٭۔ ۔ ۔ بہت سارے لوگوں کو پتہ چل چکا ہے کہ اب پاکستانی سیاست میں ان کی کوئی گنجائش نہیں۔ موجودہ حکومت دو سالو ںمیں بہت کچھ کر سکتی تھی مگر کچھ نہیں کیا
٭۔ ۔ ۔ صدر آصف علی زرداری پر افسوس ہے کہ انہوں نے آئین اور قانون توڑنے والے کو گارڈ آف آنر پیش کیا
٭۔ ۔ ۔ جو پارٹی کا وفادارنہ ہو وہ ملک اور قوم کا بھی وفا داری نہیں ہو سکتا۔نواز شریف کا حلقہ این اے 123 میں کارکنوں سے خطاب
لاہور‘ پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ بہت سارے لوگوں کو پتہ چل چکا ہے کہ اب پاکستانی سیاست میں ان کی کوئی گنجائش نہیں۔ موجودہ حکومت دو سالو ںمیں بہت کچھ کر سکتی تھی مگر کچھ نہیں کیا ۔ صدر آصف علی زرداری پر افسوس ہے کہ انہوں نے آئین اور قانون توڑنے والے کو گارڈ آف آنر پیش کیا ۔ جو پارٹی کا وفادارنہ ہو وہ ملک اور قوم کا بھی وفا داری نہیں ہو سکتا ۔ این اے 55 میں وفاجیتی اور بے وفائی ہار گئی ۔ جرنیلوں نے اپنے پیشہ، آئین اور قانون سے بے وفائی کرتے ہوئے منتخب حکومتوں کے تختہ الٹائے اور سیاستدانوں نے وزارتوں کے لالچ اور مفاد کی خاطر اپنے ضمیر بیچ دیئے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے این اے 123 میں مسلم لیگ ن کے امیدوار پرویز ملک کے انتخابی حلقہ میں کارکنوں کے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ راولپنڈی کے الیشن نے پاکستانی سیاست کو ایک نیا رخ دیا ہے اب لوگوں کی آنکھیں کھل جانی چاہیے۔ انہو ںنے کہا کہ مجھے دو مرتبہ واپس بھیجنے والے کو اب خود ملک میں آنے کی جرات نہیں ہو رہی ۔ میاں نواز شریف نے کہا کہ محترمہ بے نظیر کے ساتھ چارٹر آف ڈیمو کریسی پر دستخط کر کے اکٹھے مل کر پاکستان کی خدمت کرنے کافیصلہ کیا اور یہ ایک خوبصورت آغاز تھا ۔ صدر آصف علی زرداری کے ساتھ بڑے خلوص سے معاہدہ کیا لیکن افسوس انہوں نے چارٹر آف ڈیمو کریسی پر عمل کرنے سے گریز کیا ۔ مسلم لیگ کے قاود نے کہا کہ ہمارے دور حکومت میں ایسی پالیسیااں بناوی گئیں کہ بیرون ممالک میں آنے والے پاکستانیوں نے واپس آکر اپنے ملک میں سرمایہ کاری کرنی شروع کی لیکن بد قسمتی سے اس سسٹم کو جاری نہ رہنے دیا گیا ۔ میاں نواز شریف نے کہا کہ ہمارے دامن پر کرپشن اور کک بیکس کا کوئی دھبہ نہیں ہے ۔ آج ملک میں لوڈشیڈنگ، کرنسی ، اکانومی کا کیا حال ہے ۔ ملک ترقی کی بجائے تنزلی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ بھارتی وزیر اعظم پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے لئے خود یہاں آئے آج ہم مذاکرات کے لئے منتیں کر رہے ہیں ۔ بھارت کے پانچ ایٹمی دھماکوں کے جواب میں چھ دھماکے کئے ۔ امریکی صدر سمیت دنیا کے دیگر ملکوں کے سربراہوں نے فون کر کے 5 ارب ڈالر دینے کی باتیں کیں ہم نے سب چیزوں کو ٹھکرا دیا ۔ آج ڈیڑھ ارب ڈالر کے لئے منتیں کی جا رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ گھبرانے اور مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہم پاکستان کو واپس اسی مقام پر لا سکتے ہیں ۔ میاں نواز شریف نے کہا کہ اب قوم کے ساتھ ساتھ تماشا اور مذاق ختم ہونا چاہیے جو بھی آتا ہے اپنی جیبیں بھرتا ہے ۔ سوئس اکاؤنٹ ، جہازوں میں کمیشن ، زمینوں کی بندربانٹ کرپشن کے ذریعے کمایا گیا پیسہ واپس لایا جائے ۔ یہ عوام کا حق ہے ۔ انہں نے کہا کہ انقلاب کی ضرورت ہے ۔ میاں نواز شریف نے کہا کہ پرویز مشرف آٹھ سالں میں ملک کا کیا سنوارا ہے ار موجودہ حکومت نے بھی دو سالوں میں کچھ نہیں ۔ حکومت کرپشن میں ملوث ہونے کی بجائے اس کے خاتمہ کے لئے کردار ادا کرے ۔ کرپشن ، جمہوریت کو بدنام کر رہی ہے۔ انہو ںنے کہا کہ جمہوریت کے بغیر گاڑی نہیں چل سکتی ۔ ووٹ سے حکومت قائم اور اس سے ختم ہو ۔ کسی فرد واحد کو اس کا اختیار نہیں ہونا چاہیے ۔ آمر پاکستان کی کوئی خدمت نہیں کر سکتا ۔ ایسے فیصلوں سے ملک و لخت اور صوبوں کے درمیان نفرت میں اضافہ ہوا ۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ کچھ بھی ہو آمریت کو کبھی قبول نہ کریں اور اس کے آگے سیسہ پلائی دیوار بن کر اس کا مقابلہ کریں ۔ میاں نواز شریف نے کہا کے کرپٹ لوگ جلد اپنے انجام کو پہنچیں گے ۔ انہں نے کہا کہ ٹی وی پر آکر بڑھکیں مارنے والو کو پتہ چل چکا ہے کہ اب پاکستانی سیاست میں ان کی کوئی جگہ نہیں ۔ جلسہ سے پرویز ملک ، صوبائی وزیر مجتبی شجاع الرحمن سمیت دیگر مقررین نے خطاب کیا ۔
Tags: پاکستان
٭۔ ۔ ۔ 17ویں ترمیم کے خاتمہ اور ایوان صدر و پارلیمنٹ کے درمیان بیلنس آف پاور کے بارے میں خوشخبری 23 مارچ سے پہلے عوام کو دیں گے
٭۔ ۔ ۔ میثاق جمہوریت اور پارٹی منشور پر عمل کریں گے‘ عدلیہ کے فیصلوں کا احترام اور این آر او فیصلہ پر آئین کے مطابق و سوئس اکاؤنٹس کے حوالے سے عدالتی ہدایات پر عمل کیا جائیگا‘ججوں کی تعیناتی کے حوالے سے بھی چیف جسٹس کی سفارشات پر عمل کیا گیا
