Urdu News - Online Urdu News Paper

Urdu News, Online Urdu Latest News Pakistan & World Newspaper

Urdu News - Online Urdu News Paper header image 4
Pages: 1 2 Next

بھارت جوہری ہتھیار تلف کر دے تو پاکستان بھی تیار ہے ‘پاکستانی سفیر حسین حقانی

May 23rd, 2009 · No Comments

واشنگٹن ۔ امریکہ میں پاکستانی سفیر حسین حقانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیار محفوظ ہاتھوں میں ہیں ان کی سیکیورٹی پر کسی کو تشویش نہیں ہونی چاہئے ۔ واشنگٹن سے جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ اگر بھارت جوہری ہتھیار ختم کرے تو پاکستان بھی ایسا کرنے پر تیار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان معاہدے کے مطابق بھارت کے ساتھ مرحلہ وار جوہری ہتھیار ختم کرے گا ۔ حسین حقانی نے کہا کہ پاکستان جوہری ہتھیاروں کا مقابلہ کرنے کے لئے ہر طرح سے تیار ہے

۔۔تفصیلی خبر۔۔۔۔

بھارت جوہری اسلحہ تلف کرے تو پاکستان بھی تیارہے،حسین حقانی

پاکستان اپنے ایٹمی ہتھیاروں کے بارے میں معلومات امریکا کو نہیں دے گا

پاکستانی جوہری ہتھیاروں سے امریکا کو کئی خطرہ نہیں اس لئے اسے تشویش نہیں ہونی چاہیئے

امریکی میڈیا پاکستانی ایٹمی ہتھیاروں کے تحفظ کا سوال اٹھا کر حقیقی مسائل سے توجہ نہ ہٹائے

پاکستانی سفیر کا امریکی ٹی وی کو انٹرویو

واشنگٹن ۔ امریکا میں پاکستانی سفیر حسین حقانی نے کہا کہ بھارت جوہری اسلحہ تلف کرے تو پاکستان بھی ایسا کرنے کیلئے تیارہے۔ہمارے جوہری ہتھیار محفوظ ہیں۔ پاکستان اپنے ایٹمی ہتھیاروں کے بارے میں معلومات امریکا کو نہیں دے گا، پاکستانی جوہری ہتھیاروں سے امریکا کو کئی خطرہ نہیں اس لئے امریکا کو ان کی سیکورٹی پر تشویش نہیں ہونی چاہیئے، امریکی میڈیا پاکستانی ایٹمی ہتھیاروں کے تحفظ کا سوال اٹھا کر حقیقی مسائل سے توجہ نہ ہٹائے۔امریکی ٹی وی سے انٹرویو میں حسین حقانی نے کہاکہ پاکستان کا جوہری اسلحہ بھارتی خطرے سے نمٹنے کیلئے دفاعی ہتھیار ہے۔ بھارت معاہدے کے تحت جوہری ہتھیار تلف کرے تو پاکستان بھی مرحلہ وار ایسا کرنے کو تیار ہے۔ پاکستانی سفیر کا کہنا تھا کہ وہائٹ ہاؤس حکام جانتے ہیں کہ پاکستان کے جوہری ہتھیار محفوظ ہیں۔ حسین حقانی نے کہا کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثے محفوظ ہیں اور اس سلسلے میں کوئی تشویش نہیں ہونی چاہئے ۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ ایک معاہدہ کرنے کے لئے تیار ہے جس کے تحت دونوں ملک اپنے ایٹمی ہتھیار بتدریج ختم کرسکیں ۔ حسین حقانی نے کہا کہ امریکی حکومت میں وہ لوگ جو پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں سے آگاہ ہیں یہ بات جانتے ہیں کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام انتہائی محفوظ ہے ۔یہ ایک محدود ایٹمی پروگرام ہے جو پڑوسی ملک کے مقابلے میں ڈیٹرینس برقرار رکھنے کیلئے ہے۔امریکی میڈیا پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کے تحفظ کا سوال اٹھا کر حقیقی مسائل سے توجہ نہ ہٹائے ۔پاکستانی سفیر نے کہا کہ امریکا کو پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کی سیکورٹی پر تشویش نہیں ہونی چاہئے کیونکہ یہ امریکا کیلئے خطرہ نہیں ہیں۔ امریکا کو خطرہ افغانستان سے اور پاکستان کے کچھ علاقوں میں دہشتگردوں سے ہوسکتا ہے جن سے نمٹنے کے لئے پاکستان اپنی بہترین کوششیں کررہا ہے ۔ حسین حقانی نے کہا کہ پاکستان اپنے ایٹمی ہتھیاروں کے بارے میں معلومات امریکا کو نہیں دے گا اور نہ ہی اپنے ایٹمی پروگرام کو وسعت دے رہا ہے

