Urdu News-Online Urdu Newspaper

Urdu news Online Urdu Newspaper

Urdu News-Online Urdu Newspaper header image 4

سعودی عرب مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے مثبت کردار ادا کرے ، میرواعظ عمرفاروق

March 15th, 2010 · Comments Off

ًًجدہ ‘ کل جماعتی حریت کے چیئرمین میر واعظ نے سعودی عرب پر زور دیا کہ وہ پاکستان اور بھارت کے درمیان بنیادی تنازعہ مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لیے مثبت کردار ادا کرے میر واعظ نے جدہ میں کشمیر اوور سیز کمیٹی ،جس میں پاکستان اور آزاد کشمیرکی جملہ سیاسی جماعتوں کے ارکان شامل ہیں ،نے استقبالیہ دیا ۔میرواعظ نے تقریر کرتے ہوئے ان تمام ممبران خاص طور پر پاکستانی شہریوں کا شکریہ ادا کیا جو مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے برابر اپنے بھرپور حمایت کرتے آئے ہیں۔ میر واعظ نے کہا کہ سعودی عرب جو دین اسلام کے تعلیمات کا مرکز ہے ،کا ملت اسلامیہ کو متحد کرنے میں ایک بنیادی اور اہم رول بنتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب جس کے بھارت اور پاکستان کے ساتھ دوستانہ مراسم اور تعلقات ہیں، کو چاہئے کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان بنیادی تنازعہ مسئلہ کشمیر ہے کے حل کے لیے مثبت کردار ادا کرے ،جس طرح وہ موجودہ مسلم امہ کو درپیش مسائل ،جن میں خاص طور پر افغانستان اور فلسطین کے تنازعات شامل ہیں، کے حل کے سلسلے میں کوششیں کر رہا ہے ۔اس موقعے پر میرواعظ نے او آئی سی پر زور دیا کہ وہ جلد سے جلد ایک خیرسگالی وفد کشمیر روانہ کرے تاکہ وہ یہاں کے اصل حالات اور واقعات اور زمینی صورتحال اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا بچشم خود مشاہدہ کر سکے۔میر واعظ نے یہ بات زور دیکر کہی کہ جموں کشمیر کے عوام اپنے جائز جدوجہد آزادی سے ہر گز نہیں تھکے ہیں بلکہ انہوں نے اپنی جدوجہد آزادی کے تئیں بارہا اپنے عزائم کا اعادہ کرکے دکھایا اور آج بھی دکھا رہے ہیں

Tags: کشمیر

بھارت کا کشمیر کو متنازعہ علاقہ تسلیم کرنے تک اس سے مذاکرات ممکن نہیں ۔سید علی گیلانی

March 5th, 2010 · No Comments

ہم مذاکرات سے انکاری نہیں لیکن مسئلے کا واحد سہ فریقی مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے
مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے میرے اصولی موقف میں تبدیلی کا سوال ہی پیدا نہیں ہو تا
بھارت کو اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد اور بھارتی جیلوں میں قید ہزاروں کشمیریوں کو رہا کرنا ہوگا
کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین کی ٹیلی فون پرثناء نیوز سے خصوصی بات چیت

