٭۔ ۔ ۔ دہشت گرد ملک کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں ، وطن عزیز میں امن قائم کرنے کیلئے سب کو متحد ہوکر کام کرنا ہوگا
٭۔ ۔ ۔ حساس اداروں کی عمارات اورملازمین کو نشانہ بنانے والے وحشی درندوںکو بالآخر پسپا ہونا پڑے گا
٭۔ ۔ ۔ وزیر بلدیات پنجاب دوست محمد کھوسہ کی طرف سے ماڈل ٹاؤن لاہوربم دھماکے کی شدید مذمت
لاہور‘ وزیر بلدیات پنجاب سردار دوست محمد خان کھوسہ نے ماڈل ٹاؤن لاہور میں دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے دہشت گردوں کی طرف سے ریاست اور انسانیت کے خلاف کھلی جنگ قرار دیا ہے ۔انہوں نے کہاکہ حساس اداروں کی عمارات اورملازمین کو نشانہ بنانے والے مسلمان تو کیا کسی طرح سے بھی انسان کہلانے کے حقدار نہیں۔انہوں نے کہا کہ بے گناہ شہریوں کوبربریت کا نشانہ بنانے والے وحشی درندوںکو بالآخر پسپا ہونا پڑے گا۔سردار دوست محمد خان کھوسہ نے دہشت گردی کی کاروائیوں کو انسانیت کش فعل اورعوام میں خوف وہراس پیدا کرنے کی ایک مذموم کوشش قرار دیا ہے۔انہوں نے کہاکہ دہشت گرد ملک کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں اس لئے وطن عزیز میں امن قائم کرنے کیلئے سب کو متحد ہوکر کام کرنا ہوگا۔سردار دوست محمد کھوسہ نے واضح کیا کہ بم دھماکوں میں ملوث افراد نہ تو اسلام کی کوئی خدمت کررہے ہیں اور نہ ہی ملک و ملت کی بلکہ ایسی کاروائیاں دنیا کے سامنے پاکستان کا امیج خراب کرنے کی ایک منظم سازش کا حصہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت دہشت گردی کے ناسور کو جڑسے اکھاڑنے کیلئے پر عزم ہے اوراس نوعیت کی کاروائیاں حکومت کے عزم کو متزلزل نہیں کرسکتیں
Tags: پاکستان
وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اور انکی اہلیہ کے اثاثوں کا حجم43 کروڑ 87 لاکھ روپے ہیں
سردار امان اللہ دریشک 7 ہزار189 کینال زرعی زمین کے مالک ہیں،راجہ ریاض کے پاس زاتی گاڑی بھی نہیں
وزیر خزانہ کے پاس ذاتی گاڑی ہے نہ ہی بیرون ملک اثاثے، بینک اکاونٹس میں صرف58270روپے ہیں
سردار ذوالفقار کھوسہ کے پاس60 لاکھ روپے مالیت کی مرسیڈز بینز گاڑی،مونس الٰہی کے پاس نقد رقم35کروڑ روپے ہے
اسلام آباد ‘ الیکشن کمیشن نے ارکان پنجاب اسمبلی کے اثاثوں کی تفصیلات بھی جاری کر دی ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اور انکی اہلیہ کے اثاثوں کا حجم43 کروڑ 87 لاکھ روپے اور سردار امان اللہ دریشک 7 ہزار189 کینال زرعی زمین کے مالک ہیں۔الیکشن کمیشن کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا ء اللہ کے اثاثوں میں ٹویوٹا کرولا، لینڈ کروزر سمیت80 لاکھ روپے کی تقد رقم شامل ہے سردار ذوالفقار کھوسہ کے پاس60 لاکھ روپے مالیت کی مرسیڈز بینز گاڑی ہے۔ پنجاب کے وزیر خزانہ تنویراشرف کائرہ کے ذاتی اکاؤنٹس بھی پنجاب حکومت کی طرح خالی محسوس ہوتے ہیں۔وزیر خزانہ کے پاس ذاتی گاڑی ہے نہ ہی بیرون ملک اثاثے، بینک اکاونٹس میں صرف58270روپے ہیں۔ پنجاب کے سنیئر وزیرراجہ ریاض ذاتی گاڑی سے محروم ہیں۔ قاسم ضیا کے اثاثوں میں بھی گاڑی نہیں ہے بلکہ وہ تو بینک کے ایک کروڑ 71 لاکھ روپے کے مقروض بھی ہیں۔ سابق وزیر اعلیٰ پنجاب کے فرزند مونس الٰہی کے پاس نقد رقم35کروڑ روپے ہے۔ صوبائی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چوہدری ظہیرالدین کے اثاثوں کی مالیت12کروڑ سے زائد ہے جبکہ رکن اسمبلی فرح دیبا کے پاس صرف 70 ہزار روپے ہیں۔ فرح دیبا کی ملکیت میں کوئی زمین ہے نہ گاڑی اور نہ ہی زیورات ہیں۔ ظل ہما کے اثاثوں میں50 تولہ سونا اور55 ہزار روپے نقدی شامل ہے۔