٭۔ ۔ ۔ عوام کو ریلیف دینے کیلئے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے تھینک ٹینکس پر مشتمل کمیٹی بنانے پر اتفاق‘ آئی ایم ایف سے بھی شرائط میں نرمی کیلئے کہیں گے‘ کوئٹہ اور پنجاب پر ڈرون حملے نہیں ہونگے: وزیراعظم
٭۔ ۔ ۔ ایوان صدر سے تعلقات خراب ہوئے‘ آئندہ تعلقات کا انحصار حکومتی اقدامات پر ہے‘ کابینہ سے مجبوراً علیحدگی اختیار کی
٭۔ ۔ ۔ امریکی عہدیداروں نے یقین دلایا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کا معاملہ عوامی جذبات کے تحت حل کرنے کیلئے جلد حکومت پاکستان سے رابطہ کیا جائے گا
٭۔ ۔ ۔ آمر دور میں بنائے گئے ریفرنسوں میں صداقت ہوتی تو جھوٹے طیارہ سازش اور ہیلی کاپٹر کیس کا سہارا نہ لیا جاتا: نوازشریف
لاہور( ثناء نیوز )آئین میں 17 ویں ترمیم کے خاتمہ اور میثاق جمہوریت پر عمل کیلئے پارلیمنٹ کی آئینی کمیٹی کی سفارشات کا 23 مارچ سے قبل اعلان کردیا جائے گا۔ ایوان صدر سے مسلم لیگ (ن) کے تعلقات کا انحصار حکومت کے آئندہ اقدامات پر ہوگا۔ عوام کو ریلیف دینے کیلئے مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے تھینک ٹینکس پر مشتمل کمیٹی بنانے پر اتفاق ہوگیا۔ ڈاکٹر عافیہ کا معاملہ عوام کے جذبات کے مطابق حل کرنے کیلئے امریکی حکومت جلد حکومت پاکستان سے رابطہ کرے گی۔ پرویز مشرف کو گارڈ آف آرنر پیش کر کے عوام کی توقعات پر پانی پھیر دیا گیا۔ ان خیالات کا اظہار وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نوازشریف سے ان کی رائیونڈ کی رہائشگاہ پر 50 منٹ سے زائد جاری رہنے والی ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ملاقات میں وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف‘ میاں نوازشریف کے صاحبزادے حسین نواز اور سینیٹر اسحاق ڈار بھی موجود تھے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پارلیمنٹ کی آئینی کمیٹی کی سفارشات پر مبنی رپورٹ 23 مارچ کو آئی ہے لیکن میں نے کمیٹی سے کہا ہے کہ اس سے بہت پہلے عوام کو خوشخبری دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی اب تک 50 سے زائد اجلاس کرچکی ہے اور اس میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے نمائندوں کے علاوہ دیگر جماعتوں کی قیادت خود موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملاقات میں میاں نوازشریف نے میثاق جمہوریت پر عمل اور عوام کو ریلیف دینے کی بات کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میثاق جمہوریت پر دو سابق وزراء اعظم محترمہ بینظیر بھٹو اور میاں نوازشریف نے دستخط کئے تھے۔ پیپلزپارٹی اس پر عملدرآمد کرنے میں مخلص ہے۔ اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ اگر سیاسی جماعتیں اپنے منشور پر ہی عملدرآمد کرلیں تو بہت سے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو ریلیف دینے کیلئے دونوں جماعتوں کے تھینک ٹینکس پر مشتمل کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ ہوا ہے جو ملکی وسائل کو پیش نظر رکھتے ہوئے سفارشات دے گی کہ عام آدمی کو کیسے ریلیف دیا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ آئی ایم ایف سے بھی بات کی جائے گی کہ اس کی کڑی شرائط کے پاکستانی عوام متحمل نہیں ہیں اس لئے ان پر نظرثانی کی جائے۔ جبکہ میں نے فنانس منسٹر سے بھی کہا ہے کہ عوام کو ریلیف دینے سے متعلق اپنی سفارشات دیں۔ انہوں نے کہا کہ میثاق جمہوریت ہی ایسا ضابطہ ہے جس پر عملدرآمد سے اداروں کو مضبوط اور مستحکم کیا جاسکتا ہے۔ اس سے عدلیہ اور پارلیمنٹ کے وقار میں بھی اضافہ ہوگا۔ ملاقات میں اتفاق کیا گیا کہ عدالتوں کے فیصلوں پر عملدرآمد کیا جائے گا اور رول آف لاء اور ملکی آئین کے تحت معاملات کو حل کرنے کے علاوہ سوئس اکاؤنٹس کے حوالے سے عدالتی ہدایات پر عمل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی جنگ اور گلوبل معاشی صورتحال پاکستان پر بری طرح اثر انداز ہوا ہے۔ ہم نے نہ صرف جانی قربانیاں دیں‘ بہت سے لوگ اور جوان زخمی یا معذور ہوئے بلکہ معاشی طور پر بھی بحران کا شکار ہوئے ہیں۔ اس صورتحال سے نکلنے کیلئے سیاسی قوتوں کو مضبوط کرنا ہوگا۔ بھارت سے تعلقات کے بارے میں سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ 25 فروری کو دونوں ملکوں کے فیڈرل سیکرٹریز کا اجلاس ہو رہا ہے۔ اس سے بات آگے بڑھے گی۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ بہت حساس معاملہ ہے۔ حکومت اسے ہر فورم پر اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ کو پنجاب سے گرفتار نہیں کیا گیا۔ یہ گرفتاری سابق دور حکومت میں ہوئی تھی۔ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ انہوں نے امریکہ سے کہا ہے کہ ڈرون حملے انتہاپسندوں اورمقامی قبائل کو ملانے میں مدد دیتے ہیں جنہیں ہم نے الگ کیا ہے۔ بہتر ہوگا کہ ہمیں ڈرون ٹیکنالوجی دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے کوئٹہ پر بھی ڈرون حملوں کا اندیہ دیا تھا جسے میں نے مسترد کردیا۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ یا پنجاب پر ڈرون حملے نہیں ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ احتساب بل سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بعد پارلیمنٹ میں لائیں گے۔ وزیراعظم نے میاں نوازشریف اور صدر آصف علی زرداری کے پتلے جلانے کے واقعات کی مذمت اور اسے سیاسی کارکنوں کی ذہنی ناپختگی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ شریف برادران کے خلاف نیب میں چلائے جانے والے کیسوں کا حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس موقع پر میاں نوازشریف نے کہا کہ اب ان کے ایوان صدر سے پہلے جیسے تعلق نہیںرہے جبکہ آئندہ تعلقات کا انحصار ہم سے کئے گئے وعدوں‘ معاہدوں‘ میثاق جمہوریت اور عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے وزیراعظم سے کہا ہے کہ عوام اس وقت انتہائی معاشی بحران کا شکار ہیں جنہیں فوری ریلیف دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر میثاق جمہوریت پر عمل اور 17ویں ترمیم کا خاتمہ کردیا جاتا تو بہت سے مسائل حل ہوچکے ہوتے لیکن ڈکٹیٹر پرویز مشرف کو گارڈ آف آرنر دیکر رخصت کرنے کے اقدام نے انتخابات کے بعد عوام کی توقعات پر پانی پھیر دیا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے وزیراعظم س کہا ہے کہ ملک میں گڈ گورنس قائم کی جائے اور حکومت کو کرپشن سے پاک کیا جائے۔ بدقسمتی سے بجلی کی لوڈشیڈنگ سمیت یہ مسائل پرویز مشرف کے دیئے ہوئے ہیں جس نے اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد قوم کو سات نکاتی ایجنڈا دیا لیکن آٹھ سال بعد قوم کو اندھیروں میں دھکیل کر چلا گیا لیکن اس آمر کو بلا کر کسی نے نہ پوچھا کہ اس نے بجلی بنانے کے پراجیکٹ کیوں نہ بنائے۔ ڈاکٹر عافیہ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ امریکی ایلچی رچرڈ ہالبروک اور امریکی سفیر نے حالیہ ملاقات میں یقین دلایا ہے کہ امریکہ جلد حکومت پاکستان سے رابطہ کر کے اس مسئلہ کو پاکستان کے عوام کے جذبات کے تحت حل کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ آصف زرداری نے ہمیں حکومت میں شامل ہونے پر مجبور کیا۔ پھر ہمیں حکومت سے باہر آنے کا بھی شوق نہیں تھا لیکن چیف جسٹس کو بحال اور دیگر معاہدوں پر عمل نہ کیا گیا جس کے باعث وزارتیں چھوڑنا پڑیں۔ جو اقدام دو سال پہلے ہو جانے چاہئیں تھے ابھی تک نہیں کئے گئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ این آر او پر عدالتی فیصلہ پر من و عن عمل کیا جائے۔ صوبوں میں پانی کے تنازع پر انہوں نے کہا کہ میں نے وزیراعظم سے کہا ہے کہ اس مسئلہ کو صوبوں کی سطح پر حل کرلیا جائے اور وفاق اپنا کردار ادا کرے۔ اس سے صوبوں کے درمیان ہم آہنگی اور یکجہتی کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ میاں برادران کے خلاف نیب کیسوں سے متعلق سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ میاںشہبازشریف نے کہا کہ یہ جھوٹے کیس مشرف نے بنائے تھے جن کے بارے میں اعلیٰ عدالتیں پہلے ہی فیصلہ دے چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان کیسوں میں صداقت ہوتی تو مشرف کو طیارہ سازش کیس اور ہیلی کاپٹر کیسوں کا سہارا نہ لینا پڑتا تاہم موجودہ حکومت بھی یہ کیس چلا لے۔ ہم عدالتوں میں سامنا کریں گے۔
Tags: بریکنگ نیوز , پاکستان
سفارتی سطح پر ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لئے ہر ممکن دباؤ ڈالا جائے گا
مسلم لیگ (ن) کے قائد کی ملاقات میں عافیہ صدیقی کی بہن ڈاکٹر فوزیہ کو یقین دہانی
لاہور‘ مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف نے کہا کہ پاکستانیوں کو امریکا کے حوالے کرنے والے آمر کا احتساب ہونا چاہئے۔ سفارتی سطح پر ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لئے ہر ممکن دباؤ ڈالا جائے گا۔امریکا میں قید عافیہ صدیقی کی بہن ڈاکٹر فوزیہ نے مسلم لیگ( ن) کے قائد میاں نواز شریف سے رائے ونڈ میں ملاقات کی ہے۔ ملاقات میںنواز شریف نے کہا کہ پوری قوم ڈاکٹرعافیہ صدیقی کی رہائی کے لئے سراپا احتجاج ہے۔انہوں نے ڈاکٹر فوزیہ کو یقین دلایا کہ سفارتی سطح پر ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لئے ہر ممکن دباؤ ڈالا جائے گا۔ان کاکہنا تھا کہ پاکستانی شہریوں کو امریکا کے حوالے کرنے والے آمر کا احتساب ہونا چاہئے۔
Tags: پاکستان
