Urdu News-Online Urdu Newspaper

Urdu news Online Urdu Newspaper

Urdu News-Online Urdu Newspaper header image 4
Pages: 1 2 3 4 Next

سعودی عرب مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے مثبت کردار ادا کرے ، میرواعظ عمرفاروق

March 15th, 2010 · Comments Off

ًًجدہ ‘ کل جماعتی حریت کے چیئرمین میر واعظ نے سعودی عرب پر زور دیا کہ وہ پاکستان اور بھارت کے درمیان بنیادی تنازعہ مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لیے مثبت کردار ادا کرے میر واعظ نے جدہ میں کشمیر اوور سیز کمیٹی ،جس میں پاکستان اور آزاد کشمیرکی جملہ سیاسی جماعتوں کے ارکان شامل ہیں ،نے استقبالیہ دیا ۔میرواعظ نے تقریر کرتے ہوئے ان تمام ممبران خاص طور پر پاکستانی شہریوں کا شکریہ ادا کیا جو مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے برابر اپنے بھرپور حمایت کرتے آئے ہیں۔ میر واعظ نے کہا کہ سعودی عرب جو دین اسلام کے تعلیمات کا مرکز ہے ،کا ملت اسلامیہ کو متحد کرنے میں ایک بنیادی اور اہم رول بنتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب جس کے بھارت اور پاکستان کے ساتھ دوستانہ مراسم اور تعلقات ہیں، کو چاہئے کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان بنیادی تنازعہ مسئلہ کشمیر ہے کے حل کے لیے مثبت کردار ادا کرے ،جس طرح وہ موجودہ مسلم امہ کو درپیش مسائل ،جن میں خاص طور پر افغانستان اور فلسطین کے تنازعات شامل ہیں، کے حل کے سلسلے میں کوششیں کر رہا ہے ۔اس موقعے پر میرواعظ نے او آئی سی پر زور دیا کہ وہ جلد سے جلد ایک خیرسگالی وفد کشمیر روانہ کرے تاکہ وہ یہاں کے اصل حالات اور واقعات اور زمینی صورتحال اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا بچشم خود مشاہدہ کر سکے۔میر واعظ نے یہ بات زور دیکر کہی کہ جموں کشمیر کے عوام اپنے جائز جدوجہد آزادی سے ہر گز نہیں تھکے ہیں بلکہ انہوں نے اپنی جدوجہد آزادی کے تئیں بارہا اپنے عزائم کا اعادہ کرکے دکھایا اور آج بھی دکھا رہے ہیں

Tags: کشمیر

مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے زیر انتظام انتخابات کا بائیکاٹ کیا جائے گا ‘ سید علی گیلانی

March 13th, 2010 · Comments Off

سوپور۔حریت کانفرنس کے راہنما سید علی شاہ گیلانی نے سوپور میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ ماہ ہونے والے انتخابات سے کشمیری عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا ۔ مقبوضہ وادی میں بھارت کے زیر انتظام ہونے والے ہر قسم کے انتخابات کا بائیکاٹ کیا جاتا رہے گا ۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی نوعیت اور درجے کے انتخابات کا بائیکاٹ کیا جانا چاہئے ۔ سید علی گیلانی نے کہا کہ اقوام متحدہ نے کشمیری عوام کو حق خودارادیت دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن اس وعدے پر عمل کرنے سے بھارت گریز کر رہا ہے ۔

Tags: پاکستان , کشمیر , ہندوستان

مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران 97 ہزار بچے یتیم اور 32 ہزار خواتین بیوہ ہوئیں ‘ رپورٹ

