Urdu News-Online Urdu Newspaper

Urdu news Online Urdu Newspaper

Urdu News-Online Urdu Newspaper header image 4
Pages: Prev 1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 ...60 61 62 Next

اداروں میں اخراجات کم کر نے کے لئے عملی اقدامات کئے ہیں ۔ ۔ ۔ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی

March 15th, 2010 · Comments Off

دہشت گردوں کے واقعات پر گہری نظر ہے،آغاز حقوق بلوچستان پیکج پر عملدرآمد ہو رہا ہے

وزیر اعظم کی میڈیا سے گفتگو

اسلام آباد۔وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ ان کی حکومت نے ہمیشہ آئین پر عمل کیا ہے اور کوئی غیر آئینی کام نہیں کیا اداروں میں اخراجات کم کر نے کے لئے عملی اقدامات کئے ہیں ۔لاہور ،کراچی اور سوات میں دہشت گردی کے واقعات پر گہری نظر ہے آغاز حقوق بلوچستان پر عملدر آمد ہو رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار وزیر اعظم گیلانی نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں کیا ۔وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ صدر منتخب ہو نے کے بعد آصف علی زر داری کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کا مشورہ دیا اور سوا سال میں یہ ان کا تیسر اخطاب ہو گا لاہور ،کراچی اور سوات کے واقعات پر وزراء اعلیٰ کو بلایا ہے اور ان سے ملاقات میں ان واقعات پر غور کیا جائے گا ۔وزیراعظم شہباز شریف کے طالبان کے بارے بیان پر کہا کہ ان کا بیان سیاق و سباق سے ہٹ کرپیش کیا گیا ہے۔انہوں نے کوئی اور بات کی تھی ہم نے ہمیشہ آئین و قانون پر عمل کیا ہے ۔پرویز مشرف پارلیمنٹ سے خطاب نہیں کر تے تھے یہ ایک قسم کی بغاوت تھی اور مشرف نے پارلیمنٹ کے ارکان کے لئے غیر مہذب کا لفظ استعمال کیا تھا لیکن میں نے صدر زر داری کو عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلا کام پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کا کیا اور صدر کا سوا سال میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے تیسرا خطاب ہو گا۔وزیر اعظم نے کہا کہ افغان صدر حامد کرزئی نے فون کر کے مینگورہ اور لاہور میں دہشت گردی کے واقعات پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کا مستقبل ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے۔

Tags: پاکستان

جو قومیں انصاف قائم نہیں کرتی تباہی ان کا مقدر بن جاتی ہے۔ جسٹس خلیل الرحمان رمدے

