Urdu News-Online Urdu Newspaper

The 3rd Largest Online Urdu Newspaper

Urdu News-Online Urdu Newspaper header image 4
Pages: Prev 1 2 3 ...58 59 60 61 62 63 64 ...178 179 180 Next

کمپیوٹر اور انفارمیشن ٹیکنالوجی نے نئی نسل کو جسمانی ورزش سے دور کر دیا

May 2nd, 2010 · No Comments

پیر محل۔ موجودہ دور میں کمپیوٹر اور انفارمیشن ٹیکنالوجی نے نئی نسل کو جسمانی ورزش سے دور کر دیا ہے جس کی وجہ سے نوجوانوں میں تنہائی کا عنصر فروغ پاتا جا رہا ہے اس مسئلے پر قابو پانے کے لئے فزیکل ایجوکیشن کی اہمیت مسلمہ ہے جس کے لیے سرحد یونیورسٹی کے شعبہ فزیکل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی خدمات قابل تحسین ہے جس نے جہاں تعلیم کو سرحدوں سے آزاد کر دیا ہے وہاں گلوبلائزیشن کے ہماری مشرقی معاشرتی روایات پر بھی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ ان خیالات کا اظہاریٰسین ندیم رمدے لیکچرا رسرحد یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز (ایس یو ایچ ایس) فزیکل ایجوکیشن سائنس ڈپارٹمنٹ نے تعلیمی وفد جس کی قیادت محمد انجم کررہے تھے میں طلبہ سے خطاب میں کیا انہوںنے کہا آج کا نوجوان کمپیوٹر سکرین پر اور موبائل فون پر ویڈیو گیمز کھیلنے میں دلچسپی تو رکھتا ہے تاہم کھیل کے میدانوں میں جسمانی ورزش اور مشقت کا عنصر مفقود ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے طلباوطالبات کو جدید ٹیکنالوجی میں دسترس کے ساتھ ساتھ مشرقی معاشرت کے خوبصورت رنگوں سے خود کو ہم آہنگ کرنے سمیت جسمانی صحت پر زور دینے کی ضرورت ہے فنی تعلیم کے فروغ میں فزیکل ایجوکیشن سائنس ڈپارٹمنٹ سرحد یونیورسٹی کا کردار قابل تعریف ہے تعلیمی معیارات کو بلند کرنے سمیت ریسرچ ڈپارٹمنٹ کی خدمات بہترین تحقیق کیلئے قابل قدرہے انہوںنے کہافزیکل ایجوکیشن سائنس جس کا مقصدتعلیم جسمانی میں تحقیق کو فروغ دینا اور فیکلٹی کے مابین تعاون کو بڑھانا تھا۔جس کا مقصد گریجویٹ طلبہ میں تحقیقی سرگرمیاں کے ذریعے ایم ایس سی کی تعلیم حاصل کرکے شرح خواندگی میں اضافہ کے ساتھ، تعلیمی تحقیقات کے میدان میں نمایاں اضافہ کا باعث ہے انہوںنے کہا کہ سکولوں اور کالجز میں فزیکل ایجوکیشن کی تعلیم کے ماہرین کی کمی کا سامنا ہے جس کو پور اکرنے کے لیے سرحد یونیورسٹی نے تعلیم کو سرحدوں سے آزاد کردیا ڈاکٹر وحید مغل جیسے عظیم سکالرز مفکر کی دن رات کاوشوں کی بدولت انشاء اللہ جلد ہی فزیکل ایجوکیشن ماہرین کی کمی کو دور کرلیا جائے گا

Tags: پاکستان

کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں کو ملک و قوم کے مفاد میں مزید با اختیار بنایا جائے ۔۔ڈاکٹر مرتضیٰ مغل

May 2nd, 2010 · No Comments

اسلام آباد( پ ر ) پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں کو ملک و قوم کے مفاد میں مزید با اختیار بنایا جائے۔انھوں نے کہا کہ ریٹنگ رپورٹ کا مقصد کسی بھی ادارے کی مالی حالت اور مستقبل کے بارے میں اندازہ لگانا ہوتا ہے اور اس کے لئے ریٹنگ ایجنسیوںکا مکمل طور پر آزاد ہونا ضروری ہے۔انھوں نے کہا کہ پاکستان میں کوئی بھی ادارہ کسی بھی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی کو کام دے سکتا ہے اور جب چاہے فارغ بھی کر سکتا ہے جس سے بعض اوقات ریٹنگ ایجنسی پر غیر ضروری دباؤ بڑھ سکتاہے۔ ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے ایک میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسی طرح پاکستان میں ریٹنگ ایجنسی کی رائے کو چیلنج کرنے کا طریقہ بھی موجود نہیں جس کی وجہ سے کوئی بھی ایجنسی کسی بھی قسم کی رپورٹ جاری کرسکتی ہے۔انھوں نے کہا کہ بعض ادارے صرف قانونی زمہ داریاں پوری کرنے کے لئے ریٹنگ کرواتے ہیںاور انکی اصل مالی حالت کا پتہ چلانا مشکل ہوتا ہے جو کہ عوام کے مفاد کے خلاف ہے۔اس موقع پر محسن رفیق نے کہا کہ کسی بھی ریٹنگ ایجنسی کی سب سے بڑی زمہ داری بینکوں کے بارے میں رائے دیناہوتی ہے تاکہ عوام، کارپوریٹ ادارے اور حکومت اس میں اپنا سرمایہ جمع کروانے سے قبل سوچ سکیں۔انھوں نے کہا کہ حقائق کے خلاف رپورٹ سے عوام کی حق تلفی ہوتی ہے جو کہ شفافیت کے اصولوں کی خلاف ورزی بھی ہے۔محسن رفیق نے کہا کہ اس صدی کے سب سے بڑے مالیاتی بحران کے تناظرمیں ریگولیٹروں، مرکزی بینکوںاور ریٹنگ ایجنسیوںکا کردار سب کے سامنے ہے مگر ہم اب بھی کوئی سبق سیکھنے کو تیار نہیں۔

