Urdu News-Online Urdu Newspaper

The 3rd Largest Online Urdu Newspaper

Urdu News-Online Urdu Newspaper header image 4
Pages: Prev 1 2 3 ...53 54 55 56 57 58 59 ...178 179 180 Next

وزیر اعظم نے توانائی بچاؤ مہم کے نتائج کا جائزہ لینے کے لئے 10 مئی کو اجلاس طلب کر لیا

May 8th, 2010 · No Comments

اجلاس میں چاروں صوبوں ے وزراء اعلیٰ اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام شریک ہوں گے

اسلام آباد۔وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے توانائی بچاؤ مہم کے نتائج کا جائزہ لینے کے لئے 10 مئی کو اسلام آباد میں اجلاس طلب کر لیا ہے توانائی بچاؤ مہم کے نتائج کا جائزہ لینے کے لئے اس اجلاس میں چاروں صوبوں ے وزراء اعلیٰ اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام شریک ہوں گے۔ اجلاس میں اس بات کا جائزہ لیا جائے گا توانائی کانفرنس میں بجلی کی بچت کے جو اہداف مقرر کئے گئے تھے وہ کیوں حاصل نہیں ہو سکے توانائی کانفرنس میں بچت مہم کے ذریعے 2200 میگا واٹ بجلی بچانے کا دعویٰ کیا گیا تھا لیکن کانفرنس کے فیصلوں پر عملدر آمد کے باوجود صرف ایک ہزار میگا واٹ بجلی بچ سکی ہے جس پر وزیر اعظم مطمئن نہیں ہیں۔

Tags: پاکستان

پاک بھارت وزراء اعظم کے درمیان مذاکرات خوش آئند اقدام ہے ، جرمنی

May 8th, 2010 · No Comments

دونوں ممالک کو اپنے مسائل خود حل کرنے اور تعلقات میں بہتری لانی چاہیے

بھارت کے لیے جرمن سفیر تھومس ماسک کی صحافیوں سے گفتگو

نئی دہلی۔بھارت میں تعینات جرمنی کے سفیر تھومس ماتوسک نے تھمپو میں پاک بھارت وزراء اعظم کے درمیان مذاکراتی عمل ایک خوش آئند اقدام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میںکمی آئے گی ۔ بھارت کا افغانستان میں اہم اور بنیادی کردار ہے اور وہاں پر بھارت اربوں ڈالر سرمایہ کاری کر رہا ہے ۔ غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق جرمنی کے سفیر تھومس ماتوسک نے کہا ہے کہ پاک بھارت راہنماوں کے درمیان مذاکرات ایک نہایت اچھا اقدام تھا پاکستان اور بھارت کو اپنے اپنے مسائل خود حل کرنے اور دونوں کو ایک دوسرے کے مسائل سن کر باہمی تعلقات میں بہتری لانی چاہیے ۔ جرمن سفیر نے بھارت میں ممبئی حملوں میں ملوث ملزم اجمل قصاب کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس معاملے پر کسی قسم کا تبصرہ کرنے سے قاصر ہیں ۔البتہ لوگوں کو انصاف فراہم کرنے کا بھارتی عدلیہ نے ایک اچھا اور مثبت اقدام اٹھایا۔ افغانستان کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں جرمن سفیر کا کہنا تھا کہ بھارت کا افغانستان میں تعمیری کردار ہے ۔ بھارت افغانستان میں مشکل صورت حال کے باوجود وہاں پر تعمیر و ترقی کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے ۔ سفیر کا مزیدکہنا تھا کہ افغانستان موجودہ حالات میں مشکلات کاسامنا کر رہا ہے اس لیے ہمیں افغان عوام کی ہر ممکن مددکرنی چاہیے جو سب سے اہم اورضروری ہے ۔

Tags: پاکستان , ہندوستان

بلوچ سردارو ں کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے خارج کئے جائیں گے‘وزیراعظم گیلانی

May 8th, 2010 · No Comments

بلوچستان کے عوام کے تحفظات دور کرکے انہیں قومی دھارے میں شامل کیا جائے گا

سر دار عطاء اللہ مینگل کے گھر پر بلوچ سرداروں سے ملاقات میں وزیر اعظم کی یقین دہانی

کراچی۔وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے بلوچستان کے تحفظات دور کر نے اور بلوچ سردارو ں کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے خارج کرنے کی یقین دہانی کرادی ہے،بلوچ قوم پرست رہنما سردار عطاء اللہ مینگل کے گھر پر بلوچ سرداروں سے ملاقات میں وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے عوام کے تحفظات دور کرکے انہیں قومی دھارے میں شامل کیا جائے گا۔ملاقات میں بلوچ رہنما نواب غنی تالپور نے وزیر اعظم کی توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ آغاز حقوق بلوچستان کے تحت بلوچ رہنماؤں کے نام ای سی ایل سے خارج کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی جس پر تاحال عمل درآمد نہیں ہو سکاہے،لہذا وزیر اعظم اپنے وعدے پر قائم رہتے ہوئے لسٹ سے نام خارج کریں۔وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی بلوچ قوم پرست رہنما سردار عطاء اللہ مینگل سے ون ٹو ون ملاقات بھی ہوئی ،ملاقات میں بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ، بلوچ سرداروں سے مقدمات کا خاتمہ اور حکومت سے مذاکرات شروع کے معاملات پر بات چیت کی گئی۔

Tags: پاکستان

پرویز مشرف اپنے گناہوں کے ڈر سے فرار ہوچکے اب وہ واپس پاکستان نہیں آئیں گے۔ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ

May 8th, 2010 · 1 Comment

ذاتی عناد کا شکار ہوئے بغیر عدلیہ کے فیصلوں کو تسلیم کرکے ان پر عمل کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ خواجہ محمد شریف گوجرانوالہ بار سے خطاب

گوجرانوالہ۔چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس خواجہ محمد شریف نے کہا ہے کہ عدلیہ آئین وقانون کے مطابق فیصلے کررہی ہے جنہیں تسلیم کرتے ہوئے ان پر دیانتداری سے عمل کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ کسی کو عدالتی فیصلوں پر ذاتی عناد کا شکار نہیں ہونا چاہئے۔ عدلیہ ٹکراؤ کی پالیسی نہیں چاہتی کیونکہ یہ ملکی مفاد میں نہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز یہاں گوجرانوالہ ٹیکس بار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے کہا کہ آج بھی عدلیہ کے خلاف سازشیں ہورہی ہیں جن کو ناکام بنانے کیلئے وکلاء کو جاگتے رہنا ہوگا۔ آج ملک میں عدلیہ کی آزادی وکلاء اور میڈیا کی تحریک اور قربانیوں کی وجہ سے ہے۔ ہم سب کو ملک کی بہتری کیلئے مل کر اس آزادی کا تحفظ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ نیچے سے لے کر اوپر تک عدلیہ کے تمام فیصلے آئین اور قانون کے مطابق ہورہے ہیں جن کے آگے سر تسلیم خم کرنا اور ان پر من وعن عملدرآمد کروانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ کو ٹکراؤ کی پالیسی پسند نہیں کیونکہ یہ ملک کیلئے بہتر نہیںتاہم عدلیہ کے سامنے جو بھی کیس آئے گا وہ اس پر دیانتداری سے آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کرتی رہے گی۔ ذاتی عناد کا شکار ہوئے بغیر ان فیصلوں کا احترام ہر شخص کی آئینی وقانونی ذمہ داری ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پرویز مرف اپنے گناہوں کے ڈر کی وجہ سے ملک سے فرار ہوئے ہیں اب وہ کبھی پاکستان واپس نہیں آئیں گے۔

Tags: پاکستان

عالمی برادری سیفٹی اور سیکورٹی خدشات دور اور پاکستان کو ایٹمی ریاست تسلیم کرے ، وزیر اعظم گیلانی

May 8th, 2010 · No Comments

پاکستان کے ایٹمی اثاثے محفوظ اور ذمہ دار ہاتھوں میں ہیں
مسلح افواج ملک کی سلامتی اور دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار اور کیل کانٹے سے لیس ہیں
عالمی برادری پاکستا ن کی اقتصادی اور توانائی کی صورت حال کے باعث پاکستان کے ساتھ سول نیوکلےئر تعاون کو فروغ دے تاکہ پاکستان توانائی کے بحران پر قابو پا سکے
وزیر اعظم کا دو بلیسٹک میزائلوں کے کامیاب تجربے کے موقع پر خطاب

کراچی ‘ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ عالمی برادری سیفٹی اور سیکورٹی کے خدشات دور کرے اور پاکستان کو ایٹمی ریاست تسلیم کرے۔ ہفتہ کو دو بلیسٹک میزائلوں کے کامیاب تجربے کے موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کامیاب تجربے پر سائنس دانوں اور انجینئروںکو مبارکباد دی اور اسٹیٹ آف دی آرٹ ویپن سسٹم کے آپریشن کے ہینڈلنگ کے طریقہ کار کو سراہا اور کہا کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثے محفوظ اور ذمہ دار ہاتھوں میں ہیں اور یہ کہ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کی بدولت وہ کسی بھی قسم کی جارحیت کا مقابلہ کر نے کا اہل ہے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ مسلح افواج ملک کی سلامتی اور دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار اور کیل کانٹے سے لیس ہیں ۔ انہوںنے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ پاکستا ن کی اقتصادی اور توانائی کی صورت حال کے باعث پاکستان کے ساتھ سول نیوکلےئر تعاون کو فروغ دے تاکہ پاکستان توانائی کے بحران پر قابو پا سکے اور اقتصادی ترقی کو بہتر بنا سکے ۔ وزیر اعظم نے مطالبہ کیا کہ عالمی برادری پاکستان کو ایٹمی ریاست تسلیم کرے کیونکہ پاکستان نے اپنے ایٹمی اثاثوں اور ایٹمی پروگرام کے حوالے سے ذمہ دار ریاست کا کردارادا کیا ہے اور اس کا موثر کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم موجود ہے

Tags: پاکستان

پاکستان کا دو بیلسٹک میزائلوں غزنوی اور شاہین ون کا کامیاب تجربہ

May 8th, 2010 · 2 Comments

تجربے کے دوران وزیر اعظم گیلانی ‘ جنرل طارق مجید اور ایڈمرل نعمان بشیر بھی موجود تھے ‘ آئی ایس پی آر
اسلام آباد ‘ پاکستان نے زمین سے زمین پر مار کرنے اور ایٹمی وار ہیڈ لے جانے والے دو بیلسٹک میزائلوں غزنوی اور شاہین ون کا کامیاب تجربہ کیا ہے ۔ آئی ایس پی آر کے مطابق زمین سے زمین پر مار کرنے والے غزنوی اور شاہین ون کم فاصلے کے میزائل ہیں ۔ غزنوی کی رینج 290 کلومیٹر اور شاہین ون کی ساڑھے 6 سو کلومیٹر ہے ۔ اس تجربے کے دوران وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی ‘ جنرل طارق مجید اور ایڈمرل نعمان بشیر بھی موجود تھے ۔ دونوں میزائلوں نے کامیابی سے اپنے اپنے اہداف کو نشانہ بنایا ۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ہمسایہ ممالک کو ان تجربات کے حوالے سے پہلے آگاہ کیا گیا تھا

