ہم مذاکرات سے انکاری نہیں لیکن مسئلے کا واحد سہ فریقی مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے
مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے میرے اصولی موقف میں تبدیلی کا سوال ہی پیدا نہیں ہو تا
بھارت کو اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد اور بھارتی جیلوں میں قید ہزاروں کشمیریوں کو رہا کرنا ہوگا
کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین کی ٹیلی فون پرثناء نیوز سے خصوصی بات چیت
اسلام آباد ‘ کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئر مین سید علی شاہ گیلانی نے واضح کیا ہے کہمسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے میرے اصولی موقف میں تبدیلی کا سوال ہی پیدا نہیں ہو تا۔ہم مذاکرات سے انکاری نہیں لیکن جب تک بھارت جموں کشمیر کی متنازعہ حیثیت تسلیم نہیں کرتا ا سوقت تک اس سے مذاکرات ممکن نہیں ۔ مسئلے کا واحد حل سہ فریقی مذاکرات سے ہی ممکن ہے ۔بامقصد مذاکرات کیلئے بھارت کو اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کرانا ہو گا۔ بھارتی جیلوں میں قید ہزاروں کشمیریوں کو رہا کرنا پڑے گا۔ نئی دہلی سے ٹیلی فون پر’’ثناء نیوز‘‘ سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے سید علی شاہ گیلانی نے کہا کہ ہم مسئلہ کشمیر کا پر امن اور منصفانہ حل چاہتے ہیں۔ اس سلسلے میں بھارت سے مذاکرات اسی وقت ممکن ہیں جب تک بھارتی حکومت جموں و کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو تسلیم کرے ۔انہوں نے کہا کہ جب بھارت مسئلہ کشمیر کو متنازعہ تسلیم کر نے کو تیار نہیں تو ایسے حالات میںبھارت سے مذاکرات کس طرح کامیاب ہو سکتے ہیں مذاکرات سے قبل بھارتی حکومت کو جموں و کشمیر سے فوج کا مکمل انخلاء اور وہاں پر رائج کالے قوانین کا خاتمہ کر نا ہو گا ۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا میںبے بنیاد خبریں پھیلائی جارہی ہیں کہ ہم نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اپنے موقف میں تبدیلی لائی ہے ۔ میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہم نے اپنے اصولی موقف پر قائم ہیں اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی ہے ۔ بھارت سے اسی وقت مذاکرات ممکن ہیں جب بھارت کی حکومت کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو تسلیم کرے۔ سید علی گیلانی نے کہا کہ گزشتہ ساٹھ سالوں سے بھارت نے کشمیریوں کو غلام بنا رکھا ہے ۔ خواتین کی بے حرمتی اور نوجوانوں کو قتل کر نا بھارتی فوج کا وطیرہ بن چکا ہے ایسے حالات میں بھارت سے مذاکرات کیسے کامیاب ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ حقیقت یہ ہے کہ بھارت مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے کبھی بھی سنجیدہ نہیں رہا اور نہ ہی اس نے مذاکرات کی کامیابی کے لئے کوئی موثر پالیسی اختیار کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے کشمیر پر دو طرفہ مذاکرات کی کبھی حمایت نہیں کی بلکہ ہمارا موقف واضح ہے کہ اس مسئلے کے پاکستان ،بھارت اور کشمیری عوام تین بنیادی فریق ہیں۔ اس لئے سہ فریقی مذاکرات کے ذریعے ہی اس مسئلے کو حل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ با مقصد مذاکرات کے لئے بھارت کو اقوام متحدہ کی قرارداوں پر عملدر آمد کا واضح لفظوں میں اعلان کر نا ہو گا جن کے تحت کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو تسلیم کیا گیا ہے کہ کشمیری اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے سلسلے میں ان کا موقف وہی ہے جو پہلے تھا اس میں تبدیلی یا انحراف کا سوال ہی پیدا نہیں ہو تا۔ دریں اثناء نئی دہلی میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی شاہ گیلانی نے اس امر کا ایک بار پھر اعادہ کیا ہے کہ ریاست جموںو کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے جس کا حل ہونا ابھی باقی ہے اور مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل ہونا چاہیئے تاکہ 62 سالہ متنازعہ پرامن انداز سے حل کیا جا سکے اور جنوبی ایشیاء میں دیر پا امن کا قیام ممکن بنایا جا سکے ۔چیئرمین حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ سہ فریقی مذاکرات کے ذریعے بھی مسئلہ کشمیر کو حل کیا جا سکتا ہے اگر بھارت پاکستان اور کشمیری قیادت کو عالمی برادری کے زیر نگرانی بامعنی ، بامقصد اور نتیجہ خیز مذاکرات کروائے جائیں تو اس مسئلہ کے حل کی امیدیں پیدا ہو سکتی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اپنی سات لاکھ افواج کو ریاست سے واپس بلائے اور مقبوضہ ریاست کے اندر کالے قوانین کا خاتمہ ، انسانی حقوق کی پامالی کو بند کرنے اور جیلوں کے اندر پڑے بے گناہ کشمیریوں کو رہا کرانے کے لیے جدوجہد کی ہے سید علی گیلانی نے کہا کہ عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیمیں مقبوضہ ریاست کے اندر کشمیریوں کی نسل کشی کو روکنے اورجنوبی ایشیا ء کے خطے کے اندر ، امن خوشحالی اور ترقی کے لیے اپنا کردار اداکریں ۔ تاکہ اس خطہ کے اندر رہنے والے ڈیڑھ ارب انسانوں کی معاشی زندگیوں میں تبدیلی لائی جا سکے ۔ پاک بھارت دو طرفہ مذاکرات وقت کا ضیاع اور بے مقصد ریہرسل ہے ۔ کیونکہ دونوں ممالک چھ دہائیوں سے دو طرفہ مذاکرات کرتے رہے ہیں جس کا آج تک کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہو سکا بلکہ مسئلہ کشمیر کو مزید پیچیدہ بنا دیا گیا ہے۔
Tags: کشمیر
سری نگر‘ بھارتی حکومت کی جانب سے مجاہدین کو عام معافی دینے کے حوالے سے کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے عوام سے ا پیل کی کہ وہ بھارت کے اس طرح کے اعلانات سے کسی ’’ خوش فہمی‘‘ میں مبتلا نہ ہوںکیونکہ اس اعلان سے بھارت ایک تیر سے دو شکار کرنا چاہتا ہے۔‘‘علاج و معالجے کیلئے نئی دلی میں مقیم سید علی گیلانی نے کہا کہ ایک طرف بھارت ہماری تحریک آزادی کو طاقت کے بل پر کچلنے کی کوشش کررہا ہے اور دوسری طرف عسکریت پسندوں کی معافی کا اعلان کرتے ہوئے یہ تاثر دے رہا ہے کہ وہ نرمی برت رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی اس پالیسی میں ہمارے لئے کوئی مثبت یا خیر کا پہلو نہیں ہے۔ انہوں نے کہا ’’بھارت کے اس اقدام سے کوئی فرق نہیں پڑیگا کیونکہ اصل مسئلہ کشمیر پر بھارت کا غاصبانہ قبضہ ہے۔