وہ دن دور نہیں ہے جب گلی کوچوں سے مڈٹرم انتخابات کے مطالبے کی آواز آئے گی
ایوان صدر سے جعلسازوں کو تحفظ دینے کے بیانات دئیے جا رہے ہیں
آصف علی زرداری یا تو سازشوں سے آگاہ کریں ورنہ اپنے اوٹ پٹانگ بیانات سے قوم کا وقت ضائع نہ کریں
ہماری سیاسی سرگرمیوں میں جدوجہدکا فوج میں آئندہ چند ماہ میں ہونے والی تقرریوں سے کوئی تعلق نہیںہے
قائد حزب اختلاف کی پریس کانفرنس
اسلام آباد ‘ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ حکومتی کارکردگی یہی رہی تو یہ پانچ سال پورے کرتے نظر نہیں آرہی ۔ وہ دن دور نہیں ہے جب گلی کوچوں سے مڈٹرم انتخابات کے مطالبے کی آواز آئے گی ۔ ایوان صدر سے جعلسازوں کو تحفظ دینے کے بیانات دئیے جا رہے ہیں ۔ آصف علی زرداری یا تو سازشوں سے آگاہ کریں ورنہ اپنے اوٹ پٹانگ بیانات سے قوم کا وقت ضائع نہ کریں ۔ ہماری سیاسی سرگرمیوں میں جدوجہد کا فوج میں آئندہ چند ماہ میں ہونے والی تقرریوں سے کوئی تعلق نہیںہے ۔جمعہ کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ آصف علی زرداری متنازعہ بیان دے کر ثابت کررہے ہیں کہ انہوں نے ڈیڑھ سالوں سے کچھ نہیں سیکھا ا پنے عہدے اور مرتبے کا احساس اور خیال نہیں رکھ رہے ہیں ہر ماہ ایسے بیانات داغ دیتے ہیں جو ان کے عہدے سے مطابقت نہیں رکھتا جو کسی صورت میں بھی ایوان صدر سے نہیں آنے چاہئیں۔ آصف علی زردری کے یہ بیانات سن سن کر ہمارے کان پک گئے ہیں کہ ان کی حکومت اور جمہوریت پر مختلف اطراف سے حملے ہو رہے ہیں کبھی سیاسی اداکاروں ،کبھی سنگین اور قلم کا حوالہ دیا جاتا ہے کبھی پنجاب کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے بہتر یہ ہے کہ آصف علی زرداری اپنا اور قوم کا وقت ان پہلیوں پر صرف کرنے کے بجائے عوام کو اعتماد میں لیں اور بتائیں کہ یہ جو وہ ہر ماہ ایک نئی کہانی لے کر آتے ہیں اس کی بنیاد کیا ہے ۔؟ اس انداز سے ایوان صدر میں بیٹھ کر اپنے مخالفین پر بلاجواز تنقید کرنا ان پر طعنہ زنی کرنا اور پہلیاں بجھوانا ایوان صدر کے شایان شان نہیں ہے ۔ چوہدری نثارعلی خان نے کہاکہ یہ کتنی ستم ظریفی ہے کہ حکمرانوں اور بالخصوص زرداری کو ڈیڑھ سال بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی یاد نہیں آتی بلکہ جہاں جہاں بانی پاکستان کی فوٹوز تھیں انہیں ہٹوا کر ذوالفقارعلی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کی تصاویر لگوائیں گئیں لگتا ایسے تھا کہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نہیں بلکہ بھٹو خاندان ہیں اور اب جبکہ قائد اعظم کا حوالہ ان کی زبان سے نکلا بھی ہے تو اس انداز سے کہ جعلسازوں کی صفائی پیش کرنے کے لیے انہوں نے قائد اعظم کی مثال جا سوچی انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری کو شاید علم نہیںہے کہ عدالتوں میں مقدمات بی اے کی ڈگری کے ہونے یا نہ ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ جعلسازی کے جرم کے حوالے سے چل رہے ہیں یہ ایسا سنگین جرم ہے جس کی دفاع کوئی ذی شعور اور مہذب آدمی نہیںکر سکتا ۔ آصف علی زرداری کو کسی صورت زیب نہیں دیتا کہ وہ ایوان صدر میں بیٹھ کر جعلسازوں کے حق میں صفائیاں دیں اور اس میں مثال کے لیے قائد اعظم کی ذات کو لے آئیں ۔ قائد اعظم نے تو اپنی ساری زندگی حق انصاف اور اصول پرستی میں گزار دی ۔ زرداری کا یہ کہنا بھی صریحا غلطی اور زیادتی ہے کہ اپوزیشن جعلی ڈگریوں کے پردے کی آڑ میں مڈٹرم انتخابات کی سازش کررہی ہے جس دن پاکستان مسلم لیگ(ن) نے مڈٹرم انتخابات کا فیصلہ کیا یہ مطالبہ ڈنکے کی چوٹ پر کیا جائے گا۔ جس کے لیے کسی پردے کی آڑ کی ضرورت اس لیے نہیں ہے کہ یہ خالصتا جمہوری عمل کا حصہ ہے اور اگر حکومت نے کارکردگی نہ دکھائی تو وسط مدتی انتخابات عوام کے پاس جانے کا فطری ا ور جمہوری ذریعہ ہوتا ہے ۔ آصف علی زرداری نے اپنی ذات کی اگر عزت کرانا ہے تو اپنے عہدے اور منصب کے مطابق عمل کریں اور بیانات دیں اگر اسی طرح کے بیانات آئیں گے تو دوسری طرف سے اتنا ہی بڑا اور موثر جواب آئے گا انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری اگر حکومت اور ملک کی بہتری چاہتے ہیں تو حکومتی کارکردگی پر توجہ دیں ۔ عدلیہ کے فیصلوں پر عمل کریںاور ان کی حکومت نے ملک کے طول وعرض میں افراتفری کا جو ماحول پیدا کر رکھا ہے ۔اس کو کنٹرول کرنے کی سب کو مل کر کردار ادا کریں ۔ آصف علی زرداری مخالفین پر تو برستے ہیں ا ور امریکہ کو طعنے دیتے ہیں جعلسازوں کی صفائی پیش کرتے ہیں مگر وہ لفظ بھی گرانی ،بدامنی ، بجلی کی قیمتوں میں بلا جواز اضافے ، ملک میں کرپشن کے خاتمے کے حوالے سے اقدامات کے بارے میں خاموش ہیں ۔ پاکستان مسلم لیگ(ن) نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ فی الوقت مڈٹرم انتخابات کا مطالبہ نہیںکرے گی مگر حکومتی نااہلیوں اور بداعمالیوں کے فعال اور سرگرم کردار ادا کرنے کی ہے کہ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر دونوں جگہوں ہوو گا۔