March 15th, 2010 · Comments Off

سپریم کورٹ کے جج کا اور ینٹیشن کورس کے شرکاء سے خطاب

اسلام آباد۔سپریم کورٹ کے جج جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا ہے کہ کسی بھی معاشرے کے وجود کو بر قرار رکھنے کے لئے انصاف کی فراہمی ضروری ہے انصاف کے بغیر امن و ترقی ممکن نہیں ہے انصاف کے بغیر معاشرے تباہ ہو جاتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی میں خصوصی عدالتوں کے افسرا ن اور قومی صنعتی تعلقات کمیشن کے حکام کی تربیت کے لئے منعقدہ تین روزہ اورینٹیشن کورٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر تے ہوئے کیا ۔ کورس میں آزاد کشمیر سمیت ملک بھر سے 15 عدالتی افسران شریک ہیں۔جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے قر آنی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ نے انصاف کا توازن قائم کیا ہے کسی کو اس توازن کو خراب کر نے کا اختیار حاصل نہیں اس لئے انصاف کے ساتھ مضبوط ہو جاؤ اور اس توازن کو خراب نہ کرو انہوں نے کہا کہ قر آن کے اس اصول پر عمل کر نا ہر مسلمان پر فرض ہے جو ہمیں زندگی کے تمام شعبوں میں توازن بر قرار رکھنے کا حکم دیتا ہے۔دنیا کی بنیاد انصاف پر قائم ہے انصاف اس چیز کا نام ہے کہ ہر چیز کو ایک مقام پررکھا جائے جو اس کے لئے مقرر کی گئی ہے دنیا میں موجود سیارے ،ستارے،نظام شمسی کا مشاہدہ کریں تو پتہ چلتا ہے کہ یہ سب اپنے اپنے مخصوص دائروں میں چل رہے ہیں ان کو دیکھ کر ہمیں توازن قائم کر نے کے لئے رہنمائی حاصل کر نا ہو گی۔انہوں نے کہا کہ جو قومیں انصاف نہیں کرتیں اور توازن قائم نہیں کرتیں ذلت اور رسوائی اور تباہی ان کا مقدر بن جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ حضور نے فر مایا ہے کہ جج کی طرف سے انصاف کا ایک دن ہزار راتوں کی عبادت سے بہتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس حدیث کی روشنی میں ججوں کو تجویز دیتا ہوں کہ استحصال کیے بغیر غیر جانبدارانہ انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔انہوں نے کہا کہ انصاف کر نا صرف جج اور حکمرانوں کا فریضہ نہیں ہے یہ سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے کوئی شخص نا انصافی ہوتے دیکھ نہیں سکتا صرف اس لئے کوئی خود کو بری الذمہ قرار نہیں کہہ سکتا کہ اس کا نقصان نہیں ہورہا۔جسٹس خلیل الرحمن رمدے کا کہنا تھا کہ بے انصافی اور کرپشن سے معیشت،معاشرتی نظام،تہذیب و ثقافت سمیت قومیں تباہ ہو جاتی ہیں ہم چاہے کسی بھی حیثیت سے کام کر رہے ہوں ہمارے لئے ضروری ہے کہ انصاف کریں کیونکہ انصاف معاشرتی ترقی کے لئے نہایت ضروری ہے۔ان کا کہنا تھا کہ انصاف کا اظہار حقیقت ہیں اعتماد پر ہے آپ لوگ خوش قسمت ہیں کہ آپ جج ہیں اور انصاف اللہ تعالی کی صفت ہے آ پ کو یہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ نا انصافی کی وجہ سے گزشتہ قومیں تباہ ہوئی ہیں اور ہم اللہ کے رشتہ دار نہیں ہیں اگر انصاف نہیں کریں گے تو ہو سکتا ہے کہ ہمیں بھی اس طرح کے حالات کا سامنا کر نا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ حضور نے گود سے گور تک علم حاصل کر نے کا حکم دیا ہے لہذا سائنس و ٹیکنالوجی کی تعلیم حاصل کر نے کی راہ میں ہمارے کیریئر مزاحم نہیں ہو نا چاہیے۔قبل ازیں ڈائریکٹر جنرل فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی نے استقبالیہ خطاب کیا۔ بدھ کے روز کور سکے اختتامی سیشن سے جسٹس چوہدری اعجاز احمد شرکاء سے اختتامی خطاب کریں گے۔

