Urdu News Urdu News...The 3rd Largest Online Urdu Newspaper Fri, 11 Feb 2011 13:39:47 +0000 en hourly 1 http://wordpress.org/?v=3.3.1 گول میز کانفرنس کے حوالے سے سیاستدانوں کا جواب مثبت ہے ، آصف علی زرداری /2011/02/10/news-1750/ /2011/02/10/news-1750/#comments Thu, 10 Feb 2011 10:45:46 +0000 Editor /?p=49634 قومی مشاورت کے ذریعے ملک کو درپیش بحرانوں سے نکال لیا جائے گا
صدر اور وزیر اعظم کی ملاقات میں عزم
وزیر اعظم نے صدر کو باضابطہ طور پر وفاقی کابینہ کے مستعفی ہونے کے بارے میں آگاہ کیا
اسلام آباد ‘ صدر وزیر اعظم نے عزم کیا ہے کہ وسیع تر قومی مشاورت کے ذریعے ملک کو درپیش بحرانوں سے نکال لیا جائے گا ۔ ہر موقع پر سیاسی و جمہوری قوتوں نے قومی ایشوز کے حل کے حوالے سے زبردست ہم آہنگی کا مظاہرہ کیا ہے ۔ اب بھی سیاستدانوں کے ان ہی مثبت اور جمہوری رویوں کی توقع ہے ۔ وزیر اعظم سید یوسف رضاگیلانی نے جمعرات کو اسلام آباد میں صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کی ۔ ملک کی سیاسی صورتحال ، نئی کابینہ کی تشکیل ، مجوزہ گول میز کانفرنس سمیت دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نے صدر کو باضابطہ طور پر آگاہ کیا کہ کابینہ کے تمام وزراء رضاکارانہ طور پر مستعفی ہو گئے ہیں ۔کابینہ کی تحلیل سے متعلق پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کے فیصلے کی مکمل پاسداری کی گئی ہے ۔ اس فیصلے کے حوالے سے کابینہ کے اجلاس کی طلبی سے قبل اتحادی جماعتوں کو بھی اعتماد میں لیا گیا تھا ۔ وزیر اعظم نے ان رابطوں کے حوالے سے بھی صدر کو آگاہ کیا ۔ ذرائع کے مطابق صدر نے گول میز کانفرنس کے حوالے سے سیاسی قائدین سے رابطوں کے بارے میں وزیر اعظم کو آگاہ کیا ۔ صدر نے وزیر اعظم کو بتایا کہ وہ کانفرنس کے انعقاد کے سلسلے میں بیشتر سیاستدانوں سے رابطے کر چکے ہیں ۔ سیاسی قوتوں کی جانب سے مثبت جواب ملا ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ نئی کابینہ کی تشکیل کے حوالے سے وزراء کے ناموں پر بھی مشاورت ہوئی ۔

]]>
/2011/02/10/news-1750/feed/ 0
حج کرپشن کیس کی تحقیقاتی رپورٹ روزانہ کی بنیاد پر عدالت میں جمع کرائی جائے:سپریم کورٹ /2011/02/10/news-1749/ /2011/02/10/news-1749/#comments Thu, 10 Feb 2011 10:44:57 +0000 Editor /?p=49632 ۔95 فیصد حاجیوں کو 750 ریال فی کس کے حساب سے معاوضہ ادا کردیاہے: سیکرٹری مذہبی امور شوکت حیات درانی
عدالت کا معاوضے کی ادائیگی پر اظہار اطمینان ، مکمل رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت
سابق وفاقی وزیر حامد سعید کاظمی کے خلاف کرپشن میں ملوث ہونے کے ثبوت مل گئے: ڈائریکٹر ایف آئی اے
152 افسران میں سے 15 کنٹریکٹ ملازمین کو فارغ کرنے کی سفارش وزیراعظم کو بھیج دی ہے:سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ
