Urdu News-Online Urdu Newspaper

Urdu news Online Urdu Newspaper

Urdu News-Online Urdu Newspaper header image 4

اب بھی اختیارات کا منبع پارلیمنٹ نہیں جی ایچ کیو ہے ۔ فضل الرحمن

February 13th, 2010 · No Comments

٭۔ ۔ ۔ پاکستان میںمالیاتی اداروں کے سربراہ عالمی قوتوں کی رضامندی سے تعینات ہوتے ہیں، سیاستدانوں نے کالا باغ ڈیم جیسے فنی مسئلے کو بھی سیاسی بنادیا
٭۔ ۔ ۔ ملک میں ترقی وخوشحالی کیلئے امن کا قیام ضروری ہے،امریکہ سمیت پوری دنیا طالبان سے مذاکرات جبکہ ہم جنگ کی بات کررہے ہیں۔ لاہور چیمبر آف کامرس سے خطاب

لاہور‘ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ اور کشمیر کمیٹی کے چیئرمین مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ملک کی بقاء دفاعی طاقت کی بجائے اقتصادی طاقت میں ہے ۔ ساٹھ سال کا عرصہ گزر چکا ہے مگر کشمیر پر ہمارا موقف مضبوط ہونے کے باوجود دنیا کا جھکاؤ بھارت کی جانب ہے کیونکہ اس کی معیشت مضبوط ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن ایک ہی پالیسی پر عمل پیرا ہیں ہے جس کی وجہ سے ہماری جماعت پارلیمنٹ میں تنہائی محسوس کررہی ہے۔ اختیارات کا منبع پارلیمنٹ نہیں جی ایچ کیو ہے۔یہاں مالیاتی اداروں کے سربراہوں کی تقرریاں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی رضامندی سے ہوتی ہیں۔ ہمارے سیاستدان صرف مفادات کی جنگ لڑتے رہے، انہوں نے کالا باغ ڈیم جیسے فنی مسئلے کو بھی سیاسی بنادیا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی اعظم خان سواتی، وفاقی وزیرِ ہاؤسنگ رحمت اللہ کاکڑ ، لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر ظفر اقبال چودھری، سینئر نائب صدر اعجاز اے ممتاز، نائب صدر فیصل اقبال شیخ ، گورنرگلگت بلتستان کے مشیر برائے سرمایہ کاری میاں شفقت علی اور سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نائب صدر افتخار علی ملک نے بھی اس موقع پر خطاب کیا۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ کسی بھی ملک کیلئے خوشحال معیشت وہاں کے لوگوں کیلئے سکون کا باعث بنتی ہے۔ ایسا نظام جو انسانوں کی جان مال اور عزت کی حفاظت کرتا ہے وہی صحیح نظام ہے۔ ہمیں اپنے دین پر اعتماد کرنا چاہئے اور یہی عالمی نظام ہے جو ملک کو بنیاد مہیا کرتا ہے کہ معاملات کس طرح چلانے ہیں۔ ترقی و خوشحالی کے لیے امن کا قیام اشد ضروری ہے لہذا حکومت اسے اپنی ترجیحات میں شامل کرتے ہوئے اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرے۔ خارجہ پالیسی کا قومی مفادات سے گہرا تعلق ہوتا ہے لہذا اس پر بھی نظر ثانی کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدم استحکام اور امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کی ایک بنیادی وجہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی بھی ہے لہذا ہمیں اس جانب خاص توجہ دینا ہوگی تاکہ کاروباری شعبے سے وابستہ لوگ ذہنی سکون کے ساتھ اپنے کاروبار کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ امن اور سکون کے بغیر کوئی بھی ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔ مولانا فضل نے کہا کہ معاشی صورتحال تبدیل ہورہی ہے جس میں پیشِ نظر معاشی طور پر ترقی یافتہ ممالک ہی مستحکم رہ سکتے ہیں۔ انہوں نے روس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ روس ایک مضبوط ایٹمی قوت تھا لیکن معاشی مشکلات کی وجہ سے وہ اپنا وجود برقرار نہیں رکھ پایا۔ دوسری طرف چین ہے جو اگرچہ عسکری حوالے سے بہت مستحکم ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنی تمام توانائیاں استعمال کرکے معاشی سپر پاور بھی بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی افغانستان میں طویل جنگ کا خمیازہ امریکی معیشت کو بھگتنا پڑے گا۔ معاشی طور پر کمزور امریکہ اپنا اثر و رسوخ کھودے گا۔ دنیا اس انتظار میں ہے کہ طاقت کے نشے میں مست امریکہ کی اس جنگ کو طول ملے گا تو اس کی معیشت تباہ ہوگی۔ انہوں نے کہا یہ امر بہت ہی مایوس کُن ہے کہ پاکستان کے سٹیٹ بینک آف پاکستان جیسے مالی اداروں کے سربراہان کی تقرری آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی رضامندی سے ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم عالمی اداروں کی شرائط پر اپنا ملک چلا رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اقتصادی طور پر ہم اپنے ہم عمر ممالک سے معاشی طور پر کہیں پیچھے ہیں۔ ہمارے سیاستدانوں نے ہمیشہ اقتدار کی جنگ لڑی۔ فوج کا ادارہ مستحکم ہے۔ سیاستدانوں نے سیاسی کردار ادا نہیں کیا صرف اقتدار کی جنگ لڑی۔ ہم نے غلطیاں کی ہیں۔ اپنے تین دریا بیچ دیئے۔ کمزور حکومت کبھی جنگ نہیں جیت سکتی۔ ہم نے کمزور پچ پر شملہ معاہدہ کیا جس کے بعد بھارت نے آئین میں ایسی شق ڈال دی جس میں کشمیر کو اپنا حصہ قرار دیا گیا ہے۔ شملہ معاہدہ کی وجہ ہے ہم مسئلہ کشمیر کو باہمی مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے پابند ہوچکے ہیں۔ اعلان لاہور ایک پیش رفت تھی لیکن کارگل جنگ نے اس پر پانی پھیر دیا۔ پہلا فیصلہ منتخب وزیراعظم کا تھا جبکہ دوسرا آرمی چیف کا تھا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کہہ رہا ہے کہ وہ افغانستان میں جنگ نہیں جیت سکا اور آج 41ملک لندن میں طالبان سے مذاکرات کیلئے سر جوڑے بیٹھے ہیں تو پاکستان کیسے یہ جنگ جیت سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کالا باغ ڈیم فنی مسئلہ تھا جسے سیاسی بنادیا گیا۔ جس مسئلے کو سیاسی بنا دیا جائے اسے پھر فنی نہیں بنایا جاسکتا۔ ہمارے پاس دریا ہیں جن سے سستی بجلی حاصل کی جاسکتی ہے۔ مولانا فض الرحمن نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام قومی معاشی ایجنڈا 2010-30ء کو حتمی شکل دینے کے لیے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ساتھ ہر ممکن تعاون کرے گی۔ انہوں نے حلال بورڈ کی تشکیل اور پاکستان واٹر فرنٹ قائم کرنے پر بھی لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کو سراہا

