ٹیکس اہداف کے حصول کے لیے محکموں کو اپنی کارکردگی کو مزید بہتراورٹیکس شرح کو مارکیٹ کے مطابق بنائیں گے
لاہور۔صوبائی وزیر خزانہ تنویر اشرف کائرہ نے کہاہے کہ ریونیو بڑھانے کے لیے نئے ٹیکس کلچر کو فروغ دینے کی ضرورت ہے اورمختلف ٹیکسوں کی شرح میں مارکیٹ ویلیو کے مطابق ردوبدل کی گنجائش ہے ۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن اور بورڈ آف ریونیو کو ٹیکس اہداف کے حصول کے لیے اپنی کارکردگی مزیدبہتر بنانا ہو گا اور ٹیکسوں کی موجودہ شرح کو مارکیٹ ویلیو کے مطابق بنایاجائے گا ۔انہوں نے کہاکہ بورڈ آف ریونیومیں ٹیکس پالیسی یونٹ قائم کیاجائے گا تاکہ ٹیکس ادا کرنے والوں کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں فراہم ہو سکیں ۔انہوں نے کہاکہ ٹیکس نظام کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت کے ساتھ عوام میں یہ احساس پیدا کرنا چاہئے کہ ان کا ادا کردہ پیسہ ان کی فلاح وبہبود پر ہی خرچ کیاجائے گا ۔انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت کو نئے مالی سال کے دوران ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے تحت زیادہ وسائل میسر ہونگے اور ہم یہ اضافی فنڈز عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کریں گے ۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب حکومت کی مالی پوزیشن مستحکم ہے اور پنجاب حکومت اپنے ذمہ واجب الادا قرضے میں سے چھ ارب روپے سے زائد سٹیٹ بنک کو واپس کر چکی ہے جبکہ جنوبی پنجاب میں ترقی کے لئے 135 ارب روپے کے منصوبوں پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے ۔
Tags: کاروبار
کراچی۔یورو کی قدر میں ڈالر کے مقابلے میں مسلسل دوسرے روز اضافہ دیکھا گیا۔ 16 ممالک کی مشترکہ کرنسی کی قدر امریکی کرنسی کے مقابلے میں ایک اعشاریہ 3639 ڈالر سے بڑھ کر ایک اعشاریہ3639 ڈالر فی یورو پر آگئی۔تجزیہ کاروں کے مطابق یونان کی معیشت میں آئندہ دنوں میں ممکنہ بہتری کی وجہ سے یورو کی قدر میں بہتری دیکھی جا رہی ہے۔
Tags: کاروبار
حکومت کرنسی کو مستحکم کرنے کیلئے فوری اقدامات اٹھائے۔ زاہد مقبول
اسلام آباد۔تاجر برادری نے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر زاہد مقبول کی زیر صدارت منعقدہ ایک اجلاس میں کزشتہ اڑھائی سالوں کے دوران روپے کی قدر میں 40فیصد کمی پر گہری تشویش کا اظہار کیا جو کم ہو کر ایک ڈالر کے مقابلے میں 84روپے سے زیادہ ہو گئی ہے اور جس کے معیشت پر بہت منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ لہذا انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ روپے کی گرتی ہوئی قدر کو روکنے اور اس میں استحکام لانے کیلئے تمام ضروری اقدامات اٹھائے۔زاہد مقبول نے کہا کہ روپے کی مسلسل گرتی ہوئی قدر کی وجہ سے اقتصادی ترقی تقریبا رک گئی ہے کیونکہ کرنسی کے گرنے سے زراعت، صنعت، پیداواراور انفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت معیشت کے تمام شعبے متاثر ہو رہے ہیں جبکہ درآمدات کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں اور بیرون ملک پاکستانی طلبا کیلئے تعلیم حاصل کرنا بھی بہت مہنگا ہو گیا ہے۔اس کے علاوہ پاکستان کے بیرونی قرضوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے جس وجہ سے آنے والے وقتوں میں ان قرضوں کی ادائیگی ایک بہت بڑا مسئلہ بن سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ صرف مئی 2008سے لے کر دسمبر 2009تک روپے کی قدر میں 25فیصد سے زیادہ کمی ہوئی ہے جس کے معیشت اور کاروباری سرگرمیوں پر بہت نقصان دہ اثرات مرتب ہوئے ہیں جبکہ صارفین کیلئے اشیاء کی قیمتیں مزید بڑھ گئی ہیں۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر حکومت نے روپے کی گرتی ہوئی قدر کو روکنے کیلئے مطلوبہ اقدامات نہ اٹھائے تو عوام کو مہنگائی کے ایک نئے طوفان کا سامنا کرنا پڑے گا۔تاجروں نے کہا کہ روپے کی قدر اتنی زیادہ گرنے سے کاروبار کرنے کی لاگت بہت بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر صنعتی، پیداواری اور زرعی شعبوں کیلئے حالات تنگ ہو گئے ہیں کیونکہ پاکستان کو کھادوں، ، اشیاء خوردو نوش اور صنعتی خام مال سمیت بہت سی چیزیں باہر سے درآمد کرنا پڑتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تیل ریفائنریوں کی کم پیداوار اور سی این جی کی کم دستیابی کی وجہ سے صرف نومبر تا دسمبر 2009میں پچھلے سال اس عرصے کے مقابلے میں پیٹرول کی درآمد میں 274فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر یہی رجحان جاری رہا تو آنے والے دنوں میں روپے کی قدر مزید گرنے کے امکانات ہیں کیونکہ پاکستان کی برآمدات کم ہو رہی ہیں اور درآمدات بڑھ رہی ہیں۔زاہد مقبول نے کہا کہ صنعتوں کو بجلی و گیس کی طویل بندش کی وجہ سے برآمدات میں دن بدن کمی ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر توانائی کی یہی صورت حال رہی تو مستقبل میں برآمدات میں مزید کمی ہونے سے ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر کم ہوتے جائیں گے جس سے کرنسی کی قدر مزید گر سکتی ہے لہذا انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ توانائی کی قلت پر قابو پانے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے اور برآمدات میں اضافے کیلئے ایک جامع حکمت عملی وضع کرے۔انہوں نے کہا کہ برآمدات میں اضافے کا ایک حل ملک میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ توانائی سمیت معیشت کے متعدد شعبوں میں ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں ۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ حکومت سیکورٹی کے مسائل کو حل کرے اور امن و امان کی صورت حال کو بہتر کرے کیونکہ سرمایہ کاروں کو انوسٹمنٹ کرنے کیلئے پرامن اور محفوظ ماحول درکار ہوتا ہے۔
Tags: پاکستان , کاروبار