عدالت نے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کو کنٹریکٹ پر دوبارہ تعینات کیے گئے افسران کی فہرست سمیت طلب کرلیا
مقدمہ کی مزید سماعت 15 فروری تک ملتوی

اسلام آباد ‘[ سپریم کورٹ آف پاکستان نے حکم دیا ہے کہ حج کرپشن کیس کی تحقیقاتی رپورٹ روزانہ کی بنیاد پر عدالت میں جمع کرائی جائے جبکہ جسٹس راجہ فیاض اس رپورٹ کا جائزہ لیں گے۔ عدالت کو بتایا گیا ہے کہ152افسران میں سے 15کنٹریکٹ ملازمین کو فارغ کرنے کی سفارش وزیر اعظم کو بھیج دی گئی ہے۔جس میں آئی جی سندھ صلاح الدین بابر خٹک اور ڈی جی ایف آئی اے وسیم احمد کے نام اس فہرست میں شامل ہیں۔حج کرپشن کیس کی سماعت چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں جسٹس جاوید اقبال ، جسٹس تصدق حسین جیلانی ،جسٹس راجہ فیاض احمد ،جسٹس محمد سائر علی ، جسٹس آصف سعید کھوسہ ،جسٹس غلام ربانی اور جسٹس خلیل الرحمن رمدے پر مشتمل 8 رکنی لارجر بینچ سپریم کورٹ آف پاکستان میں حج کرپشن کیس کی سماعت کے دوران سیکرٹری مذہبی امور شوکت حیات درانی نے عدالت کو بتایا کہ 95فیصد حاجیوں کو 750ریال فی کس کے حساب سے معاوضہ ادا کر دیا گیا ہے ۔ جس پر عدالت نے معاوضے کی رقم کی ادائیگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ہدایت کی کہ اس حوالے سے مکمل رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے۔ حج کرپشن کیس کی تحقیقات کرنے والے ڈائریکٹر ایف آئی اے حسین اصغر نے عدالت کو بتایا کہ سابق وفاقی وزیر حامد سعید کاظمی کے خلاف اس کرپشن میں ملوث ہونے کے ثبوت مل گئے ہیں اور ایک سینیئر افسر کو ان کی گرفتاری کے وارنٹ حاصل کرنے کی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے۔اس موقع پر عدالت نے قرار دیا کہ سابق وفاقی وزیر بظاہر فوجداری جرم کے مرتکب ہوئے ہیں ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔ حسین اصغر نے عدالت کو بتایا کہ حج کرپشن میں ملوث مرکزی ملزم احمد فیض کی گرفتاری کے لیے ایف آئی اے کی ٹیم سعودی عرب گئی تھی جہاں احمد فیض کابیٹا اور اس کا بھائی موجود تھے تاہم وہ خود نہیں ملے اور سعودی حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ احمد فیض کو گرفتار کر کے پاکستان کے حوالے کریں گے۔اس موقع پر جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ عام آدمی کو فورا ہتھکڑی لگا دی جاتی ہے۔ جبکہ کروڑوں کی کرپشن کرنے والوں کو تا حال گرفتار نہیں کیا جا سکا۔چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ عام آدمی کوفورا نہیں بلکہ آدھی رات کو نیند سے اٹھا کر گرفتار کیا جاتاہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ وزیراعظم کے بیٹے سے بھی اس حوالے سے پوچھ گچھ کی جائے۔ اس موقع پر ایڈیشنل ڈائریکٹر ایف آئی اے جاوید بخاری نے عدالت کوبتایا کہ زین سکھیرا کے پاس ایل ایل ایم کی ڈگری نہیں ہے جس پرچیف جسٹس نے کہا کہ کہ جب اس کے پاس ڈگری نہیں تھی تو کنسلٹنٹ کیسے لگ گیا۔اس کے خلاف مس کنڈکٹ کی کاروائی ہونی چاہیے۔بغیر تعلیم کے حکومت لوگو ں کو ایک ایک لاکھ روپے پر ملازم رکھ رہی ہے چیف جسٹس نے جاویدبخاری سے کہاکہ آپ بتائیں کہ آپ کے پرکہاں جلتے ہیں تاکہ ہم آپ کی جگہ کسی اورکومقررکریںزین سکھیراکونوازنے کے لیے قوانین میں ترامیم کرنے والے سیکریٹری نجیب اللہ کے بارے میں عدالت نے پوچھاتوجاوید بخاری نے عدالت کو بتایاکہ سیکرٹری نجیب اللہ ریٹائر ہوچکے ہیں اوراب پبلک سروس کمیشن کے رکن ہیںاس پرجسٹس خلیل الرحمان رمدے نے اٹارنی جنرل سے کہاکہ آپ حوصلہ کریں اورذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے اپناکردار اداکریں ،چیف جسٹس نے کہاکہ عزت اور ذلت اللہ کے ہاتھ میں ہے آپ کو ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہاکہ ہم عدالت ہیں کوئی تفتیشی افسرنہیں کہ ایف آئی اے کوتحقیقات کے طریقے بتائیں جسٹس خلیل الرحمان رمدے نے کہاکہ اگر کوئی ملزم ہے تووہ چاہے کسی کابیٹاہویاباپ رعایت کامستحق نہیں ہے ،جاوید بخاری نے کہاکہ زین سکھیرانے کنسلٹنٹ کے طورپر لی گئی تنخواہوں اورمراعات واپس کرنے کا بیان دیاہے اس پر چیف جسٹس نے کہاکہ وہ پیسے واپس کرکے احسان نہیں کرے گاچیف جسٹس نے ایف آئی اے حکام سے پوچھاکہ حامد سعید کاظمی سے ان کے ذرائع آمدن کے بارے میں کیوں پوچھانہیں گیاجس پرایف آئی اے کی جانب سے بتایاگیاکہ حامد سعید کاظمی کے نام 66کینال اراضی ہے جس کے بارے میں ان کا کہناہے کہ یہ زمین ان کے ایک مرید نے دی ہے انھیں 80ہزار تنخواہ ملتی تھی اورایک مدرسہ بھی چلاتے تھے ،جسٹس رمدے نے کہاکہ مدرسہ ذریعہ آمدن نہیں ہے جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہاکہ جب حامد سعید کاظمی پر قاتلانہ حملہ ہواکیاوہ بھی اسی طرح کے لین دین کا سلسلہ تونہیں تھااس موقع اعظم سواتی کے وکیل افنان کریم کنڈی نے عدالت کو بتایاکہ حامد سعید کاظمی نے تین سال تک اپنے اثاثے الیکشن کمیشن سے بھی چھپائے جس پر چیف جسٹس نے کہاکہ اثاثے چھپانابھی ایک الگ جرم ہے ایف آئی اے کے تفتیشی افسر حسین اصغر نے عدالت کو بتایاکہ ملزم احمدفیض جدہ میں روپوش ہے اوران کی فیملی بھی غیر قانونی طورپر جدہ میں رہ رہی ہے جوویزہ انھوں نے حاصل کیاتھاوہ ختم ہوچکاہے جس پرچیف جسٹس نے کہاکہ پھرسعودی حکومت انھیں واپس کیوں نہیں بھیج رہی تفتیشی نے کہاکہ اس حوالے سے قانونی تقاضے پورے کیے جارہے ہیں۔ اس موقع پر عدالت نے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کوکنٹریکٹ پر دوبارہ تعینات کیے گئے افسران کی فہرست سمیت عدالت میں طلب کیا۔ اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ایک سو ستاون افسران کو ریٹائرمنٹ کے بعد دوبارہ کنٹریکٹ پر بھرتی کیا گیا۔