Category Archives: کشمیر

کنٹرول لائن کے دونوں اطراف کشمیری کل ’’یوم شہداء کشمیر‘‘منائیں گے

حزب المجاہدین کے زیر اہتمام شہداء کانفرنس منعقد ہوگی ، 50 ہزار سے زائد مجاہدین ، مہاجرین اور مختلف مکاتب فکر کے افراد شرکت کریں گے
مظفر آباد۔ کنٹرول لائن کے دونوں اطراف کشمیری کل ( منگل کو ) ’’ یوم شہداء کشمیر ‘‘ منائیں گے ۔ دنیا بھر میں کشمیر گزشتہ 79 سالوں سے 13 جولائی 1931 ء کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے یہ دن مناتے ہیں ۔ مظفر آباد میں آج حزب المجاہدین کے زیر اہتمام شہداء کانفرنس منعقد ہوگی ۔ کانفرنس میں 50 ہزار سے زیادہ مجاہدین ، مہاجرین اور دیگر مختلف مکاتب فکر کے افراد شرکت کریں گے سرکاری سطح پر بھی حکومت آزاد کشمیر کی طرف سے سینٹرل پریس کلب میں سیمینار ہوگا جس میں وزیر اعظم آزاد کشمیر خطاب کریں گے ۔حزب المجاہدین کے زیر اہتمام آزاد جموں و کشمیر یونیورسٹی گراونڈ میں ہونے والی شہداء کانفرنس میں متحدہ جہاد کونسل کے سربراہ سید صلاح الدین ، جماعت اسلامی آزاد کشمیر کے امیر عبد الرشید ترابی حریت کانفرنس کے کنوینئر غلام محمد ساغر ، غلام محمد صفی کے علاوہ سیاسی مذہبی دینی جماعتوں کے قانئدین خطاب کریں گے ۔ حزب المجاہدین کے سپریم کمانڈر متحدہ جہاد کونسل کے سربراہ سید صلاح الدین شہداء کانفرنس میں جہاد کشمیر کے حوالے سے اہم اعلان کریں گے ۔آزاد کشمیر یونیورسٹی گراونڈ میں سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے ہیں ۔ مجاہدین نے کانفرنس کی جگہ کا کنٹرول سنبھال کر سیکورٹی کے فرائض انجام دینا شروع کر دئیے ہیں ۔ حزب المجاہدین کی اس کانفرن س میں حریت کانفرنس کے چےئرمین سیدعلی شاہ گیلانی سری نگر سے ٹیلیفونک خطاب کریں گے۔ سری نگر اور گرد و نواح میں گزشتہ پندرہ دنوں سے کرفیو نافذ ہے لیکن اس کے باوجود یوم شہدائے کشمیر منانے کے لیے لوگوں کی بڑی تعداد سڑکوں پرآئے گی ۔ آزاد کشمیر کے تمام اضلاع میں آج یوم شہدائے کشمیر کے پروگرام ہوں گے اور 13 جولائی 1931 ء کے شہداء کو سلام عقیدت پیش کیا جائے گا۔

Share

بھارتی سیکورٹی فورسز مقبوضہ کشمیر کی موجودہ مخدوش صورتحال پر قابو پانے میں نا کام ہو چکی ہیں ۔بھارتی آرمی چیف کا اعتراف

اسلام آباد ‘ بھارتی آرمی چیف نے اعتراف کیا ہے کہ بھارتی سیکورٹی فورسز مقبوضہ کشمیر کی موجودہ مخدوش صورتحال پر قابو پانے میں نا کام ہو چکی ہیں ۔ بھارتی ٹی وی کو انٹرویو کے دوران جنرل وی کے سنگھ کا کہنا تھا کہ کچھ عرصہ سے مقبوضہ کشمیر میں امن وامان کی صورتحال انتہائی کشیدہ ہے جس کے پیچھے بہت سے محرکات کار فرما ہیں۔اس کی بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ ہم وادی کے مقامی لوگوں کا اعتماد حاصل کرنے میں نا کام رہے ہیں۔ وی کے سنگھ کا کہنا تھا کہ بھارتی فوج کشمیر کی کشیدہ صورتحال کوکنٹرول کرنے میں مکمل کامیابی حاصل نہیں کر سکی اور وادی میں امن قائم کرنے کے لیے مزید اقدامات کرتا ہوں گے ۔ بھارتی افواج کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ بھارتی فوج نے اس ضمن میں بڑا کام کیا ہے جس کی وجہ سے امن قائم کرنے میں کسی حد تک کامیابی ملی ہے جبکہ مزید بہتری کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے ۔ وی کے سنگھ کا کہنا تھا کہ بھارتی فوج کو ان عناصر کے خلاف اقدامات کرنا ہوں گے جو احتجاج کرنے والوں کو ٹیلیفون پر ہدایات دیتے ہیں ان کی نشاندہی کی جانی چاہیے۔ وی کے سنگھ کا کہنا تھا کہ احتجاج کرنے والوں کی مالی معاونت کرنے والوں کی بھی نشاندہی کی جانی چاہیے ان کا کہنا تھا کہ مقامی منتخب نمائندوں کو چاہیے کہ وہ عام آدمی کا اعتماد حاصل کریں اور انہیں احتجاج کرنے والے عناصر سے دور رکھیں۔ بھارتی چیف کا کہنا تھا کہ 11 جون سے تشدد کا خاتمہ کرنے کے لیے وادی کے مختلف حصوں میں بڑے پیمانے پر فوج تعینات کی گئی ہے

Share

مقبوضہ کشمیر میں اتواز کے روز مسلسل چھٹے روز بھی کرفیو نافذ رہا۔احتجاجی مظاہرے ،درجنوں افراد گرفتار کر لیے گئے

بھارتی پابندیوں کے باعث مسلسل چوتھے روز بھی اخبارات کی اشاعت معطل رہی۔ گھروں مین بچوں کے لیے دودھ ختم
حریت نے نیا احتجاجی کیلنڈر جاری کر دیا13 جولائی کو مزار شہدا کی طرف مارچ کیا جائے گا۔سفید کپرے پہن کر احتجاج کیا جاے