Tags: بریکنگ نیوز , پاکستان

آئین ہی وہ بنیاد ہے جس پر ترقی وخوشحالی کی بنیاد کھڑی ہوتی ہے۔سید یوسف رضا گیلانی

May 7th, 2010 · No Comments

عوام تعاون کریں بجلی کے بحران پر جلد قابوپالیا جائیگا۔

افواج پاکستان کے دفاع کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں

امریکی صدر سمیت پوری دنیا نے ہمارے جوہری پروگرام پر موقف کو تسلیم کیا ہے اور ہمیں جوہری طاقت تسلیم کیا ہے

ملک میں گندم کی اچھی پیداوار ہوئی ہے ،بجلی کے بچت پلان کی وجہ سے 1 ہزار میگا واٹ بجلی کی بچت ہوئی ہے

ملک میں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کی قطعی اجازت نہیںد ی جائے گی اگرایساہوا تو اس کا سخت نوٹس لیا جائے گا

موجودہ حکومت ہی عوام کو اندھیروں سے نکالے گی حکومت نے 1973 ء کے آئین کو عوام اور سیاسی جماعتوں کی مدد سے اصل حالت میںبحال کردیا

وزیراعظم پاکستان کا ریڈیو پر قوم سے خطاب

اسلام آباد۔وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ آئین ہی وہ بنیاد ہے جس پر ترقی وخوشحالی کی بنیاد کھڑی ہوتی ہے عوام تعاون کریں بجلی کے بحران پر جلد قابوپالیا جائیگا۔ افواج پاکستان کے دفاع کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں امریکی صدر سمیت پوری دنیا نے ہمارے جوہری پروگرام پر موقف کو تسلیم کیا ہے اور ہمیں جوہری طاقت تسلیم کیا ہے ملک میں گندم کی اچھی پیداوار ہوئی ہے بجلی کے بچت پلان کی وجہ سے 1 ہزار میگا واٹ بجلی کی بچت ہوئی ہے ملک میں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کی قطعی اجازت نہیںد ی جائے گی اگرایساہوا تو اس کا سخت نوٹس لیا جائے گا موجودہ حکومت ہی عوام کو اندھیروں سے نکالے گی حکومت نے 1973 ء کے آئین کو عوام اور سیاسی جماعتوں کی مدد سے اصل حالت میںبحال کردیا ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے یہاں ریڈیو پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ وزیراعظم نے کہا کہ میں اس موقع پر قوم کو مبارک باد سے کرتا ہوں کہ ہم نے1973ء کے متفقہ آئینِ پاکستان کو 18ویں ترمیم کے ذریعے آمرانہ دور میں لگائے گئے بدنما دھبوں اور داغوں سے پاک کر دیا ہے۔ اس قابلِ فخر کامیابی کا سہرا عوام کے سر ہے جنہوں نے فروری2008ء کے انتخابات میں جمہوری قوتوں کو اپنے قیمتی ووٹ سے پارلیمان تک پہنچایا۔چند ناقدین اپنے TVپروگراموں اور میڈیا میں یہ سوال کرتے ہیں کہ اس سے عام آدمی کو کیا فائدہ پہنچا؟ ان کے مسائل میں کس طرح کمی ہو گی،میں یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ ان اصلاحات سے عوامی مسائل کے حل کے طریقہ کار کا تعین ہو گیا ہے۔ دنیا میںکبھی بھی ترقی ایک نظام کے بغیر ممکن نہیں، جہاں نظام نہیں ہوتا وہاں بد نظمی کا دور دورہ ہوتا ہے اور بد نظمی احوال میں بہتری نہیں بلکہ ابتری کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے قیام کے وقت جب ہر طرف مسائل ہی مسائل تھے، تب بھی قائدِ اعظم محمد علی جناح آئین سازی کو اولیت د یتے رہے۔کیونکہ آئین ہی مسائل کے حل اور درپیش چیلنجز Challengesکا مقابلہ کرنے کا طریقہ کار بتاتا ہے، اور یہی سیا سی استحکام،معاشی وسماجی ترقی کی جانب پہلا قدم ہے۔انہوں نے کہاکہ حقیقت میں آئین ہی وہ بنیاد ہے جس پر ملک اور قوم کے استحکام اور ترقی وخوشحالی کی عمارت کھڑی ہوتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں بجلی کی کمی کے سبب عوامی مشکلات سے بخوبی آگاہوں۔اس صورت حال کی سنگینی کا احساس کرتے ہوئے توانائی کانفرنس کا انعقاد کروایا ۔جس میںچاروں صوبائی وزراء اعلیٰ، محکمہ پانی و بجلی کے وزیر، تاجروں، صنعت کاروں، صارفین کے نمائندوں اور دیگرماہرین، IMF، سابقہ چیئرمین WAPDA،اور وزیرِ پٹرولیم کا اسلام آباد میں اجلاس بلایااور ان کو پابند کیا کہ وہ اس مسئلے کا قابلِ عمل حل نکالیں۔