Urdu News-Online Urdu Newspaper

Urdu news Online Urdu Newspaper

Urdu News-Online Urdu Newspaper header image 4

ہلمند میں طالبان جنگجوؤں کے خلاف اتحادی افواج کا ’’آپریشن مشترک‘‘جاری

February 14th, 2010 · No Comments

کابل‘ تحادی اور افغان افواج نے افغانستان کے جنوبی صوبے ہلمند میں طالبان کے مضبوط گڑھ مرجاہ شہر پر حملہ کر کے بیس مزاحمت کار ہلاک کرنے کا دعوی کیا ہے۔امریکہ کی زیر قیادت اتحادی اور افغان افواج نے افغانستان کے جنوبی صوبے ہلمند میں طالبان کے مضبوط گڑھ مرجاہ شہر پر حملہ کردیا ہے ۔ آپریشن مشترک کے نام سے جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب شروع ہونے والی یہ کارروائی 2001ء کے بعد سے اب تک کا سب سے بڑا آپریشن ہے جس میں 15 ہزار امریکی اور اتحادی فوجی حصہ لے رہے ہیں۔لڑائی کے ابتدائی مراحل میں صوبائی ترجمان کے مطابق اس کارروائی کا مقصد مرجاہ شہر کا دوبارہ کنٹرول حاصل کرنا ہے جو اس وقت طالبان کے افیون کے دھندے کا اہم مرکز ہے۔?آپریشن مشترک کے آغاز سے قبل ایک کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل نک لاک (Nick Lock)نے بین الاقوامی فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہم ایسے علاقے میں داخل ہونے جارہے ہیں جو کافی عرصے سے طالبان کے قبضے میں ہے اور یہاں کی مقامی آبادی عسکریت پسندوں کے زیر اثر خوف زدہ زندگی گزار رہی ہے۔یہ آپریشن ایک ایسے وقت ہورہا ہے جب عالمی سطح پر افغانستان میں امن واستحکام کی کوششیں کی جارہی ہیں اور اس ضمن میں حال ہی میں لندن کانفرنس بھی منعقد کی گئی جس میں ان طالبان جنگجوؤں کو مصالحت کی پیش کش کے حوالے سے بھی غور کیا ہوا جو تشدد کی راہ ترک کرتے ہوئے ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کے خواہاں ہوں۔پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ بھی افغانستان میں سیاسی مفاہمت کے اس عمل کو آگے بڑھانے میں مدد دینے کے لیے تیار ہے جس کی قیادت خود افغان حکومت کررہی ہو۔ اس ہفتے اسلام آباد میں چین کے نائب سفیر نے بھی کہا تھا کہ ان کا ملک افغانستان میں حکومت کی طرف سے اس حکمت عملی کی حمایت کرے گا جو ملک میں قیام امن کی غرض سے تیار کی جارہی ہے۔

Tags: افغانستان

افغانستان ‘ اتحادی افواج نے طالبان کے خلاف سب سے بڑا آپریشن شروع کر دیا

February 13th, 2010 · No Comments

ہلمند ‘ نیٹو افواج نے افغانستان کے صوبے ہلمند میں طالبان کے خلاف حتمی آپریشن شروع کردیا۔اطلاعات کے مطابق جنوبی صوبہ ہلمند کے ضلع مرجا میں طالبان کے خلاف کارروائی کو آپریشن مشترک کا نام دیا گیا ہے۔اس کی قیادت برطانوی جنرل نک کارٹر کررہے ہیں۔کارروائی میں برطانوی اور امریکی فوجیوں کے علاوہ افغان سیکیورٹی فورسزبھی شامل ہیں۔آپریشن سے قبل برطانوی اور افغان کمانڈرز نے کارروائی میں حصہ لینے والے فوجیوں سے خطاب کیا۔برطانوی بریگیڈئیر جیمس کووان نے کہا کہ وہ اتحادیوں اور افغان فوج کے ساتھ مل کر آپریشن کررہے ہیں۔انھوں نے فوجیوں سے کہا کہ کارروائی افغان عوام کو تحفظ اور دشمن کو شکست دینے کے لیے ہے جس کے دوران شہریوں کی ہلاکتوں سے حتیٰ الامکان بچا جائے۔افغانستان میں گزشتہ آٹھ سالوں میں ہونے والی یہ سب سے بڑی کارروائی قرار دی جارہی ہے جس کا مقصد ہلمند میں طالبان کے آخری مضبوط گڑھ کا خاتمہ کرکے حکومت کا کنٹرول قائم کرنا ہے۔مرجا میں حتمی آپریشن کے پیش نظر ہزاروں خاندان پہلے ہی دیگر علاقوں کی جانب نقل مکانی کرچکے ہیں