سری نگر‘ مقبوضہ کشمیر میں اتواز کے روز مسلسل چھٹے روز بھی کرفیو نافذ رہا۔ بھارتی پابندیوں کے باعث مسلسل چوتھے روز بھی اخبارات کی اشاعت معطل رہی۔مختلف مقامات پر شہریوں نے احتجاجی جلوس بھی نکالے۔ پلوامہ اور سوپور اضلاع میں ہندوستان مخالف احتجاج کے بعد دوبارہ کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔۔ سری نگر میں کرفیو کی ڈھیل کے موقع ہزاروں افراد گھرون سے باہر نکل آئے اور احتجاجی مظاہرے کیے۔ بٹہ مالو سری نگر میں ہونے والے مطاہرے میں شہریوں نے ،، ہم آزادی چاہتے ہیں خون کا بدلہ خون ۔۔ جیسے نعرے لگاے،،کل جماعتی حریت کانفرنس (ع۹ کے چیرمین میر واعظ عمر فاروق گھر سے باہر نکلے تو بری تعداد مین لوگ جمع ہوگئے اور آزادی کے حق مین نعرے لگاے۔ بھارتی فورسز نے ظاقت کے زور پر مطاہرین کو منتشر کر دیا تقریبا تیس افراد کو گر فتار کر لیا گیا۔ سری نگر کے علاوہ کئی دوسرے مقامات پر بھی کرفیو کے دوران مظاہرے کرنے کی کوشش کی گئی۔مقبوضہ کشمیر مین مسلسل کے باعث گھروں میں روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قلت پیداہوگئی ہے۔ لوگوں نے کہا ہے کہ گھروں مین بچوں کے لیے دودھ بھی نہین ہے۔ تاہم مختلف مقامات پر مظاہروں اور پولیس فائرنگ کے بعد دوبارہ کشیدگی پھیل گئی ہے۔اس دوران بارھمولہ اور سرینگر کے مختلف علاقوں میں لوگوں نے کرفیو توڑنے کی کوشش کی تو پولیس نے مظاہرین پر فائرنگ کی۔ پولیس کارروائی میں متعدد افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں حکام کی پابندیوں کے خلاف مقامی میڈیا اداروں نے اخبارات کی اشاعت معطل کر دی ہے۔ اتوار کے روز بھی کوئی اخبار شائع نہیں ہوسکا۔۔مقبوضہ کشمیر کے اخبارات کے ایڈیٹروں کی تنظیم کشمیر ایڈیٹرز گِلڈ کے ایک ترجمان ڈاکٹر سیّد شجاعت بخاری نے کہا ہے کہ ہم نیاحتجاج کے طور پر اخبارات کی اشاعت کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، کیونکہ یہاں کے صحافیوں کو پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھانے کی آزادی نہیں دی جاتی ہے اور انہیں فورسز کی طرف سے زیادتیوں کا بھی سامنا ہے۔‘ڈاکٹر بخاری نے بتایا کہ حکومت موجودہ صورتحال کو قابو کرنے میں ناکام ہوگئی ہے اور اس ناکامی کا نزلہ عام لوگوں کے ساتھ ساتھ مقامی صحافیوں پر گرایا جا رہا ہے۔واضح رہے کشمیر سے قریب ایک سو روزنامیاور ہفتہ وار اخبارات اْردو اور انگریزی میں شائع ہوتے ہیں۔۔قابل ذکر ہے کہ مقامی انتظامیہ نے کشمیری صحافیوں کو دیئے گئے کرفیو پاسز کالعدم قرار دیئے ہیں جس کے بعد صحافی اور نامہ نگار گھروں تک محدود ہوکر رہ گئے ہیں۔۔واضح رہے حریت کانفرنس نے پہلے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ کرفیو میں نرمی ہوتے ہی وہ سڑکوں پر نکل کر حالیہ ہلاکتوں اور زیادیتوں کے خلاف احتجاج کریں۔۔ گیارہ جون سے چھ جولائی تک مظاہرین کے خلاف پولیس اور نیم فوجی دستوں کی کارروائیوں میں خاتون سمیت پندرہ افراد شہید ہوچکے ہیں۔ اس سال جنوری سے اب تک مظاہروں اور فرضی جھڑپوں میں اٹھائیس افراد مارے گئے ہیں۔کل جماعتی حریت کانفرنس کے جنرل سیکرٹری مسرت عالم بٹ نے ایک بیان مین کہا ہے کہ تازہ صورت حال میں احتجاجی تحریک کا نیا شیڈول ترتیب دیا گیا ہے۔12 جولائی کو حالیہ تحریک کے دوراں گرفتار کے جانے والوں کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کیا جاے گا۔13 جولائی کو مزار شہدا کی طرف مارچ کیا جائے گا۔14 اور 15جولائی کو مضتلف مقامات پر پر امن احتجاج کیا جاے گا۔16 جولائی کو لوگ سفید کپڑے پہن کر نماز جمعہ کے بعد احتجاج کریں گے اور بٹہ مالو کی طرف مارچ کیا جاے گا۔

Share

مقبوضہ کشمیر، دیہی علاقوں میں بھی کرفیوں نافذ کر دیا گیا۔گھر سے نکلنے والے کو گولی مار نے کا حکم

اسکول، کا لجز، دفاتر، بازار اور پبلک ٹرانسپورٹ بند ہے اور لوگ اپنے گھروں میں رہنے پر مجبور ہیں
سری نگر‘ مقبوضہ کشمیر میں حریت کانفرنس کی جانب سے جمعہ کی نماز کے بعد مظاہروں کی اپیل کے پیشِ نظر وادی کے دیہی علاقوں میں بھی کرفیوں نافذ کر دیا گیا ہے۔حریت کی جانب سے مظاہروں کی اپیل کے پیش نظر دیہی علاقوں میں بھی کرفیو نافذ کیا گیا ہے۔ کپواڑہ، ہنڈواڑہ، پلوامہ اور گندر بال میں کرفیو لگایا گیا ہے۔ مقبو ضہ کشمیر میں کر فیو چوتھے روز بھی جا ری ہے اور بھارتی فوج طاقت کے زور پر لوگوں کو گھروں میں بند رہنے پر مجبور کر رہی ہے۔ سری نگر میں چار دن سے سخت کر فیو نا فذ ہے اور بھارتی فوج اور پو لیس کی بڑی تعداد موجود ہے۔ اسکول، کا لجز، دفاتر، بازار اور پبلک ٹرانسپورٹ بند ہے اور لوگ اپنے گھروں میں رہنے پر مجبور ہیں، کیونکہ بھارتی فوج نے دھمکی دی ہے کہ کر فیو کے دوران گھر سے نکلنے والے کو گولی مار دی جائے گی۔ گزشتہ تین ہفتوں میں بھارتی فوج نے سفاکانہ طریقے سے مختلف واقعات میں 14کشمیری مظاہرین کو شہید کر دیا ہے۔ ادھر پولیس نے تشدد بھڑکانے کے الزام میں ایک حریت رہنما شبیر احمد وانی کو گرفتار کرلیا ہے۔شبیر احمد وانی پر الزام ہے کہ وہ مظاہروں کے دوران دس سے پندرہ افراد کو مروانے کی ایک سازش میں شامل تھے۔ہندستان ٹائمز کے مطابق وہ ایک سخت گیر رہنما سے وسطی کشمیر کے بڈگام ضلع میں ایک مظاہرے کے دوران گڑبڑ پھیلانے کے بارے میں بات چیت کر رہے تھے۔ انٹیلی جنس ایجنسیوں نے یہ بات چیت ریکارڈ کر لی تھی۔ دوسرے رہنما غلام احمد ڈار کی تلاش جاری ہے۔کرفیو کی وجہ سے جمعہ کو دوسرے دن بھی وادی میں اخبارات شائع نہیں ہوسکے۔اسی دوران مقبوضہ کشمیر کے وزیر اعلی عمر عبداللہ نے وادی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کے لیے بھارت نواز جماعتوں کاکل جماعتی اجلاس طلب کیا ہے جو بارہ جولائی کو سری نگر میں ہوگا۔ اس سے ایک دن پہلے وہ اپنی اتحادی جماعتوں کے اراکین اسمبلی سے تبادلہ خیال کریں گے