اسلام آباد ‘ کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئر مین سید علی شاہ گیلانی نے واضح کیا ہے کہمسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے میرے اصولی موقف میں تبدیلی کا سوال ہی پیدا نہیں ہو تا۔ہم مذاکرات سے انکاری نہیں لیکن جب تک بھارت جموں کشمیر کی متنازعہ حیثیت تسلیم نہیں کرتا ا سوقت تک اس سے مذاکرات ممکن نہیں ۔ مسئلے کا واحد حل سہ فریقی مذاکرات سے ہی ممکن ہے ۔بامقصد مذاکرات کیلئے بھارت کو اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کرانا ہو گا۔ بھارتی جیلوں میں قید ہزاروں کشمیریوں کو رہا کرنا پڑے گا۔ نئی دہلی سے ٹیلی فون پر’’ثناء نیوز‘‘ سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے سید علی شاہ گیلانی نے کہا کہ ہم مسئلہ کشمیر کا پر امن اور منصفانہ حل چاہتے ہیں۔ اس سلسلے میں بھارت سے مذاکرات اسی وقت ممکن ہیں جب تک بھارتی حکومت جموں و کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو تسلیم کرے ۔انہوں نے کہا کہ جب بھارت مسئلہ کشمیر کو متنازعہ تسلیم کر نے کو تیار نہیں تو ایسے حالات میںبھارت سے مذاکرات کس طرح کامیاب ہو سکتے ہیں مذاکرات سے قبل بھارتی حکومت کو جموں و کشمیر سے فوج کا مکمل انخلاء اور وہاں پر رائج کالے قوانین کا خاتمہ کر نا ہو گا ۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا میںبے بنیاد خبریں پھیلائی جارہی ہیں کہ ہم نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اپنے موقف میں تبدیلی لائی ہے ۔ میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہم نے اپنے اصولی موقف پر قائم ہیں اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی ہے ۔ بھارت سے اسی وقت مذاکرات ممکن ہیں جب بھارت کی حکومت کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو تسلیم کرے۔ سید علی گیلانی نے کہا کہ گزشتہ ساٹھ سالوں سے بھارت نے کشمیریوں کو غلام بنا رکھا ہے ۔ خواتین کی بے حرمتی اور نوجوانوں کو قتل کر نا بھارتی فوج کا وطیرہ بن چکا ہے ایسے حالات میں بھارت سے مذاکرات کیسے کامیاب ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ حقیقت یہ ہے کہ بھارت مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے کبھی بھی سنجیدہ نہیں رہا اور نہ ہی اس نے مذاکرات کی کامیابی کے لئے کوئی موثر پالیسی اختیار کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے کشمیر پر دو طرفہ مذاکرات کی کبھی حمایت نہیں کی بلکہ ہمارا موقف واضح ہے کہ اس مسئلے کے پاکستان ،بھارت اور کشمیری عوام تین بنیادی فریق ہیں۔ اس لئے سہ فریقی مذاکرات کے ذریعے ہی اس مسئلے کو حل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ با مقصد مذاکرات کے لئے بھارت کو اقوام متحدہ کی قرارداوں پر عملدر آمد کا واضح لفظوں میں اعلان کر نا ہو گا جن کے تحت کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو تسلیم کیا گیا ہے کہ کشمیری اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے سلسلے میں ان کا موقف وہی ہے جو پہلے تھا اس میں تبدیلی یا انحراف کا سوال ہی پیدا نہیں ہو تا۔ دریں اثناء نئی دہلی میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی شاہ گیلانی نے اس امر کا ایک بار پھر اعادہ کیا ہے کہ ریاست جموںو کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے جس کا حل ہونا ابھی باقی ہے اور مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل ہونا چاہیئے تاکہ 62 سالہ متنازعہ پرامن انداز سے حل کیا جا سکے اور جنوبی ایشیاء میں دیر پا امن کا قیام ممکن بنایا جا سکے ۔چیئرمین حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ سہ فریقی مذاکرات کے ذریعے بھی مسئلہ کشمیر کو حل کیا جا سکتا ہے اگر بھارت پاکستان اور کشمیری قیادت کو عالمی برادری کے زیر نگرانی بامعنی ، بامقصد اور نتیجہ خیز مذاکرات کروائے جائیں تو اس مسئلہ کے حل کی امیدیں پیدا ہو سکتی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اپنی سات لاکھ افواج کو ریاست سے واپس بلائے اور مقبوضہ ریاست کے اندر کالے قوانین کا خاتمہ ، انسانی حقوق کی پامالی کو بند کرنے اور جیلوں کے اندر پڑے بے گناہ کشمیریوں کو رہا کرانے کے لیے جدوجہد کی ہے سید علی گیلانی نے کہا کہ عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیمیں مقبوضہ ریاست کے اندر کشمیریوں کی نسل کشی کو روکنے اورجنوبی ایشیا ء کے خطے کے اندر ، امن خوشحالی اور ترقی کے لیے اپنا کردار اداکریں ۔ تاکہ اس خطہ کے اندر رہنے والے ڈیڑھ ارب انسانوں کی معاشی زندگیوں میں تبدیلی لائی جا سکے ۔ پاک بھارت دو طرفہ مذاکرات وقت کا ضیاع اور بے مقصد ریہرسل ہے ۔ کیونکہ دونوں ممالک چھ دہائیوں سے دو طرفہ مذاکرات کرتے رہے ہیں جس کا آج تک کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہو سکا بلکہ مسئلہ کشمیر کو مزید پیچیدہ بنا دیا گیا ہے۔

