لاہور ( ثناء نیوز ) مال روڈ پر سابق صدر پرویز مشرف کے دورہ کی یاد تازہ نوجوانوں کا ایک گروپ کتے کو اٹھا کر پنجاب اسمبلی کے سامنے پہنچ گیا۔تفصیلات کے مطابق نوجوانوں کے ایک گروپ نے ایوان صدر سے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی مشاورت کے بغیر جاری چیف جسٹس لاہور ہائیکوٹ کی تعیناتی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے جن پر نعرے درج تھے جبکہ ایک نوجوان نے کتے کا بچہ اٹھایا ہوا تھا۔ مظاہرین نے ایوان صدر کے خلاف زبردست نعرہ بازی کی
ایوان صدر کا حکمنامہ، نوجوانوں کے گروپ نے مال روڈ پر کتا اٹھا کر مظاہرہ کیا
February 15th, 2010 · No Comments
Tags: پاکستان
چیف جسٹس سے یکجہتی کیلئے ہائیکورٹ سمیت لاہور کی ماتحت عدالتوں میں مکمل ہڑتال
February 15th, 2010 · No Comments
لاہور ‘ ایوان صدر کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سے مشاورت کے بغیر چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے جج کی غیر آئینی تعیناتیوں کے خلاف صوبائی دارالحکومت میں وکلاء نے مکمل ہڑتال کی تاہم لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کا اجلاس ہنگامہ آرائی کا شکار ہو گیا۔ وکلاء نے ایوان عدل سے پنجاب اسمبلی تک صدر زردری کے اقدام کے خلاف ریلی بھی نکالی۔ تفصیلات کے مطابق لاہورہائیکورٹ میں صبح معمول کے مطابق مقدمات سنے جانے لگے تو بار کے عہدیداران کے چیف جسٹس خواجہ محمد شریف کو ایک مراسلہ بھیجا کہ وکلاء عدلیہ سے یکجہتی کیلئے ہڑتال پر ہیں اس لئے مقدمات نہ سنے جائیں جس پر چیف جسٹس نے انتظامی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس طلب کیا جس نے وکلاء کی ہڑتال کو عدلیہ کی کاز قرار دی اور متفقہ طور پر مقدمات نہ سننے کا فیصلہ کیا تاہم یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ اہم ترین نوعیت کے مقدمات جج صاحبان اپنے چیمبرز میں سنیں گے۔ جس کے بعد کوئی مقدمہ نہیں سناگیا جبکہ لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کا اجلاس بار کی صدر جسٹس (ر) ناصرہ جاوید اقبال کی صدارت میں شروع ہوا تاکہ وکلاء ریلی سے متعلق فیصلہ کیا جا سکے۔ اجلاس شروع ہونے کے فورا بعد ہی پیپلز لائیرز فورم کے وکلاء نے صدر آصف علی زرداری کے حق میں اور چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف نعرہ بازی شروع کردی جبکہ وکلاء کے اس گروپ نے ایوان صدر کے احکامات معطل کرنے کا عدالتی فیصلہ کی کاپیاں بھی جلائیں۔دوسرے گروپ کے وکلاء نے چیف جسٹس آف پاکستان کے حق میں اور صدر زرداری کے خلاف نعرے لگائے۔ وکلاء کی نعرہ بازی کے باعث اجلاس کوئی فیصلہ کئے بغیر ختم کردیا گیا تاہم بعدازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی صدر ناصرہ جاوید نے ایوان صدر کے احکامات کو عدالت میں چلے جانے کے باعث کہا کہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے اس لئے کسی کو بھی عدالت پر اثر انداز ہونے کی کوشش نہیں کرنی چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ سڑکوں پر نکل کر نعرے لگانے یا سینہ کوبی کرنے سے بھی احتیاط کرنی چاہیئے۔ دریں اثناء لاہور بار ایسوسی ایشن کے اجلاس میں بار کے صدر ساجد بشیر نے وکلاء کی ریلی کی مخالفت کی لیکنوکلاء کی اکثریت نے ان کے اس فیصلہ کو ماننے سے انکار کردیا اور پنجاب اسمبلی تک ریلی نکالی اور احتجاجی دھرنا دیا۔ وکلاء نے راستے میں لگے آصف علی زرداری کے حمایتی بینرز بھی پھاڑ دیئے