اور چودہ افسران کے خلاف مجاز اٹھارٹی کو سفارشات بھجوائی گئی ہیں۔اور چودہ افسران میں تین وفاقی اور ایک ایڈیشنل سیکرٹری بھی شامل ہے۔چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ سیکرٹری وزارت انسانی حقوق کے سیکرٹری جسٹس ریٹائرڈ ریاض کیانی کو کس استعداد پردوبارہ بھرتی کیاگیا ۔آپ بااثر لوگوں کو کیوں نہیں نکالتے۔سیکرٹری بننے والے ان ریٹائرڈ جرنیلوں کا انتظامی تجربہ کیا ہے ان لوگوں سے سے پی آئی اے کے ملازموں کی ہڑتال کا معاملہ نہیں سنبھالا جا سکتا۔سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ نے عدالت کوبتایا کہ اسٹیبلشمنٹ ڈویزن عبدارووف چوہدری نے کہا کہ 152افسران میں سے 15کنٹریکٹ ملازمین کو فارغ کرنے کی سفارش وزیر اعظم کو بھیج دی گئی ہے۔جس میں آئی جی سندھ صلاح الدین بابر خٹک اور ڈی جی ایف آئی اے وسیم احمد کے نام اس فہرست میں شامل ہیں۔اس موقع پر جسٹس سائر علی نے کہا کہ کنٹریکٹ ملازمین کی تعیناتی کے حوالے سے کچھ شرائط موجود ہیں اگر کوئی ان شرائط پر پورا اترتا ہے تو اس کو تعینات کیا جاسکتا ہے۔اس دوران خیبر پختونخوا کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ صوبے کے تمام کنٹریکٹ ملازمین کو فارغ کر دیا گیا ہے۔عدالت نے قرار دیا کہ ان پندرہ افسران کے خلاف کاروائی کی گئی ہے تو باقی افسران کے خلاف بھی کارروائی کی جائے۔عدالت نے روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے مقدمہ کی مزید سماعت پندرہ فروری تک ملتوی کردی۔#

]]>
/2011/02/10/news-1749/feed/ 0
سپاٹ فکسنگ کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا گیا /2011/02/10/news-1748/ /2011/02/10/news-1748/#comments Thu, 10 Feb 2011 10:43:55 +0000 Editor /?p=49630 دبئی ‘ آئی سی سی نے اسپاٹ فکسنگ کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا۔آئی سی سی کی ویب سائٹ پر جاری کردہ فیصلہ ایک سو دو صفحات پر مشتمل ہے۔ تفصیلی فیصلے میں پانچ فروری کو دوحہ کے فیصلے کی توثیق کی گئی ہے۔ جس میں تین پاکستانی کرکٹرز محمد عامر، محمد اصف اور سلمان بٹ پر الزامات ثابت ہونے پر پابندیاں عائد کی گئیں تھیں۔ تفصیلی فیصلے میں تینوں کھلاڑیوں پر کریمنل چارجز عائد کئے گئے ہیں۔ آئی سی سی کے سربراہ ہارون لورگارٹ نے کہا ہے کہ ویب سائٹ پر فیصلہ شائع کرنے کا مقصد یہ بتانا ہے کہ آئی سی سی نے کتنے شفاف طریقے سے تحقیقات کی ہیں اس کے علاوہ تمام متعلقہ افراد کی فیصلے تک رسائی ممکن ہوسکے۔ تاہم برطانیہ میں ہونے والی تحقیقات کی وجہ سے فیصلے کے بعض نکات اور صفحات جاری نہیں کیے گئے ۔ برطانیہ میں فیصلے کے مندرجات تک رسائی اور اس کی اشاعت غیر قانونی قرار دے دی گئی ہے ۔ کھلاڑیوں کے خلاف اینٹی کرپشن کوڈ کے آرٹیکل ٹو کی متعدد شقوں کی خلاف ورزی کے تحت کارروائی کی گئی ۔ تفصیلی فیصلے میں بتایا گیا ہے کہ پہلے مظہر مجید کا ارادہ اوول ٹیسٹ میں اسپاٹ فکسنگ کا تھا لیکن ایسا نہیں ہوا ، اوول ٹیسٹ میں سلمان بٹ کو بھی میڈن اوور کھیلنے کو کہا گیا تھا اور سلمان بٹ اس کی اطلاع آئی سی سی کو دینے میں ناکام رہے ۔ تفصیلی فیصلے میں سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ لارڈز ٹیسٹ میں کرائی گئی نو بالز کی وضاحت میں تینوں کرکٹرز نے متضاد بیانات دئیے ۔ا یک موقع پر سلمان بٹ نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ لارڈز ٹیسٹ میں گڑبڑ ہوئی ہو لیکن وہ اس سے لاعلم ہیں تفصیلی فیصلے کے مطابق اسپاٹ فکسنگ کیس میں آئی سی سی کی جانب سے ذاکر خان ، شاہد آفریدی ، خواجہ نجم ، وقار یونس اور مظہر محمود سمیت پندرہ گواہ پیش ہوئے ۔ سلمان بٹ کے حق میں جیف لاسن ، ڈیوڈ ڈائر ، عبدالقادر اور اظہر زیدی نے تحریری بیانات دئیے ۔ محمد آصف کے گواہ کاؤنٹی کوچ محمد ہارون تھے جبکہ محمد عامر کا کوئی گواہ نہیں تھا۔ تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ پلیئرز کا ایجنٹ مظہر مجید انڈر کور رپورٹر مظہرمحمود سے اسپاٹ فکسنگ کی ڈیل کرنے کے بعد تینوں کرکٹرز سے مسلسل رابطے میں تھا اس دوران فون پر ان کے جو رابطے ہوئے وہ مشکوک اور غیر معمولی پائے گئے ۔ تفصیلی فیصلے میں سلمان بٹ ، محمد عامر اور محمد اصف اور مظہر مجید کے موبل فونز کے ریکارڈ کی تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔ آئی سی سی ٹریبونل نے سلمان بٹ کو اسپاٹ فکسنگ میں مرکزی کردار قرار دیا ۔ ایک موقع پر سلمان بٹ کے پہلے وکیل آفتاب گل نے بھی گڑ بڑ کا اندیشہ ظاہر کردیا تھا تاہم فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سلمان بٹ کا آن دی فیلڈر رویہ اچھا ہے اس لیے انہیں سدھرنے کا موقع دیا جا سکتا ہے فیصلے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ محمد عامر کے خلاف بھی کیس کافی مضبوط تا کیوں کہ عامر نے مظہر مجید کی پیش گوئی کے عین مطابق نو بالز کیں ۔ آئی سی سی ٹریبونل کا موقف تھا کہ ٹیم میں ضرور کوئی تھا جو مظہر مجید کو اندر کی معلومات دے رہا تھا اور کپتان کے علاوہ یہ گارنٹی کوئی نہیں دے سکتا کہ کون سا بولر کتنے اوور کرائے گا ۔ مجموعی طورپر سلمان بٹ پر آئی سی سی اینٹی کرپشن کو ڈ کے آٹھ نکات کی خلاف ورزی جبکہ آصف اور عامر کے خلاف چھ ۔ چھ نکات کی خلاف ورزی کے الزام میں کارروائی کی گئی ۔ #

]]>
/2011/02/10/news-1748/feed/ 0
کابینہ کی تحلیل کے بعد بھی20سے زائد پوشیدہ وزراء تاحال عہدوں کے مزے لوٹنے میں مصروف /2011/02/10/news-1747/ /2011/02/10/news-1747/#comments Thu, 10 Feb 2011 10:42:45 +0000 Editor /?p=49628 اسلام آباد‘20 سے زائد پوشیدہ وزراء تاحال عہدوں کے مزے لوٹنے میں مصروف ہیں ۔کابینہ کی تحلیل کے بعد بھی 20 سے زائد پوشیدہ وزراء ایوان صدر کے آشیرباد سے تاحال مزے لوٹ رہے ہیں۔ پوشیدہ وزراء میں جے یو آئی کے مولانا فضل الرحمان، اے این پی کے سربراہ اسفند یار ولی، صدر کے سیکرٹری جنرل سلمان فاروقی، سینیٹ میں قائد ایوان نیئربخاری اور اسلامی نطریاتی کونسل کے چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی شامل ہیں، جبکہ سینیٹ میں چیف ویپ مولانا عبد الغفور حیدری، فرزانہ راجہ، شہناز وزیرعلی اور ایرا چیئرمین حامد یار حراج بھی تاحال پوشیدہ وزراء کے عہدوں پر برقرار ہیں۔ چیئرمین قومی کمیشن برائے سرکاری اصلاحات چوھدری عبد الغفور، چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ سلیم مانڈوی والا اور سفر عمومی اکبر خواجہ بھی پوشیدہ وزراء کی فہرست میں شامل ہیں۔

]]>
/2011/02/10/news-1747/feed/ 0
تھائی لینڈ کی ائرلائن نے فضائی میزبانی کیلئے خواجہ سراء بھرتی کرلئے /2011/02/10/news-1746/ /2011/02/10/news-1746/#comments Thu, 10 Feb 2011 10:42:02 +0000 Editor /?p=49626 بنکاک‘تھائی لینڈ کی ائرلائن نے فضائی میزبانی کیلئے مرد یا عورتوں کے ساتھ ساتھ خواجہ سراء بھرتی کرلئے۔پی سی ائر نامی کمپنی اپنی پروازوں کا سلسلہ اپریل سے شروع کرے گی اور فضائی میز بانی کیلئے ابھی تک 19 عورتیں ، سات مرد اور چار خواجہ سراء بھرتی کئے گئے ہیں۔ کمپنی انتظامہ کا کہنا ہے کہ وہ فضائی میز بانی کے لیے خواجہ سراؤں کی تعداد بڑھانا چاہتی ہے، اور ان کے نزدیک فضائی میزبانی کے لیے واحد میرٹ امیدوار کا پرکشش ہونا ہے۔

]]>
/2011/02/10/news-1746/feed/ 0
لاہور ہائی کورٹ میں ریمنڈ ڈیوس کو ویانا کنونشن کے تحت استثنیٰ دینے سے روکنے کے لئے درخواست دائر /2011/02/10/news-1745/ /2011/02/10/news-1745/#comments Thu, 10 Feb 2011 10:41:03 +0000 Editor /?p=49624 لاہور‘ لاہور ہائی کورٹ میں ریمنڈ ڈیوس کو ویانا کنونشن کے تحت استثنیٰ دینے سے روکنے کے لئے درخواست دائر کر دی گئی ۔ درخواست گزار بیرسٹر جاوید اقبال جعفری کا کہنا ہے کہ ریمنڈ نے جعلسازی سے ویزہ حاصل کیا اس لئے اسے ویانا کنونشن کے تحت استثنیٰ حاصل نہیں ہے ۔ درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ وہ حکومت پاکستان کو ریمنڈ ڈیوس کو استثنیٰ دینے سے روکے ۔ انہوں نے کہا کہ 1972 ء کے ویانا کنونشن کے تحت کوئی بھی شخص جو جعلسازی سے ویزہ حاصل کرتا ہے اسے سفارتی استثنیٰ نہیں دیا جا سکتا ۔ درخواست گزار نے کہا کہ عدالت ریمنڈ ڈیوس کو سفارتی استثنیٰ سے روکنے کے لئے حکم امتناعی جاری کرے اور ریمنڈ ڈیوس کو سفارتی استثنیٰ دینے سے روکے ۔

]]>
/2011/02/10/news-1745/feed/ 0
پاکستان نے حتف سیون کروز میزائل کا کامیاب تجربہ کر لیا /2011/02/10/news-1744/ /2011/02/10/news-1744/#comments Thu, 10 Feb 2011 10:36:21 +0000 Editor /?p=49618 میزائل 600 کلومیٹر تک اپنے حدف کو کامیابی سے نشانہ بنا سکتا ہے
