Urdu News-Online Urdu Newspaper

Urdu news Online Urdu Newspaper

Urdu News-Online Urdu Newspaper header image 4

Entries Tagged as 'کشمیر'

Pages: Prev 1 2 3 4 5 6 Next

بھارت کی طرف سے مجاہدین کیلئے عام معافی کا اعلان شاطرانہ چال ہے ۔ سید علی گیلانی

February 12th, 2010 · No Comments

سری نگر‘ بھارتی حکومت کی جانب سے مجاہدین کو عام معافی دینے کے حوالے سے کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے عوام سے ا پیل کی کہ وہ بھارت کے اس طرح کے اعلانات سے کسی ’’ خوش فہمی‘‘ میں مبتلا نہ ہوںکیونکہ اس اعلان سے بھارت ایک تیر سے دو شکار کرنا چاہتا ہے۔‘‘علاج و معالجے کیلئے نئی دلی میں مقیم سید علی گیلانی نے کہا کہ ایک طرف بھارت ہماری تحریک آزادی کو طاقت کے بل پر کچلنے کی کوشش کررہا ہے اور دوسری طرف عسکریت پسندوں کی معافی کا اعلان کرتے ہوئے یہ تاثر دے رہا ہے کہ وہ نرمی برت رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی اس پالیسی میں ہمارے لئے کوئی مثبت یا خیر کا پہلو نہیں ہے۔ انہوں نے کہا ’’بھارت کے اس اقدام سے کوئی فرق نہیں پڑیگا کیونکہ اصل مسئلہ کشمیر پر بھارت کا غاصبانہ قبضہ ہے۔‘‘ سید علی گیلانی نے کہا کہ بھارتی وزیر داخلہ نے یہ اعلان کرتے ہوئے مزید کہا ہے کہ آزاد کشمیر بھی ہمارا ہی حصہ ہے۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کے بیان سے ہمیں بھارت کے عزائم کو بھانپ لینا چاہئے۔انہوں نے کہا مسئلہ کشمیر کے متعلق بھارت کی پالیسیاں ہمیشہ پرْفریب اور شاطرانہ رہی ہیں۔بھارت اس طرح کے اعلانات سے اصل مسئلے سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کی کوشش کررہاہے۔یہ پوچھنے پر کہ کیا مجاہدین کو بھارت کی یہ پیشکش تسلیم کرلینی چاہیے؟ انہوں نے کہا کہ یہ انہیں سوچنا چاہیے کہ وہ کس مقصد کے لیے وہاں گئے اور کیا انہیں اس طرح لوٹنا چاہیے یا نہیں؟‘‘سید علی گیلانی نے کہا کہ کشمیریوں کا مقصد کوئی رعایت حاصل کرنا نہیں بلکہ جدوجہد آزادی کو اس کے منطقی انجام تک پہنچانا ہے۔انہوں نے کہاعوام کو عزم و استقلال کیساتھ جدوجہد آزادی جاری رکھنی چاہئے کیونکہ انکے بقول’’ اصل مسئلہ فوجی تسلط کا مکمل خاتمہ ہے۔

Tags: کشمیر

پاکستان مسئلہ کشمیر کو پس پشت ڈال چکا ہے ‘ چیئرمین پارلیمانی کشمیر کمیٹی

February 10th, 2010 · No Comments

مولانا فضل الرحمان نے کشمیر پالیسی پر بحث کے لئے تحریک التواء جمع کرا دی
بعض حلقوں میں تاثر یہی ہے کہ ملک کی کوئی کشمیر پالیسی نہیں ہے
چیئرمین پارلیمانی کشمیر کمیٹی

اسلام آباد ‘ چیئرمین خصوصی پارلیمانی کشمیر کمیٹی مولانا فضل الرحمان نے پاکستان کی کشمیر پالیسی پر بحث کے لئے کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے بدھ کو قومی اسمبلی میں تحریک التواء جمع کرا دی ۔ مولانا فضل الرحمان نے تحریک التواء میں کہا ہے کہ بعض حلقوں میں یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ پاکستان نے مسئلہ کشمیر کو پس پشت ڈال دیا ہے اور کشمیر کے بارے میں ملک کی کوئی واضح پالیسی نہیں ہے ۔ چیئرمین کشمیر کمیٹی مولانا فضل الرحمان نے مطالبہ کیا ہے کہ اس تاثر کو زائل کرنے کے لئے قومی اسمبلی میں پاکستان کی کشمیر پالیسی کو زیر بحث لایا جائے اور اس ضمن میں ایوان کی معمول کی کارروائی کو روک کر تحریک التواء کو بحث کے لئے منظور کیا جائے ۔ واضح رہے کہ بھارت نے حال ہی میں پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کا اعلان کیا ہے ۔ اس ضمن میں مذاکرات کے ایجنڈا کی تیاری پر کام شروع کر دیا گیا ہے ۔ توقع ہے کہ پاک بھارت مذاکرات میں مسئلہ کشمیر کے پرامن ذرائع سے حل تلاش کرنے کے لئے اس تنازعے کو مذاکرات میں کلیدی حیثیت حاصل رہے گی ۔ ادھر امریکہ نے بھی پاک بھارت تنازعات بالخصوص مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے ثالثی کا عندیہ دیا ہے ۔ اس سلسلے میں امریکہ کی جانب سے ممکنہ روڈ میپ وضع کرنے کی بھی اطلاعات ہیں

Tags: پاکستان , کشمیر

بھارت نے کشمیری مجاہدین اور ان کے خاندانوں کے لیے عام معافی کی پالیسی تیار کر لی ، مجاہدین نے نئی پالیسی مسترد کر دی

February 9th, 2010 · No Comments

نئی پالیسی پر صلاح مشورہ شروع ، بھارت خارجہ سیکرٹری سطح کے مذاکرات میں پاکستان کو آگاہ کرے گا
معافی کی پالیسی سے آزاد کشمیر میں موجود 1200 کشمیری مجاہدین اور ان کے خاندان واپس جا سکیں گے
بھارتی پالیسی ایک فریب ہے بھارت کے جھانسے میں نہیں آئیں گے ، ترجمان حزب المجاہدین احسان الہی کی بات چیت

