بچے کی بازیابی کے لئے ہر قسم کی کوششوں کی یقین دہانی کرائی
اسلام آباد۔جہلم سے اغواء کئے گئے پاکستانی نژاد برطانوی بچے کو پولیس تاحال بازیاب نہیں کروا سکی ۔ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے بچے کے والد کو فون پر بچے کی بازیابی کے لئے ہر قسم کی کوششوں کی یقین دہانی کرائی ہے ۔ وزیر اعظم نے ہفتہ کو بچے کے والد سے فون پر رابطہ کیا اور انہیں بچے کی بازیابی کے لئے تمام تر اقدامات کی یقین دہانی کرائی ۔ وزیر اعظم نے آئی جی پنجاب کو ہدایت کی کہ مغوی بچے کے اہل خانہ سے مکمل تعاون کیا جائے اور بازیابی کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں ۔ جمعرات کی صبح جہلم میں راجہ نقاش کے گھر ڈکیتی کے دوران ڈاکو برطانیہ سے چھٹیاں منانے کے لئے آئے ہوئے بچے ساحل کو اغواء کر لیا تھا ۔ پولیس نے متاثرہ خاندان کے ڈرائیور اور دیگر افراد کو حراست میں لے رکھا ہے ۔ بچے کے والدین کے مطابق ان کا خاندان برطانوی حکومت سے رابطے میں ہے ۔
وزیر اعظم کا برطانوی مغوی بچے کے والد کو فون
March 6th, 2010 · No Comments
Tags: پاکستان
لارڈ نذیر احمد 11 مارچ کو پاکستان پہنچیں گے
March 6th, 2010 · No Comments
۔12 مارچ کو سٹی فورم کے زیر اہتمام سیمینار سے ان کا خطاب ہوگا
میرپور ۔برطانوی ہاؤس آ ف لارڈز کے تاحیات رکن لارڈ نذیر احمد سٹی فورم کی دعوت پر تین روزہ دورہِ پاکستان پر 11مارچ 2010ء کو وطن پہنچیں گے۔12مارچ بروز جمعتہ المبارک شام6:30بجے وہ مقامی ہوٹل میں سٹی فورم کے زیرِ اہتمام منعقدہ سیمینار بعنوان’’میرپور میں میڈیکل یونیورسٹی کا قیام کیوں ناگزیر ہے ؟‘‘ پر خطاب کریں گے۔لارڈ نذیر احمد اپنے مختصر دورہ پاکستان میں پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہان اور اعلیٰ حکومتی عہدیداران سے ملاقاتوں میں امریکہ میں قید بے گناہ پاکستانی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی اور عالمی تناظر میں مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے از سرِ نو قومی پالیسی تشکیل دینے کے حوالہ سے بات چیت کریں گے۔اس بات کا اعلان انفارمیشن سیکرٹری سٹی فورم جنید انصاری نے اہم اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں ڈاکٹر سی ایم حنیف چیئرمین سٹی فورم، ڈاکٹر ریاست علی چوہدری صدر پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن، ڈاکٹر طاہر محمود صدر پاکستان ڈینٹل ایسوسی ایشن، ڈاکٹر امجد محمود صدر فرینڈز فورم، راجہ امتیاز ایڈووکیٹ سابق سیکرٹری بار، حلیم اعظم ایڈووکیٹ، راجہ عرفان ایڈووکیٹ و دیگر عہدیداران بھی شریک تھے۔دریں اثناء لندن سے سٹی فورم کے رہنماؤں سے ٹیلیفونک گفتگو کرتے ہوئے لارڈ نذیر احمد نے کہا کہ گزشتہ کئی عشروں سے میرپور میںمیڈیکل کالج کے سرکاری سطح پر قیام کے معاملے کو جس طریقے سے ہینڈل کیا گیاہے اُس سے بیرونِ ملک انگلینڈ میں آباد تارکینِ وطن کشمیریوں میں شدید ترین حق تلفی کا احساس جنم لے رہا ہے۔حکومتِ پاکستان و آزادکشمیر کو چاہیے کہ وہ اعلیٰ سیاسی قیادت کی جانب سے میرپور میں میڈیکل کالج کے سرکاری سطح پر قیام کے وعدوں اور اعلانات کو عملی شکل دیں کیونکہ اس سے دس لاکھ سے زائد تارکینِ وطن سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کے حوالے سے اعتماد ملے گا۔اور بے یقینی کی فضاء ختم ہوگی۔لارڈ نذیر احمد نے کہا کہ وہ اپنے حالیہ دورہِ پاکستان میں یہ کوشش کریں گے۔ کہ گلگت بلتستان آئینی پیکیج کے ذریعے وحدتِ کشمیر کو نقصان پہنچنے کا جو خطرہ سامنے آیا ہے اُسے دور کیا جائے،کشمیر پالیسی جسے مشرف دور میں غداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے رول بیک کر دیا گیا تھا اُسے نئے سرے سے انقلابی بنیادوں پر استوار کیا جائے اور امریکہ میں قید معصوم اور بے گناہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے قومی پالیسی تشکیل دی جائے۔
Tags: دنیا کی خبریں , پاکستان
عوام کو مہنگائی، بے روزگاری، غربت اور امن وامان کے مسائل درپیش ہیں جن سے آنکھیں نہیں چرا سکتا۔ سید یوسف رضا گیلانی
March 6th, 2010 · No Comments
پارٹی کارکنوں کی قیادت پر تنقید جائز ہے لیکن اس کیلئے میڈیا یا گلی محلوں کی بجائے پارٹی پلیٹ فارم کو استعمال کرنا چاہئے
پنجاب حکومت سے شکایات درست ہیں لیکن مفاہمتی پالیسی کے باعث کارکن صبروتحمل کا مظاہرہ کریں، پنجاب میں پارٹی کو مضبوط کیاجائیگا
دہشت گردی کے باوجود دنیاپاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے تیار ہے۔ وزیراعظم کا پارٹی عہدیداروں سے خطاب
لاہور۔وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ عوام کو مہنگائی، امن وامان، بے روزگاری، غربت اور دیگر مسائل درپیش ہیں جنہیں حکومت چھپا نہیں سکتی۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کارکنوں کی پارٹی قیادت اور حکومت کی کارکردگی سے متعلق تشویش جائز ہے تاہم کارکنوں کو یہ تشویش اور تنقید میڈیا اور گلی بازاروں میں نہیں بلکہ پارٹی پلیٹ فارم پر ہی کرنی چاہئے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور میں پارٹی عہدیداروں سے گفتگو اور ان کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر پارٹی کے سیکرٹری جنرل جہانگیر بدر ، پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر رانا آفتاب احمد خان، لاہور کے صدر اصغر گجر اور دیگر عہدیداران بھی موجود تھے۔ کارکنوں نے پنجاب میں مخلوط حکومت سے شکایات کے انبار لگادیئے اور وزیراعظم سے کہا کہ صوبہ میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی مخلوط حکومت ہونے کے باوجود پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو کسی سطح پر بھی اکاموڈیٹ نہیں کیا جارہا۔ صوبہ میں وزیراعلی اور اس کی ٹاسک فورسوں کا دور ہے جبکہ پیپلز پارٹی کے کارکنوں کومسلسل نظر انداز کیا جارہا ہے یہی سلسلہ جاری رہا تو کارکن بددلی کا شکار ہوجائیں گے۔ جبکہ ملازمتوں کے کوٹے میں بھی پی پی پی کا حصہ نہیں دیا گیا اور بیوروکریسی ہماری بات سننے کو تیار نہیں ہے۔ وزیراعظم نے پیپلز پارٹی کے عہدیداروں اور کارکنوں کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی میں مفاہمت کی سیاست کو فروغ دے رہی ہے جس کیلئے قربانیاں بھی دی جارہی ہیں۔ انہوں نے کارکنوں سے کہا کہ وہ مفاہمت کی سیاست کی خاطر صبر وتحمل کا مظاہرہ کریں ان کے تمام مسائل کو حل کیا جائے گا۔ انہوں نے کارکنوں سے کہا کہ ہماری پنجاب میں تمام تر توجہ پارٹی کو مضبوط بنانے پر ہونی چاہئے۔ پارٹی کارکن اگر موجودہ قیادت کے پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے نظریات سے روگردانی کرتے ہیں تو یہ ان کا حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ کارکنوں کو صدر، وزیراعظم اور پارٹی عہیداروں کے حوالے سے تحفظات ہوسکتے ہیں لیکن ذوالفقار علی بھٹو، محترمہ بے نظیر بھٹو اور پارٹی کے بارے میں انہیں کوئی تحفظات نہیں ہیں کیونکہ آج ہم پارٹی کی بدولت ہی اس مقام پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کارکن اور عہدیدار صرف تنقید ہی نہ کریں بلکہ مسائل کے حل کیلئے تجاویز بھی دیں۔ انہوں نے پارٹی کارکنوں سے کہا کہ وہ اپنی قیاادت کو اپنے نظریہ سے ہٹنے کی صورت میں بھی نشاندہی کریں۔ انہوں نے کہا کہ میں تسلیم کرتا ہوں کہ عوام کو مہنگائی، امن وامان، بے روزگاری اور غربت سمیت دیگر مسائل درپیش ہیں ہم ان مسائل کو چھپا نہیں سکتے ہمیں ان کا حل تلاش کرنا ہے۔ انہوں نے کارکنوں کو تجویز دی کہ وہ پارٹی قیادت پر تنقید پارٹی اجلاس میں کریں میڈیا یا گلی بازاروں میں نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ میں پارٹی عہدیداروں سے باقاعدگیس ے ملاقاتیں کروں گا اور انہیں وزیراعظم ہاؤس بھی بلاؤں گا۔ ہمیں پنجاب میں پارٹی کو مضبوط کرنا ہے جس کیلئے کارکن ضلع اور ڈویژن کی سطح پر تجاویز دیں کہ یہ ذمہ داریاں کن لوگوں کو سونپی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے کارکن کو پارٹی کی دفاع، فنانس، داخلہ، نیوکلیئر، ایجوکیشن اور خارجہ پر پالیسی سے باخبر ہونا چاہئے۔ بدقسمتی سے ہم ایسا نہیں کرسکے۔ انہوں نے کہا کہ کیبنٹ کو وہی فیصلے کرنے چاہئیں جو پارٹی کے فیصلے ہوں۔ جب بھی کوئی مسئلہ درپیش ہوتا ہے میں صدر اور پارٹی کے شریک چیئرمین کو سی ای سی یا فیڈرل کونسل کا اجلاس بلانے کا مشورہ دیتا ہوں جس سے فوری طور پر پارٹی کو کسی بھی ایشو پر اپ ڈیٹ کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہر ماہ پہلے جمعہ کو باقاعدگی سے ریڈیو پر خطاب کیا کریں گے تاکہ عوام اور دنیا کو حکومتی پالیسیوں سے آگاہ کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا وجود بھی ملک کی خارجہ پالیسی کی وجہ سے عمل میں آیا تھا جب ذوالفقار علی بھٹو نے خارجہ پالیسی پر اختلاف کی وجہ سے وزارت خارجہ سے استعفیٰ دے کر نئی پارٹی کی بنیاد رکھی اوریہ اختلاف مسئلہ کشمیر کے بارے میں پالیسی پر تھا۔ کارکنوں کو پارٹی کی کشمیر پالیسی سے مکمل آگاہی ہونی چاہئے۔وزیراعظم نے کہا کہ پنجاب، کشمیر اور گلگت وبلتستان میں بھی پارٹی کو منظم کریں گے۔ اختلاف رائے جمہوریت کی روح ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے باوجود دنیا پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کیلئے لائنوں میں لگی ہوئی ہے کسی کے ماننے یا نہ ماننے سے فرق نہیں پڑتا۔ دنیا مان رہی ہے کہ آج جو لوگ دہشت گردی کو سپورٹ کریں گے عوام ان کو سپورٹ نہیں کریں گی۔
Tags: پاکستان
ملک بھر میں پولیس تشدد کے واقعات بارے خصوصی رپورٹ وزارت داخلہ کو موصول
March 6th, 2010 · No Comments
اسلام آباد ‘ ملک بھر میں پولیس کی جانب سے مجرموں پر تشدد کے واقعات اکثر رپورٹ ہوتے رہتے ہیں تاہم ملک میں گزشتہ ڈیڑھ برس کے عرصے کے دوران صرف تیرہ پولیس اہلکاروں کو تشدد کے جرم میں محکمانہ کارروائی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ذرائع کے مطابق وزارت داخلہ کے کرائسز مینجمنٹ کو موصول ہونی والی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران پنجاب اور سندھ کے تھانوں میں قائم شکایات سیل کی رپورٹ پر تیرہ اہلکاروں کو شوکاز نوٹس اور متنبہ کرنے کی سزائیں دی گئی ہیں جبکہ اس عرصے کے دوران بلوچستان اور صوبہ سرحد سے پولیس تشدد کی کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی۔ ملک بھر کے تھانوں میں ایسے رابطہ افسران تعینات کیے گئے ہیں جن کی ذمہ داری میں شامل ہے کہ وہ رات گئے تک تھانوں میں بیٹھیں اور پولیس کے زیرِحراست افراد سے پوچھ گچھ کریں کہ اْنہیں کس جْرم میں تھانے میں لایا گیا ہے۔کسی بھی تھانے میں ملزم پر تشدد یا رشوت لینے یا کوئی بے قاعدگی ہونے کی صورت میں رابطہ افسران متعقلہ ضلع کے پولیس سربراہ کو تحریری طور پر آگاہ کرتے ہیں جس کے بعد ذمہ دار پولیس اہلکاروں کو شوکاز نوٹس کے علاوہ دیگر معمولی سزائیں بھی دی جاتی ہیں۔