Urdu News-Online Urdu Newspaper

Urdu news Online Urdu Newspaper

Urdu News-Online Urdu Newspaper header image 4

امیر جماعت اسلامی سید منور حسن نے پاک فوج کے ترجمان کے بیان کو مسترد کر دیا

March 2nd, 2010 · No Comments

٭۔ ۔ ۔ سید منور حسن کا فوج کے ترجمان کے بیان پر ردعمل
لاہور‘ امیر جماعت اسلامی پاکستان سید منور حسن نے صاحبزادہ ہارون الرشید کے بارے میں پاک فوج کے ترجمان کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہارون الرشید دہشت گرد ہیں اور نہ ہی دہشت گردوں کے ساتھ ان کا کوئی تعلق ہے ۔ پاک فوج نے ان کے گھر کو ظالمانہ طریقے سے بارود کے ذریعے نہ صرف دھماکے سے اڑایا بلکہ ان کی بوھی والدہ بھتیجی اور ایک تین سالہ رشتہ دار بچے کو شہید کیا ان کی والدہ کی موت کو حادثاتی قرار دینا عذر گناہ بد تراز گناہ کے مترادف ہے ۔ سید منور حسن نے کہا کہ دن کی روشنی میں صاحبزادہ ہارون الرشید کے گھر پر فوج نے بکتر بند گاڑیوں کے ذریعے چڑھائی کی ان کے ساتھ امریکی بھی تھے انہوں نے نہ صرف ان کے بلکہ ان کے عزیزروں کے گھروں کی تلاشی بھی لی جہاں سے ان کو ایک کارتوس تک نہیں ملا اس کے باوجود ان کے گھر کو دھماکہ خیز مواد سے اڑادیا گیا ۔ وہاں پر موجود لوگوں نے فوج سے استدعا کی کہ دھماکہ کرنے سے پہلے گھر سے خواتین کو نکال لینے دیا جائے لیکن ان کی ایک نہ سنی گئی اور دھماکہ کر دیا گیا جس کے نتیجے میں ان کی والدہ اور بھتیجی شہید ہو گئیں ۔ سید منور حسن نے کہا کہ فوج کی یہ صریحا انتقامی کارروائی ہے ۔ صاحبزادہ ہارون الرشید کو ڈرون حملوں اور فوجی آپریشن کی مخالفت کرنے کی سزا دی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی تاریخ گواہ ہے کہ یہ ایک پرامن ، جمہوری اور قانون پر کاربند رہنے والی جماعت ہے اس کی سرگرمیاں کھلے عام ہوتی ہیں ۔ ہارون الرشید جماعت اسلامی کے صوبائی عہدیدار اور سابق ممبر قومی اسمبلی ہیں ان کا تعلق دہشت گردوں سے جوڑنا صحیح نہیںہے

Tags: پاکستان

حکومت نے جنگ کا بگل بجادیا ہے ،صدر زداری اور وزیراعظم گیلانی ایک ہی کھوٹے سکے کے دو رخ ہیں۔۔۔سید منور حسن

February 14th, 2010 · No Comments

وزیر اعظم اتنے معصوم نہیں کہ انہیں ججز کی تقرری سے متعلق اس فیصلے کا علم ہی نہ ہو
حالات کی خرابی اور اداروں سے محاذ آرائی میں سب سے زیادہ نقصان پیپلز پارٹی کا ہوگا
امیر جماعت اسلامی پاکستان کی ہنگامی پریس کانفرنس