نئی دہلی + مظفر آباد ‘ بھارتی حکومت نے اعتماد کی بحالی کے اقدام کے طور پر کشمیری مجاہدین کو عام معافی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں ’’ ہتھیار ڈالنے اور بحالی ‘‘ کے نام سے پالیسی تیار کر لی گئی ہے ۔پالیسی پر بھارتی حکومت کے مختلف اداروں کے درمیان مشاورت شروع ہو گئی ہے ۔مقبوضہ کشمیر کے اخبار کی رپورٹ کے مطابق بھارت نے کشمیر کے سلسلے میں اعتماد کی بحالی کا ایک نیا قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے اس فیصلے کے تحت عسکریت سے وابستہ کشمیری نوجوانوں اور ان کے خاندانوں کو عام معافی دینے کا منصوبہ ہے۔ پالیسی کے تحت آزاد کشمیر اور پاکستان کے مختلف علاقو ںمیں مقیم کشمیری مجاہدین اور ان کے خاندان واپس مقبوضہ کشمیر جا سکیںگے۔ انہیں محفوظ راہ داری فراہم کی جائے گی ۔بھارت اس نئے منصوبے سے پاکستان کو باضابطہ طور پر مطلع کرے گا ۔ پاکستان اور بھارتی خارجہ سیکرٹری کے سطح کے مذاکرات میں بھارت یہ نئی پالیسی پاکستان کے سامنے رکھے گا تاکہ پاکستان کا تعاون حاصل کیاجائے بھارت چاہتا ہے کہ پاکستان آزاد کشمیر اور دوسرے علاقوں میں مقیم کشمیری مجاہدین اور ان کے خاندانوں کی شناخت اور تصدیق کے عمل میں تعاون کرے ۔مقبوضہ کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ نے نئی دہلی میں بھارتی ریاستوں کے وزراء اعلیٰ کی کانفرنس کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس ایک موقع ہے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کشمیری واپس آ سکیں گے ۔ مجاہدین ہتھیار ڈال کر معمول کی زندگی گزار سکیں گے ۔ ادھر بھارتی وزارت داخلہ کے ایک افسر نے بھی مذکورہ پالیسی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس پالیسی پر مقبوضہ کشمیر حکومت سے بھی مشاورت ہو رہی ہے ۔بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ نے دو سال پہلے مقبوضہ کشمیر میں قیام امن کے سلسلے میں ورکنگ گروپ قائم کئے تھے ایک ورکنگ گروپ کے سربراہ حامد انصاری تھے ۔ حامد انصاری نے اس بارے میں بتایا کہ ہم نے اصولی طور پر اس پالیسی سے اتفاق کر لیا ہے تاکہ مظفر آباد میں مقیم مجاہدین واپس آسکیں اور انہیں عام معافی ملے ۔ اخبار کے مطابق نئی پالیسی کے تحت مجاہدین اور ان کے خاندانوں کو لائن آف کنٹرول کے کراسنگ پوائنٹس چکوٹھی ، چکندرا باغ ، راولا کوٹ میں آ کر سرنڈر کرنا ہو گا ۔ ان مقامات پر لائن آف کنٹرول کے مقبوضہ کشمیر سائڈ پر بھارتی خفیہ اداروں ’’ آئی بی ‘‘ ، ’’ را ‘‘ اور جموں کشمیر پولیس کے کیمپ ہوں گے ۔ سرنڈر کرنے والوں کو ایک ماہ تک بھارتی اداروں کی تحویل میں تفتیش کے عمل سے گزرنا ہو گا جبکہ بعد ازاں ہر ہفتے مقامی پولیس سٹیشن میں حاضری دینا ہو گی ۔بھارتی وزارت داخلہ کے حکام کا کہنا ہے کہ مظفر آباد میں 800 سے زائد عسکریت پسند موجود ہیں ۔ جبکہ مقبوضہ کشمیر حکومت کا کہنا ہے کہ یہ تعداد 1200 سے زیادہ ہے ۔اخبار کے مطابق بھارتی حکومت نے 2005 اور 2007 ء کے دوران بھی سرنڈر پالیسی کا اعلان کیا تھا تاہم سرنڈر ہونے والے مجاہدین کی طرف سے اس وقت کے وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد پر قاتلانہ حملے میں ملوث ہونے کی وجہ سے پالیسی واپس لے لی گئی تھی۔ نئی پالیسی کے سلسلے میں ان دونوں بھارتی حکومت بڑے پیمانے پر مشاورت کر رہی ہے ۔جن نوجوانوں نے آزاد کشمیر اور پاکستان میں شادیاں کرلی ہیں ان کے لیے کہا گیا ہے کہ وہ اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن سے رجوع کریں گے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کے خلاف برسرپیکار مجاہد تنظیم حزب المجاہدین نے بھارتی پالیسی کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب کشمیری مجاہدین بھارت کے کسی فریب میں نہیں آئیں گے۔ بھارت کی نئی پالیسی دراصل مجاہدین اور عوام میں غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش ہے ۔ حزب المجاہدین کے ترجمان احسان الہی نے نئی بھارتی پالیسی پر تبصرہ کرتے ہوئے ثناء نیوز کو بتایا کہ ماضی قریب میں مقبوضہ کشمیر کے وزیر اعلیٰ مفتی سعید کے دورمیں ایسی ہی پالیسی بنائی گئی تھی ۔ کچھ نوجوان بھارت کے اس جھانسے میں آ گئے تھے اب ان کی حالت قابل رحم ہے ۔ انہوںنے کہا کہ نئی پالیسی میں عملاً کچھ نہیں ہے اور نہ ہی کشمیریوں کی ہمدردی میں کچھ ہورہا ہے۔ ماضی قریب میں جن لوگوںنے سرنڈر کیا تھا وہ اب پچھتا رہے ہیں اس لیے کہ سرنڈر نوجوانوں کے ساتھ انتہائی ظالمانہ سلوک ہو رہا ہے ۔ ان سے کئے وعدے پورے نہیں کئے گئے ۔ اب کی بار جس نئی پالیسی کی باتیں ہو رہی ہیں وہ دراصل کشمیری عوام اورمجاہدین میں غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش ہے ۔ اگر کوئی اس غلط فہمی کا شکار ہوا تو یہ اس کی اپنی غلطی ہو گی۔ بھارت تحریک آزادی کشمیر کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ہم اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے

Tags: کشمیر , ہندوستان

علیحدگی پسند لیڈران کی گرفتاری اور نظر بندی کے باوجود بھی کل اقوام متحدہ کے دفتر تک حریت کانفرنس پر امن مارچ کریگی ۔۔میر واعظ عمر فاروق