Share

سری نگر سمیت اسلام آباد، پلوامہ، شوپیاں، سوپور، ورمل، بانڈی پورہ، کپواڑہ اور نڈگام میں جمعہ کے روز بھی کرفیو رہا

معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوگئے ہیں،گھروں میں زورمرہ استعمال کی اشیاء بالخصوص بچوںکا دودھ ختم ہوگیا
کلگام میں مظاہرین اور فورسز مین تصادم کے دوران 29 افراد زخمی،سوپور میں بھارتی فوجی کانواے پر دستی بموں سے حملہ
حریت رہنما شبیر احمد وانی اور میر واعظ قاضی یاسر کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔سری نگر میں لاؤڈ اسپیکروں پر آزادی کے نعرے

سری نگر‘ مقبوضہ کشمیر میں کے دارلحکومت سری نگر سمیت اسلام آباد، پلوامہ، شوپیاں، سوپور، ورمل، بانڈی پورہ، کپواڑہ اور نڈگام میں جمعہ کے روز بھی کرفیو رہا ۔مسلسل کرفیو کے باعث معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوگئے ہیں،گھروں میں زورمرہ استعمال کی اشیاء بالخصوص دودھ ختم ہوگیا ہے،جمعہ کے روز کرفیو کے باعث کئی علاقوں میں لوگ نماز جمعہ ادا کرنے سے قاصر رہے۔جبکہ کئی مقامات پر احتجاجی مظاپرے کیے گئے۔ بھارتی بھارتی فوج نے سری نگر کی سڑکوں پر فلیگ مارچ کیا اور مسلسل تیسرے دن بھی پولیس اور فوج نے سختی کے ساتھ کرفیو پر عمل درآمد کرایا۔گذشتہ رات پرانے شہر اور بعض دوسرے حصوں سے فوجیوں کے ہٹائے جانے کے بعد کئی علاقوں میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور پو پھٹنے تک وہیں پر رہے۔اس دوران مساجد کے لاؤڈ اسپیکروں پر آزادی کے نعرے اور انقلابی گیت نشر کیے جاتے رہے۔شہر کے مضافات میں واقع بمنا اور بٹ مالو کے علاقے میں جب اس طرح کے نعرے لگائے گئے تو حفاظتی دستوں نے ہوائی فائرنگ کرکے اور لاٹھیاں برساکر مظاہرین کو اپنے گھروں کو لوٹنے پر مجبور کیا۔ سری نگر مظفرآباد شاہراہ پر بھارتی فوج کی مظاہرین پر فائرنگ سے دو افراد زخمی ہوگئے ۔ گاندربل مین سی آر پی ایف نے فائرنگ کر کے چھ افراد کو زخمی کر دیا ہے ۔بڈگام میں حریت رہنما آغا حسن کی قیادت میں مظاہرہ کیا گیا ادھر جنوبی کشمیر کے میر واعظ قاضی یاسر کو گرفتار کر لیا گیا ہے ۔کلگام میں مظاہرین اور فورسز مین تصادم کے دوران 29 افراد زخمی ہوگئے۔ سوپور میں مجاہدین نے بھارتی فوجی کانواے پر یکے بعد دیگرے تین دستی بم پھینکے تاہم کوئی نقصان نہیں ہوا ادھر سوپور شہر مین فائرنگ کے واقعے میں ایک سی آر پی ایف اہلکار زخمی ہوگیا۔سری نگر مین صبح سویرے فوجی دستوں اور بعد ازاں باضابطہ فوج نے بھی مخصوص علاقوں کا گشت شروع کردیا۔وادی کشمیر کے مختلف علاقوں سے موصول ہونے والی خبروں میں بتایا گیا ہے کہ پولیس نے کئی مزید گرفتاریاں کی ہیں۔سری نگر پولیس اور نیم فوجی دستوں کی مدد کرنے کے لئے18سو سے زائد مزید بھارتی فوجی دستے مختلف علاقوں میں تعینات کر دیاگیا تا کہ کوئی شخص کرفیو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے گھر سے باہر نہ آ سکے ،بھارتی فوج نے دس سال کے بعد سری نگر، سوپور اور بارہ مولا کے علاقوں میں فلیگ مارچ بھی کیا ہے۔سری نگر کے علاوہ جن علاقوں میں کرفیو عائد کیا گیا ہے ان میں اننت ناگ، پمپور، پلوامہ، کولگام،کپواڑہ،بانڈی پورہ،سوپور اور پارہ مولاہیں ۔سرینگر میں بھارتی فوج کی پندرہویں کور کے ترجمان نے بتایا کہ سرینگر کے بیشتر علاقوں میں ہلاکتوں کے بعد حالات بے قابو ہوگئے تھے، اس لئے حکومت نے ہم سے تعاون کے لئے کہا ہے۔ جمعہ کی صبح سرینگر کے پارم پورہ، ٹینگ پورہ، راولپورہ، اولڈ ائرپورٹ روڑ، اور پرانے شہر کے بعض علاقوں میں فوج نے فلیگ مارچ کیا۔شمالی قصبہ بارہمولہ میں پہلے ہی فوج طلب کی گئی تھی۔دھر سرینگر میں جنگ کے لئے مخصوص فوجی گاڑیاں (آرمرڑ وہیکلز) شہر کی شاہراہوں کا گشت کررہی ہیں۔ ان گاڑیوں پر جدید ہتھیار نصب ہیں اور فوجی اہلکاروں نے سروں پر سیاہ نقاب اور آنکھوں پر خاص قسم کے کالے چشمے پہن رکھے ہیں۔کشمیر ڈاکڑوں اور میڈیکل کالج کے طلبا نے جمعرات کی صبح شیر کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے احاطے میں حالیہ ہلاکتوں کے خلاف مظاہرہ کیا۔ محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ فوجی محاصرہ کی وجہ سے صحت عامہ کا شعبہ متاثر ہوا ہے اور ہنگامی صورتحال میں ایمبولینس کی نقل و حمل بھی مشکل ہوگئی ہے۔جمعہ کے روز بھارتی فورسز نے سنیر حریت رہنما شبیر احمد وانی کو گرفتار کر لیا ہے