Tags: کشمیر

بھارت کی طرف سے مجاہدین کیلئے عام معافی کا اعلان شاطرانہ چال ہے ۔ سید علی گیلانی

February 12th, 2010 · No Comments

سری نگر‘ بھارتی حکومت کی جانب سے مجاہدین کو عام معافی دینے کے حوالے سے کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے عوام سے ا پیل کی کہ وہ بھارت کے اس طرح کے اعلانات سے کسی ’’ خوش فہمی‘‘ میں مبتلا نہ ہوںکیونکہ اس اعلان سے بھارت ایک تیر سے دو شکار کرنا چاہتا ہے۔‘‘علاج و معالجے کیلئے نئی دلی میں مقیم سید علی گیلانی نے کہا کہ ایک طرف بھارت ہماری تحریک آزادی کو طاقت کے بل پر کچلنے کی کوشش کررہا ہے اور دوسری طرف عسکریت پسندوں کی معافی کا اعلان کرتے ہوئے یہ تاثر دے رہا ہے کہ وہ نرمی برت رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی اس پالیسی میں ہمارے لئے کوئی مثبت یا خیر کا پہلو نہیں ہے۔ انہوں نے کہا ’’بھارت کے اس اقدام سے کوئی فرق نہیں پڑیگا کیونکہ اصل مسئلہ کشمیر پر بھارت کا غاصبانہ قبضہ ہے۔‘‘ سید علی گیلانی نے کہا کہ بھارتی وزیر داخلہ نے یہ اعلان کرتے ہوئے مزید کہا ہے کہ آزاد کشمیر بھی ہمارا ہی حصہ ہے۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کے بیان سے ہمیں بھارت کے عزائم کو بھانپ لینا چاہئے۔انہوں نے کہا مسئلہ کشمیر کے متعلق بھارت کی پالیسیاں ہمیشہ پرْفریب اور شاطرانہ رہی ہیں۔بھارت اس طرح کے اعلانات سے اصل مسئلے سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کی کوشش کررہاہے۔یہ پوچھنے پر کہ کیا مجاہدین کو بھارت کی یہ پیشکش تسلیم کرلینی چاہیے؟ انہوں نے کہا کہ یہ انہیں سوچنا چاہیے کہ وہ کس مقصد کے لیے وہاں گئے اور کیا انہیں اس طرح لوٹنا چاہیے یا نہیں؟‘‘سید علی گیلانی نے کہا کہ کشمیریوں کا مقصد کوئی رعایت حاصل کرنا نہیں بلکہ جدوجہد آزادی کو اس کے منطقی انجام تک پہنچانا ہے۔انہوں نے کہاعوام کو عزم و استقلال کیساتھ جدوجہد آزادی جاری رکھنی چاہئے کیونکہ انکے بقول’’ اصل مسئلہ فوجی تسلط کا مکمل خاتمہ ہے۔

Tags: کشمیر

علیحدگی پسند لیڈران کی گرفتاری اور نظر بندی کے باوجود بھی کل اقوام متحدہ کے دفتر تک حریت کانفرنس پر امن مارچ کریگی ۔۔میر واعظ عمر فاروق

