کالا باغ ڈیم متنازعہ ڈیم ہے ، سندھ خشک سالی کا شکار اور سرحد ڈوب جائے گا ۔ وفاقی وزیر ریلوے
ریلوے کے انجن اور بوگیاں خستہ حال ، کہیں سے ایک پائی بھی قرضہ نہیں ملا،پہلے ہی کھا گئے کھاگئے کا شور مچ گیا
لالہ موسی ۔وفاقی وزیر ریلوے غلام احمد بلور اور وفاقی وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ نے مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ کالا باغ ڈیم متنازعہ ڈیم ہے اس سے سرحد ڈوب جائے گااور سندھ خشک سالی سے دوچار ہو جائے گا ۔ اسی لئے سرحد اور سندھ کے عوام نے اس کی مخالفت کی ۔ انہوںنے کہا کہ 1985 ء میں کالا باغ ڈیم کی بات شروع ہوئی مگر اس پر مخالفت سامنے آنے پر کالاباغ ڈیم کی بجائے بھاشا ڈیم یا کوئی اور ڈیم تو تعمیر کیا جاسکتا تھا مگر گذشتہ پچیس سال میں بجلی بنانے کے کسی بھی بڑے پراجیکٹ پر کام شروع نہیں کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لئے مشرف دور میں آغاز اور افتتاح کا شور مچا تھا مگر اس کیلئے اب جگہ توہم نے خریدی ہے اور رواں سال میں ہی بھاشا ڈیم کی تعمیر شروع ہو جائے گی ۔ قمر زمان کائرہ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر زرداری دو تہائی سے زائد ووٹ لیکر صدر منتخب ہوئے تھے اوراب اگر آج پنجاب اسمبلی میں ن لیگ صدر پر اعتمادکی قرار داد پر ووٹ نہیں دیتی تو اس سے کچھ فرق نہیں پڑے گا ۔انہوں نے مزید کہا کہ ریلوے کو ابھی تک کہیں سے بھی ایک پائی بھی قرضہ نہیں ملا مگر قرضہ لنے سے پہلے ہی کھ گئے کھا گئے کا شور سنائی دے رہا ہے ۔ غلام احمد بلور نے کہا کہ ریلوے کا صدر سے قبل تعمیر ہونے والا ٹریک ناکارہ ہو چکا ہے ۔ ریلوے کے پاس نہ انجن ہیں اور نہ بوگیاں، پرانے اور خستہ حال سسٹم کو چلانے پر ریلوے کے انجینئر مبارکباد کے مستحق ہیں ۔ انہں نے کہا کہ چین درہ خنجراب کے راستے اسلام آباد تک ریلوے ٹریک تعمیر کرے گا ۔ انہوں نے بتایا کہ پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر کام جاری ہے یقینا گیس ہمیں مہنگی پڑے گی ۔



