Category Archives: صحت

دھند آلود ماحول ہارٹ اٹیک کا باعث بن سکتا ہے

ٹیکساس ۔ 23 جولائی(اے پی پی ، نیوز اردو ڈاٹ نیٹ) امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کی ایک تازہ تحقیق کے مطابق دھند آلودہ ماحول ہارٹ اٹیک کا باعث بنتا ہے۔ چوہوں پر کیے جانے والے ابتدائی تجربات نے ثابت کہا ہے کہ دھند کی وجہ سے دل کے خلیوں میں ٹوٹ پھوٹ شروع ہو جاتی ہے۔ ایسوسی ایشن کے اجلاس 2010ء برائے ہارٹ سانئس اینڈ ٹیکنالوجی اور دل کی بیماریوں کے علاج معالجے میں تصوراتی ترقی میں یہ رپورٹ پیش کی جا چکی ہے۔ تحقیقی رپورٹ کے مطابق دھند کی وجہ سے گراؤنڈ لیول اوزون بہت زیادہ حد تک کمزور ہو جاتی ہے جس سے دیل کے سیل مردہ ہونے لگتے ہیں۔ اوزون کی تہہ دھند کی ایک بڑی وجہ ے جب دھند کی وجہ سے زمین پر سورج کی روشنی میں کمی، نائیٹروجن اوکسائیڈ اور ہائیڈرو کاربونائیڈ کے ساتھ ساتھ صنعتی آلودگی سے ہوا میں تبدیلیاں آتی ہیں تو دل کے خلیے کمزور ہونے لگتے ہیں۔ اس سے پہلے سینکڑوں ماحولیاتی تحقیقات میں آلودگی کو عارضہ قلب کی وجہ قرار دیا گیا ہے مگر پہلی مرتبہ دھند کی موجودگی میں ماحولیاتی آلودگی کے اثر کو بامعنی طریقے سے پیش کیا گیا ہے۔مرجیت سیٹھی پروفیسر آف فارماسیوٹیکل سائنس ٹیکساس نے یہ تحقیق اے ایم ہیلتھ سائنس سنٹر ارمالیرماریجنل کالج آف فارمیسی کے تعاون سے مکمل کی ہے۔

Share

کینسر کے مرض سے وفات پانے والے سکول ٹیچر محمد خالد کے بولنے ،سننے ،چلنے ،پھرنے سے معذور بچے حکومتی امداد کے منتظر