Tags: پاکستان
عدلیہ پر شبِ خون ‘ ملک بھر میں وکلاء کی مکمل ہڑتال
February 15th, 2010 · No Comments
سپریم کورٹ ‘ وکلاء کے بائیکاٹ کے باعث مقدمات کی سماعت نہ ہو سکی
صرف ازخود نوٹسز کی سماعت ہو گی
بائیکاٹ کا مقصد موجودہ صورت حال میں عدلیہ کے ساتھ یکجہتی ہے ‘ قاضی محمد انور
اسلام آباد ‘ سپریم کورٹ آف پاکستان میں وکلاء کے بائیکاٹ کے باعث سماعت کے لئے رکھے گئے مقدمات ملتوی کر دیئے گئے ۔ صرف ازخود نوٹسز کی سماعت ہو گی ۔ پیر کے روز سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر قاضی محمد انور عدالت عظمیٰ میں پیش ہوئے ۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ ملک کی موجودہ صورت حال کی وجہ سے وکلاء نے ملک بھر میں عدالتی کارروائی کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بائیکاٹ سے عدالت میں پیش ہونے والے فریقین کو مسائل کا سامنا ضرور کرنا پڑے گا ۔ تاہم موجودہ صورت حال میں عدلیہ کے ساتھ یکجہتی کے لئے ہم آج عدالتوں کا بائیکاٹ کر رہے ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم غیر حاضری کے باعث کوئی کیس خارج نہیں کریں گے بلکہ مقدمات ملتوی کئے جاتے ہیں ۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جن مقدمات میں لوگ امپرسن پیش ہونے چاہتے ہیں وہ سنے جائیں گے ۔ جن کے بعد عدالت نے تمام مقدمات ملتوی کر دیئے جبکہ گریڈ 22 میں ترقی دیئے جانے کے حوالے سے لئے گئے ازخود نوٹس سمیت دیگر بنیادی انسانی حقوق کے مقدمات کی سماعت کی گئی ۔
۔۔۔۔اپ ڈیٹ و تفصیلی خبر۔۔۔۔
وکلاء رابطہ کونسل کی اپیل پر سپریم کورٹ سمیت ملک بھر میں عدالتی کارروائیوں کا بائیکاٹ، عدالتوں میں کام ٹھپ،
پاکستان بار کونسل نے بائیکاٹ کی اپیل مسترد کر دی، متعدد شہروں میں بائیکاٹ کے حامی اور مخالف گروپوں میں کشیدگی،
اسلام آباد،لاہور،کراچی،پشاور،فیصل آباد،کوئٹہ عدلیہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے عدالتی کارروائیوں کا بائیکاٹ
لاہور بار کے اجلاس میں وکلاء دو حصوں میں تقسیم، ایک گروپ کی زرداری دوسرے کی چیف جسٹس کے حق میں نعرے بازی
اسلام آباد،لاہور،کراچی،پشاور،فیصل آباد،کوئٹہ ‘ وکلاء رابطہ کونسل کی اپیل پر پیر کے روز وکلاء نے سپریم کورٹ سمیت ملک بھر میں عدالتی کارروائیوں کا بائیکاٹ کیا اور عدالتوں میں کام ٹھپ رہا جبکہ پاکستان بار کونسل نے بائیکاٹ کو غیرضروری قرار دیتے ہوئے اپیل مسترد کردی، بعض شہروں میں بائیکاٹ کے حامی اور مخالف گروپوں میں کشیدگی پائی گئی ۔تفصیلات کے مطابق پیر کو اسلام آباد میں شاہراہ دستور پر وکلاء کی جنرل باڈی کا اجلاس منعقد ہونا تھا تاہم بارش کے باعث یہ اجلاس سپریم کورٹ بلڈنگ میں منعقد ہوا ۔ اس موقع پر سپریم کور ٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر قاضی انور نے کہا کہ عدلیہ پر کسی صورت شب خون برداشت نہیں کیا جائے گا ۔ اس موقع چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری کے حق میں اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی ۔ ایک اعلی حکومتی شخصیت کے خلاف بھی سخت الفاظ میں نعرے لگائے جاتے رہے۔ لاہور میں وکلا رابطہ کونسل کے ارکان نے عدالتی کارروائیوں کا مکمل بائیکاٹ کیا جبکہ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ خواجہ محمد شریف کی سربراہی میں ججز نے عدالتیں نہ لگانے اور اہم مقدمات کی سماعت اپنے چیمبرز میں ہی کرنے کا فیصلہ کیا۔ دوسری جانب لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے اجلاس میں وکلاء دو حصوں میں بٹ گئے ، ایک گروپ صدر زرداری جبکہ دوسرا چیف جسٹس کے حق میں نعرے بازی کرتا رہا ۔ نعرے بازی کا سلسلہ آدھے گھنٹہ جاری رہنے کے بعد اجلاس ہنگامہ آرائی کی نذر ہو گیا ۔ کراچی میں سندھ ہائی کورٹ ،ملیر بار اور سٹی کورٹ میں عدالتی کارروائیوں کا بائیکاٹ رہا تاہم پیپلز لائرزفورم نے احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے صدر آصف زرداری کے حق میں نعرے بازی کی اور ریلی نکالی۔ سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے اجلاس میں صدر کی جانب سے ججوں کی تقرری کے خلاف قرار داد منظور کی گئی ۔ ادھر راولپنڈی میں بھی وکلا رابطہ کونسل کی اپیل پر عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ رہا۔ وکلاء کی جانب سے ریلیاں نکالی گئیں اور بعض سڑکوں پر ٹائر جلا کر ٹریفک معطل کر دیا گیا ۔فیصل آباد میں بھی وکلاء نے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا ،دیگر شہروں کی طرح یہاں بھی وکلاء کے دو دھڑے بن گئے ،مقامی وکلاء رہنما چوہدری محمد اکرام نے نجی ٹی وی کو بتایا کہ عدلیہ ملک کا اہم ستون ہے اور اس کا احترام کرنا چاہیے ۔ کوئٹہ سے این این آئی بیورو کے مطابق بلوچستان میں بھی ججز کی تعیناتی کے حوالے سے حکومتی اقدامات کے خلاف عدالتی کارروائیوں کا بائیکاٹ کیا گیا ۔بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر بازمحمد کاکڑ کے مطابق ججز کی تعیناتی کے حوالے سے حکومتی اقدامات کیخلاف بلوچستان میں بھی عدالتی کارروائیوں کا بائیکاٹ کیا جارہا ہے۔ اٹھارہ فروری کو بلوچستان کے وکلاء عدلیہ کے ساتھ یوم یکجہتی منائیں گے۔عدالتی بائیکاٹ کے باعث سائلوں کومشکلات کا سامنا کرنا پڑا تاہم بلوچ بارایسوسی ایشن نے بائیکاٹ سے لاتعلقی اختیار کی اور ان کے وکلا عدالتوں میں پیش ہوئے۔ اکستان کے چاروں صوبوں میں وکلاء نے صدر آصف علی زرداری کی طرف سے ججوں کی تعیناتی کے لیے چیف جسٹس پاکستان کی سفارش کو رد کرنے کے خلاف اور عدلیہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ہڑتال کی ہے۔ ہڑتال کا فیصلہ وکلاء رابطہ کونسل کے اجلاس میں کیا گیا۔ کونسل کے اعلان کے مطابق ججوں کی تعیناتی کے لیے صدر آصف زرداری کی طرف سے چیف جسٹس پاکستان کی سفارشات کے برعکس تقرریاں کرنے پر عدلیہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنے کے لیے ملک بھر کے وکیل سوموار کو عدالتوں میں پیش نہیں ہونگے۔