Entries Tagged as 'کشمیر'
دونوں ممالک وقت ضائع کئے بغیر اس بات چیت میں کشمیریوں کو شامل کرکے اس مسئلے کا حل نکالا جاے
سری نگر۔جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک نے کہا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان مذاکرات سے کشمیریوں کو دو رکھ کر اس مسئلہ کو حل نہیں کیا جاسکتا۔عوامی رابط مہم کے سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے محمد یاسین ملک دیگر قائدین و اراکین فرنٹ کے ہمراہ شانگس اچھہ بل روانہ ہوئے ۔اس موقعہ پراگر چہ انہیں عوام سے دور رکھنے کیلئے ہرطرف پولیس کی ایک بھاری جمعیت تعینات کی گئی تھی۔ تاہم اس کے باوجود فرنٹ قائدین شانگس پہنچنے میں کامیاب ہوئے ۔ ان کی آمد پرلوگوں نے آزادی ،شہدا اور فرنٹ کے حق میں فلک شگاف نعرے بلند کرتے ہوئے فرنٹ چیئرمین کو جلوس کی صورت میں مین چوک پہنچایا۔جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ملک نے کہا کہ آج اقوام عالم اس حقیقت سے روشناس ہوچکا ہے کہ برصغیرمیں پائیدار امن کیلئے لازم وملزوم ہے کہ مسئلہ کشمیر حل ہو۔ انہوں نے کہا کہ اگر چہ لبریشن فرنٹ کا یہ واضح موقف ہے کہ تمام مسائل کا حل مذاکرات ہی میں ہے اوراس سلسلے میں ہنددستان اور پاکستان کے درمیان مذاکرات کی بحالی ایک خوش آئندہ قدم ہے لیکن جب کشمیر کے حوالے سے بات کرتے ہیں تو اسکا اصل فریق جو اس کا مالک ہے اور جس نے اپنے بیٹے اس پر قربان کردیئے اور جن کا ایک ایک فرد قربانی کا مجسمہ ہے،’’ان کو الگ رکھ کر اس مسئلے کا حل نہیں نکلا جاسکتا ہے،اسلئے یہ دونوں ممالک وقت ضائع کئے بغیر اس بات چیت میں کشمیری لوگوں کو شامل کرکے اس مسئلے کا حل نکالے تاکہ برصغیر میں حقیقی امن قائم ہو اور ہندوستان پاکستان اور کشمیری لوگ ایک نئے مستقبل کی شروعات کر سکیں‘‘۔یاسین ملک نے کہا ربیع الاول کے ان متبرک ایام میں ہم اپنے آپ کا محاسبہ کرکے اپنے آپکو رسول پاک کی تعلیمات کے مطابق ڈالے اور جو ہماری روحانی قدریں پامال ہوچکی ہیں، وہ بحال ہوجائیں گی ۔ملک نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اپنی زرخیز زمین اور قدرتی جنگلات کا تحفظ یقینی بنائیںتاکہ ہماری آنے والی نسلیں بھک مری اور دیگر آسمانی آفات سے بچ جائیں۔جلسے میں یاسین ملک سے پہلے ایڈوکیٹ بشیر احمد بٹ نے بھی خطاب کیا جبکہ فرنٹ چیئرمین کے ہمراہ اور لوگوں کے علاوہ شوکت احمد بخشی ، نورمحمدکلوال، شیخ عبدالرشید ،شیخ نظیر احمد،شیخ معراج الدین ،محمد صدیق گورو،شیخ محمد اسلم ،بشیر کشمیری اور صدر ضلع اسلام آباد محمد اسحاق گنائی بھی شامل تھے۔
Tags: پاکستان , کشمیر
سری نگر، بارہ مولا ، کولگام اور دوسرے مقامات پر پولیس نے مظاہرین پرہوائی فائرنگ کی ، لاٹھی چارج کیا
پلوامہ میں 2 شہداء کو سپردخاک کردیا گیا ،شوپیاں میں مجلس مشاورت کے جلوس مین ہزاروں افراد کی شرکت
سری نگر۔مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بڑھتی ہوئی خلاف ورزیوں کے خلاف ہفتے کے روزمقبوضہ کشمیر میں عام ہڑتال سے کاروبار زندگی معطل ہو کر رہ گیا ۔اس دوران جلسے جلوس اور مظاہرے بھی ہوے۔ مقبوضہ کشمیر کے مختلف علاقوں میں نوجوانوںنے انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف اور آزادی کے حق میں نعرے بازی کرتے ہوئے جلوس نکالنے کی کوشش کی تاہم اس موقعہ پر وہاں تعینات پولیس نے ان کا راستہ روک لیاجس پر نوجوان مشتعل ہوئے اور انہوں نے سنگباری کی ۔ پولیس نے ان کا تعاقب کرکے انہیں منتشر کیا۔سوپور میں فورسز کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی تاہم اس کے باوجومین بازار ،تحصیل روڈ اور چھوٹا بازار میں نوجوان گلی کوچوں سے نمودار ہوئے اورآزادی کے حق میں نعرہ بازی کرتے ہوئے سنگ باری کی۔اس موقعہ پر پولیس اور فورسز نے مشتعل نوجوانوںکو قابو کرنے کیلئے شلنگ کے ساتھ ساتھ ہوائی فائرنگ کی جسکے نتیجے میں قصبے میں افراتفری کا ماحول پھیل گیا اورتمام دکانیں بند ہو گئیں۔ فورسز اور مشتعل نوجوان جھڑپوں کا سلسلہ برابر شام تک جاری رہا۔ ورمل قصبے کے مین چوک ،تحصیل روڈ اور سیمنٹ پل پر مشتعل نوجوانوں نے نمودار ہوکر آزادی کے حق میں نعرہ بازی کی ۔ پولیس نے مداخلت کرنے کی کوشش کی تو مظاہرین مشتعل ہوئے اور انہوں نے پولیس پر پتھراؤ شروع کیا جس کے جواب میں پولیس نے کارروائی عمل میں لائی اورانہیں تتر بتر کرنے کیلئے لاٹھی چارج کیا ۔ افرا تفری کے عالم میںپتھراؤ کا دائرہ قصبے کے دیگر علاقوں تک پھیل گیا اور پولیس نے بیک وقت ایک سے زائد ٹیر گیس گولے داغنے والی خاص قسم کی گاڑی منگوائی جس کے ذریعے مظاہرین پر اشک آور گیس کے درجنوں گولے داغے گئے۔