سرگودھا ۔کینسر کے مرض سے وفات پانے والے سکول ٹیچر محمد خالد کے بولنے ،سننے ،چلنے ،پھرنے سے معذور پانچ بچے زندہ لاشوں کی تصویر بنے حکومتی توجہ کے منتظر ہیں،تفصیلات کے مطابق وطن عزیز میں کئی گھرانے ایسے ہیں جو کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں،انہی خاندانوں میں ایک خاندان ضعیف العمر 80سالہ محمد ممتاز کا ہے ،جس کے پانچ پوتے پوتیاں ہیں جو سب کے سب ذہنی و جسمانی معذور ہیں ،محمد ممتاز کا بیٹا محمد خالد جو کہ سرکاری سکول ٹیچر تھا اپنی زندگی میں وساطت کے مطابق ان کی کفالت کرتا رہا،غربت و افلاس نے ان کے گھر کا اس بسیرا اس وقت کر لیا جب دو سال قبل اس کنبے کا سربراہ پانچ سال تک کینسر میں مبتلا رہنے کے بعد اس دنیا فانی سے کوچ کر گیا،جس کے بعد ان معذور یتیم بچوں کی کفالت کا ذمہ دل کے مرض میں مبتلا 80سالہ داد ا محمد ممتاز کے ناتواں کاندھوں پر آن پڑا،جس کی کل آمدن اس کے مرحوم بیٹے کی 35سو روپے ماہانہ پنشن ہے30سالہ ظفر اقبال،28سالہ جاویداقبال،25سالہ پرویز اقبال،23سالہ نئیر اقبال اور ان کی 21سالہ بہن میمونہ فاطمہ پیدائشی طور پر معذور ہیں،وہ نہ سن سکتے ہیں ،نہ بول سکتے ہیں اورنہ ہی چل پھر سکتے ہیں،ان کا کھانا پینا اور حاجت روائی بھی چارپائی پر ہے،ان معذور بچوں کی ماں پروین اختر فاطمہ تیس سال سے اپنے لخت جگر بیٹوں اور بیٹی کو چارپائی پر انہیں کھانا کھلانے ،نہلانے اور رفع حاجت کرانے کا فرض انجام دے رہی ہے ،پیدائشی طور پر ذہنی و جسمانی طور پر یہ معذور بچے چارپائی پر زندگی و موت کی کشمکش میں جی رہے ہیں،اس گھرانے کی بے بسی اور غربت و افلاس کو دیکھ کر پتھر کی آنکھیں بھی رو دینے پر مجبور ہو جاتی ہیں ، سالہا سال گزرنے کے باوجود حکومتی ارباب اختیار،فلاحی تنظیموں نے اس بد نصیب گھرانے کی طرف کوئی توجہ نہ دی،جو ایک سوالیہ نشان ہے،ہاتھ پھیلانا اس گھرانے کو گوارہ نہیں صرف اور صرف توکل خداوندی ان کا سہارا ہے،حالت زار یہ ہے کہ معاشی بدحالی کے باعث اکثر اوقات یہ معذور بچے بھوکے سو جاتے ہیں،،محمد ممتازاور والدہ پروین اختر فاطمہ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ان معذور بچوں کو ادویات تک نہیں دے سکتے،علاج معالجہ کیلئے ان کے پاس وسائل نہیں اور اکثر اوقات یہ معذور بچے بھوکے پیاسے ہی سو جاتے ہیں،جنہیں نہ دھوپ کا پتا ہے اور نہ چھاؤں کا جو بھوک ہونے کے باوجود اپنے منہ سے کچھ کھانے کیلئے مانگ نہیں سکتے،مختلف حکومتی ادوار میں متعدد بار ان معذور بچوں کے علاج معالجہ اور مالی امداد کیلئے درخواستیں دیں،خستہ حال مکان میں ان بچوں کی دیکھ بھال ایک مشکل مرحلہ ہے ،آج تک کسی حکومتی ارباب اختیار نے ان کی مدد نہیں کی،صدر پاکستان آصف علی زرداری اور وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف ان معذور بچوں کیلئے ان کی معاونت کریں اور ان معذور بچوں کے علاج معالجہ کا انتظام کریں۔