اس مشاورت کے نتیجے میں بجلی کی کمی پر قابو پانے کے لئے چھوٹی، درمیانی اور طویل المدت جامع حکمتِ عملی طے کی گئی ہے تاکہ نہ صرف پیداوار میںاضافے کے منصوبے بنائے جائیں بلکہ بجلی کی غیر منصفانہ اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کو ختم کیا جا سکے۔ملک میں بیروز گاری کے خاتمے اور پیداوار میں اضافے کے لئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ تمام صنعتی اداروں اور زرعی ٹیوب ویلوں کو ہفتے میں 5 دن بلا تعطل بجلی فراہم کی جائے گی اور یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ تمام مارکیٹوں کو رات 8بجے بند کر دیا جائے۔اس کے علاوہ تمام سرکاری اداروں میں ہفتہ وار 2 چھٹیوں کا اعلان کیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ نہیں ہو گی اور اس سلسلے میں کسی قسم کی کوتاہی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔حکومت کے ان اقدامات سے مجموعی طور پر 1000میگا واٹ بجلی کی بچت ہوئی ہے ۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ 1000میگا واٹ کی پیداواری صلاحیت کوبڑھانے کے لئے تقریبا 4سال کا عرصہ اور1.5ارب ڈالر کا سرمایہ درکار ہوتا ہے مگرہماری حکمت عملی سے چند دنوں میں 1000میگا واٹ کی بچت ہوئی۔جس سے کسی حد تک مسئلہ پر قابو پانے میں مدد ملی۔بجلی کا بحران ایک قومی مسئلہ ہے اور اس کا حل بھی پوری قوم کی مشترکہ کوشش اور تعاون کے بغیر ممکن نہیں۔ہم ایک زندہ قوم ہیں اور ہمیں بحرانوں کا مقابلہ کرنا آتا ہے۔ہماری قوم ہر آزمائش میں ہمیشہ سرخرو ہوئی ہے۔میں قوم کے ہر فرد سے توقع کرتا ہوںکہ وہ بجلی کی بچت میں حکومتی کوششوں کا ساتھ دے گا۔میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آپ کی حکومت اس مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے کے لئے سنجیدگی اور نیک نیتی سے کوشاں ہے۔پہلے بھی PPPحکومت نے ہی بجلی کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کیا تھا اور انشاء اللہ اس مرتبہ بھیPPPحکومت دوبارہ قوم کو اندھیروں سے چھٹکارا دلائے گی۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ ماہ امریکہ میںNuclear Summitکے دوران میں نے اقوامِ عالم پر یہ واضح کیا کہ پاکستانی ایٹمی پروگرام دفاعی اور پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔میں نے اُن کو باور کرایا کہ ہمارا ایٹمی پروگرام انتہائی محفوظ ہے اس سر براہ کانفرنس میں شریکعالمی رہنماؤں بشمول امریکی صد ر باراک حسین اوبامہ نے خصوصی طور پر پاکستان موقف کی تائید کی ۔پاکستان کی اس کانفرنس میں شرکت بذاتِ خود اس حقیقت کی آئینہ دار تھی کہ دنیا نے ہماری ایٹمی حیثیت کو تسلیم کر لیا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی مہربانی اور ہمارے سائنسدانوں کے ذمہ دارانہ کردار کی وجہ سے آج تک کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ میں نے امریکی صدر اور دیگر سربراہانِ مملکت و حکومت سے ملاقات کے دوران بھی پاکستان کو ایٹمی ٹیکنالوجی کی فراہمی پر قائل کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ انھوں نے پہلی دفعہ ہمارے موقف کو غور سے سنا۔ مجھے اُمید ہے کہ ان ممالک کے رویے میں جلد تبدیلی آئے گی اور ایٹمی ٹیکنالوجی کے حصول میں حائل رکاوٹوں کو ختم کردیا جائے گا۔ میں پچھلے ہفتے سارک کانفرنس کے سلسلے میں بھوٹان گیا تھا۔وہاں پردیگر سارک ممالک کے سربراہان حکومت کے علاوہ بھارت کے وزیرِ اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ سے میری نہایت مفید ملاقات ہوئی۔میں نے ان پر واضح کیا کہ ہمارے پورے خطے کو دہشت گردی کا سامنا ہے۔ پاکستان کے عوام اورہماری بہادر افواج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے خطے کے امن کی جنگ لڑ رہے ہیں اوراس ضمن میں ہم نے بیش بہا قربانیاں دی ہیں۔میں نے بھارتی وزیر اعظم پر واضح کیا کہ خطے کے پائیدار امن کے لئے مذکرات ناگزیر ہیں۔