February 7th, 2010 · No Comments

سرینگر/7فروری /کے این ایس/۔۔حریت کانفرنس(ع) چیرمین میر واعظ عمر فاروق نے آج کہا کہ پولیس کی طرف سے علیحدگی پسند لیڈران کی گرفتاری اور نظر بندی کے باوجود بھی کل اقوام متحدہ کے دفتر تک حریت کانفرنس پر امن مارچ کریگی اور وہاں وادی میں فورسز کے ہاتھوں بڑھتی ہوئی انسانی حقوق کی پامالیوں پر ایک یاداشت پیش کیا جائیگا۔ ذرائع سے کے این ایس کو معلوم ہوا ہے کہ پولیس نے حریت کانفرنس کی طرف سے کل یو این او مارچ کو نا کام بنانے کیلئے حریت چیرمین میر واعظ عمر فاروق کو آج چوتھے روز بھی اپنے گھر میں نظر بند رکھا اور اسے حریت کے آج منعقد ہونے والے اجلاس میں شمولیت کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ ذرائع نے بتایا کہ حریت چیرمین میرواعظ عمر فاروق نے آج حریت صدر دفتر پر ایک اہم اجلاس طلب کیا تھا جس میں فورسز کے ہاتھوں دو معصوم طالب علموں کے جان بحق کرنے اور 8جنوری کے پروگرام کے حوالے سے لائحہ عمل مرتب کیا جانا تھا تاہم پولیس نے آج منعقد ہونے والے اجلاس کو نا کام بنایا اور میرواعظ عمر فاروق کو مسلسل اپنے گھر سے باہر آنے کی اجازت نہیں دی۔ ذرائع نے بتایا کہ اس کے علاوہ حریت کے سینئر رہنما اور ایگزیکٹو ممبران آغا سید حسن اور بلال غنی لون کو بھی گذشتہ روز سے ہی اپنے گھروں میں نظر بند رکھا گیا۔ادھر فریڈم پارٹی کے قائمقام چیرمین محمد عبداللہ طاری بھی آج حریت اجلاس میں شامل ہونے کے لئے حریت صدر دفتر جا رہے تھے تاہم پولیس کی بھاری جمعیت نے انہیں بھی گرفتار کرکے پولیس تھانہ راجباغ میں مقید رکھا جبکہ حریت لیڈر حکیم رشید کو بھی آج پولیس نے گرفتار کرکے پولیس اسٹیشن لال بازار میں بند رکھا۔ ذرائع نے بتایا کہ حریت لیڈران اور کارکنوں کو گرفتار کرنے اور نظر بند رکھنے کے نتیجہ میں آج حریت اجلاس منعقد نہیں ہوا ۔اس بارے میں حریت (ع) چیرمین میر واعظ عمر فاروق نے کشمیر نیوز سروس کو بتایا کہ پولیس نے آج کے اجلاس کو منعقد نہیں ہونے دیا جس کے لئے انہیں رہائش گاہ سے باہر نہیں آنے دیا گیا اور و ہاں پہلے سے ہی پولیس کی بھاری جمعیت تعینات کی گئی جبکہ ایگزیکٹو ممبر محمد عبداللہ طاری کو حریت آفس کے باہر گرفتار کیا گیا اور حریت سینئر رہنما آغا سید حسن ، بلال غنی لون و شاہد الاسلام کو بھی اپنے گھروں میں نظر بند رکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی غیر جمہوری اور غیر آئینی اقدام ہے کیونکہ انہوںنے آج کا اجلاس اس لئے طلب کیا تھا تاکہ معصومین کی ہلاکتوں کی مذمت کی جائے اور 8جنوری یو این او آفس تک مارچ کرنے کیلئے بھی لائحہ عمل مرتب کیا جائے۔ میرواعظ عمر فاروق نے کہا کہ پولیس کی طرف سے ناکہ بندی، گرفتاریوں اور نظر بندی کے باوجود کل اقوام متحدہ کے دفتر واقعہ سونہ وار سرینگر تک مارچ ہوگا اور وہاں وادی میں بڑھتی ہوئی انسانی حقوق کی پامالیوں پر ایک یاداشت پیش کیا جائیگا۔ان کا کہنا تھا کہ ریاست کو مکمل طور پر پولیس اسٹیٹ میں تبدیل کیا گیا ہے اور یہاں صرف فورسز کی بالا دستی قائم ہے جبکہ ہر طرف ظلم و زیادتی کا سلسلہ جاری ہے اور قوانین کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہے۔ حریت چیرمین نے کہا کہ گرفتاریاں اور زیادتیاں بھارتی جمہوریت کی پول کھول کر رکھ دیتی ہے اور بھارت کے جمہوریت کے دعوے بے بنیاد ہے۔ انہوں نے عالمی برادری اور تمام انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی کہ ریاست میں انسانی حقوق کی بڑھتی ہوئی پامالیوں کی طرف فوراً سے پیشتر توجہ دیں اور ان کو روکنے کیلئے سنجیدہ کوششیں کرے بصورت دیگر اس کے سنگین نتائج برآمد ہونگے۔اس دوران حریت کانفرنس(ع) کی طرف سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پروگرام کے مطابق 8فروری سومورا کو اقوام متحدہ کے دفتر تک ایک پر امن احتجاجی مارچ ہوگا جس میں حکومت کی فورسز اور پولیس کی بربریت و ظلم کے خلاف ایک یاداشت پیش کیا جائیگا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک ماہ کے دوران 8بے گناہ شہریوں کی ہلاکت ، سوپور میں رہائشی مکان و املاک کو نظر آتش کرنے، انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں اور ریاستی دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف حریت کانفرنس چیرمین میرواعظ عمر فاروق کی سربراہی میں سرینگر میں تعینات اقوام متحدہ کے مبصر تک ایک پر امن مارچ کرکے ایک یاداشت پیش کرینگے تاکہ اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری خاص طور پر انصاف پسند اقوام و ممالک کی توجہ ریاست کی ابتر اور سنگین حالات کی طرف دلائی جا سکے۔

