Urdu News-Online Urdu Newspaper

Urdu news Online Urdu Newspaper

Urdu News-Online Urdu Newspaper header image 4

Entries Tagged as 'کشمیر'

Pages: Prev 1 2 3 4 5 6 Next

مسئلہ کشمیر پر بات چیت میں کشمیریوں کو شامل کیا جائے ۔ یاسین ملک

February 25th, 2010 · No Comments

اسلام آباد‘ چیئرمین جموںو کشمیر لبریشن فرنٹ یاسین ملک نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر پر بات چیت میں کشمیریوں کو بھی شامل کیا جائے ۔ ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے یاسین ملک نے کہا کہ سولہ ماہ کے تعطل کے بعد پاکستان اوربھارت کے مذاکرات ہو رہے ہیں جو ایک خوش آئند اقدام ہے تاہم انہوں نے کہا کہ 63 سال گزر جانے کے باوجود یہ مسئلہ جوں کا توں ہے ۔ اور اس کے حل کے بغیر پاک بھارت تعلقات بہتر نہیں ہو سکتے ۔ اب وقت آگیا ہے کہ آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کے لیے پاکستان اور بھارت کشمیریوں کو ساتھ لے کر ا س مسئلے کو حل کرے ۔ یاسین ملک نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کی داخلی فضا بھی مکدر ہے اس لیے ضروری ہے کہ پاکستان اور بھارت تمام متنازعہ مسائل کے حل کی کوششیں کریں ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کی دعا ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات بہتر ہوں کیونکہ دونوں ممالک کے کشیدہ تعلقات کی وجہ سے کشمیری بھی ابتلا میں ہیں۔

Tags: کشمیر

بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی ، 5 کشمیر ی شہید کردیئے ، مجاہدین سے جھڑپ میں افسر سمیت3 فوجی ہلاک،4زخمی ہوئے

February 24th, 2010 · No Comments

سری نگر ‘ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی میں مزید5کشمیری شہید ہوگئے جبکہ مجاہدین سے جھڑپ کے دوران بھارتی فوج کے افسر سمیت3 فوجی ہلاک اور4زخمی ہوگئے۔بھارتی فوج نے سوپور کے علاقے چنکی پورہ میں انتقامی کارروائی کرتے ہوئے 2 مکانات تباہ کردئیے۔ بھارتی فوجیوں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا تھا۔ جامع تلاشی کے دوران شہریوں کیلئے وہاں داخلے پر پابندی عائد کردی۔ اسی دوران بھارتی فوجیوں نے 5 کشمیری نوجوانوں کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا، قابض فوج نے ریاستی دہشت گردی میں 5بے گناہ نوجوانوں کو شہید کردیا۔جس پر اس کے ساتھیوں نے بھارتی اہلکاروں پرفائر نگ کر دی۔ اطلاعات کے مطابق اسی علاقے میں مجاہدین سے جھڑپ کے دوران بھا رتی فوج کے افسر سمیت3 فوجی ہلاک اور4زخمی ہوگئے تھے

Tags: کشمیر

بھارت کشمیر کے دریاؤں کا رخ موڑ کر پاکستان کو ریگستان بنانا چاہتا ہے۔ راجہ فاروق حیدر خان

February 23rd, 2010 · No Comments

قانون آئین ،میرٹ کی بالادستی ہماری حکومت کی ترجیحات ہیں ۔فاروق سکندر خان کی استقبالیہ تقریب سے خطاب