Tags: پاکستان
٭۔ ۔ ۔ مطالبات تسلیم نہ ہونے تک ٹرانسپورٹ نہیں چلے گی‘ حکومت خود بسیں چلالے مکمل تعاون کرینگے: ٹرانسپورٹرز
٭۔ ۔ ۔ شہریوں کو ہڑتال کے باعث آمدورفت میں شدید مشکلات کا سامنا
لاہور‘ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کے خلاف صوبائی دارالحکومت میں پبلک ٹرانسپورٹروں کی ہڑتال چوتھے روزبھی جاری رہی جبکہ ٹرانسپورٹ کمپنیوں سے وابستہ ملازمین نے لاہور ریلوے اسٹیشن سے چیئرنگ کراس مال روڈ تک احتجاجی ریلی نکالی جہاں ٹرانسپورٹ کمپنیوں کے ملازمین نے احتجاجی دھرنا بھی دیا۔ کارکنوں نے بڑے بڑے بینرز اور پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے جن پر ان کے مطالبات درج تھے جبکہ ریلی میں ٹرانسپورٹ کمپنیوں کے مالکان نے بھی شرکت کی۔ ٹرانسپورٹ مالکان اور کمپنیوں کے ملازمین نے مطالبہ کیا کہ ڈیزل کی قیمتوں میں فوری کمی کی جائے اور گزشتہ تین سال کی ڈیزل پر سبسڈی ٹرانسپورٹ کمپنیوں کو ادا کی جائے۔ ٹرانسپورٹروں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ سٹاپ سے سٹاپ کرایہ 15 روپے اور اربن روٹ پر زیادہ سے زیادہ کرایہ 30 روپے مقرر کیا جائے۔ ٹرانسپورٹ مالکان نے انتباہ کیا کہ جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کئے جاتے ٹرانسپورٹ نہیں چلائیں گے جبکہ وہ حکومت کی جانب سے سبسڈی ادا نہ کئے جانے کے باعث دو سے تین ماہ تک کی ملازمین کی تنخواہ بھی ادا نہیں کرسکے۔ انہوں نے حکومت کو پیشکش کی کہ اگر حکومت مطالبات تسلیم نہیں کرتی تو ان کی ٹرانسپورٹ کمپنی خود چلا لے ۔ وہ حکومت کو ڈرائیورو کنڈیکٹر فراہم کرنے سمیت تمام سہولتیں فراہم کریں گے لیکن گاڑیوں میں خود ڈیزل ڈلوا کر گاڑیاں چلانا ان کیلئے ممکن نہیں ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹروں کی ہڑتال کے باعث شہریوں کو آمدورفت کیلئے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
Tags: پاکستان
٭۔ ۔ ۔ پنجاب میں آئینی عہدے پر براجمان جس شخص کا کہنا یہ ہے کہ صوبے میں انصاف نام کی کوئی چیز نہیں،وہ خود انصاف کی فراہمی کے عمل میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ ذوالفقار علی خان کھوسہ کی پریس کانفرنس
لاہور‘ سینئر صوبائی وزیر سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ نے کہا ہے کہ پنجاب کے گورنرسلمان تاثیر صوبے میں گورنر راج نافذ کرنے سے پہلے ،گورنر راج کے دوران اور گورنر راج ہٹائے جانے کے بعد بھی حکومت پنجاب کے روزمرہ معاملات میں بے جامداخلت اور سول سرونٹس کو بلا کر دھمکیاں دینے کے علاوہ پولیس تفتیش میں دخل اندازی اور عدلیہ کے معاملات میں غیر قانونی مداخلت کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ پنجاب میں آئینی عہدے پر براجمان جس شخص کا کہنا یہ ہے کہ صوبے میں انصاف نام کی کوئی چیز نہیں،وہ خود انصاف کی فراہمی کے عمل میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ پنجاب میں جنگل کا قانون نافذ ہونے کا طعنہ دینے والی اس شخصیت نے خود ایک مدت سے لاہور ہائی کورٹ میں ججوں کی تقرری نہیںہونے دی اور چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کی طرف سے نامزد کئے گئے افراد کی فہرست غیر قانونی طور پر اسی شخصیت نے دبا رکھی ہے۔ 90۔شاہراہ قائداعظم لاہورمیں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ نے کہا کہ سلمان تاثیر وہی شخص ہے جس نے 2007ء میں ایک ڈکٹیٹر کی کابینہ میں حلف لیا ۔