Tags: , , ,

اوپر والی خبر سے ملتی جلتی خبریں دیکھیں

Tags: Breaking news , Pakistan , Urdu , Urdu News

وہ کون تھے؟ وہ کون تھیں ؟ صدرکے دورہ امریکہ کے دوران انڈین مجرا ‘ صحافتی حلقوں میں چہ مگوئیاں اور ایک نئی بحث شروع

May 15th, 2009 · No Comments

اسلام آباد ۔ صدرکے دورہ امریکہ کے دوران انڈین مجرا دیکھنے والے پاکستانی وزراء کون تھے؟ اور نیو یارک کے پرل کانٹی نینٹل ہوٹل کے اپارٹمنٹ 1455 میں آنے جانے والی لڑکیاں کون تھیں؟ صحافتی حلقوں میں چہ مگوئیاں اور ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے ۔ وزیراعظم سے اس بارے ایک صحافی نے سوال کیا تو انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ’’ مجھے تو ایسے کسی واقعے کے بارے کوئی علم نہیں ہے‘‘۔ نیو یارک سے ایک صحافی نے اپنے مضمون میں لکھا تھا کہ صدر مملکت کے دورہ امریکہ کے دوران پاکستان کے ایک باریش وفاقی وزیر کی نیو یارک کے معروف زمانہ علاقے 42 سٹریٹ کی ایک معروف ’’ بار‘‘ میں داخلے کے دوران ایک گورے سے تلخ کلامی ہو گئی ۔ اس سے پہلے کہ بات آگے بڑھتی میزبان موصوف وزیر کو ’’ بار ‘‘ سے باہر نکال لے گئے ۔ وزیر نے خبر کی تردید کرنا چاہی تو مخبروں نے لائٹ براؤن رنگ کی جیپ پلیٹ نمبر 08268MSجس میں وزیر موصوف سوار تھے کا حوالہ دیا تو تردید سناٹے میں چھا گئی ۔ اس کے علاوہ صحافی نے اپنے مضمون میں بتایا ہے کہ صدر مملکت کے دورہ امریکہ کے دوران نیو یارک کے پرل کانٹی نینٹل ہوٹل کے اپارٹمنٹ 1455میں جہاں پاکستانی وفد نے پانچ روز تک قیام کیا ۔ یہاں پر ہونے والی ملاقاتوں اور سرگرمیوں کو میڈیا سے مخفی رکھا گیا ۔ اس دوران سیکیورٹی والوں نے مشرقی یورپ سے تعلق رکھنے والی تین لڑکیوں کو اپارٹمنٹ جانے سے روکا تو امریکہ میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی نے انہیں بلا پوچھ گچھ آنے جانے کا اجازت نامہ بنوا دیا، صحافی کے مطابق تاریخ گواہ ہے کہ غیر ملکی طاقتوں نے اپنی عورتوں کو آلہ کار بنا کر مسلمان حکمرانوں کو ہمیشہ سے نقصان پہنچایا اور ان کے ملک و قوم کو بدنام کیا۔ اپارٹمنٹ نمبر 1455 میں آنے جانے والی یہ خواتین کون تھیں یہ سوال ابھی ادھورا ہے۔ ادھراطلاعات کے مطابق نیو یارک کی ایک معروف اسٹریٹ میں’’ امریکن کلب‘‘ میں بھارتی مجرا ہو رہاتھا جہاں پاکستانی کابینہ کے وزراء نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔ وزراء نے یہاں تک ہی بس نہیں کیا بلکہ وہ مجرے کے دوران ایک دوسرے کے دست و گریبان تک بھی جا پہنچے اس سلسلے میں گزشتہ روز وزیراعظم ہاؤس میں ایک صحافی نے سید یوسف رضا گیلانی سے سوال کیا کہ آپ وفاقی کابینہ کے ان وزراء کا کیاکر رہے ہیں؟ جو امریکہ کے ایک کلب میں بھارتی مجرا دیکھتے ہوئے آپس میں لڑ پڑے تو وزیراعظم نے مسکرا کر جواب دیا کہ ’’ مجھے تو اس واقعے کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے‘‘۔ واضح رہے کہ صدر مملکت کے دورہ امریکہ کے دوران وزراء کی غیر اخلاقی سرگرمیوں کے بارے اس سے قبل بھی صدارتی ترجمان سے سوال کیا گیا تھا تاہم انہوں نے اس بات کی تردید کرتے ہوئے کہاہے کہ امریکہ میں پاکستانی وزراء کسی غیر اخلاقی سرگرمی میں ملوث نہیں رہے ہیں