کوٹلی ۔وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ بھارت کشمیر کے دریاؤں کا رخ موڑ کر پاکستان کو ریگستان بنانا چاہتا ہے۔ آبی وسائل کے حوالے سے بھارت کے پاکستان کے خلاف خطرناک عزائم ہیں۔ ملک سے برادری ازم اور کرپشن کے خاتمہ کے لیے میڈیا سمیت تمام سول سوسائٹی اور سیاسی قیادت کو مل کر کرپشن سے پاک کرنا ہوگا۔ متاثرین منگلا ڈیم نے دوسری بار پاکستان کی معیشت کے لیے بڑی قربانی دی ہے ۔ ہمیں برادری ازم علاقائی ازم کے خول سے نکل کر ایشوزکی سیاست کرنی چاہیے۔ ایکٹ 1974میں ترامیم کیے بغیر آزاد کشمیر میں بااختیار اور باوقار حکومت کا قیام ممکن نہیں ۔ کشمیر کونسل میرپور ڈرائی پورٹ کے معاملات میں ٹانگ اڑا رہی ہے ۔ ریاستی تشخص پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرونگا ۔ موجودہ بجٹ مسلم کانفرنس کی حکومت کا آخری بجٹ ہو گا ۔ ڈیڑھ سالہ عرصہ اقتدار کو آئندہ ہونے والے انتخابات میں کامیابی کا زینہ بنائیں گئے ۔مسلم کانفرنس متحد ہو چکی ہے کارکن جماعت کا قیمتی اثاثہ ہیں ۔ان کی عزت نفس کا بھرپور خیال رکھا جائے گا وہ جماعت کے استحکام کے لیے بھرپور کردار اد اکریں ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے مسلم کانفرنس کے سینئر راہنماء و ممبر کشمیر کونسل سردار فاروق سکندر خان کی طرف سے ان کے اعزاز میں منعقدہ استقبالیہ تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہو ئے کیا ۔ ۔تقریب سے ممبر کشمیر کونسل سردار فاروق سکندر خان نے بھی خطاب کیا ۔وزیر اعظم آزاد کشمیرراجہ محمدفاروق حیدر خان نے کہاکہ بھارت ٹینل کے ذریعے دریاؤں کا رخ موڑنا چاہتا ہے ۔آبی وسائل کے حوالے سے بھارت کے پاکستان کے خلاف خطر ناک عزائم ہیں ۔وہ پاکستان کو ریگستان بناناچاہتاہے پاکستان کی سیاسی قیادت اور 17کروڑ عوام کو اس مسئلہ کی طرف سنجیدگی سے توجہ دینی ہو گئی ۔انہوں نے کہاکہ ملک سے برادری ازم او ر کرپشن کا خاتمہ کے لیے میڈیا سمیت سول سوسائٹی کو مل کر جدو جہد کرنی ہو گی تا کہ معاشرتی ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کا خاتمہ کیاجا سکے ۔انہوں نے کہاکہ پاکستان میں میڈیا نے جنرل پرویز مشرف کو گھر بھیج دیا چیف جسٹس افتحار احمد چوہدری اور عدلیہ کی بحالی میں میڈیا کا بڑا اہم کردار ہے ۔انہوں نے کہاکہ سیاسی قیادت کو بھی انتخابات کے وقت ٹکٹوں کی تقسیم کا فیصلہ کرتے وقت برادری ازم یا علاقائی ازم کو سامنے نہیں رکھنا چاہیے لوگوں کی قسمت کا فیصلہ کرنے والوں کا انتخاب نظریات اور سیاسی بنیادوں پر ہو نا چاہیے ۔انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی نے 1990کے دور حکومت میں برادری ازم کی سیاست کے کلچر کو فروغ دیا ۔انہوں نے کہاکہ میں برادری ازم کی سیاست پر یقین نہیں رکھتا ۔میرے حلقہ انتخاب میں میری برادری کے صرف 1500ووٹ ہیں ۔مجھے تمام برادریوں نے مسلم کانفرنس کے نام پر ووٹ دئیے ۔برادری کے نام پر سیاست کرنے والوں کا محاسبہ قومی پریس کرئے ۔جو تبدیلیاں سیاست دان نہیں لا سکے وہ میڈیا نے سرانجام دی ہیں ۔انہوںنے کہاکہ تعلیمی اداروں سمیت دیگر ریاستی اداروں میں بھرتی کے لیے سفارتی کلچر کو ختم کرنا ہو گا ۔انہوں نے کہاکہ ریاست میں قانون آئین ،میرٹ کی بالادستی ہماری حکومت کی ترجیحات ہیں ۔ہائی کورٹ کے مستقل چیف جسٹس اور ایڈووکیٹ جنرل کی تعیناتیاں میرٹ پر ہوئی ہیں میرے وزراء نے آج تک مجھے کسی غلط کام کی سفارش نہیںکی ۔انہوںنے لوگوں سے کہاکہ وہ اپنے مفادات کے تحفظ کرنے والوں کے چناؤ کے وقت ایسے لوگوں کا انتخاب کریں جو ان کے حقوق کا تحفظ کر سکیں اور ملک و ملت کا نا م بھی روشن کر سکیں ۔وزیر اعظم نے کہاکہ 1970میں آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر سردار محمد عبدالقیوم خان ،غازی ملت سردار محمد ابراہیم خان اور کے ایچ خورشید کی مشترکہ کاوشوں کے بعد ایکٹ 1970وجود میں آیا اور آزاد کشمیر کے عوام کوون مین ون ووٹ کا حق ملاجس کے نتیجہ میں براہ راست صدارتی انتخابات میں مجاہد اول سردار محمد عبد القیوم خان ریاست کے صدر منتخب ہوئے اور اسمبلی کی 14نشستوں میں سے 11پر مسلم کانفرنس نے کامیابی حاصل کی انہوں نے کہا کہ اس وقت وفاق میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے مجاہد اول سردار محمد عبدالقیوم خان اور مسلم کانفرنس کے قد کاٹھ میں کمی کرنے کے لیے ایکٹ 1974 ء اور بعد میں کشمیر کونسل کو ہم پر مسلط کر دیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ ایکٹ 1974میں ترامیم کیے بغیر آزاد کشمیر میں باوقار اور بااختیار حکومت کا قیام ممکن نہیں ۔ وزیر اعظم راجہ محمدفاروق حیدر خان نے کہاکہ آزاد کشمیر حکومت کے قیام کا بنیادی مقصد تحریک آزاد ی کشمیر کو اجاگر کرنا اور مقبوضہ کشمیر کی آزاد ی کے لیے راستہ ہموار کرنا ہے انہوں نے کہاکہ ان بنیادی مقاصد کے حصول کے لیے آزاد کشمیر کے عوام نے بالعموم اور مسلم کانفرنس نے بالخصوص بڑی جدوجہد کی ہے ۔مسلم کانفرنس آج بھی پاکستان سے نظریاتی رشتوں میں باندی ہوئی ہے ۔1944میں قائد اعظم نے سرینگر کے دورہ کے دوران کہا تھا کہ کشمیر میں مسلم کانفرنس ہی مسلم لیگ ہے اور قائد اعظم نے کشمیر کو شہ رگ پاکستان اور رئیس الاحرار چوہدری غلام عباس کو اپنا جان نشین مقرر کیا تھا ۔وزیر اعظم نے کہاکہ پاکستان اور آزاد کشمیر لازم و ملزوم ہیں انہیں کوئی جدا نہیں کر سکتا ۔انہوں نے جماعت کے اتحاد پر کارکنوں سے کہا کہ جماعت متحد ہو چکی ہے کارکن جماعت کے اتحاد واتفاق کے لیے بھر پور اقدامات اٹھائیں ۔کارکن جماعت کا عظیم اثاثہ ہیں ان کی عزت نفس کا بھرپور خیال رکھا جائے گا ۔انہوں نے کہاکہ موجودہ بجٹ مسلم کانفرنس کی حکومت کا آخری بجٹ ہو گا ۔آئندہ ڈیڑھ سالہ دور اقتدار کو 2011کے انتخابات میں مسلم کانفرنس کی کامیابی کا ذینہ بنائیں گے ۔مسلم کانفرنس کے راہنماؤں نے جو اعتماد مجھ پر کیا ہے میں اس کو ٹھیس نہیں پہنچنے دوں گا ۔