آج یہی شخص پنجاب میں لاء آف جنگل کی بات کررہاہے جو سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے ساٹھ ججوں کو ان کے اہل خانہ سمیت سرکاری رہائش گاہوں میں قید کرنے والوں میں شامل تھا اور اس شخص کے وفاقی وزارت پرفائز ہوتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان کے ساتھ جس بُری طرح سلوک کیا گیا ،وہ دنیا نے دیکھا ہے۔سینئر صوبائی مشیر نے کہا کہ گورنر سلمان تاثیر نے مارچ2009ء میں گورنر راج لگانے کے بعد پنجاب میں جنگل کا قانون لاگو کردیا تھا ۔ گورنر راج کے دوران ارکان پنجاب اسمبلی کے ضمیر کی قیمت لگانے کی کوشش کی جاتی رہی۔گورنر ہاؤس لاہور کو سیاسی اکھاڑہ اورگھوڑوں کی منڈی بنایا گیا اوربرملا یہ اعلان کیا گیا کہ میں وفاق میں اپنی پارٹی کے شریک چیئرمین کو پنجاب اسمبلی کے 250۔ارکان کی حمایت پیش کروں گا لیکن پاکستان مسلم لیگ (ن)سے تعلق رکھنے والے ارکان صوبائی اسمبلی نے ان کی یہ خواہش حسرت میں بدل کر رکھ دی۔سردار ذوالفقا ر کھوسہ نے کہا کہ یہ شخص اپنا منصب بے شک رکھے ،ہمیں اس کی ذات سے کوئی غرض نہیں لیکن اس منصب کا احترام کرے جو ایک آئینی منصب ہے۔ انہوں نے کہا کہ گورنر سلمان تاثیر صوبہ پنجاب کے اندرونی حالات کو بگاڑنے اورپنجاب کی موجودہ حکومت کو عدم استحکام سے دو چار کرنے کے لئے وہ اختیارات بھی استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیںجو اختیارات آئینی طور پران کے پاس نہیں ہیںاور یہ طرز عمل ایک ایسے صوبے میں اپنا یا گیا ہے جہاں پاکستان مسلم لیگ (ن)اور پاکستان پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت قائم ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہماری حلیف جماعت سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزراء ہمیں ہمیشہ یہ کہتے ہیںکہ آپ گورنرپنجاب کے اُوٹ پٹانگ بیانات کا غصہ نہ کیا کریںکیونکہ صوبے میں دونوں بڑی جماعتو ں کی مخلوط حکومت چلتی رہنی چاہیے ۔ہم نے پنجاب میں گورنر راج ہٹائے جانے کے فوراً بعد اپنی حلیف جماعت سے خود رابطہ کرکے انہیں کابینہ کے اجلاس میں شرکت کی دعوت دی ۔انہوں نے اپنی قیادت سے مشاورت کے لئے دو دن کی مہلت طلب کی ۔ہم نے ان کا انتظار کیاتاکہ یہ الحاق نہ ٹوٹے ۔یہ اچھی بات ہے کہ پیپلز پارٹی کے ارکان صوبائی اسمبلی اور وزراء اب تک ہمارے ساتھ چل رہے ہیں۔وہ یہی کہتے ہیںکہ براہ مہربانی آپ گورنر کے بیانات کو درگزر کریںلیکن جب آمریت کی باقیات میں شامل گورنر پنجاب ہمارے ارکان اسمبلی کو طرح طرح کے لالچ دے رہا ہواور حکومت کی فنکشننگ میںغیر قانونی طور پر دخل اندازی کر رہا ہو،تو ہم درگزر کیسے کرسکتے ہیں۔پاکستان کے دوسرے صوبوں میں بھی توگورنرز موجود ہیں،وہاں تو یہ صورت حال نہیں ہے۔سینئر صوبائی مشیر نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ(ن)کی مرکزی قیادت نے گورنر پنجاب کے خلاف کبھی کوئی بیان جاری نہیں کیا ،البتہ صوبائی وزیر قانون راناثناء اﷲ خاں نے اپنے بعض بیانات میںمحض ان بیہودہ اور بے بنیاد الزامات کا جواب دیا ہے جو گورنر صاحب بسااوقات صوبائی حکومت پر لگاتے رہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کا گورنر ایسی زبان استعما ل کرتا رہا ہے جو شائستہ حلقو ں میں استعمال نہیں کی جاتی ۔یہ بازاری زبان ایک گورنر کو تو کیا زیب دے گی،یہ لب ولہجہ کسی کو بھی زیب نہیں دیتا ۔سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف قومی جدوجہدکے تناظر میں پاکستانی قوم کو اس وقت استحکام کی ضرورت ہے اور سلمان تاثیر ایک ایسا فرد واحد ہے جو پاکستان کے استحکام اور سالمیت برقرار رکھنے میں رخنہ ڈال رہا ہے۔لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے ججوں کی تقرری کے لئے جب 26۔افرادنامزد کرکے فہرست گورنر پنجاب کو بھجوائی ،توگورنر نے ٹیلی فون کر کے ہر ایک نامزدفرد کو گورنر ہاؤس بلوایا اور کہا کہ فرداًفرداً انٹرویو کے لئے آئیں۔نامزد افرا د میں سے کچھ حضرات گورنر ہاؤس گئے ،کچھ نے جانے سے انکار کردیا۔ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے وفاقی سیکرٹری قانو ن کو لکھا کہ سبھی نامزد افراد سے بیان حلفی لیں کہ کیا انہوں نے بطور جج تقرری کے سلسلہ میں گورنر پنجاب سے ملاقات کی ہے تودس نامزد افراد نے یہ بیان حلفی داخل کرایا کہ گورنر نے ان سے یہ عہد حاصل کرنے کی بھرپور کوشش کی کہ اگر آپ جج بن جائیںتو آپ ہر طرح سے پیپلز پارٹی کی تائید وحمایت کرتے رہیںگے اور اس عہد نامے کے بعد ہی آپ کانام آگے بھجوایا جائے گا۔ سینئر صوبائی مشیر نے بتایا کہ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے یہ تمام نام واپس لے لئے اور اب صرف 11نام ہائی کورٹ کے جج کے لئے نامزد کئے گئے ہیں۔آئینی تقاضا یہ ہے کہ اس معاملے میں صوبائی وزیرا علیٰ کی ایڈوائس حاصل کی جائے لیکن گورنر نے وزیر اعلیٰ پنجاب کی ایڈوائس کو اپنی سفارشات میں شامل کرنا ضروری نہیں سمجھا اور اس حقیقت کے باوجود گذشتہ سوا مہینے سے یہ فہرست اپنے پاس لے کر بیٹھے ہوئے ہیں کہ لاہور ہائی کورٹ میں اس وقت 63۔ججوں کی آسامیوں میں سے صرف 20۔آسامیوں پر ریگولر جج صاحبان موجود ہیں جس کی وجہ سے موجودہ جج اوورٹائم لگا کر بھی ہائی کورٹ میں زیر التو اء ہزاروں کیس نمٹا نہیں سکتے ۔صوبائی وزیر قانون کے لاء چیمبر اور چیف سیکرٹری پنجاب کی گاڑی کے حادثے کے بارے میں گورنر کے متنازعہ بیانات سے متعلق ایک سوال کے جواب میںسردار ذوالفقار علی خان کھوسہ نے کہا کہ ان دونو ں معاملات میں آئینی طور پر گورنر کا کوئی کردار نہیں ہے۔ پ گورنر کے اختیار میں نہیں آتا ۔ گورنر وفاقی حکومت کا نمائندہ ہوتا ہے جو عوام کی منتخب کردہ صوبائی اسمبلی میں سے نہیںہوتا ۔پاکستان مسلم لیگ(ن) تو ایک ایسی جمہوریت پسند پارٹی ہے جس نے الزامات کی زد میں آنے والے اپنے کسی ایم این اے اور ایم پی اے سے کبھی رعایت نہیں برتی اور انہیں استعفے دینے پڑے ۔سردار ذوالفقارعلی خان کھوسہ نے بتایا کہ صوبائی وزیر قانون نے خود یہ پیش کش کی ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب ان کے پلازے کے بارے میں جو بھی فیصلہ کریں گے،وہ انہیں منظور ہوگا۔اسی طرح چیف سیکرٹری پنجاب بھی رضاکارانہ طور پر اپنی گاڑی کے حادثے کی تحقیقات میں شامل تفتیش ہوگئے ہیں۔
Tags: پاکستان
January 30th, 2010 · 1 Comment
٭۔ ۔ ۔ کرنل (ر) اکرام کی ہلاکت کا معاملہ رکے گا نہیں ، لواحقین کو انصاف فراہم کیا جائے گا
٭۔ ۔ ۔ مقابلوں کے ماہر کو تفتیشی افسر مقرر کیا گیا ، جس کی کارردگی سے دنیا واقف ہے ، اب لوگ حکومت کو نفرت اور حقارت سے دیکھ رہے ہیں
٭۔ ۔ ۔ مریض مرے تو مسیحا پر قتل کا مقدمہ ، پاکستان کا دفاع کرنے والے محافظ کو تڑپتا چھوڑ کر فرار ہونے والے چیف سیکرٹری قانون سے نہیں بچ سکے گا۔ گورنر پنجاب کی مرحوم کے لواحقین سے تعزیت و گفتگو
