لندن ۔ آنکھوں کی بیماریوں کے ماہرین نے انسانی جسم کے اندر ایک ایسے جین کو دریافت کر لیا ہے جو اندھے پن کی وجوہات اور دیگر بیماریوں کا باعث بنتا ہے ۔ برطانوی طبی ماہرین نے اس جین کو سرپنگ ۔ 1 کا نام دیا ہے ۔ ماہرین نے مزید کہا کہ یہ جین بڑھتی ہوئی عمر کے عضلات کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے ۔ اس دریافت سے عمر کے ساتھ ساتھ بڑھتے ہوئے امراض چشم کو سمجھنے اور حل کرنے کی نئی راہیں کھیلیں گی اور طب کی دنیا پہلی دفعہ مکمل شفایابی تک کامیابی حاصل کر لے گی ۔ یہ جین ساؤتھ ایمپوئن یونیورسٹی میں ہونے والی ایک تحقیق کے دوران سامنے آیا ۔ اس تحقیق کی سربراہ ڈاکٹر سارہ اینس اور اینڈریور یولوئر نے مکمل کی ہے
Entries Tagged as 'Medical & Health'
اندھے پن کے ذمہ دار جین کی دریافت
January 7th, 2009 · No Comments
Tags: Medical & Health , Urdu , Urdu News
لسہن کا استعمال دواؤں کا متبادل ہو سکتا ہے
January 1st, 2009 · No Comments
لاہور۔ صحت مند دل کیلئے لہسن کا استعمال قیمتی دواؤں کا متبادل ثابت ہو سکتا ہے ۔نیشنل یونیورسٹی آ ف سائنسز کے مطابق لہسن میں موجود’’لیسین‘‘جو کندھک کے مرکبات موجود ہوتا ہے خون میں موجود خلیوں کے درمیان باہمی رابطے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے جس کی وجہ سے خون کے بہاؤ میں بہتری آتی ہے اور خون کو اہم اعضا ء تک آکسیجن لے جانے میںمدد ملتی ہے ۔کھانے میں لہسن کی تھوڑی سی مقدار نہ صرف کھانوں بلکہ صحت کو بھی بہتر بناتی ہے ۔ماہرین نے خون کو کچلے ہوئے لہسن میں ڈبویا جس سے خون کے سرخ خلیوںکے تناؤ میں تہتر فیصدکمی ریکارڈ کی گئی۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ مشرقی ممالک جن میں پاکستان بھی شامل ہے جہاں لہسن کو کھانے میں سبزی کے ساتھ اہم جز کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے وہا ں دیگر مغربی ممالک کی نسبت دل کے امراض کہیں کم ہیں مگر اس میں پائے گئے کندھک کے مرکبات کچھ وقت کیلئے منہ میں بو کا باعث بنتے ہیں۔دوسری جانب سائنسدان اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ مغرب میں اس کو بطور دواکیسے استعمال کیا جائے یا کھانوں میں اس کی شمولیت کو کیسے ممکن بنایا جا سکتا ہے
Tags: Medical & Health , Urdu , Urdu News
اچھی طرح ہاتھ دھونے کی عادت سے 40 فیصد مریض ٹھیک ہو سکتے ہیں
December 28th, 2008 · No Comments
صرف اچھی طرح ہاتھ دھونے کی عاد ت سے پیچس کے 40فیصد مریض ٹھیک ہو سکتے ہیں۔پاکستان میں ہر سال ہزاروں اموات حفظان صحت کے اصولوں کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے ہوتی ہیں جن میں بازاری پکی ہوئی چیزیں جنہیں نہ ڈھانپ کر رکھا جاتا ہے اور نہ ہی اچھے طریقے سے پکایا جاتا ہے اور ان چیزو ں کو پیش کرنے کیلئے جن برتنوں کا استعمال کیا جاتا ہے ان کی صفائی کا خیال بالکل نہیں رکھا جاتا ۔بعض دفعہ یہ دلچسپ صورت حال بھی دیکھنے میں آئی ہے کہ دکانداروں کے سلوگن’’حفظانِ صحت کے عین مطابق ‘‘ پر ہزاروں مکھیاں بھنبھنا رہی ہوتی ہیں جس سے ہیضہ ،پیچس اور پیٹ کی کئی دیگر بیماریا ں پیدا ہو نے کا اندیشہ ہوتا ہے پاکستان میں ہر سال انہیں بیماریوں سے کئی اموات واقع ہوتی ہیں تاہم اس سلسلے میں اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف کی تحقیق کے مطابق اچھی طرح ہاتھ دھونے کی عادت سے پیچس کے 40فیصد مریض ٹھیک ہو سکتے ہیں تاہم یونیسف نے صحت و صفائی کے نظام میں بہتری کیلئے تمام سکولوں میں2015ء تک صحت عامہ کی بنیادی تعلیم کو لازمی اور صحت و صفائی کی سہولتوں کو باہم پہنچانے کا حدف مقرر کر رکھا ہے
Tags: Medical & Health , Urdu , Urdu News
بنگلہ دیش اور انڈیا میں برڈ فلو کی وبا پھیل گئی‘ پاکستان شدید خطرے میں
December 20th, 2008 · No Comments