Tags: پاکستان , کشمیر , ہندوستان

کل جماعتی حریت کانفرنس کا وفد میرواعظ عمر فاروق کی سربراہی مین دہلی پہنچ گیا

February 23rd, 2010 · No Comments

میرواعظ عمر فاروق کی سربراہی میں حریت وفد پاکستان کے خارجہ سکریٹری سے ملاقات کرے گا

دہلی ۔کل جماعتی حریت کانفرنس کا وفد میرواعظ عمر فاروق کی سربراہی مین دہلی پہنچ گیا ہے۔نئی دلی میں25فروری کو پاکستان بھارت سیکرٹری خارجہ مذاکرات سے قبل حریت کانفرنس(ع) چیئرمین میرواعظ عمر فاروق کی سربراہی میں حریت کا اعلیٰ سطحی وفد پاکستان کے خارجہ سکریٹری سے ملاقات کرے گا۔ حریت کانفرنس (ع) چیئرمین کی سربراہی میں حریت کے اعلیٰ سطحی وفد میںمولانا عباس انصاری، پروفیسر عبدالغنی بٹ، آغا سید حسن الموسوی الصفوی گزشتہ روز دلی روانہ ہوئے جبکہ بلال غنی لون پہلے ہی دلی میں موجود ہیں۔حریت وفد پاکستان کے خارجہ سکریٹری سے مذاکرات سے قبل ہی ملاقات کرینگے اور انہیں ریاست جموں کشمیر کی تازہ ترین سیاسی صورتحال ، آئے دن انسانی حقوق کی پامالیوں کے واقعات اور مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے حوالے سے اپنے نکتہ نظر سے آگاہ کرینگے۔

Tags: پاکستان , کشمیر

مقبوضہ کشمیر میں حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں میں خطرناک حدتک اضافہ ہو گیا ہے

February 23rd, 2010 · No Comments

لوگ مر رہے ہیں بے گناہ شہریوں پر طاقت کا بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے۔ محبوبہ مفتی

مقبوضہ کشمیر اسمبلی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف شدید احتجاج،نعرے بازی

جموں۔مقبوضہ کشمیر اسمبلی میں گزشتہ روز اپوزیشن ارکان نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ریاستی قانون سازیہ کا بجٹ اجلاس حزبِ اختلاف کے کڑے احتجاج کے بیچ سوموارکوشروع ہوا۔جونہی گورنر این این ووہرا نے اپنا خطاب شروع کیا تو پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی اپنی نشست پر کھڑی ہوئیں اور انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسزکی طرف سے کی جانے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا معاملہ اٹھایا، جلد ہی ان کی پارٹی کے دیگرممبران بھی ان کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔ اسی دوران بی جے پی اور این پی پی کے ممبران بھی کھڑے ہوکر سرنڈر پالیسی ، رشوت ستانی اور بے روزگاری جیسے معاملات کولیکر نعرے بازی کرنے لگے۔گورنر کی تقریرشروع ہونے کے پانچ منٹ بعدہی ہرش دیو سنگھ کی قیادت میں این پی پی کے ممبران اسمبلی اپنا احتجاج کرتے ہوئے واک آوٹ کر گئے، جبکہ بھاجپا ممبران اسمبلی ایوان میں ہی احتجاج کرتے رہے ۔لیجسلیچرپارٹی لیڈرچمن لال گپتا ایک عرضداشت ہاتھ میں لئے گورنر کے قریب جا پہنچے لیکن ایوان میں موجود مارشلوں کی طرف سے کوئی بھی مداخلت نہ کئے جانے کے بعد وہ بھی ایوان سے باہر چلے گئے اور اسمبلی ہال کے باہر جا کر پارٹی کے دیگر ممبرانِ کے ساتھ دھرنا پربیٹھ گئے۔ تاہم پی ڈی پی کے اراکین وادی کشمیر میں نوجوانوں کے خلاف طاقت کے بیجا استعمال کی طرف گورنر کی توجہ مبذول کروانے کی کوشش میں نعرے بازی کرتے رہے۔ محبوبہ مفتی نے احتجاج کرتے ہوئے ایوان کو بتایا کہ ’کشمیر میں لوگ مر رہے ہیں اور حکومت بے گناہ شہریوں پر طاقت کا بے دریغ استعمال کر رہی ہے ،جس سے حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں میں خطرناک حدتک اضافہ ہو گیا ہے ۔ انہوں نے حکومت سے آئینی ذمہ داری نبھانے کی اپیل کرتے ہوئے لوگوں کو تحفظ فراہم کرنے کے اقدامات کا مطالبہ کیا۔ اس کے بعد پی ڈی پی کے ممبران اسمبلی نے گورنر کے خطاب پر کاروائی میں حصہ لیا۔ اس کے بعد محبوبہ مفتی نے ایوان کے باہر نامہ نگاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت پر ’پتھر کے بدلے گولی‘ کی پالیسی اپنانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے وادی کشمیر کے لوگوں میں دل برداشتگی بڑھ رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ’ ریاست کی تاریخ میں پہلی بار ’پتھر کے بدلے گولی‘ کی پالیسی اپنائی گئی ہے ۔‘موجودہ حالات کیلئے حکومتی پالیسیوں کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’ریاست ، بالخصوص کشمیر میں لوگ اپنے غصہ کا اظہارکرنے کے لئے کوچوں میں نکل آئے ہیں۔‘پی ڈی پی صدر نے کہا کہ عوام نے 2008میں نئے سسٹم سے توقعات وابستہ کر لی تھیں لیکن حکومت کے سیاسی و انتظامی محاذ پر بری طرح ناکام ہو جانے سے وہ مایوس ہو گئے ہیں ، انہوں نے کہا کہ سابق مخلوط حکومت کی طرف سے شروع کیا گیا امن و ترقیاتی عمل مفلوج ہو کر رہ گیا ہے ۔