Share

ماحول کو صاف رکھنے کیلئے ریمینوفیکچرنگ صنعت کی ترقی پر توجہ دی جائے۔ زاہد مقبول

اسلام آباد۔پاکستان روزانہ مختلف شعبوں میں ہزاروں ٹن سکریپ میٹریل پیدا کرتا ہے جس سے ماحول آلودہ ہوتا ہے لہذا حکومت سکریپ میٹریل سے بہتر اقتصادی نتائج حاصل کرنے کیلئے رینیوفیکچرنگ اور ریسائیکلنگ صنعت کو ترقی دینے پر توجہ دے۔ ان خیالات کا اظہار اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر زاہد مقبول نے اپنے ایک بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ملک کے طول و عرض میں سکریپ یارڈز قائم کرنے کی کوشش بھی کرے تا کہ سارا سکریپ میٹریل ان یارڈز میں جمع کر کے ریمینوفیکچرنگ اور ریسائیکلنگ صنعت کو مہیا کیا جا سکے اور صنعتیں اس میٹریل سے بہتر مصنوعات تیار کر سکیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو ریسائیکلنگ پلانٹس لگانے میں مدد فراہم کرے۔ یہ پلانٹس سٹیل، آٹو، پلاسٹک، کاغذ اور ربڑ سمیت مختلف شعبوں میں قائم کئے جا سکتے ہیں تا کہ ان شعبوں میں پیدا ہونے والے سکریپ میٹریل کی پراسسنگ سے ویلیو ایڈیڈ مصنوعات تیار کی جا سکیں۔ زاہد مقبول نے کہا کہ ریمینوفیکچرنگ اور ریسائیکلنگ پلانٹس صنعتی یونٹوں کے مقابلے میں کم بجلی استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک اندازے کے مطابق ایلومینیم کو زمین سے نکال کر تیار کرنے کے مقابلے میں دوبارہ پگلا کر تیار کرنے پر صرف پانچ فیصد بجلی خرچ ہوتی ہے۔ اسی طرح زمین سے لوہا نکال کر سٹیل بنانے کے مقابلے میں سکریپ کو دوبارہ پگلا کر بنائی جانے والی سٹیل کئی گنا سستی پڑتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں کمپیوٹرز کے لاکھوں پرزہ جات اور الیکٹرانکس کا استعمال شدہ سامان فالتو مواد کے طور پر پھینکا جاتا ہے جس کو ٹھکانے لگانا ایک بہت بڑا مسئلہ ہے ۔ تا ہم اس شعبے میں ریمینوفیکچرنگ پلانٹس لگا کر اس فالتو مواد سے کئی بہتر قیمت کی مصنوعات تیار کی جا سکتی ہیں۔آئی سی سی آئی کے صدر نے کہا کہ ریمینوفیکچرنگ اور ریسائیکلنگ کی صنعت کو فروغ دینے سے مینوفیکچرنگ شعبے کو بھی کافی ترقی ملے گی۔ اس کے علاوہ درآمدات میں کمی ہو گی، روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور سستی مصنوعات تیار ہونے سے برآمدات کو بہتر فروغ ملے گا۔ اس کے علاوہ اس صنعت کے ترقی پانے سے ملک میں ماحول صاف ستھرا ہو گا ۔ لہذا حکومت اس صنعت کی ترقی پر فوری توجہ دے تا کہ فالتو مواد ماحول کو آلودہ کرنے کی بجائے معیشت کیلئے فائدہ مند نتائج پیدا کر سکے۔

Share

دنیا میں پچاس کروڑ افراد ہیپاٹائٹس کا شکار، پاکستان میں تعداد سوا کروڑ تک پہنچ گئی

مفت ادویات سفارش کے بغیر دستیاب نہیں، ہر سال 15 لاکھ لوگ لقمہ اجل بن جاتے ہیں

لاہور۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں پچاس کروڑ افراد ہیپاٹائٹس (جگر) کے مرض میں مبتلا ہیں جبکہ ہر سال 15 لاکھافراد اس موزی مرض سے ہلاک ہو جاتے ہیں۔ ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنس کے جائزے کے مطابق پاکستان میں ہیپاٹائٹس (جگر) کے مرض میں مبتلا افراد کی تعداد تقریبا سوا کروڑ تک پہنچ چکی ہے اور یہ مرض پاکستان میں تیسرے نمبر پر ہے۔ اس مرض کی دو اتنی مہنگی ہے کہ غریب آدمی اس کا علاج کرواا تودرکنار تصور بھی نہیں کر سکتا۔ پاکستان بھر میں اس موزی مرض کے علاج کے پہلے چھ ماہ کے کورس کیلئے اور بد میں مزید مہنگے کورس کیلئے حکومت کی جانب سے مفت ادویات تو فراہم کی گئی ہیں مگر مفت ادویات بھی سفارش کے بغیر دستیاب نہیں۔

Share

دنیا میں 300 ملین افراد دمہ سے متاثر ہیں، پاکستان میں ہر پانچواں شخص اس مرض کا شکار

دمے کے مرض دو طرح کے ہیں سانس کی نالیوں میں سوزش اور پٹھوں میں سکڑن شامل ہیں۔ طبی ماہرین