Share

پاکستان کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش ہے ، عبد الباسط

بھارت آرمڈ فورسز اسپیشل پاور ایکٹ اور ڈسٹرب ایریا ایکٹ جیسے کالے قوانین کا خاتمہ کرے
اسلام آباد ‘ پاکستان نے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں نافذ ’کالے‘ قوانین کا خاتمہ کرے اور ایسے اقدامات کرے جن کے نتیجے میں کشمیر کی بگڑتی صورتحال پر قابو پایا جا سکے۔دفترِ خارجہ کے ترجمان عبدالباسط کا کہنا ہے کہ پاکستان کو کشمیر میں انسانی حقوق کے حوالے سے شدید تشویش ہے۔بی بی سی اردو کے ہارون رشید سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’ہمیں انسانی حقوق کے حوالے سے جو حالات ہیں ان پر تشویش ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ وہاں حالات بہتر ہوں‘۔ترجمان کا کہنا تھا کہ ’اس سلسلے میں وہاں پر نافذ کالے قوانین جن میں آرمڈ فورسز سپیشل پاور ایکٹ اور ڈسٹربڈ ایریاز ایکٹ جیسے قوانین شامل ہیں انہیں منسوخ کر دینا چاہیے‘مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے عبدالباسط نے کہا کہ ’یہ انسانی حقوق کا مسئلہ ہے، حقِ خودارادیت کا مسئلہ ہے اور اسی سے دیگر مسائل جنم لیتے ہیں۔ اس مسئلے کی جڑ پر بھی نظر رکھنی چاہیے اور اسے بھی حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے‘۔ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کی خواہش ہے کہ بھارت کشمیر کی موجودہ صورتحال سے احسن طریقے سے نمٹنے اور ایسے اقدامات کرے کہ صورتحال مزید نہ بگڑے‘۔ انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ زیرِ حراست کشمیری رہنماؤں کو فوری طور پر رہا کر دے۔ماہِ رواں میں پاک بھارت خارجہ سیکرٹریز کی ملاقات کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ ’ہم پندرہ جولائی کی ملاقات کو مثبت انداز سے دیکھ رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اس ملاقات کے نتیجے میں پائیدار امن مذاکرات کا سلسلہ شروع ہو جائے‘۔خیال رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ ماہ فوج کے ہاتھوں فرضی جھڑپ میں تین شہریوں کی ہلاکت اور انہیں شدت پسند قرار دیے جانے پر پوری وادی میں مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔ ان مظاہروں کے دوران اب تک ایک پچیس سالہ خاتون سمیت اْنیس افراد مظاہرین کے خلاف پولیس یا نیم فوجی دستوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوچکے ہیں۔ بیشتر اموات نیم فوجی دستوں کے ہاتھوں ہوئی ہیں۔اس عوامی احتجاج کو دبانے اور کرفیو کے باوجود ہنگاموں کو روکنے میں پولیس اور نیم فوجی ملیشیاء کی ناکامی کے بعدگزشتہ روز صبح سرینگر اور دوسرے حساس قصبوں میں فوج طلب کر لی گئی ہے

Share

مقبوضہ کشمیر کے دارلحکومت سری نگر کا کنٹرول بھارتی فوج نے سنبھال کر بڑے پیمانے پر کریک ڈاون شروع کر دیا

سری نگر سمیت تمام بڑے شہروں اسلام آباد۔ پلوامہ،پامپور، کلگام ، کپواڑہ، بانڈی پورہ، سوپور ۔ بارہ مولا میں کرفیو جاری
بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر کے حالات کے کوریج پر پابندی لگا دی گئی ہے ، اخبار نویسوں کے کرفیو پاس کینسل کر دیے گئے
سری نگر میں فوج کا فلیگ مارچ لوڈسپیکرکے زریعے اعلان، لوگ گھرون مین رہیں باہر آنے والے کو گولی مار دی جائے گئی