ملاقات کے دوران وزیرِ اعظم منموہن سنگھ نے میری اس بات سے اتفاق کیا اور تمام دو طرفہ معاملات کو جامع مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔مجھے امید ہے کہ یہ مذاکرات نتیجہ خیز ثابت ہوں گے اور تمام دیرینہ مسائل بشمول جموں و کشمیر کے حل کا راستہ تلاش کیا جا سکے گا۔ ہماری مسلح افواج نے ’’عزمِ نو ‘‘مشقیں کرکے ایک بار پھر ثابت کردیا ہے کہ ہمارا ملک اپنی سرحدوں کی حفاظت بخوبی کر سکتا ہے اورکسی بھی جارحیت کا موئژ جواب دے سکتا ہے ہمار ے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دہشت گردو ں کی کمر توڑ دی ہے اور وہ وقت زیادہ دور نہیں جب ہمارے ملک میں مکمل امن قائم ہو جائے گا۔اب قوم کے ہر فرد کا فرض ہے کہ وہ اپنے علاقے میں مشکوک افراد اور ان کی حرکات سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو فوراً مطلع کریں تاکہ اس ملک سے جلد از جلد دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جاسکے اور ہم ملک میں معاشی ترقی، تعلیم اور دیگر مسائل کے حل کی طرف یکسوئی سے توجہ دے سکیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس سال گندم کی بیجائی اور بڑہوتری کے وقت بارشیں بہت کم ہوئیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی مہربانی اور ہمارے کسانوں کی محنت سے ملک میں گندم کی اچھی پیداوار ہوئی ہے۔میں تمام وفاقی اور صوبائی اداروں کو ہدایت کرتا ہوں کہ وہ گندم کی خریداری میں کسی تساہل کا شکار نہ ہوں اورکسانوں کو ان کی فصل کا معاوضہ بر وقت ادا کیا جائے۔آئینی حکومت نے پچھلے دو سالوں میں ملک کو درپیش بڑے مسائل پر اللہ تعالیٰ کی مہربانی ، عوام کے تعاون اور سیاسی قوتوں کے اشتراک سے قابو پالیا ہے۔ہماری حکومت ملکی تاریخ کی پہلی حکومت ہے جس نے Public Accounts Committee کے ساتھ بھر پور تعاون کیا اور اس تعاون کے نتیجے میں ہی 40ارب روپے کی وصولی ممکن ہوئی۔جمہوری حکومت کی کوششوں سے ہی قوم کی عظیم لیڈر، محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے قتل کا سراغ لگانے کے لئے پیش رفت ہوئی۔اس سلسلے میں اقوام متحدہ کمیشن کی رپورٹ منظر عام پر آ چکی ہے۔مجھے اس حوالے سے عوام کے جذبات کا بخوبی احساس ہے۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں ہماری شہید لیڈر کے قاتل اپنے انجام سے بچ نہیں سکیں گے ، بی بی شہید کا خون ضرور رنگ لائے گا۔ آئندہ تین سالوں میںہماری حکومت عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لئے کوشاں رہے گی ۔ اس وقت ملک کو توانائی کی کمی کے علاوہ بے روزگاری، صنعتی پیداوار اور سرمایہ کاری میں جمود اور پانی کی کمی جیسے بڑے مسائل درپیش ہیں۔ حکومت نے اس سلسلے میں کئی اقدامات کئے ہیں اور آئندہ ہفتوں میں اس سلسلہ میں مزید پیش رفت ہوگی۔ میں نے وزارتِ خزانہ کو بتادیا ہے کہ آئندہ مالی سال کا بجٹ غریب پرور بجٹ ہونا چاہیے۔ ہم نے چند دن پہلے نئی مزدورپالیسی کا بھی اعلان کیا ہے جس کا مقصد ملک میں محنت کش اور مزدور ساتھیوں کے حالاتِ کار اور معیار زندگی کو بہتر بنانا ہے۔ ہماری حکومت نے مزدور کی کم سے کم اجرت کو 6 ہزار روپے سے بڑھا کر7 ہزار روپے کردیا ہے اور اس کی ادائیگی کو یقینی بنانے کیلئے ادائیگی بذریعہ بنک کی شرط عائد کر دی ہے۔ محنت کشوں کی بیٹیوں کے لیے شادی گرانٹ کو70 ہزار روپے تک بڑھا دیا، اس کے ساتھ یہ سہولت دو کے بجائے تمام بیٹیوں کے لیے ہوگی۔ مزدور پالیسی پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے ضلعی ، صوبائی اور وفاقی سطح پر سہ فریقی مانیٹرنگ کمیٹیاں قائم کی جائیں گی۔ یہ کمیٹیاں مزدور، مالکان اور حکومتی نمائندوں پر مشتمل ہوں گی جومل کر لیبر لاز پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں گے۔ اس کے علاوہ نئی لیبر پالیسی میں محنت کشوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کئی دیگر اقدامات بھی اُٹھائے ہیںجن کا اعلان یکم مئی کو ہو چکا ہے۔میں اپنی تقریر کا اختتام اس دعا کے ساتھ کرتا ہوں کہ ربّ العزت ہمیں ملک و قوم کی خلوص نیت اور دیانت داری سے خدمت کرنے کے لیے ہمت اور رہنمائی عطا کرے۔ (آمین)