لاہور‘ مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف نے این اے 123 سے اپنے کاغذات نامزدگی واپس لے لئے اور مسلم لیگ (ن) کی جانب سے پرویز ملک ضمنی انتخابات میں حصہ لیں گے ۔ اس حوالے سے نواز شریف کا کہنا ہے کہ این اے 123پر ہونے والے ضمنی انتخابات میں ان کی جگہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے پرویز ملک حصہ لیں گے ۔ گزشتہ ڈیڑھ سال سے اس نشست پر نواز شریف کے الیکشن لڑنے کا امکان تھا۔ 18 فروری2008ء کے عام انتخابات میں اسی حلقے سے نواز شریف امیدوار تھے تاہم الیکشن کمشن کی جانب سے انہیں نا اہل قرار دینے کے بعد معاملہ سپریم کورٹ میں تھا جس کے باعث یہاں انتخابات نہیں ہو سکے تھے ۔نواز شریف کو اس حلقے سے طویل عدالتی جنگ کے بعد سپریم کورٹ کی جانب سے انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت ملی تھی۔این اے 123 سے کاغذات نامزدگی واپس لینے کی آخری تاریخ17 فروری ہے جبکہ18 فروری کو امیدواروں کی حتمی فہرست جاری کردی جائیگی۔ قومی اسمبلی کی نشست حلقہ این اے127 پر 10 مارچ کو انتخابات ہونگے
Tags: پاکستان
اسلام آباد‘ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے انہیں ججز کی تقرری کے حوالے سے کرائی گئی یقین دہانی سے انحراف کیا ہے۔ پریس کانفرنس کے دوران نواز شریف نے کہاکہ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی سے حالیہ ملاقات میں یقین دہانی کرائی تھی۔ چیف جسٹس آف پاکستان کی سفارشات کے مطابق ججز کی تقرری ہو گی۔ تاہم وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے اپنی یقین دہانی کے برعکس اقدام اٹھایا ہے۔
Tags: پاکستان
February 14th, 2010 · 1 Comment
اسلام آباد ‘ مسلم لیگ(ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ حکومت کا اعلی عدلیہ کے ساتھ ٹکراؤ انتہائی خطرناک ثابت ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو الٹی میٹم دیتے ہیں کہ ججوں کی تقرری پر آئین کے مطابق عمل درآمد کیا جائے ۔ میاں نوا ز شریف نے کہا کہ مسلم لیگ(ن) جمہوریت کی بقا کے لیے اپنا کردار ادا کرے گی اور اداروں کی بالادستی یقینی بنانے کے لیے ان کے ساتھ کھڑی ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ ججوں کی تقرری کے معاملے پر آئین کے مطابق عمل نہ کیا گیا تو مسلم لیگ(ن) اعلی عدلیہ کا اسی طرح ساتھ دے گی جیسے عدلیہ بحالی تحریک میں دیا تھا۔
۔۔۔تفصیلی خبر۔۔۔۔
نواز شریف نے صدر آصف علی زرداری کو جمہوریت کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دے دیا
حکومت متنازعہ نوٹیفکیشن سے دستبردار ہو اور ججز کی تقرری کے سلسلے میں چیف جسٹس آف پاکستان کی سفارشات کو تسلیم کیا جائے
آصف علی زرداری سندھ سمیت چاروں صوبوں کے عوام کی خون پسینے کی کمائی کو سوئس بینکوں سے واپس لائیں
حکمرانوں نے ملک کو آئین قانون کے تقاضوں کے مطابق چلانے کی بجائے ایک سرکس بنا دیا ہے وہ بچگانہ انداز میں اداروں سے کھیل رہے ہیں۔
حکومت کے کڑے احتساب کے لیے آنے والے دنوں میں اہم فیصلے کیے جائیں گے
پاکستان مسلم لیگ(ن) کے قائد کا پریس کانفرنس سے خطاب
اسلام آباد ‘ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے صدر آصف علی زرداری کو جمہوریت کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دے دیا۔ نواز شریف نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت متنازعہ نوٹیفکیشن سے دستبردار ہو اور ججز کی تقرری کے سلسلے میں چیف جسٹس آف پاکستان کی سفارشات کو تسلیم کیا جائے ۔ نواز شریف نے کہا ہے کہ آصف علی زرداری سندھ سمیت چاروں صوبوں کے عوام کی خون پسینے کی کمائی کو سوئس بینکوں سے واپس لائیں۔حکمرانوں نے ملک کو آئین قانون کے تقاضوں کے مطابق چلانے کی بجائے ایک سرکس بنا دیا ہے وہ بچگانہ انداز میں اداروں سے کھیل رہے ہیں۔ حکومت کے کڑے احتساب کے لیے آنے والے دنوں میں اہم فیصلے کیے جائیں گے ۔ حکمرانوں کا مضحکہ خیز تماشے اور بھونڈا سرکس نا قابل برداشت ہے ۔ آصف علی زرداری کو غیر قانونی و غیر آئینی اقدامات سے روکنا قومی ذمہ داری ہے ۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مشاورتی اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے میاں محمد نواز شریف نے کہا نواز شریف نے کہا کہ گزشتہ روز کے افسوسناک واقعہ کی وجہ سے پورے ملک کو بے یقینی سے دو چار کر دیا ہے ۔ طرح طرح کی افواہیں پھیل رہی ہیں۔ یوں محسوس ہونے لگا کہ جیسے جمہوریت کسی خطرے کا نشانہ بننے والی ہے ۔ طویل مشاورتی اجلاس میں صورتحال کا جائزہ لیا گیا ۔ حکومتی رویے کو انتہائی تشویش نگاہ سے دیکھا گیا ہے ۔ تصادم کی پالیسی کو جمہوریت کے لیے انتہائی خطرناک قرار دیا گیا ہے ۔ ججز کی تقرری کے حوالے سے آئیں۔ قانون اور واضع طور کیے گئے فیصلوں کو نظر انداز کرتے ہوئے یکطرفہ من مانی کا جو طریقہ کار اختیار کیا گیا ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔ حکومت نے وکلاء سول سوسائٹی میڈیا سیاسی جماعتوں پوری قوم کی بے مثا لی جدوجہد کے نتیجہ میں بحال ہونے ولی عدلیہ کو دل سے تسلیم ہی نہیں کیا۔ انھوں نے کہا کہ حکمران سابقہ آمرسے ورثے میں ملنے والی عدلیہ ہی کو اپنے مسائل کا حل سمجھتے ہیں جو ان کے ہر غیر قانونی غیر آئینی غیر اخلاقی اور کرپشن آنکھیں بند کر کے ان کے ہر اقدام کی توثیق کر دے ۔ نواز شریف نے کہا کہ این آر او پر عدالتی فیصلے کے بعد حکمرانوں کا رد عمل بتا رہا ہے ۔ وہ اپنی کرپشن کے تحفظ سے عدلیہ کو نشانہ بنانا چاہتا ہے تاکہ ان کے مقدمات کا دفتر ایک بار پھر لپیٹ دیا جائے ۔آج عدالت کے فیصلے کو دو ماہ ہو رہے ہیں لیکن واضح احکامات کی کھلی خلاف ورزی ہو رہی ہے ۔ اپنی کرپشن کے تحفظ کو آزاد عدلیہ کے اقدام پر ترجیح دی جا رہی ہے۔ آزاد عدلیہ کے بارے میں یہ رویہ قوم کی امنگوں سے کھیلنے کے مترادف ہے ۔ کل کے افسوسناک اقدام سے 3 نومبر 2007ء کی بو آ رہی ہے ۔ نواز شریف نے کہا کہ اس وقت کے آمر نے اپنی حدود سے تجاوز کر کے عدلیہ پر حملہ کیا تھا۔ ہم پوری قوت کے ساتھ حکومت کو تنبیہ کرتے ہیں کہ ریاستی اداروں سے تصادم کا سلسلہ بند کرے۔ ہمارا المیہ یہی ہے کہ ماضی میں عدلیہ آمریت کا شکار آمریت کا رستہ نہیں روک سکی۔ موجودہ عدلیہ نے کسی بھی آمرانہ اقدام کے خلاف کھڑے ہو جانے اور پی سی او کا حلف نہ اٹھانے کا عہد کیا ہے یہ انتہائی خوش آئند بات ہے کہ ائینی اصولوں کو مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے دکھ ہو رہا ہے کہ دو سال قبل مارچ کے مہینے میں ہونے والے معاہدہ جمہوریت سے وعدہ خلافیوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے موجودہ بحران سے صرف ایک دن قبل وزیر اعظم پر واضح کیا تھا کہ وہ ججز کی تقرری کے بارے میں تاخیر نہ کریں اور عدلیہ کی طرف سے آنے والی سفارشات پر پر عمل کریں۔ مجھے واضح یقین دلایا گیا تھا کہ ایسا ہی ہو لیکن عملا اس کے برعکس ہوااگر حکومت ہماری بات کو تسلیم کرتی اور اس دو سال کے درمیان آئین 1999 ء کی شکل میں واپس آجاتا ۔ سترہویں ترمیم ختم ہو جاتی میثاق جمہوریت پر عمل ہو چکا ہوتا تو وہ مسائل پیدا نہ ہوتے جو اس وقت پیدا ہو رہے ہیں ملک کو آئین قانون کے تقاضوں کے مطابق چلانے کے بجائے ایک سرکس بنا دیا گیا ہے اور ہر روز کوئی نہ کوئی نیا تماشا ہو رہا ہے۔ عوام کے مسائل نظر انداز ہو رہے ہیں حکمران بچگانہ انداز میںر یاستی اداروں سے کھیل رہے ہیں دو سال قبل اس امیدکے ساتھ حکومت سے ہاتھ ملایا تھا کہ نئی صبح طلوع ہو گی ملکی تاریخ میں کہیںیہ مثال نہیں ملتی کہ حکومت اپوزیشن ایک ہی صف میں کھڑ ے ہوں ایک بینچ پر بیٹھے ہوں مگر حکومت نے غیر ذمہ دارنہ رویوں کا مظاہرہ کیا۔ ہمیں اقتدار کا شوق نہیں ہے ملک کا خیال ہونا چاہیے اگر ملک کو نظر انداز کرکے اقتدار کو آگے بڑھائیں گے اور عہدوں کی دوڑ میں لگے رہیں گے تو یہ پاکستان کے ساتھ بدترین دشمنی ہو گی۔ حکومت نے نہیں عوام نے عدلیہ کو بحال کیا تھا این آر او میثاق جمہوریت کی موت تھا ہم نے مسائل کے حل کے لیے حکومت کے ساتھ معاہدے کیے تھے یہ دن دیکھنے کے لیے زرداری سے ہاتھ نہ ملایا تھا کہ وہ عدلیہ کو ملیا میٹ کردیں ۔ جمہوریت کی سب سے بری ضامن آزاد عدلیہ ہے آج جتنا خطرہ آصف علی زرداری کے ہاتھوں جمہوریت کو ہے اس سے قبل نظر نہ آیا ۔ زرداری سے جمہوریت کو خطرہ ہے ۔ آصف علی زرداری جمہوریت سے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔ مجھے یہ خطرہ دیکھ کر پریشانی ہو رہی ہے آمریت نے ہمیشہ ملک کو تباہ وبرباد رکھا ہے فوجی آمریت ملک کے لیے زہر قاتل ہیں ۔ ایسا کبھی نہیںہ ونا چاہیے مگر یہ کچھ بھی نہیں ہونا چاہیے جو حکمران لڑرہے ہیں پاکستان مسلم لیگ(ن) کی طرف سے دو ٹوک الفاظ میں واضح کردینا چاہتا ہوں کہ ہم میثاق جمہوریت پر عملدرامد ، ریاستی اداروں کے احترام ، این آر او پر عدالتی فیصلے پر عملدرآکداور ججز کی ائینی اور قانونی طریقہ کے مطابق تقرری کے حوالے سے حکومت کو من مانی نہیں کرنے دیں گے حکمرانوں کو آئین سے کھیلنے کی اجازت نہیں دیں گے کرپشن کی کھلی چھٹی نہین دی جائے گی ہم ایسی ناقص حکمرانی کاکڑا محاسبہ کریںگے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر عوام کی تائید سے وہ کرد ار ادا کریں گے جو وقت کا تقاضا ہے ۔ مضحکہ خیز تماشے اور بھونڈی سرکس ناقابل برداشت ہوتا جا رہاہ ے ہم حکمرانوں پر کڑی نظر رکھتے ہوئے آنے والے دنوں میں اہم فیصلے کر سکتے ہیں۔ تاکہ جمہوریت کا تسلسل ٹوٹنے نہ پائے اور حکمرانوں کی بھیانک غلطیوں کی سزا پوری قوم کو نہ بھگتنا پڑے ہم اس سلسلے میں دوسری سیاسی جماعتوں سے بھی رابطے کریں گے ۔ عوام کو بھی متحرک کریں گے اور جمہوری عمل کو بھی کسی مہم جوئی کا شکار نہیں ہونے دیں گے وقت آگیا ہے کہ جمہوریت اوراداروں کے تحفظ کے لیے ایک واضح دو ٹوک کردار ادا کیا جائے کسی فرد واحد کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ اپنے ذاتی مفاد اور ایجنڈے کے لیے قوم کے اداروں کو بے حرمتی کرے ۔ ہم خاموشی سے یہ سب کچھ نہیں دیکھ سکتے ۔مختلف سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ حکومت نے ماضی کی غلطیوں سے سبق نہیں سیکھا ہم نے کسی موقع پر اپنے نظرئیے سے انحراف نہیں کیا ۔ پارلیمانی آئینی کمیٹی میں بھی عمل کی کوئی صورت سامنے نظر نہیں آرہی ہے آصف علی زرداری قوم سے دو بار سترہویں ترمیم کے خاتمے کاو عدہ کر چکے ہیں ۔وقت تیزی سے گزر رہا ہے حکومت ایسا مقام نہ دے کہ جمہوری معاملات ہاتھوں سے نکل جائیں گورنر پنجاب صوبائی حکومت کی کردار کشی میں سر سے پاؤں تک ڈوبا ہوا ہے کیا گورنر کا یہ کام ہے دنیا میں کہیں اس کی مثال نہیں ملتی کہ اپنے ہی صوبے کا گورنر اپنے ہی صوبے کے وزیراعلی کی کردار کشی کرے۔ آصف علی زرداری سے بھی کہہ رہا ہوں کہ وہ سوئس بینکوں سے پاکستان کا پیسہ واپس لائیں۔ یہ 17 کروڑ عوام کی کمائی ہے ۔اس میں سندھ کے غریبوں کی کمائی ، پنجاب کے مظلوموں اور بلوچستان سرحد کے عوام کی خون پسینے کی کمائی شامل ہے۔ آصف علی زرداری غیر آئینی اقدامات سے روکیں گے۔ آصف علی زرداری بیرون ملک سے ساری دولت واپس لے کر آئیں۔ آصف علی زرداری جو کچھ کر رہے ہیں میری قومی ذمہ داری ہے کہ میں انہیں روکوں تاہم فوج کو دعوت نہیں دے رہے ہیں کہ وہ معاملات کو سنبھالے۔ اصولوں کی بنیاد پر مقبولیت بڑھتے کم ہونے کی پروا نہیں ہے ۔حکومت فوری طور پر ججز کی تقرری کے بارے میں متنازعہ نوٹیفکیشن سے دستبردار ہوں ۔ سپریم کورٹ کی سفارشات پر عمل کریں ورنہ آئندہ آنے والے دنوں میں ہم اپنے فیصلے کریں گے۔ ججز کی تقرری کا معاملہ سیاسی جمہوری اور عدالتی دونوں ہے ۔ متنازعہ فیصلوں کی وجہ سے سیاست اور ملک متاثر ہو رہا ہے ۔ اس قسم کے فیصلوں کی وجہ سے تو فوج کو آنے کا موقع ملتا ہے ۔ حکومت ہو ش کے ناخن لے اور معاملات جو اس مقام پر نہ لے کہ جمہوریت کو خطرہ ہو۔ آزاد عدلیہ کی موجودگی غیر جمہوری طاقت نہیں کر سکتی ۔ کیا آصف علی زرداری اس قسم کی جمہوریت چلانا چاہتے ہیں۔ این آر او کے تحت جن کی کرپشن نظر عام پر آئی ہے ان سب کو مستعفیٰ ہونا چاہیے ان کو خود کو سپریم کورٹ کے سامنے پیش کرنا چاہیے ۔ جن لوگوں کے پاکستان کے 17 کروڑ عوام کے خون پسینے کی کمائی ہضم کی ہے وہ پاکستان کے خزانے میں جمع ہونا چاہیے اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا
Tags: بریکنگ نیوز , پاکستان
نئی محاذ آرائی سے نقصان پہنچے کا ندیشہ ہے ، حکومت پیچیدگیاں پیدا کر نے کے بجائے قانون پر عمل کرے
مسلم لیگ (ق) کے قائد کا پارٹی کے مشاورتی اجلاس سے خطاب
اسلام آباد‘ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ ججوں کی تقرری کے معاملے پر ملک میں تناؤ پیدا ہو رہا ہے۔ نئی محاذ آرائی سے نقصان پہنچے کا ندیشہ ہے ، حکومت پیچیدگیاں پیدا کر نے کے بجائے قانون پر عمل کرے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے جمعہ کو اسلام آباد میں پارٹی کے مشاورتی اجلاس میں کیا۔ اجلاس میں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان ، سینٹر اسحاق ڈار، راجہ ظفر الحق، احسن اقبال، سرانجام خان، پیر صابر شاہ ، سردار مہتاب احمد خان اور دیگر رہنماؤںنے شرکت کی ۔ ذرائع کے مطابق پاکستان مسلم لیگ(ن) نے ججز کی تقرری کے معاملے پر پارلیمنٹ میں جارحانہ پالیسی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اجلاس میں ملک کی سیاسی صورتحال ، صوبہ سرحد کے نام کی تبدیلی کے لیے عوامی نیشنل پارٹی کے ساتھ جاری مذاکرات ، ممکنہ آئینی ترامیم اور دیگر اہم ایشوز کے بارے میں مشاورت کی گئی ۔ اجلاس میں سرحد کے نام کی تبدیلی کے لیے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے ۔ نواز شریف نے کہا کہ حکومت اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تقرریوں کے بارے میں لیت و لعل سے کام لینے کے بجائے قانون پر عمل کرے ۔ نئی محاذ آرائی سے ملک میں سیاسی تناؤ پیدا ہو رہا ہے جو نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے ۔ حکومت اس تناؤ کو ختم کرنے کے لیے ججز کی تقرریوں کو یقینی بنائے تاکہ ملک بھر میں پیدا ہونے والے تناؤ کو ختم کیا جا سکے۔ نواز شریف نے مزید کہا کہ حکومت این آر او اور دیگر ایشوز پر بھی دلیلیں دینے کے بجائے ان پر عملدرآمد کو یقینی بنائے ۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) موجود سیاسی نظام کے استحکام کے لیے کوشاں ہے حکمران بھی اس حوالے سے ذمہ داری کا ثبوت فراہم کریں۔
Tags: پاکستان
