اسلام آباد ‘ صدر آصف علی زرداری نے ایک سال کے بعد سینیٹر میاں رضا ربانی کے وزا رت سے استعفی کی منظوری دیدی ۔ سینیٹر میاں رضا ربانی مارچ 2009 ء میں چیئرمین سینٹ کے انتخابات کے دوران حکومتی نامزدگی سے اختلاف کرتے ہوئے وزارت بین الصوبائی رابطہ سے مستعفی ہوگئے تھے۔ صدر مملکت نے ایک سال کے بعد سینیٹر میاں رضا ربانی کے وزارت سے استعفی کی منظوری دے دی ہے اس بارے میں نوٹیفکیشن جاری کردیاگیا ہے
صدر مملکت نے ایک سال کے بعد سینیٹر میاں رضار بانی کے وزارت سے استعفی کی منظوری دیدی
March 18th, 2010 · Comments Off
Tags: پاکستان
روٹی ، کپڑا دینے کا نعرہ لگانے والی حکومت نے فوڈ سپورٹ پروگرام کے فنڈز بند کر دئیے
March 7th, 2010 · No Comments
اسلام آباد ‘ روٹی ، کپڑا دینے کا نعرہ لگانے والی پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے فوڈ سپورٹ پروگرام کے فنڈبند کر دئیے ہیں۔ وزارت خزانہ کی جانب سے ۔’’غربت میں کمی سٹریٹجی پیپر۔’’ کے بجٹ اخراجات کے بارے میں جاری اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی ششماہی (جولائی تا دسمبر)کے دوران فوڈ سپورٹ پروگرام کی مد میں ایک روپے کے فنڈ جاری نہیںکئے جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کی نسبت3ارب43کروڑ روپے خرچ کئے گئے تھے۔ذرائع کے مطابق اس فنڈ سے لوگوں میں سستی خوراک کی فراہمی کوممکن بنایا جاتا تھا مگرروٹی ، کپڑا اور مکان دینے والی پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے فوڈ سپورٹ پروگرام کے فنڈزختم کر کے اس پروگرام کو عملی طور پر ختم کر دیا ہے۔جبکہ صوبوں نے بھی اس مد میں کوئی رقم مختص کی نہ اس پر کوئی فنڈ خرچ کی گئی۔وزارت خزانہ کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران تعلیم کے شعبے پر 116 ارب 70 کروڑ روپے ، صحت کے شعبے میں 33 ارب 32 کروڑ روپے، آبادی کی منصوبہ بندی پر 2 ارب 69 کروڑ روپے ، سماجی تحفظ اور سماجی بہبود کے شعبے پر 19 ارب 12 کروڑ روپے،زرعی ترقی پر 30 ارب 8 کروڑ روپے، دیہی ترقی پر 6 ارب 57 کروڑ روپے ،امن و امان کے قیام کے لیے 62 ارب 88 کروڑ روپے ،کے فنڈز خرچ کئے گئے۔ وزارت خزانہ کے مطابق اس دوران 77 ارب 44 کروڑ روپے کی سبسڈی دی گئی جن میں سے وفاق نے 76 ارب 40 کروڑ روپے دئیے، پیپلز ورکس پروگرام I پر 1 ارب 20 کروڑ روپے جبکہ پیپلز ورکس پروگرام II پر 24 ارب 32 کروڑ روپے کے فنڈز استعمال کئے گئے ۔ قدرتی آفات وغیرہ پر 3 ارب 61 کروڑ روپے ، پانی کی سپلائی اور نکاسی آب پر 8 ارب 6 کروڑ روپے سڑکوں ، ہائی ویز اورپلوں کی تعمیر پر 23 ارب 53 کروڑ روپے کے اخراجات آئے
Tags: پاکستان
ورکنگ ریلیشن شپ بہتر نہ ہونے کے باعث بلدیاتی انتخابات مل کر لڑنا ممکن نہیں ہے ۔جہانگیر بدر
March 6th, 2010 · No Comments
پیپلزپارٹی این اے 123 میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کی حمایت کرے گی
دونوں جماعتوں میں ورکنگ ریلیشن شپ بہتر نہ ہونے کے باعث بلدیاتی انتخابات مل کر لڑنا ممکن نہیں ہے
نیب عدالت نے جہانگیر بدر کے ریفرنسوں کی سماعت 27 مارچ تک ملتوی کردی
