اسلام آباد‘ آج پاکستانی قوم کشمیری بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کا دن منارہی ہے۔ نائن الیون کے بعد اس خطے میں دہشت گردی کے خلاف شروع کی گئی جنگ کے دوران کشمیر میں آزادی کی تحریک متاثر ہوئی۔ امریکا میں سانحہ نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن اسٹیٹ کا کردار ادا کرنے والے پاکستان کو جہاں کئی دیگر معاملات پر سخت نقصان اٹھانا پڑا وہاں کشمیر کی وہ تحریک آزادی بھی بری طرح متاثر ہوئی جس کے ساتھ پاکستانی عوام کی ایک خاص نظریاتی وابستگی تھی۔ امریکا نے بظاہر نائن الیون کے واقعے پر افغانستان کی سرزمین کو موردالزام ٹھہرایا لیکن دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں ان تمام پاکستانی تنظیموں کو بھی شامل کردیا جو کشمیر میں بھارتی جارحیت کے خلاف سرگرم تھیں۔مبصرین کا کہنا ہے کہ حکومت پاکستان کا کشمیر ایشو کو پس پشت ڈالنے سے کشمیری قوم کو مایوسی ہوئی ہے۔کشمیر کے لئے کام کرنے والی کچھ تنظیمیں کالعدم ہوگئیں جبکہ مذہبی جماعتوں نے نائن الیون کے بعد اپنے آپ کو تحریک آزادی کشمیر کیلئے صرف بیانات تک محدود کردیا۔ مذہبی جماعتوں کے رہنما بھی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکا کا ساتھ دینے والے حکمرانوں کی وجہ سے یہ تحریک متاثر ہوئی ہے۔پانچ فروری کو یوم یکجہتی کشمیر پرجوش انداز میں منانے سے مقبوضہ کشمیر کے بھائیوں کو جتنی خوشی ہوتی ہے، وہاں اگلے ہی روز اس ایشو کو دوبارہ سردخانے میں ڈال دینے پر انہیں اتنی ہی مایوسی ہوتی ہے۔
Entries Tagged as 'کشمیر'
پاکستانی قوم کشمیری بھائیوں کے ساتھ آج اظہار یکجہتی کا دن منارہی ہے
February 5th, 2010 · No Comments
سری نگر میں غیر اعلانیہ کرفیو کے نفاذ کا فیصلہ
February 4th, 2010 · No Comments
پویس اور مجاہدین میں جھڑپیں، 3 بھارتی فوجی ، 13 پولیس اہلکاروں سمیت 55 افراد زخمی
سری نگر‘ ڈویڑنل انتظامیہ نے دوسرے روز بھی صورتحال مخدوش ہونے کے نتیجے میں جمعرات کوشہرسرینگرمیںغیر اعلانیہ کرفیو کا نفاذ عمل میں لانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ڈویڑنل کمشنر کی صدارت میں اعلیٰ پولیس اور سول افسران کی ایک میٹنگ بدھ کی شام منعقد ہوئی جس میں سرینگر کے حالات اورجمعرات کو وامق فاروق کے چہارم کے موقع پر عیدگاہ میں حریت پسندوں کی طرف سے دیئے گئے پروگرام پر سیرحاصل بحث کی گئی۔ میٹنگ میں پورے شہر میںگذشتہ دو دنوں سے پتھرا? اور احتجاجی مظاہروں کے بارے میں تبادلہ خیال کیاگیا اور یہ طے پایا گیا کہ جمعرات کو سرینگر میں 9پولیس تھانوں کے حدود میںآنے والے علاقوں میں سختی سے رکاوٹیں ڈالی جائیں گی اور ان تمام علاقوں میں غیر اعلانیہ کرفیو کا نفاذ ہوگا۔جمعرات کو ہی ڈائریکٹر جنرل پولیس سرینگر کے دورے پر آرہے ہیں جسکے بعد مزید لائحہ عمل کے بارے میں گفت و شنید ہوگی۔ معلوم ہوا ہے کہ پاکستان کی طرف سے جمعہ کو یوم یکجہتی کشمیر کے سلسلے میں حریت پسندوں کی جانب سے دیئے گئے پروگراموں پر بھی تبادلہ خیال ہوا جسکے بعد جمعرات سے ہی شہر میں رکاوٹیں اور ناکہ بندیاں کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔اس دوران وادی میںکل تیسرے روز بھی مکمل ہڑتال رہی جبکہ پائین شہراورسول لائنز علاقوں کے علاوہ دیگر کئی مقامات پرپرتشدد مظاہروں کا سلسلہ بھی جاری رہا جسکے دوران دو نو عمر طالب علم براہ راست ٹیرگیس شل لگنے سے شدید طور پر زخمی ہوئے جنکی حالت نازک قرار دی جارہی ہے۔ اس دوران شہر میں جھڑپوں کے دوران 3فوجی اور13پولیس اہلکاروںسمیت 35افراد زخمی ہوئے۔ جبکہ ڈائریکٹر ایگریکلچرکی گاڑی کو چکناچور کر دیاگیااور وہ بال بال بچ گئے تاہم اْنکے ڈرائیورکوشدید چوٹیں آئیں۔ گزشتہ روز پائین شہر میں بھارتی فوج اور پولیس نے سخت ترین ناکہ بندی کی تھی اور کسی بھی شخص کو گھر سے باہر آنے کی اجازت نہیں دی۔اس دوران شہر کے مختلف مقامات پر نوجوان سڑکوں پر نکل آئے جس کے بعدپرتشدد مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا۔ بعد دوپہر رسگری محلہ نوہٹہ میں ہائی لینڈ ہائی سکول میں زیر تعلیم دسویں جماعت کے طالب علم شبیر احمد خان ولد خورشید احمد ساکن پاندان نوہٹہ کے سر میں ٹیرگیس شل لگ گیا جسکے نتیجے میں وہ شدید طور پر زخمی ہوا اور اْسے نازک حالت میں صورہ منتقل کیاگیاجہاں اْس کی حالت تشویشناک قرار دی جارہی ہے۔شبیر احمد کے سر میں فریکچرہوگیا ہے اورڈاکٹروں نے اس کی حالت نازک قرار دی ہے۔اس کاآپریشن کیاگیاتاہم اس کی حالت نازک ہونے کی وجہ سے اْسے سرجیکل آئی سی یو میں وینٹی لیٹر پررکھاگیا ہے۔ اس دوران کل صبح گیارہ بجے ایل بانووننٹ میموریل سکول میں زیر تعلیم نویں جماعت کے طالب علم باسط رشیدولد عبد الرشید بٹ کے پیٹ میں اْس وقت ٹیرگیس شل لگا اور وہ شدید طور پر زخمی ہوا جب نواکدل کے نزدیک بچے کرکٹ کھیل رہے تھے اور اس دوران بھارتی فوجی اہلکاراحتجاجی مظاہرین کا پیچھا کرتے ہوئے وہاں پہنچ گئے اور اْنہوں نے شلنگ کی۔ باسط رشید کے چچیرے بھائی مدثر احمد نے صحافیوں کوبتایا کہ باسط شدید طور پر زخمی ہوکر بیہوش ہوگیا اور اْسے فوری طور پر صدر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں آپریشن کے دوران اس کی تلی نکالی گئی۔ان دونوں طلباء کی حالت بدستور نازک بنی ہوئی ہے۔ اس دوران ٹینگہ پورہ بائی پاس پرمظاہرین نے ڈائریکٹر ایگریکلچرکی گاڑی زیر نمبرJK01L/8788 کوپتھراؤ کی زد میں لایاجسکے نتیجے میں اسے شدید نقصان پہنچا تاہم ڈائریکٹر میاں عبد المجید اگرچہ بال بال بچ گئے البتہ ان کا ڈرائیور شدید طور پر زخمی ہوا۔اْدھر وانہ بل راولپورہ میں مشتعل مظاہرین نے فوج کی ایک گاڑی پر شدید پتھراؤ کیا جسکے نتیجے میں گاڑی کو نقصان پہنچا اور اس میں سوار تین فوجی اہلکاروں کو چوٹیں آئیں
