Entries Tagged as 'Kashmir'
اپنا ووٹ سردار عتیق کے خلاف استعمال کیا ‘ سردار یعقوب کے حق میں نہیں
سردار خالد ابراہیم کا پریس کانفرنس سے خطاب
اسلام آباد ۔ جموں و کشمیر پیپلزپارٹی کے صدر خالد ابراہیم نے کہا ہے کہ انہوں نے آزاد کشمیر اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ حکومت پاکستان کی کشمیر پالیسی ‘ صدر آصف علی زرداری کے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے تشویشناک بیانات اور مرکز کی آزاد کشمیر کے سیاسی معاملات میں مداخلت کے خلاف احتجاجاً دیا ۔ یہ بات انہوں نے جمعہ کو یہاں اپنی رہائش گاہ پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔ انہوں نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر پیپلزپارٹی نے سردار عتیق کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا ساتھ اس لئے دیا کیونکہ عتیق حکومت دھاندلی کے ذریعے خاص مقاصد حاصل کرنے کے لئے لائی گئی تھی ۔ اس بات کا ثبوت سردار عتیق کا مشرف کشمیر پالیسی اور بعد میں صدر زرداری کی بھرپور حمایت کرنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنا ووٹ عتیق کے خلاف استعمال کیا ہے مگر نو منتخب وزیر اعظم سردار یعقوب کے حق میں نہیں ۔ چونکہ آئین کے اندر ایک سقم ہے جس کی وجہ سے ایک کی مخالفت دوسرے کی حمایت تصور ہوتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت نے پیپلزپارٹی سے اتحاد کر کے الیکشن لڑا تھا مگر بے نظیر بھٹو کے دور میں جب این آر او جاری کیا گیا تو اس وقت بھی جموں و کشمیر پیپلزپارٹی نے احتجاج کیا تھا اور جب آصف علی زردری جب این آر او کے ذریعے صدر بنے اور کشمیر کے حوالے ان بیانات اور خصوصاً بھارت کے حوالے سے یہ کہنا کہ وہ ہمارا دشمن نہیں ہے اس پر ہماری پارٹی نے اپنی تشویش کا اظہار کیا اور احتجاجاً پاکستان پیپلزپارٹی سے اپنا اتحاد توڑنے اور اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا ۔ خالد ابراہیم نے کہا ہے کہ اگر کوئی جماعت اتحاد کی بناء پر الیکشن میں حصہ لیتی ہے اور بعد میں اس کا اپنی اتحادی جماعت کے ساتھ اختلاف ہو جاتے ہیں تو جمہوری اصولوں کے مطابق اسے اسمبلی کی رکنیت چھوڑ دینی چاہئے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ہے کہ سابق صدر مشرف اچھے آدمی تھے اور ان کا کشمیر پالیسی سے انحراف صرف زبانی حد تک تھا مگر صدر زرداری عملاً پاکستان کے اصولی موقف سے انحراف کر چکے ہیں ۔ یہاں تک کہ وہ بھارتی سرجیکل سٹرائنگ کے حوالے سے بھی نرمی رکھتے ہیں ۔ ایک اور سوال کے جواب میں خالد ابراہیم کا کہنا تھا کہ فاروڈ بلاک کے ارکان کو اپنی اسمبلی کی نشستوں سے مستعفی ہو جانا چاہئے ۔ کیونکہ جمہوری اصولوں کے مطابق ان کا اپنی ہی جماعت سے اختلاف ہو چکا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ ضمنی انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے ۔ مگر ان کی جماعت اگر الیکشن میں حصہ لینا چاہتی ہے تو وہ خود اس بات کا فیصلہ کرے گی ۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا سردار یعقوب تین ماہ بعد اسمبلی توڑ دیں گے تو ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم جب چاہئے اسمبلی توڑ سکتا ہے مگر ان کے خیال میں ایسا نہیں ہو گا ۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ہے کہ ان کے استعفی کا فائدہ صرف اور صرف جمہوری عمل کو پہنچا ہے کسی کی ذات کو نہیں ۔ انہوں نے کہا ہے کہ 2006 ء کے الیکشن میں بدترین دھاندلی کی گئی تھی جس کی وجہ کچھ مقاصد کا حصول تھا