Tags: پاکستان

وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی 4 مئی تک 18 ویں ترمیم پر عملدرآمد کے لئے اطلاقی کمیشن بنانے کے پابند

May 2nd, 2010 · No Comments

سینیٹر میاں رضا ربانی نے تاحال کمیشن کی سربراہی قبول کرنے کے بارے حتمی جواب سے آگاہ نہیں کیا
چیئرمین پارلیمانی آئینی کمیٹی کا وفاقی وزیر کا عہدہ سنبھالنے سے بھی انکار
رضا ربانی کو آمادہ کرنے کے لئے ایوان صدر کا بھی دباؤ ‘ ذرائع

اسلام آباد ‘ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے 4 مئی ( منگل ) تک 18 ویں ترمیم پر عملدرآمد کے لئے اطلاقی کمیشن کے چیئرمین اور اراکین کے ناموںکا اعلان کرنا ہے ۔ سینیٹر میاں رضا ربانی نے کمیشن کی سربراہی قبول کرنے کے بارے میں تاحال اپنے حتمی جواب سے حکومت کو آگاہ نہیں کیا ہے ۔ سینیٹر میاں رضا ربانی نے فی الوقت وفاقی وزیر کا عہدہ سنبھالنے سے بھی معذرت کر لی ہے ۔ تفصیلات کے مطابق مقررہ کردہ ٹائم فریم کے مطابق حکومت نے 18 ویں ترمیم پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لئے 4 مئی تک اطلاقی کمیشن کا قیام عمل میں لانا ہے ۔ 18 ویں ترمیم آئین کا حصہ بننے کے بعد حکومت 15 دنوں میں اطلاقی کمیشن کی تشکیل کی پابند ہے ۔ 19 اپریل کو صدر مملکت کی جانب سے 18 ویں ترمیم کے مسودے پر دستخط کے نتیجہ میں حکومت 4 مئی تک کمیشن کے قیام کی پابند ہے ۔ ذرائع کے مطابق سینیٹر میاں رضا ربانی نے کمیشن کی سربراہی قبول کرنے کے بارے میں وزیر اعظم کو تاحال اپنے حتمی جواب سے آگاہ نہیں کیا ہے ۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ اس بار ایوان صدر کی جانب سے بھی سینیٹر میاں رضا ربانی پر وفاقی وزیر کا عہدہ سنبھالنے کا دباؤ ڈالا جا رہا ہے ۔ سینیٹر میاں رضا ربانی کے فی الحا وزیر بننے سے بھی انکار کر دیا ہے ۔

Tags: پاکستان

نئی قومی لیبر پالیسی کا مسودہ صوبوں کو بجھوا دیا گیا

May 2nd, 2010 · No Comments

کم از کم اجرت سات ہزار روپے کی ادائیگی کو یقینی بنانے کے لئے متعلقہ اداروں کو فعال کرنے کی ہدایت
اسلام آباد ‘ ملک بھر میں نئی قومی لیبر پالیسی پر سختی سے عملدرآمد کے لئے پالیسی کا مسودہ صوبوں کو بھی بجھوا دیا گیا ہے ۔ چھٹی لیبر پالیسی یکم جون سے لاگو ہو گی ۔ ملک میں متعدد ایسے ادارے موجود ہیں جہاں ابھی تک کم از کم اجرت 6 ہزار روپے کی ادائیگی پر عمل بھی نہیں کیا جا رہا ہے ۔ ان میں بیشتر پرائیویٹ سکیورٹی ایجنسیاں اور دیگر ادارے شامل ہیں ۔ حکومت کی جانب سے کم از کم اجرت 7 ہزار روپے پر عملدرآمد کے لئے سخت اقدامات ناگزیر ہیں ۔ ملک کے بعض اداروں اور پرائیویٹ سیکورٹی ایجنسیوں کو بااثر افراد کی حمایت حاصل ہونے کی وجہ سے یہ ادارے کم از کم اجرت کے حکومتی اعلان کی دھجیاں اڑا رہے ہیں جبکہ بعض اداروں کے مالکان ہی بااثر شخصیات ہیں ۔ حکومت نے نئی لیبر پالیسی کا مسودہ صوبوں کو بھجوا دیا ہے ۔ یکم جون سے نئی لیبر پالیسی کا اطلاق ہو جائے گا ۔ اجرت پر عملدرآمد کے لئے متعلقہ اداروں کو فعال و متحرک کیا جائے ۔اور تمام اداروں میں لیبر پالیسی کے مطابق جون کے بعد سے کم از کم اجرت ساتھ ہزار روپے کی ادائیگی کو ممکن بنایا جائے ۔ جون کے بعد رجسٹرڈ لیبر کو بینک چیکوں کے ذریعے تنخواہوں کی ادائیگی کا سلسلہ بھی شروع ہو جائے گا