اسلام آباد پولیس میں سنہ دوہزار چار سے دوہزار چھ تک تھانوں میں رابطہ افسران تعینات کیے گئے تھے اور یہ رابطہ افسران انسپکٹر اور سب انسپکٹر رینک کے تھے۔ مذکورہ مدت کے دوران ان پولیس رابطہ افسران کی طرف سے ضلعی پولیس افسر کو تھانے میں ملزمان پر ہونے والے پولیس کے تشدد یا رشوت ستانی کی ایک بھی رپورٹ نہیں دی گئی۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ضلعی پولیس افسران کے دفاتر میں بھی شکایات سیل قائم ہیں جہاں پر ایک اطلاع کے مطابق پولیس گردی کی متعدد شکایات درج کروائی جاتی ہیں لیکن ان شکایات پر بہت کم عمل درآمد ہوتا ہے۔ ملک کے مختلف تھانوں میں مصالحتی کمیٹیاں بھی قائم کی گئیں تاہم یہ کمیٹیاں مختلف نوعیت کے دیوانی مقدمات اور لین دین کے تنازعوں کو نمٹانے میں پولیس کی معاونت کرتی تھیں۔پولیس ذرائع کے مطابق چونکہ مصالحتی کمیٹی میں شامل افراد متعلقہ تھانے کے انچارج کی مشاورت سے لیے جاتے تھے اس لیے مصالحتی کمیٹی کا کوئی بھی رکن تھانوں میں زیرِ حراست افراد پر ہونے والے پولیس تشدد کی رپورٹ اعلی افسران کو نہیں دیتا تھا۔صوبہ پنجاب میں زیرِ حراست ملزمان پر پولیس تشدد کی حالیہ تصاویر اور ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد چاروں صوبوں میں واقع پولیس سٹیشنوں اور بالخصوص صوبہ پنجاب کے پولیس سٹیشنوں میں قائم شکایات سیل میں تعینات افسروں کو اْن کے عہدوں سے ہٹا کر متعلقہ پولیس ہیڈ کوراٹرز میں رپورٹ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ان پولیس افسران کو اپنی رپورٹ مرتب کر کے متعلقہ ضلعوں کے پولیس سربراہوں کو جمع کروانے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔ وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق اگرچہ ان پولیس اہلکاروں کی تعیناتی کے ضمن میں کوئی واضح احکامات نہیں تھے لیکن اسلام آباد سمیت چاروں صوبوں کی پولیس کے سربراہوں نے انتظامی طور پر یہ اقدام اْٹھایا ہے۔ان پولیس افسران کو شہری حدود میں واقع پولیس سٹیشنوں میں تعینات کیا گیا تھا جبکہ دیہی اور دور دراز علاقوں میں واقع تھانوں کے انچارج ہی رابطہ افسر کا کردار ادا کرتے تھے۔سندھ پولیس کے سابق سربراہ افضل شگری کا کہنا ہے کہ پولیس میں چیک اینڈ بیلنس کا نظام موثر نہ ہونے کی وجہ سے پولیس اہلکار اپنی حدود سے تجاوز کر رہے ہیں۔ بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’پولیس کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے مانیٹرنگ ٹیمیں تو بنائی گئی ہیں لیکن ان ٹیموں کی کارکردگی میں تسلسل نہ ہونے کی وجہ سے پولیس اپنے امور بہتر طور پر انجام نہیں دے رہی‘۔سابق آئی جی کا کہنا تھا کہ چونکہ اب پولیس اہلکاروں کی تنخواہوں میں اضافہ ہوچکا ہے اس لیے عوام کے جان و مال کے تحفظ کی ذمہ داری پولیس اہلکاروں پر زیادہ عائد ہوتی ہے۔سابق ایس پی پولیس جاوید محمود نے ملزمان پر پولیس تشدد کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ترقی یافتہ ملکوں میں شامل نہیں ہے جہاں پر ملزمان پولیس کو بتادیتے ہیں کہ اْنہوں نے یہ جْرم کیا ہے جس کے بعد پولیس کی جانب سے معمول کی کارروائی کرنے کے بعد مقدمے کی تحقیقات مکمل ہو جاتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ’چوری، ڈکیتی اور رہزنی کی وارداتوں میں ملوث افراد جب پولیس کے ہتھے چڑھتے ہیں اور اگر پولیس اْن سے پوچھے کہ حضور آپ نے یہ جْرم کیا ہے کہ نہیں تو پھر ایسے ملزمان کا جواب نفی میں ہی ہوگا‘۔جاوید محمود کا کہنا تھا کہ جب تک پولیس ملزمان کے ساتھ اپنے روایتی ہتھکنڈے استعمال نہ کرے اْس وقت تک نہ تو جرائم میں کمی واقع ہو سکتی ہے اور نہ ہی لوٹا ہوا مال برآمد ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسروقہ مال برآمد نہ ہونے کی صورت میں پولیس افسران تفتیشی افسران کو سزائیں دیتے ہیں تو ایسی صورت حال میں پولیس اہلکار کریں تو کیا کریں۔
Tags: پاکستان
میڈیا اور اپوزیشن حکومت پر تنقید کرتے ہوئے اخلاقیات اور حقائق کادامن نہ چھوڑیں۔سید یوسف رضا گیلانی
March 5th, 2010 · No Comments
آئین میں ترمیم کے حوالے سے قوم جلد خوشخبری سنے گی
انتخابات کے دوران کیے گئے عوام سے وعدے پورے کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں
وزیر اعظم کا ریڈیو پر قوم سے ماہانہ خطاب
اسلام آباد ۔وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے اپنی حکومت کی دو سالہ کارکردگی عوام کے سامنے پیش کرتے ہوئے میڈیا اور اپوزیشن سے کہا ہے کہ وہ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے اخلاقیات اور حقائق کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیں، آئین میں ترمیم کے حوالے سے قوم جلد خوشخبری سنیں گی ،انتخابات کے دوران کئے گئے عوام سے وعدے پورے کرنے میں کافی حد تک کامیاب ہوگئے ہیں۔وزیر اعظم نے گزشتہ شب ریڈیو پر قوم سے ما ہنامہ خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قوم کے ساتھ رابطے کو مزید قریبی اور مسلسل بنانے کے لئے میں نے ہر ماہ کے پہلے جمعہ کے دن شام 7 بجے آپ سے ریڈیو کے ذریعے براہ راست مخاطب ہونے کا فیصلہ کیا ہے، میری بھرپور کوشش ہو گی کہ آپ کو حکومت کی کارکردگی سے آگاہ کیا جائے اور ان اقدامات بارے میں اعتماد میں لیا جائے ۔اپنے خطاب میں حکومت کی دو ساکہ کارکردگی پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس دوران ہم نے نہ صرف اپنے انتخابی منشور میں کئے گئے وعدوں کی تکمیل کے لئے پیش رفت کی بلکہ ہم ان مسائل کو حل کرنے کے لئے بھی کوشاں رہے جو ہمیں ورثے میں ملے تھے۔ ان مسائل میں دہشت گردی، مہنگائی، بے روزگاری، سیاسی کشیدگی، ریاستی اداروں کے درمیان اعتماد کا فقدان، توانائی کا بحران، خوراک کی قلت، پڑوس میں رونما ہونے والے غیر متوقع واقعات کے پریشان کن اثرات، معاشی عدم استحکام، صنعتی پیداواری انحطاط، امن و امان کی غیر تسلی بخش صورت حال اور عوام میں پایا جانے والا عدم اطمینان انتہائی قابل ذکر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے ہم سے بے پناہ امیدیں اور توقعات وابستہ کر رکھی ہیں ،ہم نے حکومت کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد درپیش مسائل کو حل کرنے کے لئے جو ترجیحات مقرر کیں، ا آج ہم اپنی کوششوں میں بڑی حد تک کامیاب ہو چکے ہیں، دہشت گردوں کی کمر توڑ دی گئی ہے۔ پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے ان عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا۔انہوں نے کہاکہ وہ وقت زیادہ دور نہیں جب ہم اپنی سرزمین کو دہشت گردوں سے پاک کر دیں گے ۔ دہشت گردی کے واقعات سے ملکی معیشت کو شدید نقصان پہنچا، امن و امان کی خراب صورت حال سرمایہ کاری کے امکانات کے لئے حوصلہ شکنی کا باعث بنتی ہے اور خاص طور پر غیر ملکی سرمایہ کار آنے سے گریز کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی سے نجات حاصل کر کے معیشت کی صورت حال بہتر بنایا جا رہا ہے، قوم کے اتحاد اور تعاون سے ہم اس آزمائش سے بھی سرخرو ہو کر نکلیں گے۔انہوں نے کہاکہ غریبوں کی مالی امداد کے لئے حکومت نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور وسیلہ حق پروگرام کا اجراء کیا،رمضان المبارک اور عیدین کے موقع پر حکومت نے یوٹیلٹی سٹورز کے ذریعے 3ارب روپے سے زائد کی سبسڈی فراہم کی۔ اسی طرح سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ کیا گیا۔ مزدوروں کی کم از کم اجرت 4600روپے سے بڑھا کر 6000روپے کر دی گئی۔ بے نظیر ایمپلائز سٹاک آپشن سکیم کے تحت 80سرکاری اداروں کے 5لاکھ سے زائد ملازمین میں 100ارب روپے سے زائد مالیت کے حکومتی حصص مفت تقسیم کئے گئے ۔ بے روزگاری کے مسئلہ کو حل کرنے کے لئے حکومت نے تمام برطرف شدہ ملازمین کو بحال کیا ۔ بے روزگاری کے خاتمے کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ پرائم منسٹر انٹرن شپ پروگرامکے تحت اس وقت 43000تعلیم یافتہ نوجوان اس سے مستفید ہو رہے ہیں۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اس وقت ہمارے پاس ملکی ضرورت کے مطابق گندم کا ذخیرہ موجود ہے، چینی کی مصنوعی قلت دور کرنے کے لئے تسلی بخش انتظامات کئے جا چکے ہیں،پانی اور بجلی کے مسائل بلاشبہ اہم ہیں لیکن حکومت ان کو مستقل طور پر حل کرنے پر یقین رکھتی ہے۔ سیاسی جماعتیں اور ماہرین اس ضمن میں اپنی قابل عمل تجاویز فراہم کریں۔ملک میں سیاسی اعتبار سے ایسی خوشگوار فضاء موجود ہے کہ حکومت اور اپوزیشن ملکی مسائل حل کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے سیاسی کشیدگی کو مفاہمت کے جذبہ اور فلسفہ سے تبدیل کر دیا ہے۔ ریاستی ادارے اپنے اپنے دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔آئین اورپارلیمنٹ کی بالادستی کا پختہ عزم کر رکھا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ طالع آزماؤں نے 1973کے متفقہ آئین کا چہرہ مسخ کیا۔ہم اس کو بھی ٹھیک کر رہے ہیں۔قوم بہت جلد یہ خوشخبری بھی سن لے گی۔انہوں نے کہا کہ ہماری نیت اوردامن صاف ہے اور ضمیر مطمئن ہے ،قوم کو درپیش مسائل حل کرنے کے دوران بعض سخت فیصلے بھی کئے مگر وقت نے ثابت کر دیا کہ وہ فیصلے ملک و قوم کے وسیع تر مفادات میں ناگزیر تھے ۔انہوں نے کہا کہ ہم میڈیا اور اپوزین کی تنقید کا برا نہیں مناتے بلکہ اس سے اپنی اصلاح کا کام لیتے ہیں لیکن تنقید کرنے والوں کا بھی فرض ہے کہ وہ اخلاقیات اور حقائق کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیں۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ آئینی اور جمہوری تقاضوں کے مطابق ہم عوام کی طرف سے دئیے گئے مینڈیٹ کے مطابق اپنی آئینی مدت پوری کرنے کے بعد ایک بار پھر عوام کے سامنے پیش ہوں گے جو ہمارا اور ہماری حکومت کا احتساب کرنے کے مجاز ہیں۔ عوام کا فیصلہ ہی معتبر، صائب اور آخری فیصلہ ہوا کرتا ہے جسے دل و جان سے قبول کریں گے ۔
Tags: پاکستان
۔17 ویں ترمیم کا 23 مارچ سے پہلے خاتمہ کر دیا جائے گا ۔ پنجاب حکومت نے 80 بلین روپے کا خسارہ پیدا کر کے صوبہ کا بیڑہ غرق کر دیا ہے ۔سلمان تاثیر
March 5th, 2010 · No Comments
صدر ہٹاؤ مہم والے سن لیں وہ 2018 ء تک صدر رہیں گے ، پیپلز پارٹی وفاق کی علامت باقی علاقائی جماعتیں ہیں
زرداری پاکستان کھپے کا نعرہ نہ لگاتے تو ملک ٹوٹ چکا ہوتا ، نواز شریف جھوٹ بولنا چھوڑ دیں میں سچ بولنا بند کر دوں گا