کھاریاں۔ بنگلہ دیش اور انڈیا میں برڈ فلو سے متاثر مرغیوں کی تلفی کا کام بڑی تیزی سے جاری ہے۔ ان حالات کے پیش نظر پاکستان میں بھی برڈ فلو کے خطرات منڈلارہے ہیں۔ حکومت کو برڈ فلو سے نمٹنے کے لیے پیشگی انتظامات کرنے ہوں گے کیونکہ بنگلہ دیش اور انڈیا سے ہواؤں کے ذریعے جراثیم پاکستان میں پہنچ کر مرغیوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اور خدانخواستہ اگر کوئی بیمار مرغی کسی انسان نے کھالی تو بہت بڑی تباہی آسکتی ہے۔ عوامی سماجی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے برڈ فلو کے پیش نظر حفاظتی انتظامات کیے جائیں اور مرغی خانوں کے مالکان کو برڈ فلو سے بچاؤ کی ویکسین فراہم کرکے تمام مرغیوں اور چوزوں کو لگانے کا پابند بنایا جائے بلکہ سرکاری سطح پر نگرانی بھی کی جائے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل بھی ملک میں برڈ فلو آیا تھا اور حکومت نے اقدامات تو کیے تھے مگر وہ ناکافی تھے
Tags: Medical & Health , Pakistan , Urdu , Urdu News
طب کے میدان میں جدید ٹیکنالوجی نے امراض کی تشخیص اور علاج آسان بنادیا۔۔ ڈاکٹر جاوید اکرم
December 20th, 2008 · No Comments
لیپروسکوپی کے بعد مریض کو اوپن سرجری سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کا سامنا نہیں کرنا پڑتا
صحت مند معاشرے کیلئے ماں اور بچے کی صحت پر توجہ دی جائے۔ جناح ہسپتال میں تربیتی ورکشاپ سے طبی ماہرین کا خطاب
لاہور20 دسمبر :طب کے میدان میں جدید ٹیکنالوجی کے متعارف ہونے سے امراض کی تشخیص اور ان کا علاج آسان ہوگیا ہے تاہم اس کیلئے معالجین کو مطلوبہ مہارت اور تعلیم ضروری ہے تاکہ وہ ان آلات اور تکنیک کا صحیح طور پر استعمال کرتے ہوئے دکھی انسانیت کی خدمت کرسکیں۔ ان خیالات کا اظہار پرنسپل علامہ اقبال میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر جاوید اکرم نے کالج کے آڈیٹوریم میں ’’امراض نسواں میں رول آف اینڈوسکوپی ولیپروسکوپک سرجری‘‘ کے موضوع پر منعقد ہ تربیتی ورکشاپ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر شاہینہ آصف، ایم ایس جناح ہسپتال ڈاکٹر زاہد پرویز، پروفیسر ڈاکٹر امتل زریں، ڈاکٹر سائرہ یونس کے علاوہ کثیر تعداد میں ڈاکٹرز اور طلبہ وطالبات موجود تھے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر جاوید اکرم نے کہا کہ لیپروسکوپی سرجری کے ذریعے مریض کو کم سے کم تکلیف میں زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچتا ہے اور مشکل آپریشن بھی نہ صرف آسانی کے ساتھ مکمل کرلئے جاتے ہیں بلکہ مریض بھی جلد صحتیاب ہوجاتا ہے اور آئندہ زندگی میں بھی اسے اوپن سرجری سے پیدا ہونے والے مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ پروفیسر ڈاکٹر شاہینہ آصف نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ معالجین اپنی پیشہ ورانہ تعلیم اور تربیت میں خصوصی دلچسپی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جدید ٹیکنالوجی پر عبور حاصل کریں۔ پروفیسر ڈاکٹر امتل زریں نے کہاکہ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں زچہ وبچہ کی شرح اموات بہت زیادہ ہے اور ہر سال مائیں دوران زچگی اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں۔ ہمیں اس مسئلے کے حل کی طرف ضروری توجہ دینا ہوگی تاکہ قیمتی جانوں کو بروقت بچایا جاسکے جو پیشہ مسیحائی کی اصل بنیاد ہے۔ ایم ایس ڈاکٹر زاہد پرویز نے کہا کہ حکومت نے صحت کے شعبے کی ترقی اور عوام کو بہتر طبی سہولیات کے علاوہ ادویات تک مفت فراہم کرنے کے انتظامات کررکھے ہیں تاہم یہ ڈاکٹرز کمیونٹی کا بھی فرض ہے کہ وہ ان وسائل کا صحیح استعمال کرتے ہوئے زیادہ لوگوں کی خدمت کو شعار بنائے۔ گائناکالوجسٹ ڈاکٹر سائرہ یونس نے کہاکہ صحت مند اور توانا معاشرے کیلئے خواتین وبچوں کے علاج معالجہ اور خصوصی دیکھ بھال وقت کی اہم ضرورت ہے۔ عوام میں یہ شعور پیدا کیا جائے کہ وہ زچگی کیلئے تربیت یافتہ برتھ اٹنڈنٹ (TBA)یا نزدیکی ہسپتال میں گائناکالوجسٹ کی خدمات سے استفادہ کریں۔ انہوں نے بتایا کہ جناح ہسپتال میں گائنی کے آپریشن جدید ٹیکنالوجی سے کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈاکٹروں کی پیشہ ورانہ تربیت اور ان کے نالج کو اپ ڈیٹ کرنے کیلئے علامہ اقبال میڈیکل کالج مختلف تربیتی کورسز، سیمینار اور ورکشاپس کا اہتمام آئندہ بھی کرتا رہے گا۔تقریب کے شرکاء کو پروفیسر ڈاکٹر ابو فضل علی خان، پروفیسر سلیم اختر اور پروفیسر سہیل لودھی نے بھی اپنے طویل تجربات کی روشنی میں لیکچر دیئے۔
Tags: Medical & Health , Pakistan , Urdu , Urdu News












