لاہور‘گورنرپنجاب سلمان تاثیر نے کہا ہے کہ پنجاب میں امن و امان کا اللہ ہی حافظ ہے۔ اگر صوبہ کا اعلیٰ ترین افسر ایسے غفلت کے رویہ کا مظاہرہ کرے گا تو صوبے کا اللہ ہی حافظ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرنل (ر) اکرام کی ہلاکت کا معاملہ رکے گا نہیں۔ لواحقین کو انصاف فراہم کیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج صدر اور وزیراعظم کی ہدایت پر کرنل (ر) اکرام مرحوم کی رہائشگاہ پر ان کے اہلخانہ سے تعزیت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ گورنر پنجاب نے کہا کہ کرنل (ر) اکرام مجاہد تھے جنہوں نے نہ صرف 1965ء اور 1971ء کی جنگ میں پاکستان کا دفاع کیا بلکہ ان کے ایک بیٹے نے بھی شہادت نوش کی۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح چیف سیکرٹری پنجاب جاوید محمود کرنل اکرام کو ٹکر مارنے کے بعد سڑک پر تڑپتا چھوڑ کر بھاگ گئے ان کا یہ رویہ انتہائی شرمناک تھا۔ کسی عام شہری کو بھی ایسی حرکت زیب نہیں دیتی۔ اگر صوبے کے سربراہ انتظامی افسر کا یہ رویہ ہے تو پھر صوبے کا خدا ہی حافظ ہے۔ انہوں نے کہا کہ واقعہ کی انکوائری پر عمر ورک جیسے افسر کو لگایا گیا جو پولیس مقابلوں کا ماہر جانا جاتا ہے۔ اس کی شہرت سے سب واقف ہیں۔ اس سوال پر کہ کیا اس حادثہ کی عدالتی تحقیقات کروائی جائیگی انہوں نے کہا کہ اس بات کا فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ یہاں رکے گا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں صوبے کا آئینی سربراہ اور صدر مملکت کا نمائندہ ہوں۔ انہوں نے کہا ہ کرنل (ر) اکرام کے ورثاء کو انصاف فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ یہاں کرنل (ر) اکرام کے بیٹے کی طرف سے لکھے گئے خط کے جواب میں یہاں آئے ہیں۔ گورنر نے بتایا کہ انہوں نے تمام صورتحال سے صدر اور وزیراعظم کو آگاہ کردیا ہے اور واقعہ کے بارے میں تمام حقائق بھی معلوم کرلئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چیف سیکرٹری کے ڈرائیور کیا مفرور اور جرائم پیشہ تھے جو انہیں تین روز بعد پیش کیا گیا اور کیا چیف سیکرٹری کیلئے وزیراعظم کو رخصت کرنا ایک انسانی جان سے زیادہ قیمتی تھا کہ وہاں سے بھاگ گئے۔ چیف سیکرٹری کے ڈرائیور نے بیان دیا ہے کہ اسے مار مار کر کہا گیا کہ گاڑی تیز چلاؤ اور ٹکر سے کرنل (ر) اکرام کا موٹرسائیکل 15 فٹ دور جاگرا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں جنگل کا قانون ہے۔ یہاں ایک ڈاکٹر مریض کی جان بچانے کی کوشش کرتا ہے تو اس پر 302 کا مقدمہ بن جاتا ہے اور ہتھکڑیاں لگ جاتی ہیں۔ یہاں ڈاکٹروں کیلئے اور‘ وزیر قانون کیلئے اورجبکہ شہریوں کیلئے تیسرا قانون ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو درست راستہ اختیار کرنا چایے اور اس طرح سے صوبہ کونہ چلایا جائے لوگ حکومت ک نفرت اور حقارت سے دیکھ رہے ہیں ۔ کرنل (ر) اکرام کی پاکستان کیلئے جو خدمات ہیں ان کے تحت ان کی فیملی کی خدمات کی جانی چاہیے تھی اور جس طرح کی چاہتے ہیں انکوائری کی جانی چاہیے ۔ اگر انہیں انصاف ملتا تو کرنل (ر) اکرام کے بیٹے مجھے خط نہ لکھتے لیکن جو ڈرامہ انہوں نے یہاں کیا اس پر انہیں خط لکھنا پڑا ۔ صوبہ میں ججوں کی تعیناتی میں تاخیر کے حوالہ سے انہوں نے کہا کہ اس بات کو چھوڑیں اور روانہ ہو گئے ۔ قبل ازیں گورنر نے کرنل (ر) اکرام کے صاحبزادے اعظم اکرام اور ان کے بھائی سے تعزیت کی اور کرنل (ر) اکرام کی روح کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی
Tags: پاکستان