Tags: پاکستان

اورکزئی ایجنسی پر گن شپ ہیلی کاپٹروں کی شیلنگ شر پسندوں کے تین بنکر تباہ

May 1st, 2010 · No Comments

کوہاٹ۔اورکزئی ایجنسی پر گن شپ ہیلی کاپٹروں کی شیلنگ شر پسندوں کے تین بنکر تباہ ۔ہفتہ کے روز اورکزئی ایجنسی کے علاقہ مشتی میلہ میں سیکورٹی فورسز کے گن شپ ہیلی کاپٹروں نے 3بجے سہ پہر شر پسندوں کے متعدد ٹھکانوں پر اندھا دھند شیلنگ اور بمباری کر کے تین اہم بنکرز تباہ کر دئیے تاہم جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہو ئی جبکہ اورکزئی ایجنسی کے علاوہ انجالڑی میں صورت حال معمول پر آنی شروع ہو گئی ہے اور آج کوہاٹ سے 21 خاندان واپس اپنے گھروں کو پہنچ گئے ہیں انہوں نے صحافیوں کو فون کر کے بتایا کہ اب علاقہ میں امن بحال ہو گیا ہے۔ahs-nn-ik

Tags: پاکستان

بے نظیر بھٹو قتل کیس کی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کا دورہ جائے شہادت

May 1st, 2010 · No Comments

راولپنڈی۔سانحہ لیاقت باغ اور سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے قتل پر یو این او رپورٹ پر اٹھائے جانے والے سوالات کے تحت قائم کی گئی 3رکنی ’’فیکٹ اینڈ فائنڈ‘‘ کمیٹی نے ہفتہ کی سہ پہر لیاقت باغ میں جائے شہادت کا دورہ کیا جہاں پر نصف گھنٹہ سے زائد قیام کے دوران کمیٹی کے اراکین مختلف تحقیقاتی پہلوؤں کا جائزہ لیا۔لیاقت باغ آنے والے تحقیقاتی ٹیم میں سیکرٹری کیبنٹ ڈویژن عبدالرؤف چوہدری،وائس چیف آف جوائنٹ سٹاف میجر جنرل سجاد غنی،ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ خیبر پختونخوا ایاز طورو جب لیاقت باغ پہنچے تو سی پی او راولپنڈی راؤ محمد اقبال نے ان کا استقبال کیا۔ اس موقع پر سانحہ لیاقت باغ کے مدعی سابق ایس ایچ او تھانہ سٹی کا شف ریاض پیپلز پارٹی کے جلسہ اور سٹیج کی سیکورٹی کے انچارج و سابق ایس پی سی آئی اے رانا شاہد موجودہ ایس پی راول ٹاؤن زراعت کیانی کے علاوہ ایس آئی جی کے ڈی جی خالد قریشی بھی موجود تھے۔ کمیٹی کے اراکین نے بے نظیر بھٹو کی گاڑی پر فائرنگ اور حملے کی جگہ،جہاں پر خود کش حملہ آور کا سر گرا تھا اس جگہ کے ساتھ سٹیج پر بے نظیر کی آمدورفت کے راستوں کا جائزہ لیا۔اس موقع پر ٹیم نے اپنی سر کاری گاڑی کو بے نظیر بھٹو کی گاڑی کی جگہ استعمال کر کے سانحہ سے پہلے اور بعد کا فرضی خاکہ تیار کیا جبکہ ٹیم کے اراکین نے مقدمہ کے مدعی سابق سابق ایس ایچ او کاشف ریاض اور اس وقت کے ایس پی سی آئی اے رانا شاہد سے مختلف سوالات کئے۔ جبکہ سی پی او راؤ اقبال نے بھی ٹیم کو بریفنگ دی۔اس موقع پر میڈیا کو ایک مخصوص حد سے آگے نہ جانے دیا گیا جبکہ ذرائع کے مطابق تحقیقاتی ٹیم کے اراکین نے پولیس افسران سے پوچھ گچھ اور سوالات کے دوران اس سالی بارے استفسار کیا جہاں سے سانحہ کے بعض شواہد تیسرے روز پولیس نے تحویل میں لئے تھے۔ تاہم اطلاعات کے مطابق موقع پر موجود پولیس افسران نے ایسی کسی نالی یا اس سے شواہد ملنے کی نفی کی۔تاہم ٹیم کے اراکین بعض حوالہ جات کے ساتھ اپنی بات کے ٹھوس جواب پر بضد رہے۔ ذرائع نے ثناء نیوز کو بتایا کہ ’’فیکٹ اینڈ فائنڈنگ‘‘ ٹیم نے لیاقت باغ سے آمد سے قبل سندھ ہاؤس میں اس وقت کے سی پی او راولپنڈی سعود عزیز،ایس ایس پی آپریشنز یاسین فاروق،ایس پی ہیڈ کوارٹر اشفاق انور اور ایس پی خرم شہزاد سے تفصیلی پوچھ گچھ کی اور ان کے بیانات ریکارڈ کئے۔ اس ضمن میں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مذکورہ چاروں پولیس افسران کو فیکٹ اینڈ فائنڈنگ کمیٹی کی تحقیقاتی رپورٹ مکمل ہو نے تک راولپنڈی میں قیام کا پابند کر کے حفاظتی تحویل میں رکھا جا رہا ہے۔