Tags: پاکستان

سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے قتل کے حوالے سے ‘ پرویز مشرف کے خلاف درخواست قلمبند

May 7th, 2010 · No Comments

پرویز مشرف کے خلاف سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے قتل کی درخواست کے 7مدعیان نے ایف آئی اے اور جوائنٹ انوسٹی گیشن گروپ کے روبرو اپنے بیانات قلمبند کروا دئیے

راولپنڈی۔سابق صدر جنرل(ر)پرویز مشرف کے خلاف سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے قتل اور سانحہ لیاقت باغ کی ایف آئی آر درج کر انے کے لئے تھانہ سٹی پولیس کو دی گئی درخواست کے 7 میں سے دو مدعیان نے ایف آئی اے کی خصوصی جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم اور سپیشل انوسٹی گیشن گروپ کے روبرو اپنے بیانات قلمبند کروا دئیے ہیں۔27دسمبر 2007 کو سانحہ لیاقت باغ سے قبل پیپلز پارٹی کے جلسہ عام میں جانثاران بے نظیر بھٹو کے 100 رکنی خصوصی سکیورٹی سکواڈ میں شامل پی ایس ایف پنجاب کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری ضمیر شاہ اور ڈویژنل صدر ایاز پپو نے بطور عینی شاہد اپنے بیان ریکارڈ کروائے ۔ پی ایس ایف کے دونوں عہدیداران جمعہ کے روز سواگیارہ بجے سے ساڑھے پانچ بجے تک ایف آئی اے کی تحقیقاتی ٹیم کے روبرو موجود رہے۔ جہاں پر ان کے تفصیلی بیانات نے گاڑی کے سن روف کا ہینڈل لگنے سے بے نظیر بھٹو کی موت واقع ہونے کے عمل کو ایک بار پھر مشکوک بنا دیا ہے۔ ان بیانات کے تحت جلسہ کی سیکورٹی پر مامور پولیس افسران اور انتظامیہ کے کر دار پر بھی نئے سوالات اٹھنے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔ ایف آئی اے کی جو ائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم کے سر براہ خالد قریشی،اسسٹنٹ ڈائریکٹرز اصغر جتوئی اور شعیب احمد پر مشتمل3 رکنی ٹیم کے روبرو اپنے بیان قلمبند کرواتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ 27 دسمبر 2007 کو لیاقت باغ میں بے نظیر بھٹو کے انتخابی جلسہ میں سیکورٹی کے لئے پی وائی او اور پی ایس ایف کے محترک کارکنوں اور عہدیداروں پر مشتمل جانثاران بے نظیر بھٹو کا 100 رکنی خصوصی دستہ ترتیب دیا گیاتھا۔ جس کی ذمہ داری صرف سٹیج کے نیچے اور ارد گرد سیکورٹی کو فول پروف رکھنا اور غیر متعلقہ افراد کی آمدورفت کو سختی سے روکنا تھا۔جبکہ مذکورہ دونوں افراد بھی جانثاران بے نظیر بھٹو کے اس حفاظتی دستے میں شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ100 رکنی اس حفاظتی دستے کو جو خصوصی پاس جاری کئے گئے تھے ان پر سیکورٹی انچارج و بے نظیر بھٹو کے سابق پروٹوکول افسر چوہدری اسلم اور پی ایس ایف کے راہنما ملک خالد نواز بوبی کے دستخط تھے۔ جلسہ کے وقت بے نظیر بھٹو کی پولیٹیکل سیکرٹری ناہید خان اور صفدر عباسی کی ڈی ایس پی سٹی سرکل اشتیاق شاہ کے ساتھ تلخ کلامی ہو گئی جس کو بنیاد بنا کر اشتیاق شاہ اور ایس پی سی آئی اے رانا شاہد جو جلسہ کی سر کاری سیکورٹی کے بھی ذمہ دار تھے سٹیج کے قریب سے ہٹ کر باہر چلے گئے۔جلسہ کے اختتام پر بے نظیر بھٹو کی روانگی کے وقت وہ دونوں سانحہ لیاقت باغ میں جاں بحق ہو نے والا کارکن آصف ثمر کے ہمراہ بے نظیر کی گاڑی کے ساتھ دوڑ رہے تھے جب بے نظیر بھٹو کی گاڑی لیاقت روڈ پر واقع احاطہ لیاقت باغ کے مرکزی دروازے سے باہر نکلی تو بائیں جانب پولیس کی سر کاری گاڑیاں کھڑی کر کے سڑک بلاک رکھی گئی تھی جس پر جو نہی بے نظیر بھٹو کی گاڑی نے دائیں مڑنے کے لئے رخ تبدیل کیا تو 50 کے قریب نا معلوم افراد کا ایک گروپ اچانک گاڑی کے ارد گرد ہو گیا اسی اثناء میں لیدر جیکٹ اور کالی عینک پہنے ایک شخص نے پستول نکال کر 3 فائر کئے۔ جسے پہلے ہم پارٹی کا رکن سمجھتے رہے لیکن فائرنگ کی آواز سے ہلکی افراتفری پھیلی اور بے نظیر بھٹو ایکدم گاڑی کے اندر گر گئی ۔ہوائی فائرنگ کر نے والے شخص کے عقب میں موجود خود کش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ایاز پپو نے تحقیقاتی ٹیم کو بتایا کہ اس دھماکے سے اس کے سر پر بھی زخم آئی جس سے خون بہہ رہا تھا۔ جبکہ میرا ایک جوتا بھی بھگدڑ میں اتار گیا اس دوران ایس ایس پی آپریشنز یاسین فاروق نے درخت کی اوٹ سے کہا کہ باہر مت جانا دوسرا دھماکہ بھی ہو سکتا ہے۔ تاہم بڑے سانحہ کے بعد ہمیں اپنے زخموں کی پرواہ نہ تھی۔ انہوں نے ٹیم کو بتایا کہ بے نظیر بھٹو کو گاڑی میں 5بجکر35منٹ پر راولپنڈی جنرل ہسپتال لایا گیا جبکہ ان سے 5 منٹ بعد 5بجکر40 منٹ پر ہم بھی ہسپتال پہنچ گئے، جہاں پر بے نظیر بھٹو کو ابتدائی طور پر ایمر جنسی کے ڈرلینگ روم میں رکھا گیا تھا تاہم ان کی روح خالق حقیقی سے جا ملی تھی۔بعد ازاں جب انہیں بالائی منزل پر واقع آپریشن تھیٹر پہنچایا جانے لگا تو لفٹ خراب تھی اور مختلف افراد نے مل کر ان کو اوپر تک پہنچایا ہسپتال میں صفدر عباسی ،ناہید خان ، این رضوی ان کا ذاتی ملازم رزاق جو بے نظیر بھٹو کا ذاتی پرس(شولڈر بیگ)بھی پکڑے ہوئے تھا اور وہ سب رو رہے تھے جبکہ ہم نے دیکھا کہ ناہید خان جو بے نظیر بھٹو کی گاڑی میں ان کے ساتھ سوار تھیں ان کی قمیص خون میں لت پت تھی۔ انہوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کو لیاقت باغ لانے کے لئے تو پولیس سکوارڈ موجود تھا تاہم واپسی کے وقت ان کے ساتھ ایلیٹ فورس اور پنجاب پولیس کا کوئی سیکورٹی سکواڈ موجود نہ تھا۔ایف آئی اے کی 3 رکنی ٹیم نے پی ایس ایف کے دونوں عہدیداروں کا بیان ریکارڈ کر نے کے بعد دیگر مدعیان کے بیان ریکارڈ کر نے کے لئے کاروائی موخر کر دی ہے۔