لاہور ‘ گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے کہا ہے کہ اگر پا کستان میں جمہوریت نہ ہوتی تو ممبئی حملوں کے بعد بھارت پاکستان پر حملہ کردیتا۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ میں جنگل کا قانون ہے سستی روٹی کہیں نہیں مل ر ہی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے یونیورسٹی آف ساؤتھ ایشیاء میں تقریب سے خطاب اور صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ گورنر نے کہا کہ محترمہ بے ن ظیر بھٹو کو قتل کر کے پاکستان میں جمہوریت کو قتل کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ یہ حملہ محترمہ پر نہیں بلکہ جمہوریت پر تھا۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ پنجاب میں جنگل کا قانون ہے یہاں شمائلہ رانا کیلئے اور قانون ہے اور دوسرے رانا کیلئے اور جبکہ عام لوگوں کیلئے دوسرا قانون ہے۔ انہوں نے کہ کہ لوگوں نے پلازے پیسے خرچ کر کے کاروبار کیلئے بنائے اگر کوئی گاڑی غلط پارک کی گئی ہو تو اسے توڑتے نہیں بلکہ جرمانہ کرتے ہیں لیکن یہاں قانون ن ام کی کوئی چیز نظر نہیں آتی۔ سب کیلئے ایک قانون کیوں نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ اتھارٹی کہاں ہے۔ ایک سوال کے جواب میںگورنر نے کہا کہ یہ حکومت لاہور کے عوام کو سستی روٹی نہیں دے سکی تو پورے صوبے میں کیسے دے گی۔ صرف لاہور کے پورے پنجاب میں صرف پانچ چھ تندوروں پر روٹی دی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جوتندور شامل کئے گئے ان میں صرف لاہور، فیصل آباد او ر پنڈی کے چند تندور تھے۔ جنوبی پنجاب میں کہاں سستی روٹی مل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی وزیر قانون حکومت میں بیٹھ کر جتنا نقصان صوبہ اور حکومت کو پہنچا رہے ہیں باہر بیٹھ کر نہیں پہنچا سکتے
Tags: پاکستان
لوکل باڈیز میں ترامیم کا مقصد نظام کو مکمل شفاف بنانا ہے
صوبہ بھر میں بلدیاتی انتخابات 6 ماہ کے اندر ہوں گے
ایڈمنسٹریٹر بیورو کریٹ ہوں گے ‘ ضلع میں سربراہ ڈی سی او ہو گا
وزیر قانون رانا ثناء اللہ کی کابینہ کے اجلاس کے بعد بریفنگ
لاہور ‘ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی صدارت میں ایوان وزیر اعلیٰ میں منعقدہ پنجاب کابینہ کے اجلاس میں لوکل باڈیز ایکٹ میں ترامیم کی منظوری دے کر ناظمین کی جگہ ایڈمنسٹریٹر تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ صوبائی وزیر قانون رانا ثنا اللہ نے اجلاس کے بعد بریفنگ میں بتایا کہ اجلاس میں لوکل باڈیز ایکٹ میں ترامیم پر تفصیلی غور کیا گیا ۔ کابینہ کے ارکان نے ترامیم پر ایک ایک کر کے بحث کی ۔ انہوں نے بتایا کہ لوکل باڈیز ایکٹ میں ترامیم کا مقصد نظام کو مکمل شفاف بنانا ہے ۔ صوبائی وزیر قانون نے صوبہ بھر میں بلدیاتی انتخابات 6 ماہ کے اندر کرانے کا اعلان کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایڈمنسٹریٹر بیورو کریٹ ہوں گے ۔ ضلع میں سربراہ ڈی سی او ہو گا ۔ انہوں نے کہا کہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2010 ء بھی لایا جائے گا جو کسی فرد واحد کے بجائے تمام مکاتب فکر کے افراد کی آراء پر مشتمل ہو گا اور ان کی نمائندگی کرے گا ۔ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ لوکل باڈی الیکشن اتھارٹی کا قیام بھی عمل میں لایا جا رہا ہے تاکہ بلدیاتی نظام کے حوالے سے اداروں کی کارکردگی کو یہی اتھارٹی دیکھا کرے گی ۔ انہوں نے بتایا کہ اس اتھارٹی کے سربراہ کی اہلیت سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کے جج کی اہلیت کے برابر ہو گی جبکہ ممبران میں گریڈ 20 یا اس کے مساوی اہلیت رکھنے والے افراد شامل ہوں گے ۔