Tags: پاکستان , کشمیر

اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ انسانی حقوق کا زیادہ سے زیادہ احترام کیا جائے۔مقبوضہ کشمیر کے گورنراین این ووہرا

February 23rd, 2010 · No Comments

امن کے لئے زبردست خواہش پائی جاتی ہے، یہ بات عیاں ہے کہ لوگ ماضی کو بھول کر پْر امن زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں

جموں۔مقبوضہ کشمیر کے گورنراین این ووہرا نے کہا ہے کہ حکومت کی زیروٹالرنس پالیسی نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ انسانی حقوق کا زیادہ سے زیادہ احترام کیا جائے اور یہ کہ جہاں بھی اس سلسلے میں خلاف ورزی واقع ہوتی ہے تو اس ضمن میں مستعدی کے ساتھ کاروائی کی جائے۔ اسکے علاوہ ہم نے اعلیٰ اختیاراتی سسٹم کو 2009 ء کے دوران پوری طرح نافذ کیا ہے جس کی بدولت ریاستی انسانی حقوق کمیشن کی سفارشات پر کم سے کم وقت میں غور کرنا ممکن بن گیا۔ حکومت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ سیکورٹی افواج اور پولیس کے اختیارات میں ایسا توازن لائے کہ یہ فورسز جہاں فیصلہ کْن اور موثر انداز میں کاروائی کریں گیں وہیں انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہ ہونے پائے۔کشمیری پنڈت کشمیر کی شناخت اور سماجی تانے بانے کا ایک جزولانیفک ہیں اور وادی میں پورے وقار، عزت اور حفاظت کے ساتھ اْن کی واپسی میری حکومت کا ایک بڑا مقصد ہے۔ ریاستی اسمبلی کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ووہرانے کہا کہ میری حکومت نے مذاکراتی عمل شروع کرنے سے متعلق بھارتی حکومت کی پہل کا خیر مقدم کیا ہے۔میری حکومت بھارت اور پاکستان کے خارجہ سیکرٹریوں کے درمیان مذاکرات کے اقدام کا بھی خیر مقدم کرتی ہے۔ اقتدار کے پہلے سال کے دوران میری حکومت نے اپنی پالیسی میں ریاست کے اندر امن و آشتی بحال کرنے کو اوّلین ترجیح دی۔ ملی ٹینسی سے وابستہ تشدد اور دہشت گرد ی کے بیس سال سے زیادہ عرصے کے بعد ریاست کے مختلف خطوں میں سماج کے تمام طبقوں میں امن کے لئے زبردست خواہش پائی جاتی ہے، یہ بات عیاں ہے کہ لوگ ماضی کو بھول کر پْر امن زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں ۔سالہا سال سے تشدّد، ہڑتالوں اور بندھوں وغیرہ کے باعث معمول کی زندگی میں خلل واقع ہوا ہے جس سے کافی جانیں تلف ہوئیںمیری حکومت، سندھ آبی معاہدہ کی وجہ سے نقصان کے معاوضے کے حِصّہ کے طور پر 390میگا واٹ ڈول ہستی پاور پروجیکٹ ریاست کو منتقل کرنے کیلئے رنگاراجن کمیٹی کی سفارشات روبہ عمل لانے کے معاملہ پر بھارتی حکومت سے سرگرمی سے پیروی کررہی ہے ۔

Tags: پاکستان , کشمیر

مقبوضہ کشمیر کے مختلف علاقوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے

February 21st, 2010 · No Comments

سری نگر‘ مقبوضہ کشمیر کے مختلف علاقوں میںانسانے حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف احتجاجی مطاہروں کے دوران 15اہلکاروں سمیت متعدد افراد زخمی ہوئے۔ اس دوران سوپرمیں مشتعل نوجوانوں اور پولیس کے مابین جھڑپوں کے دوران شل لگنے سے ایک 12سالہ لڑکا بری طرح زخمی ہوا جسے انتہائی نازک حالت میں صورہ اسپتال میں داخل کیا گیا جبکہ مائسمہ میں دن بھر پرتشددجھڑپیں جاری رہیں البتہ پائین شہر کی ناکہ بندی کرکے لوگوں کو محصور کیا گیا۔سخت ترین ناکہ بندی کے باوجودمائسمہ میں نوجوانوں کی ٹولیاں سڑکوں پر نمودار ہوئیں جنہوں نے نعرہ بازی کے ساتھ ساتھ پتھراؤؤ کیا ۔اس موقعہ پر پولیس اور سی آر پی ایف نے لاٹھی چارج کے ساتھ ساتھ اشک آور گولے داغے جس کے بعد طرفین کے مابین جھڑپیں ہوئیں جوشام دیر گئے تک جاری رہی۔دن کے دوران اْس وقت عجیب و غریب صورتحال پیدا ہوئی جب مظاہرین نے ملٹی بیرل ٹیرگیس شل چلانے والی گاڑی پرحملہ کیا اور اْس پر چڑھ کر آزادی کے حق میں نعرے لگائے۔ ورمل قصبہ میں نوجوانوں نے سیمنٹ پل پرنمودار ہو کر نعرہ بازی کی اورپولیس پر سنگباری کی ۔جوابی کارروائی کے دوران پولیس نے حسب روایت آنسو گیس کے درجنوں گولے داغے اور پورے قصبے میں دن بھرافرا تفری کا ماحول رہا ۔ مشتعل نوجوانوں نے پولیس کی ایک بکتر بند گاڑی کو گھیر ے میں لے کر اسے شدید پتھراؤؤ کا نشانہ بنایا۔مشتعل ہجوم نے گاڑی کا تعاقب کرنے کے بعداسے نذر آتش کرنے کی کوشش کی جسکے نتیجے میں گاڑی سے آگ کے شعلے بلند ہوئے جس کے بعد مظاہرین گاڑی کا تعاقب کرتے ہوئے پولیس تھانے کے نزدیک پہنچ گئے اورانہوںنے پولیس اسٹیشن کو مختلف اطراف سے گھیرے میں لیا اور اس پر زبردست سنگباری کی جسکے نتیجے میں ایک درجن اہلکاروں کو چوٹیں آئیں جبکہ اسی دوران مشتعل نوجوانوں کی ایک اور ٹولی نے تحصیل آفس کی عمارت پر بھی پتھراؤ?کیا جسکے باعث کئی عمارات کے شیشے چکنا چور ہو گئے۔ صورتحال کو قابو سے باہر ہوتا دیکھ پولیس نے ہوائی فائرنگ کی جسکے نتیجے میں قصبہ کی فضائیں گن گرج سے گونج اٹھیں اور وہاں خوف و ہراس پھیل گیا ۔ سوپور میں سی آر پی ایف اہلکاروں نے بٹہ پورہ،خوشحال متواور شاہ آبادمیں مکانوں میں زبردستی داخل ہوکربلا امتیاز عمر و جنس لوگوں کی زبردست مار پیٹ کی اور اسباب خانہ کو تہس نہس کیا۔قصبے میں شام دیر گئے محمد عارف ڈیٹھو ولد غلام محمد نامی 12سالہ لڑکا ساکن بادام باغ سوپر شل لگنے سے بری طرح زخمی ہوا ۔بتایا جاتا ہے کہ پولیس کی طرف سے داغا گیا ایک شل محمد عارف کے سر میں جا لگا اور اور وہیں گر پڑا ۔ اسے فوری طور پر سوپر اسپتال پہنچایا گیا جہاں سے اسے انتہائی نازک حالت میں صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ سرینگر لایا گیا

Tags: کشمیر

بھارت پاکستان کے ساتھ مذاکرات میں دہشت گردی کے علاوہ دیگر معاملات پر بات چیت کرنے پر آمادہ ہو گیا

February 21st, 2010 · No Comments

مذاکرات میں لائن آف کنٹرول کے آر پر تجارت اور کشمیریوں کے لئے اعتماد سازی کے دیگر اقدامات بھی زیر غور آ سکتے ہیں
پاکستان جموں و کشمیر بنک کی برانچیں آزاد کشمیر میں کھولنے کی اجازت دے۔وزیر داخلہ پی چدمبرم کی محبوبہ سے بات چیت