سری نگر ‘ مقبوضہ کشمیر کے دارلحکومت سری نگر کا کنٹرول بھارتی نے سنبھال کر برے پیمانے پر کریک ڈاون شروع کر دیا ہے جبکہ سری نگر سمیت تمام بڑے شہروں اسلام آباد۔ لوامہ،پامپور، کلگام ، کپواڑہ، بانڈی پورہ، سوپور ۔ بارہ مولا میں کرفیو کی پابندیان سخت کر دی گئی ہیں،بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر کے حالات کے کوریج پر پابندی لگا دی ہے، جبکہ مقبوضہ کشمیر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر میاں عبدلقیوم کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت ہیرا نگر جیل منتقل کر دیا گیا ہے،بدھ اور جمعرات کی رات بھارتی فوج کی راشٹریہ رائفلز نے سری نگر کا کنٹرول سنبھال کر فلیگ مارچ کیا اورلوڈسپیکروں کے زریعے اعلان کیا گیا کہ لوگ گھرون مین رہیں باہر آنے والے کو گولی مار دی جائے گئی۔ مقبوضہ کشمیر میں جاری عوامی احتجاج کو دبانے اور کرفیو کے باوجود ہنگاموں کو روکنے میں پولیس اور سی آر پی ایف کی ناکامی کے بعد بدھ کی صبح سرینگر اور دوسرے حساس قصبوں میں فوج طلب کر لی گئی ہے اور میڈیا اہلکاروں کے کرفیو پاس کالعدم قرار دے کر ان کی نقل و حرکت پر پابند عائد کر دی گئی۔ سری نگر مین حالت اس وقت خراب ہوے جب گزشتہ روز بھارتی فورسز کی کارروائی میں ایک خاتون سمیت مزید پانچ نوجوانوں شہید ہوگئے اس واقعے کے بعد شہرمیں زبردست کشیدگی پھیل گئی جس کے بعد حکام نے کرفیو نافذ کردیا۔ “سرینگر کے پارم پورہ، ٹینگ پورہ، راولپورہ، اولڈ ائرپورٹ روڑ، اور پرانے شہر کے بعض علاقوں میں فوج نے فلیگ مارچ کیا۔ سری نگر سے ملبے والی اظلاعات کے مطابق بھارتی کے دستے شہریون کے گھروں میں گھس کر ان نوجوانوں کو تلاش کر رہے ہیں جو احتجاج کا باعث بن رہے ہین۔ سری نگر سے ساٹھ سے زیادہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ فوجی حکام کے مطابق پائن شہر مین آر آر کے سترہ سو اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔شمالی قصبہ بارہمولہ میں پہلے ہی فوج طلب کی گئی تھی۔” دریں اثنا بھارتی فوج نے مقامی اور غیرمقامی میڈیا اداروں سے وابستہ صحافیوں، فوٹوگرافروں اور کیمرہ مینوں کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کر دی ہے۔ ان کے کرفیو پاس کینسل کر دیے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں حکومت نے کرفیو کے دوران جو اجازت نامے (کرفیو پاس) جاری کیے تھے، ڈپٹی کمشنر کے ایک حکمنامہ میں ان اجازت ناموں کو کالعدم قرار دیے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔میڈیا پر پابندی کے بعد شہر کی سڑکوں پر سناٹا چھاگیا ہے اور شاہراہوں پر صرف فوج اور نیم فوجی دستوں کی ہی نقل و حرکت ہے۔ حکومت نے موبائل فون پر پیغام رسانی (ایس ایم ایس) کی سہولت بھی معطل کردی ہیں۔ وادی میں ایس ایم ایس کے ذریعہ صورتحال کی تشہیر میں کم از کم دس میڈیا ادارے سرگرم تھے۔ تمام مقامی ٹی وی چینلز پر روزانہ خبروں کے ایک گھنٹہ کے بلیٹین کودس منٹ تک محدود کردیا گیا ہے۔

Share

مقبوضہ کشمیر میں عوامی احتجاج اور کرفیو کے باوجود ہنگاموں کو روکنے میں پولیس اور نیم فوجی دستے ناکام ہو گئے

حساس علاقوں میں فوج طلب کر لی گئی ،ہر قسم کے ذرائع ابلاغ پر پابندی لگا دی گئی
بھارتی کابینہ کی سلامتی کمیٹی کا مقبوضہ کشمیر کی صورت حال پر تشویش کا اظہار
فوج کو امن کے قیام کے لئے طاقت کا استعما ل کرنے کی اجازت دے دی گئی

نئی دہلی+سری نگر ‘ بھارتی کابینہ کی کمیٹی برائے سلامتی نے مقبوضہ کشمیر میں جاری عوامی احتجاج کو دبانے اور کرفیو کے باوجود ہنگاموں کو روکنے میں پولیس اور نیم فوجی دستوں کی ناکامی کے بعد عوامی احتجاج کو روکنے کے لئے طاقت کا استعمال کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے سرینگر اور دوسرے حساس قصبوں میں فوج طلب کر لی گئی ہے اور میڈیا کے نمائندوں کے کرفیو پاسز کالعدم قرار دے کر ان کی نقل و حرکت پر پابند عائد کر دی گئی۔گزشتہ روز یہاں نئی دہلی میں بھارتی وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ کی صدارت میں کابینہ کی کمیٹی برائے سلامتی کا خصوصی اجلاس ہوا جس میں بھارت کے مرکزی وزیر داخلہ پی کے چدمبرم، وزیر دفاع اے کے انتھونی، کابینہ سیکرٹری کے ایم چندراشیکر، قومی سلامتی کے مشیر شنکر مینن، سیکرٹری داخلہ جی کے پلائی، سیکرٹری دفاع نے شرکت کی۔اجلاس میں مقبوضہ کشمیر کی تازہ ترین صورت حال کا جائزہ لیا گیا اور صورت حال پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سری نگر سمیت دیگر اضلاع میں جاری۔۔” کشمیر چھوڑ دو” کے نام سے عوامی احتجاج کو روکنے اور وہاں پر امن و امان کی صورت حال کو بہتر بنانے کے لئے فوج کو ان علاقوں میں تعینات کیا جائے ، اورامن کے قیام کے لئے طاقت کا استعمال کیا جائے۔اطلاعات کے مطابق اس فیصلے کے بعد سری نگر سمیت دیگر علاقوں میں امن و امان کی صورت حال کو بہتر کرنے میں پولیس اور نیم فوجی دستوں کی مدد کرنے کے لئے شہری علاقوں میں تعینات کر دیاگیا تا کہ کوئی شخص کرفیو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے گھر سے باہر نہ آ سکے ،بھارتی فوج نے دس سال کے بعد شہری علاقوں میں فلیگ مارچ بھی کیا ہے۔سرینگر میں بھارتی فوج کی پندرہویں کور کے ترجمان نے بتایا کہ سرینگر کے بیشتر علاقوں میں ہلاکتوں کے بعد حالات بے قابو ہوگئے تھے، اس لئے حکومت نے ہم سے تعاون کے لئے کہا ہے۔بدھ کی صبح سرینگر کے پارم پورہ، ٹینگ پورہ، راولپورہ، اولڈ ائرپورٹ روڑ، اور پرانے شہر کے بعض علاقوں میں فوج نے فلیگ مارچ کیا۔شمالی قصبہ بارہمولہ میں پہلے ہی فوج طلب کی گئی تھی۔دریں اثنا مقامی اور غیرمقامی میڈیا اداروں سے وابستہ صحافیوں، فوٹوگرافروں اور کیمرہ مینوں کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس سلسلے میں حکومت نے کرفیو کے دوران جو اجازت نامے (کرفیو پاس) جاری کیے تھے،جنہیں ایک حکمنامہ میں ان اجازت ناموں کو کالعدم قرار دے دیاگیا ہے۔میڈیا پر پابندی کے بعد شہر کی سڑکوں پر سناٹا چھاگیا ہے اور شاہراہوں پر صرف بھارتی فوج اور نیم فوجی دستوں کی ہی نقل و حرکت ہے۔ بھارتی حکومت نے موبائل فون پر پیغام رسانی (ایس ایم ایس) کی سہولت بھی معطل کردی ہیں۔ وادی میں ایس ایم ایس کے ذریعہ صورتحال کی تشہیر میں کم از کم دس میڈیا ادارے سرگرم تھے۔ تمام مقامی ٹی وی چینلز پر روزانہ خبروں کے ایک گھنٹہ کے بلیٹین کودس منٹ تک محدود کردیا گیا ہے۔دریں اثنا میڈیا اداروں پر پابندی کے خلاف صحافیوں اور میڈیا اداروں کی عالمی تنظیم انٹر نیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس نے بھارتی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں اظہار رائے کی آزادی پر قدغن کو افسوس ناک قرار دی ہے۔نئی دہلّی سے فیڈریشن کے ایک عہدیدار نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ بہت سنگین صورتحال ہے، ہم اس سلسلے میں ایک رپورٹ تیار کررہے ہیں