مشتعل مظاہرین نے مین چوک میں ایک پولیس گاڑی کو گھیر کر اس پر چوطرفہ سنگ باری کی جس کے دوران پولیس نے ہوائی فائرنگ کی اورگولیوں کی گن گرج سے پورے قصبے میں افرا تفری پھیل گئی اور لوگ محفوظ مقامات کی طرف بھاگنے لگے جبکہ گاڑیاں اچانک سڑکوں سے غائب ہو گئیں ۔قصبے میںمظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں شام تک جاری رہیں۔ شنگر پورہ معرکے میں جاں بحق ہوئے دو عسکریت پسندوں کی یاد میں کل راجپورہ اور رتنی پورہ میں مکمل ہڑتال رہی پلوامہ سے چار کلو میٹر کی دوری پر واقع شنگرپورہ گاوں میں فورسز اور عسکریت پسندوں کے مابین ایک طویل جھڑپ کے دوران جاوید احمد حجام ساکنہ رتنی پورہ اور سجاد احمد وانی ساکنہ راجپورہ نامی دو مجاہد شہید ہوئے تھے۔ جاوید احمد حجام کو اپنے آبائی گاوں رتنی پورہ میں جبکہ سجاد احمد وانی کو راجپورہ میں سپرد خاک کیا گیا۔ دونوںمقامات پر نماز جنازہ میں لوگوں کی ایک بھاری اکڑیت نے شرکت کی جس دوران اسلام اور آزادی کے حق میں نعرے بلند کئے گئے۔دونوں مقامات پر عام ہڑتال کی وجہ سے معمول کا کاروبار بری طرح سے متاثر ہوکر رہ گیا۔ شنگرپورہ معرکے کو لیکر پلوامہ کے مورن چوک اور بس اسٹینڈ میں نوجوانوں کی ٹولیاں نمودار ہوئیں جنہوں نے گاڑیوں اور پولیس پر پتھراو کیاجسکی وجہ سے دکانداروں نے شٹر گرائے اور ٹرانسپورٹر گاڑیاں لیکر محفوظ مقامات کی طرف بھاگنے لگے۔ انتظامیہ نے قصبے میں امکانی گڑ بڑ سے نمٹنے کے لئے حساس مقامات پر پولیس تعینات کردی۔۔شوپیان میں مجلس مشاورت کے اہتمام سے ایک جلوس نکالا گیا جس میں سینکڑوں لوگوں نے شرکت کی۔ جلوس میں شامل لوگ آسیہ اور نیلوفر کے قاتلوں کی فوری نشاندہی اور گرفتاری کے حق میں نعرے بلند کررہے تھے۔ جلوس قصبے کی جامع مسجد سے شروع ہوکر بس اڈے سے گذرتا ہوا ٹینگ محلہ کے قریب اختتام کو پہنچا۔ جلوس میں اور لوگوں کے علاوہ مجلس مشاوت کے سینئر ارکان عبدالحمید دیوا،فیاض احمد،محمد اشرف،طارق احمد اور محمد اقبال بھی شامل تھے۔ جلوس میں شامل لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے مجلس کے جنرل سیکریٹری عبدالحمید دیوا نے کہا کہ حکومت وقت پر یہ لازم ہے کہ وہ آسیہ اور نیلوفر سانحے کے سلسلے میں کچھ ٹھوس نتائج کے ساتھ سامنے آئے۔ عبدالحمید دیوا نے اپنی تقریر میںحکومت کو یہ بھی مشورہ دیا کہ وہ شوپیان میں جاری انصاف کی جدوجہد میںگرفتار شدہ نوجوانوں پر سیفٹی ایکٹ جیسے سنگین قوانین لاگو نہ کرے۔ مجلس کے جنرل سیکریٹری نے اپنی تقریر میں یہ بھی بتایا کہ شوپیان کے عوام اپنے اس مطالبے پر بدستورقائم ہیں کہ حکومت سانحے کی تحقیقات کے لئے ITPJKنامی تنظیم کو اجازت فراہم کرے ۔ انہوں نے کہا کہ
مجلس مشاورت کے اہتمام سے شوپیان کے عوام کے مطالبات کی عمل آوری کے لئے ایک ہمہ گیر ریلی کا انعقاد اسوقت مجلس کے زیر غور ہے۔
Tags: پاکستان , کشمیر
بھارتی فوج نے مارٹر شلنگ سے مکان تباہ کر دیا، گاوں کا محاصرہ کئی گھنٹے جاری رہا۔
سری نگر۔مقبوضہ کشمیر کے جنوبی قصبے ورمل ضلع ہیڈکوارٹر سے 30کلو میٹر دور کچھومقام نامی گاؤں میںایک خونریز تصادم آرائی میں کالعدم جیش محمد سے وابستہ 2 مجاہد شہید ہوگئے جبکہ جھڑپ کے دوران ایک رہائشی مکان تباہ ہوا۔ ورمل سے بابا ریشی کی طرف جانے والی سڑک پر واقع کچھو مقام چندوسہ کنڈی میںجیش محمد سے وابستہ لطیف احمد وانی ولد غلام احمد ساکن میران گنڈ واگورہ اور صلاح الدین ولد غلام حسن ساکن چنڈسنگرامہ سوپرچھپے بیٹھے ہیںجسکے بعد پولیس نے بھارتی فوج کی 46آر آر کے اشتراک سے گاؤں کو بدھ کی صبح محاصرے میں لیا۔ جب علاقہ کو گھیرے میں لیا جا رہا تھا تو نذیر احمد پرہ نامی شہری کے مکان میں موجود دو جن مجاہدین نے فورسز پر شدید فائرنگ کی ۔اس موقعہ پر پولیس اور فورسزاہلکاروں نے مورچہ سنبھالااور مجاہدین کے خلاف جوابی کاروائی شروع کی ۔تاہم اس سے پہلے مذکورہ مکان اور آس پاس کے رہائشی مکانوں میں موجود لوگوں کو محفوظ مقام کی طرف منتقل کیا گیا ۔اس تصادم آرائی کے دوران مارٹر شلنگ سے مکان تباہ کر دیاگیا جبکہ مکان مالک کی سنٹرو کار بھی خاکستر ہوئی۔ تصادم آرائی کے دوران دونوں مجاہد مارے گئے اور بعد میں اْن کی لاشیں ان کے لواحقین کے حوالے کی گئی۔ 16گھنٹے تک یہ تصادم آرائی جاری رہی۔ مجاہدین کی ہلاکت کی اطلاع ملتے ہی آس پاس کے دیہات میں دکانیں بند ہوئیں اور دیگر کاروباری مراکز بھی بند ہوئے ۔بعد میں لاشوں کو لواحقین کے حوالے کیا گیا۔دریں اثناء بدھ کی شام پانچ بجے 53اور55آر آر کے علاوہ پولیس ٹاسک فورس نے شنگرپورہ مورن پلوامہ نامی گا?ں کا محاصرہ کیا تاہم اس دوران وہاں فائرنگ ہوئی ۔ بعد میں گاؤں کی ناکہ بندی کی گئی اور مقامی لوگوں کو اپنے گھروں سے باہر آنے کیلئے کہاگیا۔ رات دیر گئے تک وہاں یہی صورتحال تھی۔