Tags: پاکستان
اسلام آباد‘ پیپلزپارٹی نے وزیراعظم گیلانی سے مطالبہ کیا ہے کہ صدر کو پروٹوکول نہ دینے پر پنجاب حکومت سے وضاحت طلب کی جائے ۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم سے کہا گیا ہے کہ پہلے مرحلے میں چیف سیکرٹری اور آئی جی پنجاب کو تبدیل کردیا جائے اور ان کی جگہ مرکزی حکومت کے نامزد افسران تعینات کیے جائیں۔ پارٹی راہنماؤں کا کہنا ہے کہ پنجاب نے پارٹی وزراء کو اختیارات نہیں دئیے ۔ وزیراعظم نے اس سلسلے میں حتمی فیصلے سے پہلے میاں شہباز شریف سے ملاقات کی ہے ۔ ذرائع کے مطابق دونوں جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے نہ ہو سکا تو پیپلزپارٹی پنجاب کابینہ سے علیحدگی کا اعلان کردے گی ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ انہیں یہ قبول نہیں کہ وزیراعظم کو پنجاب میں پورا پروٹوکول ملے اور صدر کے قافلے کی گاڑیوں کو پٹرول بھی نہ ملے ۔
Tags: پاکستان
٭۔ ۔ ۔ اگر کسی کو سیاست نہیں آتی اور آئین نہیں پڑھا تو اس کا ہم کچھ نہیں کرسکتے‘آئین میں صدر مملکت اور سیاسی عہدہ ایک ساتھ رکھنے پر کوئی پابندی نہیں
٭۔ ۔ ۔ ہم نے عوام کیلئے قربانیاں دیں‘ کوڑے کھائے۔ جن لوگوں کی انگلی پر کوئی زخم نہیں آیا وہ آج جمہوریت کے چیمپیئن بن بیٹھے ہیں:
لاہور۔پاکستان پیپلزپارٹی کے سیکرٹری جنرل سینیٹر جہانگیر بدر نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف اپنی خواہشات کا کھیل کھیلنا چاہتے ہیں۔ انہیں سمجھ نہیں آتی کہ کون سی بات کرنی ہے کون سے نہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئین میں صدر مملکت اور سیاسی عہدہ ایک ساتھ رکھنے پر کوئی پابندی نہیں۔ اگر کسی کو سیاست نہیں آتی اور آئین نہیں پڑھا تو اس کا ہم کچھ نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہا کہ سیاستدانوں کو ایک دوسرے کیخلاف بیان بازی کرنے کی بجائے ملک میں جمہوریت کو مضبوط اور عوام کے مسائل حل کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنر ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ جہانگیر بدر نے کہا کہ جو سیاستدان ایک دوسرے پر حملے کررہے ہیں اس سے انہیں کوئی فائدہ نہیں ہوگا بلکہ جمہوریت کو نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے سینے پر کوئی داغ نہیں ہے اور نہ ہی اس نے ماضی میں کوئی ایسا کام کیا ہے جس پر شرمندگی محسوس کرے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے عوام کیلئے قربانیاں دیں‘ کوڑے کھائے۔ جن لوگوں کی انگلی پر کوئی زخم نہیں آیا وہ آج جمہوریت کے چیمپیئن بن بیٹھے ہیں۔ ہمارا ایجنڈا جمہوریت کو مستحکم اور عوام کے مسائل حل کرنا ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے فیصل آباد دورے کے موقع پر لوگوں کی جانب سے پیپلزپارٹی کے جھنڈے پھاڑنے و جلانے سے متعلق سوال ے جواب میں انہوں نے کہا کہ جو کوئی بھی پاکستان سے محبت کرتا ہے اور وفاق کو قائم رکھنا چاہتا ہے ایسی مضموم حرکت نہیں کرسکتا۔ ہمارے خلاف ماضی میں بھی ایسے ہتھکنڈے استعمال ہوتے رہے ہیں۔ معلوم نہیں یہ لوگ کہاں سے آجاتے ہیں۔ پیپلزپارٹی کے کارکنوں نے یہ حرکت نہیں کی کیونکہ وہ ایسا کوئی کام نہیں کرسکتے جس سے پارٹی اور اس کی قیادت پر کوئی حرف آئے۔ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے صدر کو پارٹی عہدہ سے الگ کرنے سے متعلق مشورے پر انہوں نے کہا کہ ان لوگوں کی عقل پر ماتم ہی کیا جاسکتا ہے جنہیں سیاست کا پتہ ہے نہ آئین کا۔ پاکستان کے آئین میں صدر مملکت اور پارٹی عہدہ رکھنے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ دنیا کے بہت سے ممالک میں پارٹی کے سربراہ ملک کے بھی سربراہ کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف کو سمجھ نہیں آتی کہ انہیں کیا کہنا ہے اور کیا نہیں۔ یہاں تو ریڑھی والے کے پاس بھی کہنے کو بہت کچھ ہے۔ وہ تو سیاستدان ہیں۔ انہیں سیاست کا مقابلہ سیاسی میدان میں کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سیاستدانوں کے ایک دوسرے پر ذاتی حملے جمہوریت کے مفاد میں نہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ محترمہ بینظیر بھٹو نے مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نوازشریف کے ساتھ میثاق جمہوریت پر جو دستخط کئے تھے پیپلزپارٹی اس پر عمل پیرا ہے۔ آغاز حقوق بلوچستان پیکیج‘ گلگت و بلتستان کی خودمختاری اور این ایف سی ایوارڈ اسی چارٹر کا حصہ ہیں لیکن بعض لوگ میثاق جمہوریت کے ٹھیکیدار بننے کی کوشش کر رہے ہیں حالانکہ اس سب کو جمہوریت کے استحکام اور عوامی مسائل کے حل کیلئے کردار ادا کرنا چاہیے کیونکہ پاکستان میں جمہوریت بہت قربانیوں کے بعد حاصل کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری کا دورہ پنجاب بلدیاتی انتخابات کی مہم کا حصہ نہیں ہے بلکہ وہ پارٹی کارکنوں کے ساتھ تبادلہ خیال کر رہے ہیں جس سے کسی کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ دیگر جماعتوں کے رہنماؤں کو بھی مختلف صوبوں میں جا کر عوام کے مسائل سننے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض رہنما یہ بھی کہتے رہے ہیں کہ آصف علی زرداری پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین ہیں اس لئے پیپلزپارٹی کے رہنما کو ہی ان کا استقبال کرنا چاہیے جبکہ میاں نوازشریف بلوچستان اور سندھ گئے تو ان کا استقبال ہمارے وزیراعلیٰ اور پارٹی عہدیداران نے کیا۔ ہم یہاں اچھی روایات قائم کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں کسی کا کوئی خوف نہیں لیکن جمہوریت کے فروغ کیلئے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔
Tags: پاکستان
بورے والا ۔ طویل دورانیے کی بد ترین لوڈ شیڈنگ، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ کے خلاف بورے والا سمیت جنوبی پنجاب کے تمام شہروں میں تاجروں کے احتجاجی کیمپ شروع ہو گئے۔20 جنوری کو تمام شہروں میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال ہوگی۔ گول چوک کالج روڈ پر ٹی ایم اے کے سامنے مرکزی انجمن تاجران کے صدر محمد جمیل بھٹی کی کال پر مختلف تاجر تنظیموں، صنعتکاروں اور دیگر کاروباری حضرات نے احتجاجی کیمپ لگایا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے محمد جمیل بھٹی اور چوہدری صغیر احمد رامے نے کہا کہ بد ترین لوڈ شیڈنگ کے عذاب کے ساتھ ساتھ بجلی اور ایل پی جی گیس کی قیمت میں بے پناہ اضافہ ہو گیا۔ نہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ بند اور بجلی و گیس کی قیمتوں میں اضافہ واپس نہ لیا تو 20 جنوری کو جنوبی پنجاب میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال اور احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔
Tags: پاکستان