Urdu News-Online Urdu Newspaper

The 3rd Largest Online Urdu Newspaper

Urdu News-Online Urdu Newspaper header image 4
Pages: Prev 1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 ...14 15 16 Next

جعلی ڈگری رکھنے والے ارکان کو ضابطہ تعریرات کے تحت گرفت میں لایا جائے ۔صدیق الفاروق

July 15th, 2010 · No Comments

مسلم لیگ (ن) نے وزیر قانون ڈاکٹر بابر اعوان پر بلیک میلنگ کے الزامات عائد کر دیئے
غیر قانونی اور نا جائز طریقے سے جائیدادیں اور اثاثے بنانے کے متعلق حقائق قوم کے سامنے لائے جائیں گے
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنماء کا پریس کانفرنس سے خطاب
اسلام آباد۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما صدیق الفاروق نے وفاقی وزیر قانون و انصاف ڈاکٹر بابر اعوان پر مختلف مقدمات کے حوالے سے بلیک میلنگ کے سنگین الزامات عائد کر دیئے ۔ انھوں نے ان مقدمات میں ڈاکٹر بابر اعوان کے مخالف فریقوں کو قانونی معاونت کی پیشکش کی ہے ۔انھوں نے مطالبہ کیا ہے کہ جعلی ڈگری رکھنے والے ارکان کو ضابطہ تغریرات کے تحت گرفت میں لایا جائے اور ان کے خلاف آئین کے آرٹیکل 62-63 کے تحت کارروائی کی جائے ۔انھوں نے کہا کہ ڈاکٹر بابر اعوان ہمیشہ سے ٹیڑھے راستوں پر چلتے آئے ہیں ۔ غیر قانونی اور نا جائز طریقے سے جائیدادیں اور اثاثے بنانے کے متعلق بھی جلد حقائق قوم کے سامنے لائے جائیں گے ۔ جمعرات کو پارٹی سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ۔صدیق الفاروق نے کہا کہ موجودہ وفاقی وزیر قانون اور خود ساختہ ڈاکٹر بابر اعوان نے معزز شہری سے پچاس لاکھ روپے اور بارہ پلاٹ بلیک میلنگ کے ذریعے حاصل کرنے اور بعد میں اغواء کاری اور دھمکیوں کے ذریعے یہ مقدمہ ختم کرانے کے مبینہ جرائم کا ارتکاب کیا ۔بلیک میلنگ کا یہ مقدمہ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں ان کے خلاف 4 جنوری 1996ء کو تعزیرات پاکستان کی 6 دفعات کے مطابق تھانہ صادق آباد میں ایف آئی آر نمبر 5 کے تحت درج کیا گیا ۔ یہ دفعات 501,500,389,502,506,384ہیں۔ اس حوالے سے انھوں نے متعلقہ معزز شہری سے مذاکرات بھی کیے جس کی آڈیوکیسٹ پولیس کے ریکارڈ میں بھی موجود ہے۔ پولیس کے دو اداروں نے ان کے خلاف الگ الگ تحقیق و تفتیش کی اور انہیں مجرم قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف 25 ستمبر 1996ء کو عدالت میں چالان پیش کر دیا ۔ ظہیر الدین بابر اعوان نے متعلقہ شہری سے مذاکرات کیے اور اپنا مطالبہ پچاس لاکھ روپے سے کم کر کے چالیس لاکھ روپے اور اپنی پسند کے پلاٹ حاصل کرنے کی کوشش کی حتمی طور پر انھوں نے بیس لاکھ روپے مانگے ۔ یہ حقائق آڈیو کیسٹس سے ثابت ہوتے ہیں۔ اس کے بعد انھوں نے متعلقہ شہری کو اپنے خلاف بلیک میلنگ کے مقدمے سے جبراًً دستبردار کروانے کے لیے 29 اگست 1998ء کو اغواء کرنے کی کوشش کی ۔ اغواء میں نا کام ہونے پر ہزاروں روپے نقدی سمیت ان کا بریف گیس لوٹ کر قتل دھمکیاں دیتے ہوئے فرار ہو گئے ۔ اس مجرمانہ اقدام پر ان کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعات 511,501,365,392 اور 279 کے تحت اگست 1998ء کو تھانہ نیو ٹاؤن ایف آئی آر نمبر 309 درج ہوئی ۔ دوسری مقدمے میں بھی تفتیشی ایجنسیوں نے انہیں گناہ قرار دے کر گرفتار کر کے اڈیالہ جیل بھیج دیا جہاں سے وہ ضمانت پر رہا ہوئے ان کے خلاف یہ دونوں مقدمات گیارہ سال سے راولپنڈی میںدفعہ 30 کے فاضل مجسٹریٹ کی عدالت میں موجود ہیں یاد رہے کہ حارث اسٹیل ملز مالکان سے بھی ساڑھے تین کروڑ روپے کی رشوت لینے کا الزام سپریم کورٹ میں مقدمے کی سماعت کے دوران ان پر لگایا گیا ۔ بابر اعوان کو زمانہ طالب علمی سے جاننے والے لوگوں کو معلوم ہے کہ جائز و نا جائز دولت اکٹھی کر کے امیر کبیر بننے کے لالچی ہیں۔انھوں نے کہا کہ یہ ہے اس شخص کا حقیقی چہرہ جو کہ پارسائی کا لبادہ اوڑھ کر سیاست کے مقدس شعبے میں دندناتا پھر رہا ہے ۔ دراصل ایسے ہی لوگوں نے سیاستدانوں کو بد نام اور سیاست جیسے مقدس ترین کام کو آلودہ کر دیا ہے اور پوری قوم کو بے وقوف بنا رکھا ہے ایسے ہی پیشہ ور مجرموں کی وجہ سے آج سیاست ایک گالی بن گئی ہے ۔ ایسے کرداروں کے ہاتھوں قوم کو بلیک میل ہونے اور بے وقوف بننے سے بچانے کے لیے انہیں بے نقاب کرنا ضرروی ہے تاکہ سیاست کو وہ مقام دلایا جائے جو کہ در حقیقت انسانیت کی فلاح اور معاشروں کی تعمیر کے لیے ہر مہذب ملک کا خاصا ہوا کرتا ہے اور اس ملک میں باکردار اور اصلی ڈگریاں رکھنے والے ڈاکٹریٹ، سیاست ، وکالت اور دیگر شعبہ جات میں اپنا کردار ادا کرنے کے قابل ہو سکیں گے ۔ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ متذکرہ مقدمات میں پاکستان مسلم لیگ (ن) ضرورت پڑنے ڈاکٹر بابر اعوان کے مخالف فریقوں کی قانونی معاونت فراہم کرنے کو تیار ہو گی ۔