Tags: پاکستان , کشمیر
جنوبی بھارت کے بنگلور شہرسے 4کشمیریوں کو حراست میں لے لیا گیا، مزیدکشمیریوں کی تلاش شروع
نئی دہلی سرینگر۔بھارت کے جنوبی شہر پونے میں گذشتہ روز جرمن بیکری کے نزدیک ہوئے دھماکے کے بعد کئی بھارتی شہروں میں کشمیریوں کی پکڑ دھکڑ شروع ہوگئی ہے۔پونے دھماکوں کی تحقیقات کرنے والی پولیس کی خصوصی ٹیم نے جنوبی بھارت کے بنگلور شہرسے 4کشمیریوں کو حراست میں لے لیا ہے جوپولیس کے مطابق پونے دھماکے کے سلسلے میں انہیں مطلوب تھے جبکہ مزید3کشمیریوں کی تلاش شروع کردی گئی ہے ۔حراست میں لئے گئے چاروں کشمیریوں کو بنگلور کے ویرا پورا گڈی ہیمپی سے حراست میں لیا گیا ہے۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ مذکورہ علاقے سے تین برس قبل اسلحہ برآمد ہونے کے بعد سبھی کشمیری تاجروں کو نکالا گیا تھا اور انہیں وہاں تجارت کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی تھی تاہم اس بار وہاں چند ہوٹلوں میںبیرونی سیاحوں کیلئے کشمیری مصنوعات کے شوروم قائم کئے گئے تھے جنکے سیلزمینوں کوپونے دھماکے کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا ہے۔اس حوالے سے بنگلور میں مقیم کشمیری تاجروں نے بتایا کرناٹک کا ہیمپی شہر تاریخی نوعیت کا ہے اور یہاں زیادہ تر بیرونی سیاحوں کی آمد ورفت رہتی ہے ،اسی لحاظ سے کشمیرآرٹ سے تعلق رکھنے والے تاجروں کیلئے بھی یہ شہر انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔انہوں نے کہاکہ 2008تک یہمپی میں کشمیریوں کے درجنوں شوروم تھے ۔لیکن 2008میں کسی جگہ سے اسلحہ برآمد ہونے کی خبروں کے بعد کشمیری تاجروں کو وہاں سے نکالا گیا اور ایک بڑے مارکیٹ سے کشمیری تاجروں کو دور کردیا گیا ۔بیرونی ریاستوں میں رہنے والے کئی تاجروں نے بتایا کہ پونے دھماکوں کے بعد کشمیری تاجروں سے پوچھ تاچھ کا عمل تیز کردیا گیا ہے لیکن جس جگہ سے 4کشمیریوں کی گرفتاری کا دعویٰ کیا جارہاہے وہاں پر زیادہ تر کشمیری تاجر نہیں رہتے ۔اس حوالے سے کشمیرچیمبرآف کامرس کے ترجمان نے بھی ہیمپی میں کسی کشمیری شوروم کی موجودگی سے لاعلمی کااظہار کیا ۔مہاراشٹر اور کرناٹک کے درمیان سرحدی علاقے ہیمپی میں کن کشمیری نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا ہے ان کی تفصیلات ابھی تک سامنے نہیں آئی ہے ۔
Tags: کشمیر
مقبوضہ کشمیر کے جنوبی قصبے کیموہ کولکام میں ہزاروں لوگوں نے غیر اعلانیہ کرفیو توڑ دیا،دو شہدا کی نماز جنازہ میں شرکت
شہداکے خون کی ہر صورت میں حفاظت کی جائیگی اور حصول مقصد تک جدوجہد کو جاری و ساری رکھا جائیگا۔ نماز جنازہ کے اجتماع سے خطاب
سری نگر۔مقبوضہ کشمیر کے جنوبی قصبے کیموہ کولکام میں ہزاروں لوگوں نے غیر اعلانیہ کرفیو کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے بھارتی فوج کے ساتھ جھڑپ میں شہید ہوئے 2 مجاہدین کی نماز جنازہ میں شرکت کی۔ بھارتی فوج نے جلوس پر فائرنگ کی جسکے نتیجے میں4افراد گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے جبکہ مظاہرین اور بھارتی فوج کے مابین پتھراؤ ،لاٹھی چارج اور شلنگ کے نتیجے میں 11اہلکاروں سمیت 25 افراد کو چوٹیں آئیں ۔اس موقعہ پربھارتی فوج نے زخمیوں کو لے جانے والی گاڑیوں کی بھی توڑ پھوڑ کرکے خوف و دہشت مچائی ۔ٹھوکر پورہ کیموہ کولگام میں گزشتہ روزبھارتی فوج کے ساتھ جھڑپ میں شہید ہوئے 2 مقامی مجاہدین کی لاشیں رات دیر گئے لواحقین کے سپرد کی گئیں۔جھڑپ کے بعدوہاں مقامی لوگوں نے لاشیں اْن کے حوالے نہ کرنے پر پولیس چوکی پر حملہ کیا تھالیکن اس کے باوجودلاشیں لوگوں کے حوالے نہیں کی گئیں۔چنانچہ ممکنہ مظاہروں کے پیش نظرکیموہ اور کھڈونی کے علاوہ مفصلات میں غیراعلانیہ کرفیو نافذ کیا گیا۔اس دوران کیموہ کی طرف جانے والی تمام رابطہ سڑکوںکو خاردار تار لگاکر سیل کردیا گیا تھااور علاقے میں سی آر پی ایف اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی تھی ۔صبح سے ہی پولیس نے کیموہ اسلام آباد،کیموہ کولگام اور کیموہ یاری پوری سڑکوںکو سیل کرکے لوگوں کی نقل و حرکت بند کر رکھی تھی جس کے دوران لوگوں کو اْنکے گھروں کے اندر ہی رہنے پر مجبور کیا جاتا رہا۔