Share

مقبوضہ کشمیر ‘حالات انتہائی کشیدہ ‘ آ ٹھ بڑے شہروں میں کرفیو ‘ مظاہرین اور فورسز کے مابین جھڑپیں جاری

سری نگر میں بھارتی فوج کی فائرنگ سے ایک لڑکی سمیت 4نوجوانوں کی شہادت کے بعد ریاست کی صورت حال انتہائی کشیدہ
بھارتی حکام نے سری نگر سمیت آ ٹھ بڑے شہروں میں کرفیو نافذ کر دیا ۔ مظاہرین اور فورسز کے مابین جھڑپیں، 150افراد زخمی ہو گئے
ٹینک پورہ میں شہدا کی تدفین ،حریت قائدین سمیت ہزاروں افراد کی شرکت، کشمیر چھوڑ دو کے نعرے،ممبر اسمبلی کا گھر نزر آتش کر دیا گیا
سری نگر ‘ مقبوضہ کشمیر کے دارلحکومت سری نگر میں بھارتی فوج کی اندھا دھند فائرنگ میں ایک لڑکی سمیت 4نوجوانوں کی شہادت کے بعد ریاست کی صورت حال انتہائی کشیدہ ہوگئی ہے بھارتی حکام نے سری نگر سمیت آ ٹھ بڑے شہروں میں کرفیو نافذ کر دیا ہے۔ مظاہرین اور فورسز کے مابین جھڑپوں اور بھارتی فوج کی فائرنگ کے نتیجے میں3 خواتین ،ذرائع ابلاغ سے وابستہ 14افراد اور پولیس کے 5اعلیٰ آفیسر ،فورسز اور پولیس کے30اہلکاروں سمیت 150افراد زخمی ہو گئے ۔سری نگر میں پرتشدد مظاہروں کے دوران مگر مل باغ میں مظاہرین نے ممبر اسمبلی کے رہائشی مکان پر دھاوا بول کر وہاں محافظوں کے گارڈ روم اور آئی آر پی ایف کوارٹر کو آگ لگادی گئی جبکہ ایس آر ٹی سی کی گاڑی اور ایک کمشنر سیکریٹری کی گاڑی سمیت 2ایمبسڈر گاڑیوں کونذر آتش کردیا گیا ۔شہر سرینگر میں اس وقت تشدد کی تازہ لہر بھڑک اٹھی جب گنگ بگ ٹینگہ پورہ میں ایک نوجوان کی فورسز کے ہاتھوں ہلاکت کی خبر پھیل گئی۔ سوموار کی شام ٹینگہ پورہ بائی پاس پر ریاستی وزیرکے قافلے کا گذر ہوا اور وہاں نوجوانوں نے خشت باری کی۔ اس موقعے پر مشتعل نوجوانوںکومنتشر کرنے کیلئے فورسز نے4 نوجوانوں کا تعاقب کیاجسکے دوران نوجوانوں نے گنگہ بگ نالہ(ویر) کراس کرنے کی کوشش کی اور اس میں تین نوجوان کامیاب ہوئے تاہم مظفر احمد بٹ ولد بشیر احمد ساکن گنگہ بگ کو عینی شاہدین کے مطابق فورسز نے شدید زد کوب کر کے نیم مردہ حالت میں اپنے ساتھ لیا ۔مقامی لوگوں کے مطابق بعد میں فورسز اہلکاروں نے مذکورہ گیارہویں جماعت کے طالب علم 16سالہ مظفر احمد کی لاش نالے میں پھینک دی جسے رات کے گیارہ بجے نالہ سے برآمد کیاگیا۔اس کی لاش برآمد ہونے کے ساتھ ہی اس پورے علاقے میں رات بھر احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا ۔لاش اپنی تحویل میں لینے کے بعد اسے ہزاروں لوگوں نے جلوس کی صورت میں جنازہ گاہ کی جانب پہنچانے کی کوشش کی اور اس موقعے پر جلوس میں شامل لوگ انتہائی مشتعل تھے اور انہوںنے گو انڈیا گو ،اسلام اور آزادی کے حق میں نعرے لگائے ۔اسی دوران فورسز نے جلوس پربے تحاشا شلنگ کے بعد اندھا دھند فائرنگ کی جس کی وجہ سے جلوس میںشامل ایک اور نوجوان فیاض احمد ولد مرحوم نذیر احمد وانی ساکن گنگ بگ جاں بحق ہوا جو دو بچوںکا باپ بتایا جاتاہے ۔ اس موقعے پر فورسز کی اندھا دھند مارپیٹ ا ور شلنگ کے نتیجے میںدرجنوں افراد زخمی ہوئے جن میں سے ایک خاتون سمیت 3افراد کو زخمی حالت میں صدر اسپتال منتقل کیا گیا ۔بعد میں دونوں جاں بحق نوجوانوں کی نماز جنازہ قریب 4 بجے گنگ بگ ٹینگہ پورہ میں ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں ادا کی گئی اور نماز جنازہ تحریک حریت جنرل سیکریٹری پیر سیف اللہ نے پڑھائی جبکہ فرنٹ قائدین نور محمد کلوال، شوکت احمد بخشی اوردیگر مزاحتمی کارکنوں نے دونوں معصومین کی نماز جنازہ اور تدفین میں شرکت کی ۔ اس موقعے پر کوئنٹ کشمیر کا نعرہ دیتے ہوئے لوگوں سے اپیل کی گئی کہ حریت کے احتجاجی کلینڈر پر سختی کیساتھ عمل کریں۔ ابھی دونوں جاں بحق نوجوانوں کی جلوس جنازہ ان کے آبائی مقبرہ کی جانب رواں دواں تھا کہ اسی دوران گنگہ بگ میںجاں بحق ہوئے دوسرے نوجوان کی ہلاکت کی خبر کیساتھ پورے شہر میںلوگ سڑکوں پر نکل آئے اور مظاہرے کئے۔