March 13th, 2010 · Comments Off

سرینگر ‘ مقبوضہ جموں و کشمیر میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران معصوم اور بے گناہ کشمیریوں پر بھارتی فوج کے بے جا ظلم و ستم اور تشدد کی مختلف کارروائیوں میں 32 ہزار خواتین بیوہ اور 97 ہزار بچے یتیم ہوئے ہیں ۔ ایک رپورٹ کے مطابق سیکورٹی فورسز کی بیوہ خواتین کی زندگی عام شہریوں اور دیگر افراد کی بیواؤں سے بہتر ہے افواج کی جانب سے معصوم کشمیریوں پر ظلم وستم کی یہ کارروائیاں ابھی تک جاری ہے اور جس سے یتیموں اور بیواؤں کی تعداد بڑھنے کا بھی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے ۔ ایک رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران بھارتی فوج کا قبضہ ایک طرف دوسری جانب معصوم لوگوں پر ظلم و ستم اور سر عام قتل عام کی واقعات عام ہو رہے ہیں ۔ بھارتی فوج کے لئے کشمیریوں کا قتل عام ایک عام بات ہے وہاں پر آئے روز بھارتی جارحانہ رویئے میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ کشمیری مردوں کے خلاف ان کارروائیوں میں تشدد کا نشانہ اور شہید ہونے سے ہزاروں گھر اجڑ گئے ہیں ۔ کشمیر میں گزشتہ 60 سالوں سے کشمیری عوام بھارتی مظالم کا سامنا کر رہے ہیں اور اب تک ان کا سامنا کرتے کرتے لاکھوں لوگ قربانیاں دے چکے ہیں ۔ کشمیر میں انسانی حقوق کی کھلے عام خلاف ورزیوں کی سنگین واقعات ہو رہے ہیں ۔ کشمیریوں کی شہادتوں کے بعد نہ تو ان کی بیواؤں اور بچوں کا خیال رکھا جاتا ہے بلکہ ان کی زندگی مزید متاثر ہو جاتی ہے ۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ ان متاثرین افراد کے لئے نہ تو مقامی سطح پر این جی اوز مدد کرتی ہے اور نہ ہی کوئی دوسرا تعاون فراہم ہے بلکہ صورت حال مزید گھمبیر بتائی جاتی ہے ۔ رپورٹ کے مطابق بھارتی فوج کی ظلم و ستم سے مزید خواتین کا بیوہ ہونے اور بے شمار بچوں کے یتیم ہونے کا خدشہ ہے کیونکہ اس کشمیر کے مسئلے کا کوئی حل نہیں نکالا جاتا ۔ خواتین بیواؤں کی حالت زار کا کوئی پرسان حال نہیں ۔ اس لئے مقبوضہ کشمیر میں بیواؤں اور بچوں کے لئے این جی اوز کا اعلیٰ سطح پر کام آنا بہت ضروری ہے تاکہ ان کی بنیادی ضرورتوں کو پورا کیا جائے ۔ اور انفرادی طور پر ہر شخص ان کوششوں میں اپنا کردار ادا کرے ۔ واضح رہے کہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران بھارتی مظالم سے مقبوضہ کشمیر میں بیوہ ہونے والی خواتین کی تعداد 32 ہزار ہو گئی ہے اور 97 ہزار بچے یتیم ہوئے ہیں

Tags: کشمیر

بھارت میں برطانوی ہائی کمیشن کے وفد کی مقبوضہ کشمیر میں حریت رہنماؤں سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری

March 13th, 2010 · Comments Off

سری نگر‘ پاک بھارت خارجہ سیکریٹری سطح پر بات چیت کے بعد مقبوضہ جموںو کشمیر جموں و کشمیر کی تازہ ترین صورتحال جاننے کیلئے برطانوی ہائی کمیشن کے خصوصی وفد نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنما پروفیسر عبدالغنی بھٹ سے ملاقات کی اور مسئلہ کشمیر کے مختلف پہلوں پر تبادلہ خیا ل کیا۔اطلاعات کے مطابق آج دلی میں مقیم برطانیہ کے ہائی کمیشن سے وابستہ فسٹ سیکریٹری ویٹفورڈ وایل ویکٹوریہ اور ایرون ساشل نے پروفیسر عبدالغنی بھٹ کی رہائش گاہ پر ان سے ملاقات کی۔ برطانوی وفد سے ملاقات کے دوران پروفیسر بٹ نے انہیں مقبوضھ جموںو کشمیر جموں و کشمیر کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کیا جبکہ ملاقات کے دوران موجودہ سیاسی صوتحال پر غور و خوض کرنے کے علاوہ مذاکراتی عمل کے تناظر میں سیاسی صورتحال کے مختلف پہلوؤں اور کشمیر کے مسئلے کے حل کی تلاش میں اعتماد سازی کے اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ۔ پروفیسر بٹ نے وفد کو بتایا کہ چونکہ مسئلہ کشمیر کے حل میں جنوبی ایشیائی خطے اور اہم تر بات یہ کہ افغانستان میں بھی امن کا راز مضمر ہے، اسلئے بھارت اور پاکستان کو چاہئے کہ وہ مذاکراتی عمل کا آغاز کرتے ہوئے کشمیری قیادت کو اعتماد میں لیکر آگے بڑھیںتاکہ ایٹمی جنگ کی تباہ کاریوں سے بھی بچاجا سکے اور محفوظ و روشن مستقبل کی ضمانت فراہم ہوسکے ۔عبدالغنی بھٹ نے کہا کہ جنوبی ایشیاء میں قیام امن کے خواب کو شرمندہ تعبیر بنانے کیلئے مسئلہ کشمیر کاحل ناگزیر ہے اسلئے بھار ت اور پاکستان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس دیرینہ تنازعہ کو حل کرنے کیلئے بامعنی اور سنجیدہ مذاکرات شروع کریں اور اس سلسلے میں کشمیر کے حقیقی نمائندوں کو بھی شامل کریں۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر ہی ہندپاک کے مابین کشیدگی کی بنیادی وجہ ہے لہٰذا اس مسئلہ کو حل کرنے میں جتنی دیر لگائی جائے گی اتناہی دونوں ممالک کیلئے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ پروفیسر بٹ نے کہا کہ ہند پاک کے مابین اگر چہ اس دیرینہ مسئلہ کو حل کرنے کیلئے بات چیت شروع کی گئی تاہم یہ بات چیت اس دیرینہ تنازعہ کو حل کرنے میں سودمند ثابت نہ ہوسکی