Tags: پاکستان

دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے نظریاتی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا ۔ ۔ ۔ آصف علی زر داری

March 15th, 2010 · Comments Off

مقصد کے حصول کے لیے صوفیاء کی امن محبت برداشت اور ہم آہنگی کی تعلیمات پر توجہ دینا ہوگی

مذہب کو ہر دور میں سیاسی مقاصد اور جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا

صدر مملکت کا صوفی ازم کے موضوع پر سیمینار سے خطاب

اسلام آباد ۔صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی ذہنی رجحان ہے جس کے خاتمے کے لیے نظریاتی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا اور اس مقصد کے حصول کے لیے صوفیاء کی امن محبت برداشت اور ہم آہنگی کی تعلیمات پر توجہ دینا ہوگی ۔ گزشتہ روز اسلام آباد میں منعقدہ صوفی ازم اور امن کالمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ صوفی ازم اور بین المذاہب یکجہتی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ صدر نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مذہب کو ہر دور میں سیاسی مقاصد اور جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا ۔ آج بھی کچھ لوگ مذہب کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں ۔ اور مذہب کو بدنام کر رہے ہیں ۔ صدر نے کہا کہ بے گناہ شہریوں کی جانیں لینے والے کسی مذہب کے پیرو کار نہیں ہوتے۔ ان کا کسی مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ۔ صدر مملکت نے کہا کہ جو درد دیتا ہے وہ بہادر نہیں ۔ بہادر دراصل وہی ہوتا ہے جو درد سہتا ہے شہید بے نظیر بھٹو کا فلسفہ تھا کہ میں موت سے نہیں ڈرتی بلکہ موت کے لیے زندہ ہوں ۔ صدر مملکت نے کہا کہ آج بھی کچھ لوگ مذہب کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں جس کے نتائج ہم بھگت رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے لیڈر شہید ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کے نظریات فکری طور پر صوفیائے کرام سے ہم آہنگ تھے ۔ یہی فلفسہ ہمارے سیاسی نظریات اور منشور کی بنیاد ہے ۔ صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ صوفیائے کرام کے نظریات و افکار ہی ہمارے لیے رہنما اصول ہیں ۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم سر دار آصف احمد علی نے کہا کہ صوفیا کرام کا مسلک تبلیغ دین نہیں بلکہ احترام انسانیت اور حب انسانیت کا پر چار ہے۔انہوں نے کہاکہ اسلام امن کا دین ہے اسلام کے نام پر دہشت گردی کر نے والے مسلمان ہیں نہ انسان،اکادمی ادبیات کے چیئر مین فخر زمان نے کہا کہ ہمارے نظریے کی بنیاد انسانیت محبت اور امن پر ہو نی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی معاشرے میں قانون کی سر بلندی انسانی حقوق کی عملداری اور احترام آدمیت کے بغیر امن ممکن نہیں ہے۔یہی صوفیا کرام کی تعلیم اور مسلک رہا ہے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دیگر مقررین نے صوفیا کرام کی تعلیمات کے پر چار کو عالمی امن کے لئے لازم قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ صوفی ازم کے پیروکار کسی بھی خطے ملک یا مذہب سے تعلق رکھتے ہوں وہ امن و آشتی کے سفیر ہوتے ہیں۔