Tags: پاکستان

پرویز الہی ایئرکنڈیشنڈ ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر بیان بازی کی بجائے فیلڈ میں نکلیں اور کھلی آنکھوں سے دیکھیں ۔شکیل اعوان

May 1st, 2010 · No Comments

پرویز الہی پنجاب کی دھوپ برداشت کر سکتے ہیں تو میں انہیں صوبے کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے لیبر ویلفیئر اداروں اورگندم کے خریداری مراکزکے دورہ کی دعوت دیتا ہوں

مسلم لیگ (ن) کے رکنِ صوبائی اسمبلی کا یومِ مزدور کے موقع پر منعقدہ کنونشن سے خطاب

راولپنڈی۔ مسلم لیگ (ن) کے رکن صوبائی اسمبلی ملک شکیل اعوان نے کہا ہے کہ پرویز الہی ایئرکنڈیشنڈ ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر بیان بازی کی بجائے فیلڈ میں نکلیں اور کھلی آنکھوں سے دیکھیں کہ شہباز شریف اور ان کی ٹیم نے مزدوروں،محنت کشوں اورچھوٹے کاشتکاروںکوان کا حق دلانے کے لئے کیا اقدامات کئے ہیں۔ اگر پرویز الہی پنجاب کی دھوپ برداشت کر سکتے ہیں تو میں انہیں صوبے کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے لیبر ویلفیئر اداروں اورگندم کے خریداری مراکز کا اپنے ساتھ دورہ کرنے کی دعوت دیتا ہوں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے یوم مئی کے موقع پر گزشتہ روز گنجمنڈی میں منعقدہ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ انہو ںنے کہا کہ پرویز الہی کو صرف اس بات کی تکلیف ہے کہ حکومت پنجاب کے اقدامات سے ان کے پسندیدہ کمیشن مافیا اور ناجائز منافع خور آڑھتیوں اور مزدور دشمن لیڈروں کے مفادات کو ضرب کاری پہنچی ہے ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے برسراقتدار آتے ہی قومی خزانے کو لوٹنے والے دم دبا کر بھاگ گئے اگر ان کے ہاتھ اتنے صاف ہیں تو وہ احتساب سے خوفزدہ کیوں ہیں؟ انہوںنے کہا کہ آج کا دور میرٹ کا دور ہے‘ ہر کام شفاف طریقے سے ہو رہا ہے لیکن پرویز الہی اوران کے حواریوں سے حکومت کی کامیابی ہضم نہیں ہو رہی ہے اور وہ بے سروپا اور بے بنیاد الزامات عائد کر کے خود کو مسٹر کلین ثابت کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی گندم خریداری مہم کی کامیابی کا کریڈٹ شہباز شریف کو جاتا ہے کیونکہ ایک کسان دوست مہم ہے جس کے تحت کاشتکاروں کے مفادات کا تحفظ کیا گیا ہے اور انہیں ان کی محنت کا بھر پور معاوضہ دیا جا رہا ہے جس سے کاشتکار خوش ہیں ۔انہوںنے کہا کہ پرویز الہٰی کی ناقص پالیسیوں کے باعث نتائج آج بھی عوام کو بھگتنے پڑ رہے ہیں۔ ملک شکیل اعوان نے کہا کہ اپنے سیاہ دور حکومت میں مفاد پرستوں اور کرپٹ افراد کو نوازنے والے پرویز الہی سے وزیر اعلی شہباز شریف کی کامیابی ہضم نہیں ہو رہی ۔ گندم کی خریداری‘ باردانے کی تقسیم اور کسانوں کو ان کی محنت کا بھر پور معاوضہ نہ دینا‘ اپنے حواریوں کو نوازنا‘ پرویز الہٰی کا ہی وطیرہ ہے وہ نہیں چاہتے کہ شہباز شریف بطور خادم اعلی عوامی خدمت کریں۔ انہوں نے کہا کہ پرویز الہٰی شہباز شریف کی عوام دوست پالیسیوں سے خوفزدہ ہیں اور بوکھلاہٹ کا شکار ہیں لیکن عوامی ووٹوں سے منتخب ہونے والے شہباز شریف نے کرپشن کے خاتمے کا عزم کر رکھا ہے ان کی کامیابی کا سفر جاری رہے گا۔