لاہور۔دنیا بھر میں 300ملین افراددمہ کی مرض سے متاثر ہیں جبکہ پاکستان میں ہرسوافراد میں سے پانچ دمے کے مریض ہیں۔موسمی تبدیلی‘ فضائی آلودگی اور غیر معیاری طرز زندگی دمے کی بڑی وجوہات ہیں۔ طب یونانی(اسلامی)میں اس کا موثر علاج موجود ہے ۔سیب اور سیب کا جوس دمہ کی مرض میں انتہائی فائدہ مند ہے اس امر کا اظہار مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان اور یونانی میڈیکل آفیسر حکیم قاضی ایم اے خالد نے عالمی یوم دمہ پر کونسل کے زیر اہتمام منعقدہ ایک مجلس مذاکراہ میں کیا۔انہوں نے کہا کہ دمہ ایسے امراض میں سے ایک ہے جو دنیا میں بہت زیادہ عام ہے۔ دمہ پھیپھڑوں میں ہوا پہنچانے والی نالیوں کی ایسی دیرینہ بیماری ہے جس میں معمول کے مطابق سانس لینے میں رکاوٹ پیدا ہو جاتی ہے۔ پھیھپڑوں سے سیٹی کی آواز نکلتی ہے۔ دمے کے مرض میں دو طرح کی تکالیف ہوتی ہیں جن میں سانس کی نالیوں میں سوزش اور سانس کی نالیوں کے پٹھوں میں سکڑن شامل ہیں۔ دمے کی علامات تو وقفے وقفے سے ظاہر ہوتی ہیں لیکن مرض ہمیشہ موجود رہتا ہے اس لیے یہ بات انتہائی اہمیت کی حامل ہے کہ مریض دمے کی ادویات صحیح مقدار میں روزانہ پابندی کے ساتھ استعمال کرتے رہیں تاکہ مرض کی علامات ظاہر نہ ہوں پھیپھڑوں کی کارکردگی بہتر ہو اور دمے کے حملوں کی روک تھام ہوسکے۔ایمرجنسی علاج کے لئے انہیلر کی ایجاد کی افادیت سے کسی طور انکار نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم طب یونانی(اسلامی)میں اس کا موثر علاج موجود ہے۔جدید طبی تحقیق کے مطابق سیب کے جوس کا ایک گلاس بچوں کو دمہ کی بیماری سے بچانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے جبکہ بڑے افراد روزانہ سیب کھانے سے دمہ کی بیماری سے افاقہ حاصل کرسکتے ہیں۔ سیب کے اندر ایک خاص جز پھیپھڑوں سے بلغم خارج کرنے، سانس کی نالیوں کو کھولنے اور سانس لینے کی قوت کو تقویت دیتا ہے۔ سیب جسم سے زہریلے مادوں کو خارج کرنے کیلئے انتہائی مفید ہے۔یہ تحقیق امپیریل کالج لندن کے شعبہ نیشنل ہارٹ اینڈ لنگز انسٹی ٹیوٹ میں ہوئی جس میں دمہ میں مبتلا 2ہزار 860بچوں کو 5سے 10سال تک زیر مطالعہ رکھا گیا تھا۔ دمے کے علاج کیلئے طب یونانی اسلامی کا یہ نسخہ بھی کافی موثر ثابت ہوا ہے ۔ تخم میتھی یا میتھرے چھ گرا م‘ خولنجان چھ گرام‘ برگ تلسی چھ گرام تینوں چیزیں آدھے گلاس پانی میں جوش دے کر چھان کر نہار منہ (معالج کے زیر نگرانی)پندرہ یوم پی لیں ۔ انشا اللہ دمہ خصوصاً الرجک استھمااور پولن الرجی سے شفایابی ہو گی۔

Share

پاکستان میں پہلی مرتبہ گردہ عطیہ کرنے والے کی اوپن سرجری کی بجائے لیپروسکوپی کا آغاز