انہوں نے کہاکہ جمہوری اپوزیشن کے مطابق کردار ادا کررہے ہیں یہی اپوزیشن کاکام سڑکوں پر نکل کر کئی کام کرائے ہیں انہوں نے کہا کہ ہماری جدوجہد کا فوج میں اعلی تقرریوں سے کوئی تعلق نہیںہے ۔ جمہوری انداز میں اس کو آگے بڑھائیں گے حکومت جمہوری انداز سے اپوزیشن کی تجاویز کو قبول کررہی ہے نہ اس پر کان دھررہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ بجٹ سیشن میں اپوزیشن نے جس طرح فعال کردار ادا کیا اس کی مثال نہیں ملتی ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ(ن) کے 53 اراکین نے بجٹ بحث میں حصہ لیا ۔ حکومت نے مخصوص وزارتوں کو کٹوتی کی تحریکوں سے بچانے کی کوشش کی تھی ۔ پہلی بار اپوزیشن نے فنانس بل پر ترامیم دی ہیں ۔ اتنا فعال کردار پہلے اپوزیشن نے ادا نہیں کیا ۔انہوں نے کہاکہ کرپشن کے معاملات پر قومی اسمبلی کا اجلاس ریکوزیشن کیا جا سکتا ہے ضرورت ہوئی تو عوام کو بھی متحرک کیا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وزارت قانون وانصاف میں وزیر قانون نے اپنے دوست کوسیکرٹری بنایا ہے ۔ بابر اعوان کے بھائی اگر شہباز شریف کی طرح اہلیت رکھتے ہیں تو وہ انہیں ضرور سیکرٹری قانون ،اٹارنی جنر ل لگا دیں ۔ بابر اعوان کے بیان سے سیاسی درجہ حرارت بڑھ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومتی کمزوریوں کو سسٹم کے حوالے سے موازنہ کرلیا جائے ۔ حکومتی ناکامی پر انتخابات اس کا حل ہوتے ہیںخودکشیوں کے واقعات کی ذمہ داری حکومت وقت پر عائد ہوتی ہیں۔ دنیا میں گیس کی قیمتیں کم ہو رہی ہیں یہاں بڑھ رہی ہیں بجلی کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں پٹرولیم پر 2 سو ارب روپے سے زائد کا ٹیکس لیا جا رہا ہے خودکشی کے واقعات کے سدباب کے لیے حکومتی کان پر جون نہیں رینگتی ۔ اپوزیشن کے بارے میں ٹائم فریم طے نہیں ہوا ۔حکومت شوگر لابی کا تحفظ کررہی ہے ۔ ڈگری کے حوالے سے جعلسازوں کو تحفظ دینے کے لیے حکومت بلواسطہ رابطہ کیا تھا حکومت پر واضح کیا کہ ایسے قانون کا حصہ نہیں بنیںگے جس کے تحت جعلی ڈگری ہولڈرز کو تحفظ دیا جائے ۔ اگر اس قسم کا قانون لایا گیا تو اس کی شدید مزاحمت کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی یہی کارکردگی رہی تو پانچ سال پورے کرتے نظر نہیں آرہی یہی حالات رہے تو مڈٹرم انتخابات کے مطالبے کی آواز آئے گی ۔
Tags: پاکستان
٭۔ ۔ ۔ اس عظیم سانحہ کے موقعہ پر عوام صبر و تحخمل سے کام لیں اور حکومت کے ساتھ تعاون کریں
٭۔ ۔ ۔ سکیورٹی اداروں کو واضح کردیا ہے کہ دہشت گردوں کا سراغ لگانے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائیں‘ غفلت برداشت نہیں کی جائے گی: وزیراعلیٰ پنجاب کا سرگنگارام ہسپتال میں زخمیوں کی عیادت کے بعد میڈیا سے گفتگو
لاہور‘ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف نے حضرت داتا گنج بخش ہجویری کے مزار پر دہشت گردوں کے حملہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ داتا گنج بخش مزار پر حملہ کرنے والے مجرموں کی گرفتاری تک حکومت چین سے نہیں بیٹھے گی۔ انہوں نے انتظامیہ کو بھی خبردار کیا ہے کہ اس حوالے سے کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس عظیم سانحہ کے موقع پر صبر و تحمل سے کام لیں اور دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے حکومت کے ساتھ تعاون کریں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج سرگنگارام ہسپتال میں خودکش دھماکوں میں زخمی ہونیوالے افراد کی عیادت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر کمشنر لاہور خسرو پرویز‘ خواجہ احمد حسان‘ رکن قومی اسمبلی ملک ریاض احمد اور دیگر اعلیٰ حکام بھی ان کے ہمراہ تھے۔ وزیراعلیٰ سرگنگارام ہسپتال کے دوسرے فلور پر زیرعلاج بم دھماکوں کے ایک ایک زخمی کے پاس گئے اور عیادت کی۔ اس موقع پر انہوں نے خصوصی طور پر سیکرٹری اطلاعات شعیب بن عزیز کو زخمیوں کی فہرست بنانے اور ان کے کوائف کے حصول کی بھی ہدایت کی۔ وزیراعلیٰ نے زخمیوں سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے کہا کہ آج میرا دل بھی خون کے آنسو رو رہا ہے۔ جن لوگوں نے بھی یہ گھناؤنی حرکت کی ہے وہ اسلام اور انسانیت کے دشمن ہیں۔ انہیں ہر صورت کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ زخمیوں نے وزیراعلیٰ کو دھماکہ کے موقع پر صورتحال سے آگاہ کیا۔ سرگنگارام ہسپتال میں ایک خاتون اور 12 سالہ بچے سمیت کل 19 زخمی لائے گئے۔ زخمیوں نے اپنے علاج معالجہ پر اطمینان کا اظہار کیا اور بعض غریب افراد نے وزیراعلیٰ سے خصوصی امداد کی بھی اپیل کی۔ بعدازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ میاں محمد شہبازشریف نے کہا کہ حضرت داتا گنج بخش کے مزار پر جو دلخراش عظیم سانحہ ہوا ہے اس پر پوری قوم افسردہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنہوں نے بھی یہ گھناؤنی حرکت کی ہے انہیں اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اپنے اس عظیم گناہ کا حساب دینا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ کے فوراً بعد میں نے آئی جی پنجاب‘ چیف سیکرٹری اور کمشنر لاہور خسرو پرویز کو ہدایت کی کہ وہ فوری طور پر امدادی سرگرمیوں کا آغاز کریں اور ان کی نگرانی خود کریں۔ انہوں نے کہا کہ ملزموں کا سراغ لگانا اور انہیں گرفتار کرنا پولیس کی ذمہ داری ہے۔ میں نے جمعہ کی الصبح سکیورٹی ایجنسیوں کے سربراہان کا اجلاس بلایا اور انہیں ہدایت کی کہ وہ فوری طور پر اس گھناؤنے سانحہ کے مجرموں کی گرفتاری کیلئے اقدامات کریں۔ جب تک داتا دربار مزار کے صحن میں آگ اور خون کی ہولی کھیلنے والے مجرموں کو گرفتار نہیں کیا جاتا چین سے نہیں بیٹھیں گے اور اس حوالے سے کسی طرح کی بھی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ انسانیت کے قاتل کسی بھی صورت بچ نہیں سکیں گے۔ حکومت نے ان سے آہنی ہاتھوں نمٹنے کا تہیہ کر رکھا ہے اور انہیں ہر صورت کیفرکردار تک پہنچایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ میں خود اور مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نوازشریف اس دلخراش سانحہ پر شدید مذمت کرتے ہیں اور اس بات کا اعادہ کرتا ہوں کہ دشمن اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہوسکے گا۔ انہوں نے کہا کہ انسانیت اور اسلام کے دشمن ہماری صفوں میں نفاق پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس عظیم سانحہ پر جذبات میں آنا قدرتی امر ہے لیکن میری عوام سے اپیل ہے کہ وہ اپنی صفوں میں اتحاد قائم رکھیں اور حکومت کے ساتھ مل کر دہشت گردوں کا مقابلہ کریں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عوام کو تحفظ فراہم کرنا اور مجرموں کی گرفتاری حکومت کی ذمہ داری ہے۔ میں عوام اور قوم کو یقین دلاتا ہوں جب تک مجرموں کو انجام تک نہیں پہنچایا جاتا میں چین سے نہیں بیٹھوں گا۔ اس سوال پر کہ جناب وزیراعلیٰ آپ کی سکیورٹی اور حضرت داتا گنج بخش کے مزار کی سکیورٹی میں کیا فرق ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ میں سکیورٹی کے اندر خود کو قید محسوس کرتا ہوں اور کئی مواقع پر اکیلا گاڑی لے کر بھی لوگوں میں چلا جاتا ہوں۔ یہ سکیورٹی مجبوری ہے تاہم انہوں نے کہا کہ عوام کو تحفظ فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے اور میں عوام سے وعدہ کرتا ہوں کہ مجرموں کو کیفرکردار تک پہنچا کر دم لونگا۔
Tags: پاکستان
ہائی کورٹ نے پی پی حلقہ 13 راولپنڈی میں دوبارہ انتخابات کر انے کا حکم دے دیا
راولپنڈی ‘ ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ کے جج خواجہ امتیاز احمد نے پاکستان مسلم لیگ ن کے رکن صوبائی اسمبلی ملک یاسر رضا کی تعلیمی اسناد سے متعلق پی پی پی کے سابق ایم پی اے اشتیاق مرزا ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر کردہ الیکشن پٹیشن کی سماعت کے بعد الیکشن پٹیشن منظور کر تے ہوئے اس حلقہ میں دوبارہ الیکشن کر انے کا حکم جاری کر دیا ہے۔فاضل عدالت میں فیصلہ کے وقت رکن صوبائی اسمبلی ملک یاسر رضا اپنے والد ملک رضا اسد کو نسل سردار عبدالرزاق کے ہمراہ عدالت میں موجود تھے فاضل جج نے اپنے مختصر فیصلہ میں کہا کہ الیکشن پٹیشن منظور کر کے اس حلقہ میں ری الیکشن کا آرڈر دیا جاتا ہے اس طرح رکن صوبائی اسمبلی ملک یاسر رضا کو پنجاب اسمبلی کی اس نشست سے ہاتھ دھونا پڑے ہیں۔ یاد رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے سابق ایم پی اے اور سابق امیدوار پی پی 13 اشتیاق احمد مرزا نے مسلم لیگ ن کے ملک یاسر رضا کے خلاف الیکشن پٹیشن میں موقف اختیار کیا تھا کہ ان کی تعلیمی اسناد جعلی ہیں اور بالخصوص ایف اے کی سند کے حوالے سے ابہام پایا جاتا ہے جس میں داخلہ کے فارم پر ملک یاسر رضا کی تصویر کی بجائے کسی اور کی تصویر تھی ادھر اس عدالتی فیصلہ کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ملک یاسر رضا نے کہا کہ وہ اس فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ کی قیادت کی اجازت سے وہ دوبارہ الیکشن میں حصہ لیں گے اور ایک بار پھر عوام کی محبت اور اپنے کام کی بدولت دوبارہ منتخب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ حق و انصاف کے لئے کوشش کر نا میرا حق ہے تاہم عدلیہ کا احترام بھی ملحوظ خاطر رکھا جائے گا۔ انہوں نے اس موقع پر یہاں موجود لیگی ورکروں اور اپنے حلقہ کے عوام کا بھی شکریہ ادا کیا ملک یاسر رضا کے وکیل سر دار عبدالرازق کا کہنا تھا کہ وہ فیصلے کی نقول کے لئے جمعرات یا جمعہ کو درخواست کریں گے۔ نقول ملنے کے بعد وہ اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی بورڈز حکام نے بی اے اور ایف اے کی اسناد کی تصدیق کی تھی کہ یہ درست ہیں ۔ سمجھ نہیں آتا کہ کس طرح فیصلہ کیا گیا۔ حالانکہ جو شہادتیں پیش کی گئیں وہ من گھڑت تھیں ۔ انہوں نے فیصلہ کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن پٹیشن کی سماعت کے بعد عدالت نے جو فیصلہ دیا وہ عدالت کا حق ہے مگر ہم اس فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ میں جائیں گے۔
Tags: پاکستان