کراچی ‘ جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سید منور حسن نے کہا کہ حکومت نے جنگ کا بگل بجادیا ہے ،صدر آصف علی زرداری اور یوسف رضا گیلانی ایک ہی کھوٹے سکے کے دو رخ ہیں ،ان کے تمام رویے اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کی خلاف ورزی توہین عدالت کے زمرے میں آتی ہے ۔سپریم کورٹ کو اس کا فوری نوٹس لینا چاہئے ،وزیر اعظم اتنے معصوم نہیں کہ انہیں ججز کی تقرری سے متعلق اس فیصلے کا علم ہی نہ ہو ۔ انہوں نے حکمرانوں کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ اداروں سے اسی طرح تصادم کا راستہ اختیار کرینگے تو ملک میں بہت بڑا بحران پیدا ہوگا اور حالات کی خرابی اور اداروں سے محاذ آرائی میں سب سے زیادہ نقصان پیپلز پارٹی کا ہوگا اور جمہوریت کو بھی دہچکہ لگے گا ۔25فروری کوپاک۔ بھارت مذاکرات کے ایجنڈے میں مسئلہ کشمیر کو سرفہرست رکھاجائے اور وزیراعظم اس سلسلے میں قوم کو اعتماد میں لیکر اسمبلی کے فلور پر مذاکرات کے ایجنڈے کی تفصیلات سے آگاہ کریں ،بصورت دیگر یہ مذاکرات پاکستانی قوم کے ساتھ مذاق ہونگے ۔اس موقع پر صوبائی امیر اسد اللہ بھٹو ،ڈاکٹر ممتاز میمن معراج الہدیٰ صدیقی ،قیم سید راشد نسیم ،محمد حسین محنتی اور سکریٹری اطلاعات مجاہد چنا سمیت دیگر رہنماء بھی موجود تھے ۔ان خیالات کااظہار انہوں نے اتوار کی دوپہر جماعت اسلامی سندھ کے صوبائی دفتر قباء آڈیٹوریم میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ سید منور حسن نے کہا کہ پاکستان کی عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ عدالتی فیصلوں کے پشتی بان اور ترجمان بنیں ،ان فیصلوں کو عوامی تائید و حمایت کی ضرورت ہے اس سلسلے میں دیگر پارٹیوں سے مشاورت سے وکلاء برادری اور سول سوسائٹی کے ساتھ ملکر اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے سامنے بہت بڑے احتجاجی مظاہرے کے ذریعے چیف جسٹس آف پاسکتان کو یقین دلائیں گے کہ وہ تنہا نہیں ہیں ،پاکستان کے سولہ کروڑعوام ان کے ساتھ ہیں اور عدلیہ کے فیصلوں کے پشت بان ہیں ۔ آئین و قانون شکنی اور عدالت کے فیصلوں کی خلاف ورزی پیپلز پارٹی کی ہمیشہ وطیرہ رہا ہے ۔موجودہ صورتحال میں ضرورت اس امر کی ہے کہ پیپلز پارٹی کے کارکنان اپنی قیادت پر دباؤ ڈالیں کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں اور اداروں کے تصادم سے باز رہیں ورنہ ملک بدترین آئینی و قانونی وسیاسی بحران سے دوچار ہوجائے گا اور حالات بد سے بدتر ہوجائیںگے اور اس محاذ آرائی میں سب سے زیادہ نقصان خود پیپلز پارٹی کو ہی ہوگا ۔ سپریم کورٹ کے یہ دونوں ججز قابل تحسین ہیں ابنہوں نے ان ججوں کی یاد تازہ کردی ہے جنہوں ن نے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کردیا تھا ۔ یوسف رضا گیلانی کو جو کاروائیاں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے فیصلے پر کرنی چاہئیں تھیں وہ نہیں کیں حالانکہ وہ بارہا یہ کہتے رہے ہیں کہ وہ اس فیصلے پر عملدرآمد کروائیں گے لیکن عملاً انہوں نے ایسا کچھ نہیں کیا اور اب حکمرانوں نے ججز کی تقرری کے معاملے میں یہی روش اختیار کی اور عدلیہ کے فیصلے سے انحراف کیا جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حکمران تصادم کی طرف بڑھ رہے ہیں ۔