Tags: پاکستان

صدر زر داری سے آرمی چیف کی ملاقات

July 15th, 2010 · No Comments

اسلام آباد.صدر آصف علی زر داری سے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے ایوان صدر میں ملاقات کی۔ آرمی چیف نے ملاقات میں صدر کو اپنے دورہ آسٹریلیا سے آگاہ کیا۔ آرمی چیف نے پاک فوج کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور تیاری کے بارے میں صدر کو تفصیلی بریفنگ دی۔ آرمی چیف نے صدر کو فاٹا میں پاک فوج کی تعداد اور وہاں جاری کاروائیاں کے بارے میں بتایا۔اس کے علاوہ آرمی چیف نے صدر مملکت کو بھارت کے ساتھ پاکستان کی مشترکہ سرحد کی صورت حال سے بھی آگاہ کیا۔

Tags: پاکستان

وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی سے فوج کے سر براہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کی ملاقات

July 15th, 2010 · No Comments

قومی سلامتی کے تحفظ کے لئے ہر قسم کے وسائل کو بروئے کار لانے کے عزم کا اعادہ
اسلام آباد ۔وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی سے جمعرات کو اسلام آباد میں چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران ملک کی مجموعی طور پر سلامتی کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی اور فوج کے سر براہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کے درمیان ہو نے والی اس اہم ملاقات میں پاک بھارت جامع مذاکرات پر بھی گفتگو ہوئی۔ علاقائی امن پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس طرح دہشت گردی و انتہا پسندی کے خاتمے سے متعلق امور پر بھی بات چیت ہوئی۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کو اپنے حالیہ دورہ آسٹریلیا کی تفصیلات سے بھی آگاہ کیا۔سیاسی اور عسکری قیادت نے قومی سلامتی کے تحفظ کے لئے کوئی دقیقہ فردگزاشت اٹھا نہ رکھنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا ہے۔

Tags: پاکستان

صدر آصف علی زر داری سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی ملاقات