Tags: , , , , ,

اوپر والی خبر سے ملتی جلتی خبریں دیکھیں

Tags: Pakistan , Urdu , Urdu News

امریکا القاعدہ کیخلاف لڑنے کیلئے پاکستان اور افغانستان کو 30ارب ڈالر امداد د ے، حسین حقانی

April 8th, 2009 · No Comments

انتہاپسند پاکستان کو غیرمستحکم کرنا چاہتے ہیں تاہم پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ کے عزم پر قائم ہے

پاکستان اور افغانستان کو دیا جانے والا امدادی پیکیج اس کے مقابلے میں آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہے

آئی ایس آئی کی طالبان سے تعلقات کی خبریں غلط ہیں‘ پاکستانی سفیر کی ’’ واشنگٹن ٹائمز ‘‘سے بات چیت

واشنگٹن۔ امریکا میں پاکستانی سفیر حسین حقانی نے کہا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ کے عزم پر قائم ہے لیکن امریکا القاعدہ کے خلاف جنگ لڑنے کے لئے پاکستان اور افغانستان کو اگلے پانچ برسوں میں 30 ارب ڈالر فراہم کرے،پاکستان اور افغانستان کو دیا جانے والا امدادی پیکیج اس کے مقابلے میں آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہے، آئی ایس آئی کی طالبان سے تعلقات کی خبریں غلط ہیں۔امریکی اخبار ’’ واشنگٹن ٹائمز ‘‘سے بات چیت کرتے ہوئے حسین حقانی نے کہا کہ انتہاپسند پاکستان کو غیرمستحکم کرنا چاہتے ہیں۔ القاعدہ سے مقابلہ کرنے اور امریکا مخالف جذبات کم کرنے کے لیے اقتصادی امدادی پیکیج ضروری ہے۔انہوںنے کہا کہ پاکستان کو امریکہ اور اتحادیوں کی جانب سے اگلے پانچ سال تک ہر سال5 ارب ڈالرز کی ضرورت ہے تاکہ طالبان اور القاعدہ کے خلاف جنگ کے لئے مقامی طور پر ایک لاکھ افراد کی موثر فورس تشکیل دی جا سکے جو انسداد دہشت گردی اور ملک کی بقا کے لیے ضروری ہے۔حسین حقانی کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ کے عزم پر قائم ہے تاہم اس کو موثر بنانے کے لئے وسائل کی ضرورت ہے جو امریکہ کو فراہم کرنے چاہئیں۔انھوں نے کہا کہ امریکا میں مالیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے جو بیل آؤٹ پیکیج دیا جارہاہے پاکستان اور افغانستان کو دیا جانے والا امدادی پیکیج اس کے مقابلے میں آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہے۔ ایک سوال پر حسین حقانی نے ان خبروںکو سختی کے ساتھ مسترد کر دیا جن میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی ایٹیلیجنس ایجنسی طالبان کی مدد کر رہی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ آئی ایس آئی کی طالبان سے تعلقات کی خبریں غلط ہیں۔آئی ایس آئی طالبان کی مدد نہیں کررہی۔

