فیض احمد فیض کے بارے کیا کہئیے ، انقلابی شاعری میں بھی ان کا مقام خاص اہمیت کا حامل ہے اور غزل گوئی اور نظم میں بھی یہ اپنی مثال آپ تھے۔لفظوں کو ایسے لڑیوں میں پروتے تھے کہ بندے کو واہ کیا بنا چارہ نہ تھا۔یہاں ہم نے ان کی نظموں کو ان کی ہی اپنی ہی آواز میں پیش کیا ہے۔یہ سچ ہے کہ جب کوئی شاعر اپنا کلام اپنی ہی آواز میں سنائے تو اس کا کلام دل میں ایسے جگہ گھیرتا ہے جیسے کہ یہ سب اسی کے ساتھ ہی بیتا ہو اور جب کلام فیض احمد فیض جیسے شاعر کا ہو تو پھر کچھ کہنا بیکار ہی ٹھرتا ہے۔
سعادت حسن منٹو کا نام افسانہ نگاری میں ایک خاص اہمیت کا حامل ہے۔بہت سے سنجیدہ حلقے منٹو کی برائیاں کرتے نہیں تھکتے مگر یہ سچ ہے کہ یہی سنجیدہ لوگ منٹو کے افسانے چھپ چھپ کر پڑھا کرتے ہیں۔کچھ لوگوں کے نزدیک یہ بھی ہے کہ منٹو نے اپنی بہیودہ افسانہ نگاری کے زریعہ سے نوجوان نسل کو غلط راستے پر لگانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی مگر ہماری نگاہ میں منٹو نے انسانوں کے اندر کے گندے اذہان کی سچائی کے ایسے پردے فاش کئے جو سچ کے سوا کچھ اور نہیں۔منٹو کی ہر کہانی میں اک سبق ہے جو انسان کو اس کی سچائی کا پتہ دیتا ہے
ناصر کاظمی کی شاعری بھی اپنا عجیب سا رنگ لئے ہوئے ہے ، عرفِ عام میں ناصر کو درد کا شاعر بھی کہا جاتا ہے۔ان کی شاعری میں جہاں درد کی لہریں ہیں وہاں مٹھاس بھی دوسروں سے بڑھ کر ہے ۔یہاں ہم نے ان کی بھی چیدہ چیدہ غزلوں کو پرویا ہے ہمیں امید ہے ہماری یہ کاوش آپ کو پسند آئے گی۔
پطرس بخاری ادبی دنیا میں ایک بڑے نام سے جانے جاتے ہیں ان کے تمام مضامین اپنی مثال آپ ہیں جہاں ان میں مزاح کا عنصر بھرا ہوا ہے وہاں ان میں لطیف سا طنز بھی ہے کہ انسان سوچے بِنا نہیں رہ سکتا۔پطرس کی سب تحریریں ہی اپنے اپنے رنگ میں جدا سی ہیں مگر ان کی کسی بھی تحریر میں انسان کو تشنگی محسوس نہیں ہوتی اور یہی پطرس کی تحریریوں کا خاصہ ہے
ابنِ انشاء کا نام بھی کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے ان کے تحریریں اپنی مثال آپ ہیں۔ان کی تحریروں میں جہاں معلومات کا خزانہ چھپا ہے وہاں انشاء جی نے انسان کی سوچوں کو بڑی خوبصورتی سے اجاگر کیا ہے جس سے انسان بہت کچھ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ہم نے یہاں ان کی چیدہ چیدہ تحریروں کو پرویا ہے۔امید ہے آپ کو ہماری یہ کاوش پسند آئے گی
مرزا غالب کے بارے کیا کہئیے ،کچھ بھی کہنا بیکار ہے ۔مرزا جی کی شاعری اپنی مثال آپ ہے شاعری بھی ایسی کہ دل میں سماجائے اور بندہ سوچتا ہی رہ جائےکہ ، مرزا جی نے کیا کہہ دیا۔ہم نے پورے دیوانِ غالب کو یہاں نہیں پرویا، بس مرزا جی کی چند چیدہ چیدہ غزلوں کو اس لڑی میں رکھا ہے امید ہے آپ ان کو پسند کریں گے۔