July 14th, 2010 · No Comments

وزیر خارجہ نے صدر مملکت کو خارجہ پالیسی پر بریفنگ دی
اسلام آباد۔صدر آصف علی زرداری سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بدھ کو ایوان صدر میں ملاقات کی اور صدر کو پاکستان کی خارجہ پالیسی پر بریفنگ دی اور بھارتی وزیر خارجہ سے مذاکرات اور امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کے مجوزہ دورہ پاکستان پر تبادلہ خیال کیا۔ ذرائع کے مطابق وزیر خارجہ نے صدر سے ملاقات میں بھارت سے ہونے والے مذاکرات میں پاکستان کی پالیسی پر تبادلہ خیال کیا ۔ وزیر خارجہ نے اسٹرٹیجک ڈائیلاگ فریم ورک کے تحت مختلف شعبوں میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان ہونے والے اجلاسوں پر پیشرفت سے بھی صدر کو آگاہ کیا۔

Tags: پاکستان

سپریم کورٹ کی پی ٹی سی ایل حکام کو ہدایت

July 14th, 2010 · No Comments

ملازمین کو مستقل کر نے کے حوالے لائحہ عمل تیار کر کے آج عدالت میں پیش کیا جائے
سفارش پر بھرتی ہونے والے فائدہ حاصل کرنے کے لیے عدالتوں میں پہنچ جاتے ہیں۔ ۔ ۔ جسٹس رمدے کے ریمارکس
اسلام آباد۔ سپریم کورٹ نے پی ٹی سی ایل کے ڈیلی ویجز ملازمین کو مستقل تقرری کرنے کے حوالے سے مقدمہ کی سماعت کے دوران پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن حکام کو ہدایت کی ہے کہ ان ملازمین کو مستقل کرنے کے حوالے سے لائحہ عمل تیار کر کے آج جمعرات کو عدالت میں پیش کریں مقدمہ کی سماعت کے دوران جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سفارش پر بھرتی ہونے والے فائدہ حاصل کرنے کے لیے عدالتوں میں پہنچ جاتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ سارے بچے سیاسی لوگوں کی سفارش پر آئے تھے جس پر ملازمین کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ایسا نہیں ہے تو جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہائی کورٹ کے فیصلہ کو پڑھیں جس میں اعتراف کیا گیا ہے کہ وزیر اعظم کے خصوصی حکم پر ان افراد کو بھرتی کیا گیا ہے ان کا کہنا تھا کہ ہماری مصیبت یہی ہے کہ غلط راستہ اختیار کر کے ملازمتیں حاصل کی جاتی ہیں اور پھر یہ لوگ عدالتوں کے لیے مصیبت کھڑی کر دیتے ہیں۔ اس موقع پر پی ٹی سی ایل کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ادارے کی نجکاری کے بعد ان لوگوں کو دوبارہ مستقل طور پر تعینات کیا گیا ہے جس پر عدالت نے قرار دیا کہ گزشتہ 18 سال سے کام کرنے والوں کو اب دوبارہ کیوں تعینات کیاگیا ہے ان کی تقرری شروع سے ہونی چاہیے جس پر پی ٹی سی ایل کے وکیل نے کہا کہ ا س حوالے سے وہ حکام سے رابطہ کر کے عدالت کو بتائیں گے عدالت نے مقدمہ کی مزید سماعت آج تک ملتوی کر دی

Tags: پاکستان

حکومت ٹارگٹ کلنگ کے واقعات پر قابو پانے میں بری طرح سے ناکام ہوچکی ہے۔عمران خان

July 14th, 2010 · No Comments

اسلام آباد۔پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت ٹارگٹ کلنگ کے واقعات پر قابو پانے میں بری طرح سے ناکام ہوچکی ہے۔ملک میں امن و امان کی صورتحال ابتر ہے اور حکمرانوں نے پولیس کی بڑی نفری اپنے پروٹوکول پر مامور کی ہوئی ہے۔عوام کے جان و مال غیر محفوظ ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز بی این پی مینگل کے سیکرٹری جنرل اور سابق سینیٹرحبیب جالب ایڈووکیٹ کے کوئٹہ میں قتل کے حوالے سے اپنے ایک مذمتی بیان میں کیا۔انہوں نے حبیب جالب کے سفاکانہ قتل پر گہرے رنج کا اظہار کرتے ہوئے اس واقعہ کی شدید الفاظ میںمذمت کی۔انہوں نے کہا کہ حکومت ٹارگٹ کلنگ کے واقعات پر قابو پانے میں بری طرح سے ناکام ہوچکی ہے اور عوام کے جان و مال غیر محفوظ ہو چکے ہیں۔جس قدر آج ملک میں امن و امان کی صورتحال خراب ہے اتنی پہلے کبھی نہ تھی۔انہوں نے کہا کہ پولیس کی اصل ذمہ داری شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا اور امن و امان کی صورتحال برقراررکھنا ہوتا ہے مگر حکمرانوں نے پولیس کی بڑی تعداد اپنے پروٹوکول پر مامور کردی ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ یہ سلسلہ اب ختم ہونا چاہئیے۔عمران خان نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ حبیب جالب کے قاتلوں کی فوری گرفتاری کے لئے موثر اقدامات کئے جائیں۔

