اسلام آباد ‘ 14 اگست کو مسلم لیگ نواز کی مرکزی قیادت کا انتخاب ہو گا ۔ پارٹی میں کوئی اختلاف نہیں ۔ کراچی میں امن و امان کی صورت حال پر تشویش ہے ۔ سندھ کو مسلم لیگ ن کا قلعہ بنائیں گے۔ صدر زر داری،بے نظیر بھٹو کے قتل کی ایف آئی آر درج کروائیں۔ ان خیالات کا اظہار مسلم لیگ ن کی مرکزی رہنماؤں راجہ ظفر الحق،سید غوث علی شاہ،احسن اقبال و دیگر نے مسلم لیگ ن سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ مرکزی رہنما مسلم لیگ ن سینیٹر راجہ ظفر الحق نے کہا کہ پارلیمنٹ میں کوئی اختلاف نہیں ورکنگ پر چند تحفظات تھے جو مشاورت سے دور کر لئے گئے ہیں اور اب پارٹی کی تنظیم نو پر توجہ دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کی اعلیٰ قیادت کا انتخاب 14 اگست کو ہو گا ۔ انہوں نے کراچی کی صورت حال پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے اس میں ملوث افراد کو کیفر کر دار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کی صورت حال کا اثر پوری پاکستانی معیشت پر پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کی سطح پر پارٹی میں کوئی اختلافات نہیں بلکہ صرف رابطے کا فقدان ہے ۔ راجہ ظفر الحق نے صدر زر داری سے مطالبہ کیا وہ بے نظیر کے قاتلوں کے خلاف ایف آئی آر درج کروائیں۔ مسلم لیگ ن کے سندھ کے صوبائی صدر سید غوث علی شاہ نے کہا ہے کہ پی ایم ایل این سندھ کو مسلم لیگ ن کا نواز شریف کی قیادت میں قلعہ بنائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ن لیگ واحد جماعت ہے جو عوام کے مسائل کو سمجھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کو روکنے میں ناکام ہو چکی ہے ۔ اس کے علاوہ بالائی سندھ میں اغواء کی وارداتوں میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ مسلم لیگ ن کے سیکرٹری اطلاعات و ممبر قومی اسمبلی احسن اقبال نے کہا کہ کالا باغ ڈیم چاروں صوبوں کی مشاورت سے بنایا جانا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق بے نظیر کے قاتلوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کر نی چاہیے۔
حکومت کراچی میں ٹارگٹ کلنگ روکنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ ۔ ۔ مسلم لیگ ن
June 23rd, 2010 · No Comments
Tags: پاکستان
حکومت عدالتی فیصلوں پر عملدرآمدکرنے میں خواہ مخواہ تاخیری حربے استعمال کررہی ہے۔نوازشریف
June 22nd, 2010 · No Comments
٭۔ ۔ ۔ پاکستان جمہوری حکومتوں کی مزیداکھاڑ بچھاڑ کا متحمل نہیں ہوسکتا
٭۔ ۔ ۔ حکومت نے اب تک اپنی ترجیحات کا تعین ہی نہیں کیا نتیجتاً کچھ نہیں ہوسکا
٭۔ ۔ ۔ عوام صدر کی تقریر کا لب لباب سمجھ نہیں پائے اور یہ انداز کسی سربراہ مملکت اور ایک قومی جماعت کے سربراہ کے شایان شان نہیں۔پارٹی رہنماؤں کے ایک اہم اجلاس سے خطاب
لاہور ‘ پاکستان مسلم لیگ(ن) کے قائد محمد نوازشریف نے کہاہے کہ آئین او رقانون کاا حترام نہ کرنے کی وجہ سے آج پاکستان اس حال کو پہنچاہے اور ہمیں طرح طرح کے مسائل کا سامنا کرناپڑ رہا ہے۔ہم نے آئین و قانون کی دھجیاں اڑائیں اور ہمارے غیر جمہوری رویوں نے مشرقی پاکستان کوہم سے دُور کردیا۔ انہوںنے ان خیالات کا اظہار رائے ونڈ میں تنظیم سازی کے حوالے سے ہونے والے پارٹی رہنماؤں کے ایک اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں مسلم لیگ(ن) کی صوبہ پنجاب میں اب تک کی تنظیم سازی کی پیشرفت کا جائزہ لیاگیا۔اجلاس میںراجہ ظفرالحق، سردار مہتاب احمدخان ، سردار ذوالفقار کھوسہ، احسن اقبال،پرویزرشید،خواجہ سعد رفیق،حمزہ شہبازشریف،راجہ اشفاق سرور،جاوید لطیف،خرم دستگیر،کیپٹن صفدر اور پنجاب سے تعلق رکھنے والے دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔نوازشریف نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ حکومت عدالتی فیصلوں پر عملدرآمدکرنے میںتساہل اور ہچکچاہٹ کامظاہرہ کررہی ہے اور خواہ مخواہ میں تاخیری حربے استعمال کرکے لیت و لعل سے کام لیاجا رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ آج عدلیہ آزاد ہے اور عدلیہ میں ایماندار اور دیانتدار جج موجود ہیں۔ماضی میں عدلیہ نے اپنا کردار درست انداز سے ادا نہیں کیا اورججوں ہی کی جانب سے آمروں کو سند جواز فراہم کی جاتی رہی۔