جنرل ہسپتال کے ڈاکٹر ثناء اللہ گردے کی مختلف بیماریوں میں مبتلا 150 سے زائد مریضوں کا لیپروسکوپک آپریشن کرچکے ہیں

جدید طریقہ علاج سے مریض کو طویل عرصہ تک زیرعلاج نہیں رہناپڑتا: طبی ماہرین

لاہور۔پاکستان کی طبی تاریخ میں پہلی مرتبہ لاہور جنرل ہسپتال میں گردہ عطیہ کرنے والے شخص کا آپریشن لیپروسکوپی کے ذریعے کرنے کا آغاز کردیا گیا۔ اس جدید طریقہ علاج سے مریض چیرپھاڑ کے روایتی طریقہ سے محفوظ رہے گا۔ ایل جی ایچ کے لیپروسکوپک یورالوجسٹ ڈاکٹر ثناء اللہ نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پورے ملک میں سرکاری شعبے میں جنرل ہسپتال واحد شفا خانہ ہے جہاں گردہ عطیہ کرنے والے کی اوپن سرجری کی بجائے لیپروسکوپی شروع کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طریقہ آپریشن سے صرف قانونی طور پر گردہ عطیہ کرنے والے ہی مستفید ہوسکیں گے۔ ڈاکٹر ثناء اللہ کے مطابق پروفیسر آف یورالوجی ڈاکٹر احمد سلمان وارث اور ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر ممتاز احمد کی رہنمائی میں پانچ مریضوں کا اس طریقہ آپریشن سے علاج کرچکے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ گردے کی مختلف بیماریوں میں مبتلا 150 سے زائد مریضوں کا لیپروسکوپک آپریشن کیا جاچکا ہے جس میں کینسر زدہ‘ ناکارہ گردہ اور پیدائشی گردہ کی نالی میں رکاوٹ کو نئے جوڑ لگا کر ٹھیک کرنا شامل ہے۔ ڈاکٹر ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ اس طریقہ آپریشن سے مریض کے نہ صرف اخراجات کم ہوتے ہیں بلکہ مریض کو طویل عرصہ تک ہسپتال میں زیرعلاج نہیں رہنا پڑتا بلکہ وہ چند دنوں میں ہی معمول کے مطابق زندگی گزارنا شروع کردیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی ہدایت کی روشنی میں گردے کے مریضوں کو جدید سہولیات بہم پہنچائی جا رہی ہیں۔

Share

شراب نوشی اور موٹاپا جگر کی بیماریوں کا باعث بنتے ہیں۔ طبی تحقیق

اسلام آباد۔موٹاپا اور شراب نوشی کی عادت جگر کیلئے تباہی کا سب سے بڑا ذریعہ ثابت ہوتے ہیں۔ یہ بات یونیورسٹیز آف آکسفورڈ اینڈ گلاسکو نے دو الگ الگ طبی تحقیقات میں برٹش میڈیکل جرنل میں شائع کی ہیں۔ تحقیق کرنے والے طبی ماہرین نے کہا ہے کہ شراب نوشی جگر کی متعدد بیماریوں کا باعث بنتی ہے جبکہ جولوگ شراب نہیں پیتے مگر موٹے ہو چکے ہیں ان کے جگر کی حالت بھی شرابیوں جیسی ہو جاتی ہے۔ برطانیہ میں موٹاپے کے باعث جگر کی خرابی کے لاکھوں مریض موجود ہیں۔ پہلی تحقیق میں آکسفورڈ یونیورسٹی نے 1.2 ملین لوگوں میں موٹاپے او جگر کی بیماری کے درمیان تعلق کو دیکھا جن میں خواتین کی تعداد زیادہ تھی۔ اس تحقیق کو ڈاکٹر بیویٹی لیو نے کیسز آپیڈا مالوجی یونٹ کے تحت مکمل کیا۔ اس کے علاوہ دوسری تحقیق میں موٹے افراد جو شراب پیتے تھے اور جو نہیں پیتے تھے ان کے جگر کا معائنہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ جو لوگ شراب نہیں پیتے وہ بھی جگر کے عارضہ میں مبتلا ہیں۔