Tags: پاکستان

پاکستان مسئلہ کشمیر کو پس پشت ڈال چکا ہے ‘ چیئرمین پارلیمانی کشمیر کمیٹی

February 10th, 2010 · No Comments

مولانا فضل الرحمان نے کشمیر پالیسی پر بحث کے لئے تحریک التواء جمع کرا دی
بعض حلقوں میں تاثر یہی ہے کہ ملک کی کوئی کشمیر پالیسی نہیں ہے
چیئرمین پارلیمانی کشمیر کمیٹی

اسلام آباد ‘ چیئرمین خصوصی پارلیمانی کشمیر کمیٹی مولانا فضل الرحمان نے پاکستان کی کشمیر پالیسی پر بحث کے لئے کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے بدھ کو قومی اسمبلی میں تحریک التواء جمع کرا دی ۔ مولانا فضل الرحمان نے تحریک التواء میں کہا ہے کہ بعض حلقوں میں یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ پاکستان نے مسئلہ کشمیر کو پس پشت ڈال دیا ہے اور کشمیر کے بارے میں ملک کی کوئی واضح پالیسی نہیں ہے ۔ چیئرمین کشمیر کمیٹی مولانا فضل الرحمان نے مطالبہ کیا ہے کہ اس تاثر کو زائل کرنے کے لئے قومی اسمبلی میں پاکستان کی کشمیر پالیسی کو زیر بحث لایا جائے اور اس ضمن میں ایوان کی معمول کی کارروائی کو روک کر تحریک التواء کو بحث کے لئے منظور کیا جائے ۔ واضح رہے کہ بھارت نے حال ہی میں پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کا اعلان کیا ہے ۔ اس ضمن میں مذاکرات کے ایجنڈا کی تیاری پر کام شروع کر دیا گیا ہے ۔ توقع ہے کہ پاک بھارت مذاکرات میں مسئلہ کشمیر کے پرامن ذرائع سے حل تلاش کرنے کے لئے اس تنازعے کو مذاکرات میں کلیدی حیثیت حاصل رہے گی ۔ ادھر امریکہ نے بھی پاک بھارت تنازعات بالخصوص مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے ثالثی کا عندیہ دیا ہے ۔ اس سلسلے میں امریکہ کی جانب سے ممکنہ روڈ میپ وضع کرنے کی بھی اطلاعات ہیں

Tags: پاکستان , کشمیر

ایک نظریے کے تحت پوری اپوزیشن حکومت کیساتھ ہے‘ فضل الرحمان

January 31st, 2010 · No Comments

ضرورت ہوئی تو حکومت چھوڑنے میں ایک لمحہ بھی نہیں لگائیں گے
پاکستان نام نہاد دہشت گردی کے خلاف عالمی اتحاد کا حصہ نہیں،دہشت گردی کے خلاف پالیسی میں ہماری سوچ ایک ہے
مشرقی سرحدپر مشکلات ہیں،کشمیر کامسئلہ پس منظر میں جارہا ہے‘ پشاور میں قاضی حسین احمد کی عیادت کے بعد میڈیا سے گفتگو

پشاور‘ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اس وقت پوری اپوزیشن حکومت کے ساتھ ہے۔ پاکستان نام نہاد دہشت گردی کے خلاف عالمی اتحاد کا حصہ نہیں۔مشرقی سرحدپر مشکلات ہیں،کشمیر کامسئلہ پس منظر میں جارہا ہے۔دہشت گردی کے خلاف پالیسی میں ہماری سوچ ایک ہے۔پشاور میں قاضی حسین احمد کی عیادت کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے مولانافضل الرحمان نے کہا کہ اس وقت پوری اپوزیشن حکومت کے ساتھ ہے اورحکومت میں ایک نظریے کے تحت شامل ہوئے ہیں۔ضرورت ہوئی تو حکومت چھوڑنے میں ایک لمحہ بھی نہیں لگائیں گے۔انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کی قرارداد میں مسئلے کا حل ڈھونڈا جائے۔فضل الرحمان نے کہا کہ اگر ہم جدوجہد کر یں تو حکومت کی رائے بھی بدل سکتے ہیں۔ان کاکہنا تھا کہ سترہویں ترمیم کی شق 27 کو درست تسلیم کرلیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نام نہاد دہشت گردی کے خلاف عالمی اتحاد کا حصہ نہیں۔ان کاکہنا تھا کہ مدارس کی گردار کشی بند کی جائے،مدارس بھی تعلیم گاہیں ہیں ،انہیں اڑاناغلط ہے۔اسکولوں اور اسپتالوں کو تباہ کرنا بھی غلط ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکا طاقت کے استعمال میں کامیاب نہیں ہوسکا تو ہم کیسے ہوسکتے ہیں۔ان کاکہنا تھا کہ مشرقی سرحدپر مشکلات ہیں،کشمیر کامسئلہ پس منظر میں جارہا ہے۔دہشت گردی کے خلاف پالیسی میں ہماری سوچ ایک ہے