Tags: کشمیر

سرینگر ‘ پے در پے ہلاکتوں کیخلاف وادی میں آج 7ویں روز بھی ہڑتال جاری رہی

February 7th, 2010 · No Comments

سرینگر/7فروری /کے این ایس/۔۔پے در پے ہلاکتوں کیخلاف وادی میں آج 7ویں رو ز بھی ہڑتال جاری رہی جبکہ پائین شہر میں نافذ غیر اعلانیہ کرفیو میں آج ڈھیل دی گئی جس کے دوران لوگوں نے اشیائے خوردنی کی خریداری کی تاہم کل حریت کانفرنس (ع)کی طرف سے اقوام متحدہ دفتر تک مارچ پروگرام کے پیش نظر میرواعظ عمر فاروق سمیت کئی علیحدگی پسند لیڈران کو گھروں میں نظر بند کردیا گیا جبکہ محمد عبداللہ طاری سمیت نصف درجن لیڈران کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے۔ مسلسل ہڑتال اور ناکہ بندی کے باعث شہر سرینگر میں بحرانی صورتحال پیدا ہوگئی ہے اور اسی بیچ آج کابینہ وزیر علی محمد ساگر کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی وفد زاہد فاروق کے گھر پہنچ گئی جہاں انہوں نے لواحقین دلایا کہ اس واقعہ کی اعلیٰ سطحی تحقیقات عمل میں لاکر قاتلوںکو بخشا نہیں جائیگا جبکہ صورتحال پر تبادلہ خیال کرنے کیلئے آج شام ڈویژنل انتظامیہ کی طرف سے ایک اعلیٰ سطحی ہنگامی میٹنگ طلب کی گئی۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق آج شہر سرینگر میں پے در پے ہلاکتوں کے واقعات نے صورتحال کو خراب کردیا ہے اور مظاہروں اور سنگبازی کے واقعات پرقابو پانے کیلئے ڈویژنل انتظامیہ نے شہر کے کئی علاقوں میں غیر اعلانیہ طو رپر کرفیو نافذ کردیاتھا جبکہ امتناعی احکامات کے تحت مائسمہ اور بٹہ مالو میں سخت ترین ناکہ بندی تھی۔ تاہم آج شہر سرینگر سمیت وادی کے دیگر مقامات پر ساتویں روز بھی ہڑتال رہی جس کے نتیجے میں معمول کی زندگی متاثر رہی۔ اس دوران آج ساتویں روز پائین شہر کے کرفیو زدہ علاقوں میں ڈھیل دی گئی اور کچھ دیر کیلئے ناکہ بندی میں بھی نرمی برتی گئی جس کے دوران کئی روز سے گھروں میں محصور لوگوں نے اشیائے خوردنی اور دیگر ضروری اشیاء اسٹاک کیں۔ تاہم ناکہ بندی کے باعث کئی علاقوں میں مریض ادویات کیلئے تڑپنے لگے ہیں وہیں اسپتالوں کو جانے والے راستوں پر بھی چلنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ کے این ایس کو معلوم ہوا ہے کہ پائین شہر میں کچھ وقت کے لئے ڈھیل کے بعد دوبارہ ناکہ بندی کی گئی اور راجوری کدل، بہوری کدل، فتح کدل، صفاکدل، رعناواری، نوہٹہ، مہاراج گنج کے علاوہ درجنوں علاقوں میں فورسز و پولیس اہلکار کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار دیکھے گئے۔ اسی دوران پائین شہر کے کئی علاقوں سے لوگوں نے کے این ایس کو فون پر بتایا کہ آج پولیو مخالف دن کے موقعہ پر سی آر پی ایف اہلکاروںنے زبردست سختی برتتے ہوئے لوگوںکو بچوں کو پولیو مخالف قطرے پلانے سے روکا اور انہیں ان مراکز کی طرف جانے کی اجازت نہیں دی جس کے بعد پولیس کو اس میں مداخلت کرنی پڑی۔ تاہم کل حریت کانفرنس (ع) کی طرف سے پے در پے ہلاکتوں کیخلاف جلوس نکالنے اور اقوام متحدہ کے دفتر واقعہ سوناوار تک مارچ کرنے کے پروگرام کے پیش نظر شہر میں ایک مرتبہ پھر دفعہ144نافذ کردیاگیا ہے اور اس پروگرام کو ناکام بنانے اور امکانی مظاہروں اور سنگبازی کو روکنے کیلئے پولیس نے دیگر احتیاطی تدابیر کے تحت میرواعظ کی قیادت والی حریت کانفرنس کے کئی لیڈران کو ایک روز قبل ہی گھروں میں نظر بند کردیا جبکہ میرواعظ عمر فاروق آج چوتھے روز بھی گھر میں مسلسل نظر بند ہیں۔ اس کے علاوہ شوکت احمد شاہ کو بھی گھرمیں نظر بند رکھا گیا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ پولیس نے آج میرواعظ عمر فاروق کی طرف سے ایک ہنگامی اجلاس طلب کرنے کی کوشش کو بھی اس وقت ناکام کردیا جب پولیس نے بلال غنی لون، آغا سید حسن ، ایڈوکیٹ شاہد الاسلام سمیت کئی لیڈران کو گھروں میں نظر بند کردیا جبکہ فریڈم پارٹی کے محمد عبداللہ طاری سمیت کئی حریت لیڈران اور کارکنان کی گرفتاری عمل میں لائی گئی جبکہ شبیر احمد شاہ، نعیم احمد خان سمیت 3لیڈران کو پہلے ہی گرفتار کرکے کٹھوعہ جیل بھیج دیا گیا ہے۔ اس طرح سے پولیس اور فورسز نے پوری طرح سے شہر سرینگر کی کمان سنبھالی ہے جبکہ ڈویژنل انتظامیہ نے کسی بھی امکانی گڑھ بڑھ سے نمٹنے کیلئے پورے شہر میں پولیس کو تیاری کی حالت میں رہنے کی ہدایت دی ہے۔ دریں اثناء شہر سرینگر میں پیداشدہ صورتحال پر قابو پانے کیلئے آج شام ڈویژنل انتظامیہ نے ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے جس میں کابینہ وزیر علی محمد ساگر، وزیراعلیٰ کے مشیر مبارک گل اور سیاحت کے وزیر مملکت ناصر اسلم وانی کے علاوہ ڈائریکٹر جنرل پولیس، آئی جی کشمیر، ڈویژنل کمشنر کشمیر ، ڈپٹی کمشنر سرینگر، ایس ایس پی سرینگر سمیت سی آر پی ایف اور سیکورٹی ایجنسیوں کے اعلیٰ افسران موجود تھے۔ کے این ایس کے مطابق میٹنگ سے قبل آج صبح ٹھیک 10 بجے دیہی ترقی کے وزیر علی محمد ساگر کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی وفد برین نشاط کے جان بحق طالب علم زاہد فاروق کے گھر پہنچا جہاں انہوںنے لواحقین کی ڈھارس بندھائی۔ اطلاعات کے مطابق اس موقعہ پر وہاں لوگوں نے آزادی اور اسلام کے علاوہ اس واقعہ کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کے مطالبے کے حق میں نعرے بازی کی اور قاتلوں کو فوری طو رپر گرفتار کرکے انہیں سزا دینے کا بھی مطالبہ کیا جس کے بعد علی محمد ساگر نے زاہد فاروق کے لواحقین اور دیگر لوگوںکو یقین دلایا کہ حکومت خامو ش نہیں بلکہ اس واقعہ کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات شروع کی گئی ہے اور قاتلوں کو بخشا نہیں جائیگا۔ تاہم سات روز سے شہر میں جاری ہڑتال اور کرفیو کے نتیجے میں لوگ زبردست پریشانیوں میں مبتلا ہے اور آہستہ آہستہ شہر میں بحرانی صورتحال پیدا ہورہی ہے۔ ادویات کیساتھ ساتھ لوگوں کو اشیائے خوردنی کی کمی کا بھی سامنا ہے جبکہ سخت ترین ناکہ بندی کے باعث پائین شہر کی آبادی مسلسل گھروں میں محصور ہے۔ اس دوران آئی جی کشمیر مسٹر فاروق احمد نے کشمیرنیوز سروس کو بتایا کہ صورتحال پر پولیس کی کڑی نگاہ ہے اور آہستہ آہستہ حالات بہتری کی طرف گامزن ہورہے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ کسی بھی امکانی گڑھ بڑھ سے نمٹنے کیلئے پولیس اور فورسز کو تیاری کی حالت میں کہا گیا ہے۔

Tags: کشمیر

سید علی گیلانی نے بھارتی وزیر داخلہ پی چد مبرم سے خفیہ مذاکرات کی بھارتی پیشکش ٹھکرا دی

February 7th, 2010 · No Comments

بھارتی حکمرانوں سے کہہ دیا ہے پہلے کشمیر کو متنازعہ تسلیم کرو ، سہ فریقی مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی جائے
جنرل مشرف نے کشمیر کاز کو نقصان پہنچایا ۔ موجودہ حکومت کی کشمیر پالیسی پر امریکی دباؤ کی گہری چھاپ ہے
کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی کانئی دہلی میں خصوصی انٹرویو

