برکلے ‘ سگریٹ کے دھویں کو اپنے پھیپھڑوں میں اتارنے والے غیر سگریٹ نوش افراد کے بعد ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ سگریٹ کے دھویں کے ذرات یا بچ جانے والے کیمیائی مادے جو چیزوں میں جذب ہو جاتے ہیں ان کے اندر بھی کینسر کا سبب بننے والے اجزاء ہوتے ہیں ۔ لیبارٹری تجربات سے معلوم ہوا ہے کہ سگریٹ کا دھواں کمرے میں موجود فرنیچر ‘ کپڑوں ‘ پردوں اور دیگر اشیاء پر تہہ کی شکل میں جم جاتا ہے اور کافی عرصہ تک اس کے زہریلے اثرات اپنا وجود برقرار رکھتے ہیں ۔ اس خطرے کو تھرڈ ہینڈ سموک کا نام دیا گیا ہے ۔ تحقیق کاروں نے تجویز دی ہے کہ بند مقامات گھروں اور دفتروں میں سگریٹ نوشی پر پابندی عائد کر کے اس خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے ۔ سائنسدانوں نے کہا ہے کہ نکوٹین اور گھر کے اندر موجود آلودگی نانٹرس ایسڈ مل کر خطرناک قسم کے کیمیکلز پیدا کرتے ہیں ۔ ان کیمیکلز کو ٹوبیکو سپیسفک نائٹرو سائنز کہتے ہیں ۔ جو گیس سے جلنے والے چولہوں اور کار کے ایگزاسٹ سے خارج ہونے والی عام آلودگی سے جنم لیتے ہیں
سگریٹ کا دھواں گھروں اور دفاتر میں موجود اشیاء پر خطرناک کیمیائی مادے کی لہر چھوڑتا ہے ‘ نئی تحقیق میں انکشاف
March 6th, 2010 · 1 Comment
Tags: دنیا کی خبریں