ملکشکیل اعوان نے کہا کہ حکومت پنجاب اب تک کاشتکاروں کو قریبا7لاکھ سے زائد بوری باردانہ جاری کر چکا ہے اور پالیسی کے تحت چھوٹے کاشتکاروں سے ان کی فصل مقررہ نرخوں پر خرید رہا ہے حکومت کی پالیسی سے اوپن مارکیٹ میں گندم کے نرخوں میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے جو حکومت کی کسان دوست پالیسی کا مظہر ہے۔انہوںنے کہا کہ اس وقت حکومت پنجاب کے پاس 97ارب روپے کی گندم کا ذخیرہ موجود ہے اور مزید120ارب روپے کی گندم کی خریداری جاری ہے۔انہوںنے کہا کہ حکومت950روپے فی 40کلو گرام کے حساب سے کاشتکاروں سے گندم خرید رہی ہے۔ملک شکیل اعوان نے کہا کہ پرویز الہی اگر اپنے گریبان میں جھانکیں تو انہیں اپنا ماضی صاف نظر آئے گا جس سے وہ نظر نہیں چرا سکیں گے۔ پرویز الہی کو حقائق کا سامنا کرنا چاہئے کیونکہ غلط الزامات عائد کر کے وہ صرف شرمندہ ہی ہوں گے۔وزیراعلی ڈویلپمنٹ اینڈ مانیٹرنگ سیل کے چیئرمین سردار نسیم نے کہا کہ مو جودہ حکومت کے پاس دو سال کی مدت کم نہ تھی کہ غریب اور پسماندہ عوام کے مسائل اور مصائب کے حل کے لیے اقدامات کرتی اور اگر ایسا کیا جاتا تو مہنگائی اور گرانی طوفان کی صورت اختیار نہ کرتی اور لوڈ شیڈنگ کی لعنت سے نجات مل جاتی ۔انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک صوبوںکے قیام کی جو تحریکیں شروع ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ عوام نچلی سطح پر اختیارات کی منتقلی سے بنیادی سہولیات کی فراہمی اور مسائل کو مقامی طور پر سلجھانے کی آسانیاں چاہتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کو ہر سطح پر منظم کیا جا رہا ہے تا کہ عوام کی قوت سے استحصالی ماحول اور انتظامی اداروں کی چیرہ د ستیاں ختم ہوں۔سردار نسیم نے کہا کہ عوام کسی مغربی نظام کے بجائے ایسا طرز حکومت چاہتے ہیںجس میں عوام کی فلاح و بہبود کو یقینی بنایا جا سکے ۔مسلم لیگ لیبر ونگ پنجاب کے رہنما سردار صداقت اور چوہدری حامد ظہور نے کہا کہ پاکستان کے عوام بے پناہ صلاحیتوں کے مالک اور ایثار و قربا نی کے جذبہ سے سرشار ہیں اس لے عوامی سطح سے قیادت سامنے لانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔چوہدری عمران نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نا انصافیوں اور نا ہمواریوں کو ختم کر کے عوامی قوت سے غربت اور پسماندگی سے ملک کو نجات دلائے گی

Tags: پاکستان

محنت کشوں کے عالمی دن کے موقع پر صوبائی دارالحکومت میں ریلیاں، کنونشن اور جلسوں کا اہتمام ۔سردار ذوالفقار کھوسہ

May 1st, 2010 · 1 Comment

محنت کش بھوکا مررہا ہے، کم سے کم تنخواہ 15ہزار روپے اور صحت وتعلیم کی سہولتیں دی جائیں۔ ریلیوں سے لیبر رہنماؤں کا خطاب

پیپلز پارٹی محنت کشوں کے مسائل حل کرے گی، روٹی کپڑا اور مکان کے نعروں پر عمل کریں گے۔ اشرف سوہنا، ساجدہ میر

مہنگائی اور محنت کشوں کے استحصال کی ذمہ دار پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت ہے، وزیراعلی محنت کشوں کیلئے اہم پالیسیوں کا اعلان کریں گے۔