اسی دوران فیصلے کیا گیا کہ بار ایسوسی ایشنوں میں بھی اجلاس ہونگے جن میں عدلیہ کے ساتھ اظہار یک جہتی کے لیے قراردادیں منظور کی جائیں گی۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر قاضی انور کے بقول ملک بھر میں سپریم کورٹ سے لے کر ماتحت عدالتوں میں وکلاء عدلیہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے عدالتوں میں پیش نہیں ہو رہے اور ملک بھرمیں وکیلوں نے مکمل ہڑتال کی ہے۔وکلاء نے عدلیہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے شاہراہِ دستور پر واقع پارلیمنٹ ہاؤس سے پرائم منسٹر سیکریٹیریئٹ تک مارچ کی۔پرائم منسٹر سیکریٹیریئٹ پر وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر قاضی انور نے کہا کہ عدلیہ کو مفلوج کرنے کی کوششیں ناکام ہوں گی۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہوش کے ناخن لے اور وکلاء جمہوریت کے حق میں ہیں لیکن جمہوریت کا یہ مطلب نہیں کہ اپنی من مانی کی جائے۔ انہوں نے صدر آصف علی زرداری اور وزیرِ قانون بابر اعوان کے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔ کراچی میں عدالتوں کے بائیکاٹ کے اعلان پر وکلاء میں اختلاف بھی سامنے آیا۔ سندھ ہائی کورٹ اور سٹی کورٹس میں مکمل جبکہ ملیر کورٹس میں جزوی بائیکاٹ کیا گیا ہے۔ہائی کورٹ بار کی جنرل باڈی کے اجلاس سے سینئر وکیل عبدالحفیظ لاکھو نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ اس معاملے کو خود دیکھ رہی ہے اس لیے اس کے فیصلے کا انتظار کرنا چاہیے تھا ایسے فوری سڑکوں پر نکلنے کا فیصلہ درست نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ وکلا کو دیکھنا چاہیے کہ وہ کسی کہ ہاتھوں میں کھلونا تو نہیں بن رہے ہیں۔ ہائی کورٹ بار کے صدر رشید رضوی کا کہنا تھا کہ وہ حفیظ لاکھو کی رائے سے اتفاق کرتے ہیں اور وہ بھی ہڑتال کے حق میں نہیں تھے مگر کیونکہ اکثریتی فیصلہ تھا اس لیے انہوں نے بھی اس کی حمایت کی۔اجلاس میں چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سے اظہار یکجہتی کے لیے ایک قرار داد بھی منظور کی گئی۔”لاہور ہائی کورٹ کی انتظامی کمیٹی کے اجلاس میں وکلاء کی جانب سے ہڑتال کے باعث مقدمات سماعت موخر کرنے کی درخواست پر غور کیا گیا اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ ہائی کورٹ میں صرف ہنگامی اور فوری نوعیت کے مقدمات کی سماعت ہوگی جو جج صاحبان اپنے چیمبر میں کریں گے” کراچی سٹی کورٹس اور ملیر کورٹس میں وکلاء کے دو گروہوں میں سخت تلخ کلامی اور نعروں کا تبادلہ ہوا ہے۔ پیپلز لائیرز فورم کی جانب سے حکومت اور دیگر وکلاء کی جانب سے چیف جسٹس کی حمایت میں نعرے بازی کی گئی۔ کراچی بار میں کسی تصادم سے بچنے کے لیے پولیس کو بھی طلب کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ اس سے قبل سندھ بار کونسل کے نائب صدر محمود الحسن نے ہڑتال کی حمایت کا اعلان کیا تھا جبکہ اندرون سندھ کے نو سے زائد ارا کین نے اسیجمہوریت دشمن عمل قرار دیا تھا۔