حالانکہ ماضی ہی میں مولوی تمیز الدین جیسے اصول پرست سیاستدان اور جسٹس قارنیلس جیسے ایماندار جج بھی موجود رہے ہیںجن کے نام آج بھی ہر طرف گونج رہے ہیں۔ انہوں نے آئین اور قانون کی پاسداری کرتے ہوئے اپنے ضمیر کے مطابق آزادانہ فیصلے کئے اوریوںتاریخ نے انہیں سنہرے حروف میں اپنے سینے میں ہمیشہ کیلئے ثبت کردیا ہے۔محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی سالگرہ کے موقع پر گذشتہ روز کی جانے والی صدر زرداری کی تقریر پر اپنے خیالات کااظہار کرتے ہوئے مسلم لیگ(ن) کے قائد محمد نوازشریف نے کہاکہ عوام اُن کی تقریر کا لب لباب سمجھ نہیں پائے اور یہ انداز کسی سربراہ مملکت اور ایک قومی جماعت کے سربراہ کے شایان شان نہیں ۔نوازشریف نے کہاکہ صدر زرداری نے پاکستان کے عوام کے سامنے عوامی خدمت اور فلاح کا کوئی واضح ایجنڈا پیش نہیں کیااور نہ ہی کرپشن کے خاتمے کیلئے کوئی واضح پیغام یا لائحہ عمل دیا۔نوازشریف نے کہاکہ مشرف کے دور میں 56 جعلی ڈگریوں کے کیسسز سامنے آئے لیکن اُس وقت کے سپیکر نے ان پر کوئی کارروائی نہ کی اور یہ کیسسز متعلقہ اداروں کو کارروائی کیلئے نہیں بھجوائے گئے۔جبکہ ہم نے اپنے نہایت ہی دیرینہ اوروفادار ساتھیوں کی قربانی دینے سے بھی دریغ نہ کیاکیونکہ ہماری یہ سوچی سجھی رائے ہے کہ اصولوںکی خاطر قانون پر عملدرآمد کرنے سے ہی ملک آگے بڑھ سکے گا۔نوازشریف نے کہاکہ ہم نے نیک نیتی اور اصولوں پر مبنی پاکستان کی بنیاد رکھی ہے اور اسے دوسروں کیلئے بھی دیانت کا معیار بنانا ہے۔دیانت کا عمل ہمیشہ اپنے گھر سے ہی شروع ہوتا ہے،ہمارا دین بھی کہتاہے کہ اگر عمل نہیں کرسکتے تو کوئی وعدہ نہ کرو اور نہ ہی کسی کو درس دو جبکہ خود عملدرآمد نہیں کرسکتے۔اپنے اندر خامیاں موجود ہوتو دوسروںکو کیسے نیکی کا درس دیاجا سکتاہے۔نوازشریف نے کہاکہ کچھ لوگ ہم پر بلاجواز تنقید کرتے ہیں اور انقلابی ایجنڈے کی بات کرتے ہیں ۔ لیکن ان کے نامزدکردہ امیدواروں کا معیار ان کے قول کی تردید کرتا ہے۔انہوں نے کہاکہ ہم پاکستان کو صاف ستھری سیاست کی طرف لے جاناچاہتے ہیں ۔ ہمیں دوسروں کے میڈیٹ کا بھی احترام ہے اور انہیں بھی چاہیے کہ وہ ہمارے مینڈیٹ کا احترام کریں۔ نوازشریف نے کہاکہ پاکستان اب جمہوری حکومتوں کی مزیداکھاڑ بچھاڑ کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ انہوںنے کہاکہ مسائل اتنے گھمبیر ہوچکے ہیں کہ انہیں انقلاب کے ذریعے حل کیاجاسکتا ہے۔لیکن نرم انقلاب کے ذریعے، جس کیلئے ایک انقلابی ٹیم ،انقلابی جذبے کی ضرورت ہے اور مسلم لیگ(ن) اس نرم انقلاب کیلئے پاکستان سے کرپشن ،ناانصافی ،غربت ، مہنگائی اور لوڈ شیڈنگ کے مسائل کو حل کرے گی۔انہوں نے کہاکہ حکومت نے مہنگے رینٹل پاور کے منصوبوں کے معاہدے کرکے اچھا نہیں کیا۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ بھاشاڈیم پر جنگی بنیادوں پر کام کیاجاتا اور اب تک ڈھائی سال کی مدت میں اِس پر کافی کام ہوچکاہوتا۔ مگر حکومت نے غریب عوام کی زندگیوںمیں بہتری لانے کیلئے اب تک اپنی ترجیحات کا تعین ہی نہیں کیا اور نتیجتاً کچھ نہیں ہوسکا۔ نوازشریف نے کہاکہ مسلم لیگ(ن) نے اپنے سابقہ دو رمیں مستقل مزاجی اور اپنی حکومت کی ترجیحات کا درست سمت میں تعین کرکے موٹروے جیسے عظیم منصوبے کا نہ صرف آغاز کیابلکہ اسے پایہ تکمیل تک پہنچایا۔آج اسی موٹروے پر فضائیہ کے طیارے بھی لینڈ کررہے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ ہم نے ایک متحرک ٹیم کے ساتھ انتہائی خلوص اور قومی جذبے کے تحت اپنی حکومت کا آغاز کیاتھا لیکن ایک آمر نے ہماری منتخب حکومت ختم کردی اور اس کے بعد سے اب تک پاکستان سیاسی اور معاشی طور پر سنبھل نہیں پایا۔انہوںنے کہاکہ بدقسمتی سے موجودہ جمہوری حکومت بھی مختلف اسکینڈلز کی زد میںہے اور آج اُس کی کارکردگی ایک بہت بڑا سوالیہ نشان بن چکی ہے۔ نوازشریف نے کہاکہ پاکستان کی عوام یہ سمجھتے ہیں کہ مسلم لیگ(ن) ڈیلیور کرنا جانتی ہے اور ہم بھی مزید محنت کرکے اس ملک کے غریب عوام کی تقدیر سنوارنے کا عزم رکھتے ہیں۔ہماری نیت صاف اور ارادے مضبوط ہیں ۔ہم ایک زبردست ہوم ورک کرنے میں مصروف ہیں اور اگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں دوبارہ اقتدار میں آنے کا موقعہ دیا تو ہم تعلیم،صحت،زراعت، صنعت، تجارت ،سرمایہ کاری اور دیگر شعبوں میں انقلابی تبدیلیاں لا کر عوام کی زندگیوں میں بہتر تبدیلیاں لائیں گے۔