جھنگ۔گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے جھنگ سے تقریبا 40 کلو میٹر دور روڈوسلطان کے مقام پر 66 کروڑ 90 لاکھ روپے مالیت کے منصوبہ سوئی گیس کی فراہمی کا افتتاح کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم امن و محبت کا پیغام لیکر نکلے ہیں اور ترقیاتی کاموں کے ذریعے بے روزگاری اور غربت کا خاتمہ کرنے کے لئے عملی اقدامات کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے سوائے کھوکھلے نعروں کے اور کچھ نہ کیا ہے ۔ گندم کا ریٹ 950 روپے فی من ہم نے کیا پنجاب حکومت نے کچھ نہیں کیکا بلکہ دس گنا زیادہ خرچہ کر کے سوائے رائے ونڈ کو ابوظہبی بنانے کے اور کوئی کام نہیں کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم عوام کی خدمت کر رہے ہیں بلکہ کچھ لوگ صدر ہٹاؤ مہم چلا رہے ہیں جبکہ میں صدر ہٹاؤ مہم چلانے والوں پر واضح کرنا چاہتا ہوں کہ صدر آصف علی زرداری 2013 تک نہیں بلکہ 2018 ء تک صدر رہیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ میں بات کرتا ہوں تو کہتے ہیں کہ ماحول گھڑا جبکہ نواز شریف آصف زرداری سے مسلسل دشمنی کا ثبوت دیتے ہوئے انہیں جمہوریت دشمن قرار دے رہے ہیں ۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کے امیدوار حلقہ پی پی 82 میں انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گیارہ سال جیل میں گزارنے والا اور سب کو ساتھ ملا کر مخلوط حکومت بنانے والی جمہوریت کا دشمن ہے یا ملک چھوڑ کر جانے والا ۔ انہوں نے کہا 23 مارچ سے قبل 17 ویں ترمیم ختم کر دیں گے اور اس کا باقاعدہ اعلان 23 مارچ کے دن کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی وفاق کی علامت ہے جبکہ باقی سب جماعتیں علاقائی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ 1973 ء کا آئین پیپلز پارٹی کا تحفہ ہے جس پر تمام سیاسی جماعتیں اور پورا پاکستان متفق ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم عوام کی ترقی اور خوشحالی کے لئے بلوچستان سمیت کئی بڑے پیکج لیکر آئیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کی شہادت تک تین دن ملک میں کچھ نہیں تھا اگر ہم یعنی آصف علی زرداری پاکستان کھپے کا نعرہ نہ لگاتے تو آج ملک ٹوٹ چکا ہوتا ۔ انہوں نے کہا کہ آصف زرداری نے پاکستان کی سلامتی کا نعرہ لگایا۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف جھوٹ بولنا بند کر دیں میں سچ بولنا بند کردوں گا ۔ انہوں نے کہا کہ مانسہرہ اور گلگت بلتسان میں ہارنے والے پنڈی کیلئے بڑا شو رمچا رہے ہیں حالانکہ وہاں تو ہم نے ہلکی سی پھونک ہی ماری تھی جس پر شیخ رشید نے اتنے ووٹ لئے اگر ہم وہاں مقابلے میں ہوتے تو آج وہاں نتائج کچھ اور ہوتے ۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے صوبہ میں 80 بلین کا خسارہ پیدا کر کے بیڑہ غرق کر دیا ہے ۔پنجاب میں تین ماہ تک فوڈ سٹمپ سکیم چلا کر 6 ارب روپے لوٹ لئے گئے اور سستی روٹی کے نام پر تندوروں سے پیسہ کھایا جا رہا ہے ۔ 30 ہزار روپے فی تندور سے آدھے پیسے ن لیگ والے لے جاتے ہیں ۔ اس موقع پر سینئر وزیر پنجاب راجہ ریاض احمد اٹھارہ ہزاری کو تحصیل کا درجہ دینے کا اعلان کیا اور کہا کہ چاروں صوبوں میںبلدیاتی الیکشن مشاورت سے ہونگے جس پر مشاورت جاری ہے جلد ہی وقت کا تعین کر لیں گے ۔
Tags: پاکستان
پولیس کو تھرڈ ڈگری استعمال کرنے کی بجائے سائنسی بنیادوں پر تفتیش کرنے کا حکم ، کسی کو غیر قانونی کام کی اجازت نہیں دی جا سکتی
March 5th, 2010 · No Comments
تھانوں میں چھتر مارنے والوں کو آئندہ ملازمت سے فارغ کر دیا جائے گا ، جلال پور بھٹیاں کے واقعہ میں ایم پی اے ملوث ہوا تو اس کی قیادت ایکشن لے گی ۔ آئی جی پنجاب
پولیس نے جن افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا وہ سنگین وارداتوں میں ملوث تھے ، میڈیا کی وجہ سے ہم ان واقعات پر ایکشن لینے پر مجبور ہوئے ہیں۔طارق سلیم ڈوگر کی پریس کانفرنس
لاہور۔آئی جی پنجاب طارق سلیم ڈوگر نے کہا ہے کہ پولیس کا جذبہ چاہے جتنا بھی نیک ہو پولیس کو غیر قانونی کام کی اجازت نہیں دی جا سکتی ۔ انہوں نے کہا کہ جلال پور بھٹیاں، چنیوٹ اور جوہر ٹاؤن لاہور کے واقعات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں بعض اوقات پولیس اہلکاروں کو مدعی اور افسران کے دباؤ کے باعث بھی ملزمان پر تھرڈ ڈگری تشدد کرنا پڑتا ہے ۔ جلال پور بھٹیاں کے واقعہ میں ایم پی اے ملوث ہوا تو اس کی قیادت ایکشن لے گی ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ آئی جی نے کہا کہ چنیوٹ میں تھانہ کی بجائے سڑک پر ملزمان پر تشدد کیا گیا جس پر انہوں نے ایس ایچ او تھانہ کے خلاف ایف آئی آر اور ڈی ایس پی کو معطل کرنے کا حکم دے دیا جبکہ ڈی پی او سے 15 روز کے اندر واقعہ کی رپورٹ طلب کر لی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ پولیس تشدد کے واقعات سے عوام میں پولیس سے خوف و ہراس پیدا ہوا ہے حالانکہ پولاس کا کام عوام کو تحفظ فراہم کرنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان واقعات میںملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات درج کرنے کا حکم دیا ہے تا ہم میرے اس حکم پر بعض پولیس اافسران نے اسے نا مناسب قرار دیا ہے کہ اس سے پولیس کے مورال کو نقصان پہنچے گا ۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کا کام وہی ہونا چاہیے جس کے لئے یہ محکمہ وجود میں آیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کی وجہ سے ہم ان واقعات پر ایکشن لینے پر مجبور ہوئے ہیں تا ہم انہوں نے دعوی کیا کہ اگر چہ ماضی میں بھی پولیس تشدد کے ایسے واقعات ہوتے رہے ہیں تا ہم اب ان میں کمی آئی ہے اور مستقبل میں اور کم ہوں گے ۔ انہوں نے کہا کہ جلال پور بھٹیاں میں جن تین ملزمان پر تشدد کیا گیا ان میں سے دو قتل، ڈکیتی اور اغوا برائے تاوان کے ریکارڈ یافتہ ملزمان ہیں جبکہ تیسرا ملزم بھی موٹر سائیکل چھینتے ہوئے رنگے ہاتھوں پڑا گیا ہے ۔ واقعہ کی تحقیقات کے لئے میں نے فوری طور پر ڈی آئی جی گوجرانوالہ اور ڈی پی او کو موقع پر بھیج دیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ لاہور میں جن تین واقعات کا میڈیا نے ذکر کیا ان میں سے دو پولیس مقابلوں کے واقعات میں کوئی پولیس اہلکار گناہ گار نہیں پایا گیا جبکہ جوہر ٹاؤن کے واقعہ کی تحقیقات جاری ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی پنجاب نے بھی اجلاس میں پولیس کے تفتیشی نظام کو شفاف بنانے کی ہدایت کی ہے ۔ اس مقصد کے لئے ریجن اور ضلع کی سطح پر پولیس پبلک کمیٹیاں بنائی جا رہی ہیں تا کہ پولیس کے غیر قانونی اقدامات کا تدارک کیا جا سکے ۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں ایسے واقعات میں ملوث بہت سے اہلکاروں کو ملازمت سے فارغ کیا جا چکا ہے ۔ حکومت کی پہلی ترجیح عوام کو امن و امان اور انصاف فراہم کرنا ہے۔ اسی وجہ سے مالی مساول کے باوجود پولیس ملازمین کی تنخواہوں میں بھی اضافہ کیا گیا ۔ انہو ں نے کہا کہ 50 فیصد سے زائد پولیس فورس کو ان واقعات پر عام شہریوں کی طرح ہی غم میں وہ پہلے مسلمان پھر شہری اور اس کے بعد پولیس ملازم ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بعض اوقات پولیس کو مدعی اور افسران کے دباؤ پر بھی ملزمان پر تشدد کرنا پڑتا ہے ۔ جلال پور بھٹیاں کے واقعات میں شائد ایم پی اے بھی ملوث ہو تا ہم اس بارے میں الگ سے انکوائری کی جا رہی ہے ۔ ایسا ہوا تو اس کے خلاف اس کی سیاسی قیادت ہی ایکشن لے گی ۔ انہوں نے کہا کہ جلل پور بھٹیاں میں جن پانچ ملزمان پر تشدد کیا گیا ان پر تشدد کے لئے ہزاروں افراد نے تھانہ کو گھیرے میں لے لیا تھا اور بعد میں پولیس کے حق میں جلوس بھی نکالا اس کے باوجود میں اس واقعہ کو درست نہیں سمجھتا ۔ پولیس کو ہر صورت قانون کے دائرہ کے اندر ہی رہنا چاہیے ۔ ملزمان سے مجھے سوالات اور جواب کے ذریعے بھی انہیں حقائق اگلنے پر مجبور کیا جاسکتا ہے جو تشدد سے زیاہ موثر طریقہ ہے ۔ اس مقصد کے لئے پولیس اہلکاروں کو ٹریننگ کورس بھی کرائے جا رہے ہیں ۔
Tags: پاکستان
مزدور اور ہاری کسی کے نوکر نہیں بلکہ وہ ادارے کے شراکت دار ہیں۔۔۔۔آصف علی زرداری
March 5th, 2010 · No Comments
ورکنگ کلاس کا استحصال کیا جاسکے گا نہ ہی انہیں ملازمتوں سے فارغ کیا جاسکے گا
صدر مملکت کا آرڈنینس2000ء اور سروسز ٹریبونل کے ترمیمی ایکٹ پر دستخط کرنے کے بعد وزیر اعلیٰ ہاؤس میں منعقدہ تقریب سے خطاب
کراچی۔صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ حکومت ورکنگ کلاسز کے حقوق محفوظ رکھتے ہوئے کاروبار کیلئے موافق ماحول بناکر پاکستان کی ترقی و خوشحالی کیلئے کام کررہی ہے۔ مزدوروں سے انکاچھینا گیا حق واپس کر دیا ہے۔ مزدور اور ہاری کسی کے نوکر نہیں بلکہ وہ اس ادارے کے شراکت دار ہیں۔ پیپلز پارٹی نے مزدوروں کو اس سے بھی آگے بڑھ کر سرکاری اداروں کا حصہ دار بنایا اور بلا معاوضہ 10 فیصد شیئرز مزدوروں کو دیئے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو آرڈنینس2000ء اور سروسز ٹریبونل کے ترمیمی ایکٹ پر دستخط کرنے کے بعد وزیر اعلیٰ ہاؤس میں منعقدہ تقریب سے خطاب میں کیا۔اس موقع پر ان کے ہمراہ قائم مقام گورنر سندھ نثار کھوڑو، وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ، اسپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا، وفاقی وزیر محنت و افرادی قوت سید خورشید شاہ، صوبائی وزراء، اراکین قومی و صوبائی اسمبلی سمیت دیگر بھی موجود تھے۔ان دستاویزات پر دستخط کے بعد مزدوروں کو ملازمتوں سے جبری برخاست نہیں کیا جاسکے گا۔صدر زرداری نے کہا کہ ان قوانین کی بدولت ورکنگ کلاس کا استحصال کیا جاسکے گا نہ ہی انہیں ملازمتوں سے فارغ کیا جاسکے گا۔سروسز آرڈنینس کے تحت ملازمین کو ملازمتوں سے فارغ کرنا اتھارٹیز کو آمرانہ حقوق دینے کے مساوی تھا اور ملازمین کے بنیادی حقوق کے بھی خلاف تھا۔سروسز ٹریبونل ایکٹ1973ء کے سیکشن2کے تحت ملازمین سے لیبر کورٹس اور نیشنل انڈسٹریل ریلیشن کمیشن میں جانے کا حق چھین لیا گیا۔انہوں نے تمام سیاسی قوتوں سے درخواست کی کہ قومی مفاد کیلئے ہاتھ ملائیں اور ورکنگ کلاسز کے استحصال سے انہیں محفوظ بنانے کیلئے مشتر کہ جدوجہد کی جائے۔پارٹی ویژن کے عین مطابق حکومت کی جانب سے پی ایس او اور او جی ڈی سی ایل کے ورکرز کو 10 فیصد حصص دئے گئے ہیں۔اس اسکیم کی بدولت 80 پبلک سیکٹر اداروں کے5 لاکھ ملازمین مستفید ہوں گے۔ اس موقع پر حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ میں شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بینظیر بھٹو کی فلاسافی کا امین ہوں اور ملک کے مزدوروں، ہاریوں اور محنت کشوں کی عزت، ان کے حقوق اور انہیں ملک میں اہم مقام دلانے کیلئے بھرپور کوششیں کرتارہوں گا۔انہوںنے کہاکہ شہید ذوالفقارعلی بھٹو نے پاکستان کے غریب عوام، مزدوروں، کسانوں اور محنت کشوں کے حقوق کیلئے طویل جدوجہد کی اور اس ضمن میں اسلامی سوشلزم کی بنیاد پر معیشت کو استوار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اب مغربی دنیا کے ممالک نے بھی اسلامی معاشی نظام کے اثرات کو محسوس کرلیا ہے اور کئی ممالک نے بینکس قومی ملکیت کو محسوس ملکیت میں لیکرمعیشت کے اقدار کو اپنایا ہے۔صدر پاکستان نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے ہاریوں کے حقوق، مزدوروں کے حقوق، خواتین کے حقوق بلکہ ہر طبقہ فکر کے لوگوں کے حقوق کیلئے جدوجہد کی اور یہی فلسفہ بھٹو ازم ہے جسے ہم آگے بڑھاتے جائیں گے۔ انہوںنے مزید کہاکہ ذوالفقار علی بھٹو نے غریب کے بیٹوں کیلئے ایک فلاسفی بنائی اور اس کی پی ایچ ڈی مرتب کی جس میں ایک باب میں مزدوروں، ہاریوں اور محنت کشوں کے حقوق کا تعین کیا اور بھٹو ازم کے ذریعے نئے پاکستان کی تعمیر کی۔ انہوں نے اپنے پروگرام پر آہستہ آہستہ عمل کرنا شروع کیا لیکن غریب دشمن قوتوں اور آمروں نے شہید بھٹو کی طرف سے مزدوروں کی بھلائی کے قوانین میں دیئے گئے حقوق کو غصب کردیا جبکہ وہ آج ان حقوق کو مزدوروں، کسانوں، محنت کشوں کو واپس کررہے ہیں۔ صدر مملکت کہا کہ پیپلز پارٹی اور شہید بھٹو کا فلسفہ غریبوں کے حقوق کا فلسفہ ہے اور شہید بینظیر بھٹو کا پاکستان میں آنے کا مقصد اس فلسفہ بھٹو ازم کو بحال کرانا اور غریب عوام کی عزت نفس کو بحال کرانا تھا۔ انہوں نے کہاکہ کالے قوانین کے خاتمے سے محنت کشوں کے حقوق بحال ہوگئے ہیں اور ہمیں اس بات کا تعین کرنا ہے کہ اب آگے کیسے چلنا ہے۔ اب پاکستان میں مزدور صنعتکار کا نوکر نہیں رہا بلکہ شریک دوست ہے جبکہ ہاری زمیندار کا نوکر نہیں رہا بلکہ شراکتدار ہے پارٹنر ہے۔ انہوں نے کہاکہ اسی بنیاد پر حکومت نے تمام انڈسٹری میں مزدوروں کا حصہ شیئر مقرر کیا ہے جبکہ ہاریوں کو شراکت کی بنیاد پر حقوق دیئے ہیں۔ صدر پاکستان نے واضح کیا کہ حکومت کا مقصد صرف یہ نہیں ہے کہ اس کی صرف اچھی بیلنس شیٹ ہونی چاہئے بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ مزدوروں کے گھر کا بھی چولہا جلتا رہے۔ انہوں نے کہاکہ مزدوروں، ہاریوں، محنت کشوں کے حقوق ہوتے ہیںجن کے دینے سے انڈسٹری چلتی ہے، زراعت چلتی ہے اور ملک چلتا ہے اور یہ محنت کش کسی کے نوکر نہیں رہے۔ انہوں نے صنعتکاروں اور زمینداروں سے واضح کیا کہ ان قوانین کا مقصد صنعتکاروں اور مزدوروں کے درمیان کسی قسم کا اختلاف یا تضاد پیدا کرنا نہیں بلکہ ان کے درمیان پارٹنرشپ کا جذبہ اور تعلق مضبوط کرنا ہے کیونکہ پیپلز پارٹی پرو- انڈسٹریز ) صنعتکاری کی حامی( ہے پرو- ہاری) ہاریوں کی حامی( ہے پرو- لیبر ) مزدوروں کی حامی( ہے اور سب سے بڑھ کر پرو پاکستان ) پاکستان کی حامی( ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگر مزدور اور کسان، محنت کش اور پسینہ بہانے والا خوش ہوگا تو ملک میں صنعتکاری کا شتکاری ترقی کریگی۔ صدر آصف علی زرداری نے اعلان کیا کہ موجودہ حکومت ملک میں نئی انڈسٹریل آئیزیشن کو آگے بڑھائیں گی اور ایک نئے سسٹم کے ذریعے حکومت سندھ زمین مفت دیگی جس سے حکومت کا شیئر قائم ہوگا، گیس کمپنی گیس دیگی، بجلی کا ادارہ بجلی فراہم کریگا، تو ان کے بھی شیئر ہونگے اور اس نئی پالیسی کو پورے ملک میں، صوبہ سندھ میں، صوبہ بلوچستان میں، صوبہ پنجاب میں اور صوبہ سرحد میں نافذ کرینگے کیونکہ اسلامی سوشلزم کی پالیسی بہتر اقتصادی پالیسی ہے، کیونکہ یہ پروگرام اب رکنے والا نہیں بلکہ آگے بڑھتا ہی جائے گا۔ انہوں نے مزید واضح کیا کہ یہ ہم سیاسی ورکروں کا فرض ہے کہ ہم مزدوروں ، ہاریوں اور محنت کش طبقے کے حقوق کا تحفظ کریں۔ صدر مملکت نے اپنی تقریر کا آغاز جیئے بھٹو سے اور اختتام پاکستان کھپے کے نعرے سے کیا۔اس سے قبل وفاقی وزیر محنت و سمندر پار پاکستانیز خورشید احمد شاہ نے اپنی خطبۂ استقبالیہ میں کہا کہ آج موجودہ حکومت صدر مملکت اور شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی قیادت میں محترمہ بینظیر بھٹو کا وعدہ پورا کررہی ہے جو انہوںنے کالے قوانین کے خاتمے کیلئے، مزدوروں کو حقوق دینا اور غریبوں کو روزگار فراہم کرنا پیپلز پارٹی کے منشور کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ شہید بھٹو اور شہید بینظیر بھٹو نے یہ تہیہ کیا ہوا تھا کہ مزدور کا بچہ مزدور نہیں رہے گا بلکہ وہ ڈاکٹر انجنیئر، پی ایچ ڈی بنے گا۔ سید خورشید احمد شاہ نے کہاکہ حکومت نے پاکستان ورکرز ویلفیئر فنڈ قائم کیا ہے جس سے مزدوروں کے فلاح کا کام کیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ مزدور ہمیشہ اپنی صحت کے حوالے سے پریشان رہتے ہیں اب حکومت نے ایک نوٹیفکیشن کا اجراء کیا ہے جس کے تحت جن اسپتالوں میں سہولتیں نہیں ہونگی تو مزدوروں کے علاج کیلئے پاکستان کی بڑی سے بڑی اسپتال میں خرچہ ادا کیا جائے گا۔ انہوںنے کہاکہ موجودہ حکومت شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بینظیر بھٹو کے خوابوں کی تکمیل کریگی۔ انہوںنے کہاکہ وفاق کی طرح حکومت سندھ نے صوبے کے اداروں میں نکالے گئے مزدوروں کو بحال کرنے کے لئے اسمبلی میں بل پیش کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت اپنے پروگرام کے مطابق آگے بڑھ رہی ہے۔اس تقریب میں قائم مقام گورنر سندھ نثار احمد کھوڑو، وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ ، اسپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا، وفاقی و صوبائی وزراء، اراکین قومی و سندھ اسمبلی، مشیروں، معاونین خصوصی، لیبر یونینز، پیپلز یونٹی، یوتھ، پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن، پیپلز پارٹی کے کارکنوں کے علاوہ متحدہ قومی موومنٹ، عوامی نیشنل پارٹی اور فنکشنل مسلم لیگ کے وزرا و اراکین نے بڑی تعداد میں شرکت کی
Tags: پاکستان
قربانیوں کے بعد بحال ہونے والی جمہوریت کو سازشوں کی نظر نہیں ہونے دیں گے ۔ ۔ ۔ قمر زمان کائرہ
March 5th, 2010 · No Comments
سیاسی عمل کو غیر مستحکم کرنے والے ملک و قوم کے خیر خواہ نہیں