لاہور‘ پاکستان پیپلزپارٹی کے سیکرٹری جنرل جہانگیر بدر نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی کے حلقہ 123 میں پیپلزپارٹی جماعت اسلامی کی نہیں بلکہ مسلم لیگ (ن) کی حمایت کرے گی۔ اس امر کا اظہار انہوں نے آج لاہور کی نیب عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ قبل ازیں جہانگیر بدر غیرقانونی بھرتیوں اور ناجائز اثاثوں کے 2 ریفرنسوں میں نیب عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے پراسیکیوٹر کی درخواست پر آئندہ پیشی پر گواہان کو طلب کرتے ہوئے سماعت 27 مارچ تک ملتوی کردی۔ بعدازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جہانگیر بدر نے کہا کہ پیپلزپارٹی کا جماعت اسلامی سے کبھی بھی انتخابی اتحاد نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے اپنا امیدوار مسلم لیگ (ن) کے حق میں تمام انتخابات سے قبل ہونے والی دونوں جماعتوں میں انڈر سٹینڈنگ کے تحت دستبردار کیا۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ سندھ میں بلدیاتی انتخابات میں پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کا اتحاد بن چکا ہے لیکن پنجاب میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی میں ورکنگ ریلیشن شپ مضبوط نہ ہونے کے باعث مل کر بلدیاتی انتخابات لڑنا ممکن نہیں ہے
Tags: پاکستان
نواز شریف پر بھی کرپشن کے الزامات ہیں ۔وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات قمر زمان کائرہ
February 14th, 2010 · No Comments
صدر آصف علی زرداری نے ججوں کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن آئین اور قانون کے مطابق جاری کیا۔ ۔ ۔ قمر زمان کائرہ
عدالت جو فیصلہ دے گی اس پر عمل کیا جائے گا۔ حکومت نے عدلیہ کے کسی فیصلے کی خلاف ورزی نہیں کی
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات کا نواز شریف کی پریس کانفرنس پر رد عمل
اسلام آباد ‘ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ صدر آصف علی زرداری نے ججوں کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن آئین اور قانون کے مطابق جاری کیا ۔ عدالت جو فیصلہ دے گی اس پر عمل کیا جائے گا۔ حکومت نے عدلیہ کے کسی فیصلے کی خلاف ورزی نہیں کی۔ عدالت میں اپنا نقطہ نظر پیش کریں ۔ نواز شریف پر بھی کرپشن کے الزامات ہیں۔ کیا لندن میں سب سے مہنگے فلیٹس ہمارے پاس ہیں موجودہ صورتحال میں تلخ گفتگو سے گریز کرنا چاہیے ۔ نواز شریف کا پتلا کارکنوں نے جذبات میں آ کر جلا یا ۔ ان خیالات کا اظہار قمر زمان کائرہ نے نواز شریف کی پریس کانفرنس پر رد عمل میں نجی ٹی وی سے گفتگو میں کیا۔ قمر زمان کائرہ نے کہا کہ عدالتی معاملہ ہے میڈیا اس کو سیاسی بنا رہا ہے ۔ صدر نے کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا ۔ سنیارٹی کے مطابق فیصلہ کیا ۔ آئین کے آرٹیکل 177 کی خلاف ورزی نہیں ہوئی ۔ عدالت نے عارضی طور پر نوٹیفکیشن معطل کیا ہے ۔18 فروری کو اپنا موقف سپریم کورٹ میں بیان کریں گے اور عدالت جو بھی فیصلہ کرے گی اس پر عمل کیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ کرپشن کے الزامات حکومت پر ہی نہیں نواز شریف پر بھی ہیں۔ ان حالات میں اسے الزامات سے گریز کرنا چاہیے۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ چیف جسٹس افتخارٍمحمد چوہدری نے اپنا نقطہ نظر ججوں کی تقرری کے حوالے دیا لیکن صدر زرداری نے اس لیے اختلاف کرتے ہوئے آئین اور قانون کے مطابق جو فیصلہ درست تھا اس کے مطابق نوٹیفکیشن جاری کر دیا اب عدالت نے نوٹیفکیشن معطل کیا ہے اور وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کیا ہے ۔ حکومت اپنا موقف پیش کرے ہم اپنا نقطہ نظر پیش کریں گے اور عدالت جو فیصلہ کرے گی اس پر عمل کیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ حکومت نے سنیارٹی کے قانون پر عمل کیا ہے اور خواجہ شریف کو سپریم کورٹ کا جج مقرر کیا ہے اور جسٹس ثاقب نثار کو قائمقام چیف جسٹس مقرر کیا ہے اگر عدالت صدر کے فیصلے کو درست نہیں سمجھتی تو وہ اپنا فیصلہ کر دے کہ نوٹیفکیشن درست ہے یا غلط انھوں نے مزید کہا کہ حکومت نے سپریم کورٹ کے کسی فیصلے کی خلاف ورزی نہیں کی
Tags: پاکستان
پیپلزپارٹی عوامی توقعات پر پوری نہیں اتر سکی ‘ جہانگیر بدر کا اعتراف
February 10th, 2010 · No Comments
آمروں نے ہر بار پیپلزپارٹی کو کمزور کرنے کی کوشش کی اور اسے کبھی منظم نہیں ہونے دیا
اسلام آباد ‘پیپلزپارٹی کے سیکرٹری جنرل جہانگیر بدر نے تسلیم کیا ہے کہ ان کی جماعت عوامی توقعات پر پوری نہیں اتر سکی ہے ۔ ایک نجی ٹی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آمروں نے ہر بار پیپلزپارٹی کو کمزور کرنے کی کوشش کی اور اسے کبھی منظم نہیں ہونے دیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ یہ بہت بڑی پارٹی اور عوام کی اکثریت کی نمائندہ جماعت ہے ۔ لیکن اسے خاطر خواہ انداز میں منظم نہیں کیا جا سکا ۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اس کی ایک سب سے بڑی وجہ آمریت ہے جس نے پیپلزپارٹی کو موقع ہی نہیں دیا ۔
Tags: پاکستان
القاعدہ اور طالبان حکومت کو غیر مستحکم کر نے کی سازش کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ قمر زمان کائرہ
February 3rd, 2010 · No Comments
کچھ جماعتیں مفاہمت کی سیاست کو شاید اپنی راہ میں رکاوٹ سمجھتی ہیں
کشمیر کی آزاد ی تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات کا راولپنڈی میں تقریب سے خطاب
راولپنڈی‘ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات قمر الزمان کائرہ نے کہا ہے کہ القاعدہ اور طالبان پاکستان پیپلز پارٹی کی موجودہ حکومت کو غیر مستحکم کر نے کی سازش کر رہے ہیں ۔ پاکستان پیپلز پارٹی کو ہمیشہ اس وقت اقتدار ملا جب ملک بحرانوں سے دو چار ہوا محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نے مفاہمت کی سیاست کا آغاز کیا تھا کچھ جماعتیں مفاہمت کی سیاست کو شاید اپنی راہ میں رکاوٹ سمجھتی ہیں اگر مفاہمت کا عمل جاری نہ رہا تو نہ پھر ان کی سیاست رہے گی نہ ہی پیپلز پارٹی کی سیاست رہے گی ہمیں اختلافات بھلا کر وسیع تر قومی مفاد پر سوچنا ہو گا پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کی جانب سے ایل اے 40ویلی5 کا