تجربہ کے موقع پر آرمی چیف جنرل کیانی ، جنرل خالد شمیم وائیں ، سائنسدانوں اور انجینئرز کی بڑی تعداد موجود تھی
کامیاب تجربہ پر صدر زرداری اور وزیر اعظم گیلانی کی سائنسدانوں اور انجینئرز کو مبارکباد

راولپنڈی ‘ پاکستان نے حتف سیون کروز میزائل بابر کا کامیاب تجربہ کر لیا ۔ میزائل 600 کلومیٹر تک اپنے حدف کو کامیابی سے نشانہ بنا سکتا ہے ۔ میزائل روائیتی اور غیر روائیتی وار ہیڈ کو لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ آئی ایس پی آر کے مطابق میزائل نے اپنے ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنایا ۔ واضح رہے کہ یہ میزائل مکمل طور پر مقامی سطح پر تیار کیا گیا ہے ۔ تجربہ کے موقع پر چیف آف آرمی جنرل اشفاق پرویز کیانی ، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل خالد شمیم وائیں ، سائنسدانوں اور انجینئروں کی بڑی تعداد موقع پر موجود تھی ۔ میزائل کے کامیاب تجربہ پر وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور صدر مملکت آصف علی زرداری نے سائنسدانوں اور انجینئروں کو مبارک باد دی ۔

]]>
/2011/02/10/news-1744/feed/ 0
میر علی سے خاصہ دار فورس کے دو اہلکاروں سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد /2011/02/10/news-1743/ /2011/02/10/news-1743/#comments Thu, 10 Feb 2011 10:35:04 +0000 Editor /?p=49616 اورکزئی ایجنسی + میرانشاہ ‘ اورکزئی ایجنسی کے علاقہ میرا زئی میں گرلز ڈگری کالج کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا جبکہ دوسرے واقعہ میں میران شاہ کے علاقہ میر علی سے خاصہ دار فورس کے دو اہلکاروں سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں ۔ ذرائع کے مطابق اورکزئی ایجنسی کے علاقہ میرا زئی میں گرلز کالج کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ کر دیا گیا ۔ دھماکے سے کالج کے چار کمرے مکمل طور پر تباہ ہو گئے ۔ واضح رہے کہ اب تک عسکریت پسند اورکزئی ایجنسی میں 72 سے زائد تعلیمی اداروں کو تبا ہ کر دیا گیا ہے جبکہ سوات ، مہمند اور باجوڑ ایجنسیوں میں 700سے 800سکول تباہ کئے جا چکے ہیں ۔ دوسری جانب دو خاصہ دار فورس اہلکاروں سمیت 3 افراد کی لاشیں میرانشاہ سے برآمد ہوئی ہیں ان اہلکاروں کو چند روز قبل اغواء کیا گیا تھا ۔

]]>
/2011/02/10/news-1743/feed/ 0
ریمنڈ ڈیوس کے پاس آفیشل بزنس ویزہ ہے‘ حسین حقانی /2011/02/10/news-1742/ /2011/02/10/news-1742/#comments Thu, 10 Feb 2011 10:34:15 +0000 Editor /?p=49614 پاک امریکا تعلقات کو خراب کرنے والے غلط بیانی سے گریز کریں
امریکیوں کو مکمل چھان بین کے بعد اسلام آباد سے منظوری کے بعد ہی ویزے جاری کیے جاتے ہیں