سید منور حسن نے مزید کہا کہ وہ ادارے جو آئین و قانون کی بالادستی کیلئے کوشاں ہیں اگر عوام ان کی پشتبانی نہ کرتے تو وہ یہ فیصلے نہ کرپاتے ۔ ہمارے حکمران اپنے کرتوتوں کے نتیجہ میں عوام کے سامنے بے نقاب ہوچکے ہیں جبکہ این آر او کے حوالے سے ان حکمرانوں کی کرپشن اور جرائم کی داستانیں زبان زد عام ہیں جس سے لوگ مایوس ہیں ۔انہوں نے کہا کہ تمام کالم نگاروں اور اداریہ نویسوں نے اپنے تجزیوں میں ان حکمرانوں کو ملک میں ہونی والی لوٹ مار اور قتل وغارتگری کا ذمہ دار قرار دیا ہے ۔این آر او کے حوالے سے سید منورحسن نے کہا کہ عوام اس حوالے سے بڑے دکھی ہیں کہ ان کا خیال تھا کہ این آر او زدہ حکمران جمہوریت کا پاس اور عوامی دباؤ محسوس کرتے ہوئے اپنے عہدوں سے الگ ہوجائیں گے کہ ہم عدالتوں سے پاک صاف ہوکر آئیں گے لیکن ان میں سے کسی حکمران نے بھی استعفیٰٗ نہیں دیا جس سے ان کی جمہوریت پسندی کے دعووں کی قعلی کھل گئی ہے ۔وفاقی وزیر داخلہ نے کن کن امور کے حوالے سے مستعفی ہونے کی بات کی لیکن وہ کسی بھی معاملے پر مستعفی نہیں ہوئے ۔جب حکمرانوں نے اپنی اس ہٹ دہرمی کا مظاہرہ کیا تو عوام نے یہ سوچ لیا تھا کہ حکمرانوں کو عدالت کے کٹھڑے میں ضرور لائیں گے ۔ہنگامی صورتحال سے آج پوراملک اور معاشرہ دوچار ہے جہاں ایک طرف قوم کی اعلیٰ عدلیہ سے بڑی توقعات وابستہ اور وہ امید کی نظر سے عدلیہ کو دیکھ رہے ہیں جبکہ دوسری طرف حکمرانوں کی آئین و قانون شکنی اور اداروں کے ساتھ محاذ آرائی سب کے سامنے ہے ۔سید منورحسن نے کہا کہ حکمرانوں کے خلاف غیر ممالک میں قائم مقدمات ری اوپن ہونے چاہئیں ۔ایک طرف موجودہ حکمران امریکی ایجنڈے کی تکمیل کیلئے کوشاں ہیں جبکہ دوسری طرف انہوں نے اداروں کے ساتھ محاذ آرائی کا راستہ اختیار کیا ہے جس سے حالات مزید خراب ہونگے ۔ انہوں نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے حوالے سے کہا کہ امریکی عدالت کے اس فیصلے نے امریکہ کی انصاف پسندی کا پول کھول دیا ہے اور مغرب کے دوہرے معیار ات کھل کر سامنے آگئے ہیں اس سلسلے میں سب سے زیادہ قصور پاکستانی حکمرانوں کا ہے جس کے سفیر نے بھی اس سلسلے میں اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی جس سے حکمرانوں کی بے حسی ظاہر ہوتی ہے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ قوم کی اس محب وطن بیٹی کو ملک میں واپس لایا جائے ۔سید منور حسن نے کہا کہ بھارت نے 62ڈیم قائم کردےئے ہیں ،بھارت پاکستان کو ریگستان میں تبدیل کرنا چاہتا ہے جبکہ بھارت پاکستان کے ساتھ کئیعالمی معاہدوں کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوچکا ہے ۔وزیر اعظم بتائیں کہ پاک ۔بھارت مجوزہ مذاکرات میں مسئلہ کشمیر ایجنڈے پر ہے کہ نہیں؟ جب تک بھارت مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کے خلاف ورزیاں بند نہیں کرے گا اور کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دینے کا راگ الاپنے سے باز نہیں آتا اس وقت تک اس کے ساتھ مذاکرات بامعنی نہیں ہونگے ۔ بلوچستان کے آئی جی ایف سی نے یہ بات کہی ہے کہ بھارت افغانستان کے ذریعے بلوچستان اور صوبہ سرحد میں مداخلت کررہا ہے جبکہ خود آرمی چیف نے بھی یہ بات کہی ہے کہ بلوچستان میں بھارت کا اسلحہ پکڑا گیا ہے ،جب آرمی چیف سے پوچھا گیا کہ اس پر انہوں نے بھارت سے احتجاج کیوں نہیں کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ وقت آنے پر احتجاج کرینگے