Tags: پاکستان

کبھی کوئی غیر آئینی کام نہیں کیا نہ کرینگے، آئینی ترامیم کے متعلق پارلیمانی کمیٹی اپنی سفارشات کو جب بھی حتمی شکل دے گی پارلیمنٹ میں پیش کر دیا جائے گا

March 15th, 2010 · Comments Off

صدر زرداری کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے بعد نیا پارلیمانی سال شروع ہو گا،

پلاننگ کمیشن کو مضبوط بنانے کیلئے جلد ہی پالیسی بورڈ کا اعلان کیا جائے گا

وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی پلاننگ کمیشن میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت

اسلام آباد۔وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ ہم نے کبھی کوئی غیر آئینی کام نہیں کیا نہ کرینگے، آئینی ترامیم کے متعلق پارلیمانی کمیٹی اپنی سفارشات کو جب بھی حتمی شکل دے گی انہیں پارلیمنٹ میں پیش کر دیا جائے گا، صدر آصف زرداری کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے بعد نیا پارلیمانی سال شروع ہو گا، پلاننگ کمیشن کو مضبوط بنانے کیلئے جلد ہی پالیسی بورڈ کا اعلان کیا جائے گا۔ وہ پیر کو پلاننگ کمیشن میں پی ایس ڈی پی پر نظرثانی کیلئے منعقدہ اجلاس میں شرکت کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کر رہے تھے۔ وزیراعظم نے صدر کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے بارے میں ایک سوال پر کہا کہ ہم نے کبھی غیر آئینی کام نہیں کیا اور ہمیشہ آئین اور قانون کی پاسداری کی ہے۔ سابق صدر جنرل مشرف نے 8 برسوں میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب نہیں کیا جو ایک قسم کی بغاوت تھی اور وہ پارلیمنٹ آنے سے انکار کرتا تھا اور ارکان پارلیمنٹ کو غیر مہذب کہتا تھا۔ وزیراعظم نے کہا کہ میں نے صدر زرداری کے منتخب ہوتے ہی انہیں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیلئے کہا اور انہوں نے چھ ماہ میں دو مرتبہ خطاب کیا جبکہ اب ان کا یہ تیسرا خطاب ہو گا جس کے بعد نیا پارلیمانی سال شروع ہو گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ بجٹ میں پی ایس ڈی پی کیلئے 421 روپے مختص کئے گئے تھے تاہم امداد میں تاخیر اور دہشت گردی کیخلاف جنگ و آئی ڈی پیز کیلئے اخراجات کے باعث اس میں کٹوتی کر کے 250 ارب روپے کیا گیا تاہم میں نے آج کے اجلاس میں پی ایس ڈی پی 300ارب روپے مقرر کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہر تین ماہ بعد پی ایس ڈی پی کا خود جائزہ لیں گے۔ بجٹ سے قبل نئے وفاقی وزیر خزانہ کے تقرر کے بارے میں سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ خزانہ کی وزیر مملکت موجود ہیں، سیکرٹری خزانہ بھی ہیں اور ایف بی آر کے چیئرمین بھی جو سب ملکر اچھا کام کر رہے ہیں۔ آئین میں ترامیم کیلئے پارلیمانی کمیٹی کی سفارشات پارلیمنٹ میں پیش کرنے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ کمیٹی جب بھی اپنی سفارشات کو حتمی شکل دیدی گئی تو انہیں پارلیمنٹ میں پیش کر دیا جائے گا۔ کفایت شعاری اقدامات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ 8 سرکاری محکموں کی تنظیم نو کی جا رہی ہے اور جب یہ عمل مکمل ہو جائے گا تو اس سے یقیناً بہتری آئے گی۔ اس کے علاوہ سابق وزیر خزانہ کی سربراہی میں سفارشات کیلئے جو کمیٹی قائم کی گئی تھی وہ سفارشات بھی پیش کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں این ایف سی ایوارڈ ختم کر دیا جاتا تھا مگر اب اس میں تسلسل رہے گا۔ (کل) بدھ کو ہونے والے کابینہ کے اجلاس کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ ایک نکاتی ایجنڈے کا حامل ہو گا جو امن و امان کی صورتحال ہے۔ انہوں نے کہا کہ چاروں وزراء اعلیٰ کو کابینہ کے اجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے تاکہ ملک بھر میں امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے۔ ایک سوال پر انہوں نے بتایا کہ افغان صدر کرزئی نے گزشتہ روز انہیں ٹیلیفون کیا اور لاہور و مینگورہ میں حالیہ دہشت گرد حملوں میں جانی ضیاع پر اپنے افسوس کا اظہار کیا۔ صدر کرزئی نے کہا کہ پاکستانی اور افغانستان کی تقدیر ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اگر ایک ملک میں کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے تو دوسرے دن دوسرے ملک میں بھی ویسا ہی واقعہ رونماہوتا ہے۔ توانائی کے بحران کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ حکومت اس سلسلے میں تمام تر دستیاب وسائل کو بروئے کار لائے گی تاکہ اس مسئلے پر قابو پایا جا سکے۔