نئی دہلی ‘ بھارت پاکستان کے ساتھ سیکرٹری سطح کے مذاکرات میں دہشت گردی کے علاوہ دیگر معاملات پر بات چیت کرنے کے لئے رضامند ہو گیا ہے ۔ بھارت کا کہنا ہے کہ 25 فروری کو ہونے والے مذاکرات میں لائن آف کنٹرول کے آر پر تجارت اور کشمیریوں کے لئے اعتماد سازی کے دیگر اقدامات بھی زیر غور آ سکتے ہیں ۔ بھارتی میڈیا کے مطابق وزیر داخلہ پی چدمبرم نے اس بات کا عندیہ جموں و کشمیر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ محبوبہ مفتی سے نئی دلی میں میں ملاقات میں دیا ۔ محبوبہ مفتی نے ملاقات میں چدمبرم سے لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب تجارت میں مسائل رکاوٹوں کا معاملہ اٹھایا ۔ پی چدمبرم نے محبوبہ مفتی کو یقین دہانی کرائی کہ بھارتی حکومت تاجروں کے مسائل حل کرنے میں سنجیدہ ہے اور پاکستانی وزیر خارجہ کو اس سلسلے میں درخواست کی جا سکتی ہے کہ جموں و کشمیر بن کی برانچیں آزاد کشمیر میں کھولنے کی اجازت دی جائے ۔ بھارتی میڈیا نے ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ ریز رو بنک آف انڈیا جموں وکشمیر بنک کی اس سلسلے میں درخواست پر راضی نہیں کیونکہ ایسا کرنے کی صورت میں پاکستانی بنک برانچیں بھی سرینگر اور جموں میں کھولنے کی اجازت دینا پڑے گی ۔ بھارتی وزیر داخلہ نے محبوبہ مفتی کو یقین دلایا کہ لائن آف کنٹرول کے آر پار تجارت کو فروغ دینے کے لئے اسلام آباد اور پونچھ سیکٹروں پر انفراسٹرکچر کی سہولتیں بہتر بنائیں جائیں گی ۔ ملاقات میں محبوبہ مفتی نے شکایت کی کہ 2005 میں لائن آف کنٹرول کے آر پار شرو ع ہونے والی بس سروس سخت سیکورٹی اور طویل طریقہ کار کی وجہ سے اپنی کشش کھو رہی ہے اور بہت کم لوگ یہ سروس استعمال کر رہے ہیں ۔ بھارتی وزیر نے پی ڈی پی صدر کو یقین دلایا کہ کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے آر پار تجارت کو بہتر بنانے کیلئے عنقریب اہم اقدامات کا اعلان کیا جائیگا جن میں مظفر آباد میں جموں کشمیر بینک کی ایک شاخ کھولنا شامل ہے۔ پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے بھارتی وزیر داخلہ کو ریاست میں بے گناہ افراد کی ہلاکت اور اس سے پیدا شدہ صورتحال سے متعلق پی ڈی پی کی تشویش سے آگاہ کیا۔ محبوبہ مفتی نے وزیر داخلہ کی نوٹس میں یہ لایا کہ اگر چہ بھارتی حکومت نے کشمیر میں امن کے قیام کیلئے اعتماد سازی کے کئی اقدامات اٹھائے جن میں لائن آف کنٹرول کے آر پار تجارت اور آمدو رفت کی شروعات شامل ہے اور پی ڈی پی نے اس کا بھر پور انداز میں خیر مقدم بھی کیا۔ تاہم آہستہ آہستہ آر پار تجارت اور آواجاہی میں بہتری آنے کے بجائے اس میں سْست رفتاری آرہی ہے جو کسی بھی طور ریاست میں امن کے قیام کیلئے بہتر نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرینگر مظفر آباد اور پونچھ راولا کوٹ کے راستوں پر تجارت کو بڑھاوا دینا ہوگا جبکہ آواجاہی کیلئے لوازمات کو بھی نرم کرنے کی ضرورت ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ اس موقعہ پر بھارتی وزیر داخلہ پی چدمبرم نے محبوبہ مفتی کو یقین دلایا کہ بھارتی حکومت لائن آف کنٹرول کے آر پار بینکنگ سہولیات کو بہتر بنانے کی تجویز پر غور کررہی ہے اور کئی ایک اقدامات کے علاوہ آزاد کشمیر میں عنقریب جموں و کشمیر بینک کی ایک شاخ کھولی جائے گی۔ وزیر داخلہ چدمبرم نے محبوبہ مفتی سے مزید کہا کہ سلام آباد اوڑی اور پونچھ میں آر پار تجارت کے حوالے سے ٹریڈ سینٹروں میں مزید سہولیات میسر رکھی جائے گی۔

Tags: کشمیر , ہندوستان

پاکستان کے ساتھ مسائل کا بات چیت کے زریعے حل چاہتے ہیں۔بھارتی وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ کا اعلان

February 20th, 2010 · 1 Comment

مذاکرات میں کشمیر مسئلہ کو کلیدی اہمیت دی جانی چاہئے تاکہ دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان پیدا شدہ تلخیوں کو دور کیا جاسکے

کشمیر مین عتماد سازی کے اقدامات لازمی ہیں لیکن زمینی سطح پر ان کا اطلاق بھی لازمی ہوناچاہیے۔ پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی

نئی دہلی۔بھارتی وزیر آعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ نے کہا ہے کہ ھم پاکستان کے ساتھ مسائل کا بات چیت کے زریعے حل چاہتے ہیں۔بھارتی وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ نے یہ بات مقبوضہ کشمیر کی بھارت نوز جماعت پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی سے بات چیت کرتے ہوے کیا ۔ محبوبہ مفتی نے موہن سنگھ سے ملاقات مین بھارتی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کو حل کر نے کیلئے ایک واضح اور بامقصد پالیسی اختیار کرے ۔ محبوبہ مفتی نے گزشتہ روز نئی دہلی میں بھارتی وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ کے ساتھ ملاقات کے دوران ان پر زوردیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کے داخلی اور خارجی پہلووںپر بات چیت کریں۔پاکستان کے ساتھ سیکریٹری سطح مذکرات کی بحالی کا خیرمقدم کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے دونوں ممالک کے درمیان معنی خیزمذاکرات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان مذاکرات میں کشمیر مسئلہ کو کلیدی اہمیت دی جانی چاہئے تاکہ دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان پیدا شدہ تلخیوں کو دور کیا جاسکے اور برصغیر میں پائیدار امن قائم ہو۔ محبوبہ مفتی نے وزیر اعظم کو مشورہ دیا کہ دونوں ممالک کو چاہئے کہ وہ مذاکرات کیساتھ دہشت گردانہ حملوں کو نہ جوڑیں کیونکہ اس طرح کے واقعات کو مذاکرات کیساتھ جوڑ کر مذاکراتی عمل متاثر ہوتاہے۔ سرنڈر پالیسی کا خیر مقدم کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر چہ اعتماد سازی کے اقدامات لازمی ہیں لیکن زمینی سطح پر ان کا اطلاق بھی لازمی ہوناچاہیے۔ ریاست میں بے گناہ افراد کی ہلاکتوں میں اضافے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ سے کہا کہ حالات ریاست میں خراب ہورہے ہیں اور فورسز کے ہاتھوں ایسے سانحات جنم لیتے ہیں جس سے عام لوگوں کا بھارتی اور ریاستی حکومت پر سے اعتبار اٹھ رہا ہے اور بھارت کی طرف سے اٹھائے جانے والے اعتمادسازی کے اقدامات کا منفی اثر مرتب ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرحد پار مقیم نوجوانوں کی محفوظ راہداری کا اگر چہ پی ڈی پی نے پہلے ہی خیر مقدم کیا ہے لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ ریاست میں بے گناہ افراد کی ہلاکتوں کو بند کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیر مسئلہ کو حل کرنے کیلئے اندرونی اور خارجی دونوں پہلووں کو مد نظر رکھنا ہوگا جہاں خارجی سطح پر اس مسئلہ کو حل کرنے کیلئے بات چیت کا عمل جاری رہنا چاہیے وہیں اندرونی ریاست حالات کو ساز گار بنانے کیلئے انسانی حقوق کی خلا ف ورزیوں پر مکمل طور پر روک لگنی چاہیے تاکہ امن کیلئے کی جانے والی کوششیں کامیاب ہوسکیں۔ طویل میٹنگ کے دوران محبوبہ مفتی نے وزیر اعظم سے کہا کہ پی ڈی پی کے سیلف رول ایجنڈے کو عوامی سطح پر زبردست حمایت حاصل ہے وہیں اس پر عمل کرکے دونوں ممالک کے درمیان ایک نیا انقلاب آسکتا ہے اورکشمیر کے آر پار بھی صورتحال یکسرتبدیل ہوسکتی ہے اسلئے بھارتی حکومت کو چاہیے کہ جتنی جلدی ہوسکے وہ پی ڈی پی کے سیلف رول ایجنڈے کو مد نظر رکھ کر اقدامات اٹھائیں۔ پونا دھماکے کے بعد بیرون ریاست کشمیریوں کی گرفتاریوں پر بھی شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ کشمیری بیرون ریاست تجارت، تعلیم اور روز گار کے حصول کیلئے آتے ہیں لیکن یہاں جب بھی کوئی واقعہ ہوتا ہے تو بدقسمتی سے نزلہ کشمیری نوجوانو ں پر ہی گرتا ہے چاہے وہ نوجوان ہوں، تاجر ہوں، طالب علم ہوں یا پھر روز گار کی تلاش میں آئے ہوں۔ محبوبہ مفتی نے وزیر اعظم سے درخواست کی کہ بیرون ریاست کشمیر ی نوجوانوں کی گرفتاریوں کو بند کیا جائے اور انہیں ہراساں کرنے کے عمل پر بھی پابندی عائد کی جائے تاکہ بلاخوف و خطر کشمیری نوجوان بیرون ریاستوں کا رخ کرسکیں۔ انہوں نے پونا دھماکے کے سلسلے میں گرفتارکشمیریوں کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا اور کہا کہ کشمیری بے گناہ ہیں اور اس کا ثبوت پہلے ہی بنگلور کے اسٹیڈیم میں گرفتار کشمیر ی نوجوان کی گرفتاری سے ملا ہے۔ محبوبہ مفتی نے وزیر اعظم سے کہا کہ پی ڈی پی عوام کی آواز ہے اور بھارتی حکومت کو بھی ریاستی عوام کے احساسات اور جذبات کی قدر کرنا ہوگی۔

Tags: پاکستان , کشمیر , ہندوستان

کشمیری مجاہدین کے خلاف خفیہ اطلاعات کی بناء سرجیکل آپریشن کی مہم شروع کردی گئی ہے۔بھارتی فوجی سربراہ کا اعلان

February 20th, 2010 · No Comments

آزاد کشمیر میں مقیم کشمیری نوجوانوں کی مقبوضہ کشمیر واپسی کے بارے میں بھارتی وزارت دفاع سمیت مختلف وزارتوں کے ساتھ مشاور ت کی جائے

پاکستان سرحد کے اْس پار سے مجاہدین کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں جموں کشمیر کی طرف دھکیلنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ بھارتی الزام