دریں اثناء وکلاء کی ہڑتال کی وجہ سے سپریم کورٹ میں بھی مقدمات پر سماعت نہیں ہو رہی اور صرف انسانی حقوق کے متعلق مقدمات پر سماعت ہوگی۔ پنجاب میں لاہور سمیت صوبے کے چھوٹے بڑے شہروں میں وکلاء عدالتوں کا بائیکاٹ کر رہے ہیں۔لاہور ہائی کورٹ میں بار کے عہدیداروں اور سینیئر وکلا نے پیر کو عدالتوں میں جاکر ججوں کو وکلاء کی ہڑتال کے بارے میں بتایا اور درخواست کی کہ مقدمات پر سماعت نہ کی جائے۔وکلا کی درخواست پر لاہور ہائی کورٹ کی انتظامی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس کی صدارت چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس خواجہ محمد شریف نے کی۔اجلاس میں وکلاء کی جانب سے ہڑتال کے باعث مقدمات سماعت موخر کرنے کی درخواست پر غور کیا گیا اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ ہائی کورٹ میں صرف ہنگامی اور فوری نوعیت کے مقدمات کی سماعت ہوگی جو جج صاحبان اپنے چیمبر میں کریں گے۔پشاور میں بھی وکیلوں نے صدر آصف زرداری کے احکامات کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے اور عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا۔
Tags: پاکستان
وکلاء نے عدلیہ سے اظہار یکجہتی کے لیے کل ملک بھر میں عدالتوں کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا
February 14th, 2010 · No Comments
شاہراہ دستور پر جنرل باڈل کا اجلاس طلب،9 مارچ کو سپریم کورٹ کے سامنے شاہراہ دستور پر ملک گیر وکلاء کنونشن منعقد ہو گا
سپریم کورٹ نے حکومتی سازش کو نا کام بناتے ہوئے پاکستانی عوام کو ہیجانی کیفیت سے نکالا
ججوں کی تقرری کے حوالے سے حکومتی نوٹیفکیشنز آئین سے متصادم ہیں
وکلاء کی قومی رابطہ کونسل کے ہنگامی اجلاس کے بعد سپریم کورٹ بار کے صدر قاضی انور کا دیگر عہدیداروں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب
راولپنڈی ‘ وکلاء نے عدلیہ سے اظہار یکجہتی کے لیے آج ملک بھر میں عدالتوں کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا ۔ شاہراہ دستور پر جنرل باڈل کا اجلاس طلب،9 مارچ کو سپریم کورٹ کے سامنے شاہراہ دستور پر ملک گیر وکلاء کنونشن منعقد ہو گا۔ یہ فیصلے وکلاء کی قومی رابطہ کونسل کے ہنگامی اجلاس میں کیے گئے ۔ یہ اجلاس سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر قاضی محمد انور کی زیر صدارت راولپنڈی میں منعقد ہوا۔ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے قاضی محمد انور نے کہا کہ ملک بھر کے وکلاء سپریم کورٹ کے بینچ کے عدلیہ میں ججوں کی تقرری کے حوالے سے فیصلے کی مکمل حمایت کرتے ہیں جبکہ اس کے علاوہ وکلاء نے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں جج کا تعیناتی کے حوالے سے چیف جسٹس آف پاکستان کی سفارشات کی بھی حمایت کا اعلان کیا ہے اور ہائی کورٹس میں ججوں کی تعیناتی میں تاخیر پر اظہار تشویش کیا ہے ۔ وکلاء نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت فوری طور پر ہائی کورٹس میں قابل اور ایماندار ججوں کی تعیناتی عمل میں لائے۔ انھوں نے کہا کہ وکلاء چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس خواجہ شریف اور لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس میاں ثاقب نثار کی طرف سے حکومتی فیصلے کے سامنے ڈٹ جانے پر انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں کہ انھوں نے حکومت کی سازش کو نا کام بنایا اور عدلیہ کی یکجہتی اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا۔ قاضی محمد انور نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ وکلاء برادری کو بھی عدالت کی استقامت کا کریڈٹ جاتا ہے ۔ وکلاء نے چیف جسٹس آف لاہور ہائی کورٹ جسٹس خواجہ شریف اور لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس میاں ثاقب نثار کے حوالے سے حکومتی نوٹیفکیشنز کی پر زور مذمت کی ہے اور اس اقدام کو آئین سے متصادم قرار دیا ہے ۔ وکلاء نے فیصلہ کیا ہے کہ 18فروری بروز پیر عدلیہ سے اظہار یکجہتی کے لیے ملک بھر کی بار ایسوسی ایشنز اور بار کونسلیں یوم یکجہتی منائیں گی اور بارز میں جنرل باڈی کے اجلاس اور جلوس نکالے جائیں گے ۔انھوں نے کہا کہ قومی رابطہ کونسل کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ 9 مارچ 2010ء کو 11 بجے شاہراہ دستور پر ملک گیر وکلاء کنونشن منعقد کیا جائے گا اور حکومت کے 13 فروری کے غیر آئینی اقدامات کے خلاف اور عدلیہ سے اظہار یکجہتی کے لیے 15 فروری بروز پیر ملک بھر میں بار عدالتی کاروائی کامکمل بائیکاٹ کیا جائے گا اور بار رومز میں جنرل باڈیز کے اجلاس ہوں گے ۔11 بجے شاہراہ دستور اسلام آباد پر چکوال، جہلم ، اٹک، اسلام آباد، راولپنڈی اور راولپنڈی ہائی کورٹ بار کے جنرل باڈیز کے اجلاس منعقد ہوں گے۔ انھوں نے بتایا کہ قومی رابطہ کونسل کے اجلاس میں سندھ کے 9 اضلاع کی ضلع بار ایسوسی ایشنز نواب شاہ، دادو ، سانگھڑ ،خیر پور ، کوئٹہ ، ایبٹ آباد ، پشاور اور ہائی کورٹ ، سوات ، دیر ، بلوچستان بار کے سیکرٹری جنرل سمیت راولپنڈی ریجن کے وکلاء نمائندوں نے شریک کی ۔ انھوں نے کہا کہ اجلاس میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے کیس کے حوالے سے وکلاء نے امریکی جیوری کے فیصلے کی شدید مذمت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو واپس پاکستان لایا جائے ۔ انھوں نے کہا کہ ہم سپریم کورٹ آف پاکستان کو سلام پیش کرتے ہیں کہ اس نے فوری طور پر حکومتی نوٹیفکیشنز پر از خود نوٹس لیتے ہوئے بینچ تشکیل دیا اور حکومتی سازش کو نا کام بناتے ہوئے پاکستانی عوام کو ہیجانی کیفیت سے نکالا۔ انھوں نے کہا کہ وکلاء کرپشن کی پرزور مذمت کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ کوئی بھی شخص قانون سے مستثنیٰ نہیں ہے قانون سب کے لیے برابر ہے ۔
Tags: پاکستان
حکومت کی طرف سے این آر او کے فیصلے پر عملدرآمد کی یقین دہانی ، سپریم کورٹ بار نے ہڑتال 14 فروری تک موخر کر دی
January 27th, 2010 · No Comments
سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت این آر او کے تمام مقدمات 5 اکتوبر 2007 ء کی پوزیشن پر بحال کئے جائیں
وزیر اعظم سے ملاقات کی پیشکش کا خیر مقدم کرتے ہیں لیکن تنہا نہیں اپنی کابینہ کے ہمراہ ملنے کو تیار ہیں