لاہور۔ محنت کشوں کے عالمی دن کے موقع پر صوبائی دارالحکومت میں دن بھر سیاسی ولیبر تنظیموں کی ریلیوں کا سلسلہ جاری رہا جبکہ اس موقع پر شہر کے مختلف حصوں میں سیمینارز اور جلسے بھی منعقد کئے گئے۔ ریلیوں ومحنت کشوں کے ان اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے مطالبہ کیا کہ محنت کش کی کم از کم تنخواہ 15ہزار وپے مقرر کی جائے۔ کام کے اوقات کار 12گھنٹے سے کم کرکے آٹھ گھنٹے کئے جائیں۔ محنت کشوں کو میڈیکل کی سہولیات دی جائیں اور آئی ایل او کنونشن کے فیصلوں پر عملدرآمد کرنے کے ساتھ ساتھ خاتون محنت کشوں کو تحفظ بھی فراہم کیا جائے۔ محنت کشوں کی سب سے بڑی ریلی بختیار لیبر ہال سے پاکستان ہائیڈرو کنفیڈریشن کے سیکرٹری جنرل خورشید احمد کی قیادت میں نکالی گئی جس میں محنت کشوں کی بہت سی دوسری تنظیمیں بھی شامل ہوئیں۔ ریلی کا اختتام جی پی او چوک پر ہوا جہاں مقررین نے مطالبہ کیا کہ محنت کشوں کا استحصال بند کیا جائے اور مزدور کی کم سے کم تنخواہ 15ہزار روپے مقرر کی جائے۔ مقررین نے مطالبہ کیا کہ آئی ایل او کنونشن کی سفارشات پر عملدرآمد کیا جائے ۔ انہوں نے کہاکہ 124سال قبل امریکہ میں شکاگو کے محنت کشوں نے عظیم قربانیاں دیں لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں آج بھی لیبر لاز پر عملدرآمد نہیں کیا جارہا اور محنت کشوں سے 8گھنٹے کی بجائے 12گھنٹے کام لیا جارہا ہے۔ حکومت نے ماضی میں جو کم سے کم چھ ہزار روپے تنخواہ مقرر کی اس پر بھی عملدرآمد نہیں کیا جارہا۔ وزیراعظم کی جانب سے محنت کش کی کم سے کم تنخواہ سات ہزار روپے کا اعلان کرنے پر مقررین نے کہاکہ سات ہزار روپے سے کسی غریب آدمی کو تین وقت کی روٹی میسر نہیں آسکتی۔ امراء کے ایک ایک بچے کا روزانہ کا خرچ سات ہزار روپے سے زیادہ ہے۔ ان کے بچے تو ایچی سن اور غیر ملکی تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم ہیں جبکہ ہمارے بچوں کو سرکاری سکولوں میں بھی تعلیم کے مواقع حاصل نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خون کا رنگ سب کا ایک جیسا ہوتا ہے۔ دیگر طبقات کی طرح محنت کشوں کو بھی علاج معالجہ ، تعلیم کے حصول اور روزگار کے مواقع میسر آنے چاہئیں۔ شرکاء نے بڑے بڑے بینرز اور پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے جن پر بجلی کی لوڈشیڈنگ ، مہنگائی کے خلاف نعرے اور ان کے مطالبات درج تھے۔ بعض محنت کشوں نے قمیض اتار کر گلے میں روٹی بھی لٹکا رکھی تھی اور حکمرانوں کی محنت کش دشمن پالیسیوں کے خلاف سینہ کوبی کی۔ الحمراء میں منعقدہ مسلم لیگ (ن) کے لیبر کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کے سینئر مشیر سردار ذوالفقار کھوسہ نے مہنگائی کا ذمہ دار وفاقی حکومت کی پالیسیوں کو قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں جمہوریت کو پنپنے کا موقع نہیں دیا گیا۔ بار بار کے مارشل لاء نے ملک میں ترقی کا پہیہ جام کردیا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کی خوش قسمتی ہے کہ اسے میاں شہبازشریف جیسا وزیراعلی ملا ۔ انہوں نے کہاکہ آئندہ تین سال کے دوران وزیراعلی محنت کشوں کیلئے اہم پالیسیوں کا اعلان کریں گے۔ سیمینار سے صوبائی وزیر ندیم کامران اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ پیپلز لبریشن فیڈریشن کے زیراہتمام ریلی لاہور ریلوے اسٹیشن سے شروع ہوئی۔ ریلی کی قیادت صوبائی وزیر محنت وافرادی قوت اشرف سوہنا، پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر اصغر گجر اور رکن صوبائی اسمبلی ساجدہ میر نے کی۔ ریلی لاہور پریس کلب پر اختتام پذیر ہوئی۔ ریلی سے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ہی واحد جماعت ہے جو محنت کشوں کی نمائندہ ہے اور ان کے مسائل حل کررہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی نے جو روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ لگایا تھا اس پر عملدرآمد کیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ محنت کش پیپلز پارٹی کا ساتھ دیں حکومت جلد لیبر پالیسی کا اعلان کرے گی۔ علاوہ ازیں دیگر محنت کش تنظیموں نے بھی بادامی باغ لاہور اور شہر کے دیگر حصوں سے ریلیاں نکالیں۔

