا واقعہ انسانی حقوق کی صریحاً خلاف ورزی ہے اور حکومت اس سانحہ میں ملوثین کو پتہ لگانے کے بجائے اس کیخلاف پر امن احتجاج کرنے والے لوگوں پر ہی تشدد ڈھاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ شوپیاں میں قائم کی گئی مجلس مشاورت شوپیاں سے صلاح مشورہ کرنے کے بعد اپنی حمایت دینے پر سوچ وچار کرسکتے ہیں۔اس دوران یاسین ملک کی گرفتاری کی اطلاع جونہی مائسمہ میں لوگوں کو ملی تو نوجوان بڑی تعداد میں سڑکوں پرنکل آئے اور انہوں نے ملک کی گرفتاری کے خلاف احتجاجی مظاہرے اور دکانیں بند کروائیں۔ اس موقعہ پر پولیس اور سی آر پی ایف نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے اشک آور گولے داغے۔جس پر نوجوان مشتعل ہوئے اور انہوں نے پتھراؤکیا ۔جس کے بعد طرفین کے مابین جھڑپیں ہوئیں ۔
Tags: kashmir, yasin malikاوپر والی خبر سے ملتی جلتی خبریں دیکھیں
Tags: Kashmir , Urdu , Urdu News
بھارت کشمیر میں طاقت کا استعمال کرکے کشمیریوں کو فتح نہیں کر سکتا۔میرواعظ مولوی محمد عمر فاروق
June 27th, 2009 · No Comments
سری نگر۔ کل جماعتی حریت کانفرنس(ع) کے چیرمین میرواعظ مولوی محمد عمر فاروق نے کہا ہے کہ بھارت کشمیر میں طاقت کا استعمال کرکے کشمیریوں کو فتح نہیں کر سکتا۔کل جماعتی حریت کانفرنس کی طرف سے اہلیان شوپیاں کے ساتھ یوم اظہار یکجہتی کے پروگرام کے تحت مقبوضہ کشمیر کے جملہ تحصیل ، ضلع صدر مقامات ، مختلف مساجد ،خانقاہوں اور امام باڑوں میں حریت قائدین اور ائمہ مساجد نے سانحہ شوپیاں میں ملوث مجرموں کی گرفتاری اور ان کو قرار واقعی سزا کا مطالبہ کیا ہے۔ جب کہ کٹھ پتلی انتظامیہ کی طرف سے حریت کے اس پروگرام کو ناکام بنانے کے لئے ایک طرف صرف دو دن کے وقفے کے بعد حریت(ع) چیرمین میرواعظ مولوی محمد عمر فاروق کو گھر میں نظر بند کر کے ان کی سیاسی اور مذہبی سرگرمیوں پر قدغن عائد کر دی اور دوسری طرف پورے مقبوضہ کشمیر میں حریت کے احتجاجی پروگراموں کو ناکام بنانے کے لئے جگہ جگہ بھاری تعداد میں فورسز تعینات کرکے بلا اعلان کرفیو اور خوف و ہراس کا ماحول پیدا کر دیا ہے ۔اس پوری صورتحال پہ تبصرہ کرتے ہوئے حریت کانفرنس(ع) کے چیرمین میرواعظ مولوی محمد عمر فاروق نے اس کاروائی کو بدترین سیاسی انتقام گیری سے تعبیر کرتے ہوئے واضح کیا کہ اس طرح کے اوچھے ہتھکنڈوں سے ان کے اور حریت پسند عوام کے حوصلوں کو پست نہیں کیا جا سکتا۔ میرواعظ نے کہا کہ حریت پسند عوام نے شرمناک سانحہ شوپیاں کے تعلق سے عملاً یکجہتی کا مظاہرہ کر تے ہوئے مجروح جذبات سے پورے مقبوضہ کشمیر میں سراپا احتجاج بن کر نہ صرف اہلیان شوپیاں کے ساتھ بھر پور یکجہتی کا اظہار کیا بلکہ اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ ہم تب تک خاموش نہیں بیٹھیں گے جب تک نہ مجرموں کوعبرتناک سزا دی جائے تاکہ اولیا کی سرزمین پہ آئندہ کسی کو اس قسم کی شرمناک کاروائیوں کو عملانے کی جرات نہ ہو۔ ادھر سرکردہ حریت قائدین نے مقبوضہ کشمیر کے متعدد مقامات جن میں مولانا محمد عباس انصاری نے متی پورہ پٹن،آغاسید حسن الموسوی الصفوی نے بڈگام اور اندرکوٹ سمبل ، سید سلیم گیلانی نے جامع مسجد حنفیہ منور آباد ، غلام نبی زکی نے جامع مسجد سرینگر ، مولانا مسرور عباس انصاری نے جامع سجادیہ سرینگر ، محمد یوسف نقاش نے گزربل شیخ محلہ ، عبدالمنان بخاری نے غازی پورہ چاڑورہ، حکیم عبدالرشید نے مسجد نوح بوٹہ کدل، مولوی محمد اشرف نے حبہ کدل شامل ہیں نے سانحہ شوپیاں میں ملوث مجرموں کی گرفتاری کی مانگ کے ساتھ ساتھ جموں کشمیر سے مکمل فوجی انخلا ، کالے قوانین کے خاتمے اور محبوس حریت پسند وں کی فوری رہائی کی ضرورت پر زور دیا۔ جب کہ جاوید احمد میر ، مشتاق احمد صوفی اور شاہد الاسلام نے بعد ازنماز جامع مسجد سرینگر سے ایک بہت بڑے احتجاجی جلوس کی قیادت کی ، جلوس میں شرکاء آزادی اور اسلام کے حق میں نعروں کے علاوہ ، شوپیاں سانحہ کے قاتلوں کو پیش کرو کے فلک شگاف نعرے بلند کر رہے تھے۔ جب جلوس نوہٹہ چوک میں پہنچا تو وہاں تعینات فورسز نے ٹیر گیس شلنگ اور لاٹھی چارج کا استعمال کر کے جلوس کے شرکا کو آگے بڑھنے سے روک دیا۔ حریت کے صدر دفتر کو کپواڑہ ، بارہمولہ، بانڈی پورہ، ٹنگمرگ ، بیروہ، بڈگام، اسلام آباد، پلوامہ، شوپیاں ، ترال، گاندربل، کنگن، بانہال، قاضی گنڈ، پانپور اور دیگر کئی مقامات سے احتجاجی جلسوں اور جلوسوں کی اطلاعات موصول ہوئیںاور جموں صوبہ کے کئی علاقوں سے بھی حریت کے پروگرام پر عوام کی طرف سے مکمل عمل آوری کے پیغامات بھی ملے۔جب کہ حریت چیرمین میرواعظ مولوی محمد عمر فاروق اور سرکردہ حریت رہنما ظفر اکبر بٹ کو پچیس دن کی نظر بندی کی رہائی کے بعد صرف دو دن کے وقفے کے بعد پھر گھروں میں نظر بند کرنے کی کاروائی کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ترجمان نے شہر میں آئے دن آوارہ نوجوانوں کی ہڑبونگ پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کچھ غنڈوں کی طرف سے ایک مہذب شہری ثاقب الطاف جو معروف صحافی الطاف حسین کے فرزند ہیں کی شدید مارپیٹ کی مذمت کرتے ہوئے اس واقعہ میں ملوث آوارہ گرد افراد کو قرار واقع سزا دینے کا مطالبہ کیا۔
Tags: kashmir