مسلم لیگ ( ن ) ، جماعت اسلامی ، تحریک انصاف سمیت و دیگرجماعتوں کی جانب سے ہڑتال کی حمایت پر مشکور ہیں
پاکستان کی سب سے بڑی بار کے صدر کی حیثیت سے لاہور واقعہ پر میڈیا سے معافی مانگتا ہوں
قاضی انور کی راولپنڈی بار کے عہدیداروں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب
راولپنڈی ۔سپریم کورٹ بار نے وفاقی حکومت کی طرف سے این آر او کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلے کو من و عن تسلیم کرنے کی یقین دہانی پرکل(بروز جمعرات ) ہونے والی ملک گیر ہڑتال کو موخر کرنے کا اعلان کیا ہے اورحکومت کو فیصلے پر فوری عملدرآمد کے لیے 18 دن کی مہلت دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی اپیل سمیت حکومت خواہ کوئی بھی اقدام کرے ۔ اگر فیصلے پر عمل نہ کیا گیا تو 14 فروری کو ہائی کورٹ راولپنڈی میں وکلاء کی نیشنل کوآرڈینیشن کونسل کے اجلاس میں نئے لائحہ عمل کااعلان کر دیا جائے گا۔ ہڑتال موخر کرنے کے باوجود صدر زرداری سمیت تمام این آر او زدگان کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کے مطالبے قائم ہیں ۔ جس پر کوئی دو رائے نہیں ہیں ۔ لہذا سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت این آر او زدہ تمام مقدمات کو 5 اکتوبر 2007 کی پوزیشن پر فوری بحال کیا جائے ۔ان خیالات کا اظہار سپریم کورٹ بار کے صدر قاضی انور نے بدھ کے روزہائی کورٹ میں مشترکہ ہنگامی پریس کانفرنس کے دوران کیا ۔ اس موقع پر ہائی کورٹ بار کے صدر شہزاد احمد گھیبہ ، سیکرٹری جنرل صدیق اعوان ایگزیکٹو ممبران حسنین کاظمی انور ڈار ، ڈسٹرکٹ بار راولپنڈی کے صدر خرم مسعود کیانی کے علاوہ شیخ احسن الدین ، توفیق آصف سمیت دیگر قائدین بھی موجود تھے ۔ انہوںنے کہا کہ وکلاء کی قومی رابطہ کونسل نے 24 جنوری کو اپنے اجلاس میں 28 جنوری کی ہڑتال کا اعلان کیا تھا جس کے بعد حکومت وکلاء کو تقسیم کرنے کی سازشوں میں مصروف ہے تاکہ وکلاء میں انتشار پیدا کیا جا ئے ۔ اعتزاز احسن، رشید اے رضوی ، علی احمد کرد کی طرف سے ہڑتال کی مخالفت ظاہر کی گئی حالانکہ وکلاء کی تمام سابقہ موجودہ قیادت ہڑتال کے ون پوائنٹ ایجنڈے پر متفق ہے۔ اعتزاز اور کرد کل بھی میرے لیڈر تھے آج بھی ہیں اورہمیشہ رہیں گے ۔ میںکسی کی تنقید کا جواب دینے کی بجائے خیر مقدم کروں گا ۔ دو روز قبل پھر حکومت نے رابطے شروع کئے ۔ وزیر اطلاعات قمر الزمان کائرہ نے بذریعہ ٹیلی فون مجھ سے رابطہ کرکے یقین دہانی کروائی کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر من و عن عمل کریں گے۔ لیکن وکلاء عدم استحکام پیدانہ کریں ہم نے واضح کردیا کہ حکومت کو غیر مستحکم کرناچاہتے ہیں نہ پارلیمنٹ اور جمہوریت کو کمزور کر کے فوج کو دعوت دینا چاہتے ہیں ۔ منگل کے روز حکومت کے دوبارہ رابطے پر ہم نے واضح کیا کہ عوامی سطح پر حکومت یقین دہانی کرائے جس پر حکومت نے ہمیں اپنے فیصلے پر نظر ثانی کی استدعا کی ۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت این آر او کے تمام مقدمات 5 اکتوبر 2007 ء کی پوزیشن پر بحال کئے جائیں ۔