اسلام آباد‘ کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے مسئلہ کشمیر پر بھارتی حکومت سے خفیہ مذاکرات کی پیشکش ٹھکرا دی ہے اور واضح کیا ہے کہ بھارت جب تک کشمیر کو متنازعہ تسلیم کرکے تنازعے کے حل کے لیے بامعنی سہ فریقی بات چیت پر آمادہ نہیں ہوتا ۔ ذیلی سے بات چیت نہیں ہوگی ۔ سید علی گیلانی ان دنوں دہلی کے ایک ہسپتال میں ل زیر علاج ہیں۔ آج ایک جریدے سے انٹرویو میں سید علی گیلانی نے انکشاف کیا کہ دہلی میں قیام کے دوران بھارتی حکومت کے ایک اعلی افسر وجاہت حبیب اللہ کی قیادت میں وفد میرے پاس آیا تھا انہوں نے بھارتی وزیر داخلہ پی چدمبرم سے خفیہ مذاکرات کی پیشکش کی تھی علی گیلانی نے کہا کہ انہوں نے یہ پیشکش نہ صرف ٹھکرا دی بلکہ وجاہت حبیب اللہ سے کہا ہے کہ بھارتی حکمرانوں سے کہہ دیا جائے کہ پہلے کشمیر کو متنازعہ تسلیم کرو مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے بامعنی اورنتیجہ خیز سہ فریقی بات چیت کے لیے آمادہ ہوں تو بات ہو سکتی ہے ہم کسی ذیلی ااور چھوٹے ایشو پر بھارت سے بات نہیں کرنا چاہتے ۔ ہم مسئلے کے حل کے لیے سہ فریقی مذاکرات چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ہر قسم کے دو طرفہ مذاکرات کومسترد کیا ہے ہم نے بہت سوچ سمجھ کر یہ فیصلہ کیا ہے اور برسوں کے تجربات کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ کشمیر پر دو طرفہ یا خفیہ مذاکرات بے معنی ہیں خصوصا اس لیے بھی کہ بھارت کی نیت ہی ٹھیک نہیں۔ نیت ٹھیک نہ ہو تو مذاکرات کا کیا فائدہ ۔ اس سے پہلے مذاکرات کے 130 سے زیادہ دور ہو چکے ہیں ان کا کیا نتیجہ نکلا ۔ خفیہ مذاکرات کی دعوت دینے والوں سے بھی یہی کہا ہے کہ بھارت مسئلہ کشمیر کو حل کرنے میں سنجیدہ ہے تو پہلے کشمیر کو متنازعہ علاقہ تسلیم کرے اور کالے قوانین ختم کرے ۔ ظاہر ہے بھارت نے یہ باتیں تسلیم نہیں کیں چنانچہ میں نے ان مذاکرات میں شمولیت کی بھارتی پیش کش ٹھکرا دی ۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت کے نمائندے وجاہت حبیب اللہ میرے پاس دہلی میں میری رہائش گاہ پر آئے تھے ان کے ساتھ ایک گھنٹے تک ملاقات جاری رہی ۔ انہوں نے مجھے وزیر داخلہ چدمبرم کے ساتھ مذاکرات کی دعوت دی تاہم میں نے ان سے کہا کہ میں بے معنی عمل کا حصہ نہیں بننا چاہتا ۔ وجاحت حبیب اللہ نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے لیے خفیہ سفارت کاری اور ٹریک ٹو ڈپلومیسی بھی جاری ہے اس میں آپ کا کردار موثر ہو سکتا ہے میں نے ان پر واضح کیا کہ میں مذاکرات کے خلاف نہیں ، تاہم مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے ضروری ہے کہ مذاکرات سہ فریقی ہوں اور اہل کشمیر کو حق خودارادیت د ے کر مسئلہ کشمیر حل کیا جائے ۔ مقبوضہ کشمیر سے فوجی انخلاء ہو اور مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اقدامات کیے جائیں ۔ بھارت پہلے کشمیر کو متنازعہ علاقہ تسلیم کرے گا ، تمام کالے قوانین کاخاتمہ کیا جائے ، سیاسی قیدیوں کو رہا اور ریاست سے فوجی انخلاء کیا جائے ۔ بھارت کے جمہوری دعوے جھوٹ کا پلندہ ہیں۔ ان جعلی انتخابات سے تو بھارتی جمہوریت کا مکروہ چہرہ مزید بے نقاب ہوا ہے آٹھ لاکھ فوج سنگینیں تانے سر پر کھڑی ہو تو کون ایسے انتخابات کے ناٹک کو تسلیم کرے ۔ بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر میں نہتے عوام کا قتل عام کرکے بدترین دہشت گردی کی مرتکب ہو رہی ہے ۔ انسانی حقوق کے علم بردار اداروں کو چاہیے کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیاں رکوانے کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرین ۔ بھارتی جمہوریت کا خونیں اورمکروہ چہرہ دیکھا جانا چاہیئے ۔ صدر جنرل پرویز مشرف کی طرف سے مسئلہ کشمیر پر نرمی دکھانے سے بھارت کی درندگی کو مزید تقویت ملی ۔ مشرف نے کشمیر کاز کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے ۔ پاکستان کی موجودہ حکومت نے یہ بھی کہہ کر بہت بڑا ظلم کیا ہے کہ ہم کشمیر کوپاکستان کا حصہ نہیں سمجھتے ، میرے خیال میں حکومت پاکستان کا یہ بیان تقسیم ہند فارمولے کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ۔ پاکستان کی موجودہ پالیسی پر بھی امریکی دباؤ کی گہری چھاپ نظر آتی ہے ۔ پاکستانی حکمرانو ں کو یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ پاکستان کے جس حکمران نے بھی تقسیم ہند کے فارمولے سے انحراف کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر سے بے وفائی کی وہ شرمناک انجام سے دوچار ہوا ۔ 1947 ء سے لے کر اب تک پاکستان کشمیر کو اپنی شہ رگ تسلیم کرتا رہا ہے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے بھی یہی نعرہ پاکستان کو دیا۔ پاکستان نے ساٹھ برس میں تین جنگیں کشمیر پر لڑیں اور 1971 ء میں مشرقی پاکستان اسی تنازعے کی بنیاد پر الگ ہوا لیکن صدر جنرل پرویز مشرف اور موجودہ حکومت نے پاکستان کے مسلمہ موقف میں نرمی دکھا کر بھارت کی درندگی ظلم و تشدد اور ناجائز موقف کو تقویت بخشی

Tags: کشمیر

کشمیریوں کی لاشوں پر سجائی جانے والی مذاکرات کی میزیں الٹ دی جائیں گی ۔۔مشترکہ یکجہتی کشمیر ریلی سے مقررین کا خطاب

February 5th, 2010 · No Comments

٭۔ ۔ ۔ آزادی کشمیر اورپاکستانی دریاؤں پر قبضہ ختم ہونے تک پاک بھارت مذاکرات قبول نہیں ، امریکہ اورنیٹو افغانستان سے بھاگ رہے ہیں توانڈیا بھی کشمیر میں نہیں ٹھہر سکے گا
٭۔ ۔ ۔ ڈاکٹرعافیہ صدیقی کے خلاف ناانصافی کرکے امریکا خودمسلمانوں کو جہاد کی دعوت دے رہاہے۔ جماعت الدعوۃ کے زیر اہتمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کی مشترکہ یکجہتی کشمیر ریلی سے حافظ سعید ، ساجد میر،حافظ حسین احمدو دیگر کا خطاب