Tags: پاکستان

جرمنی پاکستانی مصنوعات یورپی منڈیوں تک رسائی کے لیے کوششیں جاری رکھے گا

May 7th, 2010 · No Comments

توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے پاکستان کو متبادل ذرائع استعمال کرنے چاہیں

پاک بھارت تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے حامی ہیں

افغانستان کو معاشی و جمہوری طور پر مستحکم دیکھنا چاہتے ہیں

پاکستان میں جرمن سفیر ڈاکٹر مائیکل کوخ کا نیشنل پریس کلب میں میٹ دی پریس سے خطاب

اسلام آباد۔پاکستان میں جرمنی کے سفیر ڈاکٹر مائیکل کوخ نے کہا ہے کہ جرمنی پاکستانی مصنوعات کی یورپی منڈیوں تک رسائی کے لیے کوششیں جاری رکھے گا۔ بجلی آسمان سے نازل نہیں ہو گی ۔توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے پاکستان کو متبادل ذرائع استعمال کرنے چاہیں۔ پاک بھارت تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے حامی ہیں ۔افغانستان کو معاشی و جمہوری طور پر مستحکم دیکھنا چاہتے ہیں۔ اقبال کو جرمنی کی یونیورسٹیوں میں بھی پڑھایا جاتا ہ ۔ جرمنی خود مختار ملک ہے ۔امریکہ کی تقلید نہیں کرتے ۔ دہشت گردی کے خلاف قربانیوں پر پاکستانی قوم کو سلام کرتے ہیں۔ پاکستان جرمنی کا قابل اعتماد دوست ہے ۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے گزشتہ روز نیشنل پریس کلب میل’’میٹ دی پریس‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جرمن سفیر کا کہنا تھا ۔2005ء کے الیکشن کے بعد پاکستان میں جمہوری حکومت قائم ہوئی اور 18 ویں ترمیم جمہوریت کا احسن اقدام ہے ۔ پاکستان اور جرمنی کے تعلقات دوستانہ ہیں ۔ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کے گزشتہ دورہ جرمنی کے دورران متعدد معاہدوں پر دستخط کیے گئے ۔ پاکستان اور جمرنی کے تجارتی تعلقات 1967ء میں شروع ہوئے ۔ پاکستان یورپی یونین کا یونین کے باہر سب سے بڑا تجارتی حصہ دار ہے اور یورپی یونین میں جرمنی کی تجارت پاکستان کے ساتھ سب سے زیادہ 2.2 بلین ڈالر ہے ۔ جرمن سفیر نے کہا کہ پاکستان اور جرمنی کے ثقافتی تعلقات بھی بہت گہرے ہیں اور آپ کے قومی شاعر علامہ اقبال کو جرمنی کی یونیورسٹیوں میں پہنچایا جاتا ہے ۔انھوں نے کہا کہ 12 ہزار پاکستانی ہر سال جرمنی کا سفر کرتے ہیں اور 2 ہزار پاکستان میں توانائی کے بحران پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر مائیکل نے کہا کہ بجلی آسمان سے نہیں کرے گی بلکہ اسے پیدا کرنا ہو گا۔پاکستان کو اﷲ تعالیٰ نے گرم سورچ کی جاسکتی ہے۔ انھوں نے پاکستان میں ہوا و شمسی توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کی خواہش کا اظہار بھی کیا۔پاکستان اور بھارت کے تعلقات پر بات کرتے ہوئے ۔ انھوں نے کہا کہ جرمنی ، کشمیر سمیت پاک بھارت تمام تنازعات کومذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا حامی ہے ۔جرمنی سفیر نے دہشت گردی کے خلاف پاکستانی عوام کی قربانیوں کو سراہا اور انہیں سلام پیش کیا ۔ انھوں نے پاک فوج کی دہشت گردی کے خلاف آپریشن کوسراہا۔ افغانستان کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جرمنی افغانستان کو معاشی اور جمہوری طور پر مستحکم دیکھنا چاہتا ہے جس کے لیے جرمنی نے افغانستان میں بہت بڑے ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کر رکھا ہے ۔ افغان پولیس فورس کو منزل کرنے کے لیے جرمنی کام کر رہا ہے ۔انھوں نے کہا کہ جرمنی خود مختار ملک ہے اور اپنے فیصلے خود کرتا ہے ۔ جرمنی امریکہ کی تقلید نہیں کرتا اورعراق میں ہم نے اپنی فوجیں نہیں بھیجیں۔