Tags: کشمیر

بھارت کا کشمیر کو متنازعہ علاقہ تسلیم کرنے تک اس سے مذاکرات ممکن نہیں ۔سید علی گیلانی

March 5th, 2010 · No Comments

ہم مذاکرات سے انکاری نہیں لیکن مسئلے کا واحد سہ فریقی مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے
مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے میرے اصولی موقف میں تبدیلی کا سوال ہی پیدا نہیں ہو تا
بھارت کو اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد اور بھارتی جیلوں میں قید ہزاروں کشمیریوں کو رہا کرنا ہوگا
کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین کی ٹیلی فون پرثناء نیوز سے خصوصی بات چیت

اسلام آباد ‘ کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئر مین سید علی شاہ گیلانی نے واضح کیا ہے کہمسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے میرے اصولی موقف میں تبدیلی کا سوال ہی پیدا نہیں ہو تا۔ہم مذاکرات سے انکاری نہیں لیکن جب تک بھارت جموں کشمیر کی متنازعہ حیثیت تسلیم نہیں کرتا ا سوقت تک اس سے مذاکرات ممکن نہیں ۔ مسئلے کا واحد حل سہ فریقی مذاکرات سے ہی ممکن ہے ۔بامقصد مذاکرات کیلئے بھارت کو اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کرانا ہو گا۔ بھارتی جیلوں میں قید ہزاروں کشمیریوں کو رہا کرنا پڑے گا۔ نئی دہلی سے ٹیلی فون پر’’ثناء نیوز‘‘ سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے سید علی شاہ گیلانی نے کہا کہ ہم مسئلہ کشمیر کا پر امن اور منصفانہ حل چاہتے ہیں۔ اس سلسلے میں بھارت سے مذاکرات اسی وقت ممکن ہیں جب تک بھارتی حکومت جموں و کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو تسلیم کرے ۔انہوں نے کہا کہ جب بھارت مسئلہ کشمیر کو متنازعہ تسلیم کر نے کو تیار نہیں تو ایسے حالات میںبھارت سے مذاکرات کس طرح کامیاب ہو سکتے ہیں مذاکرات سے قبل بھارتی حکومت کو جموں و کشمیر سے فوج کا مکمل انخلاء اور وہاں پر رائج کالے قوانین کا خاتمہ کر نا ہو گا ۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا میںبے بنیاد خبریں پھیلائی جارہی ہیں کہ ہم نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اپنے موقف میں تبدیلی لائی ہے ۔ میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہم نے اپنے اصولی موقف پر قائم ہیں اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی ہے ۔ بھارت سے اسی وقت مذاکرات ممکن ہیں جب بھارت کی حکومت کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو تسلیم کرے۔ سید علی گیلانی نے کہا کہ گزشتہ ساٹھ سالوں سے بھارت نے کشمیریوں کو غلام بنا رکھا ہے ۔ خواتین کی بے حرمتی اور نوجوانوں کو قتل کر نا بھارتی فوج کا وطیرہ بن چکا ہے ایسے حالات میں بھارت سے مذاکرات کیسے کامیاب ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ حقیقت یہ ہے کہ بھارت مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے کبھی بھی سنجیدہ نہیں رہا اور نہ ہی اس نے مذاکرات کی کامیابی کے لئے کوئی موثر پالیسی اختیار کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے کشمیر پر دو طرفہ مذاکرات کی کبھی حمایت نہیں کی بلکہ ہمارا موقف واضح ہے کہ اس مسئلے کے پاکستان ،بھارت اور کشمیری عوام تین بنیادی فریق ہیں۔ اس لئے سہ فریقی مذاکرات کے ذریعے ہی اس مسئلے کو حل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ با مقصد مذاکرات کے لئے بھارت کو اقوام متحدہ کی قرارداوں پر عملدر آمد کا واضح لفظوں میں اعلان کر نا ہو گا جن کے تحت کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو تسلیم کیا گیا ہے کہ کشمیری اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے سلسلے میں ان کا موقف وہی ہے جو پہلے تھا اس میں تبدیلی یا انحراف کا سوال ہی پیدا نہیں ہو تا۔ دریں اثناء نئی دہلی میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی شاہ گیلانی نے اس امر کا ایک بار پھر اعادہ کیا ہے کہ ریاست جموںو کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے جس کا حل ہونا ابھی باقی ہے اور مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل ہونا چاہیئے تاکہ 62 سالہ متنازعہ پرامن انداز سے حل کیا جا سکے اور جنوبی ایشیاء میں دیر پا امن کا قیام ممکن بنایا جا سکے ۔چیئرمین حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ سہ فریقی مذاکرات کے ذریعے بھی مسئلہ کشمیر کو حل کیا جا سکتا ہے اگر بھارت پاکستان اور کشمیری قیادت کو عالمی برادری کے زیر نگرانی بامعنی ، بامقصد اور نتیجہ خیز مذاکرات کروائے جائیں تو اس مسئلہ کے حل کی امیدیں پیدا ہو سکتی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اپنی سات لاکھ افواج کو ریاست سے واپس بلائے اور مقبوضہ ریاست کے اندر کالے قوانین کا خاتمہ ، انسانی حقوق کی پامالی کو بند کرنے اور جیلوں کے اندر پڑے بے گناہ کشمیریوں کو رہا کرانے کے لیے جدوجہد کی ہے سید علی گیلانی نے کہا کہ عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیمیں مقبوضہ ریاست کے اندر کشمیریوں کی نسل کشی کو روکنے اورجنوبی ایشیا ء کے خطے کے اندر ، امن خوشحالی اور ترقی کے لیے اپنا کردار اداکریں ۔ تاکہ اس خطہ کے اندر رہنے والے ڈیڑھ ارب انسانوں کی معاشی زندگیوں میں تبدیلی لائی جا سکے ۔ پاک بھارت دو طرفہ مذاکرات وقت کا ضیاع اور بے مقصد ریہرسل ہے ۔ کیونکہ دونوں ممالک چھ دہائیوں سے دو طرفہ مذاکرات کرتے رہے ہیں جس کا آج تک کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہو سکا بلکہ مسئلہ کشمیر کو مزید پیچیدہ بنا دیا گیا ہے۔

Tags: کشمیر

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی ، 2 کشمیری شہید

March 4th, 2010 · No Comments

سرینگر ‘ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی فائرنگ سے 2 بے گناہ کشمیری شہید ہوگئے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی دہشت گردی جاری ہے ۔ راشٹریہ رائفلز سنٹرل ریزرو پولیس اور سپیشل آپریشن گروپ نے تراہ کے علاقے میر محلہ داد سر میں چھاپہ مارا اور فائرنگ سے دو بے گناہ کشمیری شہید کر دئیے ۔ شہداء کے نام محمد امین اور غلا م محمد ہیں ۔ بھارتی فوج نے جنگی ہیلی کاپٹروں سے کارروائی کی جس سے 3 مکانات تباہ ہوگئے۔ تراہ کے علاقے لڈر گام میں ایک بھارتی فوجی زخمی بھی ہوا ۔ دوسری جانب سولہ سالہ کشمیری نوجوان زاہد فاروق کی ہلاکت میں ملوث بارڈر سیکورٹی فورس کے کمانڈر آر کے بیدی کو گرفتار کیا جا رہا ہے ۔