نوازشریف نے کہاکہ ہماری مختلف ٹیمیں اپنا ہوم ورک جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ ہم کوئلے کے ذخائر سے گیس اور بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں پر بھی سوچ بچار کررہے ہیں اورانشاء اللہ مسلم لیگ(ن) آنے والے وقتوں میں عوام کی امنگوں اور خواہشات کی آئینہ دار جماعت بن کر ابھرے گی ۔یہی میرا مشن اور یہی میرا خواب ہے۔دریں اثناء اس سے قبل پاکستان مسلم لیگ(ن) کا اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاس پارٹی کے قائد محمد نوازشریف کی زیر صدارت رائے ونڈمیں منعقد ہوا۔ جس میں راجہ ظفرالحق، غوث علی شاہ،سردار مہتاب احمدخان ،سید ممنون حسین،اقبال ظفرجھگڑا،احسن اقبال، پرویزرشید،خواجہ سعد رفیق،سلیم ضیاء ،پیر صابر شاہ اور رحمت سلام خٹک نے شرکت کی۔ صوبہ پنجاب ،خیبرپختونخواہ اور صوبہ سندھ سے تعلق رکھنے والے ان پارٹی رہنماؤں نے پارٹی کے قائد محمد نوازشریف کو تنظیم سازی کے ضمن میں اب تک کی پیشرفت سے آگاہ کیا۔اجلاس میں پارٹی کی تنظیم سازی ،پارٹی انتخابات اور ملک بھر میں پارٹی فعال بنانے کیلئے مختلف امور پر غور کیاگیا۔اس موقع پر پارٹی کے قائد محمد نوازشریف نے پارٹی رہنماؤں کو تنظیم سازی کا عمل کوتیزی سے مکمل کرنے کی ہدایت کی ۔اجلاس میںطے کیاگیاکہ بہت جلد صوبہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے پارٹی ذمہ داران کا اجلاس طلب کرکے صوبے میں تنظیم سازی کے امور میں پیشرفت کا جائزہ لیاجائے گا
Tags: پاکستان
لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بنچ نے جاوید ہاشمی کی بغاوت کیس میں سات سال قید کی سزا کالعدم قرار دے دی
June 22nd, 2010 · No Comments
جاوید ہاشمی کے خلاف اکتوبر دو ہزار تین میں تھانہ سیکریٹریٹ میں مقدمہ درج کرایا گیا تھا
لاہور‘ لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بنچ نے مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما جاوید ہاشمی کی بغاوت کیس میں سات سال قید کی سزا کالعدم قرار دے دی۔مسلم لیگ ن کے رہنما جاوید ہاشمی کے خلاف اکتوبر دو ہزار تین میں میجر ریٹائرڈ خورشید احمد نے تھانہ سیکریٹریٹ میں مقدمہ درج کرایا تھا جس میں یہ الزام لگایا تھا کہ انہوں نے پاک فوج کے خلاف بغاوت کرنے کی کوشش کی اور قومی اسمبلی میں پاک فوج کے خلاف قومی قیادت کے نام خط کے عنوان پر مراسلہ تقسیم کیا جس پر اسلام آباد کے سیشن کورٹ کے جج ارشد رضا نے انہیں دو ہزار چار میں انہیں سات سال قید کی سزا سنائی تھی۔تین سال نو ماہ اڈیالہ جیل میں قید رہنے کے بعد سپریم کورٹ نے انہیں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا تھا۔ قید کی سزا کے خلاف جاوید ہاشمی نے لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ میں اپیل دائر کی تھی جس کا موقف اختیار کیا گیا تھا کہ ان کے خلاف صرف دو حساس اداروں کی شہادتیں ہیں اور مقدمے میں قومی اسمبلی اسپیکر اور کسی رکن پارلیمنٹ کی شہادت ریکارڈ نہیں کی گئی جس پر آج لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ کے جسٹس وقار حسن میر نے ان کی سات سال کی سزا کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں بری کر دیا
Tags: پاکستان
لاہور ہائی کورٹ نے مسلم لیگ ( ن ) کے رکن قومی اسمبلی مدثر قیوم کو نااہل قرار دے دیا
June 21st, 2010 · 3 Comments
لاہور ‘ لاہور ہائی کورٹ نے مسلم لیگ ( ن ) کے رکن قومی اسمبلی مدثر قیوم کو نااہل قرار دے دیا ہے ۔ لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس ناصر سعید شیخ پر مشتمل الیکشن ٹریبونل نے این اے ۔ 100 نوشہرہ ورکاں سے مسلم لیگ ( ن ) کے ایم این اے مدثر قیوم ناہر کو نااہل قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن کو ہدایت کی ہے کہ اس نشست پر دو ماہ کے اندر اندر ضمنی انتخابات کروائے جائیں تاکہ نئے ممبر قومی اسمبلی کا انتخاب کیا جا سکے ۔ مدثر قیوم ناہرہ کے خلاف ناکام امیدوار بلال اعجاز نے رٹ دائر کی تھی جس میں استدعا کی گئی تھی کہ مدثر قیوم ناہرہ نے جعلی ڈگری پر الیکشن لڑا ۔ جبکہ وہ بی اے کے امتحان میں نقل کرتے ہوئے پکڑے گئے تھے جس پر وہ 3 سال کے لئے امتحان دینے کے نااہل قرار پائے تھے ۔
۔۔تفصیل۔۔۔۔
الیکشن ٹربیونل نے مسلم لیگ نون کے رکن قومی اسمبلی مدثر قیوم ناہرا کو نااہل قرار دیکر ان کی اسمبلی کی رکنیت ختم کردی