Share

گرمیوں میں کم پانی پینے سے گردے میں پتھری ہوسکتی ہے:طبی ماہرین

گردے کی پتھری سے محفوظ رہنے کیلئے ہرگھنٹے بعد پانی کا گلاس پینا چاہئے

لاہور ،پوسٹ گریجوایٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ و جنرل ہسپتال کے ایسوسی ایٹ پروفیسر آف یورالوجی ڈاکٹر ممتاز احمد نے کہا ہے کہ موسم گرما میں گردے میں پتھری کے مریض خصوصی احتیاط برتیں۔ گرمیوں میں گردوں کی پتھری اور دیگر امراض گردہ میں تیزی سے اضافہ ہوجاتا ہے۔ طبی ماہرین نے کہا کہ گرمی میں گردے کے مریضوں کو زیادہ پانی پینا چاہئے تاکہ پیشاب میں پتھری بنانے والے اجزا کو خارج ہونے میں مدد ملتی رہے کیونکہ یہی رسوب دار اجزا کم پانی کی وجہ سے گردے میں جم کر پتھری کی شکل اختیار کرجاتے ہیں۔ جو لوگ گرمیوں میں پانی کم استعمال کرتے ہیں انہیں گردے کی پتھری کے مرض کا خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گردے کی پتھری سے محفوظ رہنے کیلئے ہر ایک گھنٹے بعد پانی کا گلاس پینا چاہئے جبکہ رات کو بھی سونے سے کم از کم ایک دو گھنٹہ قبل پیٹ بھر کے پانی پینا چاہئے۔ اس کے علاوہ ورزش کے بعد اور کھانے کے ساتھ بھی پانی زیادہ پینے سے گردے کے امراض کم لاحق ہوتے ہیں۔

Share

جناح ہسپتال کے ڈاکٹروں کی غفلت اور لاپرواہی سے سینئر صحافی کی والدہ دم توڑ گئی

رشیدہ بی بی کو دل کا دورہ پڑا ، ڈاکٹر دردکا انجکشن لگاتے رہے ، حالت بگڑنے پر اللہ سے دعا کرنے کامشورہ دیا

مریضہ کی حالت تشویشناک ہونے پر علاج کرنے والا ڈاکٹر غائب ، سینئر ڈاکٹر کو نہیں بلا سکتا ، شکایت پر اخبار نویس سے اے ایم ایس ڈاکٹر زاہد فاروق کی بدتمیزی

وزیر اعلی پنجاب غفلت برتنے والے ڈاکٹروں وطبی عملے کے خلاف ایکشن لیں ۔ پنجاب اسمبلی کے سابق سیکرٹری محمود ملک کی اپیل