February 7th, 2010 · No Comments

سرینگر/7فروری /کے این ایس/۔۔حریت کانفرنس(ع) چیرمین میر واعظ عمر فاروق نے آج کہا کہ پولیس کی طرف سے علیحدگی پسند لیڈران کی گرفتاری اور نظر بندی کے باوجود بھی کل اقوام متحدہ کے دفتر تک حریت کانفرنس پر امن مارچ کریگی اور وہاں وادی میں فورسز کے ہاتھوں بڑھتی ہوئی انسانی حقوق کی پامالیوں پر ایک یاداشت پیش کیا جائیگا۔ ذرائع سے کے این ایس کو معلوم ہوا ہے کہ پولیس نے حریت کانفرنس کی طرف سے کل یو این او مارچ کو نا کام بنانے کیلئے حریت چیرمین میر واعظ عمر فاروق کو آج چوتھے روز بھی اپنے گھر میں نظر بند رکھا اور اسے حریت کے آج منعقد ہونے والے اجلاس میں شمولیت کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ ذرائع نے بتایا کہ حریت چیرمین میرواعظ عمر فاروق نے آج حریت صدر دفتر پر ایک اہم اجلاس طلب کیا تھا جس میں فورسز کے ہاتھوں دو معصوم طالب علموں کے جان بحق کرنے اور 8جنوری کے پروگرام کے حوالے سے لائحہ عمل مرتب کیا جانا تھا تاہم پولیس نے آج منعقد ہونے والے اجلاس کو نا کام بنایا اور میرواعظ عمر فاروق کو مسلسل اپنے گھر سے باہر آنے کی اجازت نہیں دی۔ ذرائع نے بتایا کہ اس کے علاوہ حریت کے سینئر رہنما اور ایگزیکٹو ممبران آغا سید حسن اور بلال غنی لون کو بھی گذشتہ روز سے ہی اپنے گھروں میں نظر بند رکھا گیا۔ادھر فریڈم پارٹی کے قائمقام چیرمین محمد عبداللہ طاری بھی آج حریت اجلاس میں شامل ہونے کے لئے حریت صدر دفتر جا رہے تھے تاہم پولیس کی بھاری جمعیت نے انہیں بھی گرفتار کرکے پولیس تھانہ راجباغ میں مقید رکھا جبکہ حریت لیڈر حکیم رشید کو بھی آج پولیس نے گرفتار کرکے پولیس اسٹیشن لال بازار میں بند رکھا۔ ذرائع نے بتایا کہ حریت لیڈران اور کارکنوں کو گرفتار کرنے اور نظر بند رکھنے کے نتیجہ میں آج حریت اجلاس منعقد نہیں ہوا ۔اس بارے میں حریت (ع) چیرمین میر واعظ عمر فاروق نے کشمیر نیوز سروس کو بتایا کہ پولیس نے آج کے اجلاس کو منعقد نہیں ہونے دیا جس کے لئے انہیں رہائش گاہ سے باہر نہیں آنے دیا گیا اور و ہاں پہلے سے ہی پولیس کی بھاری جمعیت تعینات کی گئی جبکہ ایگزیکٹو ممبر محمد عبداللہ طاری کو حریت آفس کے باہر گرفتار کیا گیا اور حریت سینئر رہنما آغا سید حسن ، بلال غنی لون و شاہد الاسلام کو بھی اپنے گھروں میں نظر بند رکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی غیر جمہوری اور غیر آئینی اقدام ہے کیونکہ انہوںنے آج کا اجلاس اس لئے طلب کیا تھا تاکہ معصومین کی ہلاکتوں کی مذمت کی جائے اور 8جنوری یو این او آفس تک مارچ کرنے کیلئے بھی لائحہ عمل مرتب کیا جائے۔ میرواعظ عمر فاروق نے کہا کہ پولیس کی طرف سے ناکہ بندی، گرفتاریوں اور نظر بندی کے باوجود کل اقوام متحدہ کے دفتر واقعہ سونہ وار سرینگر تک مارچ ہوگا اور وہاں وادی میں بڑھتی ہوئی انسانی حقوق کی پامالیوں پر ایک یاداشت پیش کیا جائیگا۔ان کا کہنا تھا کہ ریاست کو مکمل طور پر پولیس اسٹیٹ میں تبدیل کیا گیا ہے اور یہاں صرف فورسز کی بالا دستی قائم ہے جبکہ ہر طرف ظلم و زیادتی کا سلسلہ جاری ہے اور قوانین کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہے۔ حریت چیرمین نے کہا کہ گرفتاریاں اور زیادتیاں بھارتی جمہوریت کی پول کھول کر رکھ دیتی ہے اور بھارت کے جمہوریت کے دعوے بے بنیاد ہے۔ انہوں نے عالمی برادری اور تمام انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی کہ ریاست میں انسانی حقوق کی بڑھتی ہوئی پامالیوں کی طرف فوراً سے پیشتر توجہ دیں اور ان کو روکنے کیلئے سنجیدہ کوششیں کرے بصورت دیگر اس کے سنگین نتائج برآمد ہونگے۔اس دوران حریت کانفرنس(ع) کی طرف سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پروگرام کے مطابق 8فروری سومورا کو اقوام متحدہ کے دفتر تک ایک پر امن احتجاجی مارچ ہوگا جس میں حکومت کی فورسز اور پولیس کی بربریت و ظلم کے خلاف ایک یاداشت پیش کیا جائیگا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک ماہ کے دوران 8بے گناہ شہریوں کی ہلاکت ، سوپور میں رہائشی مکان و املاک کو نظر آتش کرنے، انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں اور ریاستی دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف حریت کانفرنس چیرمین میرواعظ عمر فاروق کی سربراہی میں سرینگر میں تعینات اقوام متحدہ کے مبصر تک ایک پر امن مارچ کرکے ایک یاداشت پیش کرینگے تاکہ اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری خاص طور پر انصاف پسند اقوام و ممالک کی توجہ ریاست کی ابتر اور سنگین حالات کی طرف دلائی جا سکے۔