وزیراعظم سے ملاقات کی پیش کش کا بھی خیر مقدم کرتے ہیں لیکن تنہا ملاقات کاحامی نہیں ۔اپنی کابینہ کے ہمراہ وزیراعظم سے ملنے کو تیار ہیں کیونکہ کوئی فیصلہ تنہا میرا نہیں بلکہ نیشنل کوآرڈینیشن کونسل کا متفقہ فیصلہ ہے ۔ ہڑتال کے فیصلے کے حوالے سے ہم نے اجلاس میں شامل نہ ہو سکنے والے وکلاء قائدین سے بھی رابطے کر کے انہیں آگاہ کیا جنہوںنے مکمل حمایت اور تعاون کا یقین دلایا ۔لیکن پھر متفقہ فیصلہ کیا گیا کہ ہم جمہوریت کے فروغ اور منتخب پارلیمنٹ کی مضبوطی کے لیے حکومتی یقین دہانی کو عارضی طور پر قبول کرتے ہوئے ہڑتال موخر کرنے کافیصلہ کیا ہے ۔ اورحکومت کو 14 فروری کی ڈیڈ لائن دے دی گئی ہے ۔ 14 فروری کو راولپنڈی میںنیشنل کوآرڈینیشن کونسل کا اجلاس ہو گا جس میں نئے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا ۔ تاہم ہڑتال موخر کرنے کے باوجود ہم اپنے مطالبے سے دستبردار نہیں ہوئے ۔ حالانکہ مسلم لیگ ( ن ) جماعت اسلامی تحریک انصاف سمیت دیگر جماعتوںنے بھی ہڑتال کی حمایت کا اعلان کیا تھا ہم نے ان کو بھی اپنا تعاون موخر رکھنے کے بارے میں آگاہ کر دیا ہے۔ انہوںنے حمایت کا اعلان کرنے والی تمام جماعتوں اور مکاتب کا شکریہ ادا کیا ۔ انہوںنے کہا کہ اگرچہ موجودہ حکومت کاوعدوں کے حوالے سے ریکارڈ اچھا نہیں ہے لیکن ہم وسیع تر قومی مفاد میں اقدام کرنا چاہتے ہیں تاکہ اداروں کو تصادم سے بچایا جا سکے ۔ حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ عدالتی فیصلوں پر من و عن عمل کروائے تاکہ حکومتی ساکھ بہتر ہوسکے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوںنے کہا کہ ہم آج مشرف کے ٹرائل کے مطالبے پرقائم ہیں ہم نے گو مشرف کا نعرہ لگا کر اسے دھکا دیا اور موجودہ حکمرانوں کو اقتدار دیا لیکن حکمرانوں نے اسے وی آئی پی قرار دے کر باہر بھجوا دیا ہے۔ جنرل ( ر ) مشرف قومی مجرم ہے اس پر معصوم بچوںاور خواتین کے قتل کا مقدمہ چلے گا ۔ 14 فروری تک ہڑتال موخر کرنا اگرچہ پوری طرح تسلی بخش نہیں لیکن حکومت کو ایک موقع اور دینا چاہتے ہیں ۔ اگر حکومت کی نیک ٹھیک ہوئی تو دو سطر کا نوٹیفیکیشن جاری کر سکتی ہے ہماری نیت صاف ہے اور صاف نیت سے ہم نے ان کو موقع دے رہے ہیں ۔ ہمارے کوئی سیاسی عزائم نہیں ہیں ۔ اورنہ ہی ہمیں اقتدار کی لالچ ہے ایک سوال کے جواب میں ا نہوں نے کہا کہ ہڑتال موخر کی گئی ہے جبکہ احتجاج موخر نہیں ہوا ۔ اعتزاز حسن کی تجویز کے تحت ملک کی تمام بار ایسوسی ایشنز اپنے دائرہ کار میں 11 بجے سے 12 بجے تک احتجاجی پروگرام اور اجلاس منعقد کرنے میں آزاد ہیں ۔ وکلاء میڈیا کا احترام کرتے ہیں بعض عناصر کی یہ کوشش ہے کہ میڈیا اوروکلاء میں تصادم پیدا کیا جائے ۔ انہوںنے کہا کہ پاکستان کی سب سے بڑی بار کے صدر کی حیثیت سے لاہور واقعہ پر میڈیا سے معافی مانگتا ہوں ۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوںنے کہا کہ ہمارے ہڑتال موخر کرنے کے فیصلے کے بعد حکومت کی طرف سے این آر او فیصلے کے خلاف نظرثانی کی کوئی اپیل فیصلے کی حیثیت کو متاثر نہیں کر سکتی
Tags: بریکنگ نیوز , پاکستان