کڑی ناکہ بندی سے لوگوں کی نقل و حرکت کو محدود کئے جانے کے باوجود ہزاروں کی تعداد میں مردوزن سڑکوں پر نکل آئے اور اسلام و آزادی کے حق میں فلک شگاف نعرے بلند کئے۔ لوگوں کی ایک بھاری تعداد نے ریڈونی کے رہنے والے مجاہد رؤف احمد بٹ ولد محمد مقبول بٹ کی نماز جنازہ میں شرکت کی جسکے بعد اْنہوں نے رامپورہ کی طرف پیش قدمی کی تاکہ وہاں کے رہنے والے دوسرے مجاہد محمد اشرف عرف مولوی کی نماز جنازہ میں شرکت کرسکیں۔ لوگ نعرے بازی کرتے ہوئے جونہی ریڈونی اور کھڈونی کے درمیان گھاٹ کے نزدیک پہنچ گئے تو سی آر پی ایف اہلکاروں نے اْنہیں آگے بڑھنے کی اجازت نہیں دی ۔ اس موقعہ پر بھارتی فوج نے نعرے لگارہے لوگوں کو منتشر کرنے کیلئے پہلے لاٹھی چارج کیا اور زبردست ٹیر گیس شلنگ کی جسکے بعد یہاں مظاہرین اور بھارتی فوج کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ عینی شاہدین کے مطابق سی آر پی ایف اہلکاروں نے لوگوں پر ڈنڈوں اور بندوق بٹھوں سے بھی حملہ کیا جسکے نتیجے میں ایک خاتون بری طرح زخمی ہوئی۔جب جھڑپوں میں شدت پیدا ہوئی اور ہرطرف افرا تفری پھیل گئی تو بھارتی فوج نے مظاہرین کو تتر بتر کرنے کیلئے ان پر گولیاں چلائیں جسکے نتیجے میں 20 4نوجوان گولیاں لگنے زخمی ہوگئے جبکہ شلنگ اور لاٹھی چارج کے نتیجے میں درجنوں افراد بھی زخمی ہوئے ۔زخمیوں کو ضلع اسپتال اسلام آباد پہنچایا گیا جہاں سے ادریس احمداورجاوید احمدکو نازک حالت میں بون اینڈ جوائنٹ اسپتال برزلہ سرینگر منتقل کیا گیا۔ ادریس احمد کے بازو اور جاوید احمد کی ران میں گولی لگی ہے اور اسپتال میں دونوں کا ہنگامی آپریشن کیا گیا ۔مظاہرین اور بھارتی فوج کے درمیان شدیدجھڑپوں کے نتیجے میں سی آر پی ایف اور پولیس کے 11 اہلکار بھی زخمی ہوئے جبکہ عینی شاہدین کے مطابق بھارتی فوجی اہلکاروں نے زخمیوں کو اسپتال لے جارہی تین گاڑیوں کی توڑ پھوڑ کرکے انکے شیشے چکنا چور کردیئے جس کے نتیجے میں مذکورہ گاڑیوں کے ڈرائیور عبد الحمید بٹ ولد محمد اکبر بٹ اور ظہور احمد بدرو ولد عبد الرحمان بدرو کو بھی چوٹیں آئیں۔ ۔اس موقعہ پر ٹیر گیس شلنگ اور گولیاں چلنے کی آوازوں سے پورے علاقے میں افرا تفری کا ماحول پیدا ہوگیا اور لوگ جان بچانے کیلئے ادھر ادھر بھاگنے لگے اور اس بھاگم دوڑ کے نتیجے میں بھی کئی لوگوں کو چوٹیں آئیں۔علاقہ میں جھڑپوں کا سلسلہ شام دیر گئے تک جاری رہا جسکے نتیجے میں پولیس اور بھارتی فوج کے ہزاروں اہلکاروں کی تعیناتی عمل میں لائی گئی۔اس دوران پورے کولگام ضلع میں ہڑتال رہی جسکے دوران علاقے میں کشیدگی جیسی صورتحال پائی جارہی ہے ۔
Tags: کشمیر
February 15th, 2010 · 1 Comment
اگر مشرف کی کشمیر پالیسی کوتبدیلی نہ کیا گیا تو دنیا کے سامنے کشمیر کا کیس متاثر ہونے کا خدشہ ہے
بارسلونا ، سپین ‘ برطانوی ہاؤس آف لارڈ کے تاحیات رکن لارڈ نذیر احمد نے کہا ہے کہ بھارت نے ایک بہت بڑی چال کے تحت پاکستان کے لیے’’واٹر بلیک میلنگ‘‘کی صورتحال پیدا کی ہے۔سندھ طاس معاہدے اور دیگر معاہدات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آج پاکستان کے لیے پانی کی قلت پیدا کرنا بنیادی طور پر کشمیر ایشو کے حوالہ سے پاکستان کو بلیک میل کرنا ہے۔پاکستانی سیاسی قیادت فوری طور پر تمام قومی جماعتوں اور عسکری قیادت کی مشاورت سے پالیسی تشکیل دے اور مسئلہ کشمیر پر بیک فائر کرنے سے گریز کیا جائے۔ورنہ کشمیری قوم شائد اپنی آزادی کی جنگ خود لڑنے پر مجبور ہو جائے۔پاکستان ہمارا بڑا بھائی ہے اور بھارت کی دہشت گردی اور ظلم کا مقابلہ کرنے کے لیے کروڑوں پاکستانی عوام نے ہمیشہ اپنے کشمیری بھائیوں کے سر پر ہاتھ رکھا ہے۔آج اگر جنرل مشرف کی کشمیرپالیسی کو تبدیل نہ کیا گیا تو شائد کشمیری قوم اپنی تحریکِ آزادی کے لیے کسی پر بھی اعتماد نہ کر سکے گی۔ وحدتِ کشمیر کو متاثر کرنے والے گلگت بلتستان پیکیج کو فوری طور پر تبدیل کیا جائے کیونکہ موجودہ انتظامی ڈھانچے کے نفاذ سے پوری دنیا کے سامنے کشمیری قوم کاآزادی کا کیس متاثرہونے کا اندیشہ ہے۔ان خیالات کا اظہار برطانوی ہاؤس آف لارڈز کے تاحیات رکن لارڈ نذیر احمد نے بارسلونا سپین سے خصوصی ٹیلیفونک گفتگو کے دوران کیا۔ لارڈ نذیر احمد نے کہا کہ وہ انگلینڈ سے سپین کے خصوصی دورے پر آئے ہیں اور مختلف تقریبات میںتارکینِ وطن کشمیریوں اور پاکستانیوں سے ہونے والی ملاقاتوں میں یہ بات مکمل طور پر واضح ہو گئی ہے کہ پوری دنیا میں آباد کشمیری اور پاکستانی تارکینِ وطن مسئلہ کشمیر کو پاکستان کے لیے سب سے بڑی ترجیح سمجھتے ہیں۔