مشتعل لوگوں نے سڑکوں پر ٹائر جلائے اور آزادی کے حق میں نعرہ لگائے ۔ مساجد میںلاوڈ اسپیکروں پر لوگوں کو گھروں سے باہر آنے کیلئے کہا گیا اور ہر طرف شو و غل بپا ہوا اور مرد وزن کا سیلاب سڑکوں پر امڈ آیا اور ان ہلاکتوں کیخلاف احتجاجی لہر پورے شہر میں پھیل گئی۔ بٹہ مالو میں تشدد پھر بھڑک اٹھا جہاں سینکڑوں کی تعداد میںمردوزن گھروں سے باہر آئے اور پرتشدد مظاہروںکا سلسلہ شرو ع ہوا۔پولیس نے پر امن مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے بھاری شلنگ اور بعد میں فورسز نے اندھا دھند فائرنگ کی جسکے نتیجے میں اپنے کچن میںکام کرنے والی ایک 25سالہ دوشیزہ فینسی دخترعبد الرحیم گورو ساکن صدیق آباد دانتر کھاہ بٹہ مالو کے سینے میں گولی پیوست ہوگئی ۔ خون میں لت پت دوشیزہ کو دیکھتے ہی گھر میںکہرام مچ گیا اور اسے فوری طورصدر اسپتال پہنچایا گیا تاہم وہ راستے میں ہی دم توڑ بیٹھی۔دوشیزہ کی ہلاکت کی خبر نے پورے بٹہ مالو میں قیامت صغری بپا کی جس کے فوراً بعد فورسز اور پولیس نے مظاہرین پرشلنگ اور مار پیٹ کرکے منتشر کر دیا اور سختی کیساتھ پورے بٹہ مالو کو سیل کرکے کرفیو نافذ کردیا گیا۔پولیس نے لاوڈ اسپیکروں پر یہ اعلانات کئے کہ کرفیو کی خلاف ورزی کرنے والوں کیخلاف سخت کاروائی عمل میںلائی جائے گی تاہم فورسز کی فائرنگ اور شلنگ سے پورا بٹہ مالو دہل رہا تھا اور صورتحال انتہائی کشیدہ تھی تاہم فورسز اور پولیس نے بٹہ مالوکے اطراف واکناف میں تمام راستوںکوسیل کرکے لوگوں کو مکانوں میںمحصور کر دیا ۔ پر تشدد مظاہروں میں بٹہ مالو اور اسکے گرد نواح والے علاقوں میں مزید 30افراد زخمی ہوئے ہیںجن میں سے 4افراد گولی کا نشانہ بننے کے بعد اسپتالوں میں زیر علاج ہیں ۔25سالہ فینسی کے جلوس جنازہ کی تیاریاں دیر گئے تک جاری تھی لیکن کسی کو بھی بٹہ مالو جانے کی اجازت نہیں دی گئی ۔تاہم مذکورہ دوشیزہ کی لاش لئے جلوس کی صورت میں سینکڑوں کی تعداد میں مرد وزن مگر مل باغ سے ہوتے ہوئے سرائے بالا دستگیر صاحب کی زیارت گاہ پہنچے تاہم لالچوک کی جانب ان کی پیش قدمی کو روکنے کیلئے امیرا کدل کو سیل کردیا گیا اور جلوس پر شلنگ اور فائرنگ کی گئی جسکے بعد ساڑھے پانچ بچے مذکورہ دوشیزہ کی لاش واپس مگر مل باغ سے ہوتے ہوئے بٹہ مالو پہنچائی گئی ۔بٹہ مالو میں دوشیزہ کے جلوس جنازہ پر پولیس نے پھرشلنگ اورفائرنگ کی جس کے دوران ایک مرتبہ پھر داندرکھاہ ، مگر مل باغ اور بٹہ مالو میں لوگ مشتعل ہوئے ۔ مشتعل ہجوم نے ممبر اسمبلی عرفا ن احمد شاہ کے مکان پر دھاوا بولنے کی کوشش کی تاہم وہاں مکان کی محافظت پر تعینات آئی آر پی ایف بٹالین سے وابستہ اہلکاروں نے انہیں روکنے کیلئے شلنگ اور ہوائی فائرنگ کی ۔جسکے جواب میںمشتعل ہجوم نے گارڈ روم کو آگ لگا کر نذرِ آتش کر دیا۔پے در پے ہلاکتوں کی خبر نے پورے شہر میںا دھم مچا دی اور مگر مل باغ،مائسمہ ،رام باغ ،بٹہ مالو،آبی گذر،سونہ وار، ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ اور پائین شہرپر تشدد جھڑپوں کا آغاز ہوا جو دیر گئے تک جاری رہا۔چھانہ پورہ اور اسکے ملحقہ علاقوں نٹی پورہ سے ایک بڑا جلوس نکالا گیاجس پر رام باغ میںشلنگ کی گئی جسکے نتیجے میں 30افراد زخمی ہوئے۔اسلام آباد ،پلوامہ ،سوپر اوربانڈی پورہ میں احتجاجی جلوسوں پر پولیس نے طاقت کا استعمال کیا جس کے دوران پرتشدد مظاہروں کے دوران خشت باری اور شلنگ کے نتیجے میں درجن بھر افراد کو چوٹیں آئیں۔اسلام آباد میں کڑی ناکہ بندی کے باوجود آنچی ڈورہ سے ہزاروں لوگوں نے جلوس نکالا اور ہلاکتوں کے خلاف اور آزادی کے حق میں نعرے لگاتے ہوئے لالچوک کی جانب پیش قدمی کی تاہم مٹن چوک میں فورسز نے جلوس پر بے تحاشا لاٹھی چارج اور شلنگ کی