‘‘ سید علی گیلانی نے کہا کہ بھارتی وزیر داخلہ نے یہ اعلان کرتے ہوئے مزید کہا ہے کہ آزاد کشمیر بھی ہمارا ہی حصہ ہے۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کے بیان سے ہمیں بھارت کے عزائم کو بھانپ لینا چاہئے۔انہوں نے کہا مسئلہ کشمیر کے متعلق بھارت کی پالیسیاں ہمیشہ پرْفریب اور شاطرانہ رہی ہیں۔بھارت اس طرح کے اعلانات سے اصل مسئلے سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کی کوشش کررہاہے۔یہ پوچھنے پر کہ کیا مجاہدین کو بھارت کی یہ پیشکش تسلیم کرلینی چاہیے؟ انہوں نے کہا کہ یہ انہیں سوچنا چاہیے کہ وہ کس مقصد کے لیے وہاں گئے اور کیا انہیں اس طرح لوٹنا چاہیے یا نہیں؟‘‘سید علی گیلانی نے کہا کہ کشمیریوں کا مقصد کوئی رعایت حاصل کرنا نہیں بلکہ جدوجہد آزادی کو اس کے منطقی انجام تک پہنچانا ہے۔انہوں نے کہاعوام کو عزم و استقلال کیساتھ جدوجہد آزادی جاری رکھنی چاہئے کیونکہ انکے بقول’’ اصل مسئلہ فوجی تسلط کا مکمل خاتمہ ہے۔
Tags: کشمیر
بھارتی حکمرانوں سے کہہ دیا ہے پہلے کشمیر کو متنازعہ تسلیم کرو ، سہ فریقی مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی جائے
جنرل مشرف نے کشمیر کاز کو نقصان پہنچایا ۔ موجودہ حکومت کی کشمیر پالیسی پر امریکی دباؤ کی گہری چھاپ ہے
کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی کانئی دہلی میں خصوصی انٹرویو
اسلام آباد‘ کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے مسئلہ کشمیر پر بھارتی حکومت سے خفیہ مذاکرات کی پیشکش ٹھکرا دی ہے اور واضح کیا ہے کہ بھارت جب تک کشمیر کو متنازعہ تسلیم کرکے تنازعے کے حل کے لیے بامعنی سہ فریقی بات چیت پر آمادہ نہیں ہوتا ۔ ذیلی سے بات چیت نہیں ہوگی ۔ سید علی گیلانی ان دنوں دہلی کے ایک ہسپتال میں ل زیر علاج ہیں۔ آج ایک جریدے سے انٹرویو میں سید علی گیلانی نے انکشاف کیا کہ دہلی میں قیام کے دوران بھارتی حکومت کے ایک اعلی افسر وجاہت حبیب اللہ کی قیادت میں وفد میرے پاس آیا تھا انہوں نے بھارتی وزیر داخلہ پی چدمبرم سے خفیہ مذاکرات کی پیشکش کی تھی علی گیلانی نے کہا کہ انہوں نے یہ پیشکش نہ صرف ٹھکرا دی بلکہ وجاہت حبیب اللہ سے کہا ہے کہ بھارتی حکمرانوں سے کہہ دیا جائے کہ پہلے کشمیر کو متنازعہ تسلیم کرو مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے بامعنی اورنتیجہ خیز سہ فریقی بات چیت کے لیے آمادہ ہوں تو بات ہو سکتی ہے ہم کسی ذیلی ااور چھوٹے ایشو پر بھارت سے بات نہیں کرنا چاہتے ۔ ہم مسئلے کے حل کے لیے سہ فریقی مذاکرات چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ہر قسم کے دو طرفہ مذاکرات کومسترد کیا ہے ہم نے بہت سوچ سمجھ کر یہ فیصلہ کیا ہے اور برسوں کے تجربات کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ کشمیر پر دو طرفہ یا خفیہ مذاکرات بے معنی ہیں خصوصا اس لیے بھی کہ بھارت کی نیت ہی ٹھیک نہیں۔ نیت ٹھیک نہ ہو تو مذاکرات کا کیا فائدہ ۔ اس سے پہلے مذاکرات کے 130 سے زیادہ دور ہو چکے ہیں ان کا کیا نتیجہ نکلا ۔ خفیہ مذاکرات کی دعوت دینے والوں سے بھی یہی کہا ہے کہ بھارت مسئلہ کشمیر کو حل کرنے میں سنجیدہ ہے تو پہلے کشمیر کو متنازعہ علاقہ تسلیم کرے اور کالے قوانین ختم کرے ۔ ظاہر ہے بھارت نے یہ باتیں تسلیم نہیں کیں چنانچہ میں نے ان مذاکرات میں شمولیت کی بھارتی پیش کش ٹھکرا دی ۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت کے نمائندے وجاہت حبیب اللہ میرے پاس دہلی میں میری رہائش گاہ پر آئے تھے ان کے ساتھ ایک گھنٹے تک ملاقات جاری رہی ۔ انہوں نے مجھے وزیر داخلہ چدمبرم کے ساتھ مذاکرات کی دعوت دی تاہم میں نے ان سے کہا کہ میں بے معنی عمل کا حصہ نہیں بننا چاہتا ۔ وجاحت حبیب اللہ نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے لیے خفیہ سفارت کاری اور ٹریک ٹو ڈپلومیسی بھی جاری ہے اس میں آپ کا کردار موثر ہو سکتا ہے میں نے ان پر واضح کیا کہ میں مذاکرات کے خلاف نہیں ، تاہم مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے ضروری ہے کہ مذاکرات سہ فریقی ہوں اور اہل کشمیر کو حق خودارادیت د ے کر مسئلہ کشمیر حل کیا جائے ۔ مقبوضہ کشمیر سے فوجی انخلاء ہو اور مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اقدامات کیے جائیں ۔ بھارت پہلے کشمیر کو متنازعہ علاقہ تسلیم کرے گا ، تمام کالے قوانین کاخاتمہ کیا جائے ، سیاسی قیدیوں کو رہا اور ریاست سے فوجی انخلاء کیا جائے ۔ بھارت کے جمہوری دعوے جھوٹ کا پلندہ ہیں۔ ان جعلی انتخابات سے تو بھارتی جمہوریت کا مکروہ چہرہ مزید بے نقاب ہوا ہے آٹھ لاکھ فوج سنگینیں تانے سر پر کھڑی ہو تو کون ایسے انتخابات کے ناٹک کو تسلیم کرے ۔ بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر میں نہتے عوام کا قتل عام کرکے بدترین دہشت گردی کی مرتکب ہو رہی ہے ۔ انسانی حقوق کے علم بردار اداروں کو چاہیے کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیاں رکوانے کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرین ۔ بھارتی جمہوریت کا خونیں اورمکروہ چہرہ دیکھا جانا چاہیئے ۔ صدر جنرل پرویز مشرف کی طرف سے مسئلہ کشمیر پر نرمی دکھانے سے بھارت کی درندگی کو مزید تقویت ملی ۔ مشرف نے کشمیر کاز کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے ۔ پاکستان کی موجودہ حکومت نے یہ بھی کہہ کر بہت بڑا ظلم کیا ہے کہ ہم کشمیر کوپاکستان کا حصہ نہیں سمجھتے ، میرے خیال میں حکومت پاکستان کا یہ بیان تقسیم ہند فارمولے کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ۔ پاکستان کی موجودہ پالیسی پر بھی امریکی دباؤ کی گہری چھاپ نظر آتی ہے ۔ پاکستانی حکمرانو ں کو یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ پاکستان کے جس حکمران نے بھی تقسیم ہند کے فارمولے سے انحراف کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر سے بے وفائی کی وہ شرمناک انجام سے دوچار ہوا ۔ 1947 ء سے لے کر اب تک پاکستان کشمیر کو اپنی شہ رگ تسلیم کرتا رہا ہے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے بھی یہی نعرہ پاکستان کو دیا۔ پاکستان نے ساٹھ برس میں تین جنگیں کشمیر پر لڑیں اور 1971 ء میں مشرقی پاکستان اسی تنازعے کی بنیاد پر الگ ہوا لیکن صدر جنرل پرویز مشرف اور موجودہ حکومت نے پاکستان کے مسلمہ موقف میں نرمی دکھا کر بھارت کی درندگی ظلم و تشدد اور ناجائز موقف کو تقویت بخشی
Tags: کشمیر