Tags: پاکستان

حکومت نے محاذ آرائی کا بگل بجا دیا ہے ۔ بحران کا نقصان پیپلزپارٹی کو ہوگا۔۔ سید منور حسن کی میڈیا سے بات چیت

February 14th, 2010 · No Comments

کراچی ‘ امیر جماعت اسلامی سید منور حسن نے کہا ہے کہ حکمرانوں کو جمہوریت کا پاس ہوتا تو وہ این آر او کے ساتھ ہی مستعفی ہوجاتے ۔ حکومت عوام کو درپیش مشکلات کی ذمہ دار ہے ۔ یہاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے سید منور حسن نے کہا کہ اندھے کو بھی نظر آرہا تھا کہ ادارے تصادم کی طرف بڑھ رہے ہیں یہ کسی فرد کا مسئلہ نہیں انہوں نے کہا کہ حکومت نے محاذ آرائی کا بگل بجا دیا ہے اور اس سے پیدا ہونے والے بحران سے سب سے بڑا نقصان پیپلزپارٹی کا ہو رہا ہے ۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ اس کے بعد حالات مزید خراب ہونے کا امکان ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اور صدر کھوٹے سکے کے دو رخ ہیں اور وزیراعظم اتنے بھی معصوم نہیں کہ انہیں معلوم نہ ہو کہ صدارتی حکم کیا آیا ہے ۔ سید منور حسن نے عدالت سے مطالبہ کیا کہ وہ صدر اور وزیراعظم کے خلاف توہین عدالت کا نوٹس لے ا ور عوام سے اپیل کی کہ وہ ایسے موقع پر عدلیہ کا ساتھ دیں اور اظہار یکجہتی کے لیے جماعت اسلامی دیگر سیاسی اور مذہبی جماعتوں سمیت این جی اوز کے ساتھ مل کر سپریم کورٹ کے باہر مظاہرہ کرکے عدلیہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کرے گی ۔

Tags: پاکستان

اگرحکومت نے سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد نہ کیا تو عوام سڑکوں پر نکل آئیں گے۔سید منور حسن

February 13th, 2010 · No Comments

وزیر اعظم ‘ سپریم کورٹ کے فیصلوں کو سبوتاژ کررہے ہیں
اداروں کے درمیان تصادم کو ہوا دی گئی تو اس کا نقصان خود پیپلز پارٹی کو ہوگا
ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے خلاف امریکی عدالت کا فیصلہ امریکہ کے ظلم و نا انصافی کا منہ بولتا ثبوت ہے
جماعت اسلامی پاکستان کے امیر کا ادارہ نور حق میں پریس کانفرنس سے خطاب

کراچی ‘ جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سیدمنور حسن نے کہا ہے کہ اگرحکومت نے سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد نہ کیا تو عوام سڑکوں پر نکل آئیں گے۔وزیر اعظم ‘ سپریم کورٹ کے فیصلوں کو سبوتاژ کررہے ہیں، اداروں کے درمیان تصادم کو ہوا دی گئی تو اس کا نقصان خود پیپلز پارٹی کو ہوگا۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے خلاف امریکی عدالت کا فیصلہ امریکہ کے ظلم و نا انصافی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ادارہ نورحق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ جماعت اسلامی کراچی کے امیر محمد حسین محنتی‘ سیکرٹری حافظ نعیم الرحمٰن‘ سیکرٹری اطلاعات سرفراز احمد بھی موجود تھے۔ سیّد منور حسن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے حالات میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہلچل بڑھ رہی ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عمل درآمد نہ ہونے کی صورت میں ہونے کی وجہ سے بے یقینی کی فضا قائم ہورہی ہے۔ عوام سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کے منتظر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 17! رکنی بینچ نے جو فیصلے کئے ہیں ان فیصلوں کونافذ ہونا چاہیے‘ فل بینچ کے فیصلوں کو جس طرح نظر انداز کیا جارہا ہے وہ ایک سوالیہ نشان اور ملک کو محاذ آرائی کی جانب لے جانے کے مترادف ہے۔ وزیراعظم فیصلوں کو سبوتاژ کررہے ہیں اور محاذ آرائی کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم صرف زبانی جمع خرچ سے کام چلا رہے ہیں اگر اداروں کے درمیان تصادم کو ہوا دی گئی تو اس کا سب سے زیادہ نقصان خود پیپلز پارٹی کو ہوگا۔ آج ججوں کی تقرری میں بھی لیت و لعل سے کام لیا جارہا ہے جسکی وجہ سے انصاف کی فراہمی میں تاخیر ہورہی ہے۔ سیّد منور حسن نے کہا کہ اگر حکومت معاملات کو اسی طرح سے التواء میں ڈالتی رہی تو عوام لازمی طور پر سڑکوں پر نکل آئیں گے اور عدلیہ کی پشتیبانی کرینگے۔ انہوں نے مزیدکہا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے خلاف امریکی عدالت کا فیصلہ امریکہ کے ظلم و ناانصافی کا منہ بولتا ثبوت ہے، فرد جرم عائد کئے جانے کے بعد سے لے کر ان تک حکومت نے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ امریکہ میں پاکستان کے سفیر نے بھی اس سلسلے میں کوئی کارکردگی نہیں دکھائی۔ رحمان ملک اور حکومتی اہلکار جو اعلانات کرتے رہے وہ سب غلط ثابت ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جتنے امریکی پکڑے گئے انہیں ایک ٹیلیفون کال پر رہا کردیا گیا اور مقدمہ بھی درج نہیں کیا گیا۔ اس پس منظر میں پاکستانی عوام ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے ساتھ ہونے والے سلوک پر احتجاج کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر امریکہ کا یہی عدل ہے جو ڈاکٹر عافیہ کے کیس میں سامنے آیا ہے تو امریکہ کا ظلم کیا ہوگا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی اور متحدہ بار بار فوج بلانے کی بات کررہے ہیں فوج کو سویلین کی طرف سے دعوت دینا پاکستان اور فوج کے حق میں بہتر نہیں۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کو نظر انداز کرنے سے انتخابی، سیاسی، اور جمہوری عمل متاثر ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں امریکی فوج کی موجودگی ہی دہشت گردی اور انتہا پسندی کو فروغ دے رہی ہے۔ امریکی انخلاء کے ساتھ ہی دہشت گردی اور انتہا پسندی کا بھی خاتمہ ہوجائے گا۔