امیدوار عبدالسلام بٹ کی انتخابی تقریب سے خطاب کر رہے تھے اس موقع پر وفاقی وزیر امور کشمیر گلگت بلتستان میاں منظور احمد وٹو اور پارٹی رہنماؤں نے بھی خطاب کیا وزیر اطلاعات نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے قائد ذوالفقار علی بھٹو نے پارٹی کی بنیادی ہی کشمیر کے فلسفہ پر رکھی تھی کہ کشمیر کی آزاد ی تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی اور پاکستان کے محروم اور کچلے ہوئے لوگوں کو ان کے حقوق لے کر دینے ہیں انہوں نے کہا کہ میں ایل او سی کے پار اور ادھر کے کشمیریوں کو یقین دلاتا ہوں کہ آزادی کی منزل قریب ہے یا نہیں مگر پارٹی کاہر کارکن اور بچہ بچہ پارٹی کے اس فلسفہ پر عمل کر نے کے لئے آپ کے ساتھ ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت عدالتوں کا احترام کر تی ہے عدلیہ کی آزادی اور بحالی سے تحریک میں سب سے زیادہ قربانیاں پارٹی وکلاء اور کارکنوں نے دی ہیں این آر او کے فیصلے پر حکومت عمل کرے گی مگر ان لوگوں کو مایوسی ہوئی ہو گی جو اس خوش فہمی کا شکار تھے کہ این آر اے کے فیصلے کے بعد حکومت ختم ہو جائے گی انہیں صرف 8034 کیسوں میں سے صرف ایک کیس یاد ہے جو کہ صدر کے منافی ہے مگر میں انہیں بتا دینا چاہتا ہوں کہ صدر اور گورنر سندھ کو آئین کے آرٹیکل 248-Aکے تحت استثنیٰ حاصل ہے میڈیا کے ایک گروپ کو صرف ایک کیس نظر آتا ہے باقی اسے نظر نہیں آتے۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ ہم نے عدلیہ کے لئے تحریک میں بھرپور حصہ لیا تو اس کے خلاف کس طرح چل رہے ہیں کچھ لوگوں کی کوشش ہے کہ عدلیہ اور حکومت کے مابین محاذ آرائی کی فضا پیدا ہو اور ان کی دکانداری چمک سکے مگر ان کی خواہش پوری نہیں ہو گی عوام جمہوری حکومت کے ساتھ ہیں جس کے باعث اس نظام کو کوئی خطرہ نہیں ہے کائرہ نے کہا کہ میڈیا کو تنقیدکا پورا حق حاصل ہے اسی طرح میڈیا کی پرفارمنس دیکھنے کا ہمیں بھی حق ہے انہوں نے کسی بھی گروپ یا چینل کا نام لئے بغیر کہاکہ ایک چینل جو صحافت نہیں کر رہا متنازعہ میڈیا اوراخبار بھی متنازعہ ہے اور ان کے ایسے صحافی بھی ہیں جنہیں صحافیوں کی برادری بھی قبول نہیں کر رہی انہوں نے کہاکہ متنازعہ میڈیا اور متنازعہ صحافت کا ہم نے مل کر مقابلہ کرنا ہے جس طرح ہم نے پہلے بھی چیلنجوں کا سامنا کیا اور بحرانوں سے نکل آئے اب بھی نکل آئیں گے انہیں شاید عدالتوں پر اعتماد نہیں مگر ہمیں عدالتوں پر اعتماد ہے ہمارے وزراء عدالتوں میں پیش ہو رہے ہیں اگر ہم عدالت کے فیصلے پر عمل نہیں کرتے تو عدالت خود حکومت کو لکھ کر دے گی پاکستان پہلے بھی بحرانوں کا شکار ہے بیر وز گاری امن وامان کی صورتحال سب کیلئے پریشان کن ہے وزیر اطلاعات نے کہاکہ بے نظیر بھٹو نے ماضی کی سیاست کو دفن کر کے معاہدہ کیا اور سب جماعتوں کو ساتھ لے کر جمہوریت کی طرف قدم بڑھایا مگر آج بھی زیادتیوں اور مِِِذاکرات کے باوجود کچھ جماعتیں مفاہمت کی سیاست کو شاید اپنی راہ میں رکاوٹ سمجھتی ہیں القاعدہ اور طالبان موجودہ حکومت اور پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے درپے ہیں ہم نے اسے چیلنج سمجھ کر قبول کیا ہے قیادت کو اس کا ادراک ہے