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات کی صحافیوں سے گفتگو
سرائے عالمگیر۔وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ جمہوریت ملک میں بڑی قربانیوں کے بعد بحال ہوئی اسے سازشوں کی نذر نہیں ہونے دیں گے ۔ تمام سازشوں کا مقابلہ کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔ تمام ریاستی ستونوں کا احترام پیپلز پارٹی کی بنیادی حکمت عملی میں شامل ہے ۔ قیادت و کارکنوں نے عدلیہ کی آزادی کے لیے ماضی میں بھی قربانیاں دیں اور آئندہ بھی کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے ۔پیپلز پارٹی نے ہمیشہ ہی ریاستی ستونوں کے درمیان مشاورت کے مقصد اور تعمیر ی عملی کو فروغ دیا ہے یہی جمہوریت کا حسن ہے اور دستور پاکستان میں بھی واضح ہے کہ مسائل و مشکلات گفت و شنید سے حل کیے جائیں ۔انھوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی ملک کو بحرانوں سے نکالنے کے لیے جس سیاسی بصیرت اور دانشمندی کا مظاہرہ کر رہے ہیں وہ انہیں شہید قائد ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بے نظیر بھٹو سے ورثہ میں ملی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ ہم بھٹو ازم کے وارث ہیں اور شہید قائد کے مشن کے آگے لے کر بڑھ رہے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار قمر زمان کائرہ نے سرائے عالمگیر میں میاں طاہر اقبال کی رہائش گاہ پر صحافیوں اور معززین علاقہ سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام ہی ہماری سب سے بڑی طاقت ہے جس کے بل بوتے پر ہم ایوانوں میں پہنچے ۔ انھوں نے کہا کہ پی پی پی کی حکومت وطن عزیز اور عوام کے تابناک اور روشن مستقبل کے لیے کوشاں ہے ۔ جمہوریت کے استحکام کے لیے مفاہمتی پالیسی اپناتے ہوئے اور جمہوری اقدار کی مضبوطی کے لیے تمام جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہتی ہے ۔ سیاسی عمل کو غیر مستحکم کرنے والے لوگ ملک وقوم کے خیر خواہ نہیں منتخب عوامی حکومت کے خلاف سازشیں کرنے والے سازشی عناصر اپنی موت آپ مرجائیں گے ۔ موجودہ منتخب حکومت انشاء اﷲ اپنی موجودہ آئینی مدت پورا کرے گی بلکہ عوامی حمایت سے مستقبل بھی ہمارا ہو گا ۔ قمر زمان کائرہ نے کہا کہ جمہوریت ملک میں بڑی قربانیوں کے بعد بحال ہوئی اسے سازشوں کی نذر نہیں ہونے دیں گے ۔ تمام سازشوں کا مقابلہ کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ پی پی پی ملک کے آئین کے محافظ ہے اس پر آنچ نہیں دے گی ۔ انھوں نے کہا کہ موجودہ حکومت آئین میں رہتے ہوئے تمام امور انجام دے رہی ہے جب تمام ادارے اپنی حدود میں مقید ہوں تو اداروں کے درمیان تصادم کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔qa….nn….ik
Tags: پاکستان
این آر او زدہ حکومتی اکابرین کو عدالتوں میں مقدمات کا سامنا کر نا چاہیے۔ ۔ ۔ وجہیہ الدین
March 5th, 2010 · No Comments
چکوال۔سابق صدارتی امید وار اور ممتازقانون دان جسٹس (ر) وجیہہ الدین احمد نے کہا کہ سپریم کورٹ میں ججوں کی تقرری کے لیے جوڈیشل کمیشن کا سٹنگ ووٹ چیف جسٹس آف پاکستان کو دیا جانا ضروری ہے ۔ اس طرح سے ججوں کی تقرری سو فیصد میرٹ پر یقینی بنائی جا سکے گی وہ کراچی سے چکوال پریس کلب میں ٹیلی فونک گفتگو کر رہے تھے ۔ جسٹس (ر) وجیہہ الدین احمد نے مزید کہا کہ اگر دوسری تجویز یہ ہے کہ ان چھ ممبران میں سے اس صوبے کے دو سینئر ترین ہائی کورٹ کے جج صاحبان بھی شامل کر لیے جائیں جس صوبے سے سپریم کورٹ میں ججوں کی تقرری ہونی ہے تو اس سے بھی ایک تو اس صوبے سے عدلیہ کی نمائندگی بھی ہو جائے گی اور آزد عدلیہ کا استحقاق بھی واضح اور نمایاں ہو جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن میں چھ ممبران کو موجودگی میں چونکہ تین ممبران عدلیہ سے ہوتے ہیں اور تین باہر سے جس میں وفاقی وزیر قانون اٹارنی جنرل اور پاکستان بار کونسل کا نمائندہ ہے اس میں کسی بھی معاملے پر تین تین کا ڈیڈ لاک پیدا ہونے سے معاملات ڈیڈ لاک کا بھی شکار ہو سکتے ہیں لہذا عدلیہ کو ایک مضبوط ادارہ بنانے کے لیے قوم اب ایسے ڈیڈ لاک کی متحمل نہیں ہو سکتی لہذا کاسٹنگ ووٹ چیف جسٹس آف پاکستان یا پھر مذکورہ دو سینئر ترین ہائی کورٹ کے جج صاحبان جس صوبے سے سپریم کورٹ میں تقرری ہوتی ہے وہ نا مزد کیے جائیں۔ جسٹس (ر) وجیہہ الدین احمد نے مزید کہا کہ افتخار محمد چوہدری سمیت ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان اور موجودہ جج صاحبان کی موجودگی میں کسی غلط آدمی کی اعلیٰ عدلیہ میں تقرری تقریباً نا ممکن ہے مگر باریک بینی کے ساتھ آنے والے حالات کا جائزہ لیا جائے تو یہ موجودہ جج صاحبان ساری عمر تو نہیں رہ سکتے لہذا بحیثیت ادارہ اب یہ سب معاملات جوڈیشل کمیشن میں طے کر دیئے جانے چاہیں۔ این آر او پر حکومت کی طرف سے عملدرآمد کرانے کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے جسٹس (ر) وجیہہ الدین احمد نے کہا کہ اب یہ معاملات زیادہ عرصہ چلنے والے نہیں این آر او کی زد میں آنے والے حکومتی اکابرین کو چاہیے کہ وہ عدالتوں کا سامنا کریں اس وقت تو ہر چیز ان کے کنٹرول میں ہے اور جس طرح وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک بھی بری ہو گئے ہیں اور حکومتی اکابرین جو این آر او کی زد میں ہیں وہ اپنی صفائی لائیں گے تو کوئی وجہ نہیں کہ آزاد عدلیہ ان کو بے گناہ ثابت نہ کرے۔
Tags: پاکستان