لاہور ‘ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف کی انتخابی اہلیت کو لاہور ہائیکورٹ کے انتخابی ٹربیونل میں چیلنج کردیا گیا۔ عدالت نے میاں نواز شریف اور الیکشن کمیشن کو 15 فروری کیلئے نوٹس جاری کردیئے۔ تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کے حلقہ 123 سے امیدوار شاہد اورکیزئی نے اپنی درخواست میں موقف اختیار یا ہے کہ میاں نواز شریف این اے 123 سے امیدوار ہیں اور انہوں نے اپنے کاغذات نامزدگی واپس نہیں لئے۔ میاں نواز شریف نے حلفی بیان بھی جھوٹا جمع کروایا ہے جس میں انہوں نے سپریم کورٹ حملہ کیس اور اپنے ملزم ہونے سے متعلق ذکر نہیں کیا۔ وہ متعدد مقدمات میں سزا یافتہ ہیں جبہکہ انہوں نے ان کے 70 لاکھ روپے بھی ادا کرنے ہیں۔ الیکشن ٹربیونل نے سماعت 15 فروری تک ملتوی کرتے ہوئے نواز شریف اور الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کردیئے۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ ان وجوہات کی بنیاد پر میاں نواز شریف الیکشن نہ لڑنے کے اہل نہیں ہیں انہیں نا اہل قرار دیا جائے
Tags: پاکستان
پرویز مشرف کی طرح موجودہ حکومت بھی خفیہ معاہدے کر کے قوم سے مذاق کر رہی ہے
عدالتوں کے فیصلے نہ مان کر ملک نہیں چلائے جاسکتے
آزاد عدلیہ کی موجودگی میں کوئی ڈکٹیٹر شب خون نہیں مارسکتا
مسلم لیگ (ن) کے قائد کا بہاولپور میں پریس کانفرنس اور ورکرز کنونشن سے خطاب
بہاولپور‘ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ ڈرون حملے حکومت کی مرضی سے ہو رہے ہیں۔ پرویز مشرف کی طرح موجودہ حکومت بھی خفیہ معاہدے کر کے قوم سے مذاق کر رہی ہے ۔ایک جمہوری حکومت کو جس طرح چلنا چاہیے تھا اس طرح نہیں چلایا جا رہا ہے کہ بہاولپور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے میاں نواز شریف نے کہا کہ ان کی جماعت کی یہ کیچڑ اچھالنا نہیں چاہتی ۔انھوں نے کہا کہ وہ ایوان سے باہر رہتے ہوئے بھی اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہم پر امن جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں ہم ہر اچھی بات پسند کرتے ہیں اور حکومت کو بھی چاہیے کہ ایسا ہی کرے میاں محمد نواز شریف نے امریکی ڈرون حملوں پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اب یہ ات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی ۔ ماضی کی حکومتوں کی طرح یہ حکومت بھی کسی اجازت سے ہو رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سب کو معلوم ہو چکا ہے کہ قوم کے ساتھ مذاق ہو رہا ہے ۔ پرویز مشرف بھی مذاق کر گئے ہیں۔انھوں نے بھی خفیہ معاہدے کیے اور قوم کو باخبر نہیں کیا اور موجودہ حکومت بھی ان کے نقشہ قدم پر چل رہی ہے ۔انھوں نے کہا کہ پرویز مشرف کو گارڈ آف آنر دینے کی بجائے آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کر کے کٹہرے میںلایاجاتا۔ میاں محمد نوازشریف نے کہا کہ قوم پرویز مشرف کو عدالت میں دیکھنا چاہتی تھی مگر افسوس ایسا نہیں ہو رہا۔قبل ازیں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ( ن )کے قائد میاں نوازشریف نے کہا ہے کہ موجودہ حالات خاموشی سے فائدہ اٹھا کر پیدا کیے گئے ہیں تاہم اب قوم جاگ رہی ہے ، لانگ مارچ اگر پہلے کیا ہوتا توآج یہ دن نہ دیکھنے پڑتے، کسی کوعدالتیں توڑنے کی اجازت نہیں دیں گے ۔ آئین توڑ کر ، عدالتوں کے فیصلے نہ مان کر ملک نہیں چلائے جاسکتے۔زرداری صاحب نے وعدے توڑے ہیں۔ پاکستان مشکلوں میں گھرا ہواہے، انقلاب کے بغیر ملک ٹھیک نہیں ہوسکتا۔آزاد عدلیہ کی موجودگی میں کوئی ڈکٹیٹر شب خون نہیں مارسکتا۔بہاولپور میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں اقتدار کی خواہش نہیں، پاکستان مشکلوں میں گھرا ہواہے، انقلاب کے بغیر ملک ٹھیک نہیں ہوسکتا۔صدر زرداری نے وعدے پورے نہیں کیے جس سے بہت دل دکھا ،آمر کی باقیات آج بھی موجود ہیں ، ایک آمر نے ججوں کو نظر بند کیا اور چیف جسٹس کی کراچی آمد پر لاشوں کے ڈھیر لگا دیے ۔ ان کا کہنا تھا کہ مشرف اور چوہدریوں نے مسلم لیگ کو ختم کرنے کی کوشش کی۔ ڈکٹیٹر نے بگٹی کو قتل کیا اور بلوچستان میں حالات خراب کیے۔ بلوچستان میں اکبر بگٹی کا قتل کر کیعلیحدگی پسندوں کی تحریکوں کو جنم دیا اس کا احتساب کرنے کے بجائے اسے گارڈ آف آنر پیش کیا گیا ۔آج سابق صدر کو کوئی نہیں روک رہا وہ وطن واپس آنے کو تیار نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ سابق صدر نے اپنی کتاب میں پاکستانیوں کو بیچنے کا اعتراف کر کے اپنے ہاتھوں اپنے خلاف ایف آئی آر کاٹی ہے۔ آج بھی آمر کی باقیات موجود ہیں،اپنے وزیراعظم بننے کی اتنی خوشی نہیں جتنی ججز کی بحالی پر ہوئی۔ ججوں کی بحالی پر پوری قوم کو ناز ہے۔آزاد عدلیہ کی موجودگی میں کوئی ڈکٹیٹر شب خون نہیں مارسکتا۔
Tags: بریکنگ نیوز , پاکستان