Tags: پاکستان

بعض حلقوں نے میرے خطاب کو غلط معنی اور اسے اپنی مرضی کا رنگ دینے کی کوشش کی ۔ وزیر اعلی پنجاب

March 15th, 2010 · Comments Off

پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں اور سیاستدان گروہی اور صوبائی مفادات سے بالاتر ہو کر دہشت گردی کے ناسور کا مقابلہ کریں

صوبوں اور مرکز کے خفیہ اداروں اور سیکورٹی ایجنسیوں کے درمیان زیادہ موثر اور مستقل رابطوں کی ضرورت ہے

لاہور۔وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ بعض حلقوں نے جامعہ نعیمیہ میں میرے خطاب کو غلط معنی پہنانے اور اسے اپنی مرضی کا رنگ دینے کی کوشش کی ہے ۔ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ’’گزشتہ روز جامعہ نعیمیہ میں میری تقریر کے بعض حصوں کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا ہے اور اس میں سے مرضی کے معنی نکالنے کی کوشش کی گئی ہے۔حقیقت حال یہ ہے کہ میں نے یہ گفتگو معروف صحافی کی تقریر میں اٹھائے گئے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کی تھی اور اسے اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیئے ۔ اینکر نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ میں نے پچھلے برس لاہور میں متنبہ کیا تھا کہ شریف برادران کسی خوش فہمی میں نہ رہیں ‘ آپ نے مشرف کو نکالا ہے جو امریکہ کا چیلا تھا۔ آپ کی پالیسیاں اس کے خلاف ہیں اور آپ ڈکٹیشن بھی نہیں لے رہے ۔ اندرونی و بیرونی قوتیں آپ کے خلاف متحرک ہوچکی ہیں ۔ آ پ اور آپ کی پارٹی اغیار کے مقابلے میں دیوار بن چکے ہیں ۔ لاہور خون میں نہا جائے گا۔ چنانچہ اس کے جواب میں‘ میں نے یہ کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس انتہا پسندی و عسکریت پسندی نے اسی نامراد ڈکٹیٹر کے غلط اقدامات کی وجہ سے جنم لیا ہے اور آج پورا پاکستان اس آگ میں جھلس رہا ہے ۔ میں نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر آپ کی یہ بات درست ہے کہ ہم پاکستان پر اغیار کے تسلط اور ڈکٹیشن کے خلاف ہیں اور طالبان بھی ان کے خلاف ہیں تو پھر طالبان کو پنجاب پر حملے نہیں کرنے چاہیے تھے ۔ جہاں تک اس تنقید کا تعلق ہے کہ میں نے اس ضمن میں پنجاب کا حوالہ کیوں دیا تو یہ سامنے کی بات ہے کہ جب کسی خاص مقام پر ہونے والے دھماکوں پر سوال اٹھایا گیا ہو تو جواب میں بھی اسی مقام اور اسی علاقے کا حوالہ دیاجائے گا۔ صحافی نے پنجاب میں دہشت گردی کے مختلف واقعات اور لاہور میں ہونے والے دھماکوں پر اظہار خیال کیا تھا چنانچہ میں نے بھی اپنی تقریر میں پنجاب کا ذکر اسی حوالے سے کیا تھا جسے بعض مہربانوں نے اپنی مرضی کا رنگ دینے کی کوشش کی ہے حالانکہ ریکارڈ گواہ ہے کہ میں نے ہمیشہ پاکستان کی بات کی ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ صوبہ سرحد کے غیور عوام پاکستان کی بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں ۔ میں دہشت گردی کے حوالے سے پنجاب پر تنقید کرنے والوں سے یہ سوال کرنا چاہتا ہوں کہ اگر بقول ان کے پنجاب کی انتظامیہ عسکریت پسندوں سے آہنی ہاتھ سے نہیں نمٹ رہی تو پھر یہ دہشت گرد پنجاب اور اس کے دارالحکومت لاہور کو بار بار اپنی وحشیانہ سرگرمیوں کا نشانہ کیوں بنا رہے ہیں ؟میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کی تاریخ کے اس نازک مرحلے پر کوئی ایسی بات نہیں کی جانی چاہیئے جس سے دہشت گردی کے خلاف ہماری صفوں میں نفاق پیدا ہو ۔ اس وقت ہماری افواج پاکستان کی سا لمیت کے لئے سربہ کف ہیں اور ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں اور سیاستدان گروہی اور صوبائی مفادات سے بالاتر ہو کر دہشت گردی کے ناسور کا مقابلہ کریں ۔ اسی طرح مختلف صوبوں اور مرکز کے خفیہ اداروں اور سیکورٹی ایجنسیوں کے درمیان زیادہ موثر اور مستقل رابطوں کی ضرورت ہے ۔ مجھے یقین ہے کہ ہم باہمی اتحاد اور غیر متزلزل قومی عزم کے ذریعے اس مشکل مرحلے سے سرخرونکلیں گے ۔