Tags: Kashmir , Pakistan , Urdu , Urdu News
سرینگر۔ ریاست جموں و کشمیر کے مقابلے میں بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں میں تشدد آمیز واقعات کا گراف مسلسل بڑھ رہا ہے ۔ سال 2007میں شمال مشرقی ریاستوں میں دھماکوں ،جھڑپوں اورفائرنگ کے مختلف واقعات میں 1057افراد مارے گئے جبکہ جموں و کشمیر میں اس مدت کے دوران 539 افراد مارے گئے۔ نئی دلی کی سیکورٹی انالسس ایجنسی ’’سا?تھ ایشیا ٹیررازم پورٹال‘‘(SATP)نے اس حوالے سے جو اعداد و شمار پیش کئے ہیں اْن کے مطابق سال 2007میں حیرت انگیز طور پرریاست جموں و کشمیر کے برعکس بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں میں تشدد کی وارداتوں میں زیادہ افراد مارے گئے ۔ مذکورہ ایجنسی کے مطابق سال 2007میں بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں بالخصوص آسام ، منی پور اور تریپورہ میں دھماکوں، جھڑپوں اور فائرنگ کے مختلف واقعات میں 1057 افراد مارے گئے جبکہ گذشتہ سال ریاست جموں و کشمیر میں تشدد آمیز واقعات میں 539افراد ہلاک ہوئے۔ مذکورہ ایجنسی کے اعداد و شمار کے مطابق آسام میں گذشتہ سال تشدد کی مختلف وارداتوں کے دوران 372افراد ہلاک ہوئے جبکہ منی پور میں 500اور جموں و کشمیر میں 539افراد مارے گئے۔SATPکے اعدادو شمار کے مطابق شمال مشرقی ریاستوں میں سال 2006کے دوران تشدد کی مختلف وارداتوں میں 640افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ سال 2007میں یہ تعداد بڑھ کر 1057 ہو گئی۔ مذکورہ ایجنسی کے مطابق شمال مشرقی ریاستوں بالخصوص آسام،تریپورہ اور منی پورمیںجنگجو?ں نے دیہات کے ساتھ ساتھ قصبہ جات کے لوگوں کو بھی نشانہ بنایا اوراپنے آپ کو کم سے کم نقصان پہنچانے کے لئے جنگجو?ں نے عام شہریوں کو نشانہ بنانے کی حکمت عملی مرتب کی۔ جس کے تحت انہیں کم سے کم نقصان پہنچتا ہے اور وہ اپنے مقاصد میں فورسز کا سامنا کئے بغیر کامیاب ہو جاتے ہیں۔ ادھر گوہاٹی یونیورسٹی میںپیس اینڈ کنفلکٹ اسٹیڈی ڈیپارٹمنٹ کے کارڈی نیٹر ننی گوپال موہنتا کا کہنا ہے کہ 30 اکتوبر 2008 کو آسام میں سلسلہ وار دھماکوں کے دوران 95افراد ہلاک ہوئے جبکہ ان دھماکوںمیں400سے زائدزخمی ہوئے تھے۔ اْن کا کہنا تھا کہ آسام، منی پور اور تریپورہ میں نیاسال شروع ہونے سے اب تک 70دھماکے ہو چکے ہیں اورزیادہ تر دھماکے بھیڑ بھاڑ والے بازاروں اور علاقوں میں کئے گئے
Tags: Kashmir , Urdu , Urdu News , india