Tags: پاکستان

پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کا ایک ملین طلباء و طالبات کو جسمانی سزا سے محفوظ رکھنے کا آغاز

July 14th, 2010 · No Comments

لاہور. پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن نے 29اضلاع میں اپنے 2ہزار پارٹنر سکولوں کے ایک ملین طلباء و طالبات کو جسمانی سزا سے محفوظ رکھنے کے منصوبہ کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔یہ بات ایم ڈی پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن محی الدین احمد وانی نے یونیسف کے تین رکنی وفد کو اپنے دفتر میں بریفنگ میں بتائی۔ وفد میں چائلڈ پروٹیکشن افسر تحسین ، چائلڈ پروٹیکشن سپیشلسٹ عباسی اور پروگرام اسسٹنٹ احسن علی شامل تھے۔اجلاس میں پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن اور یونیسف کے درمیان تحفظ حقوق اطفال کے حوالے سے مل کر کام کرنے پر اتفاق رائے کیا گیا۔ اس موقع پر یونیسف کے وفد نے پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے مختلف تعلیمی منصوبوں کی افادیت کو سراہا۔

Tags: پاکستان

ا نڈین وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا کے دورہ سے کشمیریوں کی کوئی توقعات نہیں راجہ ذوالقرنین