انہوںنے کہا کہ اس وقت پاکستان کے طول وعرض میں ہونے والی دہشت گردی کا براہِ راست ذمہ دار انڈیا ہے اور اسرائیل سمیت چھ سے زائد دہشت گرد ممالک ایٹمی اسلامی جمہوری پاکستان کو تباہ کرنے کی کوششوں میںمصروف ہیں۔صوبہ سرحد اور صوبہ بلوچستان میںہونے والی دہشت گردی اور غیر ملکی مداخلت کا بنیادی مقصد پوری دنیا کے نئے لیڈر عوامی جمہوریہ چین کا راستہ روکنا ہے۔گوادرپورٹ اور بلوچستان کے کھربوں ڈالرز مالیت کے معدنی ذخائر ، تیل، گیس،سونا ، تانبا و دیگرپاکستان کو دنیا کا معاشی لحاظ سے مستحکم ترین ملک بنا سکتے ہیں اور چین اور پاکستان کو بھارت کے ذریعے براہِ راست دھمکیاں دلوانا در اصل تاجرانہ مقاصد رکھنے والے صیہونی کٹھ پتلی ممالک کی ایک بہت بڑی سازش ہے۔کشمیر کی آزادی کا مسئلہ ڈیڑھ کروڑ سے زائد انسانوں کے حقِ خود ارادیت کا ایشو ہے۔ اسے دریاؤں کے پانی،سیاچن کے پہاڑوں اور جنگلات کی لکڑی کا مسئلہ قرار نہیں دیاجاسکتا۔آزادیٔ کشمیر کی جنگ نہ تو مذہبی لڑائی ہے اور نہ ہی دو ممالک کا سرحدی و جغرافیائی تنازعہ، یہ کشمیری قوم کی آزادی کا جائز اور برحق ترین ایشو ہے۔ہم اپنی آزادی کی جنگ کشمیر کے پہاڑوں سے لے کر پوری دنیا کے تمام فورمز پر لڑتے رہیں گے
Tags: پاکستان , کشمیر
مظفر آباد‘سرینڈر نہیں آزادی چاہیے ۔ مجاہدین و مہاجرین نے بھارتی حکومت کی سرینڈر پالیسی کو مستردکر دیا ۔ آزادی تک جہاد جاری رکھیں گے۔ نیشنل کانفرنس بھارت کی آلہ کار ہے۔ مہاجرین بھارتی چال میں نہیں آئیں گئے ۔ ان خیالات کا اظہار مہاجرین کیمپوں کے صدور اور تنظیمو ںکے صدور کی مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا ۔ اس موقع پر محمد یوسف بٹ ، علی محمد بٹ ، عبد الحمید کریمی ، نورائر قریشی ، اقبال اعوان ، اظہار خان ، عزیز احمد غزالی ، غلام حسین بٹ ، شوکت بٹ ، شیخ رشید ، عبد القیوم چوہدری ، امتیاز خان و دیگر موجود تھے۔ مہاجرین جموں کشمیر 1990 ء بھارت کی جانب سے نام نہاد معافی اور سرینڈر پالیسی کو مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کرتے ہیں کہ بھارت اقوام متحدہ کی پاس شدہ قرار دادوں کے مطابق مقبوضہ ریاست جموں کشمیر کے عوام کو ان کا بنیادی حق ، حق خود ارادیت دے ۔ مہاجرین جموں و کشمیر بھارت کے ظلم و جبر درندگی اور بربریت کا شکار ہو کر آزاد کشمیر ہجرت پر مجبور ہوئے ۔ بھارت جو اپنے آپ کو دنیا کی بہت بڑی جمہویت کہلواتا ہے ۔ 7 لاکھ فوج جنہوں نے مقبوضہ ریاست کے اندر انسانی حقوق کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دیں ہیں ۔ ایک لاکھ سے زائد افراد کو رواں تحریک آزادی کے دوران شہید کر دیا گیا ۔ ہزاروں افراد کو اپاہج کر دیا گیا 9 ہزار سے زائد عفت مآب بہنوں اور بیٹیوں کی عصمتوں کو پامال کردیا گیا کئی ہزار افراد کو ٹارچر سیلوں میں اذیتیں دے کر انسانیت کو شرمندہ کیا گیا ۔ سینکڑوں نو نہالوں سمیت کئی افراد کو زندہ جلا دیا گیا ۔ اربوں روپے مالیت کے کھیت ، باغات ، تجارتی مراکز اور گھروں کو خاکستر اور تباہ کردیا ۔ ہزاروں کنال اراضی کو غیر ریاستی اداروں ، فوج اور افراد کو الاٹ کر کے مقبوضہ ریاست کی مسلم اکثریت کے خلاف سازشیں کی گئی ۔ بے گناہ افراد کو شہید کر کے ہزاروں کی تعداد میں گمنام قبروں میںدفنایا دیا گیا ۔ کالے قوانین پبلک سیفٹی ایکٹ ٹاڈہ لاگو کر کے درندہ صفت بھارتی افواج کو کشمیری عوام کے خلاف جرائم کا ارتکاب کرنے کے لیے قانونی سہارا فراہم کیا ۔ شہروں ، قصبوں اور دیہاتوں میں کریک ڈاؤن کر کے بھارتی افواج نے جس کھلی دہشت گردی کا ارتکاب کیا ۔ پوری انسانیت اس پر شرمندہ ہے۔ پوری وادی کو کرفیو میں جکڑ کر پوری ریاست کو جہنم میں تبدیل کر دیا جاتا ہے ۔ بھارتی حکومت فوج اور بھارت کی ایجنسیوں پر پوری انسانیت ماتم کناں ہے۔ لیکن ریاست جموں کشمیر کے عوام اس ظلم و بربریت اور فوجی دہشت گردی کو بھول جائیں گے ۔ نہیں کبھی نہیں ریاست کے عوام کا عزم ہے کہ انشاء اللہ بھارت سے ریاست جموں و کشمیر کی مکمل آزادی تک جہاد جاری رہے گا ۔ مہاجرین جموںو کشمیراپنے بھائیوں ، بہنوں ، بچوں ، بزرگوں کے دکھ درد آہ و بکا سن رہے ہیں ۔ مہاجرین اپنے وطن سے دور بیٹھ کر تحریک آزادی جموں و کشمیر کی اخلاقی ، سفارتی اور سیاسی حمایت کو جاری رکھیں گے ۔ مقبوضہ ریاست کے اندر کٹھ پتلی بھارت نواز پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس کے مجرمانہ جارحیت کی بھی مہاجرین مذمت کرتے ہیں ۔ بھارتی خوشنودی کے لیے یہ دونوں جماعتیں ریاستی عوام کا سودا بازی میں شریک ہیں ۔ بھارتی جارحیت کو سند جواز بخشنے کے لیے یہ دونوں جماعتیں اپنا مجرمانہ کردار ادا کر رہی ہے ۔ مہاجرین جموں کشمیر اقوام متحدہ ، سلامتی کونسل ، ایمنسٹی انٹرنیشنل ، او آئی سی سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ مقبوضہ ریاست کے اندر بھارت کی جانب سے ڈھائے جانے والے مظالم کا نوٹس لے اورریاست کے اندر بنیادی انسانی حقوق کی بحالی کے لیے کردار ادا کرتے ہوئے ریاستی عوام کو استصواب کا حق دلانے میں کردار ادا کریں ۔ مہاجرین بھارتی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اگر اسے انسانیت کا زرہ برابر لحاظ ہے تو وہ فوراً ریاست جموں و کشمیر سے فوجوں کا انخلا کرے ۔ اس خطہ کے عوام کی سلامتی ترقی اور وقار اسی میں مضمر ہے کہ بھارت مقبوضہ ریاست کے عوام کو حق خود ارادیت دے ۔مہاجرین حالیہ دنوں میں شہید کئے گئے دو نو عمر طلباء وامق فاروق اور زاہد فاروق کے لواحقین سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں ۔ مہاجرین بھارت کی جانب سے کئے گئے سرینڈر پالیسی کے تمام اعلانات اقدامات کو مسترد کرتے ہیں ۔ مہاجرین جموں و کشمیر حکومت پاکستان حکومت آزاد جموں و کشمیر اور یہاں کی عوام کے مشکور ہیں کہ انہوںنے مشکل وقت میں مہاجرین کو سہارا دیا ۔ مہاجرین حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ مہاجرین کی آباد کاری کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کرے ۔ بے گھر مہاجرین کو با عزت شہریو کی طرح رہائش فراہم کرے ۔پریس کانفرنس کے دوران درجنوں مجاہدین اور مہاجرین موجود تھے ۔ مجاہدین و مہاجرین نے بھارتی حکومت سے فوجوں کے مکمل انخلا کا مطالبہ کیا اور کہا ہے کہ بھارت عالمی برادری کے سامنے جو وعدے کرچکا ہے ۔پہلے وہ پورے کئے جائیں سرینڈر کی پالیسی جیسے مذموم عزائم سے کشمیری قوم بخوبی واقف ہے ہم بھارتی فوج سے نفرت کرتے ہیں ۔ بھارتی حکومت نے حکومت پاکستان کو الجھانے کے لیے سرنڈرپالیسی دی ہے ۔ حکومت پاکستان اور حکومت آزاد کشمیر کے عوام کی ذمہ داری ہے کہ ہنگامی بنیادوں پر مہاجرین کی دائمی آباد کاری کے لیے اقدامات کریں۔ پاکستان اور کشمیر ایک ہیں ۔ آزادی کے لیے ہر محاذ پر جانے کے لیے تیار ہیں۔ مذاکرات سے کچھ حاصل نہیں ہو گا ۔ مسلح جدوجہد ہی مسئلہ کا حل ہے ۔ ہمارا حق ہے کہ ہم لڑیں گے غلطی بھارت نے کی ہے معافی وہ مانگے ۔ بھارت کے خونی پنجے آزاد کشمیر کی جانب بڑھ رہے ہیں
Tags: کشمیر
پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی ، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا
صدر مملکت اور وزیر اعظم پاکستان مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے موثر کوششیں کر رہے ہیں
تحریک حق خود ارادیت کے وفد سے چےئرمین سینٹ کی ملاقات
اسلام آباد۔ چےئرمین سینٹ فاروق ایچ نائیک نے کہا ہے کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ۔ اہلیان پاکستان کشمیریوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ مسئلہ کشمیر کا حل پاکستان کی اولین ترجیح ہے۔ یہ کشمیریوں کے حق خود ارادیت کا معا ملہ ہے ۔ تارکین وطن کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے لیے عالمی فورمز پر کوششیں کر رہے ہیں ۔ حکومت تارکین وطن کی اس حوالے سے سرپرستی کرے گی ۔ ملکی خوشحالی میں تارکین وطن کا اہم کردار ہے ۔ حکومت تارکین وطن کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ وہ یہاں سابق وزیر اعظم کے پولیٹیکل کوآرڈینیٹر راجہ نجابت حسین کی قیادت میں تحریک حق خود ارادیت یورپ کے وفد سے بات چیت کر رہے تھے ۔ صدر آزاد کشمیر کے مشیر ڈاکٹر زیڈ یو خان بھی اس موقع پر موجود تھے ۔ وفد میں چوہدری محمد اکرم سالار ممتاز چشتی اور راجہ ہشام چھترو موجود تھے ۔ وفد نے چےئرمین سینٹ کو تارکین وطن کی طرف سے کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے حوالے سے جدوجہد سے آگاہ کیا ۔راجہ نجابت حسین نے اس موقع پر چےئرمین سینٹ کو تحریک حق خود ارادیت برطانیہ و یورپ کی طرف سے مارچ / اپریل برطانیہ میں حق خود ارادیت کے حوالے سے منعقد ہونے والے سیمینار میں شرکت کی دعوت دی ۔چےئرمین سینٹ نے کہا وہ پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا ۔ پاک بھارت بات چیت میں مسئلہ کشمیر سرفہرست رہے گا ۔ صدر پاکستان آصف علی زرداری ، وزیراعظم پاکستان سید یوسف رضا گیلانی ہر بین الاقوامی فورم پر مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے موثر کوششیں کر رہے ہیں ۔
Tags: پاکستان , کشمیر
دونوں ممالک کے مابین رشتوں کی عارضی تلخی سے عام لوگوں کے روابط میں کمی نہیں آنی چاہیئے ،تنازعہ کے متاثرین کیلئے ویزا کی پابندیاں ہٹائی جانی چاہئیں