Tags: کشمیر

مسئلہ کشمیر پر بات چیت میں کشمیریوں کو شامل کیا جائے ۔ یاسین ملک

February 25th, 2010 · No Comments

اسلام آباد‘ چیئرمین جموںو کشمیر لبریشن فرنٹ یاسین ملک نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر پر بات چیت میں کشمیریوں کو بھی شامل کیا جائے ۔ ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے یاسین ملک نے کہا کہ سولہ ماہ کے تعطل کے بعد پاکستان اوربھارت کے مذاکرات ہو رہے ہیں جو ایک خوش آئند اقدام ہے تاہم انہوں نے کہا کہ 63 سال گزر جانے کے باوجود یہ مسئلہ جوں کا توں ہے ۔ اور اس کے حل کے بغیر پاک بھارت تعلقات بہتر نہیں ہو سکتے ۔ اب وقت آگیا ہے کہ آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کے لیے پاکستان اور بھارت کشمیریوں کو ساتھ لے کر ا س مسئلے کو حل کرے ۔ یاسین ملک نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کی داخلی فضا بھی مکدر ہے اس لیے ضروری ہے کہ پاکستان اور بھارت تمام متنازعہ مسائل کے حل کی کوششیں کریں ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کی دعا ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات بہتر ہوں کیونکہ دونوں ممالک کے کشیدہ تعلقات کی وجہ سے کشمیری بھی ابتلا میں ہیں۔

Tags: کشمیر

بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی ، 5 کشمیر ی شہید کردیئے ، مجاہدین سے جھڑپ میں افسر سمیت3 فوجی ہلاک،4زخمی ہوئے

February 24th, 2010 · No Comments

سری نگر ‘ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی میں مزید5کشمیری شہید ہوگئے جبکہ مجاہدین سے جھڑپ کے دوران بھارتی فوج کے افسر سمیت3 فوجی ہلاک اور4زخمی ہوگئے۔بھارتی فوج نے سوپور کے علاقے چنکی پورہ میں انتقامی کارروائی کرتے ہوئے 2 مکانات تباہ کردئیے۔ بھارتی فوجیوں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا تھا۔ جامع تلاشی کے دوران شہریوں کیلئے وہاں داخلے پر پابندی عائد کردی۔ اسی دوران بھارتی فوجیوں نے 5 کشمیری نوجوانوں کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا، قابض فوج نے ریاستی دہشت گردی میں 5بے گناہ نوجوانوں کو شہید کردیا۔جس پر اس کے ساتھیوں نے بھارتی اہلکاروں پرفائر نگ کر دی۔ اطلاعات کے مطابق اسی علاقے میں مجاہدین سے جھڑپ کے دوران بھا رتی فوج کے افسر سمیت3 فوجی ہلاک اور4زخمی ہوگئے تھے

Tags: کشمیر

مقبوضہ کشمیر کے مختلف علاقوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے

February 21st, 2010 · No Comments

سری نگر‘ مقبوضہ کشمیر کے مختلف علاقوں میںانسانے حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف احتجاجی مطاہروں کے دوران 15اہلکاروں سمیت متعدد افراد زخمی ہوئے۔ اس دوران سوپرمیں مشتعل نوجوانوں اور پولیس کے مابین جھڑپوں کے دوران شل لگنے سے ایک 12سالہ لڑکا بری طرح زخمی ہوا جسے انتہائی نازک حالت میں صورہ اسپتال میں داخل کیا گیا جبکہ مائسمہ میں دن بھر پرتشددجھڑپیں جاری رہیں البتہ پائین شہر کی ناکہ بندی کرکے لوگوں کو محصور کیا گیا۔سخت ترین ناکہ بندی کے باوجودمائسمہ میں نوجوانوں کی ٹولیاں سڑکوں پر نمودار ہوئیں جنہوں نے نعرہ بازی کے ساتھ ساتھ پتھراؤؤ کیا ۔اس موقعہ پر پولیس اور سی آر پی ایف نے لاٹھی چارج کے ساتھ ساتھ اشک آور گولے داغے جس کے بعد طرفین کے مابین جھڑپیں ہوئیں جوشام دیر گئے تک جاری رہی۔دن کے دوران اْس وقت عجیب و غریب صورتحال پیدا ہوئی جب مظاہرین نے ملٹی بیرل ٹیرگیس شل چلانے والی گاڑی پرحملہ کیا اور اْس پر چڑھ کر آزادی کے حق میں نعرے لگائے۔ ورمل قصبہ میں نوجوانوں نے سیمنٹ پل پرنمودار ہو کر نعرہ بازی کی اورپولیس پر سنگباری کی ۔جوابی کارروائی کے دوران پولیس نے حسب روایت آنسو گیس کے درجنوں گولے داغے اور پورے قصبے میں دن بھرافرا تفری کا ماحول رہا ۔ مشتعل نوجوانوں نے پولیس کی ایک بکتر بند گاڑی کو گھیر ے میں لے کر اسے شدید پتھراؤؤ کا نشانہ بنایا۔مشتعل ہجوم نے گاڑی کا تعاقب کرنے کے بعداسے نذر آتش کرنے کی کوشش کی جسکے نتیجے میں گاڑی سے آگ کے شعلے بلند ہوئے جس کے بعد مظاہرین گاڑی کا تعاقب کرتے ہوئے پولیس تھانے کے نزدیک پہنچ گئے اورانہوںنے پولیس اسٹیشن کو مختلف اطراف سے گھیرے میں لیا اور اس پر زبردست سنگباری کی جسکے نتیجے میں ایک درجن اہلکاروں کو چوٹیں آئیں جبکہ اسی دوران مشتعل نوجوانوں کی ایک اور ٹولی نے تحصیل آفس کی عمارت پر بھی پتھراؤ?کیا جسکے باعث کئی عمارات کے شیشے چکنا چور ہو گئے۔ صورتحال کو قابو سے باہر ہوتا دیکھ پولیس نے ہوائی فائرنگ کی جسکے نتیجے میں قصبہ کی فضائیں گن گرج سے گونج اٹھیں اور وہاں خوف و ہراس پھیل گیا ۔ سوپور میں سی آر پی ایف اہلکاروں نے بٹہ پورہ،خوشحال متواور شاہ آبادمیں مکانوں میں زبردستی داخل ہوکربلا امتیاز عمر و جنس لوگوں کی زبردست مار پیٹ کی اور اسباب خانہ کو تہس نہس کیا۔قصبے میں شام دیر گئے محمد عارف ڈیٹھو ولد غلام محمد نامی 12سالہ لڑکا ساکن بادام باغ سوپر شل لگنے سے بری طرح زخمی ہوا ۔بتایا جاتا ہے کہ پولیس کی طرف سے داغا گیا ایک شل محمد عارف کے سر میں جا لگا اور اور وہیں گر پڑا ۔ اسے فوری طور پر سوپر اسپتال پہنچایا گیا جہاں سے اسے انتہائی نازک حالت میں صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ سرینگر لایا گیا

Tags: کشمیر

کشمیری مجاہدین کے خلاف خفیہ اطلاعات کی بناء سرجیکل آپریشن کی مہم شروع کردی گئی ہے۔بھارتی فوجی سربراہ کا اعلان

February 20th, 2010 · No Comments

آزاد کشمیر میں مقیم کشمیری نوجوانوں کی مقبوضہ کشمیر واپسی کے بارے میں بھارتی وزارت دفاع سمیت مختلف وزارتوں کے ساتھ مشاور ت کی جائے

پاکستان سرحد کے اْس پار سے مجاہدین کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں جموں کشمیر کی طرف دھکیلنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ بھارتی الزام