فیصل آباد‘ مسلم لیگ ن نے فیصل آباد سے اپنے تین ارکان اسمبلی سے جعلی ڈگریوںکی بنا پر استعفے طلب کرنے کا فیصلہ کرلیاہے۔ذرائع کے مطابق میاں نوازشریف کے ڈگریوںکے بارے میں بیان کے بعد یہ فیصلہ کیاگیاہے ۔ فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے اراکین صوبائی اسمبلی خواجہ محمداسلام اور چودھری محمد شفیق گجرکے خلاف پہلے ہی عدالت میں جعلی ڈگریوںکے حوالے سے کیس زیرسماعت ہیں جبکہ ایک خاتون رکن اسمبلی کے بارے میں مقامی خواتین ونگ پورے زوروشور سے بیان بازی میں مصروف ہے۔یاد رہے کہ اس سے قبل پچھلے ماہ جعلی ڈگری کی بناپر مستعفی ہونے والے رکن اجمل آصف مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر دوبارہ منتخب ہوچکے ہیں جبکہ نوازشریف کے اس فیصلہ کے بعد کہ جعلی ڈگری والوںکو دوبارہ ٹکٹ نہیں دیاجائے گا فیصل آباد کے سیاسی حلقوں میں ہلچل پیدا ہوگئی ہے۔ان ارکان اسمبلی کے شہری حلقہ سے تعلق رکھنے کی وجہ سے شہر میں ضمنی الیکشن ہونے کی صورت میں سیاسی حلقے اسے ایک بڑا اپ سیٹ قرار دے رہے ہیں۔
Tags: پاکستان
٭۔ ۔ ۔ حکومت عدلیہ کے سامنے کھڑی ہو گئی ہے، عدلیہ کوآنکھیں دکھائی جارہی ہیں اور اس کے فیصلے تسلیم نہیں کئے جارہے، عدلیہ کے خلاف سازش کو ناکام بنائیں گے
٭۔ ۔ ۔ بابر اعوان وکلاء کو تقسیم کرنے کیلئے جہاز میں پیسے بھر کر پھر رہے ہیں، چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ کا پارلیمنٹ بارے بیان نامناسب ہے
٭۔ ۔ ۔ ملک میں جمہوریت کو مستحکم دیکھنا چاہتے ہیں ، حکومت کو وارننگ نہیں دینا چاہتے لیکن مسائل کو نظر انداز بھی نہیں کر سکتے ہر ایشو پر پارلیمنٹ کا اجلاس بلائیں گے
٭۔ ۔ ۔ 300 ارب کی کرپشن پاکر بھیک مانگنے سے بچا جا سکتا ہے، اگسٹا آبدوزوں میں کرپشن کرنے والوں کو ڈھونڈنا مشکل نہیں ہے، اس سرزمین کو سب نے دونوں ہاتھوں سے لوٹا ہے
لاہور ‘ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ ہم ملک میں جمہوری نظام کو غیر مستحکم ہوتے نہیں دیکھنا چاہتے ۔ حکومت کو وارننگ نہیں دے رہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیںکہ ہم ملک کو درپیش ایشوز سے صرفِ نظر کرلے گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عدلیہ کے مقابل کھڑی ہو گئی اور اسے آنکھیں دکھا رہی ہے۔ایک وزیر وکلاء کی ہمدردیاں خریدنے نکلے ہوئے ہیں۔ میں ان وکلاء کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے انہیں دی گئی رقم واپس کردی۔میاں نواز شریف نے پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کی طرف سے پارلیمنٹ کے بارے میں استعمال کئے گئے الفاظ کو نامناسب قرار دیا اور کہا کہ کسی بھی ادارے کے بارے میں ایسے الفاظ کا استعمال نہیں کیا جانا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن پر قابو پاکر ہم دوسرے ملکوں سے بھیک مانگنے سے بچ سکتے ہیں۔میاں نواز شریف نے کہا کہ ان کی جماعت قومی ایشوز پر مرحلہ وار بحث کیلئے قومی اسمبلی کا اجلاس ریکوزیشن کرے گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایوان وزیر اعلی میں چھ سات گھنٹے جاری رہنے والے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف، قائد حزب اختلاف چوہدری نثار احمد اور سینیٹر پرویز رشید سمیت مسلم لیگ (ن) کے اہم عہدیداروں نے شرکت کی۔اجلاس میں میاں نواز شریف کو لاہور میں جاری ترقیاتی منصوبوں اور آئندہ مون سون کے موسم میں واسا کی طرف سے کئے گئے انتظامات سے بھی آگاہ کیا گیا۔اجلاس میں ملک کو درپیش مسائل اور مسلم لیگ (ن) کی آئندہ حکمت عملی کے حوالے سے بھی تفصیلی غور کیا گیا۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میاں نواز شریف نے کہا کہ 60 سال سے ملک کے حالات زیادہ خوش کن نہیں رہے۔آج بھی حکومت کشکول لے کر بھیک کیلئے پھر رہی ہے جس پر بہت شرم آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر 300 ارب کرپشن پر قابو پالیا جائے تو ہمیں امریکہ سے ڈیڑھ ارب یا سوا ارب ڈالر لینے کی ضرورت نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ جی ٹونٹی کے اجلاس میں سعودی عرب اور بھارت تو موجود تھے لیکن پاکستان نہیں تھا جو بہت تکلیف دہ بات ہے۔ میاں نواز شریف نے کہا کہ جب تک ملک میں حالات سازگار نہیں ہوں گے یہاں کوئی سرمایہ کاری نہیں کرے گا۔حکومت نے گذشتہ اڑھائی سال کے دوران بجلی کے بحران سے نمٹنے کیلئے کوئی حکمت عملی نہیں بنائی۔ صرف رینٹل بجلی گھروں کو یہاں لایا گیا جن سے اتنی مہنگی بجلی ملنے پر یہاں کوئی انڈسٹری نہیں لگائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عدلیہ کے سامنے کھڑی ہو گئی ہے اور اسے آنکھیں دکھا رہی ہے۔ اس کے کسی فیصلے پر عمل نہیں کیا جاتا۔ عدالت وزیر کو سزا سناتی ہے اگلے ہی لمحے صدر اسے معاف کردیتے ہیں۔وکلاء میں پیسے بانٹ کر ان کا ضمیر خریدنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ بابر اعوان گاڑی میں رقم پوری نہ آنے پر اسے جہاز میں بھر کر پھر رہے ہیں۔ہم نے ملک میں جمہوریت کے استحکام کی خاطر فرینڈلی اپوزیشن کے طعنے بھی سہے لیکن اب درپیش مسائل سے صرفِ نظر نہیں کریں گے۔ عدلیہ کے خلاف سازش کی گئی تو اس کا راستہ روکا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ حکومت کے اڑھائی سالوں کے دوران معاملات ٹھیک ہونے کی بجائے مزید پستی آئے ہے۔فیصلہ کیا گیا تھا کہ سٹیل ملز سمیت اداروں میں قابل ڈائریکٹر اور چیف ایگزیکٹو لگائے جائیں گے۔اس حوالے سے بورڈ آف ڈائریکٹرز قائم کیا جائے گا لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ سٹیل ملز میں وہ شخص آج بھی بیٹھا ہے ۔ چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ کے پارلیمنٹ کے بارے میں ریمارکس کو انتہائی غیر مناسب قرار دیتے ہوئے میاں نواز شریف نے کہا کہ کچھ لوگ انفرادی طور پر برے ہوسکتے ہیں لیکن یہ وہی پارلیمنٹ ہے جس میں بیٹھے لوگوں نے ڈکٹیٹر کے خلاف جدوجہد کی اور عدلیہ کی بحالی میں بھی اہم کردار ادا کی۔ انہوں نے کہا کہ صرف سیاستدانوں کا ہی نہیں بلکہ بیورو کریسی، ڈکٹیٹروں، ڈکٹیٹر کا ساتھ دینے والوں سب کا احتساب ہونا چاہیئے۔ اس سرزمین کو سب نے دونوں ہاتھوں سے لوٹا ہے۔ جرنیل نے لاہور میں بھی کمرشل پلاٹ حاصل کئے جس کا اگلے روز ہی سودا ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگسٹا آبدوزوں کے سودے میں کرپشن منظر عام پر آئی ہے۔ اس سودے میں نہ صرف پاکستانیوں نے کرپشن کی بلکہ فرانسیسیوں کو بھی حصہ دار بنایا گیا۔اس سودے میں کرپشن کرنے والے پاکستانیوں کو تلاش کرنا کونسا مشکل کام ہے۔انہوں نے کہا کہ صرف این آر او سے مستفید ہونے والوں کو نہیں چھوڑنا چاہیئے اگر چھوڑنا ہے تو پھر سب کو چھوڑا جائے انصاف سب کیلئے ہونا چاہیئے۔ پھر وہ لوگ کیوں جیلوں میں سڑ رہے ہیں جنہیں دو دو لاکھ کی کرپشن پر سزا دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ سٹیل ملز کو مشرف نے کوڑیوں کے بھاؤ فروخت کرنے کی سازش کی جسے جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ناکام بنایا۔ انہوں نے کہا کہ 10 ہزار کنٹینر غائب کردیئے گئے۔ یہ کس طرح کی حکومت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے 18 ویں ترمیم کیلئے بہت قربانیاں دی ہیں اسے صوبہ سرحد کا نام تبدیل کر کے خیبر پختونخواہ رکھنے اور جوڈیشل کمیشن پر شدید تحفظات تھے لیکن اس وقت کہا گیا کہ 18 ویں ترمیم کے راستے میں ہم رکاوٹ بن رہے ہیں اور میں نے یوٹرن لے لیا ہے لیکن یہ تمام خدشات غلط نکلے۔اب بھی اپنا کردار ادا کریں گے اور ہر قومی ایشو پر قومی اسمبلی کا اجلاس ریکوزیشن کیا جائے گا
Tags: پاکستان
٭۔ ۔ ۔ بار ایسوسی ایشن میں گرانٹس تقسیم کرتے ہوئے جو غیرذمہ دارانہ تقاریر کی گئی ہیں اُنہوں نے اِس عمل کو متنازعہ بنا دیا
٭۔ ۔ ۔ 10سالوں کے دوران سرزد کی جانے والی غلطیوں کا مداوا ہوتا ہوا نظر نہیںآ رہا۔نوازشریف
٭۔ ۔ ۔ صوبہ خیبر پختوانخواہ کے وزیراعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی کی رائے ونڈ میں مسلم لیگ(ن) کے قائد اور پنجاب کے وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف سے ملاقات
لاہور ‘ پاکستان مسلم لیگ(ن) کے قائد محمد نوازشریف نے کہاہے کہ پارٹی خود احتسابی کے عمل کو اختیارکرے ۔ انہوں نے کہاکہ اپنی سمت کودرست رکھنے اور اپنے مقاصد میں کامیابی کو یقینی بنانے کیلئے اپنی کارکردگی کاتسلسل کے ساتھ تنقیدی جائزہ لیتے رہنا ناگزیر ہوا کرتاہے۔نوازشریف نے کہاکہ خود احتسابی ہی ناکامی کو کامیابی میں بدل سکتی ہے ۔اپنا محاسبہ کرنے والی قومیں کبھی ناکام نہیں ہوتیں۔ انہوںنے ان خیالات کااظہاررائے ونڈ میں پارٹی کے ایک اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا،جس میں پنجاب کے وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف ،قومی اسمبلی میں حزب اختلاف چودھری نثارعلی خان،سابق وفاقی وزیرخزانہ سرتاج عزیزکے علاوہ ارکان قومی اسمبلی خواجہ محمد آصف،احسن اقبال،خواجہ سعد رفیق اور سینیٹر پرویزرشید نے شرکت کی۔اس موقع پر مسلم لیگ(ن) کے قائد محمد نوازشریف نے کہاکہ عوام نے ہمیں جو بھی اختیار دیا ہے اُسے عوام کی زندگیوں میں تبدیلی لانے کیلئے استعمال کیاجاناچاہیے۔ نوازشریف نے کہاکہ 10سالوں کے دوران سرزد کی جانے والی غلطیوں کا مداوا ہوتا ہوا نظر نہیںآ رہا۔بار کونسلز کو دی جانے والی گرانٹس کا ذکر کرتے ہوئے نوازشریف نے کہاکہ گرانٹس تقسیم کرتے ہوئے جو غیر ذمہ دارانہ تقاریر کی گئی ہیں اُنہوں نے اِس عمل کو متنازعہ بنا دیا ہے۔ا نہوںنے سوال کیا کہ جب ملک بھر کی بار ایسوسی ایشنز عدلیہ کی آزادی کی جدوجہد میں مصروف عمل تھیں اُس وقت یہ گرانٹس کہاں تھیں؟ نوازشریف نے کہاکہ ہم پر نشتر برسانے والے اپنے گریبانوںمیں جھانکیں اور قوم کو اپنے پروگرام اور ایجنڈے سے آگاہ کریں۔انہوںنے کہاکہ قومی تعمیر نو کا مشترکہ ایجنڈاتشکیل دیناآج کی اہم ترین ضرورت ہے۔ہمیں اپنی قومی ذمہ داریوں سے عہدہ برا ہ ہونے کیلئے سالوں کے کام مہینوں میںاور مہینوں کے کام ہفتوں میں کرناہونگے۔ نوازشریف نے کہاکہ مسلم لیگ(ن) کا بحیثیت جماعت یہ فرض ہے کہ وہ حکومتی امور کی نگرانی کرے اور پالیسیوں کے بنانے اور ان پر عملدرآمد کا جائزہ بھی لے۔انہوںنے کہاکہ ہماری جماعت نے آمریت کی مزاحمت اور خاتمے کیلئے جو عظیم کردار ادا کیاہے اب اس کے بعد پاکستان کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کرکے خوابوں کی تعبیر حاصل کرے۔بعد ازیں صوبہ خیبر پختوانخواہ کے وزیراعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی نے رائے ونڈ میں مسلم لیگ(ن) کے قائد محمدنوازشریف اور پنجاب کے وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف سے ملاقات کی ۔