Tags: پاکستان
ججز کی تقرری کی فہرست صدرکو نہیں ملی‘ چوہدری احمد مختار
January 31st, 2010 · No Comments
گجرات+اسلام آباد‘ وزیر دفاع چوہدری احمد مختار نے کہا ہے کہ ججوں کے تقرر کی فہرست ابھی تک صدر کو نہیں ملی جبکہ فوزیہ وہاب نے کہا ہے کہ بعض عناصر ججوں کے تقرر اور تعیناتی میں مداخلت کرنا چاہتے ہیں۔ وزیر دفاع احمد مختار نے گجرات میں پارٹی کارکنوں اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ججوں کے تقرر کے لئے فہرست ابھی صدر کو نہیں ملی۔ یہ فہرست ابھی گورنر پنجاب کے پاس ہی ہے تاہم اس لسٹ میں ایسے وکلا کو شامل کر دیا گیا ہے جو عدلیہ بحالی تحریک میں ججوں کے ساتھ تھے اگر ایسے افراد کو جج مقرر کر دیا گیا تو وہ عوام کو کیا انصاف فراہم کریں گے۔ ادھر فوزیہ وہاب نے کہا ہے کہ بعض عناصر ججوں کے تقرر اور تعیناتی میں مداخلت کرنا چاہتے ہیں لیکن حکومت ایسا ہرگز نہیں ہونے دے گی کہ اس کے معاملات میں مداخلت کی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ تفصیلی جائزہ لینے کے بعد ججز کی تعیناتی کی جائیگی۔
Tags: پاکستان
پیپلز پارٹی کی رکنیت سازی مہم کا آغاز ، جیالے کی خود سوزی کی کوشش، رہنما بھاگ نکلے
January 30th, 2010 · No Comments
٭۔ ۔ ۔ صوبائی وزیر اشرف سوہنا نے میری اپیل سننے کی بجائے دفتر سے نکال دیا ، باقی عوام سے ان کا کیا برتاؤ ہو گا
٭۔ ۔ ۔ دس ماہ قبل مجھے ملازمت سے معطل کیا گیا ، پارٹی کے کسی رہنما نے مدد نہیں کی ، میرے گھر فاقے ۔ محمد سلیم کی صحافیوں سے گفتگو
لاہور‘ پاکستان پیپلز پارٹی کی رکنیت سازی مہم افتتاحی تقریب ایک کارکن کی خود سوزی کی کوشش سے بھگدڑ کی نذر ہو گئی جس کے بعد پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر رانا آفتاب سمیت کوئی بھی رہنما تقریر نہ کر سکا جبکہ خود کو زندہ جلانے والے جیالے نے صوبائی وزیر اشرف سوہنا کے خلاف شدید احتجاج کیا ۔ تفصیلات کے مطابق آج الحمرا میں منعقدہ پیپلز پارٹی کی رکنیت سازی مہم کے حوالے سے تقریب کے موقع پر محمد سلیم اچانک سٹیج پر چڑھ گیا اور اپنے جسم پر پٹرول چھڑک لیا اور آگ لگانے کی کوشش کی تو کارکنوں نے اسے قابو کر لیا جس پر حال میں بھگدڑ مچ گئی ۔ رہنماؤں سمیت متعدد کارکن بھاگ نکلے ۔صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے محمد سلیم نے کہا کہ سوشل سیکورٹی سے معطل ہوئے دس ماہ ہو چکے ہیں میں نے متعدد بار صوبائی وزیر محنت سے درخواست کی کہ میرے گھر کے چولہے ٹھنڈے ہو گئے ہیں اور بچے فاقہ کشی کا شکار ہیں اور فیسیں نہ دینے پر میرے بچوں کو سکول سے بھی نکال دیا گیا ہے ۔ لیکن صوبائی وزیر نے میری درخواست پر ہمدردانہ غور کرنے کی بجائے دفتر سے نکال دیا ۔۔محمد سلیم نے کہا کہ اگر پارٹی دیرینہ کارکنوں کے ساتھ یہ سلوک روا رکھا جاتا ہے تو باقی عوام کے ساتھ کیا برتاؤ ہو گا ۔
Tags: پاکستان
ہمیں آزاد نہیں غیر جانبدار عدلیہ چاہیے ۔ فوزیہ وہاب
January 27th, 2010 · No Comments
جمہوری حکومت دن کی روشنی میں منتخب ہوئی تو ہر طرف سے تنقید کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے
٭۔ ۔ ۔ صرف پیپلز پارٹی یا آصف علی زرداری ہی کیوں نشانہ بنتے ہیں ، اگر کوئی میڈیا سے شاکی ہے تو اس کی وجہ دور کردینی چاہیے ۔ فوزیہ وہاب
٭۔ ۔ ۔ ملک میں ٹیکس صرف غریبوں پر ہی لگائے جاتے ہیں ،نتیس ہزار لاوسنس جاری کئے گئے ہیں ۔ میڈیا اور حکومت کے تعلقات آپس میں خوشگوار نہیں ہونے چاہیے۔ممتاز صحافی عارف نظامی و دیگرکا خطاب
لاہور‘ ہمیں آزاد نہیں غیر جاندار عدلیہ چاہیے ، 2000 ء میں بھی اسی ادارے کا ایک فیصلہ آیا تھا جس میں ایک آمر کو سب کچھ کرنے کے لئے تین سال کی مہلت دی گئی اس وقت کسی نے استعفی کا مطالبہ نہیں کیا تھا اب جبکہ دن کی روشنی میں جمہوری حکومت عوام کے ووٹ لے کر منتخب ہوئی ہے تو ہر طرف سے تنقید کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات فوزیہ وہاب نے لاہور پریس کلب کے زیر اہتمام منعقدہ سیمینار بعنوان ’’حکومت، عدالت، صحافت کا دائرہ کاراور ذمہ داریاں ‘‘ میں کیا ۔ فوزیہ وہاب نے کہا کہ ایک زمانہ تھا کہ کرپشن کا موضوع نمبر نیوز تھا اور اب گڈ گورننس کی بات فیشن بن چکی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا نے اپنی اجارہ داری قائم کر رکھی ہے ، کالی بھیڑ کو سفید بنا دیا جاتا ہے جبکہ یہ نہیں سوچا جاتا کہ عدم استحکام ملکی مفاد میں نہیں ہے ۔ سپریم کورٹ کے این آراوفیصلہ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اس میں بار بار لکھا ہے کہ آئین ہی ہماری گائیڈ لائن ہے اور آرٹیکل 25 کا حوالہ دیا جاتا ہے ۔ لیکن آرٹیکل 248 کی بات آخر کیوں نہیں کی جاتی اگر این آراو برا ہے تو این ایبی بھی برا ہے عدالیہ کو غیر جانبداری اور ایک ہی تلوار سے دونوں فریقین کا فیصلہ کرنا چاہیے ۔ صرف پیپلز پارٹی یا آصف علی زرداری ہی کیوں نشانہ بنتے ہیں ۔ تمام اداروں کو ملکر چلنا چاہیے یہی جمہوریت ہے ۔ ڈاکٹرمبشر حسن نے کہا کہ اگر کوئی میڈیا سے شاکی ہے تو اس کو وہ وجہ دور کر دینی چاہیے ۔ باسٹھ سال تو ہم چپ رہے اور اب ہم چپ نہیں رہیں گے ۔ انہو ںنے کہا کہ ملک میں گیارہ سو ارب روپے کے ٹیکس لگائے گئے سات سو غریبوں پر اور چار سو کارپوریشن پر جبکہ امیروں پر ٹیکس ہی ختم کر دیا گیا ۔ اگر ایوب خان والے ٹیکس لگائے جائیں تو چار ہزار ارب روپے کی آمدنی ہو سکتی ہے اور کسی بیرونی امداد کی ضرورت نہیں رہے گی ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ریاستی ادارں کے خلاف ایک فورس تشکیل دے رہی ہے اسی وجہ سے غیر ممنوعہ بور کے انتیس ہزار لاوسنس جاری کئے گئے ہیں ۔ سینئر صحافی عارف نظامی نے کہا کہ معاشرے کی اصلاح اور عوامی مسائل کے حل کیلئے حکومت کی توجہ دلانے کے لئے ضروری ہے کہ میڈیا اور حکومت کے تعلقات آپس میں خوشگوار نہیں ہونے چاہیے۔ سینئر صحافی سلیم بخاری نے کہا کہ ہمارے ہاس سے زرد صحافت کا خاتمہ ہو رہا ہے جلد ہی کالی بھیڑوں سے چھٹکارا مل جائے گا ۔ ہماری عدلیہ کا کردار بھی اتنا اعلی نہیں رہا جس کے کئی فیصلوں کا خمیازہ ہم آج بھی بھگت رہے ہیں اگر عدلیہ نے توبہ کر لی ہے تو اس کا ہر ممکن ساتھ دینا چاہیے ۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ بار کی صدر جسٹس (ر) ناصرہ اقبال نے کہا کہ میڈیا نے بیداری کے فرض کا حق ادا کیا ہے پچھلے دو سال سے میڈیا کا جو رویہ سامنے آیا ہے وہ طلوع سحر کے مترادف ہے ۔ اسی وجہ سے ہی ہماری تحریک کامیاب ہو سکی ۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں صحیح طرح سے ادا کرے ۔ گورنر صاحب ججز کی تعیناتی کی سمری دبا کے بیٹھے ہیں جو کہ ان کا کام نہیں ہے ۔ ۔ پریس کلب کے صدر سرمد بشیر نے مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے فوزیہ وہاب سے اپنے مطالبات کے حق میں اپنا اثر ورسوخ ادا کرنے کے لئے کہا
Tags: پاکستان
خلق خدا اورجمہوریت کا بول بالا ہوگا اور ڈکٹیٹر وں کی باقیات کا منہ کالا ہوگا۔۔۔۔ترجمان بلاول ہاؤس
January 27th, 2010 · No Comments
کراچی ‘ بلاول ہاؤس کے ترجمان اعجاز درانی نے کہا ہے کہ خلق خدا اورجمہوریت کا بول بالا ہوگا اور ڈکٹیٹر وں کی باقیات کا منہ کالا ہوگا کیونکہ تعمیرپاکستان ،بقاء پاکستان اور جمہوریت کی بحالی میں سب سے بڑا کردار سیاستدانوں،وکیلوں اور صحافیوں نے ادا کیا ہے اس لئے یہ تینوں قوتیںہی شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی بے مثال قربانی کی بدولت حاصل ہونے والی جمہوریت کے خلاف ہونے والی سازشوں کو اپنے عملی اتحاد سے ناکام بنادیں گی۔ اعجاز درانی نے کہا کہ دسمبر کے بعد جنوری کا مہینہ بھی ڈکٹیٹروں کی باقیات کے لئے شرمناک شکست کا باعث بنا اور سیاستدانوں،وکیلوں اور صحافیوں نے نادیدہ قوتوں اور خصوصاً جنرل ضیاء اور جنرل مشرف کے جوتے صاف کرنے والوں کی سازشوں کو ناکام بنادیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بنیاد ایک وکیل قائداعظم محمد علی جناح نے رکھی تھی اور مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے کے بعد بقایا پاکستان کو ٹکڑیوں میں تقسیم کرنے کی سازش کوبھی ایک وکیل شہید ذوالقفار علی بھٹو نے ناکام بنادیا تھا۔ ترجمان نے یاد دہانی کرائی کہ1977ء میں شہید ذوالفقار علی بھٹو کی جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد وہ لوگ جنہوں نے جنرل ضیاء کی گود میں سیاسی پرورش حاصل کی وہ آج صدر مملکت آصف علی زرداری کے خلاف سازشیں کرکے آسمان پر تھوک کر خود اپنا منہ خراب کررہے ہیں۔1977ء کے بعد بھی حقیقی سیاستدانوں،باضمیر وکیلوں اور غیرتمند صحافیوں نے کوڑے کھاکر اورجیل وبند کی صعوبتیں برداشت کرکے پاکستان کے پرچم کو بلند رکھا۔18اکتوبر2007ء کو کراچی میں بم دھماکے اور اپنے 200سے زائد بھائیوں کی شہادت کے باوجود محترمہ بے نظیربھٹو نے ڈکٹیٹروں کی اولادوں اور اپنے نالائق انکلوںکے خلاف جمہوری جدوجہد کو جاری رکھا جس کے نتیجے میں انہیں اپنے والد کی طرح جان سے ہاتھ دھو بیٹھنا پڑا اور محترمہ بے نظیربھٹو کی شہادت کے طفیل ہی آج پاکستانی قوم جمہوری فضاؤں میں آزادی کی سانسیں لے رہی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ موجودہ جمہوری حکومت نہ صرف اپنے پانچ سال کی میعاد پوری کرے گی بلکہ اپنی کارکردگی کی بدولت آئندہ آنے والے کئی سالوں تک شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے خوابوں کو حقیقت کا رنگ دے گی
Tags: پاکستان