الیکشن ٹربیونل نے مدثر قیوم ناہرا کو اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہونے کے لیے مہلت دی تھی مہلت ختم ہونے پر انہیں نااہل قرار دیا
لاہور ‘ لاہور ہائی کورٹ کے الیکشن ٹربیونل نے مسلم لیگ ( ن ) کے رکن قومی اسمبلی نے گریجویٹ مدثر قیوم کو نااہل قرار دیکر ان کی اسمبلی کی رکنیت ختم کردی ہے۔ہائی کورٹ کے مسٹرجسٹس ناصر سعید شیخ پر مشتمل الیکشن ٹریبونل نے گریجوایٹ نہ ہونے کی بنا پر مدثر قیوم ناہرا کو نااہل قرار دیا اور ہدایت کی کہ انتخابی حلقے میں ضمنی انتخابات کرائے جائیں۔پیر کو الیکشن ٹربیونل نے یہ حکم مسلم لیگ( ق ) کے رہنما بلال اعجاز کی اس درخواست کو منظور کرتے ہوئے دیا جس میں رکن اسمبلی بننے کے لیے تعلیمی اہلیت کو چیلنج کیا گیا تھا۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ مدثر قیوم ناہرا بی اے یعنی گریجوایٹ نہیں ہیں اس لیے رکن اسمبلی بننے کے اہل نہیں تھے۔مدثرقیوم ناہرا نے سنہ دو آٹھ میں ہونے والے عام انتخابات میں پنجاب کے ضلع گوجرنوالہ کے قومی اسمبلی کے ایک حلقے سے انتخاب لڑا اور کامیاب ہوئے تاہم ان کی اہلیت کو ان کے مدمقابل مسلم لیگ ( ق ) کے امیدوار بلال اعجاز نے الیکشن ٹربیونل کے سامنے چیلنج کیا۔لاہور ہائی کورٹ کے الیکشن ٹربیونل نے مدثر قیوم ناہرا کی اہلیت کے بارے میں درخواست پر کارروائی مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا تھا اور مدثر قیوم کو اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہونے کے لیے مہلت دی تھی تاہم ٹریبونل نے پیر کو مہلت ختم ہونے پر انہیں نااہل قرار دیا۔ لاہور ہائی کورٹ کے الیکشن ٹربیونل نے مدثر قیوم ناہرا کی اہلیت کے بارے میں درخواست پر کارروائی مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا تھا اور مدثر قیوم ناہرا کو اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہونے کے لیے مہلت دی تھی تاہم ٹریبونل نے پیر کو مہلت ختم ہونے پر انہیں نااہل قرار دیا۔الیکشن ٹربیونل نے الیکشن کمیشن کو ہدایت کی کہ رکن اسمبلی کے نااہل ہونے سے خالی ہونے والی نشست پر ساٹھ دنوں میں نئے انتخابات کرائے جائیں۔گزشتہ ایک ماہ کے دوران مدثر قیوم مسلم لیگ نواز کے دوسرے رکن قومی اسمبلی ہیں جن کو جعلی ڈگری رکھنے کی وجہ سے نااہل قرار دیا گیا ہے ان سے پہلے سرگودھا سے رکن قومی اسمبلی جاوید حسنین کو جعلی تعلیمی سند کی بنا پر انہیں نااہل قرار دیا تھا۔مسلم لیگ ( ن ) کے قائد نواز شریف نے ارکان اسمبلی سے یہ کہہ چکے ہیں کہ جعلی تعلیمی اسناد رکھنے والے ارکان اسمبلی رضاکارانہ طور پر اپنی رکنیت کو چھوڑ دیں کیونکہ اس سے بڑی شرمندگی ہوتی ہے۔خیال رہے کہ لاہور کے صوبائی حلقہ پی پی ایک سو ساٹھ میں چوبیس جولائی کو ضمنی انتخابات ہو رہے ہیں یہ نشست مسلم لیگ نون کے رکن اسمبلی رانا مبشر اقبال نااہل ہونے کی وجہ سے خالی ہوئی تھی کیونکہ ہائی کورٹ نے انہیں جعلی تعلیمی سند رکھنے پر نااہل دیا تھا۔اسی طرح سرگودھا کے صوبائی حلقہ میں چوبیس جولائی کو ضمنی چناؤ ہوگا اور یہ نشست بھی مسلم لیگ نون کے رکن پنجاب اسمبلی کے جعلی ڈگری رکھنے پر خالی ہوئی ہے کیونکہ انھیں اس حلقہ سے نااہل قرار دے دیا گیا تھا
Tags: پاکستان
امریکہ پاک بھارت تعلقات کو معمول پر لانے میں کردار ادا کرے ۔ ۔ ۔ نواز شریف
June 19th, 2010 · No Comments
امریکہ کے پاکستان کے ساتھ طویل المیعاد اوردیرپا تعلقات ہی مفید ثابت ہو سکتے ہیں
بھارتی وزیر داخلہ اور وزیر خارجہ کے آئندہ کے دورہ پاکستان کا خیر مقدم کرتا ہوں
بین الاقوامی و علاقائی ایشوز کے حوالے سے پاکستان کے کردار اور جغرافیائی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا
باہمی احترام اور اعتماد پر مبنی تعلقات کی بنیاد پر ہی پاکستان کے عوام امریکہ کو دوست ملک تصور کر سکتے ہیں
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد کی رچرڈ ہالبروک سے ملاقات