July 14th, 2010 · No Comments

بھارت کے ساتھ صرف اور صرف کشمیر اور پانی کے مسئلہ پر مذاکرات کیے جائیں
بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کی نسل کشی شروع کر رکھی ہے جسے روکنا ہو گا
اسلام آباد۔ آزاد جموں و کشمیر کے صدر راجہ ذوالقرنین خان نے کہا ہے کہ پاک بھارت مذاکرات کے تمام مراحل میں دونوں اطراف کی نمائندہ کشمیر ی قیادت کو شامل کرنے کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے درمیان مذاکراتی عمل میں مسئلہ کشمیر کو ایجنڈے میں سر فہرست رکھ کر اُسے منطقی انجام تک پہنچایا جائے بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کی نسل کشی شروع کر رکھی ہے جسے روکنا ہو گا ۔ ا نڈین وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا کے دورہ سے کشمیریوں کی کوئی توقعات نہیں بھارت کے ساتھ صرف اور صرف کشمیر اور پانی کے مسئلہ پر مذاکرات کیے جائیں باقی مسائل خود بخود حل ہو جائیں گے ایک طرف بھارت پاکستان کی شہ رگ کاٹ رہا ہے دوسری طرف آبی جارحیت کے ذریعے پاکستان کو بنجر اور تاریک کر رہا ہے بھارت کے ساتھ تا شقند، شملہ ، عدم جارحیت کے معاہدے ہوئے لاہور اور آگرہ کے اعلانات ہوئے ، کرکٹ اور کلچر ڈپلومیسی چلی ، 1947، 1965، 1971، اور کارگل کی جنگیں ہوئیں مگر کشمیریوں کا مسئلہ حل نہ ہوا ان خیالات کا اظہار انھوں نے ایوان صدر کشمیر ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا صدر راجہ ذوالقرنین خان نے کہا کہ امریکہ ، برطانیہ ، اقوام متحدہ ، اور اور یورپی یونین کے بعض ممالک سمیت سلامتی کونسل کے مستقل ممبران کے فیصلے دنیا کے اندر چلتے ہیں وہ انڈیا ، پاکستان ، کشمیر کے تاریخی حالات و واقعات کو سامنے رکھیں۔ پھر انڈیا کی تمام پولیٹیکل پارٹیز ،سیاسی و فوجی قیادت پرذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ 1947 سے اس وقت تک کے کشمیر پر کیے گئے معاہدوں جنگوں اور مقبوضہ کشمیر کے اندر 8 لاکھ سے زائد جدید اسلحہ سے لیس اپنی فوج کی نا کافی کو سامنے رکھ کر فیصلہ کریں کہ کیا کشمیر بھارت کا اٹوٹ ا نگ بن سکتا ہے ؟ میرے خیال میں یہ تمام نا ممکنات سے ہے انھوں نے کہا کہ بھارت کی نیت ٹھیک نہیں وہ پاکستان کو مختلف فورمز پر مذاکرات کے بہانے الجھائے رکھنا چاہتا ہے پاکستان بھاررت کے ساتھ صاف نیت سے مذاکرات کرتا ہے تاکہ کسی نہ کسی طریقہ سے مسئلہ کشمیر کا حل نکلے مگر بھارت کی بد نیتی آڑے آ جاتی ہے انھوں نے کہا کہ بھارت کے وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا مفید اور مثبت پیغام کے ساتھ انڈیا جائیں اور اپنی قیادت کو مسئلہ کشمیر پر حتمی فیصلہ کے لیے تیار کریں کیونکہ تاریخ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ کشمیری کبھی بھی بھارت کے ساتھ نہیں رہ سکتے اور وہ اپنے مقدر کا خود فیصلہ کریں گے ۔ صدر راجہ ذوالقرنین خان نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اقوام متحدہ کو اپنا کردار فوراً ادا کرنا چاہیے پاک بھارت مذاکرات میں کشمیریوں کو شامل کر کے مذاکراتی عمل کی نگرانی کر کے اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق کشمیریوں کو حق خود ارادیت دینا چاہیے تاکہ وہ اپنے اپنے مقدر کا فیصلہ خود کر سکیں انھوں نے کہا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو اب کشمیر سے ایسا طوفان اُٹھے گا جو دہلی کے اقتدار کو ہلا کر رکھ دے گا انھوں نے کہا کہ پاکستانی قیادت پاکستانی قوم پاکستان کا میڈیا اور فوج کشمیریوں کے ساتھ ہے جس پر ہم انکے مشکور ہیں اور ہم بھی ۔۔ ’’عشق پاکستان ‘‘ کی کشمیر کے لالہ زاروں کے اندر جنگ لڑتے رہیںگے ۔

Tags: پاکستان

پہلی اور موجودہ عدلیہ میں بہت فرق ہے ، پاکستانی تاریخ میں پہلی بار عدلیہ نے مارشل لاء کا راستہ روکا ، افتخار محمد چوہدری