Tags: ,

اوپر والی خبر سے ملتی جلتی خبریں دیکھیں

Tags: Pakistan , Urdu , Urdu News , World News

امریکہ پاکستان پر نہیں بلکہ پاکستان میں موجود چند لوگوں پر حملے کررہا ہے ۔حسین حقانی

September 23rd, 2008 · No Comments

پاکستان میں حملے اور پاکستان پر حملوں میں بڑا فرق ہے

پاکستان میں خود کش حملوں کی اتنی ہی مذمت ہونی چاہیے جتنی امریکی حملوں کی جاتی ہے

امریکہ میں بہت سے لوگ پاکستان کو نقصان پہنچانے کیلئے تیار بیٹھیں ہیں

نیو یارک ۔ امریکہ میں متعین پاکستانی سفیر حسین حقانی نے کہا ہے کہ پاکستان میں خود کش حملوں کی اتنی ہی مذمت ہونی چاہیے جتنی پاکستان کے اندر امریکی حملوں کی کی جاتی ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے امریکہ کے ساتھ سفارتی تعلقات کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے ۔ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کر تے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں حملے اور پاکستان پر حملوں میں بڑا فرق ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکہ میں بہت سے لوگ پاکستان کو نقصان پہنچانے کیلئے تیار بیٹھیں ہیں ہمیں سفارتی کوششوں سے اپنے ملک کا امیج بہتر کرنا ہے اور معیشت کو استوار کرنا ہے ۔انہوں نے کہا کہ امریکہ پاکستان پر نہیں بلکہ پاکستان میں موجود چند لوگوں پر حملے کررہا ہے کچھ مذہبی تنظیموں کی امریکہ سے محاذ آرائی کو پاکستان سے محاذ آرائی نہیں بنانا چاہیے ۔

Tags: , ,

اوپر والی خبر سے ملتی جلتی خبریں دیکھیں

Tags: Pakistan , Urdu , Urdu News , World News

ڈاکٹر قدیر خان کو کسی صورت امریکہ کے حوالے نہیں کریں گے ، حسین حقانی

June 21st, 2008 · No Comments

امریکہ پاکستان میں ججز بحالی مذاکرات کے نتائج کا منتظر ہے ، پاکستانی سفیر کا انٹرویو

واشنگٹن ۔ امریکہ میں تعینات پاکستانی سفیر حسین حقانی نے گزشتہ روز اپنے ہم منصب امریکی سفیر کے ساتھ ملاقات کی ۔ ملاقات میں دوطرفہ تعلقات ، دہشت گردی میں تعاون اور پاک افغان سرحد پر کشیدگی کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا ۔ امریکہ میں پاکستانی سفیر حسین حقانی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ تجارتی و اقتصادی تعلقات جاری رکھنے کا خواہاں ہے جبکہ پاکستان میں عدلیہ کی آزادی اور ججز کی بحالی کے لئے ہونے والے مذاکرات کے نتائج کا منتظر ہے ۔ حسین حقانی نے پاکستان کے قومی ہیرو ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے حوالے سے بھی بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پاکستان کے ایٹمی قوت بننے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور بہت سے پاکستانی انہیں اپنا ہیرو سمجھتے ہوئے ان سے پیار کرتے ہیں ۔ ڈاکٹر قدیر خان کو امریکہ کے حوالے کرنے کی افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے انہوںنے کہا کہ امریکہ نے پاکستان کی نئی حکومت سے ایسا کوئی مطالبہ نہیں کیا ۔ اگر امریکہ چاہے گا تو اسے خان نیٹ ورک حوالے سے جو بھی معلومات ہوئی فراہم کی جا سکتی ہیں لیکن ڈاکٹر خان کو کسی ملک کے حوالے نہیں کیا جائے گا ۔ کیونکہ ڈاکٹر قدیر خان ایک سائنسدان ہیں اور وہ پاکستان کے دفاعی نظام کے حوالے سے مکمل آگاہی رکھتے ہیں ڈاکٹر خان کو کسی ملک کے حوالے کرنا خطرناک ہو سکتا ہے ۔

Tags: , ,

اوپر والی خبر سے ملتی جلتی خبریں دیکھیں

Tags: Pakistan , Urdu , Urdu News