لاہور‘ مذہبی وسیاسی جماعتوں کے قائدین،آل پارٹیزحریت کانفرنس اور متحدہ جہاد کونسل کے رہنماؤں نے جماعۃالدعوۃ کی یک جہتی کشمیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ کشمیریوں کی لاشوں پر سجائی جانے والی مذاکرات کی میزیں الٹ دی جائیں گی۔ آزادی کشمیر اورپاکستانی دریاؤں پر قبضہ ختم ہونے تک پاک بھارت مذاکرات قبول نہیں ،بھارت تجھے ممبئی نہیں بھولتا ہمیں مشرقی پاکستان نہیں بھولتا، بھارت کیلئے ہوٹل تاج اور اوبرائے اہم ہونگے لیکن ہمارے لئے بابری مسجد سب کچھ ہے، ڈاکٹرعافیہ صدیقی کے خلاف ناانصافی کرکے امریکا خودمسلمانوں کو جہاد کی دعوت دے رہاہے، مشرقی پاکستان کاسانحہ ممبئی جیسے ہزار واقعات سے بڑھ کرہے امریکہ اورنیٹو افغانستان سے بھاگ رہے ہیں توانڈیا بھی کشمیر میں نہیں ٹھہر سکے گا کشمیر جلد پاکستان کاحصہ بنے گااسمبلی ہال چوک میں ہونے والی یہ کانفرنس کشمیریوں سے اظہار یک جہتی کیلئے ہونے والا یہ سب سے بڑا پروگرام تھا مال روڈ کے دونوں اطراف میں ہرطرف کلمہ طیبہ والے پرچم اورسرہی سرنظرآرہے تھے یک جہتی کشمیر کانفرنس سے امیرجماعۃالدعوۃ پاکستان پروفیسرحافظ محمدسعید ،پروفیسرساجد میر،حافظ حسین احمد،حریت کانفرنس کے رہنماپروفیسراشرف صراف،متحدہ جہادکونسل کے رہنماجنرل عبداللہ ،مولٰنا امیرحمزہ،فرید احمد پراچہ، مسلم لیگ (ن) کے رہنما بلال یٰسین،آجاسم شریف، حافظ خالدولید،ادریس فاروقی ودیگر نے خطاب کیا جماعۃالدعوۃ کے امیر پروفیسرحافظ محمدسعید نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر دنیا کااہم ترین مسئلہ ہے یک جہتی کشمیر کے تقاضے کشمیری مسلمان پورے کررہے ہیں پاکستان اور عالم اسلام کے لوگوںسے بھی وہ یہی تقاضا کررہے ہیں کشمیری مسلمانوں کی مدد کیلئے پہنچنا شرعی فریضہ ہے حالات بڑی تیزی سے تبدیل ہورہے ہیں بھارت کاآخری سہارا امریکہ ٹوٹ رہاہے افغانستان کے پہاڑوں میں فیصلہ ہوچکا امریکہ بھاگنے والا ہے آزادی کی منزلیں صاف نظرآناشروع ہوگئی ہیں امریکہ اورنیٹو افغانستان پرقبضہ میں کامیاب نہیں ہوسکے توبھارت بھی کشمیر میں نہیں ٹھہر سکے گا بھارت کی فوجیں ہم نے آزما رکھی ہیں امریکہ کی خطہ سے نکلنے کی خبروں پربھارت کاخطہ کی منی سپرپاور بننے کا نشہ بھی اترتا جارہاہے انہوں نے کہا کہ بھارت سے مذاکرات صرف اس شرط پر ہونے چائیں کہ وہ کشمیر سے آٹھ لاکھ فوج نکالے، پاکستانی دریاؤں پرسے قبضہ ختم کرے اورمذاکرات میں یہ بات بھی شامل ہونی چاہئے کہ انڈیا اس بات کا حساب دے کہ اس کی فوج مشرقی پاکستان کیوں داخل ہوئی مسلمانوں کاقتل عام کیوں کیاگیا؟جامع مذاکرات میں یہ باتیں شامل ہونی چاہئیں انہوں نے کہا کہ بھارت ممبئی کونہیں بھولتا وہ ایک ممبئی کی بات کرتاہے سانحہ مشرقی پاکستان ممبئی جیسے ہزار واقعات سے بڑھ کرہے مسلمان بابری مسجد سانحہ کے دوران بھارتی دہشت گردی کوابھی تک نہیں بھولے امریکہ کووہ وقت کیوں یاد نہیں آتا جب اللہ کے گھر کو مسمار کیاجارہاتھا بابری مسجد پرہونے والی دہشت گردی کوبھی جامع مذاکرات کاحصہ ہونا چاہئے تحریک آزادی کشمیر جاری ہے اورجاری رہے گی کشمیر کی طرح حیدرآباد، دکن،جوناگڑھ کی ریاستوں کوبھی آزاد کروانا فرض ہے آزادی سے کم ہماری کوئی منزل نہیں ہے حافظ محمدسعید نے خطاب کے دوران شرکاء کی جانب سے زبردست نعرے بازی کی گئی انہوں نے کہاکہ ایک مسلمان بیٹی ڈاکٹرعافیہ صدیقی کی طرح کشمیر کی لاکھوں بیٹیوں کی عزت وعصمت کامسئلہ ہے وقت آگیاہے کہ سبھی خطے آزاد ہوں گے۔ ڈاکٹرعافیہ صدیقی کے خلاف ناانصافی کرکے امریکا خودمسلمانوں کو جہاد کی دعوت دے رہاہے۔مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان کے امیر پروفیسرساجد میر نے کہا ہے کہ کشمیر کے بغیر پاکستان نامکمل ہے کشمیر کے بغیر دفاع پاکستان ممکن نہیں ہے سارے دریا کشمیر سے آتے ہیں انہیں چھڑانا فرض ہے، کشمیریوں کاحق ہے کہ وہ آزادی کی زندگی بسرکریں، بھارت کے مسلم اکثریتی علاقے آزاد ہونے چاہئیں کشمیری پاکستان سے بہتر مسلمان اورپاکستانی ہیں پاکستانی حکمرانوں نے انہیں بہت مایوس کیالیکن اب بھی وہ یوم پاکستان جوش وخروش سے مناتے ہیں انہوں نے کہا کہ پاکستانی حکومتیں مسئلہ کشمیر کے اصول مؤقف پرقائم نہیں رہیں پرویزمشرف نے قومی مؤقف سے غداری کرکے مختلف آپشنزپیش کئے آزادی کشمیر کے علاوہ کوئی آپشن قبول نہیں کیاجاسکتا کشمیریوں نے بہت ظلم سئہ لئے ظلم کی سیاہ رات ختم ہونے والی ہے جلدآزادی کاسورج طلوع ہوگا پروفیسر ساجد میر نے کہا کہ پاکستان کی بقاء پرسوالیہ نشان لگائے جارہے ہیں ملک میں قرآن وسنت کونافذ کردیاجائے پاکستان اورکشمیردونوں بچ جائیں گے انہوں نے کہا کہ آج کچھ لوگ امن کیے راگ الاپ رہے ہیں دشمن طبل جنگ بجارہاہو ہمیں پیاسامارنے کی کوششیں کی جارہی ہوں کشمیریوں پرظلم ورستم کے پہاڑ توڑے جارہے ہوں اورہم امن کی آشا کاراگ الاپیں یہ بزدلی ہے یابے غیرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دشمن پاکستان کوعدم استحکام سے دوچار کرنے کی سازشیں کررہاہے اصولوں کوچھوڑ کر اپنا حق چھوڑ کرظلم کی موجودگی میں امن کی باتیں تسلیم نہیں کی جاسکتیں۔