پاکستان اور بھارت پانی کے تنازعہ کوئی بھی حتمی حل لیکر سامنے آئے ، سندھ طاس کمیشن عملی اقدامات کرے
صحافی امن و مصالحت کرنے میں کلیدی کردار اداکرسکتے ہیں،اس لیے دونوں ممالک معاشرے کے اس اہم طبقے کے رابطے بڑھانے کیلئے اقدامات کرے
بینکاک کانفرنس میں پاک بھارت کے سابق سفارتکاروں، فوجی افسران، بیوروکریٹس اور خفیہ اداروں کی سربراہوں کی شرکت
بنکاک ۔پاکستان اور بھارت کے سابق سفارتکاروں،فوجی افسران،بیورو کریٹس اور خفیہ اداروں کے سربراہان نے دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے حل کرنے کی خاطر مزید وقت ضائع کئے بغیر بیک چینل مذاکرات کا آغاز کرکے مناسب وقت پر اس میں کشمیریوں کو بھی شامل کریں کیونکہ وہ اس دیرینہ تنازعے کی وجہ سے سب سے زیادہ متاثر ہورہے ہیں۔ تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک میں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے دو روزہ کانفرنس منعقد ہوئی جس میں پاکستان اور بھارت کے سابق سفارتکاروں ،فوجی افسران،بیورو کریٹوں اور سراغ رساں اداروں کے سربراہوں نے شرکت کی۔ مذکورہ کانفرنس کے آخر پر ایک مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا گیا جس میں کشمیر تنازعے کے فوری حل پر زور دیا گیا۔ کانفرنس میں جن شخصیات نے حصہ لیا اْن میں پاکستان سے سابق وفاقی وزیراطلاعات و نشریات شیری رحمان،نئی دلی میں سابق ہائی کمشنر عزیز احمد خان،جنرل ریٹائرڈ احسان الحق ،سابق خارجہ سیکریٹری ہمایوں خان ، رستم شاہ جبکہ بھارت کی جانب سے خفیہ ادارے ’را‘ کے سابق سربراہ اے ایس دلت،دیپانکر بینرجی،سگاریکا گھوش،ہیپی مین جیکب،ریٹائرڈ ایڈمیرل راجا مینن،،اسلام آباد میں سابق بھارتی ہائی کمشنرجی پارتھا سارتھی،’را‘ کے سابق ڈائریکٹروکرم سود اورپروفیسر امیتا بھ مٹو وغیرہ شامل تھے۔ بینکاک میں دو روزہ کانفرنس کے اختتام پر جاری کیا گیا اعلامیہ میں پاکستان اور بھارت پر زور دیا گیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کا حتمی حل تلاش کرنے کے لئے مزید وقت ضائع کئے بغیر بیک چینل مذاکرات کا آغاز کریں اور مناسب وقت پر مذکورہ بات چیت میں کشمیریوں کو بھی شامل کیا جائے۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ کشمیریوں کی شرکت اس لئے اہم ہے کیونکہ تنازعے کے باعث انہی لوگوں کو سب سے زیادہ متاثر ہونا پڑ رہا ہے۔اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ بھارت اور پاکستان کو چاہئے کہ وہ کشمیری عوام کی فلاح کا خاص خیال رکھیں اور اس کے لئے ہر ممکن اعتماد سازی کا اقدام کریں۔اعلامیہ کے مطابق ’’گذشتہ63برس کے دوران ایک مسئلے کی وجہ سے سارا ماحول یرغمال بنا ہوا ہے اس لئے تما م متعلقہ اداروں، اشخاص اور ممالک کو اپنا کردار ادا کرنے کے لئے آگے آنا چاہئے‘‘۔دس نکات پر مشتمل مشترکہ اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ مفاہمت کے لئے ہر سطح پر موجود لوگوں کو شامل کیا جانا ضروری ہے اورسول سو سائٹی اس سلسلے میں ایک خاص کردار ادا کرسکتی ہے۔اعلامیہ میں بھارت اور پاکستان کو مخاطب کرتے ہوئے زوردے کر کہا گیاہے’’دونوں ممالک کے مابین رشتوں کی عارضی تلخی سے عام لوگوں کے روا بط میں کمی نہیں آنی چاہئے اور تنازعہ کے متاثرین کے لئے ویزا کی پابندیاں ہٹائی جانی چاہیں ۔بھارت اور پاکستان کو چاہئے کہ وہ سرکاری سطح پر بات چیت کے عمل میں ماضی میں کی گئی پیش رفت کو ملحوظ نظر رکھیں‘‘۔اعلامیہ میں چھٹے نکتے کے طور پر بتایا گیا ہے کہ بھارت اور پاکستان کو مسئلہ کشمیر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے حل کرنے کے لئے بیک چینل بات چیت کا سلسلہ شروع کریں اور ایک مناسب وقت پر اس میں کشمیریوں کو بھی شامل کیا جائے۔ رپورٹ کے مطابق دونوں اطراف کے صحافیوں کے باہمی رابطوں پر زور دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ صحافی امن اور مصالحت کرنے میں کلیدی کردار ادا کرسکتے ہیں ،اس لئے دونوں ممالک کو چاہئے کہ وہ معاشرے کے اس اہم طبقے کے رابطے بڑھانے کے اقدامات کریں۔اعلامیہ کے مطابق بھارت اور پاکستان جنوب ایشیائی خطے کی ترقی اور استحکام کے لئے کام کریں۔ اعلامیہ میں پانی کے تنازعے کا ذکر کرتے ہوئے بھارت اور پاکستان پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اس سلسلے میں کوئی حتمی حل لیکر سامنے آئیں اور اس ضمن میں سندھ طاس کمیشن کو عملی اقدامات کرنے چاہیں۔ اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ ٹریک ٹو بات چیت سرکاری پالیسیوں کے تابع نہیں ہوتی ں اور ان کے ذریعے بھارت اور پاکستان کی حکومتوں کو متبادل راستے فراہم کئے جاسکتے ہیں، اس لئے دونوں ممالک پر فرض ہے کہ وہ ٹریک ٹو قسم کی بات چیت کی حوصلہ افزائی کریں۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ تھائی لینڈ کے شہر بینکاک میں اس سے قبل بھی مسئلہ کشمیر کے موضوع پر اے ایس دلت اور عزیز اے خان کے درمیان کم سے کم دو ملاقاتیں ہوئی ہیں اور اْنہیں ذرائع ابلاغ میں کافی اہمیت دی گئی۔عزیز احمد خان نے گذشتہ سال کے آخر میں مقبوضہ کشمیر کا بھی معنی خیزدورہ کیاتھا۔ بتایا جاتا ہے کہ عزیز اے خان اور اے ایس دلت بیک چینل میں اپنے اپنے ملکوں کی نمائندگی کررہے ہیں اور دونوں کے درمیان کافی اہم پیش رفت بھی عمل میں لائی گئی ہے۔بھارت اور پاکستان کے معاملات پر قریبی نظر رکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ دونوں ہمسایہ ممالک کے مابین اگر چہ ممبئی حملوں کے بعد جامع مذاکراتی عمل تعطل کا شکار ہوا تاہم اے ایس دلت اور عزیز اے خان کے درمیان نئی دلی اور اسلام آباد کی ایماء پر خفیہ بات چیت کا سلسلہ جاری رہا اور اْس کے دوران قابل ذکر حد تک پیش رفت بھی ہوئی اور دونوں کی ہی خفیہ بات چیت کا نتیجہ ہے کہ بھارت اور پاکستان نے ایک بار پھر جامع مذاکراتی عمل شروع کرنے پر رضامندی کا اظہار کیا ہے۔رپورٹ کے مطابق اے ایس دلت اور عزیز اے خان براہ راست واشنگٹن کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں اور امریکہ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان بات چیت شروع کرنے میں دونوں کے ذریعے ہی اپنا کردار ادا کیا۔
Tags: پاکستان , کشمیر
سری نگر‘ کل جماعتی حریت کانفرنس (ع) گروپ کے چئیرمین میرواعظ عمر فاروق نے کہا ہے کہ اگرپاکستان اور بھارت کے خارجہ سیکرٹریز سطح کے مذاکرات میں مسئلہ کشمیر ایجنڈے میں شامل نہ رہا تو یہ بات چیت لاحاصل رہے گی۔ تاہم انہوںنے وادی کے گنجان آبادی والے علاقوں سے فوجی انخلا کی فوری ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کشمیر میں ایسے حالات پیدا کرنے کے در پے ہے جس سے تشدد بھڑکنے کا احتمال ہے۔اطلاعات کے مطابق مرکزی جامع مسجد سرینگر میں میرواعظ عمر فاروق نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاک بھارتمذاکرات کی ممکنہ ابتدا کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہورہا ہے کہ جوہری ہتھیاروں سے لیس دونوں ممالک کو یہ احساس ہورہا ہے کہ جنگ و جدل سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوسکتا ہے بلکہ صرف تباہی اور بربادی ہی سامنے آسکتی ہے اور اسی احساس اور بین الاقوامی دباؤ کے تحت
دونوںممالک رواں ماہ کی 25تاریخ سے خارجہ سیکرٹریز سطح پر معطل شدہ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے جارہے ہیں۔ میرواعظ عمر فاروق نے کہا کہ اگرچہ ہم اس قدم کا خیرمقدم کرتے ہیں تاہم انہوںنے خبردار کیا کہ اگر مجوزہ مذاکرات میں مسئلہ کشمیر ایجنڈے میں شامل نہ رہا اور اس پر کوئی پیش رفت نہ ہوسکی تو ہم سمجھتے ہیں کہ یہ کوشش لاحاصل رہے گی۔ میرواعظ عمر فاروق نے واضح کردیا کہ کشمیر آبی یا سیاچن کا تنازعہ نہیں بلکہ ہی انسانی زندگی اور ان کی تقدیر کا مسئلہ ہے اور اس پر کشمیری عوام کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ انہوںنے واضح کردیا کہ اگر مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کیلئے سنجیدہ کوششیں نہیں کی گئیں تو پھر برصغیر میں امن کی ضمانت کوئی نہیں دے سکتا ۔ انہوںنے دونوں ممالک پر زور دیا کہ وہ کشمیری عوام کے پیدائشی حق کو انہیں فراہم کریں اور استصواب رائے کے ذریعے کشمیریوں کو ان کی تقدیر کا فیصلہ کرنے کا مجاز قراردیں ۔انہوںنے کہاکہ وادی میں ایک مرتبہ پھر تشدد بھڑکانے کی کوششیں جاری ہیں اور بے گناہ نوجوانوں کی قتل و غارت گری سے یہی محسوس ہورہا ہے کہ جان بوجھ کر ایسے حالات پیدا کئے جارہے ہیں جس میں تشدد کی آگ بھڑکائی جاسکے۔ میرواعظ نے کہا کہ بھارتی فورسز کو بے گناہ افراد کے قتل و غارت کی کھلی چھٹی مل رہی ہے۔ انہو ں نے فوری طور ان واقعات کی تحقیقات عمل میں لاکر قاتلوںکو بے نقاب کرکے انہیں فوری طور پر سخت ترین سزا دینے کا مطالبہ کیا۔ میرواعظ نے کہا کہ فورسز کی موجودگی سے یہ واقعات رونما ہورہے ہیں اس لئے فوری طور پر فوجی انخلائ شروع کیا جانا چاہئے ۔ اس ضمن میں انہوںنے کہا کہ پہلے مرحلے میں گنجان آبادی والے علاقوں سے فوجی کیمپوںکو ہٹایا جائے تاکہ نہتے عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے۔
Tags: کشمیر