نئی دہلی ۔بھارتی فوجی سربراہ جنرل دیپک کپور نے کشمیری مجاہدین کے خلاف سرجیکل آپریشن شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے بھارتی حکومت کومشورہ دیا ہے کہ آزاد کشمیر میں مقیم کشمیری نوجوانوں کی مقبوضہ کشمیر واپسی کے بارے میں بھارتی وزارت دفاع سمیت مختلف وزارتوں کے ساتھ مشاور ت اور تمام پہلووںپرخوروخوض کے بعد ہی حتمی فیصلہ لیا جانا چاہئے۔ایک تقریب کے موقعہ پر اخبار نویسوں کے ساتھ بات چیت کے دوران جنرل دیپک کپور نے کہا کہ پاکستان سرحد کے اْس پار سے مجاہدین کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں جموں کشمیر کی طرف دھکیلنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ ریاست میں تعینات مسلح فورسز ان کوششوں کا مقابلہ کرنے کے اہل ہیں۔فوجی سربراہ نے بتایا’’پڑوسی ملک مجاہدین کی دراندازی کی مدد و اعانت کررہا ہے ،یہ سلسلہ جاری رہے گا،فورسزسرحدوں پرہیں اور وہ ان کوششوں کو ناکام بنانے کے لئے ہر ممکن اقدامات اٹھائیں گے‘‘۔ایک سوال کے جواب میں جنرل کپور نے کہا’’اگرچہ کچھ ایک مجاہدین درانداز کرکے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوتے ہیں لیکن سیکورٹی فورسز انکے ساتھ نمٹے گی‘‘۔یہ پوچھے جانے پر کہ ریاست میں لائن آف کنٹرول اور سرحدوں پر برفباری سے دراندازی کے درے بند ہونے کے باوجوداس طرح کی کوششیں جاری ہیں؟ فوجی سربراہ نے انکشاف کیا کہ مجاہدین کو پیر پنچال علاقوں کے جنوب سے ریاست میں دھکیلا جارہا ہے۔البتہ انہوں نے زور دیکر کہا کہ کنٹرول لائن اور سرحد پر تعینات سیکورٹی فورسز کی کڑی نگرانی اور دراندازی پر نظر رکھنے سے متعلق آلات کی مدد سے بیشتر کوششوں کا ناکام بنایا جاتا ہے۔جب فوجی سربراہ کی توجہ وزارت داخلہ کے اْس اعلان کی طرف مبذول کرائی گئی،جسکے تحت تشدد ترک کرکے پر امن زندگی گذارنے کے خواہشمند آزاد کشمیر میں مقیم کشمیری نوجوانوں کی محفوظ راہداری اور باز آباد کاری کو ہری جھنڈی دکھائی گئی ہے،جنرل دیپک کپور نے اس پر محتاط رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ’’ مجھے یقین ہے کہ وزیر داخلہ اور بھارتی حکومت اس حوالے سے حتمی فیصلہ لینے سے قبل تمام پہلو?ں کو مد نظر رکھیں گے‘‘۔فوجی سربراہ نے مزید بتایا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے سے پہلے ہر طرح کے حالات و واقعات کا بغور جائزہ لیا جائے گاتاکہ فیصلہ درست ثابت ہو۔اس سلسلے میں انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں تبادلہ خیال جاری ہے اور فیصلہ لیا جارہا ہے۔تاہم فوجی سربراہ نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا’’مجھے اس بات کا یقین ہے کہ وزارت دفاع سمیت تمام وزارتوں کے خیالات کو مد نظر رکھا جائے گا اور اس کے بعد ہی اس معاملے پر حتمی فیصلہ لیا جائے گا جو سب کیلئے اچھا ہوگا‘‘۔ریاست کے موجودہ حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے فوجی سربراہ نے کہا’’جموں کشمیر کی صورتحال میں قابل ذکر بہتری واقع ہوئی ہے۔انہوں نے کہا’’ہم نے مجاہدین کے خلاف خفیہ اطلاعات کی بنائ سرجیکل آپریشن کی جو مہم شروع کررکھی ہے ، اس کی بدولت مقامی لوگوں کم سے کم نقصان اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اس مہم کے خاطر خواہ نتائج برآمد ہورہے ہیں‘‘۔ایک اور سوال کے جواب میں آرمی چیف نے کہا کہ بھارت میں ممبئی طرز پر مزید دہشت گردانہ حملوں کا امکان ہے اور ملک کو اس طرح کے امکانات کو ختم کرنے کیلئے تمام اقدامات اٹھانے ہیں ۔انہوں نے کہا ’’ہم اس طرح کے حملوں کے خدشات اور امکانات کو خارج نہیں کر سکتے ،ہم ممبئی طرز کے حملوں کو روکنے کیلئے ہر طرح کے اقدامات اٹھائیں گے‘‘۔ یہ پوچھے جانے پر کہ کیا بھارت میں دہشت گردانہ حملوں کا خطرہ بر قرار ہے ؟فوجی سربراہ کا کہنا تھا کہ جنوب ایشیائی خطے میں دہشت گردوں کے کئی گروپ سرگرم ہیں ،’’خواہ وہ بھارت ہو ،افغانستان یا پاکستان ،ہمیں اس طرح کے خطروں کا مل جل کر مقابلہ کرنا ہو گا

Tags: پاکستان , کشمیر