اسلام آباد ‘ پاکستان مسلم لیگ(ن) کے قائد و سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ طویل المیعاد اور دیرپا تعلقات قائم کرے افغانستان میں جلد امن واستحکام چاہتے ہیں بین الاقوامی و علاقائی ایشوز کے حوالے سے پاکستان کے کردار اور جغرافیائی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔ امریکہ پاک بھارت تعلقات کو معمول پر لانے میں کردار ادا کرے ۔ بھارتی وزیر داخلہ اور وزیر خارجہ کے آئندہ کے دورہ پاکستان کا خیر مقدم کرتا ہوں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو پنجاب ہاؤس اسلام آباد میں امریکی صدر خصوصی نمائندے رچرڈ ہالبروک سے ملاقات میں کیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف اور سینٹ میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر سینیٹر اسحاق ڈار بھی اس موقع پر موجود تھے۔ملاقات میں پاک امریکہ تعلقات علاقائی صورتحال ، افغانستان میں قیام امن ، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال کیاگیا۔ نواز شریف نے کہا خطے میں اپنی غیر معمولی جغرافیائی حیثیت کے نتیجے میں پاکستان ایک اہم ملک ہے انہوں نے کہاکہ علاقائی اور بین الاقوامی ایشوز کے حوالے سے پاکستان کا اہم کردار ہے انہوں نے کہاکہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان باہمی احترام اورباہمی اعتماد پر مبنی تعلقات قائم ہونے چاہیں میاں محمد نواز شریف نے کہا کہ اسی کی بنیاد پر پاکستان کے عوام امریکہ کو ایک دوست ملک اور خیر خواہ کی حیثیت سے دیکھ سکتے ہیں ۔نواز شریف نے پاکستان میں مختلف شعبوں بالخصوص توانائی ، بجلی اور زراعت کے شعبوں میں امریکی تعاون کو مزید فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا انہوں نے کہاکہ امریکہ کے اس تعاون کے نتیجے میں نہ صرف روزگار میں اضافہ ہو گا بلکہ پاکستان کی معیشت بھی مضبوط ہو گی۔افغانستان کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کے حوالے سے نواز شریف نے کہاکہ افغانستان نہ صرف ہمارا پڑوسی ملک ہے بلکہ پاکستان کا قریبی دوست ملک بھی ہے ہم چاہتے ہیں پاکستان میں جلد امن بحال اور پائیدار ترقی ہو انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن و استحکام پاکستان کے وسیع تر مفاد میں ہے کیونکہ افغانستان میں ہونے والی کسی بھی پیش رفت کے پاکستان پر براہ راست اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے نواز شریف نے رچرڈ ہالبروک سے کہاکہ وہ بھارت کے وزراء داخلہ و خارجہ امور کے آئندہ کے دورہ پاکستان کا خیر مقدم کرتے ہیں نواز شریف نے کہاکہ پر اعتماد ہیں کہ بھارتی وزراء کے یہ دورے پاک بھارت جامع مذاکرات کی بحالی میں کلیدی کردار کریں گے اور دونوں ممالک اپنے تنازعات کے حل کیلئے کسی میکنزم کو طے کر لیں گے انہوں نے امریکہ سے کہاکہ پاک بھارت تعلقات کو معمول پر لانے کیلئے کردار ادا کریں ۔
Tags: پاکستان
نوازشریف نے احمدیوں کو مسلمان بھائی نہیں کہا‘رانا ثناء اللہ
June 19th, 2010 · No Comments
رحمان ملک دہشت گردی کے معاملے پر سیاست نہ کریں
اسلام آباد میں نیٹو ٹینکرز پر حملہ کرنیوالوں کو کیوں نہیں پکڑا گیا
لاہور‘ وزیرقانون پنجاب رانا ثناء اللہ نے کہاہے کہ میاں نوازشریف نے یہ نہیں کہا کہ احمدی مسلمان بھائی ہیں۔ وفاقی حکومت پنجاب سے امریکہ کی طرح ڈومور کا مطالبہ نہ کرے۔لاہور میں میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیرداخلہ رحمان ملک دہشت گردی کے معاملے پر سیاست نہ کریں۔ قبائلی علاقوں میں قائم تربیتی مراکز بند ہونے تک دہشت گردی جاری رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کے بارے میں بیان دینے والے بتائیں کہ اسلام آباد میں نیٹو ٹینکرز پر حملہ کرنیوالوں کو کیوں نہیں پکڑا گیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی ایکٹ سے متعلق عسکری قیادت کے خدشات درست ہیں
Tags: پاکستان
جنوبی پنجاب میں کہیں کوئی دہشت گردی کا کیمپ نہیں ہے ۔۔سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ
June 18th, 2010 · No Comments
٭۔ ۔ ۔ مرکز میں بیٹھا صرف ایک شخص آپریشن کی باتیں کر رہا ہے جسے پنجاب کے بارے میں کچھ علم نہیں
٭۔ ۔ ۔ اس وقت ملک کو جو چیلنجز درپیش ہیںنئے صوبوں کے ایشوز اٹھانا مناسب نہیں‘ کالاباغ ڈیم کے حق میں قرارداد پیپلزپارٹی کے ساتھ مل کر لائیں گے جو ابھی اس کے حق میں نہیں ہے: سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ
لاہور‘ وزیراعلیٰ پنجاب کے مشیر و مسلم لیگ (ن) کے رہنما سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ نے کہا ہے کہ جنوبی پنجاب میں کہیں کوئی دہشت گردی کا کیمپ نہیں ہے اور نہ ہی کوئی ادارہ دہشت گردوں کو پروموٹ کر رہا ہے۔ تاہم کچھ لوگوں کو یہاں سے بھرتی کر کے اچھی تنخواہ پر وزیرستان میں ٹریننگ دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہاولپوریا کسی بھی دیگر نئے صوبے کا ایشو اٹھانا اس وقت مناسب نہیں ہے۔ کالاباغ ڈیم پر پنجاب اسمبلی میں قرارداد پیپلزپارٹی کے ساتھ مشاورت سے لائیں گے تاہم سندھ اور مرکز میں اس کے کردار نے واضح کردیا ہے کہ وہ فی الحال کالاباغ ڈیم کی حمایت میں قرارداد کے حق میں نہیں ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پنجاب اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ نے کہا کہ 1992ء میں سندھ اور صوبہ سرحد کالاباغ ڈیم کی تعمیر پر راضی ہوچکے تھے اور اس موقع پر واٹر ایکارڈ پر دستخط بھی ہوئے جبکہ اے این پی کے اس وقت کے سربراہ ولی خان مرحوم نے تسلیم کیا تھا کہ کالاباغ ڈیم کی تعمیر کے حوالے سے انہیں گمراہ کیا گیا اور غلط اعدادوشمار پیش کئے گئے۔ اب یہ مسئلہ سیاسی بن چکا ہے ہم کالاباغ ڈیم کی تعمیر کیلئے تیار ہیں لیکن اس کیلئے پانچ چھ ماہ راہ ہموار کرنے پر لگے گے۔ مسلم لیگ (ق) کی جانب سے کالاباغ ڈیم کے حق میں پنجاب اسمبلی میں قرارداد کی حمایت سے متعلق سوال کے جواب میں سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ نے کہا کہ مسلم لیگ (ق) کا وجود جنرل پرویز مشرف کے رخصت ہونے کے ساتھ ہی ختم ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ ساڑھے آٹھ سال اس کا آقا پرویز مشرف ملک پر قابض رہا اور اس کا ادا کیا ہوا ہر لفظ قانون بن جاتا تھا۔ اس وقت کالاباغ ڈیم کیوں نہیں بنایا گیا۔ مسلم لیگ (ق) دراصل اب ہمارے ہی موقف کی تائید کر رہی ہے لیکن ہم ایسی قرارداد کی حمایت نہیں کریں گے جو پاس نہ ہوسکے۔ پیپلزپارٹی کے ساتھ مشاورت کرنے کے بعد اسی وقت قرارداد لائی جائے گی جب ہمیں اسے عوام سے پاس کروا سکیں گے۔ جنوبی پنجاب میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ مرکز میں بیٹھا صرف ایک شخص اس آپریشن کی حمایت کر رہا ہے جو پنجاب کے بارے میں کچھ جانتا ہی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں کوئی ایسا ادارہ یا کیمپ نہیں ہے جہاں دہشت گردوں کو ٹریننگ دی جاتی ہو تاہم یہاں سے بیروزگار نوجوانوں کو بھرتی کر کے وزیرستان لے جا کر تربیت دی گئی اور ان کا تانابانا ان لوگوں سے ہے جو ماضی میں افغانستان میں روس کے خلاف جہاد میں شامل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امیر ترین حکومت کیلئے بھی ممکن نہیں ہے کہ وہ سوفیصد لوگوں کو روزگار فراہم کرسکے۔ بجلی و گیس کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے اس وقت بھی پنجاب میں 60 سے 70 فیصد انڈسٹری بند پڑی ہے تاہم اب حکومت نے ایسے اقدامات کئے ہیں کہ نوجوانوں کو ووکیشنل تعلیم اور دیگر ہنر سکھا کر اس قابل کیا جاسکے کہ وہ ملک کے اندر اور بیرون ملک ملازمتیں حاصل کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نئے صوبوں کے قیام کے خلاف نہیں ہے۔ وزیراعلیٰ خود واضح کرچکے ہیں کہ انتظامی طور پر نئے صوبے بنائے جاسکتے ہیں لیکن لسانی کی بنیاد پر نہیں۔تاہم اس وقت دہشت گردی کے باعث ملک اس بات کا متحمل نہیں ہے کہ ایسے ایشوز کو اٹھایا جائے
Tags: پاکستان
لاہور ہائی کورٹ نے شریف برادران کی نا اہلی کیلئے دائر درخواستیں خارج کردیں
June 17th, 2010 · No Comments
لاہور ‘ لاہور ہائی کورٹ نے مسلم لیگ( ن ) کے قائد میاں محمد نواز شریف اور ان کے بھائی وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی نا اہلی سے متعلق دائر درخواستیں عدم پیروی کی بناء پر خارج کر دیں۔ شاہد اورکزئی نے دائر درخواستوں میں موقف اختیار کیا تھا کہ مسلم لیگ (ن)کے قائد نواز شریف اپنے دونوں ادوار حکومت میں کرپشن میں ملوث تھے، انہوں نے اربوں روپے قرض لے کر بیرون ملک منتقل کئے جبکہ ان کے بھائی شہباز شریف نے پی پی اڑتالیس بکھر کی نشست کے انتخاب میں غلط طریقے سے کامیابی حاصل کی۔ ڈیڑھ سال قبل اس درخواستوں کی آخری سماعت ہوئی تھی جس کے بعد درخواست گزار کو عدالت کی جانب سے متعدد بار نوٹس جاری کیے گئے تاہم وہ عدالت میں حاضر نہیں ہوئے ۔جمعرات کو سماعت کے موقع پر عدالت نے عدم پیروی کی بناء پر یہ درخواستیں خارج کر دیں
Tags: پاکستان
عدلیہ کے ساتھ مذاق برداشت نہیں کریں گے‘ میاں نوازشریف
June 17th, 2010 · No Comments