Tags: پاکستان

مسلم لیگ (ن) صحیح ٹریک پر چل رہی ہے اس سے جمہوریت مضبوط ہوگی، مولانا فضل الرحمن

January 17th, 2010 · No Comments

٭۔ ۔ ۔ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عالمی اتحاد کا حصہ نہیں، اس جنگ میں شرکت پرویز مشرف کا ذاتی فیصلہ تھا
٭۔ ۔ ۔ مغربی سرحد پر جنگ نے مسئلہ کشمیر اور بھارتی آبی جارحیت پر پاکستانی موقف کو کمزور کیا ہے
٭۔ ۔ ۔ موجودہ اسمبلیوں کو اپنی مدت پوری کرنی چاہئے، تمام سیاستدان جمہوری نظام کی بقاء اور اس کے تحفظ پر متفق ہیں۔ پریس کانفرنس سے خطاب
لاہور۔ جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) ہمارے ٹریک پر بہت اچھے انداز میں چل رہی ہے اس کے موجودہ رویہ سے جمہوریت مضبوط ہوگی۔ موجودہ اسمبلیوں کو اپنی مدت پوری کرنی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان عالمی اتحاد کا حصہ نہیں اس جنگ میں شرکت پرویز مشرف کا ذاتی فیصلہ تھا۔ ڈرون حملے ملکی خودمختاری وسلامتی پر حملہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مغربی سرحد پر جاری جنگ سے مسئلہ کشمیر اور بھارتی آبی جارحیت کے خلاف پاکستانی موقف میں کمزوری آئی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج دارالعلوم عثمانیہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ امریکی ڈرون حملے پاکستان کی سلامتی وخودمختاری پر حملہ ہیں جن کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس اور قومی سلامتی کمیٹی کی قرارداد وسفارشات میں بڑی صراحت کے ساتھ یہ کہا گیا تھا کہ ماضی میں خارج وداخلہ پالیسیاں حکمرانوں کے ذاتی مفادات کے تابع تھیں ان کا قومی مفادات سے کوئی تعلق نہیں تھا اس لئے موجودہ جہوری حکومت اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرے۔ پارلیمنٹ کی یہ قراردادیں وسفارشات متفقہ تھیں جس کے بعد ہمیں یہ کہنے میں کوئی تامل نہیں کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف عالمی اتحاد کا حصہ نہیں ہے۔ اس جنگ میں شمولیت کے کسی حکومتی ادارے نے کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ اس میں شرکت کا فیصلہ جنرل پرویز مشرف کا ذاتی فیصلہ تھا۔ سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات کے سوال پر مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ تمام سیاستدانوں کا موجودہ جمہوری نظام کی بقاء اور اس کے تحفظ پر اتفاق ہے۔ جمہوری نظام اور رویوں میں کمزوریوں کی وجہ سے ملک میں جمہوریت کمزور ہے ۔ جمہوری عمل میں تسلسل ہی اسے مضبوط کرسکتا ہے۔ انہوںنے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان کوئی محاذ آرائی نہیں اختلافات ہر جماعت کے دوسری کے ساتھ ہوتے ہیں۔ دونوں جماعتیں اپنی حدود کے اندر رہتے ہوئے اس نظام کو مضبوط کرنے کیلئے کام کررہی ہیں۔ تنقید مسلم لیگ (ن) کا حق ہے تاکہ حکومت اپنی اصلاح کرے۔ انہوں نے کہا کہ اختلافات پر حکومتی اداوں سے باہر آنا مسائل کا حل نہیں ہے۔ اداروں کے اندر رہ کر ہی ان کی بہتری ومضبوطی کیلئے کام کرنا چاہئے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اپوزیشن میں رہ کر ہم اکیلے رو پیٹ تو سکتے ہیں لیکن عوام کی بہتری اور حکومتی پالیسیوں کی اصلاح کیلئے حکومت کے اندر بہتر انداز میں کام ہوسکتا ہے اور اپنی بات کو منوایا جاسکتا ہے۔ مذہبی جماعتوں کے اتحاد کے سوال پر مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ پہلے یہ دیکھنا چاہئے کہ سابقہ دینی اتحاد کا فورم ٹوٹا کیوں۔ جب ہمیں تنہا کیا جائے گا تو پھر ہم اپنے فیصلے خود کریں گے۔ اتحاد اعتماد سے بنتا ہے۔ ہماری کوش ہے کہ وہ ماضی کی وحدت اور یکجہتی دوبارہ وجود میں آجائے۔ امریکی نمائندے رچرڈ ہالبروک سے ملاقات کے سوال پر انہوں نے کہا کہ ہم نے ملاقات میں جو دلائل دیئے ان کا امریکی نمائندے کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ امریکہ بتائے جب وہ ہم پر آگ برسائے گا اور ہمیں خون میں نہلائے گا تو کیا ہم اس کی تعریف کریں گے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ وہ آئندہ ماہ فروری میں مسئلہ کشمیر پر کانفرنس کا انعقاد کررہے ہیں جس میں حریت کانفرنس کے رہنماؤں سمیت آزاد جموں وکشمیر کی کشمیری جماعتوں کو بھی مدعو کیا جائے گا