Tags: کشمیر
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں کشمیر پالیسی طے کی جائے کشمیری قیادت کا حکومت پاکستان سے مطالبہ
February 3rd, 2010 · No Comments
کشمیری قیادت کا اتحاد ویکجہتی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ۔ ۔ ۔ سید منور حسن
اہل کشمیر بھارت کے تمام تر مذموم حربوں کے باوجود اپنے اصولی موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں
بھارت کا جمہوری دعویٰ بے بنیاد ہے بھارت میں تین درجن سے زائد علیحدگی کی تحرکیں چل رہی ہیں
جماعت اسلامی کے زیر اہتمام خصوصی تقریب سے امیر جماعت اسلامی پاکستان ، صدر ، وزیراعظم و سپیکر آزادکشمیر ، عبدالرشید ترابی و دیگر رہنماؤں کا خطاب
اسلام آباد ‘ کشمیری قیادت نے حکومت پاکستان اور سیاسی جماعتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں کشمیر پالیسی طے کی جائے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی کمزوری کے نتیجے میں شیخ عبداللہ بھارت سے معاہدہ کرنے پر مجبور ہوئے تھے اب پاکستان جارحانہ کشمیر پالیسی اپنائے ۔ ان خیالات کا اظہار کشمیری قیادت نے جماعت اسلامی کے زیر اہتمام پانچ فروری یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے خصوصی تقریب میں کیا تقریب کی صدارت امیر جماعت اسلامی پاکستان سید منور حسن نے کی۔ آزادکشمیر کے صدر راجہ زوالقرنین ، وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان ، سپیکر قانون ساز اسمبلی شاہ غلام قادر ، جماعت اسلامی آزادکشمیر کے امیر عبدالرشید ترابی ، تحریک حریت کے کنونیئر غلام محمد صفی ، گلگت بلتستان نیشنل الائنس کے چیئرمین عنایت اللہ شمالی، لبریشن فرنٹ کے چیئرمین امان اللہ خان نے بھی خطاب کیا ۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی پاکستان سید منور حسن نے کہا ہے کہ کشمیری قیادت کا اتحاد ویکجہتی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے اہل کشمیر بھارت کے تمام تر مِذموم حربوں کے باوجود اپنے اصولی موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں بھارتی ظلم و جبر کشمیریوں کی تحریک آزادی کو ختم نہیں کر سکتے پوری پاکستانی ملت کشمیریوں کی پشت پر ہے انشاء اللہ وہ وقت قریب ہے جب وہ اپنی منزل حاصل کر کے رہیں گے سید منور حسن نے کہاکہ کشمیریوں نے بھارت کی طرف سے تمام تر مظالم کو برداشت کیا ہے اور کسی مرحلے پر بھی ان کی آواز دبی ہے نہ ہی ان کے قدم ڈگمگائے ہیں انہوں نے کہاکہ کشمیری پر عزم ہیں وہ چودہ اگست یوم پاکستان ہو یا پانچ فروری یوم یکجہتی کشمیر ہر موقع پر پورے عزم کے ساتھ میدان سے نکلتے ہیں احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں نکالتے ہیں ان کی زبانوں پر آزادی کے نعرے ہوتے ہیں پاکستان کامطلب کیا لاالہ الا اللہ کے نعرے ہوتے ہیں انہوں نے کہا کہ کشمیری نوجوانوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر کے آزادی کی تحریک زندہ رکھی ہوئی ہے انہوں نے کہاکہ چین نے حال ہی میں کشمیر کے حوالے سے جو موقف اختیار کیا ہے بھارت کی رات کی نیندیں حرام ہو چکی ہیں چین کا کشمیر بارے موقف قابل تحسین ہے پاکستان آگے بڑھ کر چین کا خیر مقدم کرے اور اس موقف کو آگے بڑھایا جائے انہوں نے کہاکہ بھارت کا جمہوری دعویٰ بے بنیاد ہے بھارت میں تین درجن سے زائد علیحدگی کی تحرکیں چل رہی ہیں بھارت کا جمہوری دعویٰ جھوٹ کا پلندہ ہے انہوں نے کہاکہ کشمیری عوام کی تحریک آزادی مبنی برحق ہے کشمیری بہت جلد آزادی کی منزل کو حاصل کر کے رہیں گے انہوں نے کہاکہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں بنیادی انسانی حقوق بری طرح پامال کر رہا ہے کشمیریوں کو زیر حراست شہید کیا جارہا ہے آٹھ لاکھ سے زائد بھارتی فوج معصوم کشمیریوں کے قتل عام میں مصروف ہیں لیکن کشمیری تمام تر مظالم سہتے ہوئے آزادی کی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں انہوں نے کہاکہ کشمیری ہماری جنگ لڑ رہے ہیں ہم کشمیریوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے ہر سطح پر کشمیریوں کی پشتی بانی جاری رہے گی ۔ صدر آزادکشمیر راجہ محمد ذوالقرنین خان نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی پاکستان کی طرف سے کشمیری بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی پر ہم تہہ دل سے شکر گزار ہیں قوموں کی زندگی میں تحریکیں لمبی ہوسکتی ہیں لیکن دشمن کی سازشوں کو ناکام بنانے کیلئے اتحاد و یکجہتی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے کشمیریوں پر مظالم کی داستان بڑی طویل ہے کشمیری قوم 1931ء سے ظلم سہہ رہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ کشمیر کا مسئلہ برطانیہ کا پیدا کردہ ہے ظلم کی داستان بڑی طویل ہے کشمیری عوام بھارت کے تمام تر ظلم سہنے کے بعد بھی ڈٹے ہوئے ہیں کشمیریوں کی تحریک سالمیت پاکستان اور استحکام پاکستان کی تحریک ہے پاکستانی قوم کشمیریوں کی پشتی بانی جاری رکھے انشاء اللہ وہ وقت قریب ہے جب کشمیری اپنے مقصد میں کامیاب ہوں گے انہوںنے کہاکہ تحریک آزادی کشمیر میں جماعت اسلامی کا انتہائی کلیدی کردار ہے دیگر جماعتیں جماعت اسلامی کی تقلید کریں عصرانے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم آزادکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا کہ ہم جماعت اسلامی پاکستان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اوران کے مشکور ہیں کہ 1988ء سے کشمریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کا دن منایا جارہا ہے بنیادی طورپر یوم یکجہتی کشمیر کی کال جماعت اسلامی پاکستان نے دی تھی جس کی بعد میں حکومت پاکستان نے تقلید کی ہے جس پر ہم جماعت اسلامی کے مشکور ہیں۔راجہ فاروق حیدر خان نے کہا کہ جماعت اسلامی کا تحریک آزادی کشمیر میں نمایاں کردار ہے جس سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا انہوں نے کہاکہ پاکستان پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلا کر کشمیر پر پالیسی واضح کی جائے اوربتایا جائے کہ مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی روشنی میں ہے انہوں نے کہاکہ حکومت آزادکشمیر کشمیر پالیسی کو کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق لے کر چل رہی ہے تحریک آزادی کشمیر کے حوالے سے ہی آزاد خطہ کا یہ سیٹ اپ موجود ہے جس کا میں وزیراعظم اور راجہ ذوالقرنین صدر ہیں حکومت آزادکشمیر ایک لمحہ بھی تحریک آزادی کشمیر سے صرف نظر نہیں کر سکتی انہوں نے کہاکہ حریت کانفرنس سمیت تمام تنظیمیں او رجماعتیں اتحاد ویکجہتی کا مظاہرہ کریں اتحاد ویکجہتی سے بھی ہم آزادی کی منزل تک پہنچ سکتے ہیں پاکستان کو قائم رکھنے کیلئے شہ رگ کو دشمن کے شکنجے سے چھڑانے کی ضرورت ہے بھارت نے آبی جارحیت شروع کر رکھی ہے پاکستان کو بہنے والے دریاخشک ہو چکے ہیں حکومت پاکستان اور پاکستانی قوم بیداری کا مظاہرہ کرے انہوں نے جماعت اسلامی پاکستان کا شکریہ ادا کیا جس نے کشمیری قیادت کو ایک اہم مرحلے پر یکجا کیا ہے عصرانے سے خطاب کرتے ہوئے سپیکر آزاد جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی شاہ غلام قادر نے کہاکہ جس طرح پانچ فروری کو پاکستانی عوام کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کا دن مناتے ہیں کشمیری بھی پانچ فروری کو پاکستان سے اظہار یکجہتی کا دن منائیں تاکہ اس کے اثرات گہرے ہوں ۔ امیر جماعت اسلامی آزاد جموں وکشمیر عبدالرشید ترابی نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ جماعت اسلامی پاکستان کا تحریک آزادی کشمیر میں گرانقدر کردار ہے جماعت اسلامی نے اہل کشمیر سے ہر سطح پر اظہار یکجہتی کیا ہے اندرونی ملک اور بیرون ملک جماعت اسلامی نے گزشتہ بیس سال سے اہل کشمیر کی پشتی بانی کر رہی ہے جس کے لئے کشمیری قوم پاکستانی عوام او رجماعت اسلامی پاکستان کی مشکور ہے انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی نے ہر مرحلے پر مقبوضہ کشمیر کے مظلوم و محکوم بھائیوں کو یاد رکھاہے او رپوری پاکستان قوم کو تحریک آزادی کشمیر کی پشت پر کھڑا کیا ہے ۔ تحریک حریت کے کنونیئر غلام محمد صفی نے مسئلہ کشمیر کے سلسلے میں سلف رول جوائنٹ میکنزم اور ایسے دوسرے فارمولوں کو مسترد کرتے ہوئے کہاکہ کشمیر کی تحریک پر کوئی کمپرومائز نہیں کیا جائے گا حکومت پاکستان جارحانہ کشمیر پالیسی اپنائے ۔تقریب سے جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر کے شعبہ خارجہ امور کے سربراہ مولانا غلام نبی نوشہری ، حریت کانفرنس کے رہنما فاروق رحمانی ، جمعیت علماء جموں وکشمیر کے سربراہ پیر عتیق الرحمن ، جموں وکشمیر جمعیت اسلام کے نائب صدر مولانا نذیر فاروق ، صدر آزادکشمیر کے مشیر ڈاکٹر زیڈ یو خان ، سابق صدر آزادکشمیر میجر جنرل (ر) سردار انور، ممبران گلگت بلتستان کونسل حاجی گل بیر خان ، مولانا انور رکن الدین ، شیخ یعقوب ، رفیق ڈار اور دوسری شخصیات نے ھی خطاب کیا
مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف ہمہ گیر ہڑتال سے کاروبار زندگی معطل ہو کر رہ گیا
February 3rd, 2010 · No Comments