Tags: پاکستان

وفاقی کابینہ نے قومی لیبر پالیسی 2010 ء کی منظوری دے دی

May 1st, 2010 · No Comments

محنت کشوں کی کم از کم تنخواہ 6ہزار سے روپے سے بڑھا کر 7 ہزار روپے کر دی گئی

اسلام آباد ‘ وفاقی کابینہ نے قومی لیبر پالیسی 2010 ء کی منظوری دے دی ہے ۔ محنت کشوں کی کم از کم تنخواہ 6ہزار سے روپے سے بڑھا کر 7 ہزار روپے کر دی گئی ہے ۔ ملک میں جبری مشقت پر مکمل پابندی ہوگی ۔ خواتین ورکر کے حالات کار کو بہتر بنانے کے لیے بھی بعض قوانین میں ترامیم کی جائیں گی۔ یکم جون سے لیبر پالیسی پر عملدرآمد شروع ہوگا ۔ وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کی صدارت میں اسلام آباد میں منعقد ہوا ۔ وفاقی وزیر محنت و افرادی قوت سید خورشید شاہ نے لیبر پالیسی کے چیدہ چیدہ نکات کے بارے میں بریفنگ دی ۔کابینہ نے پالیسی کی منظوری دے دی ہے ۔ پالیسی کے تحت صنعتی کارکنوں کے لیے مزید مراعات کا اعلان کیا گیا ہے ۔ اولڈ ایج بینیفیٹ سے رجسٹر تمام ورکرز اس سے فائدہ اٹھا سکیں گے ۔ رجسٹر لیبر کو بینکوں کے ذریعے تنخواہوں کی ادائیگی ہوگی ۔ مختلف اداروں میں خواتین ورکرز کی تعداد کو آئی ایل او کے کنونشن کے مطابق مقرر کیا جائے گا۔ ملک سے جبری مشقت کے خاتمے کے لیے اقدامات تجویز کئے گئے ہیں ۔ 14 سال سے 18 سال تک کے بچوں کو کام کے لیے مناسب ماحول فراہم قانونی تقاضا ہوگا۔ زرعی کارکنوں کے لیے بھی اقدامات تجویز کئے گئے ہیں ۔ زرعی کارکنوں کو موت ، کسی حادثے میں معذور ہونے یا کسی مشینری میں کام کے دوران زخمی ہونے پر معاوضہ ادا کیا جائے گا ۔افرادی قوت کو ہنر سکھانے کے لیے اقدامات تجویز کئے گئے ہیں ۔ خواتین ورکرز کے حالات کار بہتر بنانے کے لیے بھی اقدامات تجویز کئے گئے ہیں ۔

۔۔۔تفصیلی خبر۔۔۔۔
وفاقی حکومت کا ملک کے 5 کروڑ مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے نئی قومی لیبر پالیسی کا اعلان
محنت کشوں کی کم از کم تنخواہ 7 ہزار مقرر ، ریٹائرمنٹ کی عمر 55 سال سے کم کر کے 50 سال کر دی گئی
وفاقی ، صوبائی اور ضلعی سطح پر سہ فریقی مانیٹرنگ کمیٹیاں قائم ہوں گی ، سکولوں میں ٹیکنیکل سکیم متعارف ہوگی
تمام شہروں میں افرادی قوت کے مراکز قائم ہوں گے ، رجسٹرڈ کو بینک چیکوں کے ذریعے تنخواہوں کی ادائیگی کی جائے گی
محنت کشوں کو صحت ، تعلیم ، پنشن کے حصول سے متعلق سہولیات کے لیے نادرا کے ذریعے سمارٹ کارڈ جاری ہوں گے
وزیر اعظم کا اسلام آباد میں مزدور کنونشن سے خطاب