Tags: پاکستان

آرمی چیف بیلنس شیٹ جاری کریں کے طاقت کے استعمال سے دہشت گردی میں کتنی کمی یا زیادتی ہوئی ہے ۔۔سید منور حسن

February 8th, 2010 · No Comments

مڈٹرم انتخابات مسائل کا حل نہیں ‘ این آر او کے فیصلے پر عمل ہونا چاہئے ‘ کراچی واقعات میں بھارت ملوث ہے
جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن کی منصورہ میں پریس کانفرنس
لاہور ‘ جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سید منور حسن نے کہا ہے کہ مڈٹرم انتخابات ملکی مسائل کا حل نہیں جب تک سندھ حکومت میں پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم موجود ہیں کراچی میں امن قائم نہیں ہو سکتا ۔ بھارت سے کشمیری عوام کو حق خودارادیت دئیے بغیر مذاکرات نہیں ہونے چاہئیں۔ عدالتی فیصلہ پر حکومت تصادم کی جانب بڑھ رہی ہے جس کا نقصان پیپلزپارٹی کو ہوگا ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی کی مجلس شوری کے اجلاس کے دوران پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔سید منور حسن نے کہا کہ 18 فروری کے انتخابات کے نتیجے میں عوام نے ڈکٹیٹر پرویزمشرف کو مسترد کردیا لیکن عوام کو ان انتخابات کے ثمرات نہیں ملے انتخابات کے بعد صدر آصف علی زرداری نے صاف کہہ دیا کہ عوام نے پیپلزپارٹی کو ججوں کی بحالی کے نعرہ پر نہیں بلکہ روٹی ‘ کپڑا اور مکان کے نام پر ووٹ دئیے ہیں لیکن حکمران ان ایجنڈوں پربھی کامیابی حاصل نہیںکر سکے ۔ا نہوں نے کہا کہ قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ کے معاملے پر بھی حکومت غفلت کی مرتکب ہوئی ہے ۔ ڈاکٹر عافیہ کو مجرم قرار دئیے جانے سے دنیا کے سامنے امریکی عدل کی حقیقت کھل گئی ہے۔ ا نہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت اپنے سفیر کو ڈاکٹر عافیہ کے کیس کو ٹھیک طریقے سے پیش کرنے کے لیے ہدایت کرے ۔ جماعت اسلامی ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی انہوں نے قوم سے بھی اپیل کی کہ وہ ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لیے یکجان ہو کر اپنا کردار ادا کرے ۔ انہوں نے کہاکہ پیپلزپارتی کے وزراء سندھ اسمبلی کے اجلاس میں کراچی کے واقعات کا ایم کیو ایم کا ذمہ دار قرار د ے چکی ہے لیکن معلوم نہیں کہ وہ کون سا قومی مفاد ا ور بیرونی دباؤ ہے کہ یہ دونوں اکٹھے چلنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں دونوں جماعتیں اقتدار اور سٹی ناظم بھی ایم کیو ایم کا ہونے کے باوجود کراچی میں امن قائم نہیں ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک بارہ مئی ‘ وکلاء کو زندہ جلانے اور 12 ربیع اولال کے موقع پر علماء کرام کو بم دھماکے سے اڑانے کے ملزمان کو کیفر کردار تک نہیں پہنچایا جاتا اور عوام کو حقائق سے آگاہ نہیں کیا جاتا کراچی میں امن قائم نہیں ہو گا۔ مڈٹرم انتخابات سے متعلق امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ میں مڈٹرم انتخابات کا قائل نہیں ہوں کیونکہ ان انتخابات کے نتیجے میں تازہ دم امریکی حامی اقتدار میں آجائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں نے این آر او پر عدالتی فیصلہ کو ابھی تک تسلیم نہیں کیا اور اس پر عملدرآمد کروانے کی بجائے تصادم کی راہ پر گامزن ہیں جس کا نقصان خود پیپلزپارٹی کو ہی ہو گا۔ جماعت اسلامی اس فیصلے پر عملدرآمد کے لیے عدلیہ کی تحریک کی طرح پشتیبانی کرے گی خواہ اس مقصد کے لیے اسلام آباد کی طرف مارچ ہی کیوں نہ کرنا پڑے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک جانب امریکہ پاکستان کو اپنی مشرقی سرحدوں سے فوجیں ہٹانے کے لیے کہہ رہا ہے ۔ دوسری طرف بھارت پاکستان کے خلاف جنگی جنون کا شکار ہے ۔ انہوںنے کہا کہ کراچی کے واقعات میں بھی بھارت ملوث ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو عسکری سٹیٹ بنانے سے دہشت گردی کا خاتمہ نہیں ہو گا۔ حکومت کو طالبان کے کسی ایک گروپ سے نہیں بلکہ سب سے مذاکرات کرنے چاہئیں ۔ خودکش حملوں کو حرام قرار دینے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ پہلے ڈرون حملوں ‘ امریکہ کو لاجسٹک سپورٹ فراہم کرنے ‘ اپنے ہی شہریوں پر گولیاں چلانے ‘ شازیہ قتل کیس اور د یگر ایسے واقعات کی فہرست بنائی جائے تب میں باری باری بتاؤں گا کہ کون سی چیز حلال ہے اور حرام ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جی ایچ کیو کو 20 گھنٹے تک یرغمال بنائے رکھنا بھی ایک سوالیہ نشان ہے ؟ سیاست دانوں کی ناکامی کا یہ مطلب نہیں کہ فوج آجائے۔ جس کا جو کام ہو اسے ہی کرناچاہیئے۔ سیاست دان جیسے بھی ہیں یہ مسائل انہی کو ہی حل کرنے چاہیئے ۔ انہوں نے چیف آف آرمی سٹاف سے بھی ایک بار پھر مطالبہ کیا ہے کہ وہ بیلنس شیٹ جاری کریں کہ طاقت کے استعمال سے دہشت گردی میں کتنی کمی یا زیادتی ہوئی ہے

Tags: پاکستان

صدر زرداری اور جمہوریت ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ ۔ ۔ سید منور حسن

January 19th, 2010 · No Comments

کراچی ۔ امیر جماعت اسلامی منور حسن کا کہنا ہے کہ صدر زرداری اور جمہوریت ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ میاں نواز شریف صاحب کو موجودہ حکومت سے اختلاف ہے تو سڑکوں پر احتجاج کریں۔ کراچی میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی رہائی کمیٹی کے تحت احتجاجی کیمپ کے دورے کے بعد مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی پی حکومت الطاف حسین، عوامی نیشنل پارٹی، فضل الرحمان، اور نواز شریف کی بیساکھیوں پر کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کیسا قانون ہے کہ اپنے ہی شہریوں کو سرعام فروخت کردیا جاتا ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا۔منور حسن نے کہا کہ این آر او کی طرح لاپتہ افراد بھی حکومت کے لیے مسائل کا سبب بنیں گے۔ انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کی تنظیمیں گوانتا ناموبے جیل کی بندش اور ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لیے آواز کیوں بلند نہیں کرتیں۔ فوجی سربراہوں نے بھارتی آرمی چیف کے بیان کا منہ توڑ جواب دیکر قوم کے حوصلوں کے جذبات کی ترجمانی کی۔ منور حسن نے کہا کہ ملک میں تمام بم دھماکوں کے پیچھے را اور بلیک واٹر کا ہاتھ ہے۔