Tags: افغانستان , بریکنگ نیوز

کابل ‘ صدارتی محل میں کابینہ کی حلف برداری کے موقع پرطالبان کے خودکش حملے، جھڑپیں، پولیس اور انٹیلی جنس اہلکاروں سمیت10 افراد ہلاک اور 30 زخمی

January 18th, 2010 · No Comments

طالبان نے حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ،20خودکش حملہ آوروں نے کارروائی کی‘ ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد
کابل ۔ افغان دارالحکومت کابل میں صدارتی محل میں کابینہ کی حلف برداری کے موقع پر قریب واقع وزارت دفاع سمیت کئی سرکاری عمارتوں پر طالبان کے خودکش حملوں اور جھڑپوں میںپولیس اور انٹیلی جنس اہلکاروں سمیت 10 افراد ہلاک اور 30 زخمی ہو گئے ہیں ۔طالبان نے حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے ۔ عرب ٹی وی ’’الجزیرہ‘‘ کے مطابق پیر کی صبح دارالحکومت کابل میں صدارتی محل میں افغان کابینہ کی حلف برداری کے موقع پر خودکش جیکٹس اور خودکار ہتھیاروں سے مسلح طالبان جنگجوؤں نے قریب واقع سرکاری عمارتوںپر بیک وقت حملے کئے پہلے ایک خود کش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑادیا۔ غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق خودکش حملے کے بعد حملہ آوروں نے وزارت دفاع ‘ وزارت انصاف ‘ مرکزی بینک اور سرینا ہوٹل میں داخل ہو کر فائرنگ شروع کی ہے ۔جس کے بعد پولیس اور افغان و اتحادی سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور دونوں اطراف میں شدید جھڑپ شروع ہوئی ۔ ذرائع کے مطابق 20 جنگجو صدارتی محل کے قریب وزارت دفاع ،وزارت انصاف ‘ وزارت صنعت و معدنیات اور مرکزی بینک پر حملے کے لئے داخل ہو گئے ۔ خودکش حملوں اور جھڑپوں میں10 افراد ہلاک اور 30 زخمی ہو گئے ہیں ۔ حملے کے بعد سرینا ہوٹل کے کچھ حصوں میں آگ لگ گئی۔ اس دوران شاپنگ سنٹر کے باہر ایک اور خودکش حملہ کیا گیا۔عینی شاہدین کے مطابق زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے ۔ اس علاقے میں مرکزی بینک کے عقب میں افغان صدر حامد کرزئی کا محل ہے اس کے علاوہ سرینا ہوٹل اور کئی وزارتوں کے دفاتر بھی یہاں واقع ہیں ۔ دریں اثناء طالبان نے افغانستان کے دارالحکومت کابل میں صدارتی محل کے قریب بینک اور دیگر حکومتی عمارات پر حملوں کی ذمہ داری قبول کر لی ۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے نامعلوم مقام سے غیر ملکی خبررساں ادارے کو ٹیلی فون پر بتایا کہ کابل میں سرکاری عمارات پر سلسلہ وار فائرنگ اور حملے طالبان نے ہی کئے تھے ۔ ترجمان طالبان کا مزید کہنا تھا کہ صدارتی محل کے اردگرد دفاع، خزانہ ‘ انصاف اور دیگر وزارتوں کی عمارات پر حملے طالبان جنگجوؤں نے کئے ۔ انہوں نے کہا کہ طالبان کے 20 کے قریب خودکش حملہ آور علاقے صدارتی محل کے قریب سرکاری عمارتوں میں داخل ہوئے اور حملے کئے ہیں جبکہ ایک عسکریت پسند حملہ آور نے صدارتی محل کے قریب کمپلیکس میں خود کو اڑا دیا ۔ صدارتی محل کے قریب عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ۔

Tags: افغانستان , بریکنگ نیوز