Tags: پاکستان

فیصل شہزاد کے معاملے میں امریکہ سے ہر طرح کا تعاون کیا جائے گا۔شاہ محمود قریشی

May 7th, 2010 · No Comments

امریکہ کا پاکستان کے ساتھ رویہ بہت متوازن ہے

میڈیا پر فیصل شہزاد کے معاملے میں مبالغہ آرائی سے کام لیا جا رہا ہے

بھارت کے بجٹ اجلاس کے بعد مذاکرات کی بحالی کے لیے رابطہ کیا جائے گا

وزیر خارجہ کی صحافیوں سے گفتگو

لاہور۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ فیصل شہزاد کے معاملے میں امریکہ سے ہر طرح کا تعاون کیا جائے گا ۔ امریکہ کا رد عمل بہت متوازن ہے ۔میڈیا پر فیصل شہزاد کے معاملے میں مبالغہ آرائی سے کام لیا جا رہا ہے ۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد پاکستان اپنا رد عمل ظاہر کرے گا ۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے معصوم شہری متاثر ہو رہے ہیں۔بھارت کے بجٹ اجلاس کے بعد مذاکرات کی بحالی کے لیے رابطہ کیا جائے گا ۔ مذاکرات تمام معاملات زیر بحث آئیں گے ۔ امریکہ سے ملنے والے اسلحے پر بھارت کو فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ۔ یہ دہشتگردی کے خلاف استعداد بڑھانے کے لیے استعمال ہو گا۔ امریکہ سے اسٹرٹیجک مذاکرات اگلے چند ماہ میں ہوں گے ۔ ہلیری کلنٹن مذاکرات کے لیے اسلام آباد آئیں گی ۔ان خیالات کا اظہار وزیر خارجہ نے لاہور ایئر پورٹ پر صحافیوں سے گفتگو میں کیا۔قریشی نے کہا کہ فیصل شہزاد کے بارے امریکی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد حکومت پاکستان اپنا موقف واضح کرے گی ۔ خدا کا شکر ہے ٹائم سکوائر پر ہونے والا واقعہ رونما نہیں ہوا ورنہ بہت سی معصوم جانیں اس سے متاثر ہوتیں ممکنہ واقعہ کی تحقیقات ہو رہی ہیں اور پاکستان کا واضح موقف ہے کہ ہم امریکہ سے مکمل تعاون کریں گے اور جو معلومات ہمارے پاس ہیں وہ امریکہ سے تبادلہ کی جائیں اور جو امریکہ کے پاس معلومات ہوں گی وہ پاکستان سے ان کا تبادلہ کرے گا۔ دونوں ممالک کا دہشتگردی کے خلاف ایک واضح اور یکساں موقف ہے ۔ ہماری افواج اور معصوم شہری دہشت گردی کے خلاف جنگ میں متاثر ہوئے ہیں ہم فیصل شہزاد کے معاملے میں مکمل تعاون کریں گے ۔امریکہ کی جانب سے فیصل شہزاد کے بارے میں بڑا متوازن موقف سامنے آ یا ہے ۔ ہم دونوں ممالک ایک دوسرے سے تعاون کر رہے ہیں اور یہ تعاون دونوں ممالک کی ضرورت ہے ۔ ہمارے معصوم شہری دہشت گردی کے خلاف جنگ میں متاثر ہوئے ہیں اگر امریکہ نے فیصل کے معاملے میں اس کے والدین سے تحقیقات کے بارے میں درخواست کی تومتعلقہ محکمہ اس پرغور کرے گا اور ہماری حکومت کا فیصلہ ہے کہ ہم امریکہ سے اس معاملہ میں تعاون کریں گے ۔میڈیا میں چلنے والی زیادہ تر خبریں مبالغہ آرائی اور قیاس آرائی پر مشتمل ہیں جب تک تحقیقات کے بعد معلومات ہم سے تبادلہ نہیں کی جائیں گی اس سے پہلے کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا ۔ بھارت سے مذاکرات کے بارے میں سوال پر وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت کے بجٹ سیشن کے بعد ان سے رابطہ کر کے مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھانے پر بات کی جائے گی ۔ جامع مذاکرات کے عمل میں تمام آٹھ ایشوز زیر غور لائیں گے ۔انھوں نے کہا کہ پاکستانء کو امریکہ سے ملنے والا اسلحہ دہشت گردی کے خلاف ہے ۔ بھارت کو اس سے پریشان نہیں ہونا چاہیے یہ دہشت گردی کے خلاف استعمال ہو گا۔ امریکہ سے اسٹرٹیجک مذاکرات اگلے دو ماہ کے درمیان ہوں گے اور امریکہ کی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن اسی سال گرمیوںمیںپاکستان کا دورہ کریں گی اور اسٹرٹیجک مذاکرات کی دوسری نشست اسلام آباد میں ہو گی ۔انھوں نے کہا کہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان دہشت گردی کے خلاف یکساں موقف ہے اورایک دوسرے کو گا ہے بگا ہے اعتماد میں لیتے رہتے ہیں۔ برطانیہ میں جو بھی نئی حکومت آئے گی ۔ اس سے پاکستان کے اچھے تعلقات ہوں گے ۔انھوں نے کہا کہ دہشت گردی کے کسی واقعہ کا تانا بانا پاکستان سے نہیں مل سکتا جب تک ہم خودموقعہ فراہم نہ کریں شاہ محمود قریشی نے جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کے بارے سوال پر کہا کہ ان کا موقف اس سلسلہ میں واضح ہے اور وہ پارٹی سطح پر بیان کیا جائے گا۔

Tags: پاکستان