اسلام آباد ‘ حکومت نے نئی قومی لیبر پالیسی 2010 ء کا اعلان کر دیا ہے ۔ملک کے پانچ کروڑ محنت کشوں کے لیے متعدد مراعات ، سہولیات اور ترغیبات کا اعلان کیا گیا ہے ۔کم سے کم اجرت 6 ہزار سے بڑھا کر 7 ہزار کر دی گئی ۔ لیبر قوانین پر عملدرآمد کے لیے وفاقی ، صوبائی اور ضلعی سطح پر سہ فریقی مانیٹرنگ کمیٹیاں قائم ہوں گی ۔ محنت کشوں کو صحت ، تعلیم ، اور پنشن کے حوالے سے نادرا سمارٹ کارڈ جاری کرے گی ۔ نوجوانوں کو ہنر سکھانے کے لیے میٹرک تک ٹیکنیکل اسکیم متعارف کرائی جائے گی۔ ملک بھر میں افرادی قوت کے مراکز بنائے جائیں گے ۔ اولڈ ایج بینیفٹ میںرجسٹر تمام ملازمین لیبر پالیسی سے فائدہ اٹھا سکیں گے ۔ اداروں کی رجسٹرڈ لیبر کو بینک چیک کے ذریعے تنخواہوں کی ادائیگی کا پابند بنا دیا گیا ہے ۔ای او بی آئی کے تحت ریٹائرمنٹ کی عمر 55 سال سے کم کر کے 50 سال کر دی گئی ہے ۔ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے قومی لیبر پالیسی کا اعلان مزدوروں کے عالمی دن کے موقع پر کنونشن سنٹر اسلام آباد میں منعقدہ مزدور کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔قبل ازیں وفاقی کابینہ نے لیبر پالیسی 2010 ء کی منظوری دی ۔ مزدورکنونشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ کابینہ کو لیبر پالیسی کی منظوری پر مبارکباد دیتا ہوں ۔ تمام سیاسی جماعتوں کو بھی مبارکباد دیتا ہوں کہ ان کے ارکان نے کابینہ میں اس کی حمایت کی ہے ۔ صوبائی حکومتوں کی تجاویز کو بھی شامل کیا گیا ہے ۔ محنت کشوں کے حوالے سے ذوالفقار علی بھٹو کی جو خدمات ہیں وہ کسی اور کی نہیں ہے ۔ بے نظیر بھٹو نے محنت کشوں کے بارے میں قوانین کو مضبوط کیا محنت کشوں کی فلاح و بہبود اور ان کے تحفظ کے بارے میں بے نظیر بھٹو نے جو خواب دیکھا تھا آج اس خواب کو تعبیر مل گئی ہے ۔وزیر اعظم نے کہا کہ لیبر پالیسی کے ذریعے ملک کے پانچ کروڑ مزدوروں کے حقوق کا تحفظ کیا گیا ہے ۔ صدر آصف علی زرداری اور مخلوط حکومت کو مبارکباد دیتا ہوں ۔ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ محنت کشوں اور مزدور طبقے کا کسی بھی سطح پر استحصال نہیں ہونے دیں گے۔ وفاقی صوبائی ضلعی سطح پر سہ فریقی مانیٹرنگ کمیٹیاں قائم کی جائیں گی ۔جو مزدوروں ، ملز مالکان اور سرکاری نمائندوں پر مشتمل ہوں گی یہ کمیٹیاں لیبرقوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں گی ۔ تمام رجسٹرڈ مزدور لیبر پالیسی سے مستفید ہو سکیں گے ۔ کم از کم سات ہزار اجرت کی ادائیگی کو یقینی بنانے کے لیے قانون کے تحت تمام ادارے ملازمین کو بینک چیکوں کے ذریعے تنخواہوں کی ادائیگی کریں گے ۔ ریٹائرڈ ملازمین کو صحت کی سرکاری سطح پر سہولیات دی جائیں گی اولڈ ایج بینیفیٹ کے تحت ریٹائرمنٹ کی عمر 55 سال سے کم کر کے 50 سال کر دی گئی ہے ۔پنشن میں سرکاری ملازمین کے مساوی اضافہ ہوگا۔ تمام اضلاع میں میٹرک تک ٹیکنیکل اسکیم متعارف کرائی جائیں گی ۔ شہروں میں افرادی قوت کے مراکز بنائے جائیں گے ہنر سکھانے والے افراد کی تنخواہوں میں بھی اضافہ ہوگا افرادی قوت سے متعلق اداروں کو مزید ترغیبات دی جائیں گی ۔ محنت کشوں کو نادرا کے ذریعے سمارٹ کارڈ جاری ہوں گے جن کے تحت صحت تعلیم پنشن کے حوالے سے محنت کشوں کو سہولت حاصل ہوگی ملازمتوں سے نکالے گئے کارکنوں کو ورکرز ویلفےئر فنڈ سے 15 ہزار روپے تک امداد دی جائے گی۔وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ محنت کشوں اور مزدوروں کو یونین سازی کا حق دینا بھی موجودہ حکومت کا ایک بڑا کارنامہ ہے ۔ وزیر محنت و افرادی قوت سید خورشید شاہ اور پیپلز پارٹی لیبر ونگ کے انچارج چوہدری منظور نے بھی مزدور کنونشن سے خطاب کیا ۔ مزدور کنونش کے موقع پر کنونشن سنٹر جئے ذوالفقار علی بھٹو جئے بے نظیر بھٹو اور دیگر نعروں سے گونجتا رہا

Tags: پاکستان

نیپرا نے بجلی کی قیمتوں میں 57پیسے فی یونٹ کمی کا اعلان کر دیا

April 30th, 2010 · No Comments

اسلام آباد۔نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے مارچ کے لئے بجلی کی قیمتوں میں 57پیسے فی یونٹ کمی کا اعلان کر دیا ہے ۔ نیپرا کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق بجلی پیدا کر نے والی کمپنیوں کے لئے مارچ کے لئے بجلی کی قیمتوں میں 6.30 روپے فی یونٹ کم کر کے 5.73روپے فی یونٹ کر دیا ہے ۔ نیپرا کے مطابق بجلی کی قیمتوں میں کمی مارچ کے دوران بجلی کی پیداواری لاگت میں کمی کے پیش نظر کیا گیا ہے ۔ اس کمی کا اطلاق بجلی استعمال کر نے والے تمام صارفین پر ہو گا اور اپریل کے بل میں اس کا فائدہ عوام تک پہنچایا جائے گا ۔ واضح رہے کہ فروری میں پیداواری لاگت بڑھنے کے باعث حکومت نے بجلی کی قیمتوں میں 1 روپیہ 2 پیسے اضافے کا فیصلہ کیا تھا۔

Tags: بریکنگ نیوز , پاکستان