Share

مقبوضہ کشمیر میں مزید 2 نوجوان شہید ، حالات کشیدہ ہو گئے

پولیس کی مظاہرین پر براہ راست فائرنگ ، 3 افراد زخمی ، ایک ہسپتال لے جاتے ہوئے دم توڑ گیا
پولیس کارروائی سے 10 صحافی بھی زخمی ہوئے ، فیاض پر براہ راست فائرنگ کی عکس بندی کی ہے، کیمرہ مین
حکومت نے سیکورٹی پابندیوں کو سخت کردیا ، سڑکوں پر سیکورٹی بڑھا دی گئی
سری نگر‘ مقبوضہ کشمیر میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں مزید 2 نوجوانوں کی شہادت کے بعد سرینگر میں پھر ایک بار تناؤ کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔2 نوجوانوں کی شہادت کی خبر پھیلتے ہی وادی کے بیشتر اضلاع میں ہڑتال اور مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے اور مظاہرین پر پولیس کی فائرنگ سے 3 افرا دزخمی ہو گئے۔ حکومت نے سکیورٹی پابندیوں کو سخت کردیا ہے اور سڑکوں پر سکیورٹی بڑھا دی ہے۔سری نگر کی نواحی بستی ٹینگ پورہ کے سترہ سالہ نوجوان کی حراستی شہادت کے خلاف منگل کی صبح لوگوں نے مظاہرے کیے۔مظاہرین پر پولیس نے براہ راست فائرنگ کی اور تین افراد زخمی ہوگئے ہیں۔زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم راستے میں تیس سالہ فیاض احمد وانی نے زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ دیا۔ وانی کے مامو جاوید احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ فیاض احمد کے سر میں گولی لگی تھی۔ اس واردات سے متعلق عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ سرینگر کے جنوب میں بائی پاس شاہراہ پر واقع ٹینگ پورہ اور گنگ بْگ بستیوں کے چند نوجوان سوموار کی شام سڑک پر پتھراؤ کررہے تھے کہ نیم فوجی دستوں نے ان کا تعاقب کیا اور چند لڑکوں کو گرفتار کیا۔ پوچھ گچھ کے بعد سترہ سالہ مظفر احمد کے علاوہ سب کو چھوڑ دیا گیا ہے۔ رہا کیے گئے ایک نوجوان کے چاچا سجاد احمد نے بی بی سی کو بتایاکہ جب مظفر لاپتہ ہوگیا تو ہم نے رات بھر سڑک پر احتجاج کیا۔ سینیئر پولیس افسر بھی موقعہ پر آئے، اور انہوں نے لاعلمی کا اظہار کیا۔ ہم رات بھر وہیں رہے۔سجاد کا کہنا ہے’ منگل کو صبح سویرے چند نوجوان ندی کے کنارے بیٹھے تھے کہ انہوں نے فورسز اہلکاروں کو مظفر کی لاش ندی میں پھینکتے ہوئے دیکھا۔ انہوں نے شور مچایا اور لوگوں نے مظاہرہ کیا۔ مظاہرین پر پولیس نے براہ راست فائرنگ کی جس میں دو بیٹیوں کا باپ فیاض وانی مارا گیا۔‘فیاض سرکاری ملازم تھا اور فٹ بال و کرکٹ کھیلوں میں مہارت کے لیے لوگ اسے ’بادشاہ خان‘ کہتے تھے۔مقامی شہری شبیر احمد نے بتایا کہ فیاض کی ہلاکت کے بعد ٹینگ پورہ، گنگ بگ اور بٹہ مالو کے باشندوں نے زبردست احتجاج کیا۔ شبیر کے مطابق فورسز اہلکاروں نے بستیوں پر دھاوا بول دیا اور مکانوں کے شیشے توڑ دیے اور لوگوں کا زد کوب کیا۔پولیس کی کارروائی میں احتجاجی جلوس کی عکس بندی کرنے والے متعدد میڈیا فوٹوگرافر بھی زخمی ہوگئے ہیں۔ فوٹو گرافرس ایسوسی ایشن کے صدر فاروق خان سمیت کم از کم دس صحافیوں کو چوٹیں آئی ہیں۔ ایک بھارتی ٹی وی چینل کے لیے کام کرنے والے کیمرہ مین نے دعویٰ کیا کہ اس نے پولیس اہلکار کو فیاض پر براہ راست فائرنگ کی عکس بندی کی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ ٹیپ کا مشاہدہ کرینگے۔انسپکٹر جنرل آف پولیس فاروق احمد نے بی بی سی کو فون پر بتایا ہے کہ ہم اس معاملہ کی تفتیش کررہے ہیں۔ ہم دیکھ رہے کہ مظفر کی موت پانی میں ڈوب جانے سے ہوئی ہے یا کسی اور وجہ سے۔ ہم فائرنگ کے واقعہ کی بھی تحقیات کررہے ہیں۔اس واقعہ کی خبر شہر میں آگ کی طرح پھیل گئی۔ علیٰحدگی پسندوں کی طرف سے مظاہروں کی کال کے پیش نظر شہر میں پہلے ہی تناؤ تھا اور حکومت نے تمام تعلیمی اداروں میں چھٹی کا اعلان کیا تھا۔ ہلاکتوں کا انکشاف ہوا تو شہر میں مزید پولیس فورس کو تعینات کیا گیا۔ شہر کے سینیئر پولیس افسر شوکت شاہ نے بتایا ہے کہ تناؤ کی صورتحال ہے لیکن ہم لوگ تیار ہیں۔قابل ذکر ہے کہ وزیر اعلیٰ، جو جموں کشمیر کے وزیرداخلہ بھی ہیں، نے پیر ہی کو کہا تھا کہ نہتے نوجوانوں کی ہلاکت کو ’ برداشت‘ نہیں کرینگے۔واضح رہے پولیس اور نیم فوجی دستوں کے ذریعہ فائرنگ اور آنسو گیس کے استعمال سے پچھلے ایک ماہ کے دوران تازہ ہلاکتوں سمیت 16 افراد ہلاک گئے ہیں۔چار جولائی کو حکومت نے تمام اضلاع سے کرفیو ہٹالیا تھا اور توقعہ تھی کہ حالات بحال ہوجائینگے۔ لیکن اننت ناگ مارچ کے خلاف سوموار کو پھر سے سخت کرفیو نافذ کیا گیا۔ علیٰحدگی پسندوں نے طلبا و طالبات سے اپیل کی تھی کہ وہ منگل کو وردی پہن مظاہرے کریں جس پرحکومت نے تعلیمی اداروں میں چھٹی کا اعلان کیا۔

Share