ہول سیل میں افراط زر 20فیصد تک پہنچ گئی ،آنے والے دنوں میںمہنگائی افراط زر مزید دباؤ میں آنے کا خدشہ
حکومت کو آئی ایم ایف کے ساتھ افراط زر کے نظر ثانی شدہ ہدف کے حصول میں مشکلات کا سامنا
اسلام آباد ‘ ملک میںمہنگائی میں اضافے کا رجحان جاری ہے اور رواں مالی سال جنوری کے دوران مہنگائی میں 13.68فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ اس دوران ہول سیل میں اشیاء کی قیمتوں میں تقریبا 20فیصد اضافہ ہوگیا ہے جس کے بعد آنے والے دنوں میں افراط زر مزید دباؤ میں آنے کا امکان ہے۔وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے سات ماہ (جولائی تا جنوری) کے دوران صارف کے لئے افراط زر کی شرح میں10.79فیصد،حساس اعشاریوں میں افراط زر کی شرح میں10.96فیصداور ہول سیل میں افراط زر کی شرح میں7.21فیصداضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق جنوری 2010 کے دوران گزشتہ سال کے اسی عرصے کی نسبت صارف کے لئے افراط زر کی شرح میں 13.68فیصد،حساس اعشاریوں میں افراط زر کی شرح میں18.35فیصد، اور ہول سیل میں افراط زر کی شرح میں 19.64فیصداضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس دوران غذائی اجناس کی قیمتوں میں 13.68فیصد،ہاوس رینٹ میں13.38فیصد،ایندھن اور لائٹنگ کے اخراجات میں20.19فیصد،تعلیمی اخراجات میں 13.68فیصداضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق ہول سیل میں غذائی اجناس میں افراط زر کی شرح میں15.60فیصداضافہ،خام مال میں 30.34فیصد،ایندھن، لائٹنگ اور لبریکینٹ میں33.19فیصد، مینوفیکچررز میں 14.31فیصد اضافہ جبکہ تعمیراتی سامان کی قیمتوں میں3.74فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ہول سیل میں افراط زر کی شرح میں سب سے زیادہ اضافے کے باعث آنے والے دنوں میں افراط زر کی شرح میں مزید اضافے کا امکان ہے کیونکہ ہول سیل میں افراط زر کی شرح کے اثرات جلد ہی عام صارف تک پہنچ جائیں گے۔ وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق گزشتہ ماہ(دسمبر) کے مقابلے میں جنوری کے دوران افراط زر کی شرح میں 2.42فیصد،حساس اعشاریوںمیں افراط زر کی شرح میں2.88فیصداور ہول سیل میں افراط زر کی شرح میں4.23فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ جس کی اہم وجہ رواں سال کے آغاز پر بجلی کی شرح میں12 فیصد اور گیس کی قیمتوں میں 18 فیصد کا نمایاں اضافہ ہے۔ماہرین کے مطابق دسمبر2009 کے بعد سے افراط زر کی شرح میں اضافے کا رجحان برقرارہے ،جو رواں مالی سال کے اختتام تک جاری رہ سکتا ہے، جس کے بعد حکومت کی جانب سے افراط زر کا مقررہ نظر ثانی کا ہدف حاصل ہونے کے امکانات مخدوش ہو جائیں گے۔ کیوںکہ حکومت نے رواں مالی سال کے لئے افراط زر کی شرح دس فیصد سے کم کی سطح پر لانے کا ہدف مقرر کیا تھا، تاہم بعد میں آئی ایم ایف کے ساتھ کئے گئے معاہدے کے تحت افراط زر پر نظر ثانی کر کے ہدف11فیصد مقرر کیا گیا تھا جو اب حاصل ہونے کے کم امکانات ہیں۔