July 14th, 2010 · No Comments

ہم قانون سازی ختم کرنے کے لیے نہیں نظام کو سپورٹ کرنے کے لیے بیٹھے ہیں
عدالت کی ہر ممکن کوشش ہے کہ ایگزیکٹو آرڈر کوبھی بچایا جائے ،چیف جسٹس آف پاکستان کے ریمارکس
سپریم کورٹ نے 18 ویں آئینی ترمیم کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کل تک ملتوی کر دی
اسلام آباد۔سپریم کورٹ آف پاکستان نے 18 ویں آئینی ترمیم کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کل( جمعرات ) تک ملتوی کردی ۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اپنے ر یمارکس میں کہا ہے کہ پہلی اور موجودہ عدلیہ میں بڑا فرق ہے ۔ عدالت قانون سازی کو ختم کرنے کے لیے نہیں بیٹھی ہم نظام کو سپورٹ کرنے کے لیے بیٹھے ہیں ۔ عدالت کی ہر ممکن کوشش ہے کہ ایگزیکٹو آرڈر کو بھی بچایا جائے ۔ تمام ججز مقدمات میں دلچسپی لے رہے ہیں کوشش ہے کہ انصاف پر مبنی مناسب فیصلہ کیا جائے بدھ کو 18 ویں ترمیم کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں 17 رکنی لارجر بینچ نے کی ۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار عدلیہ نے مارشل لاء کا راستہ روکا ماضی میں پارلیمنٹ کو مدت پوری نہیں کرنے دی گئی جو ایک المیہ ہے ۔ غیر جمہوری دفعات نظام میں اداروں کے درمیان اعتماد قائم ہوتا ہے ۔مقدمہ کی سماعت کے دوران سینےئر وکیل و ممتاز قانون دان ڈاکٹر عبدالحفیظ پیرزادہ نے اپنے دلائل میں موقف اختیار کیا کہ ڈکشنری کے مطابق آئین میں ترمیم کے معنی بہتری لانے کے لیے تبدیلی ہیں جبکہ آئینی ترامیم کو آئین کے تناظر میں پرکھا جانا چاہیے ۔انہوںنے کہا کہ جنرل ( ر ) ضیاء الحق کے مارشل لاء کے بعد آنیوالی 5 اسمبلیوں نے آئین کے آرٹیکل 2A میں تبدیلی نہیں کی ۔ عبد الحفیظ پیرزادہ نے کہا کہ جعلی ڈگریوں کا معاملہ دبانے کے لیے ہائرایجوکیشن کمیشن پر دباؤ ڈالاجارہا ہے اور عدالتوں پر ہونے والی تنقید کے عمل کو اب ختم ہونا چاہیے ۔ انہوںنے موقف اختیار کیا کہ 1973 سے لے کر اب تک انتخابات کے حوالے سے آئین میں کہاگیا تھا کہ پارٹی کے اندر انتخابات کرائے جائیں گے لیکن 18 ویں ترمیم کے ذریعے اس عمل کو بالکل ختم کردیاگیا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 17 کی ذیلی شق 4 کو مکمل طور پر ختم کردیاگیا ہے جو کہ نہیں کیا جانا چاہیے کیونکہ پارٹیوں کے اندر انتخابات ہی جمہوریت کی بنیاد ہیںجبکہ 18 ویں ترمیم کے ذریعے ایک فرد کو یہ اختیار دیدیاگیا ہے کہ وہ پارٹی کے کسی بھی رکن سمیت وزیر اعظم کو بھی ہٹانے کا اختیار رکھتا ہے ۔ انکا کہنا تھا کہ سیاسی جماعت ایک ادارہ کی حیثیت رکھتا ہے لیکن مذکورہ ترمیم کے باعث اس ادارے کو ایک فرد کے قبضے میں د ے دیاگیا ہے ۔ عدلیہ کی آزادی بارے دلائل دیتے ہوئے عبد الحفیظ پیرزادہ نے موقف اختیار کیا کہ ججوں کی تعیناتی بارے تشکیل دیاگیا کمیشن آئین کے آرٹیکل 9 کی کھلی خلاف ورزی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین کے بنیادی ڈھانچے کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا ۔ ان کا کہناتھا کہ ججوں کی تعیناتی بارے ترامیم کر کے آئین کے آرٹیکل 174A کی خلاف ورزی کی گئی ہے ۔ اس موقع پر چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جمہوری نظام میں اداروں کو ایک دوسرے پر اعتماد ہوتا ہے ۔ 58 ٹو بی جیسی دفعات غیرجمہوری ہیں اور یہ غیر جمہوری نظام اداروں کو کمزور کرتا ہے ۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ماضی میں پارلیمنٹ کو مدت پوری نہیں کر نے دی گئی جو ایک بڑا لمیہ ہے اور اداروں کے درمیان اعتماد کو 58 ٹو بی کے ذریعے ختم کردیا جاتا تھا ۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کا کہنا تھا کہ عدالت کسی قانون سازی کو ختم کرنے کے لیے نہیں بیٹھی ۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس جمہوری نظام کو منظم کیا جائے اور تمام کوششیں نظام کو محفوظ بنانے کے لیے کی جائیں ۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالت کی ہر ممکن کوشش ہے کہ ایگزیکٹو آرڈر کو بھی بچایا جائے ۔ ان چیزوں کو بچانا عدالت کا فرض ہے ۔ دیکھنا یہ ہے کہ ہم کس طرح نظام کو بچاتے ہیں ۔ اس موقع پر عبد الحفیظ پیرزادہ نے موقف اختیار کیا کہ اعلی عدلیہ میںججوں کی تعیناتی بارے لائحہ عمل کو تیار کرتے ہوئے عدلیہ سے مشاورت نہیں کی گئی جس پر جسٹس میاں شاکر اللہ جان نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اس میں کیا ہرج ہے۔ ججوں کی تعیناتی بارے عمل عدالتی کمیشن سے ہی شروع ہوگا اور چیف جسٹس کی مشاورت سے جو نام منتخب کئے جائیں گے پارلیمانی کمیشن ان ناموں میں سے ہی ججوں کو منتخب کرے گا جبکہ وہ اس میںنیا نام بھی شامل نہیں کر سکتا ۔حفیظ پیرزادہ نے موقف اختیار کیا کہ 1973 ء سے 2002 ء تک آئین میں 22 کلاز شامل کئے گئے ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوںنے ہمیشہ حالات کو سنبھالنے کی کوشش کی ہے نہ کہ بگاڑنے کی ۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہمیں آئین کی پاسداری کرتے ہوئے آرٹیکل 74 اور 175A کا سٹیٹس دیکھنا ہوگا ۔ حفیظ پیرزادہ کا کہنا تھا کہ 18 ویں ترمیم کی حیثیت آئینی نہیں ہے ۔ یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے ماں بچے کو جنم دیتی ہے لیکن اسے بچے کو زخمی یا مارنے کاحق حاصل ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک قانون ہے اور عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ پارلیمنٹ سے اپنا حق لیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت کے پاس ٹینک یا اسلحہ نہیں صرف اخلاقی قوت ہوتی ہے اور عدالت ارتقائی عمل سے خود کو ٹھیک کررہی ہے جس پر چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ عدلیہ اور پہلی عدلیہ میں بڑا فرق ہے ۔ موجودہ عدلیہ نے 3 نومبر کو مارشل لاء کے خلاف فیصلہ دے کراس کا رارستہ روکاچیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہماری کوشش ہے کہ 18 ویں ترمیم کے حوالے سے دائر درخواستوں کی سماعت کے بعد انصاف پر مبنی فیصلہ دیا جائے ان کا کہنا تھا کہ بھارت میں شاید ایک بار مارشل لاء لگا جبکہ پاکستان میں بار بار مارشل لاء لگائے گئے لیکن موجودہ عدلیہ نے ملکی تاریخ میں پہلی بار 3 نومبر کے اقدامات کو غلط قرار دیا جو کہ 12 اکتوبر 1999 ء اور 5 جولائی 1977 ء کو بھی نہیں ہوا اس موقع پر عبدالحفیظ پیزادہ نے بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلہ کا حوالہ دیا جس پر جسٹس خلیل الرحمان رمدے نے کاہ کہ جسٹس سلیم اختر نے اپنے فیصلہ میں لکھا تھا کہ بھارتی عدالتوں کے فیصلوں کا سہارا نہیں لیا جائے گا ۔ اس موقع پر جسٹس تصدق حسین جیلانی نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 8 کی آئین کے بنیادی ڈھانچ میں بڑی اہمیت ہے ۔ عدالت میں عبدالحفیظ پیرزادہ کے دلائل ابھی جاری تھے کہ سماعت آج تک ملتوی کر دی گئی ۔ واضح رہے کہ عبدالحفیظ پیزادہ آج بھی دلائل جاری رکھیں گے ۔