Tags: پاکستان

اگر قبائلی محب وطن نہیں ہیں تو پھر ملک میں کوئی شخص بھی محب وطن نہیں ۔سید منور حسن

January 14th, 2010 · No Comments

٭۔ ۔ ۔ آرمی چیف آپریشن راہ نجات کی بیلنس شیٹ دکھائیں تا کہ اصل صورتحال سے عوام کو آگاہی حاصل ہو سکے کہ آپریشن سے دہشت گردی کم ہونے کی بجائے بڑھی ہے۔امیر جماعت اسلامی
٭۔ ۔ ۔ اگر امریکہ اور حامد کرزئی طالبان کے ساتھ مذاکرات کے منصوبے بنا رہے ہیں تو پاکستان میں ایسا ممکن کیوں نہیں
٭۔ ۔ ۔ فوجی آپریشن کی آڑ میں قبائلیوں کی نسل کشی کی جا رہی ہے ۔ آپریشن میں دس ہزار سے زائد بے گناہ لوگوں کا قتل اورپندرہ ہزار سے زائد افراد زخمی ہو ئے ہیں جن کا کوئی پرسان حال نہیں۔ ’’ڈرون حملے ، فوجی آپریشن ، امریکی مداخلت اور دہشت گردی ‘‘ کے موضوع پر ہونے والے قبائلی جرگے سے مقررین کا خطاب
لاہور ۔امیر جماعت اسلامی سید منور حسن نے کہا ہے کہ اگر قبائلی محب وطن نہیں ہیں تو پھر ملک میں کوئی شخص بھی محب وطن نہیں ۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی آپریشن راہ نجات کی بیلنس شیٹ دکھائیں تا کہ اصل صورتحال سے عوام کو آگاہی حاصل ہو سکے کہ آپریشن سے دہشت گردی کم ہونے کی بجائے بڑھی ہے ۔ پاکستان کے مستقبل کی حفاظت ’’گو امریکہ گو ‘‘ تحریک سے ہو گی ۔ ان خیاات کا اظہار انہوں نے منصوبہ میں ’’ڈرون حملے ، فوجی آپریشن ، امریکی مداخلت اور دہشت گردی ‘‘ کے موضوع پر ہونے والے قبائلی جرگے کے عمائدین سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں مطالبہ کیا گیا کہ اگر امریکہ اور حامد کرزئی طالبان کے ساتھ مذاکرات کے منصوبے بنا رہے ہیں تو پاکستان میں ایسا ممکن کیوں نہیں ۔ امریکہ کی ایما پر قبائلی علاقوں میں جاری فوجی آپریشن فی الفور بند کیا جائے اور امریکہ سے علیحدگی کی علامت کے ڈر پر ڈرون حملے بند کرائے جائیں ۔ فاٹا میں بلا جواز آپریشنوں سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لینے کے ئے اعلی عدالتی کمیشن قائم کیا جائے ۔ قیام امن کیلئے مذاکرات اور جرگہ کی راہ اپنائی جائے ۔ قبائلی علاقوں کیلئے اصلاحاتی پیکیج کا اعلان کیا جائے ۔ فوجی آپریشن کی آڑ میں قبائلیوں کی نسل کشی کی جا رہی ہے ۔ آپریشن میں دس ہزار سے زائد بے گناہ لوگوں کا قتل اورپندرہ ہزار سے زائد افراد زخمی ہو ئے ہیں جن کا کوئی پرسان حال نہیں ۔ پندرہ لاکھ بے گھر ہونے والے افراد کو با عزت طریقے سے واپس گھروں کی رسائی دی جائے ۔سید منور حسن نے کہا کہ فوجی آپریشن سے پچاس لاکھ افراد دربدر ہوئے تا ہم سرحد کی عوام نے متاثرین کیلئے اپنے گھروں کے دروازے کھول کر انصار مدینہ کی یاد تازہ کر دی ۔ سوات آپریشن پر آرمی چیف نے کہا کہ آپریشن کامیاب ہو چکا ہے اگر ایسا ہے تو پھر وہاں کرفیو کیوں لگایا جاتا ہے ۔ زندگی مفلوج ، غیر محفوظ اور بازار ویران کیوں ہیں ۔ امریکہ کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف جنگ دراصل عالم اعلام کے خلاف جنگ ہے ۔ مسلم انتہا پسندی نے کسی نظریہ سے نہیں بلک خالات سے جنم لیا ہے ۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے فوجی آپریشن کسی مسئلے کا حل نہیں ہے طاقت کا استعمال کمزور لوگ اس وقت کرتے ہیں جب ان کے پاس کوئی ٹھوس دلیل موجود نہ ہو ۔ نیلسن منڈیلا کو دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد کہا جاتا تھا ۔ 27 سال جیل میں رکھنے کے بعد مجبورا اس سے مذاکرات کرنے پڑے ۔ آج اسے دنیا کا سب سے بڑا جمہوریت پسند کہا جاتا ہے ۔ بلوچستان میں پانچواں آپریشن اس لئے ہورہا ہے کیونکہ پہلے چار ناکام ہ گئے تھے ۔ الطاف حسین کراچی آپریشن کی مخالفت جبکہ قبائلی علاقہ جات کے آپریشن کی تائید کرتے ہیں ۔ یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے ۔ چیف آف دی آرمی سٹاف جنرل اشفاق کیانی سے گزارش کرتا ہوں کہ بھارت کی وکٹ پر کھیلنا چھوڑ دیں ۔ امریکہ ڈومور پالیسی کی حمایت ترک کر دیں ۔ انہوں نے آئی ایس پی آر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بیانات حالات کے برعکس ہوتے ہیں ۔ بے گناہ معصوم لوگوں کو قتل کر کیان پر دہشت گرد کا لیبل لگا دیا جاتا ہے ۔ جماعت اسلامی سرحد کے امیر سینیٹر پروفیسر محمد ابراہیم نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’’قائد اعظم محمد علی جناح‘‘ نے قبائل کو پاکستن کا بازو شمشیر کہا تھا ان کی طاقت سے بھارت کے خلاف لڑی جانے والی تینوں جنگوں میں مغربی سرحدیں محفوظ رہیں تھیں ۔مشرف اور موجودہ حکومت نے امریکہ کو واضح پیغام دیا ہے کہ اسے پاکستان میں داخل ہونے کی ضرورت نہیں ہم خود تمام کام اس کی مرضی کے مطابق کریں گے ۔ آصف علی زرداری ڈرون حملے رکوانے کی بجائے امریکہ سے ٹیکنالوجی مانگ کر کہہ رہے ہیں ہمیں اجازت دیں ہم خود ڈرون حملے بھی کردیں گے ۔ آئی ایس پی آر نے 71 کی جنگ میں بھی جھوٹے دعوے کئے تھے ۔ سابق رکن قومی اسمبلی ہارون رشید نے کہا کہ افغانستان امریکیوں کیلئے قبرستان بن چکا ہے جبکہ ہمارے حکمران امریکہ کی خوشنودی حاص کرنے کیلئے اپنے ہی معصوم لوگوں کا قتل عام کر رہی ہے ۔ جرگہ سے قبائلی علاقہ جات سے آئے ہوئے عمائدین ظہور احمد آفریدی، زرفروش، محمد الیاس بنگش، ملک محمد سعید، لیاقت الملک، راج محمد ، شاہ فیصل آفریدی ، محسود اللہ خاں نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قبائلی علاقوں میں پوری دنیا کیلئے 150 سال تک وسائل موجودہیں ۔ یہی امریکہ کا ٹارگٹ ہے ۔ امریکہ سامنے ہتھیار نہیں ڈالیں گے بلکہ اسے یہاں سے بھگا کر دم لیں گے ۔ خراب ترین حالات کے باوجود قبائلی علاقہ جات سے پاکستان کے خلاف بغاوت کی آواز بلند نہیں ہوئی ۔ حکومت کے حمایتی خواہ ان کا تعلق جمعیت علماء اسلام سے ہی کیوں نہ ہو سب امریکی ایجنٹ ہیں ۔ سوات آپریشن معاہدہ کی تفصیلات سے عوام کو آگاہ کیا جائے تا کہ عوام جان سکیں کہ معاہد کی خلاف ورزی پہلے کس نے کی تھی ۔ اس موقع پر عماودین نے ڈرون حملوں اور آپریشن کے نتیجے میں شہید ہونے والے افراد کے واقعات بتائے جس سے پورے ماحول پر افسردگی چھا گئی ۔ بونیر سے آئے زرفروش خاں نے بتایا کہ خراب ترین حالات کے باعث ان کے علاقے میں فجر اور عشاء کی نمازیں مساجد میں ادا نہیں ہوئیں

Tags: پاکستان