Tags: پاکستان
موجودہ حکومت کی ناقص پالیسیوں ،کرپشن ، مہنگائی ، بے روزگاری اور بدامنی سے ملک میں انقلاب کی راہ ہموار ہو رہی ہے۔ چوہدری نثارعلی خان
طویل جدوجہد کے بعد ملک کو استحکام دینے ، عدلیہ کی آزادی ، آئین کی بالادستی کے لیے 15 وفاقی وزارتوں کی قربانی دی
آج ملک میں نظریاتی نہیں بلکہ زرداری کی پیپلزپارٹی کی حکومت ہے جس کے اقتدار کا سورج جلد غروب ہونے والا ہے
قاحزب اختلاف کا یونین کونسل شکریال کے عوامی مسائل کے حوالے سے سالانہ کھلی کچہری سے خطاب
راولپنڈی ‘ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کی ناقص پالیسیوں ،ک رپشن ، مہنگائی ، بے روزگاری اور بدامنی سے ملک میں انقلاب کی راہ ہموار ہو رہی ہے۔ طویل جدوجہد کے بعد ملک سے آمریت کا خاتمہ کیا اب ملک کو استحکام دینے ، عدلیہ کی آزادی ، آئین کی بالادستی کے لیے 15 وفاقی وزارتوں کی قربانی دی ۔ آج ملک میں نظریاتی نہیں بلکہ زرداری کی پیپلزپارٹی کی حکومت ہے جس کے اقتدار کا سورج جلد غروب ہونے والا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کے روز ہارون چوک میں یونین کونسل شکریال کے عوامی مسائل کے حوالے سے سالانہ کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر مسلم لیگی راہنما چوہدری انصر اقبال گجر اور شباب اظہر عباسی نے بھی خطاب کیا ۔ چوہدری نثارعلی خان نے اس موقع پر درجنوں شہریوں کی طرف سے اٹھائے گئے مسائل و مشکلات کے حل کے لیے موقع پر احکامات صادر کرنے کے علاوہ معمولی نوعیت کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 3 کروڑ روپے سے زائد کی فوری گرانٹ کا بھی اعلان کیا ۔ انہوں نے یوین کونسل شکریا اور کھنہ ڈآک میں مشترکہ طور پر 30 رکنی کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا جو کمیٹی مقامی مسائل کے حوالے سے براہ راست چوہدری نثار اور ان کے سیکرٹریٹ سے رابطہ رکھے گی ۔ قبل ازیں کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وفاق میں اپوزیشن میں ہونے کے باوجود ہم نے گزشتہ دو سال میں اپنے حلقے میں ڈیڑھ ارب روپے سے زائد رقوم ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کی انہوں نے کہا کہ(ن) لیگ کے قائد نواز شریف کا مشن ہے کہ نظام میں انقلابی تبدیلی لا کر عوام کے روز مرہ مسائل کے حل میں آسانی پیدا کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ آج ملکی حالات انتہائی مایوس کن ہیںلیکن اپنی محرومیوں ،مایوسیوں اور غربت و افلاس سے انقلاب کا راستہ نکلے گا۔ انہوں نے کہا کہ آج ملک میں ذوالفقارعلی بھٹو مرحوم والی نظریاتی پیپلزپارٹی نہیں بلکہ زرداریوں کی پارٹی کی حکومت ہے اور قومی وسائل سے صرف دولت اور زر والے مستفید ہو رہے ہیں موجودہ زرداری پارٹی کی پالیسیاں امریکہ سے آتی ہیں آج وہ لوگ وزیر ہیں جو زرداری کو خوش رکھ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں فخر ہے کہ ہمیں کرپشن کی بجائے ملک وقوم کی ترقی میں مہارت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن محب وطن لوگوں کی جماعت ہے ہم نے قومی مفادات ، عدلیہ کی آزادی اور قانون کی بالادستی کے لیے 15 وفاقی وزارتوں کے ساتھ میں نے خود سینئر وفاقی وزیر کی صورت میں نائب وزیراعظم کے منصب کی قربانی دی ۔ ہماری اسی قربانی اللہ کی تائید اور عوامی حمایت سے ہم نے عدلیہ کو آزادی دلائی ہے یہی وجہ ہے کہ آج ملک میں عدل وانصاف کا دور دور ہ ہو رہا ہے انہوں نے کہا کہ آج اگر پنجاب کے ساتھ وفاق اور دیگر صوبوں میں بھی ہماری حکومت ہوتی تو ملک تاریخ ساز ترقی کی راہ پر گامزن ہوتا ۔ ہم اس پر بھی مطمئن ہیں کہ ہم نے طویل جدوجہد کے بعد ملک سے قینچی لیگ اور مشرف کی آمریت کا خاتمہ کای اب وہ وقت دور نہیں جب عوامی طاقت کے ساتھ ملک میں انقلاب لایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ راولپنڈی نے ہمیشہ ثابت کیا کہ مسلم لیگ کا قلعہ ہے ۔ یہاں کسی زرداری ، مداری اور ان کے حواریوں کی کوئی جگہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ نہ صرف میں بلکہ خود نواز شریف اور شہباز شریف بھی راولپنڈی کے احسان مند ہیں اور ہر حالات میں مسلم لیگ کا ساتھ دینے کے صہ میں وہ یہاں کے عوام کا قرض اتارنا چاہتے ہیں۔
Tags: پاکستان
٭۔ ۔ ۔ امریکہ نے سول حکومت کے خلاف بیان دینے پر اپنے کمانڈر کو نکال دیا جبکہ ہماری حکومت کے خلاف بغاوت کرنے پر آمر مشرف کی حمایت کی
٭۔ ۔ ۔ آمریت کے ہمیشہ کیلئے خاتمہ کیلئے پرویز مشرف کا ٹرائل کرنا ہوگا، غربت ، بے روزگار ی کی وجہ سے لوگ خودکشیاںکررہے ہیں
٭۔ ۔ ۔ ہم نے گورنرراج کے بعد پیپلزپارٹی سے پنجاب حکومت کی بحالی کا مطالبہ نہیں کیا