Tags: کشمیر

سید علی گیلانی نے بھارتی وزیر داخلہ پی چد مبرم سے خفیہ مذاکرات کی بھارتی پیشکش ٹھکرا دی

February 7th, 2010 · No Comments

بھارتی حکمرانوں سے کہہ دیا ہے پہلے کشمیر کو متنازعہ تسلیم کرو ، سہ فریقی مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی جائے
جنرل مشرف نے کشمیر کاز کو نقصان پہنچایا ۔ موجودہ حکومت کی کشمیر پالیسی پر امریکی دباؤ کی گہری چھاپ ہے
کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی کانئی دہلی میں خصوصی انٹرویو

اسلام آباد‘ کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے مسئلہ کشمیر پر بھارتی حکومت سے خفیہ مذاکرات کی پیشکش ٹھکرا دی ہے اور واضح کیا ہے کہ بھارت جب تک کشمیر کو متنازعہ تسلیم کرکے تنازعے کے حل کے لیے بامعنی سہ فریقی بات چیت پر آمادہ نہیں ہوتا ۔ ذیلی سے بات چیت نہیں ہوگی ۔ سید علی گیلانی ان دنوں دہلی کے ایک ہسپتال میں ل زیر علاج ہیں۔ آج ایک جریدے سے انٹرویو میں سید علی گیلانی نے انکشاف کیا کہ دہلی میں قیام کے دوران بھارتی حکومت کے ایک اعلی افسر وجاہت حبیب اللہ کی قیادت میں وفد میرے پاس آیا تھا انہوں نے بھارتی وزیر داخلہ پی چدمبرم سے خفیہ مذاکرات کی پیشکش کی تھی علی گیلانی نے کہا کہ انہوں نے یہ پیشکش نہ صرف ٹھکرا دی بلکہ وجاہت حبیب اللہ سے کہا ہے کہ بھارتی حکمرانوں سے کہہ دیا جائے کہ پہلے کشمیر کو متنازعہ تسلیم کرو مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے بامعنی اورنتیجہ خیز سہ فریقی بات چیت کے لیے آمادہ ہوں تو بات ہو سکتی ہے ہم کسی ذیلی ااور چھوٹے ایشو پر بھارت سے بات نہیں کرنا چاہتے ۔ ہم مسئلے کے حل کے لیے سہ فریقی مذاکرات چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ہر قسم کے دو طرفہ مذاکرات کومسترد کیا ہے ہم نے بہت سوچ سمجھ کر یہ فیصلہ کیا ہے اور برسوں کے تجربات کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ کشمیر پر دو طرفہ یا خفیہ مذاکرات بے معنی ہیں خصوصا اس لیے بھی کہ بھارت کی نیت ہی ٹھیک نہیں۔ نیت ٹھیک نہ ہو تو مذاکرات کا کیا فائدہ ۔ اس سے پہلے مذاکرات کے 130 سے زیادہ دور ہو چکے ہیں ان کا کیا نتیجہ نکلا ۔ خفیہ مذاکرات کی دعوت دینے والوں سے بھی یہی کہا ہے کہ بھارت مسئلہ کشمیر کو حل کرنے میں سنجیدہ ہے تو پہلے کشمیر کو متنازعہ علاقہ تسلیم کرے اور کالے قوانین ختم کرے ۔ ظاہر ہے بھارت نے یہ باتیں تسلیم نہیں کیں چنانچہ میں نے ان مذاکرات میں شمولیت کی بھارتی پیش کش ٹھکرا دی ۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت کے نمائندے وجاہت حبیب اللہ میرے پاس دہلی میں میری رہائش گاہ پر آئے تھے ان کے ساتھ ایک گھنٹے تک ملاقات جاری رہی ۔ انہوں نے مجھے وزیر داخلہ چدمبرم کے ساتھ مذاکرات کی دعوت دی تاہم میں نے ان سے کہا کہ میں بے معنی عمل کا حصہ نہیں بننا چاہتا ۔ وجاحت حبیب اللہ نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے لیے خفیہ سفارت کاری اور ٹریک ٹو ڈپلومیسی بھی جاری ہے اس میں آپ کا کردار موثر ہو سکتا ہے میں نے ان پر واضح کیا کہ میں مذاکرات کے خلاف نہیں ، تاہم مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے ضروری ہے کہ مذاکرات سہ فریقی ہوں اور اہل کشمیر کو حق خودارادیت د ے کر مسئلہ کشمیر حل کیا جائے ۔ مقبوضہ کشمیر سے فوجی انخلاء ہو اور مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اقدامات کیے جائیں ۔ بھارت پہلے کشمیر کو متنازعہ علاقہ تسلیم کرے گا ، تمام کالے قوانین کاخاتمہ کیا جائے ، سیاسی قیدیوں کو رہا اور ریاست سے فوجی انخلاء کیا جائے ۔ بھارت کے جمہوری دعوے جھوٹ کا پلندہ ہیں۔ ان جعلی انتخابات سے تو بھارتی جمہوریت کا مکروہ چہرہ مزید بے نقاب ہوا ہے آٹھ لاکھ فوج سنگینیں تانے سر پر کھڑی ہو تو کون ایسے انتخابات کے ناٹک کو تسلیم کرے ۔ بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر میں نہتے عوام کا قتل عام کرکے بدترین دہشت گردی کی مرتکب ہو رہی ہے ۔ انسانی حقوق کے علم بردار اداروں کو چاہیے کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیاں رکوانے کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرین ۔ بھارتی جمہوریت کا خونیں اورمکروہ چہرہ دیکھا جانا چاہیئے ۔ صدر جنرل پرویز مشرف کی طرف سے مسئلہ کشمیر پر نرمی دکھانے سے بھارت کی درندگی کو مزید تقویت ملی ۔ مشرف نے کشمیر کاز کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے ۔ پاکستان کی موجودہ حکومت نے یہ بھی کہہ کر بہت بڑا ظلم کیا ہے کہ ہم کشمیر کوپاکستان کا حصہ نہیں سمجھتے ، میرے خیال میں حکومت پاکستان کا یہ بیان تقسیم ہند فارمولے کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ۔ پاکستان کی موجودہ پالیسی پر بھی امریکی دباؤ کی گہری چھاپ نظر آتی ہے ۔ پاکستانی حکمرانو ں کو یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ پاکستان کے جس حکمران نے بھی تقسیم ہند کے فارمولے سے انحراف کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر سے بے وفائی کی وہ شرمناک انجام سے دوچار ہوا ۔ 1947 ء سے لے کر اب تک پاکستان کشمیر کو اپنی شہ رگ تسلیم کرتا رہا ہے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے بھی یہی نعرہ پاکستان کو دیا۔ پاکستان نے ساٹھ برس میں تین جنگیں کشمیر پر لڑیں اور 1971 ء میں مشرقی پاکستان اسی تنازعے کی بنیاد پر الگ ہوا لیکن صدر جنرل پرویز مشرف اور موجودہ حکومت نے پاکستان کے مسلمہ موقف میں نرمی دکھا کر بھارت کی درندگی ظلم و تشدد اور ناجائز موقف کو تقویت بخشی

Tags: کشمیر