جمعیت علماء اسلام (ف) کے مرکزی رہنما حافظ حسین احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ کشمیر کی آزادی کیلئے پاکستان کاہرنوجوان سروں پرکفن باندھ کرمیدان میں آئے 1948ء میں قبائلی میدان میںآئے تو بھارت اقوام متحدہ مسئلہ لے گیا اگراس وقت مجاہدین کونہ روکا جاتا توکشمیر آزاد ہوچکاہوتا نائن الیون کے بعد مشرف نے کشمیریوں کی کمر میں چھرا گھونپا افغانستان کی طرح کشمیر میں بھی مسلمان آزادی کی جنگ لڑرہے ہیں بھارت آٹھ لاکھ فوج نکالنے پرجلدمجبور ہوگا انہوں نے کہا کہ حکمران پاکستان کے آئین سے غداری کاارتکاب کررہے ہیں جماعۃالدعوۃ مسلمانوں کومسئلہ کشمیر پرمتحدکرنے پرمبارکباد کی مستحق ہے کشمیر کاز کے لئے مجاہدین کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی عافیہ صدیقی پوری قوم کی بیٹی ہے پاکستان کے ہرفرد کومحمدبن قاسم بن کر عافیہ صدیقی اورکشمیری بہنوں کی فریاد پرلبیک کہتے ہوئے انکی آزادی کیلئے کردار ادا کرنا چاہئے۔آل پارٹیز حریت کانفرنس کے مرکزی رہنما اشرف صراف نے کہا کہ کشمیریوں کاپاکستانی مسلمانوں سے خون کارشتہ ہے یہ پانی سے بھی بڑارشتہ ہے کشمیری پاکستان سے ملنا چاہتے ہیں کشمیری آپ سے بہت پیارکرتے ہیں اورپاکستانی عوام کاانتظارکرتے ہیں انہوں نے اپنی تقریر کے دوران حافظ محمدسعید قدم بڑھاؤ ہم آپ کے ساتھ ہیں کہ نعرے بھی لگوائے اشرف صراف نے کہا کہ بھارت حافظ محمدسعید سے بہت ڈرتاہے ہم انہیں کشمیر لیکر جائیں گے جس پر ہزاروں شرکاء نے کشمیریوں سے رشتہ کیا لاالہ الااللہ کے نعرے لگائے انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ مسلمان دنیا میں قیام امن کی جنگ لڑرہے ہیں اقوام متحدہ اورنام نہاد این جی اوز نے مسئلہ کشمیر پربھارتی افواج کے ظلم وستم پرچپ سادھ رکھی ہے کشمیر کاپانی کشمیریوں کاہے کشمیر بھی ملے گا پانی بھی آزاد ہوگا۔جماعۃالدعوۃ کے مرکزی رہنما مولٰنا امیرحمزہ نے کہا کہ حکمران بھارت سے مذاکرات کی منتیں کرتے رہے وہ تیارنہیں ہوا اب امریکہ کوافغانستان میں جوتے پڑنے پرچدم برم بھی مذاکرات کی باتیں کرنے لگ گیا ہے بھٹو نے ہزار سال تک جنگ لڑنے کاوعدہ کیاتھا اگر حکمران خود کو بھٹو کاوارث سمجھتے ہیں توذکی الرحمن لکھوی اوراوردوسرے افراد کو رہاکریں جنہیں ممبئی حملوں کے جھوٹے الزام میں گرفتار کیاگیاہے اس موقع پر ہزاروں شرکاء نے زبردست نعرے بازی کی مولٰنا امیرحمزہ نے کہا کہ پوری قوم کشمیریوں سے یک جہتی کا اظہار کرتی ہے بھارت سے اتنقام لینے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔جماعت اسلامی کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر فریداحمد پراچہ نے کہا کہ حکمرانوں کی غداریوں کے باوجود قوم میں کشمیریوں سے اظہار یک جہتی کاجذبہ بڑھتا جارہاہے حکومت بھارت سے مذاکرات کی بات کرتی ہے اوربھارت مقبوضہ کشمیر میںڈیم بنانے میں مصروف ہے مذاکرات کی ہراس میز کوالٹ دیاجائے گا جوکشمیریوں کی لاشوں پر سجانے کی کوششیں کی جائے گی مذاکرات نہیں فیصلے جہاد سے ہوں گے انہوں نے کہا کہ عافیہ صدیقی اور کشمیری مسلمانوں کی عزتیں بچانے کیلئے میدان میں نکلنا ہوگا کشمیر پاکستان کاحصہ بنے گا اور پاکستان کاجغرافیہ مکمل ہوگا۔پاکستان مسلم لیگ کے مرکزی رہنما بلال یٰسین ایم این اے اورآجاسم شریف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے کشمیر پرغاصبانہ قبضہ کررکھاہے پانیوں پر سے قبضہ چھڑانے کیلئے قوم جنگ کے لئے بھی تیار ہے کشمیری مسلمان تکمیل پاکستان کی جنگ لڑرہے ہیںمظلوم کشمیریوں کی مددو حمایت کا سلسلہ جاری رہنا چاہئے۔تحریک آزادی کشمیر کے مرکزی سیکرٹری جنرل حافظ خالد ولید نے کہا کہ تحریک آزادی کشمیر جاری ہے اورجاری رہے گی مسئلہ کشمیر پربیک چینل ڈپلومیسی یاکشمیر کی مکمل آزادی کے علاوہ کوئی اورحل قبول نہیں کیاجائے گا پاکستانی قوم کشمیریوں کی پشت پرکھڑی ہے ایک لاکھ سے زائد شہداء کے خون سے کسی کوغداری کی اجازت نہیں دی جائے گی