Tags: پاکستان

نواز، شہباز گجرات میں الیکشن تک زرداری کیخلاف نہیں بولیں گے جو کھلی منافقت ہے۔چودھری پرویزالٰہی

March 15th, 2010 · Comments Off

۔24 مارچ تک آصف زرداری بھائی رہیں گے، نواز شریف ضرورت پڑنے پر پیپلزپارٹی کو گلے لگاتے اور بعد میں دھکا دے دیتے ہیں، پنجاب کو دیوالیہ کر دیا

ن لیگ کے وزراء اور غنڈے اہل گجرات کی غیرت کو للکارنے آئے ہیں جو انشاء اللہ منہ کی کھائیں گے یہ کارڈ چور، قبضہ گروپ، جعلی ڈگری ہولڈر اور خواتین کی بے حرمتی کرنے والے ہیں

مہنگائی اور جرائم میں کئی سو فیصد اضافہ ہوا ہے، گجرات کی انتظامیہ غیر جانبدار رہے ورنہ قبر تک نہیں چھوڑوں گا: کامیاب ہڑتال کے بعد تاجروں کے جم غفیر سے خطاب، ہڑتال ختم کروا دی

لاہور۔پاکستان مسلم لیگ کے سینئر مرکزی رہنما چودھری پرویزالٰہی نے کہا ہے کہ نواز شریف اور شہباز شریف گجرات میں ضمنی الیکشن تک صدر آصف زرداری کیخلاف نہیں بولیں گے جو کہ ان کی کھلی منافقت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ پیپلزپارٹی کے سربراہ آصف زرداری 24 مارچ تک ان کے بھائی رہیں گے کیونکہ نواز شریف ضرورت پڑنے پر پیپلزپارٹی کو گلے لگاتے اور بعد میں دھکا دے دیتے ہیں۔ ن لیگ کے وزراء اور غنڈے اہل گجرات کی غیرت کو للکارنے آئے ہیں لیکن انشاء اللہ انہیں منہ کی کھانی پڑے گی گجرات کے غیرت مند عوام پنجاب کو دیوالیہ کرنے، مہنگائی اور جرائم میں کئی سو فیصد تک اضافہ کرنے والوں کو ووٹ نہیں دیں گے۔ انہوں نے گجرات کی انتظامیہ کو خبردار کیا کہ وہ غیر جانبدار رہے اگر ہمارے کسی کارکن یا تاجر کے خلاف جھوٹا مقدمہ بنایا گیا تو میں سامنے والی مسجد کے میناروں کو گواہ بنا کر اعلان کرتا ہوں کہ ایسا کرنے والوں کو قبر تک نہیں چھوڑوں گا۔ چودھری پرویزالٰہی پاکستان چوک گجرات میں تاجروں کے جم غفیر سے خطاب کر رہے تھے جو شہر میں مکمل ہڑتال کے بعد یہاں جمع ہوئے تھے۔ تاجر رہنماؤں نے اجتماع سے اپنے خطاب میں خبردار کیا کہ اگر تاجروں سے دوبارہ غنڈہ گردی کی گئی تو وہ پہیہ جام ہڑتال کر دیں گے۔ انہوں نے پاکستان مسلم لیگ کے امیدوار میاں عمران مسعود کی بھرپور حمایت اور چودھری پرویزالٰہی کے کہنے پر ہڑتال ختم کرنے کا بھی اعلان کیا جس کے بعد شہر میں تمام دکانیں، مارکیٹیں اور بازار کھل گئے۔ چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ میں جاتی امراء کے محلات میں سازشوں اور منافقت کی سیاست کرنے والوں باالخصوص بلڈ پریشر وزیراعلیٰ کو خبردار کرتا ہوں کہ گجراتی غیرت مند قوم ہیں۔ نشان حیدر حاصل کرنے والوں اور ظہورالٰہی شہید کی سرزمین پر وہ غنڈہ گردی کی غلطی نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ میں پیپلزپارٹی پر حیران ہوں کہ انہیں ن لیگ کی چالیں سمجھ کیوں نہیں آ رہیں۔ میں چیلنج کرتا ہوں کہ نواز شریف 24 مارچ کو ہونیوالے گجرات کے ضمنی الیکشن تک صدر زرداری کے خلاف منہ نہیں کھولیں گے یہ بات پیپلزپارٹی والوں کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔ نواز شریف اور شہباز شریف کو ہم نے 18 سال دیکھا ہے انہوں نے جنرل مشرف سے دس سال کی ڈیل کیوں کی؟ ان کے وزیروں نے صدر مشرف سے حلف کیوں لیا؟ یہ ہر معاملہ میں دوسروں کو بے وقوف بنانے کی کوششیں کرتے ہیں لیکن اب قوم کو دھوکہ نہیں دے سکتے۔ یہ صرف کاغذوں میں ہی اپوزیشن ہیں۔ اپنے مسائل کے حل کیلئے تو یہ اکٹھے ناشتے بھی کرتے ہیں لیکن عوام کے مسائل کیلئے کبھی انہوں نے ملاقات نہیں کی۔ انہوں نے عوامی مسائل بجلی، گیس، پٹرول اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں کئی گنا تک اضافہ کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلڈ پریشر وزیراعلیٰ نے جنہیں آمرانہ اختیارات کا بہت شوق ہے پنجاب کو دیوالیہ کر دیا ہے۔ جب آپ لوگوں نے مجھے وزیراعلیٰ بنایا تو پنجاب کا ترقیاتی بجٹ صرف 25 ارب روپے تھا میں نے اس کو 150 ارب روپے تک پہنچایا اور جب چارج چھوڑا تو 40 ارب روپے باقی تھے۔ ہم نے پنجاب کے عوام کو مفت تعلیم، مفت کتابیں، مفت دوائیاں دیں، سڑکوں کا جال بچھایا اور 1122 سروس شروع کی، ہسپتال، اسکول کالج بنائے ن لیگ والوں نے 2 سال کے اندور عوام کو کیا دیا؟ ایک معروف صحافی کے اعداد و شمار کے مطابق شہباز حکومت نے ہماری حکومت کے مقابلے میں مہنگائی میں 300 گنا تک اضافہ کیا ہے۔ چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ ہم نے 50 کالجوں کی بلڈنگیں تیار چھوڑی تھیں نا اہل لوگوں نے ابھی تک ان کے فنڈ بحال نہیں کیے اور نہ ہی عملہ بھرتی کیا ہے۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ صحت کے شعبہ کا بھی انہوں نے بیڑہ غرق کر دیا ہے۔ صرف بھوک، افلاس، کرائم اور کرپشن اوپر جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی پیپلز چوائس کا آپ لوگ اندازہ لگا سکتے ہیں۔ کوئی کارڈ چور، کوئی قبضہ گروپ، کوئی جعلی ڈگری ہولڈر اور کوئی عورتوں کی بے حرمتی کرنے والا ہے ان کی سیاست کا اصول بھی یہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گجرات کی انتظامیہ سن لے کہ اگر انہوں نے گجرات کے عوام کو تنگ کیا کوئی زیادتی کی تو جاتی امراء والوں نے چلے جانا ہے لیکن آپ نے یہیں رہنا ہے۔ اجتماع سے میاں عمران مسعود، صدر انجمن تاجران ارشد وحید بٹ، صدر مسلم بازار صرافہ یونین انور علی شاہ، افتخار شاکر اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔

Tags: پاکستان

حکومت کی دانشمندانہ پالیسیوں کی وجہ سے ملکی معیشت بحال ہو رہی ہے ۔ سید یوسف رضا گیلانی

March 15th, 2010 · Comments Off

اسلام آباد ‘ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ حکومت کی دانشمندانہ پالیسیوں کی وجہ سے ملکی معیشت بحال ہو رہی ہے ۔ پیر کو اسلام آباد میں سرکاری شعبے کے ترقیاتی پروگرام پر عملدرآمد کے بارے میں ایک بریفنگ میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس پروگرام سے اس بات کی عکاسی ہوتی ہے کہ حکومت عوام کی بہتری کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے ۔ا نہوں نے کہا کہ منتخب حکومت کو چیلنجوں سے دو چار معیشت اور امن وامان کی خراب صورت حال ورثے میں ملی جبکہ حکومت کو دہشت گردی کے خلاف جنگ اور سرکاری شعبے کے ترقیاتی پروگرام کے لیے مزید رقم کی ضرورت ہے جبکہ اسلام آباد میں گلگت بلتستان کے ممتاز سماجی کارکن ڈاکٹر شمع خالد سے باتیں کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ حکومت گلگت بلتستان کی ترقی کو اولیت دے رہی ہے انہوں نے کہا کہ علاقے کی ترقی سے سیاحت کو فروغ ملے گا اور لوگ خوشحال ہوں گے وزیراعظم نے کہا کہ گلگت بلتستان کے انتخاات علاقے کے عوام کی مکمل سیاست کو قومی دھارے میں لارہے ہیں۔

Tags: پاکستان

پیپکونے گھڑیاں ایک گھنٹہ آگے کرنے کے فیصلے کی مخالفت کردی

March 15th, 2010 · Comments Off

اسلام آباد ‘ پیپکو نے وفاقی حکومت کے بجلی کی بچت کیلئے یکم اپریل سے گھڑیاں ایک گھنٹہ آگے کرنے کے فیصلے کی مخالفت کردی ہے۔ پیپکو حکام کا کہنا ہے کہ حکومت نے گذشتہ سال بھی گھڑیاں ایک گھنٹہ آگے کرنا فیصلہ کیا تھا۔ جس سے بجلی کی کچھ بچت تو ہوئی تاہم لوگوں نے پرانے وقت کے مطابق کام جاری رکھا اور لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری رہا ۔ پیپکو حکام کاکہناہے کہ بڑے شہروں کی مارکیٹوں میں کھولنے اوربند کرنے کے اوقات کار میں ایک گھنٹے کا اضافہ کردیا گیا تھا۔

Tags: پاکستان

ملک میں بھارتی فلموں اور ڈراموں کی نشریات کا معاملہ ایوان بالا میں اٹھانے کا فیصلہ

March 15th, 2010 · Comments Off

بھارتی فلموں کیخلاف قائمہ کمیٹی دو بار متفقہ قرار داد منظور کر چکی ہے
حکومت اگر قائمہ کمیٹیوں کی سفارشات پرعملدرآمد نہیں کر ا سکی تو اس کی افادیت ختم ہوتی چلی جائیگی
ا گر قائمہ کمیٹی ان غیر ملکی نشریات پر پابندی کا فیصلہ کرلے تو حکومت اس پر سختی سے عملدرامد کرے گی ۔قمر زمان کائرہ کا کمیٹی اجلاس سے خطاب
گلگت بلتستان قمر زمان کائرہ نے کہا کہ گلگت بلتستان کے گورنر کی تقرری کے لیے نام کا حتمی فیصلہ نہیں کیا۔ وزیر اطلاعات کی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو

اسلام آباد ‘ سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات نے ملک میں بھارتی فلموں اور ڈراموں کی نشریات کے خلاف مشترکہ حکمت عملی کے لیے یہ معاملہ ایوان بالا میں اٹھانے کا فیصلہ کرلیا ۔ بھارتی فلموں کے خلاف قائمہ کمیٹی دو بار متفقہ قرار داد منظور کر چکی ہے اصلاح احوال نہ ہونے پر یہ معاملہ ایوان میں لے جانے کا فیصلہ کیا گیا قائمہ کمیٹی نے واضح کیا ہے کہ حکومت اگر پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹیوں کی سفارشات پر عمل نہیں کرے گی تو اس کی افادیت کم ہوتی چلی جائے گی ۔ قائمہ کمیٹی نے سرکاری ریڈیو سمیت ٹی و ی چینلز کی جانب سے ایک امریکی چینلز کی نشریات پر تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ وزیراطلاعات قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ ا گر قائمہ کمیٹی ان غیر ملکی نشریات پر پابندی کا فیصلہ کرلے تو حکومت اس پر سختی سے عملدرآمد کرے گی قائمہ کمیٹی کا اجلاس کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر حاجی غلام کی صدارت میں پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا مختلف امورکا جائزہ لیا گیا۔کمیٹی کی تشویش پر پیمرا حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ملک میں 15 سو کیبل آپریٹرز کو ان ہاؤس سی ڈی چینل چلانے کی اجازت دی گئی ہے اس مقصد کے لیے ہر کیبل آپریٹر سے سالانہ 2 لاکھ روپے کی فیس لی جاتی ہے ۔ سینیٹر طارق عظیم ‘ سینیٹر گل محمد لاٹ اور دیگر ارکان نے کہا کہ کیبل آپریٹرز دن رات مختلف بھارتی فلمیں اور بیہودہ ڈرامے دکھا رہے ہیں ۔ ملکی مفاد کو زک پہنچائی جا رہی ہے۔ اس کے خلاف قرا رداد بھی منظور کر چکے ہیں مگر حکومت اصلاح احوال کے لیے تیار نہیں ہے ۔ قائمہ کمیٹی نے پرائیویٹ کیبلز آپریٹرز کے ان ہاؤس سی ڈی چینل پر پابندی کی سفارش کرتے ہوئے یہ معاملہ ایوان بالا میں اٹھانے ا ور مشترکہ حکمت عملی وضع کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ قائمہ کمیٹی نے سرکاری میڈیا کے خسارے پر بھی تشویش کا اظہار کیا ۔ چیئرمین حاجی غلام نے کہا کہ چھ کمروں میں پرائیویٹ ٹی وی چینلز اور ایف ایم ریڈیو ماہانہ کروڑوں روپے کما رہے ہیں جبکہ 600 کمروںپر مشتمل سرکاری میڈیا خسارے میں ہے بلکہ ان کے اخراجات بھی بڑھ رہے ہیں ۔ چیئرمین قائمہ کمیٹی نے کہا کہ ہمارے ادارے بے بس ہیں تو مدد اور قانون سازی کے لیے سفارشات لے کر آئیں۔سینیٹر طارق عظیم نے کہا کہ کیبلز آپریٹرز نے اگر کل کو اسرائیل کے پروگرام کی سی ڈیز دکھانا شروع کردیا تو کیا ہو گا۔ آپریٹرز قومی مفاد کی خلاف ورزی کررہے ہیں سخت نوٹس لینا ضروری ہے ۔ قائمہ کمیٹی نے ریڈیو پاکستان اور نجی ٹی وی چینلز کی جانب سے امریکی نشریات دکھانے پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ملک میں سنسنی پھیلائی جا رہی ہے۔ وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ نے کہاکہ وائس آف امریکہ کی پشتو نشریات پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ کمیٹی اگر مکمل پابندی کا فیصلہ کرلے تو ہم عملدرامد کے لیے تیار ہیں ۔ سینیٹر حاجی عدیل کے استفسار پر قمر زمان کائرہ نے کہا کہ انہوں نے پارلیمانی آئینی کمیٹی کی سفارشات کے ٹائم فریم کے بارے میں امکان ظاہر کیا تھا لیکن حتمی تاریخ نہیں دی تھی۔ اب بھی یہی کہہ رہا ہوں کہ مارچ ہی میں آئینی ترمیم کا پیکج پارلیمنٹ میں آ جائے گا کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر اطلاعات و نشریات اور قائم مقام گورنر گلگت بلتستان قمر زمان کائرہ نے کہا کہ گلگت بلتستان کے گورنر کی تقرری کے لیے نام کا حتمی فیصلہ نہیں کیاگیا

Tags: پاکستان

پاکستان نے ڈاکٹر عبد القدیر خان کے حوالے سے واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کو مسترد کر دیا

March 15th, 2010 · Comments Off

اسلام آباد ‘ پاکستان نے ڈاکٹر عبد القدیر خان کے حوالے سے واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا باب بند ہو چکا ہے اس طرح کی خبریں غلط اور بے بنیاد ہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ عبد الباسط نے آج واشنگٹن پوسٹ میں ڈاکٹر اے کیو خان نیٹ ورک کے حوالے سے شائع ہونے والی خبر کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے اس طرح کی خبریں پاکستان کے خلاف پروپیگنڈے کے سوا کچھ نہیں ۔ ایٹمی عدم پھیلاؤ کے حوالے سے پاکستان کی کوششیں پوری دنیا کے سامنے ہیں اور پاکستان کے ایٹمی اثاثے محفوظ ہیں ۔

Tags: پاکستان