لاہور۔جناح ہسپتال میں ڈاکٹروں کی غفلت اور لا پرواہی معمول بن گیا ۔ عام شہریوں سمیت ، وکلاء ، صحافی اس ہسپتال کے معالجین سے محفوظ نہیں رہے ۔ اس ضمن میں پنجاب اسمبلی پریس گیلری کے سابق سیکرٹری اور معروف نیوز ایجنسی کے بیورو چیف سینئر صحافی محمود ملک کی والدہ کے ساتھ ڈاکٹروں کی غفلت اور نا اہلی کا تازہ واقعہ یہ ہے کہ انہیں اچانک طبعیت خراب ہونے پر جناح ہسپتال کے شعبہ ایمرجنسی میں لیجایا گیا جہاں ڈاکٹروں اور طبی عملے نے روایتی بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے علاج شروع کیا تو مریضہ رشیدہ بی بی کی حالت مزید تشویشناک ہو گئی جس پر محمود ملک شکایت لیکر انتظامی ڈاکٹر زاہد فاروق کے پاس گئے اور اپنا تعارف کرایا تو وہ سیخ پا ہو گئے اور کہا کہ اگر علاج سے مطمئن نہیں تو پرائیویٹ ہسپتال لے جائیں میں کسی سینئر ڈاکٹر کو نہیں بلا سکتا ۔ مریضہ کے عزیز و اقارب کے احتجاج پر ڈاکٹر منان نے کہا کہ رشیدہ بی بی کو دل کا دورہ پڑا ہے جس کے بعد مریضہ کو انجکشن لگایا گیا جس سے ان کا بلڈ پریشر تیزی سے کم ہوتے ہوئے 30/45 تک آگیا اور ڈاکٹر منان موبائل فون پر خوش گپیاں لگاتے ہوئے مریضہ کو لاوارث چھوڑ کر ایمر جنسی سے باہر نکل گیا جس پر مریضہ کی حالت زیادہ خراب ہو گئی ۔ لواحقین کے شور مچانے پر نرسیں آگئیں اور انہوں نے بھی ڈاکٹر منان کو کافی تلاش کیا لیکن وہ 45 منٹ کی تاخیر سے پہنچے اور مریضہ کی حالت دیکھ کر کہا کہ اب علاج میں دیر ہو چکی ہے اب خدا سے دعا کریں ۔ سینئر صحافی نے اس حوالے سے جب پرنسپل علامہ اقبال میڈیکل کالج پروفیسر جاوید اکرم کو ساری صورتحال سے آگاہ کیا تو انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لیں گے ۔ ڈاکٹر زاہد فاروق کے متعلق معلوم ہوا ہے کہ یہ ایک میڈیکل آفیسر ہے اور صرف اتوار کے دن ایوننگ اور نائٹ ڈیوٹی بطور اے ایم ایس دیتا ہے جبکہ باقی دنوں میں ہسپتال کے کسی وارڈ میں ڈیوٹی نہیں لگائی جاتی ۔محمود ملک نے وزیر اعلی پنجاب محمد شہباز شریف سے اپیل کی ہے کہ اس کی والدہ کے علاج میں غفلت برتنے والے ڈاکٹروں ، طبی عملے اور ہسپتال انتظامیہ کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے ۔

Share

ٍملک بھر میں عوامی اکثریت سوائن فلو کے بارے میں بنیادی معلومات رکھتی ہے ۔گیلپ سروے

حکومت کی جانب سے سوائن فلو کے تدارکے کیے گئے اقدامات پر عدم اطمینان کا اظہار

اسلام آباد۔ملک بھر میں عوامی اکثریت سوائن فلو کے بارے میں بنیادی معلومات رکھتی ہے حکومتی اقدامات پر عدم اطمینان کا اظہار ۔ گیلپ سروے کے مطابق ملک بھر کے شہری و دیہی علاقوں کے افراد سے کئے گئے سروے کے مطابق 63 فیصد پاکستانیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ سوائن فلو کے بارے میں معلومات رکھتے ہیں جبکہ 37فیصد افراد اس حوالے سے کوئی معلومات نہیں رکھتے سروے کے مطابق سوائن فلو کے بارے میں معلومات رکھنے والے افراد میں سے 59فیصد لوگوں کا دعویٰ ہے کہ ملکی آبادی سوائن فلو کے باعث خطرے میں ہے جبکہ 35 فیصد لوگوں کا کہنا ہے کہ اس سے اتنا زیادہ خطرہ ہے کہ سوائن فلو کے حوالے سے 6فیصد لوگ غیر یقینی کیفیت کا شکار ہیں اس سروے سے ثابت ہو تا ہے کہ پاکستانی عوام خود کو سوائن فلو کا شکار ہو نے سے بچانے کے لئے حفاظتی اقدامات کر تے ہیں سوائن فلو کے تدارک بارے حکومتی اقدامات کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں 48 فیصد لوگوں نے اطمینان جبکہ 49 فیصد لوگوں نے عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے صرف تین فیصد لوگوں نے اس حوالے سے کوئی جواب نہیں دیا۔

Share