Tags: پاکستان

جماعت اسلامی نے بی این پی ( مینگل ) کے جنرل سیکرٹری حبیب جالب بلوچ کے قتل کے خلاف سینٹ میں تحریک التواء جمع کرا دی

July 14th, 2010 · No Comments

اسلام آباد.جماعت اسلامی پاکستان کی پارلیمانی پارٹی نے بدھ کو بلوچستان نیشنل پارٹی ( مینگل ) کے سیکرٹری جنرل و سابق سینیٹر ممتاز قانون دان حبیب جالب بلوچ کی ٹارگٹ کلنگ پر سینٹ میں اس واقعہ کو زیر بحث لانے کے لئے تحریک التواء جمع کرا دی ہے ۔ محرکین میں جماعت اسلامی پاکستان کے سینٹ میں پارلیمانی لیڈر سینیٹر پروفیسر خورشید احمد ‘ سینیٹر پروفیسر محمد ابراہیم اور سینیٹر عافیہ ضیاء شامل ہیں ۔ اراکین سینٹ نے سینئر قوم پرست سیاستدان کے بہیمانہ قتل پر تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ تحریک التواء میں کہا گیا ہے کہ حبیب جالب بلوچ ایک ممتاز دانشور ‘ سینئر راہنما تھے اور ساری زندگی عوامی حقوق کے لئے جدوجہد کرتے رہے ۔ ان کا قتل ایک بہت بڑا سانحہ ہے ۔ پوری قوم کو اس سانحے پر تشویش ہے لہذا معمول کی کارروائی کو روک کر اس واقعہ کو زیر بحث لایا جائے ۔

Tags: پاکستان