٭۔ ۔ ۔ عدلیہ کے ساتھ مذاق برداشت نہیں کریں گے‘ دہشت گردی کا ہر صورت خاتمہ چاہتے ہیں لیکن جو لوگ ہتھیار ڈالنا چاہتے ہیں ان سے مذاکرات کئے جانے چاہئیں
٭۔ ۔ ۔ جن امیدواروں نے جعلی ڈگریوں پر الیکشن لڑا انہوں نے اپنے حلقہ کے عوام‘ پارٹی‘ اسمبلی اور قوم کے ساتھ فراڈ کیا‘ ایسے لوگوں کو اسمبلیوں میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے
٭۔ ۔ ۔ واجپائی 1999ء میں کشمیر سمیت تمام متنازعہ مسائل حل کرنا چاہتے تھے لیکن کارگل کے ایڈونچر نے سب کچھ ختم کردیا
٭۔ ۔ ۔ مرنے کے بعد اس کی امداد کی جائے تو ایسی امداد کا کیا فائدہ‘ حکومت اور معاشرے کو ایسا کردار ادا کرنا چاہیے کہ افسوسناک واقعات کی نوبت ہی نہ آئے
لاہور ‘ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے کہا ہے کہ عدلیہ کے ساتھ مذاق برداشت نہیں کریں گے۔ دہشت گردی کا ہر صورت خاتمہ چاہتے ہیں لیکن جو لوگ ہتھیار ڈالنا چاہتے ہیں ان کے ساتھ مذاکرات کئے جانے چاہئیں۔ جن ارکان اسمبلی نے جعلی ڈگریوں پر الیکشن لڑا انہوں نے اپنے حلقہ کے عوام‘ پارٹی‘ اسمبلی اور قوم کے ساتھ فراڈ کیا۔ ایسے لوگوں کو اسمبلیوں میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔ بھارت کے سابق وزیراعظم واجپائی 1999ء میں کشمیر سمیت تمام متنازعہ مسائل حل کرنا چاہتے تھے لیکن کارگل کے ایڈونچر نے سب کچھ ختم کردیا۔ جعلی ڈگریوں والے امیدواروں کو بغیر جانچ پڑتال کے ٹکٹ جاری کرنے کی غلطی کا اعتراف کرتے ہیں۔ ریٹرننگ افسر نے بھی اس حوالے سے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج پیپلزہاؤس میں سپیکر پنجاب اسمبلی سے ان کی والدہ کی وفات پر تعزیت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ لاہور میں غربت کے ہاتھوں خودکشی کرنے والے بدنصیب خاندان کے افراد کی ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسی کے مرنے کے بعد اس کی امداد کی جائے تو ایسی امداد کا کیا فائدہ۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ عوام کو روزگار کے مواقع فراہم اور مہنگائی کا خاتمہ حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن اس حوالے سے معاشرے کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ کئی دہائیوں سے ایسے واقعات ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 1991ء سے 1993ء تک کا دور ایسا تھا جب مہنگائی نہیں تھی اور ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوگیا لیکن غلام اسحاق خان نے اسمبلیاں توڑ کر اس مومنٹم کو توڑ دیا۔ بیچ میں جرنیل بھی آئے جنہوں نے اداروں کا برا حال کردیا۔ یہ ہم سب کا قصور ہے کہ ہم نے ملک کو ٹھیک طریقے سے نہیں چلایا اور اس میں لوٹ مار کا بازار گرم رکھا ۔ کچھ لوگوں نے اقتدار کو طول دیا اور کچھ نے جیبیں بھرنا شروع کردیں۔ پاکستان کی ترقی کا کسی نے خیال نہیں کیا۔ جعلی ڈگریوں کے حوالے سے بعض لوگوں کو دوبارہ ٹکٹ جاری کرنے کے حوالے سے سوال کرنے کے جواب میں میاں نوازشریف نے کہا کہ میں تسلیم کرتا ہوں کہ ہم سے غلطی ہوئی۔ امیدوارو ں کو ٹکٹ جاری کرنے سے پہلے ہماری پارٹی کے پارلیمانی بورڈ کو امیدواروں کے کاغذات کی ٹھیک طرح سے جانچ پڑتال کرنی چاہیے تھی جو نہ کی جاسکی اور دوسرا مرحلہ ریٹرننگ افسر کا تھا اس نے بھی ان امیدواروں کی ڈگریاں یونیورسٹیوں‘ کالجوں اور متعلقہ بورڈز سے چیک نہیں کروائیں۔ اب عدالتیں اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہی ہیں جنہیں میں بلکل درست سمجھتا ہوں کیونکہ جن لوگوں نے جعلی ڈگریوں پر الیکشن لڑا انہوں نے اپنے حلقہ کے عوام‘سیاسی جماعت ‘ اسمبلی اور قوم سے فراڈ کیا۔ ایسے لوگوں کا اسمبلی میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ اگر ایسے لوگوں سے سیاست کو صاف نہیں کیا جائے گا تو لوگوں کا جمہوریت پر سے اعتماد اٹھتا جائے گا۔ اس لئے میں نے اپنی جماعت کے لوگوں سے کہا ہے کہ جو لوگ جعلی ڈگری پر الیکشن لڑکر صوبائی یا قومی اسمبلی اور سینٹ میں پہنچے ہیں وہ رضاکارانہ استعفے دے کر عدالت میں رسوا ہونے سے خود بھی بچیں اور ہمیں بھی بچائیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان بنے 60 سالوں سے زیادہ عرصہ ہوگیا ہے اب ان تماشوں سے ہمیں باہر نکلنا ہوگا۔ اگر اب بھی یہ تماشے جاری رہے تو پھر یہ ملک خود تماشہ بن جائے گا۔ملک میں جاری دہشت گردی کی روک تھام کے حوالے سے سوال کے جواب میں نوازشریف نے کہا کہ ہمارا موقف ہمیشہ واضح رہا ہے۔ ہم نے اس بارے میں قومی اسمبلی کی ایک کمیٹی بھی بنائی تھی جس نے اپنا ایک ایجنڈا بھی طے کرلیا تھا لیکن اس کمیٹی سے ٹھیک سے کام نہیں لیا گیا۔ اگر ایسا ہو جاتا تو حکومت دہشت گردی پر کنٹرول کر سکتی تھی کیونکہ پارلیمنٹ ہی ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جس میں کئے ہوئے فیصلوں کو پوری قوم اور دنیا تسلیم کرتی ہے۔ جب ترکی کے راستے فوجیں عراق لے جانے کی بات کی گئی تو ترکی کی حکومت یہ معاملہ پارلیمنٹ میں لے گئی جس نے اسے مسترد کردیا۔ اس فیصلہ کو پوری دنیا میں تسلیم کیا گیا۔ جنگ صرف فوج یا حکومت نہیں جیت سکتی بلکہ پوری قوم کے ساتھ مل کر ہی کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔ ہم آج بھی اس موقف پر قائم ہیں کہ دہشت گردی کا ہر قیمت پر خاتمہ ہونا چاہیے لیکن جو لوگ ہتھیار پھینکنا چاہتے ہیں ان سے بات چیت کی جانی چاہیے۔ بھارت کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے سوال کے جواب میں میاں نوازشریف نے کہا کہ بھارت ہمارا ہمسایہ ملک ہے جس سے ہم اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان سب سے بڑا مسئلہ کشمیر ہے جسے میز پر ہی حل کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1999ء میں بھارتی وزیراعظم خود چل کر بس پر لاہور آئے اور کہا کہ وہ مسئلہ کشمیر سمیت تمام متنازعہ مسائل کو 1999ء کے اندر حل کرنا چاہتے ہیں اس سے قبل پاکستان ایٹمی قوت بھی بن چکا تھا لیکن کارگل کے ایڈونچر نے پاکستان کو داغ دار کردیا جس کا الزام پاکستان پر آیا اور سب کچھ ختم ہوگیا۔ انہوں نے بتایا کہ چوری کے کریڈٹ کارڈ کو استعمال کرنے کے الزام میں مستعفی مسلم لیگ (ن) کی رکن صوبائی اسمبلی شمائلہ رانا نے بحالی کیلئے پارٹی کو کوئی درخواست نہیں دی۔ انہوں نے حکومت سے کہا کہ وہ عدالتی فیصلوں کو من و عن تسلیم کرے۔ ایک طرف عدالتی فیصلہ میں وزیر کو سزا دی جاتی ہے اور دوسرے ہی لمحے صدر اس سزا کو معاف کر دیتے ہیں۔ عدالت خط لکھنے کو کہتی ہے تو وہ کہتے ہیں یہ خط میری لاش پر لکھا جائے گا۔ عدالت پنجاب ٹیکس بینک سکینڈل میں انکوائری کیلئے جس افسر کی تعیناتی کا حکم دیتی ہے وہ دوسرے نام پیش کردیتے ہیں۔ یہ آزاد عدلیہ کے ساتھ مذاق کیا جارہا ہے جسے ہم کسی صورت برداشت نہیں کرسکتے۔ اس طرح اداروں کو مضبوط نہیں کیا جاسکتا۔ 18ویں ترمیم سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کو دوتہائی اکثریت سے آئین میں ترمیم کا حق ہے جبکہ اس کی تشریح عدالت کے پاس ہے۔ قبل ازیں انہوں نے سپیکر پنجاب اسمبلی سے ان کی والدہ کی رحلت پر تعزیت اور مرحومہ کے درجات کی بلندی کیلئے دعا کی
Tags: پاکستان
جعلی ڈگری ہولڈرز اراکین اسمبلی از خود استعفے دے کر خود کو شرمندگی سے بچائیں۔نواز شریف
June 16th, 2010 · No Comments
٭۔ ۔ ۔ آئندہ کسی بھی الیکشن میں جعلی ڈگری ہولڈرز کو پارٹی ٹکٹ نہیں دیا جائے گا
لاہور ‘ مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ آئندہ کسی بھی الیکشن میں جعلی ڈگری ہولڈرز کو پارٹی ٹکٹ نہیں دیا جائے گا اور جعلی ڈگری پر دھوکہ دہی کے ذریعے انتخابات میں کامیاب ہونے والے اراکین اسمبلی از خود استعفے دے کر اپنے آپ کو شرمندگی سے بچائیں ۔ آج یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں انہوںنے کہا کہ ہمارا ہمیشہ سے یہ اصولی موقف رہا ہے کہ جن لوگوں نے دھوکہ دہی کے ذریعے انتخابات میں کامیابی حاصل کی ہے ان کو عوام کی نمائندگی کا حق حاصل نہیں ہے اور اس سلسلے میں مسلم لیگ کے پارلیمانی بورڈکو واضح ہدایات جاری کر دی گئی ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ ہم نے بورے والا میں قومی اسمبلی اور لاہور میں صوبائی اسمبلی میں ایسے لوگوں کو ٹکٹ جاری نہیں کیا جبکہ ہمیں یہ مشورہ بھی دیا گیا تھا کہ متعلقہ امیدواروں کو اپنے حلقوں میں عوامی تائید حاصل ہے مگر ہم نے اس کے باوجود اس اصول کی پاسداری میں ایک قومی نشست کا نقصان برداشت کیا۔ انہوںنے کہا کہ جعلی ڈگریوں کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا ۔ انہوںنے کہا کہ آئندہ کسی کو جمہوریت اور سیاست سے مذاق کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور ہم پاکستان میں جمہوریت کی اعلی اقدار کیلئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے
Tags: پاکستان