٭۔ ۔ ۔ موجودہ حکمران میثاق جمہوریت پر عمل نہیں کررہے کبھی پنجاب حکومت کے خلاف سازشیں اور کبھی ہمیں فرینڈلی اپوزیشن کا طعنہ دیا جاتا ہے
٭۔ ۔ ۔ این آر آو دربدر کی ٹھوکریں کھانے والے سابق ڈکٹیٹر مشرف اور پیپلز پارٹی میں ایک دوسرے کو تحفظ دینے کی مفاہمتی دستاویز تھی۔ مسلم لیگ (ن) کے قائد کا کارکنوں سے خطاب
سیالکوٹ( ثناء نیوز )پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد و سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ وفاقی وزیر قانون بابر اعوان چیف جسٹس آف پاکستان کے خلاف لابی بنانے کیلئے بریف کیسوں میں غریب عوام کے کروڑوں روپے مختلف بار ایسوسی ایشنوں میں تقسیم کررہے ہیں اور انتہائی افسوس ناک بات یہ ہے کہ بابر اعوان قوم کی رقم لٹانے کیلئے ایئرفورس کے طیارے استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے آمریت کا راستہ ہمیشہ کیلئے روکنے کیلئے آمر پرویز مشرف کے ٹرائل کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے سول حکومت کے خلاف بیان دینے پر اپنے جرنیل کو نکال دیا ہے لیکن پاکستان میں جب ہم نے مشرف کو سول حکومت کے احکامات کی خلاف ورزی کرنے پر نکالا تھا تو امریکہ نے آئین توڑ کر ملک پر قبضہ کرنے والے برخاست شدہ جرنیل کی دس سال تک بھرپور سپورٹ کی تھی جو امریکہ کی واضح دوغلی پالیسی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج یہاں مسلم لیگی رہنما و رکن قومی اسمبلی خواجہ محمد آصف کی رہائش گاہ پر مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پرارکین قومی اسمبلی زاہد حامد، نیلسن عظیم، اراکین پنجاب اسمبلی انجینئر عمران اشرف، چوہدری محمد اخلاق، چوہدری جمیل اشرف، نسیم ناصر خواجہ، محمودہ سرور چیمہ، جمعیت اہل حدیث کے مرکزی امیر سینٹر ساجد میر بھی موجود تھے۔میاں محمد نواز شریف نے کہا کہ موجودہ حکمرانوں نے مشرف کا ٹرائل اور کاروائی کی بجائے پروٹوکول سے بیرون ملک جانے دیا جوکہ حب الوطنی نہیں ہے کیونکہ پروز مشرف کے خلاف آئین توڑنے ، جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے ، اقتدار پر قبضہ کرنے ،لال مسجد میںبے گناہ مسلمانوں کا قتل عام ،سابق وزیر اعلی بلوچستان نواب اکبر بگٹی ، کراچی میں بے گناہ افراد کے قتل سمیت جرائم کی ایک لمبی فہرست ہے جس میں ان کو سخت سے سخت سزا ملنی چاہیے تاکہ آئندہ کسی کو قانون ، ملک اور قوم سے کھیلنے کی جرات نہ ہوسکے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ڈکٹیٹر شپ اور آمریت کا ہمیشہ کیلئے خاتمہ کیلئے انہوں نے بے نظیر بھٹو سے مل کر میثاق جمہوریت کا معاہدہ کیا جس پر ان کی جماعت اب بھی قائم ہے لیکن موجودہ حکمران میثاق جمہوریت پر عمل نہیں کررہے اور اسی وجہ سے کبھی پنجاب حکومت کے خلاف سازشیں کی جاتی ہیںاور کبھی ہمیں فرینڈلی اپوزیشن کا طعنہ دیا جاتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم نے گورنرراج کے بعد پیپلزپارٹی سے پنجاب حکومت کی بحالی کا مطالبہ نہیں کیا ۔میاں نواز شریف نے کہا کہ پوری قوم اور دنیا کو معلوم ہے کہ ہم نے وکلاء سے مل کر بھرپور جدوجہداورلانگ مارچ کرکے معزول ججوںکو بحال کروایا ۔ میاں نواز شریف نے کہا کہ صدر آصف زرداری نے میثاق جمہوریت پر عمل درآمد کی یقین دہانی کروائی اور اس پر دستخط کئے ۔میثاق جمہوریت کی وجہ سے ہی مسلم لیگ (ن) وفاق میںپیپلزپارٹی کے ساتھ حکومت میں شامل ہوئی لیکن ہمیں مجبورا اتحاد سے علیحدہ ہونا پڑا ۔انہوں نے کہا کہ این آر آو دربدر کی ٹھوکریں کھانے والے سابق ڈکٹیٹر مشرف اور پیپلز پارٹی میں ایک دوسرے کو تحفظ دینے کی مفاہمتی دستاویز تھی۔ یہی وجہ ہے کہ مشرف کو گارڈ آف آنر کے ساتھ رخصت کیا گیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان میں لال مسجد میں خون کی ہولی کھیلنے والی، کراچی میں 48افراد کا قتل کرنے والے، ججوں کو گرفتار کرنے اور پاکستان کے آئین توڑنے والوں کے خلاف سویو موٹو ایکشن لیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم ملک میں جمہوریت کی بحالی ومضبوطی کے خواہاں ہے اور جمہوریت کو قائم رکھنے اور آئین کو توڑنے والوں کا راستہ روکنے کا یک ہی طریقہ ہے کہ آئین توڑنے والوں کا ٹرائل کیا جائے۔میاں نواز شریف نے کہا کہ بے نظیر بھٹو سے ہونے والے معاہدہ کے باوجود ڈوگرعدالتوں نے ان کے اورشہبا زشریف کے اسمبلیوں میں جانے سے روکنے کیلئے کاغذات نامزدگی مستر دکردیئے ۔انہوں نے کہا کہ مشرف کا احتساب اور ٹرائل ہوگا تو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ملک سے آمریت کا راستہ رک جائے گا ۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں غربت ، بے روزگار ی کی وجہ سے لوگ خودکشیاںکررہے ہیں
Tags: پاکستان
اپوزیشن نے قانون سازی میں ساتھ دینے سے انکار کردیا ہے
بڑی تعداد میں اراکین نااہل ہوئے تو ضمنی الیکشن کے بجائے ملک مڈٹرم انتخابات کی طرف جائے گا
۔2005 ء میں وزیراعلی پنجاب نے ہمیش خان کو تمغہ امتیاز دینے کی سفارش کی تھی
جب تک پنجاب بنک کا مسئلہ رہے گا پاکستان مسلم لیگ(ق) پارلیمنٹ میں کردار ادا نہیں کر سکے گی
قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کا اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب
اسلام آباد ‘ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان نے انکشاف کیا ہے کہ حکومت جعلی ڈگری رکھنے والے ارکان کو پاک صاف کر نے کے لئے قانون سازی کر نا چاہتی ہے جس کے تحت 2002 سے ڈگری کی پابندی کو ختم تصور کیا جائے گا۔ اپوزیشن نے قانون سازی میں ساتھ دینے سے انکار کر دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بڑی تعداد میں اراکین نا اہل ہوئے تو ضمنی الیکشن کے بجائے ملک مڈٹرم انتخابات کی طرف جائے گا۔2005 میں وزیر اعلیٰ پنجاب نے ہمیش خان کو تمغہ امتیاز دینے کی سفارش کی تھی جب تک پنجاب بنک کا مسئلہ رہے گا پاکستان مسلم لیگ ق پارلیمنٹ میں کر دار ادا نہیں کر سکے گی۔ جمعہ کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ قومی بجٹ پر پاکستان مسلم لیگ ن نے فعال اور مثبت کر دار ادا کیا ہے بجٹ میں پوشیدہ پہلوؤں کو منظر عام پر لائے ہیں ۔ اپوزیشن کی تجاویز اور تحفظات کے حوالے سے حکومت کا رویہ منفی رہا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر خزانہ جس طرح فنانس بل پر جواب دیا ہے اس سے تو یہ تاثر ملتا ہے کہ بجٹ پر کوئی بحث ہی نہیں ہو ئی ہے ۔ بجٹ تجاویز قابل عمل نہیں ہیں۔ اس کے تخمینے مفروضوں پر مبنی ہیں ۔ وزیر خزانہ نے اپوزیشن کے اعتراضات کا جواب نہیں دیا ۔ ایوان صدر ،وزیر اعظم ہاؤس،سپیکر و چیئر مین سینٹ کے لئے پہلے ہی سے بہت کچھ ہے اضافہ کر کے عوام کو غلط پیغام دیا جا رہا ہے ۔سب کچھ پاکستان کی اشرافیہ کو فائدہ پہنچانے کے لئے ہے ہم نے بجٹ تجاویز کی مخالفت کر تے ہوئے اپنی سفارشات بھی دیں اور پارلیمانی انداز میں حکومت پر دباؤ بڑھایا ہم ک نے کٹوتی کی تحریکیں بھی پیش کیں۔ کبھی اپوزیشن کا بجٹ کے حوالے سے اس قدر فعال کر دار نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے تجویز دی گئی ہے کہ ارکان اسمبلی کے الاؤنس کو 3700 روپے سے 6000 روپے کرایا جائے روزمرہ کا الاؤنس بھی بڑھانے کے لئے ہم پر دباؤ ہے ہوم نے اس کی مخالفت کی ہے ہم نے تجویز کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ اس تجویز کے پیچھے منفی سوچ کارفرما ہے حکومت عوام کے مسائل سے آگاہ نہیں ہے حکومتی طرز عمل ظالمانہ ہے ۔ حکومت کی طرف سے ایک اور تجویز آئی ہے کہ اراکین پارلیمنٹ کی جعلی ڈگریوں کے ایشو کے حوالے سے ان کو 2002 سے قانونی تحفظ دیا جائے حکومت کی طرف سے تجویز آئی ہے کہ قانون سازی سے متعلق مسودے کی تیاری کے لئے دو ارکان نامزد کئے جائیں ہم نے اس تجویز کی شدید مخالفت کی ہے انہوں نے کہا کہ این آر او کا مسئلہ بھی اصل میں بعض لوگوں کی غلط کاریوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش تھا ۔ اب ہمیں اس قسم کی کوششیں نہیں کر نا چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری طرف سے پلاٹوں کی راہ میں حائل ہو نے پر بھی بعض اراکین بے چین ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس وقت مشکل حالات میں ہیں اگر ہم نے ارکان الاؤنسز میں اضافہ کیا تو عوام میں غلط پیغام جائے گا ۔ تمام ارکان کے پانچ فالٹو ایئر ٹکٹ، ٹرپولنگ الاؤنس میں اضافہ کیا گیا ہے فنانس بل کے ذریعے یہ اضافہ لایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ ق کی سینئر لیڈر شپ حکومت کے ساتھ آنکھ مچولی کھیل رہی ہے۔ انہوں نے فنانس بل پر بھی اپنے اعتراضات واپس لے لئے مگر ہم نے حکومت کا کسی مرحلے پر ساتھ نہیں دیا ہے۔ عوامی بجٹ نہیں ہے بلکہ اسے وزارت خزانہ کی اسٹیبلشمنٹ نے تیار کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جب تک پنجاب بینک کا مسئلہ رہے گا مسلم لیگ ق کی قیادت پارلیمنٹ میں کوئی کر دار ادا نہیں کر سکے گی ۔ انہوں نے کہا کہ 2005 مایں اس وقت کے وزیر اعلی کی سفارش پر ہی ہمیش خان کو تمغہ امتیاز دیا گیا تھا ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر پارلیمنٹ کی 25 فیصد نشستیں جعلی ڈگریوں کی وجہ سے خالی ہو گئیں تو بات ضمنی انتخابات نہیں مڈٹرم انتخابات کی طرف جائے گی ہم نے اپنے ارکان کی ڈگریاں چیک کرائی ہیں
Tags: پاکستان
اسلام آباد ‘ پاکستان مسلم لیگ(ن) نے جمعرات کو قومی اسمبلی سے ملک میں امن وامان کے قیام میں وفاقی وزارت داخلہ کی ناکامی پر احتجاجا واک آؤٹ کیا ۔ وفاقی وزیر محنت وافرادی قوت سید خورشید شاہ اور آئین کو منا کر ایوان میں لے آئے ۔ ایوان میں وزارت داخلہ کے اخراجات کے بارے میں اپوزیشن کو کٹوتی کی تحریکوں پر رائے شماری کے دوران اس میں حصہ لینے کے بجائے پاکستان مسلم لیگ(ن) کے اراکین قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان کی قیادت میں ایوان سے احتجاجا واک آؤٹ کر گئے ۔ اسدوران ایوان میں پاکستان مسلم لیگ(ن) کے اراکین کی وزارت داخلہ کے 50 ارب روپے سے زائد کے اخراجات کے حوالے سے 9 مطالبات زر کے بارے میں 137 کٹوتی کی تحریکوں کو کثرت رائے سے مسترد کردیا گیا ۔ یہ کارروائی مکمل ہو گئی تو سید خورشید شاہ پاکستان مسلم لیگ(ن) کے اراکین کو منا کر ایوان میں لے آئے
Tags: پاکستان