سری نگر‘ کل جماعتی حریت کانفرنس کی اپیل پر مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف ہمہ گیر ہڑتال سے کاروبار زندگی معطل ہو کر رہ گیا۔ گزشتہ روز سری نگر رعناواری کے ساتویں جماعت کے طالب علم وامق فاروق کی پولیس ٹیرگیس شل سے شہادت کے خلاف ہڑتال کے دوران پوری وادی میں دن بھرپرتشدداحتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا جس کے دوران 70سے زائد افراد زخمی ہوئے جن میں پولیس افسیرسمیت پولیس و سی آر پی ایف کے دو درجن سے زائد اہلکار اور ڈی سی آفس شوپیان کے 3ملازمین بھی شامل ہیں۔زخمیوں میں6نوجوان ربڑ کی گولیاں لگنے سے مضروب ہوئے۔رعناواری میں نوعمر طالب علم کی ہلاکت کے خلاف ہزاروں کی تعداد لوگوں نے آزادی کے حق میں نعرے بازی کی اوروہ اس اے ایس آئی کیخلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے جسے ٹیرگیس شل چلانے پرپولیس نے معطل کردیا ہے۔رعناواری میں پولیس نے درجنوں بار مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے گولے پھینکے جس کے دوران 6 افراد زخمی ہوئے۔ شہر سرینگر میں نوہٹہ، گوجوارہ، راجوری کدل، صفا کدل، کاوڈارہ، نالہ مار روڈ، 90فٹ روڈ صورہ،بٹہ مالو ،مائسمہ ،بمنہ ، رام باغ ،برزلہ ،نٹی پورہ ، پارمپورہ ،حول کے علاوہ دیگر کئی مقامات اوروادی کے تمام ضلع صدر مقامات پر دن بھر پتھراؤ کرنیوالے مظاہرین سی آر پی ایف اور پولیس کے خلاف مورچہ زن رہے۔ وامق فاروق ساکن رعنا واری سرینگر کی ہلاکت کے خلاف حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں کی کال پر گزشتہ روز وادی بھر میں مکمل ہڑتال سے معمول کی زندگی درہم برہم ہو کر رہ گئی ۔ تمام دکانیں ،کاروباری ادارے اور دفاتر وغیرہ مکمل طور پر بند رہے اور گاڑیوں کی نقل و حرکت ٹھپ ہو کر رہ گئی۔شہر سرینگر میں ہڑتال کی وجہ سے سڑکوں اور بازاروں میں ہو کا عالم تھا اور وادی کے دیگر اضلاع و قصبہ جات میں بھی اسی طرح کی صورتحال دیکھنے کو ملی ۔شہر میں ممکنہ احتجاجی مظاہروں کو روکنے کیلئے دفعہ 144 کے نفاذ کے بیچ دوران شب ہی پائین شہر کے حساس علاقوں میں پولیس اور سی آر پی ایف کے اضافی دستوں کی تعیناتی عمل میں لائی گئی تھی اور کئی ایک مقامات پر سڑکوں پر خار دار تار لگا کر لوگوں کی نقل و حرکت محدود کر کے رکھی گئی ۔ اس دوران رعناواری نوہٹہ روڑ اور اندرون شہر کے کچھ دیگر علاقوں میں اہم سڑکوں اور چوراہوں پر رکاؤٹیں کھڑی کی گئی تھیں اور کسی بھی جگہ ایک سے زیادہ افراد کو جمع ہونے کی اجازت نہیں دی گئی ۔اس صورتحال کی وجہ سے پائین شہر میں کرفیو جیسی صورتحال نظر آئی تاہم اس کے باوجود نوجوانوں نے سڑکوں پر آکر معصوم طالب علم کی ہلاکت کے خلاف احتجاج کیا اور ٹائر جلانے کے ساتھ ساتھ سڑکوں پر پتھر رکھ کر گاڑیوں کی آمد و رفت کو نا ممکن بنایا ۔رعنا واری علاقہ میں اگر چہ سخت ترین ناکہ بندی کے بیچ صورتحال پر امن رہی تاہم شہر میں شدید ترین جھڑپیں گوجوارہ علاقہ میں ہوئی جہاں صبح سے ہی نقاب پوش نوجوانوں کی ٹولیاں مین چوک گوجوارہ میں نمودار ہوئیں اوراسلام و آزادی کے حق میںنعرے بازی کرتے ہوئے وہاں پہلے سے موجود پولیس اور سی آر پی ایف اہلکاروں پر سنگباری شروع کی۔جوابی کارروائی میں پولیس نے حسب روایت تشدد پر آمادہ مظاہرین کو تتر بتر کرنے کیلئے لاٹھی چارج کا سہارا لیا اور ٹیر گیس کے درجنوں گولے داغے ۔تاہم اس موقعہ پر پتھراؤ کر رہے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نے جب سی آر پی ایف کی کئی بکتر بند گاڑیوں کو گھیرے میں لیکر ان پر دھاوا بولنے کی کوشش کی اور زبردست پتھراؤ کیا تو پولیس و سی آر پی ایف اہلکاروں نے مشتعل ہجوم کو قابو کرنے کیلئے زبردست ہوائی فائرنگ کی جس کے نتیجے میں وہاں افرا تفری پھیل گئی ۔دوپہر کے بعد جب جھڑپوں میں شدت پیدا ہوئی تو پولیس نے مشتعل بھیڑ کو قابو کرنے کیلئے ربڑ کی گولیاں چلائیں جنکی زد میں آکر6نوجوان زخمی ہوئے اور انہیں فوری طور پر صورہ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ میں داخل کیا گیا۔پائین شہر کے مائسمہ علاقہ میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ صبح سے ہی جاری تھا جس کے دوران پولیس نے اشک آور گیس کے گولے پھینکے اور ہوائی فائرنگ کی
Tags: کشمیر
دنیا بھر کے کشمیری بھارتی یوم جمہوریہ کو یوم سیاہ کے طور منارہے ہیں
January 26th, 2010 · No Comments
بھارت کشمیریوں پر مظالم بند کرے ، اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق کشمیریوں کو حق خود ادادیت دیا جائے ، احتجاجی ریلیوں سے مقررین کا خطاب
میرپور ۔ دنیا بھر کے کشمیری بھارت کے یوم جمہوریہ کو یوم سیاہ کے طور پر منارہے ہیں۔ آزاد کشمیر کے تمام اضلاع میں کشمیریوں نے احتجاجی ریلیاں نکالی ، جلسے منعقد کئے ۔ بھارت کشمیریوں پر مظالم ترک کر کے انہیں اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حق خود ارادیت دے ۔ مقررین کا مطالبہ تفصیلات کے مطابق بھارتی یوم جمہوریہ کے موقع پر سرکاری ملازمین کی تنظیموں اپیکا ،تنظیم غیر جریدہ ، تنظیم غیرجریدہ ملازمین ، ایمپلائز یونین ، تعلیمی بورڈ ، یونین آف جرنلسٹس ، انسانی حقوق کی تنظیموں و دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے احتجاجی جلوس نکالے تمام احتجاجی جلوس چوک شہیداں میں پہنچ کر زبردست نعرہ بازی کر رہے تھے ۔ ظلم و ستم ہائے ہائے ، غنڈہ گری ہائے ہائے ۔ ہم نہیں مانتے ظلم کے ضابطے ، اقوام متحدہ کشمیریوں کو حق خود ارادیت دلوائے اس موقع پر تنظیم غیر جریدہ ملازمین ضلع میرپور کے صدر چوہدری گلزار علی ، اپیکا ضلع میرپور کے صدر چوہدری محمد عظیم ، جنرل سیکرٹری محمد اکرم مغل ، تنظیم غیر جریدہ ملازمین کے مرکزی راہنما سید قیصر شیراز کاظمی ، فنی ملازمین کے صدر قیصر بٹ ، سیکرٹری سردار معروف خان ، تنظیم غیر جریدہ کے مرکزی نائب صدر ملک محمد طارق ، اپیکا کے سینئر نائب صدر محمد ایوب جرال ، یونین آف جرنلسٹس ضلع میرپور کے صدر سید قمر حیات ، انجمن تاجراں کے شوکت چوہدری نے خطاب کیا ۔ انہوںنے کہا کہ بھارت دہشت گرد ملک ہے ۔ بھارت کی 8 لاکھ سے زائدفورسز کی جانب سے کشمیریوں پر مظالم کی انتہا کی جار ہی ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں آج بھی سینکڑوں کشمیریوں کی نعشیں اجتماعی قبروں سے برآمد ہو رہی ہیں ۔ عالمی برادری کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی پاس کردہ قرار دادوںکے مطابق حق خود ارادیت دلوائے تاکہ جنوبی ایشیاء میں قیام امن ممکن ہو سکے ۔
تفصیل
سیز فائر لائن کے دونوں طرف اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری بھارتی یوم جمہوریہ یوم سیاہ کے طور پر منارہے ہیں
احتجاجی ریلیاں ، جلسے جلوس منعقد کئے گئے ، مقبوضہ کشمیر میں مکمل ہڑتال رہی
بھارت کو یوم جمہوریہ منانے کا کوئی حق نہیں ، بھارت کشمیریوں سے کئے گئے وعدے پورے کرے
کشمیریوں کو ان کا پیدائشی حق حق خود ارادیت دیا جائے ، سید علی گیلانی
سری نگر+ مظفر آباد ‘ سیز فائر لائن کے دونوں طرف اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری بھارتی یوم جمہوریہ یوم سیاہ کے طور پر منارہے ہیں ۔ آج مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چےئرمین سید علی گیلانی کی اپیل پر مکمل ہڑتال کی گئی اور یوم سیاہ منایا گیا ۔ اس موقع پر مقبوضہ کشمیر کے تمام ضلعی ہیڈ کوارٹرز پر جلسے جلوس اور ریلیاں منعقد کی گئیں جن سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کی مذمت کی اورکہا کہ بھارت کے جمہوری دعوے بے بنیاد ہیں۔بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک کیا جا رہا ہے اور انسانی حقوق کی پامالیاں کی جا رہی ہے ۔ دریں اثناء کل جماعتی حریت کانفرنس کے چےئرمین سید علی گیلانی نے کہا کہ بھارت کو یوم جمہوریہ منانے کا کوئی حق نہیں ہے۔ اس لیے کہ بھارت میں آباد اقلیتیں غیر محفوظ ہیں۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں بنیادی انسانی حقوق کا جنازہ نکال چکا ہے انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو زیر حراست شہید کیا جا رہا ہے ۔ ظلم و جبر کا بازار گرم ہے۔ انہوںنے کہا کہ بھارت ہٹ دھرمی کے رویے پر قائم ہے ۔ بھارتی ہٹ دھرمی سے مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کو حق آزادی نہیں مل سکا ۔ سید علی گیلانی نے کہا کہ کشمیریوں کی تحریک آزادی مبنی برحق ہے۔ بھارت کشمیریو ںسے کئے گئے وعدے پورے کرے ۔ اقوام متحدہ کشمیر سے متعلق اپنی قرار دادوں کو عملی جامہ پہنائے ۔ دوسری جانب آزاد کشمیر میں بھی بھارتی یوم جمہوریہ کو یوم سیاہ کے طور پر منایا گیا ۔ آزاد کشمیر کے تمام ضلعی ہیڈ کوارٹرز پر احتجاجی ریلیاں اور جلسے منعقد کئے گئے ۔ دارالحکومت مظفر آباد میں آزاد کشمیر کی سیاسی جماعتوںاور حریت کانفرنس کے زیر اہتمام ایک احتجاجی ریلیاں اور جلوس نکالے گئے ۔ جن سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ بھارت کے جمہوری دعوے جھوٹ کا پلندہ ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں معصوم کشمیریوں کا قتل عام بھارت کے جمہوری چہرے پر بدنما داغ ہے۔ مقررین نے کہا کہ اقوام عالم کو چاہیے کہ وہ بھارتی ہٹ دھرمی کا نوٹس لے اور کشمیریوں کی رائے کی روشنی میں انہیں حق خود ارادیت دیا جائے
Tags: کشمیر
حکومت پاکستان تحریک آزادی سے دستبردار ہو چکی ہے ۔جموں وکشمیر لبریشن کے صدر جسٹس(ر)عبدالمجید ملک
January 18th, 2010 · No Comments
مظفر آباد۔ جموںو کشمیر لبریشن لیگ کے صدر جسٹس(ر) عبدالمجید ملک نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان تحریک آزادی سے دستبردار ہو چکی ہے تنازعہ کشمیر کا تعلق پانیوں سے جوڑنا المیہ ہے وزیراعظم آزادکشمیر سلامتی کونسل میں جا کر اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کا مقدمہ پیش کریں حکومت پاکستان تنازعہ کشمیر کو چین لیبیا جیسے دوستوں کی حمایت سے از سر نو عالمی برادری کے سامنے اٹھائے آزادخطہ سے کرپشن ، اقربا پروری کا خاتمہ کرکے میرٹ پر لوگوں کو روزگار فراہم کیا جائے ان خیالات کا اظہار انہوں نے سنٹرل پریس کلب میں پریس کانفرنس سیخطاب کرتے ہوئے کیا ان کے ہمراہ میر عبدالطیف ایڈووکیٹ و دیگر بھی موجود تھے۔ عبدالمجید ملک نے کہا کہ قائد اعظم اور لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد تنازعہ کشمیر کو بیورو کریسی اور نوکر شاہی ن ے برباد کردیا انہوں نے ریاست جموں وکشمیر کی حیثیت کو کم تر کرتے ہوئے علاقائی تنازعہ بنا دیا ہے ریاست جموںو کشمیر کا بھارت سے الحاق مشروط ہے جنرل ایوب خان نے دریائے راوی پر بھارت کا حق ملکیت تسلیم کرکے تقسیم کشمیر کی عملی بنیاد رکھی پاکستان کے حکمرانوں نے بھارت کو بڑا ملک سمجھتے ہوئے ریاست جموں وکشمیر سے عملا پسپائی اختیار کر رکھی ہے تاہم پاکستان کی عوام کا چہرہ روشن ہے وہ تحریک آزادی کے لیے آج بھی پرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست جموں وکشمیر ایکو حدت ہے دنیا اس امر پر متفق ہو چکی ہے کہ اس تنازعہ کو حل ہونا چاہیے چین دنیا کا واحد ملک ہے جو کشمیریوں کو بھارت کا حصہ نہیں سمجھتا چین نے جو علیحدہ ویزے کے اجراء کی پالیسی اختیار کی ہے حکومت پاکستان سمیت تمام دوست ممالک اس کی تقلید کریں انہوں نے کہا کہ آزاد حکومت ریاست جموںو کشمیر کی نمائندہ حکومت کا کردار ادا کرے اور اپنا مقدمہ خود لڑے وزیراعظم نے ایکٹ 1974 ء میں ترامیم کے لیے جو موقف اختیار کیا ہے لبریشن لیگ اسے سراہتی ہے اور ان سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ سلامتی کونسل میں جا کر اقوام متحدہ کو اپنی ہی منظور کردہ قراردادوں پرعملدرآمد کے لیے تیار کرے انہوں نے کہا کہ آزادکشمیر میں میرٹ کی پامالی اور اقرباپروری عروج پر ہے آزادخلہ میں گڈ گورنس کا کوئی تصور موجود نہیں انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان گلگت بلتستان کو اس وقت تک اپنا صوبہ قرار نہیں دے سکتی جب تک مملکت پاکستان کے آئین میں ترمیم نہیں ہو جاتیں اور انہیں سینٹ میں 25 سیٹیں نہیں ملتیں
آزادکشمیر کی حکمران جماعت نے راولپنڈی کی نشست پر مسلم لیگ(ن) کی حمایت کا اعلان کردیا
January 15th, 2010 · No Comments
اسلام آباد۔ آزادکشمیرکی حکمران جماعت مسلم کانفرنس نے راولپنڈی کے ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ کے نامزد امیدوار کی حمایت کا اعلان کردیا ہے ۔جبکہ آزادجموںوکشمیر قانون سازاسمبلی کے حلقہ ایل اے 40وادی 5کے ضمنی انتخاب کے پروگراموں کوحتمی شکل دے دی ہے اور اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ مسلم کانفرنس ضمنی انتخاب بھاری اکثریت سے جیت جائے گی۔وزیراعظم راجہ محمدفاروق حیدر خان اور مسلم کانفرنس کے صدرسردار عتیق احمد خان نے کارکنوںسے اپیل کی ہے کہ وہ احمد رضا قادری کو کامیاب کرانے کے لیے بھرپور کردار اداکریں۔راولپنڈی کا ضمنی انتخاب2011کے عام انتخابات کی کامیابی کے لیے سنگ میل ثابت ہوگا۔کارکن پرانے اختلافات کو بھول جائیں۔ہم سب کو مل کرالیکشن لڑناہے۔ یہ فیصلے جمعہ کے روز کشمیر ہاؤس اسلام آباد مسلم کانفرنس کے اعلیٰ سطحی اجلاس میںکیے گے۔ اجلاس میں وزیراعظم آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر راجہ محمدفاروق حیدر خان، صدر مسلم کانفرنس کے صدر سردار عتیق احمد خان،سپیکر قانون ساز اسمبلی شاہ غلام قادر ،وزراء حکومت راجہ نصیر احمد خان،سید شوکت علی شاہ ،راجہ محمد صدیق خان،ممبران کشمیر کونسل ،مسلم کانفرنس کے سیکرٹری جنرل بشیر اندرابی، حلقہ ایل اے 40وادی 5کے ضمنی انتخاب کے لیے مسلم کانفرنس کے نامزد امیدواراحمد رضا قادری اور آزادکشمیر اور مہاجرین کے حلقوں سے مسلم کانفرنس کے سنیئر رہنماؤں نے شرکت کی۔ اجلاس میں آزادکشمیر قانون ساز اسمبلی کے حلقہ ایل اے 40وادی 5کے ضمنی انتخاب اور پاکستان کی قومی اسمبلی کے حلقہ ایل اے 55راولپنڈی کے ضمنی انتخاب کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس میںفیصلہ کیا گیا کہ مسلم کانفرنس کے پاکستان کی قومی اسمبلی کے حلقہ 55راولپنڈی کے ضمنی انتخاب میں مسلم کانفرنس کے نامزد امیدوار شکیل اعوان کی حمایت کرے گی ۔اجلا س میںمسلم کانفرنس کے کارکنوں کو ہدایات جاری کی گئیںکہ وہ مسلم کانفرنس کے نامزد امیدوار کی بھرپور مہم چلائیں اور ان کی کامیابی کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔ اجلاس میں آزادکشمیر کی اسمبلی کے حلقہ ایل۔اے 40 وادی 5 کے ضمنی انتخاب کا بھی جائزہ لیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ مسلم کانفرنس ضمنی انتخاب کو جیتنے کیلئے مسلم لیگ (ن) سے بھی تعاون حاصل کرے گی۔ اس حوالے سے وزیر اعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف اور دیگر قیادت سے رابطہ کریں گے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا کہ مسلم کانفرنس نے راولپنڈی میں دو انتخاب کی مہم چلانی ہے۔ ایک قانون ساز اسمبلی کے حلقہ 40 وادی 5 اور دوسرا پاکستان کی قومی اسمبلی کے حلقہ این۔اے 55 راولپنڈی کے ضمنی انتخاب کو جیتنے کیلئے تمام صلاحتیں بروئے کار لانی ہوں گی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ کارکن پرانی اختلافی باتوں کو چھوڑ دیں۔ جماعت اکھٹی ہو گئی ہے۔ اب پرانی باتوں کو بھول جانا چاہیے۔ یہ ہم سب کا الیکشن ہے۔ ہم سب کو مل کر ضمنی انتخاب لڑنا ہو گا۔ اور ہر ایک کو اس ضمنی انتخاب کو اپنا الیکشن سمجھ کر لڑنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ضمنی انتخاب میں جماعت کے پرچم کو سربلند رکھا جائے گا۔ مسلم کانفرنس بھاری اکثریت سے ضمنی انتخاب جیت جائے گی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مسلم کانفرنس کے صدر سردار عتیق احمد خان نے کہا کہ راولپنڈی کا ضمنی انتخاب ہمارے لیے چیلنج ہے۔ کارکن ضمنی انتخاب کو جیتنے کیلئے بھرپور کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ ضمنی انتخاب کو آسان نہ لیا جائے۔ ہر ایک کو کردار ادا کرنا ہو گا۔ انہوں نے کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ احمد رضا قادری کی انتخابی مہم چلائیں اور گھر گھر پھیل جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ووٹر فہرستیں مسلم کانفرنس کے مرکزی آفس راولپنڈی سے حاصل کی جا سکتی ہیں۔ اس انتخاب کی بڑی اہمیت ہے اور یہ 2011ء کے انتخابات میں کامیابی کیلئے سنگ میل ثابت ہو گا۔ سپیکر قانون ساز اسمبلی شاہ غلام قادر نے کہا کہ ثناء اللہ قادری کا ساتھ کبھی نہیں بھول سکتے۔ انہوں نے ساری زندگی مسلم کانفرنس کے ساتھ گزاری۔ ہم سب مل کر احمد رضا قادری کے ہاتھ مضبوط کریں گے۔ اجلاس سے وزراء کرام، حریت کانفرنس کے رہنماؤں اور سینئر کارکنوں نے بھی خطاب کیا اور راولپنڈی کے ضمنی انتخاب میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ مسلم کانفرنس راولپنڈی کاضمنی انتخاب بھاری اکثریت سے جیتے گی۔
مقبوضہ کشمیر ، بھارتی فوج اور مجاہدین کے درمیان جھڑپیں جاری ‘ 13 افراد شہید ایک پولیس اہلکار ہلاک
January 14th, 2010 · No Comments
سری نگر ۔ مقبوضہ کشمیر کے جنوبی ضلع کولگام میں جمعرات کی صبح بھارتی فوج اور پولیس نے چوبیس گھنٹوں کے طویل تصادم کے بعد حزب المجاہدین کے دو مجاہدین کو شہید کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔واضح رہے یکم جنوری سے تیرہ جنوری تک مجاہدین اور بھارتی فوج و نیم فوجی عملے کے درمیان جنوبی کشمیر اور سرینگر میں ہونے والی یہ پانچویں جھڑپ ہے۔ ۔پولیس کا کہنا ہے کہ پچھلے دو ہفتے کے دوران ہوئی پانچ جھڑپوں میں اب تک آٹھ مجاہدین مارے گئے ۔یاد رہے چھ جنوری کو دو مجاہدین نے سرینگر کے تجارتی مرکز لال چوک میں ایک نیم فوجی ٹھکانے پر حملہ کیا تھا۔ بائیس گھنٹوں تک جاری رہنے والے اس تصادم میں ایک پولیس اہلکار اور ایک عام شہری کے علاوہ دونوں حملہ آور مارے گئے۔پولیس کے مطابق اس آپریشن کے دوران ابو زید نامی ایک سولہ سالہ مجاہد فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا ہے۔ پچھلے دو ہفتوں کے دوران مجاہدین نے سرینگر کے صورہ اور جنوبی قصبہ سوپور میں نیم فوجی عملہ سی آر پی ایف اور بی ایس ایف کے گشتی دستوں پر فائرنگ کی جس میں چار اہلکار زخمی ہوگئے۔دریں اثنا پْراسرار ہلاکتوں کے واقعات میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ نئے سال کے پہلے دو ہفتوں میں تین سابق مجاہدین کو نامعلوم مسلح افراد نے ہلاک کردیا ہے۔ ہلاک ہونے والے ان افراد کے لواحقین کو شبہ ہے کہ انہیں سکیورٹی ایجنسیوں نے قتل کروا دیا ہے۔ ‘اْدھر شمالی ضلع کپوارہ میں ایک شہری کی پراسرار موت کے خلاف لوگوں نے احتجاجی مظاہرے کیے۔اس طرح یکم جنوری سے چودہ جنوری تک تشدد کی مختلف وارداتوں میں آٹھ مجاہدین ، تین سابق مجاہدین ، دو عام شہری اور ایک پولیس اہلکار سمیت چودہ افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔ واضح رہے پچھلے دو ہفتوں کے دوران کنٹرول لائن پر کئی مرتبہ فائرنگ کے واقعات بھی پیش آئے۔ صوبے کی تازہ سلامتی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے بھارتی وزیردفاع اے کے انتونی نے فوجی سربراہ جنرل دیپک کپور کے ہمراہ مقبوضہ کشمیر کا دورہ بھی کیا۔انتونی نے نئی صورتحال سے متعلق صوبائی حکومت کے ساتھ تبادلہ خیال کیا جبکہ جنرل کپور نے جموں کشمیر کی سرحدوں پر تعینات افواج کو الرٹ رہنے کی تاکید کی۔دورے کے بعد نئی دلّی واپسی پر انہوں نے مقبوضہ جموں کشمیر کی سلامتی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔پاکستان کا نام لئے بغیر انتونی نے کہا کہ بدامنی کی خواہشمند قوتیں کشمیر میں حالات کی بحالی سے خوش نہیں ہیں۔ جب انہوں نے یہاں سیاحوں کی آمد دیکھی تو وہ پریشان ہوگئے۔ اسی لئے کنٹرول لائن پر دراندازی میں اضافہ ہوا ہے۔
Tags: کشمیر
مجاہدتنظیموں کے خلاف کارروائی کرنے تک پاکستان کے ساتھ مذاکرات نہیں ہو سکتے ، ششی تھرو
January 13th, 2010 · No Comments
سری نگر۔ بھارتی حکومت نے ایک بار پھر یہ واضح کردیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ تب تک کسی بھی قسم کے مذاکرات نہیں ہوسکتے ہیں جب تک نہ پاکستان کی حکومت جموں وکشمیر سمیت بھارت کے خلاف برسرپیکار مجاہد تنظیموں کے خلاف مناسب کاروائی نہیں کرتی ۔ امور خاجہ کے وزیر مملکت ششی تھرور نے پاکستان کی طرف سے مذاکراتی عمل میں سنجیدگی کو محض گمراہ کن قرار دینے والا معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک طرف مجاہدین بھارت مخالف کاروائیوں کیلئے برابر پاکستان کی سرزمین استعمال کررہے اور دوسرے طرف مذاکرات کی باتیں کررہا ہے جو بھارت کو کسی بھی طور قابل قبول نہیں ۔اطلاعات کے مطابق بھارت اور پاکستان کے درمیان تناؤ کی صورتحال میں اضافے کے ساتھ دونوں کے درمیان لفاظی جنگ میں متواتر تیزی آرہی ہے جبکہ لائن آف کنٹرول و دوسری سرحدوں پر بھی دونوں ملکوں کی فوجوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ بھی ہورہا ہے ۔ اس صورتحال کے بیچ بھارت کی حکومت نے کہا ہے کہ بھارت ابھی پاکستان کے ساتھ کسی بھی سطح کے مذاکرات کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے ۔ کیونکہ پاکستان کی حکومت نے ابھی تک بھارت کے ان خدشات کو دور نہیں کیا ہے جس کیلئے بار بار نئی دلی پاکستان سے کہتی آرہی ہے ۔ بھارت کے خارجہ امور کے وزیر مملکت ششی تھرور نے اس سلسلے میں نئی دلی میں بتایا کہ پاکستان کی طرف سے جو مذاکراتی عمل شروع کرنے کی سنجیدگی دکھائی جارہی ہے وہ محض ایک شوشہ اور گمراہ کردینے والا معاملہ ہے ۔ششی تھرور کے مطابق ایک طرف پاکستان نے اس طرح کی اعتماد کی فضا بحال کرنے کیلئے کوئی بھی مثبت اقدام نہیں اٹھائے ہیں جس کے لئے بار بار بھارت کہتا آرہا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ بھارت کی حکومت گذشتہ دو سالوں سے پاکستان سے کہتی آرہی ہے کہ جموں وکشمیر سمیت ملک کے دودسرے حصوں میں بھی پاکستان میں مقیم مجاہدین تشدد کی کاروائیاں پھیلا رہے ہیں اور کئی مجاہد تنظیمیں برابر پاکستان اور اس کے زیر انتظام کشمیر میں ٹرینگ کیمپ چلائے جارہے ہیں اور اس صورتحال میں بات چیت کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔ ششی تھرور نے پاکستان کی حکومت سے سوال کیا کہ جہاں ہمسایہ ملک اپنی سرزمین کو بھارت کے خلاف عسکری کاروائیوں کیلئے استعمال کرنے میں ناکام ہورہا ہے تو اس میں مذاکرات شروع کرنے کی باتیں بے معنی ہیں۔ ششی تھرور نے یہ بات دوہرائی کی جب بھارت کو یہ لگے کہ پاکستان اپنے وعدوں پر عمل کررہا ہے اور اس ملک کی سرزمین پر عسکری کیمپوں کو بند کرنے نیز بھارت مخالف مجاہدین کے خلاف کارروائی کرے تو اس صورت میں مذاکرات ہوسکتے ہیں اور بھارت بغیر کسی دیری کے بات چیت شروع کرے گا تاہم انہوںنے کہا کہ اس کیلئے اب پاکستان کے رویہ پر دارو مدار ہے کہ وہ بھارت سے کئے گئے وعدوں کو کہاں تک پورا کرتا ہے ۔ وزیر مملکت برائے خارجی امور نے کہا کہ اب بھی کشمیر اور بھارت کے د وسرے علاقوں میں عسکری حملے ہورہے ہیں جس سے یہ واضح ثبوت مل رہا ہے کہ پاکستان کی سرزمین پر اب بھی بلا کسی خوف وخطر کے مجاہدین کے تربیتی مرکز ہیں اور ان مرکزوں میں مجاہدین تربیت حاصل کررہے ہیں۔ دلی میں منعقد بھارت کے سابق وزیر اعظم لال بہادار شاستری میموریل لیکچر پر بولتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بھارت ایک پرامن ملک ہے اور پاکستان کی حکومت کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اس کو بھارت سے کوئی بھی خطرہ نہیں ہے ار نہ پاکستان کو اپنے ذہن میں یہ خیال رکھنا چاہیے کہ بھارت پاکستان کے تئیں بات چیت کے بدلے کوئی جارحانہ عزائم رکھتا ہے ۔ ششی تھرور نے کہا کہ کہ بھارت کی ہمسائیگی میں دہشت گردی کا بنیادی ڈھانچہ موجود ہے اس لئے اس ڈھانچے کو مضبوط ارادوں اورپوری قوت کے ساتھ ختم کردینے کی ضرورت ہے ۔
Tags: کشمیر
اساتذہ نظام کی تبدیلی میں اپنا کردار اداکریں،نسل نو کو مسئلہ کشمیرسے روشناس کرائیں،عبدالرشید ترابی
January 10th, 2010 · No Comments
روایتی قیادت کے پاس نظام کی تبدیلی اور عوام کے مسائل کا کوئی ایجنڈا نہیں ہے
برادریوں علاقوں اور فرقوں کی بنیاد پرلوگوں کو تقسیم کیا جارہاہے
گلگت بلتستان کے عوام کو حقیقی حقوق دیے جائیں
بھمبر۔جماعت اسلامی آزاد جموں وکشمیر کے امیر عبدالرشید ترابی نے کہاہے کہ اساتذہ نظام کی تبدیلی کے لیے اپنا مطلوبہ کردار اداکریں،نسل نو کومسئلہ کشمیرسے روشناس کرانا اساتذہ کی ذمہ داری ہے،ان خیالات کااظہار انھوںنے سوکاسن بھمبر میں عوامی رابطہ مہم کے سلسلے میںاجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے کیا،انھوںنے کہاکہ روایتی قیادت کے پاس عوامی مسائل کے حل کا کوئی ایجنڈا نہیں ہے،وہ صرف قوم کو بانٹنے میں لگی ہوئیں ہیں،برادریوں ،علاقوں اور فرقوں کی بنیاد پر کام کیا جارہاہے،جس سے عوام کی بڑی تعداد متاثرہورہی ہے،جماعت اسلامی نے اس فرسودا اور کرپٹ نظام کے خلاف مہم کو آغاز کیاہے،وہ اس کی جگہ اسلام کا عادلانہ نظام لائے گی جس میں انفرادی طورپر بھی اور اجتماعی طور پر بھی عوام کو انصاف ملے گا،میرٹ کی بنیاد پر کام ہوگا حق دار کو حق ملے گا،قوم کے وسائل قوم پر خرچ ہوںگے ،کشمیر کے باقی حصے کو بھی آزاد کراوئیںگے،آزاد خطے کو تحریک آزادی کو حقیقی بیس کیمپ بنائیںگے،حقیقی بیس کیمپ ہی عوام کے مسائل حل کرے گا اور کشمیر کی آزادی میں اپنا کردارادا کرے گا،انھوںنے کہاکہ گلگت بلتستان کے حوالے سے جو ہم نے خدشات ظاہر کیے تھے مہدی شاہ ان پر مہر تصدیق ثبت کررہاہے،حکومت پاکستان فوری طور پر اس کی وضاحت کرے کہ مہدی شاہ اس کو کیا کہہ رہاہے،انھوںنے کہاکہ جماعت اسلامی روز اول سے گلگت بلتستان کے عوام کے حقوق کی جنگ لڑرہی ہے،ان کے حقوق کی بات کررہی ہے ،آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کا ایک ہی صدر بنایاجائے کونسل میں مشترکہ نمائندگی دی جائے تاکہ وحدت کشمیرپرکوئی آنچ نہ آنے پائے،کشمیر پاکستان کے بقاکی جنگ لڑرہے ہیں،تکمیل پاکستان کی جنگ لڑرہے ہیں،انھوں نے کہا کہ لینڈسلائنڈنگ سے متاثرین عوام کو فوری طورپر ریلیف دیاجائے،ان کو بحال کیاجائے۔ اس موقع پر انجینئر خالدخان اور ڈاکٹر ریاض نے بھی خطاب کیا۔
Tags: کشمیر