سرینگر۔ ریاست کے نامزد وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے وزیراعلیٰ کا عہدہ سنبھالتے ہی نوجوان وزیراعلیٰ بننے کا اپنے والد کا سابقہ ریکارڈ توڑ دیا کیونکہ اس سے قبل ان کے والد ڈاکٹر فاروق عبداللہ ریاست کے نوجوان وزیراعلیٰ کی حیثیت سے اقتدار میں آئے تھے ۔ 38سالہ عمر عبداللہ کی پیدائش 10مارچ 1970میں راکفورڈ انگلینڈ میں ہوئی جس کے بعد 1994میں ان کی شادی پائل عبداللہ سے انجام پذیر ہوئی ۔جن سے ان کے دوبچے ظہیر اور ضمیر تولد ہوئے ۔ وزیراعلیٰ نے سڈنس کالج ممبئی میں ایم بی اے کی ڈگری حاصل کی جس کے بعد انہوں نے سکارٹ لینڈ یونیورسٹی سے مزید تعلیم حاصل کی ۔ سال 2000میں انہیں ورلڈ اکنامک فورم اور گوبل کار tommorrowمیں بھارت کی نمائندگی کی جبکہ اس کے علاوہ اقوام متحدہ کی عالمی کانفرنس جو کہ ڈربن میں منعقد ہوئی میں بھی عمر عبداللہ نے بھارت کی نمائندگی کی۔اس کے بعد عمر عبداللہ وزیراعظم ہندکے خصوصی ایلچی برائے لیبیا مقرر کئے گئے ۔وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کھیل کود اور پڑھائی میں دلچسپی رکھتے ہیں اور تیراکی ، سکنگ کے علاوہ موٹر بائیک چلانے کے بھی شوقین ہیں ۔ ریاست میں پہلی بار سیاست میں قدم رکھتے ہوئے ان کے سیاسی کیئریر کا آغاز سال 1998میں ہو ا جب وہ سرینگر حلقہ انتخاب میں لوک سبھا کیلئے منتخب ہوئے اور پارلیمنٹ ممبر بنے جبکہ سال 1999 میں وہ این ڈی اے سرکار میں مرکزی وزیر مملکت برائے صنعت و حرفت منتخب ہوئے جس کے بعد خارجی امور وزیر مملکت بھی رہے ۔بعد میں تیسری بار بھی سال 2004میں بھی وہ لوک سبھا انتخابات کے دوران کامیاب ہوئے ۔چنانچہ اس بار وہ گاندربل حلقہ انتخاب سے کامیاب قرار پائے اور ریاست کے وزیراعلیٰ بھی نامزد کئے گئے۔ جس کے بعد آج انہیں باضابط طور پر ریاست کے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے عہدے اور راز دار کا حلف دلایا گیا اور اب وہ اگلے چھ سال کیلئے ریاست کے وزیراعلیٰ ہونگے
Tags: Kashmir , Urdu , Urdu News
گورنر نے عمر عبداللہ کو 11 ویں وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے حلف دلایا
جموں (کے پی آئی ) ریاست کی سیاسی تاریخ میں زمام اقتدارشیخ خاندان کی تیسری نسل کو اس وقت منتقل ہوئی جب خاندان کے رکن اور شیخ عبداللہ کے پوتے عمر عبداللہ نے10 رکنی نیشنل کانفرنس ۔ کانگریس مخلوط حکومت میں ریاست کے گیارہویں و زیر اعلیٰ کے طور پر حلف لیا۔38 سالہ عمر عبد اللہ کو ریاستی گورنر نریندر ناتھ ووہرا نے جموں یو نیورسٹی کے زور آور سنگھ آڈیٹوریم میں ایک تقریب میں عہدے اور رازداری کا حلف دلایا۔ اس موقع پر کانگریس صدر و یو پی اے چیئرپرسن سونیا گاندھی کے علاوہ سابق وزرائے اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبد اللہ، غلام نبی آزاد ، ریاستی کانگریس کے صدر اور آبی وسائل کے مرکزی وزیر پروفیسر سیف الدین سوز، پرتھوی راج چوہان، نئے وزیر اعلیٰ کی والدہ مولی عبد اللہ ، ان کی اہلیہ پائل عبداللہ ،عمر کے دونوں فرزندوں ظاہر اور ضمیر، پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی ، سچن پائلٹ ، ممبر پارلیمنٹ ڈاکٹر کرن سنگھ ، راجیو شکلا ، نو منتخب ممبران اسمبلی ، سابق وزرا ، اعلیٰ افسران اور شہریوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی عمر عبداللہ کے علاوہ 9کابینی وزراء نے بھی حلف لیاجن میں سے 5کا تعلق کانگریس سے ہے ۔ کانگریس سے جن لوگوں کو وزارت میں شامل کیا گیاہے ان میں سابق سپیکر اسمبلی و ایم ایل اے چھمب تارا چند ، ایم ایل اے اوڑی تاج محی الدین ، ایم ایل اے لیہہ نوان رگزن جورا ، ایم ایل اے کوکر ناگ پیر زادہ محمد سعید ، اور ایم ایل اے نوشہرہ شام لال شرما شامل ہیں ۔ نیشنل کانفرنس کی طرف سے وزیر اعلیٰ عمر عبد ا للہ کے علاوہ جن 4وزرا کو کابینہ میں شامل کیا گیا ہے ان میں ایم ایل اے چرار شریف عبد الرحیم راتھر ، ایم ایل اے کنگن میاں الطاف احمد ، ایم ایل اے وجے پور جموں سرجیت سنگھ سلاتھیہ اور ایم ایل اے خانیار علی محمد ساگر شامل ہیں ۔تارا چند کو جو سابق اسمبلی میں اسپیکر تھے، نائب وزیراعلیٰ کے عہدے کا حلف دلایا گیا۔ یہ دوسرا موقع ہے جب ریاست میں نیشنل کانفرنس اور کانگریس کی مخلوط حکومت برسر اقتدار آئی ہے۔ اس سے قبل 1987 میں ڈاکٹر فاروق عبد اللہ کی قیادت میں دونوں پارٹیوں نے مل کر حکومت قائم کی تھی۔ نئی کابینہ میں ماسوائے ایم ایل اے نوشہرہ شام لال شرما ، تمام پرانے چہرے دوہرائے گئے ہیں ۔ ان میں سے کچھ یا تو ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے دورِ اقتدار میں وزیر رہ چکے ہیں یا مفتی محمد سعید اور غلام نبی آزاد کے دور میں ۔ قبل ازیں اطلاعات تھیں کہ پہلے مرحلہ میں وزیر اعلیٰ سمیت صرف 6وزرا کو حلف دلایا جائیگا لیکن بتایا جاتا ہے کہ دونوں پارٹیوں کے سینئر لیڈران کے دبا? کے بعد 10وزرا کو شامل کر نے کا فیصلہ کیا گیا ۔ نیشنل کانفرنس نے عبدالرحیم راتھر ، سرجیت سنگھ سلاتیہ ، علی محمد ساگر اور میاں الطاف جیسے تجربہ کار لیڈ روں کو کابینہ میں شامل کیا ہے جوڈاکٹر فاروق کی کابینہ میں وزیر رہ چکے ہیں پیر زادہ ، جورا ، تاج محی الدین بھی گزشتہ پی ڈی پی ۔ کانگریس مخلوط حکومت کے دوران کابینہ درجہ کے وزرا تھے جبکہ تارا چند جنہیں نائب وزیر اعلیٰ بنایا گیا ہے ، سابق اسمبلی میں سپیکر تھے ۔ ابھی تک کسی وزیر کو قلم دان نہیں سونپا گیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق بجٹ اجلاس سے قبل کابینہ میں توسیع متوقع ہے ۔ ضابطہ کے مطابق ریاستی کابینہ میں وزرا کی تعداد بمعہ وزیر اعلیٰ 25سے تجاوز نہیں کر نی چاہیے اس طرح ابھی مزید 15وزرا کو کابینہ میں شامل کئے جانے کی گنجائش ہے ۔ اگر چہ کانگریس نے وادی کشمیر اور جموں اور لداخ کو برابر نمائندگی دینے کی کوشش ہے لیکن نیشنل کانفرنس نے جموں خطہ سے ایک ہی وزیر کو کابینہ میں لیا ہے ۔ اس لئے دونوں پارٹیوں کی کوشش ہے کہ آئندہ توسیع کے وقت تمام خطوں اور ذیلی خطوں کو نمائندگی دی جائے ۔
Tags: Kashmir , Urdu , Urdu News
سری نگر۔ جموں کشمیر نیشنل کانفرنس کے رہنما عمر عبداللہ نے مقبوضہ کشمیر کے وزیراعلیٰ کے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔ان کے ساتھ دیگر دس وزراء نے بھی حلف اٹھایا۔تارا سنگھ مقبوضہ کشمیر کے نائب وزیراعلیٰ ہوں گے۔مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے انتخابات کے بعد کوئی بھی پارٹی اکثریت حاصل نہیں کرسکی تھی، جس کے بعد نیشنل کانفرنس نے کانگریس کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت کے قیام پر اتفاق کیا تھا۔عمر عبداللہ مقبوضہ کشمیر کے گیارہویں اور ریاست کے سب سے کم عمر وزیراعلیٰ ہیں
Tags: Kashmir , Urdu , Urdu News