این آر او زدہ وزراء،مشیران استعفیٰ دے کر عدالتوں کا سامنا کریں
کراچی میں ٹارگٹ کلنگ سے عوام پریشان ہیں انتخابات لڑنے میں کوئی غیر ملکی معاہدہ رکاوٹ نہیں
مسلم لیگ ن کے سر براہ کا رحیم یار خان میں پریس کانفرنس سے خطاب
رحیم یار خان ‘ پاکستان مسلم لیگ نواز کے قائد میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ این آر او کی زد میں آنے والے وزراء اور مشیران فوری استعفیٰ دے کر عدالتوں کا سامنا کریں حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل نہیں کر رہی جس کی وجہ سے جمہوریت کو خطرہ ہے لوٹی گئی دولت واپس ملک میں لائی جائے کراچی میں قتل و غارت کی وجہ سے عوام پریشان ہیں سمجھ نہیں آتی حکومت ملکی معاملات کو کیسے چلا رہی ہے ۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ افسوسناک ہے ان کے انتخاب لڑنے کی راہ میں کئی غیر ملکی معاہدہ رکاوٹ نہیں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے رحیم یار خان میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا میاں نواز شریف نے کہا کہ جس طرح ملکی معاملات چلائے جا رہے ہیں اس طریقہ کار کے اختلاف ہے حکومتی اقدامات کی وجہ سے جمہوریت کو خطرات لاحق ہیں آج بھی سابق صدر جنرل پرویز مشرف کی پالیسیوں پر عمل ہو رہا ہے انہوں نے کہا کہ عوام موجودہ صورت حال پر بہت پریشان ہے قبائلی علاقوں کے بعد اب کراچی کی صورت حال پر عوام میں بے چینی ہے اور قتل و غارت گری جا رہی ہے دونوں پارٹیاں لڑنے کی بجائے مسئلے کو حل کریں این آر او زدہ وزراء اور مشیران فوری طور پر استعفی دیں اور عدالتوں کا سامنا کریں اور عدالتوں سے کلیئر ہو نے کے بعد واپس آئیں ان کے عہدے عدالتی کاروائی میں رکاوٹ نہیں بننے چاہئیں انہوں نے کہا کہ این اے 123سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ پارٹی کرے گی کوئی غیر ملکی معاہدہ اس راہ میں رکاوٹ نہیں معاہدے کی باتیں افواہوں کے سوا کچھ نہیں آج مشرف ملک سے باہر ہے اور شہباز شریف نے بھی انتخاب لڑا تھا کسی سے کوئی ایسا معاہدہ نہیں انہوں نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا لیکن نہ انہیں اعتماد میں لیا گیا اور نہ ہی پارلیمنٹ میں اس مسئلے کو اٹھایا گیا میاں نواز شریف نے کہا کہ وہ صورت حال کو سمجھنے سے قاصر ہیں کہ کس طرح سے نظام حکومت کو چلایا جا رہا ہے موجودہ نظام کو کسی سے خطرہ نہیں ہے صرف موجودہ حکومتی پالیسی سے خطرہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن کا پہیہ کیوں ملک کے بینکوں میں نہیں لایا جاتا اداروں کی کارکردگی کو ٹھیک کیا جائے بعض اداروں کی وجہ سے 300 ارب روپے نقصان ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ کام ضروری نہیں کہ عہدوں کے لئے کیا جائے بعض کام بغیر عہدوں کے لالچ کے کلئے جاتے ہیں اور وہ زیادہ خوشی دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عدلیہ بحالی ایسا معاملہ تھا جس میں انہیں وزیر اعظم کا عہدہ کا حلف اٹھانے سے بھی زیادہ خوشی ہوئی تھی۔انہوں نے کہا کہ ان کا دورہ پارٹی کی تنظیم سازی کی مہم کی پہلی کڑی ہے انہوں نے کہا کہ صدر زر داری سے ان کا کوئی ذاتی جھگڑا نہیں پالیسیوں سے اختلاف ہے میثاق جمہوریت اور17ویں ترمیم آج تک ختم نہیں ہوئی بجلی ،گیس اور تیل کی قیمتوں میں اضافے سے عوام پر بوجھ ڈالا جا رہا ہے بجلی مہنگی ہو نے کی وجہ سے کوئی بھی ملک میں صنعتیں نہیں لگائے گا مسلم لیگ ن فرینڈلی اپوزیشن نہیں انتخابات اکیلے لڑنے کے بھی اہل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدر آمد ہو نا چاہیے لیکن بہت سے ہفتے گزر نے کے باوجود اس پر عمل نہیں ہو رہا اور یہ سپریم کورٹ کو عزت دی جا رہی ہے یہ جمہوریت کو کمزور کر نے کا عمل ہے مشرف کو سپریم کورٹ میں الیکشن لڑنے کے اہل قرار نہیں دیا تو انہوں نے عدالت کو ہی فارغ کر دیا انہوں نے کہا کہ جس طرح وعدوں کو پورا نہیں کیا اس سے اختلاف ہے اگر یہ وعدے پورے کئے ہوتے تو صدر زر داری کو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا اور ان کو بھی ایک اچھے صدر کے طور پر یاد کیا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ کوئی ایسا کام نہیں کیا جس کی تعریف کی جائے اور مشرف کا بنایا ہوا آئین ،سیٹ اپ اور گور نر بیٹھے ہوئے ہیں ان میں سے ایک کو بھی نہیں ہٹایا گیا نئے صوبوں کے قیام کے بارے میں فیصلے پارلیمنٹ کرے گی اور اس میں آئین اور قانون شامل ہے دہشت گردی کے سوال پر نواز شریف نے کہا کہ اس کے لئے کثیر الجہتی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے پارلیمنٹ کی کمیٹی کی سفارشات پر عمل نہیں گیا ورنہ دہشت گردی کا مسئلہ حل ہو جاتا حکومت نے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی ورنہ دہشت گردی کا مسئلہ حل ہو چکا ہوتا
Tags: پاکستان