واشنگٹن‘ امریکا میں متعین پاکستانی سفیر حسین حقانی نے کہا ہے کہ ریمنڈڈیوس کا ویزہ آفیشل بزنس کاتھا۔ امریکیوں کو بے تحاشا ویزے جاری کرنے کی خبریں بے بنیاد ہیں۔ امریکیوں کو مکمل چھان بین کے بعد اسلام آباد سے منظوری کے بعد ہی ویزے جاری کیے جاتے ہیں۔ سفارتکار دفتر خارجہ کی منظوری سے ہی پاکستان آتے ہیں۔واشنگٹن میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حسین حقانی نے کہا کہ سفیرکی ذمہ داری ویزے جاری کرنا نہیں بلکہ دو ممالک کے درمیان تعلقات کو بہتربنانا ہے۔ پاک امریکا تعلقات کو خراب کرنے والے غلط بیانی سے گریز کریں ۔انھوں نے کہا کہ امریکیوں کو مکمل چھان بین کے بعد اسلام آباد سے منظوری کے بعد ہی ویزے جاری کیے جاتے ہیں ۔امریکی شہری ریمنڈڈیوس آفیشل بزنس ویزہ پر تھا ، جسکی مدت تین ماہ تھی۔ویزے کی مدت ختم ہونے کے بعد معاملہ حکومت پاکستان اور امریکی شہری کے درمیان ہے۔ انکا کہنا تھا کہ کنٹریکٹ پر بھیجے گئے افراد کو بھی سفارتکار تسلیم کیا جاتا ہے۔

]]>
/2011/02/10/news-1742/feed/ 0
افغان جنگ میں گزشتہ سال اوسطاً روزانہ 2 بچے ہلاک ہوئے،افغان رائٹس مانیٹر کی رپورٹ /2011/02/10/news-1741/ /2011/02/10/news-1741/#comments Thu, 10 Feb 2011 10:33:06 +0000 Editor /?p=49612 ۔64 فیصد بچوں کی ہلاکتوں کی ذمہ دار ،17 فیصد نیٹو افواج اور 4 فیصد افغان فورسز ہیں
افغان حکومت بچوں کے تحفظ کے حوالے سے اقدامات یقینی بنائے، تنظیم کا مطالبہ

کابل‘ افغان رائٹس مانیٹر(اے آر ایم) نے اپنی رپورٹ میں گزشتہ سال 2010ء میں بچوں کی بڑھتی ہوئی ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ روزانہ دو بچے ہلاک ہو جاتے تھے اور دو تہائی بچوں کی ہلاکتوں کے ذمہ دار طالبان عسکریت پسند ہیں(اے آرایم ) کے مطابق افغانستان میں طالبان کے خلاف جنگ میں گزشتہ سال یکم جنوری سے لے کر 31 دسمبر 2010ء تک 739 بچے ہلاک ہوئے ہیں ) جن میں 64 فیصد بچے طالبان کی جانب سے سڑک کنارے نصب بم حملوں کا نشانہ بنے۔سڑک کنارے نصب بم حملوں سے نیٹو فوج بھی زیادہ تر نشانہ بنتے ہیں بلکہ ان کی ہلاکتوں کی ایک وجہ سڑک کنارے نصب بم حملے بھی ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 17 فیصد بچوں کی ہلاکتوں کی ذمہ د ار افغانستان میں ایک لاکھ 40 ہزار نیٹو افواج جبکہ 4 فیصد افغان فورسز بھی ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں شہریوں کی ہلاکتیں ایک حساس معاملہ بن چکا ہے کیونکہ شہریوں کی ہلاکتیں اب معمول کا حصہ بن گئی ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سال 2010ء بچوں کی ہلاکتوں کی وجہ سے اچھا سال نہیں رہا۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ افغانستان کے شمالی صوبہ پنج شیر اور وسطیٰ صوبہ بامیان بچوں کے حوالے سے محفوظ صوبے رہے ہیں۔ رپورٹ میں بچوں کی گزشتہ سال کی ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اور مطالبہ کیا گیا ہے کہ افغان حکومت بچوں کے تحفظ کے حوالے سے اقدامات یقینی بنائے جائیں۔

]]>
/2011/02/10/news-1741/feed/ 0