Tags: پاکستان , کشمیر

پاکستان و آزاد کشمیر سمیت دنیا بھر میں یوم یکجہتی کشمیر انتہائی جوش و جذبے سے منایا گیا

February 5th, 2010 · No Comments

پاکستان و آزاد کشمیر کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں یکجہتی کشمیر ریلیوں کا انعقاد
حق خود ارادیت کے حصول تک آزادی کی جدوجہد جاری رہے گی
اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی روشنی میں کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جائے
یکجہتی کشمیر ریلیوں سے مقررین کا خطاب

اسلام آباد+مظفر آباد +باغ‘ پاکستان آزادکشمیر مقبوضہ کشمیر سمیت دنیا بھر میں مقیم پاکستانی و کشمیریوں نے یوم یکجہتی کشمیر اس عہد کی تجدید کے ساتھ منایا کہ مقبوضہ کشمیر کی آزادی اور حق خود ارادیت کے حصول تک آزادی کی تحریک ہر حال میں جاری رہے گی یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر پاکستان و آزاد کشمیر مقبوضہ کشمیر کے تمام بڑے شہروں قصبوں میں یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے سیمینار یکجہتی کشمیر ریلیاں جلسے اور جلوس منعقد ہوئے جس میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی پاکستان کے دار الحکومت اسلام آباد میں جماعت اسلامی پاکستان کے زیر اہتمام یکجہتی کشمیر ریلی منعقد ہوئی جس سے امیر جماعت اسلامی پاکستان سید منور حسن ،امیر جماعت اسلامی آزاد کشمید عبدالرشید ترابی سمیت دیگر مقررین نے خطاب کیا ۔ آزاد جموں و کشمیر کے تمام ضلعی ہیڈ کوارٹز پر یوم یکجہتی کشمیر انتہائی جوش و جذبے سے منایا گیا مظفر آباد بباغ،راولاکوٹ،پلندری،میرپور،بھمبھر،کوٹلی اور دیگرمقامات پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لئے یکجہتی کشمیر ریلیاں منعقد ہوئیں جن میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ جماعت اسلامی آزاد کشمیر کے زیر اہتمام دار الحکومت اظہار یکجہتی ریلی اور جلسہ ریلی اپر اڈاہ سے شروع ہو کر سینٹرل پریس کلب کے سامنے جلسہ عام کی شکل اختیار کر گئی حکومت پاکستان تنازعہ کشمیر کو جارحانہ انداز میں عالمی سطح پر اٹھائے مقبوضہ ریاست کی آزادی پاکستان اور آزاد کشمیر کی بقاء کے لئے ضروری ہے۔ مقررین گزشتہ روز جماعت اسلامی نے بارش اور سردی میں ریلی نکالی اور جلسہ کا انعقاد کیا کشمیری قوم سے اظہار یکجہتی کے لئے منعقدہ احتجاجی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے نائب امیر شیخ عقیل الرحمن،قاضی شاہد حمید،قاضی آفاق،عزیز احمد غزالی،نوراللہ قریشی ایڈووکیٹ و دیگر نے حکومت پاکستان کی کشمیر پالیسی کو مسترد کر تے ہوئے کہا کہ موجودہ جمہوری حکومت بھی جنرل پرویز مشرف کی پالیسی پر عمل پیرا ہے ۔تحریک آزادی کشمیر کے ساتھ غداری کرنے والوں کا انجام عبرت ناک ہوگا۔ پرویز مشرف نے کشمیریوں کی تحریک سے غداری کی جس کا انجام دنیا نے دیکھا اور اب پاکستان کے موجودہ حکمران مسئلہ کشمیر پر یو ٹرن لینے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار یوم یکجہتی کشمیر کے سلسلے میں باغ میں منعقدہ سیاسی و مذہبی جماعتوں کے زیر اہتمام یکجہتی کشمیر کا نفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ یکجہتی کشمیر کانفرنس سے جماعت اسلامی ضلع باغ کے امیر نثار احمد شائق ، پیپلز مسلم لیگ کے صدر سردار طاہر اکبر،جموں کشمیر پیپلزپارٹی کے صدر سردار لیاقت بیگ ،جماعت الدعوۃ کے حاجی افتخار ،ایس ڈی ایم باغ عدنان خورشید ،یونین آف جرنلسٹ آزاد کشمیر کے سابق صدر سردار طاہر حمد عباسی، پریس کلب باغ کے جنرل سیکرٹری راجہ جاوید اقبال ، حاجی افراہیم ، خان تنویر خان اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا ہے ۔مقررین نے کہا کہ بھارتی سرکار نے مقبوضہ کشمیر میں ظلم وستم کی انتہا کر دی ہے ۔ بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے ۔ عالمی برادی خود نوٹس لیں انہوں نے کہا کہ ہم شہداء کے خون کے ساتھ کسی کو غداری نہیں کرنے دیں گے اور نہ ہی کبھی کسی کو کشمیر کا سودا کرنے دیں گے ۔ حکومت پاکستان مسئلہ کشمیر پر دو ٹوک موقف اپنائے ۔ تقریب میں ایک قردار کے ذریعے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی عالمی برادری سے خود ہی نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ۔ ایک قراردار کے ذریعے اقوام متحدہ کی قرارداروں پر خودی عملدرآمد کرنے کا مطالبہ بھی کیا ۔ ایک قرار دار کے ذریعے بھارت کے ساتھ مکمل سفارتی اور معاشی تعلقات منقطع کرنے کا مطالبہ کیا ہے قرار دار کے ذریعے او آئی سی سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ مسئلہ کشمیر میں اپنا کردار ادا کرئے ۔ اور بھارت کا بائیکاٹ کرئے ۔ اس سے قبل جماعت اسلامی باغ کے زیر اہتمام آزادی مارچ بھی نکالا گیا اور انسانی زنجیر بنائی گئی ۔ ۔ پریس کلب باغ کے سامنے تصویر ی نمائش کا اہتمام کیا گیا۔یوم یکجہتی کشمیر کے معاملہ میں آزاد کشمیر یک تاریخی اور مرکزی مقام کوہالہ پل پر ایک بڑی تقریب منعقد ہوئی صبح نماز فجر میں مساجد میں قر آن خوانی کے بعد کشمیر کی آزادی کے لئے خصوصی دعائیں مانگی گئیں 9.55پر سائیرن بجائے گئے اور ایک منٹ کی مکمل خاموشی ہوئی ٹریفک رک گئی کوہالہ کی تقریب میں پاکستان کے چاروں صوبوں اور گلگت و بلتستان کے وزراء کرام نے اس تقریب میں شرکت کر کے کوہالہ پل پر ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر انسانی زنجیر بنا کر کشمیریوں کے ساتھ مکمل اظہار یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔میر پور ڈویژن میں یوم یکجہتی جموں و کشمیر بھر پور جوش و جذبے اور اس عزم کے ساتھ منایا گیا کہ جموں وکشمیر کے دونوں طرف کے عوام یک جان ہیں اور جموں وکشمیر کی آزادی اور اس کے پاکستان کے ساتھ مکمل الحاق تک جدوجہد جاری رہے گی یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر پاکستان اور آزادکشمیر کو ملانے والے منگلا پل پر انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنائی گئی جس میں پاکستان کی طرف سے تعلق رکھنے والے مسلم لیگ ن کے مرکزی راہنما اور رکن قومی اسمبلی راجہ محمد صفدر خان نے اپنے ساتھیوں سمیت شرکت کی۔ضلع کوٹلی میں یوم یکجہتی کشمیر پورے جوش و جذبہ اور ملی بیداری اور اس عہد کی تجدید کے ساتھ منایا گیا کہ جب تک مقبوضہ کشمیر بھارت کے چنگل سے آزاد ہو کر پاکستان کا حصہ نہیں بن جاتا اس وقت کشمیری چین سے نہیں بیٹھیں گے کشمیریوں اور پاکستان یک جان و قلب ہیں انہیں دنیا کی کوئی طاقت ایک دوسرے سے جدا نہیں کر سکتی یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر ضلع کی مساجد میں شہداء کشمیر ،تحریک آزادی کشمیر ،پاکستان کی سلامتی دفاع، دہشت گردی کے خاتمے ،ملک میں امن و امان کی صورت حال بہتر بنانے اور تحریک آزادی کشمیر کی جلد کامیابی کے لئے خصوصی دعائیں کی گئیں

Tags: پاکستان , کشمیر

مسئلہ کشمیر پرامن مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی بھارت سے امید وابستہ کرنا عبث ہے ‘ قاضی حسین احمد

February 5th, 2010 · No Comments

اسلام آباد ‘سابق امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد نے کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ یہ امید وابستہ کرنا عبث ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر پرامن مذاکرات کے ذریعے حل کرے گا ۔ ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ نصف صدی سے زائد عرصے سے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے متعدد کوششیں کی گئیں اور بارہا مذاکرات ہوئے لیکن تمام بے سود رہے ۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ بھارت پر واضح کر دیا جائے کہ اس دیرینہ مسئلے کے حل کے لئے ایک آپشن مسلح جدوجہد بھی ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ کشمیریوں کی جدوجہد ضرور رنگ لائے گی کیونکہ کوئی ایسا کشمیری گھرانہ نہیں کہ جس نے کشمیر کی آزادی کے لئے قربانیاں نہ دی ہوں ۔ اس لئے کشمیری اس جدوجہد سے الگ نہیں ہو سکتے اور نہ ہی بھارت کا تسلط قبول کر سکتے ہیں ۔ قاضی حسین احمد نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا حل جتنا کشمیریوں کے لئے ضروری ہے اتنا ہی پاکستان اور بھارت کے لئے بھی مفید ہے ۔ انہوں نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیریوں کی مرضی اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق کشمیریوں کو حق خودرادیت دے ۔

Tags: پاکستان , کشمیر

مسئلہ کشمیر کا پرامن حل پورے خطے کے مفاد میں ہے ‘ سردار عبدالقیوم

February 5th, 2010 · No Comments

اسلام آباد ‘ آزاد کشمیر کے سابق وزیر اعظم سردار عبدالقیوم نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا پرامن حل پورے خطے کے مفاد میں ہے ۔ جمعہ کو ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کشمیر کے محل و وقوع کی وجہ سے کشمیریوں کی تحریک آزادی عام آزادی کی تحریکوں سے بہت مختلف ہے ۔ کیونکہ چین ‘ بھارت ‘ پاکستان اور ایران کسی نا کسی طرح کشمیر سے تعلق رکھنا چاہتے ہیں ۔ دوسرے الفاظ میں پورے خطے کا مفاد مسئلہ کشمیر کے حل کے ساتھ وابستہ ہے ۔ سردار عبدالقیوم نے کہا کہ جس وقت تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوتا پورے خطے میں امن و استحکام اور خوشحالی نہیں آ سکتی ۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ بھارت کی پوری خواہش اور کوشش ہے کہ اس مسئلے کو منجمد کر دیا جائے لیکن بھارت اس میں کامیاب ہوا ہے اور نہ ہو گا ۔ تحریک آزادی کشمیر کا دباؤ موجود ہے اور مسئلے کے حل تک یہ جاری رہے گا

Tags: پاکستان , کشمیر