نئی دہلی ۔بھارتی فوجی سربراہ جنرل دیپک کپور نے کشمیری مجاہدین کے خلاف سرجیکل آپریشن شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے بھارتی حکومت کومشورہ دیا ہے کہ آزاد کشمیر میں مقیم کشمیری نوجوانوں کی مقبوضہ کشمیر واپسی کے بارے میں بھارتی وزارت دفاع سمیت مختلف وزارتوں کے ساتھ مشاور ت اور تمام پہلووںپرخوروخوض کے بعد ہی حتمی فیصلہ لیا جانا چاہئے۔ایک تقریب کے موقعہ پر اخبار نویسوں کے ساتھ بات چیت کے دوران جنرل دیپک کپور نے کہا کہ پاکستان سرحد کے اْس پار سے مجاہدین کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں جموں کشمیر کی طرف دھکیلنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ ریاست میں تعینات مسلح فورسز ان کوششوں کا مقابلہ کرنے کے اہل ہیں۔فوجی سربراہ نے بتایا’’پڑوسی ملک مجاہدین کی دراندازی کی مدد و اعانت کررہا ہے ،یہ سلسلہ جاری رہے گا،فورسزسرحدوں پرہیں اور وہ ان کوششوں کو ناکام بنانے کے لئے ہر ممکن اقدامات اٹھائیں گے‘‘۔ایک سوال کے جواب میں جنرل کپور نے کہا’’اگرچہ کچھ ایک مجاہدین درانداز کرکے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوتے ہیں لیکن سیکورٹی فورسز انکے ساتھ نمٹے گی‘‘۔یہ پوچھے جانے پر کہ ریاست میں لائن آف کنٹرول اور سرحدوں پر برفباری سے دراندازی کے درے بند ہونے کے باوجوداس طرح کی کوششیں جاری ہیں؟ فوجی سربراہ نے انکشاف کیا کہ مجاہدین کو پیر پنچال علاقوں کے جنوب سے ریاست میں دھکیلا جارہا ہے۔البتہ انہوں نے زور دیکر کہا کہ کنٹرول لائن اور سرحد پر تعینات سیکورٹی فورسز کی کڑی نگرانی اور دراندازی پر نظر رکھنے سے متعلق آلات کی مدد سے بیشتر کوششوں کا ناکام بنایا جاتا ہے۔جب فوجی سربراہ کی توجہ وزارت داخلہ کے اْس اعلان کی طرف مبذول کرائی گئی،جسکے تحت تشدد ترک کرکے پر امن زندگی گذارنے کے خواہشمند آزاد کشمیر میں مقیم کشمیری نوجوانوں کی محفوظ راہداری اور باز آباد کاری کو ہری جھنڈی دکھائی گئی ہے،جنرل دیپک کپور نے اس پر محتاط رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ’’ مجھے یقین ہے کہ وزیر داخلہ اور بھارتی حکومت اس حوالے سے حتمی فیصلہ لینے سے قبل تمام پہلو?ں کو مد نظر رکھیں گے‘‘۔فوجی سربراہ نے مزید بتایا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے سے پہلے ہر طرح کے حالات و واقعات کا بغور جائزہ لیا جائے گاتاکہ فیصلہ درست ثابت ہو۔اس سلسلے میں انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں تبادلہ خیال جاری ہے اور فیصلہ لیا جارہا ہے۔تاہم فوجی سربراہ نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا’’مجھے اس بات کا یقین ہے کہ وزارت دفاع سمیت تمام وزارتوں کے خیالات کو مد نظر رکھا جائے گا اور اس کے بعد ہی اس معاملے پر حتمی فیصلہ لیا جائے گا جو سب کیلئے اچھا ہوگا‘‘۔ریاست کے موجودہ حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے فوجی سربراہ نے کہا’’جموں کشمیر کی صورتحال میں قابل ذکر بہتری واقع ہوئی ہے۔انہوں نے کہا’’ہم نے مجاہدین کے خلاف خفیہ اطلاعات کی بنائ سرجیکل آپریشن کی جو مہم شروع کررکھی ہے ، اس کی بدولت مقامی لوگوں کم سے کم نقصان اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اس مہم کے خاطر خواہ نتائج برآمد ہورہے ہیں‘‘۔ایک اور سوال کے جواب میں آرمی چیف نے کہا کہ بھارت میں ممبئی طرز پر مزید دہشت گردانہ حملوں کا امکان ہے اور ملک کو اس طرح کے امکانات کو ختم کرنے کیلئے تمام اقدامات اٹھانے ہیں ۔انہوں نے کہا ’’ہم اس طرح کے حملوں کے خدشات اور امکانات کو خارج نہیں کر سکتے ،ہم ممبئی طرز کے حملوں کو روکنے کیلئے ہر طرح کے اقدامات اٹھائیں گے‘‘۔ یہ پوچھے جانے پر کہ کیا بھارت میں دہشت گردانہ حملوں کا خطرہ بر قرار ہے ؟فوجی سربراہ کا کہنا تھا کہ جنوب ایشیائی خطے میں دہشت گردوں کے کئی گروپ سرگرم ہیں ،’’خواہ وہ بھارت ہو ،افغانستان یا پاکستان ،ہمیں اس طرح کے خطروں کا مل جل کر مقابلہ کرنا ہو گا

Tags: پاکستان , کشمیر