Tags: پاکستان

میں نے رچرڈ ہالبروک سے ملاقات سے گریز کیا جو ملے ان کا کیا حال ہوا سب کے سامنے ہے ۔ مولانا فضل الرحمان

January 15th, 2010 · No Comments

سیاست دانوں کی امریکی نمائندے سے ملاقاتیں سفارتی آداب کے منافی ہے
پاکستان دہشت گردی کے خلاف عالمی اتحاد سے علیحدگی اختیار کر لے تو داخلی امن کے 50 فیصد مسائل حل ہو جائیں گے
چےئرمین کشمیر کمیٹی و جے یو آئی ف کے امیر کی پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات چیت
اسلام آباد ۔ چےئرمین کشمیر کمیٹی و جے یو آئی ف کے امیر مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ سیاست دانوں کی امریکی نمائندے سے ملاقاتیں سفارتی آداب کے منافی ہے یہی وجہ ہے کہ انہوں نے رچرڈ ہالبروک سے ملاقات نہیں کی ۔ ملاقات کرنے والے سیاست دانوں کا کیا حال ہوا وہ بھی سب کے سامنے ہے ۔حکمران دہشت گردی کے خلاف عالمی اتحاد سے علیحدگی اختیار کر لے تو داخلی امن کے پچاس فیصد مسائل حل ہو جائیں گے ۔افغانستان میں طالبان کی مزاحمت کے اثرات فاٹا میں نظر آرہے ہیں ۔ جمعہ کو پارلیمنٹ ہاوس کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوںنے کہا کہ امریکا نئی نسل کے خلاف مکروہ عزائم رکھتا ہے مفروضے کی بنیاد پر دہشت گردی کے خلاف جنگ مسلط کی گئی عراق اور افغانستان میں درندگی کے بعد وہ اب پاکستان کے خلاف سازشیں کر رہا ہے ۔انہوںنے کہا کہ قومی سلامتی کیامور کے حوالے سے حکومتی رویے سے اتفاق نہیں ہے ۔حکومت کے دفاعی رویے کے وجہ سے قومی وقار کو مسلسل نقصان پہنچ رہا ہے انہوںنے کہا کہ ملک میں کچھ لوگوں کی ترجیح جمہوریت تو ہے اسلام نہیں ہے ۔یہ لوگ اگر پارلیمنٹ کی بالا دستی کے بارے میں مخلص ہیں تو اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں جو کہ آئینی تقاضا ہے ۔انہوںنے کہا کہ پارلیمنٹ میں قرار دادیں تو منظور ہو جاتی ہیں عملدرآمد نہیں ہوتا وزارت خارجہ سے پارلیمنٹ کی متفقہ قرار داد پر عملدرآمد نہ ہونے سے وضاحت طلب کر لی ہے ۔ وزارت خارجہ سے کہا گیا ہے کہ وہ خارجہ پالیسی میں تبدیلی کے لیے اپنی سفارشات سے پارلیمانی کمیٹی قومی سلامتی کو آگاہ کرے ۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہمارے ملک میں پالیسیاں ہمیشہ حکمرانوں کے مفادات کے تابع رہی ہیں پالیسیاں قومی مفادات نہیں بلکہ حکمران طبقہ کے ذاتی مفادات کے لیے بنتی رہی ہیں ۔پالیسیوں میں واضح تبدیلی نا گزیر ہے اور عوام کو ایسا محسوس بھی ہونا چاہیے کہ پالیسی میں تبدیلی لائی گئی ہے۔ پاکستان نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے عالمی اتحاد سے علیحدہ ہو جائے تو داخلی امن سے متعلق پچاس فیصد مسائل خود ہی حل ہو جائیں گے۔

Tags: پاکستان