Urdu News-Online Urdu Newspaper

Urdu news Online Urdu Newspaper

Urdu News-Online Urdu Newspaper header image 4

جارجیا نے سعودی عرب میں پہلی خاتون سفیر مقرر کر دی

March 12th, 2010 · No Comments

دبئی ‘ جارجیا نے سعودی عرب میں ایک خاتون کو اپنا سفیر مقرر کر دیا ہے۔ سعودی عرب کی 80 سالہ تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی ملک نے ریاض میں خاتون کو اپنا سفیر بنا کر بھیجا ہو۔سرکاری ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ کوئی خاتون غیر ملکی سفیر کے طور پر خدمات سرانجام دینے آ رہی ہوں۔ سعودی خبر رساں ادارے “واس” نے بتایا کہ وزیر خارجہ ڈاکٹر نزار بن عبید مدنی نے گذشتہ روز جارجیا کی نامزد سفیر ایکاٹرین میئرنے سے اپنے دفتر میں ملاقات کی۔ وزیر خارجہ نے بتایا کہ سفیر نے اپنے تقرری کے کاغذات پیش کئے۔اس کے بعد وہ باقاعدہ طور پر اسناد تقرر سعودی فرمانروا شاہ عبد اللہ بن عبد العزیز کو پیش کریں گی۔سعودی عرب تقرری سے پہلے ایکاٹرین میئرنے کویت میں جارجیا کے سفیر کے طور پر خدمات سرانجام دے رہی تھیں۔ وہ تقریبا خلیج تعاون کونسل کے تمام رکن ملکوں میں اپنے ملک کی نمائندگی کر چکی ہیں۔ایکاٹرین نے کہا کہ جورجیا کے خلیجی ملکوں کے ساتھ تعلقات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ ان میں زراعت، رئیل اسٹیٹ اور سیاحت شعبے قابل ذکر ہیں

Tags: مڈل ایسٹ

ایران پر پابندیاں جوہری پروگرام کے مسئلے کا حل نہیں ہے ۔ سعودی وزیرخارجہ

February 16th, 2010 · No Comments

ریاض میں سعودی وزیر خارجہ کی امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کے ہمراہ پریس کانفرنس
ریاض ‘ سعودی عرب کے وزیر خارجہ پرنس سعود الفیصل نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف پابندیاں اس کے جوہری پروگرام کے مسئلے کا بروقت حل نہیں ہے۔امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کے ساتھ ملاقات کے بعد ایک مشترکہ اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام کی وجہ سے پیش آنے والے خطرہ پابندیوں سے زیادہ فوری حل کا تقاضا کرتا ہے۔اس سے پہلے قطر یونیورسٹی میں طلباء سے خطاب کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ نے خبردار کیا کہ ایران ملٹری ڈکٹیٹرشپ بنتا جا رہا ہے۔ منگل کے روز ترکی کے وزیر خارجہ جوہری پروگرام پر ثالثی کے سلسلے میں ایران جانے والے ہیں۔ترکی نیٹو کا ایک رکن ہے اور امید ہے کہ ترکی کے وزیر خارجہ ایران کی حکومت اور مغرب ممالک کے درمیان ڈیل کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کریں گے۔ریاض میں امریکی وزیر خارجہ کے ہمراہ اخبار نویسوں سے چیت کرتے ہوئے پرنس سعود الفیصل نے کہا کہ پابندیاں طویل المدتی حل ہیں۔’ہو سکتا ہے یہ پابندیاں موثر ثابت ہوں۔ ہمیں اس بات کا اندازہ نہیں ہے۔ لیکن ہم اس مسئلے کو شارٹ ٹرم میں دیکھتے ہیں۔ شاید اس لیے کیونکہ ہم خطرے سے زیادہ قریب ہیں۔ اس لیے ہمیں اس کی فوری حال چاہیے ناکہ ایک بتدریج حل۔‘انہوں نے یہ بھی کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے سلسلے میں کی جانے والی کوششوں کا اطلاق اسرائیل پر بھی ہونا چاہیے۔اس سے پہلے قطر یونیورسٹی میں طلباء سے خطاب کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ ایران کا سب سے اہم فوجی دستہ پاسدارانِ انقلاب اتنا طاقتور ہو چکا ہے کہ اس صحیح معنوں میں حکومت کی جگہ لے لی ہے۔اس سوال کے جواب میں کہا کیا امریکی ایران پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے ہیلری کلنٹن نے کہا کہ امریکہ عالمی برادری کو اکٹھا کرنا چاہتا ہے تاکہ پاسدارانِ انقلاب کے خلاف پابندیوں کے سلسلے میں اتفاقِ رائے پیدا کیا جا سکے۔’ہمارے خیال میں ایران کی حکومت، رہبرِ اعلیٰ صدر اور پارلیمنٹ کے اختیارات کہیں اور منتقل ہو رہے ہیں اور ایران فوجی ڈکٹیٹرشپ کی طرف بڑھ رہا ہے۔‘انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے دوران امریکی خاموش تماشائی نہیں بنا رہے گا۔ اس سے پہلے مسز کلنٹن کے ساتھ قطر پہنچنے والے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے اہلکار نے کہا تھا کہ امریکہ چاہتا ہے کہ سعودی عرب چین کو اس بات پر آمادہ کرے کہ وہ ایران کے خلاف پابندیوں کی مخالفت ترک کر دے۔چین جس کے پاس اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کا مستقل رکن ہونے کی حیثیت سے ویٹو کی طاقت ہے ایران پر مزید پابندیوں کے خلاف ہے۔امریکی وزیر خارجہ کے ساتھ سفر کرنے والی بی بی سی کی نامہ نگار کم غلطاس کا کہنا ہے کہ چین کو خطرہ ہے کہ ایران پر مزید پابندیوں کی صورت میں اس کو ایران میں کی جانے والی سرمایہ کاری پر نقصان ہو گا اور اس کو تیل کی ترسیل میں خلل پڑے گا کیونکہ ایران چین کو روزانہ چار لاکھ بیرل تیل فراہم کرنا ہے۔دوسری ایران کے ایک اہلکار نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل میں خطاب کے دوران ملک کے انسانی حقوق سے متعلق ریکارڈ پر مغرب کی تنقید کو مسترد کر دیا ہے۔جنیوا میں اپنے خطاب کے دوران ایران کی انسانی حقوق کی اعلیٰ کونسل کے سیکریٹری جنرل محمد جاوید لاریجانی نے کہا کہ ایران خطے کا سب سے نمایاں جمہوری ملک بنتا جا رہا ہے۔تاہم امریکہ اور یورپی مندوبین نے یو این ایچ سی آر کو بتایا کہ ایران نے متنازع انتخابات کے بعد ہونے والے احتجاج کو طاقت سے دبایا ہے۔اس سے پہلے بھی ہیلری کلنٹن نے کہا تھا کہ امریکہ ایران کے ساتھ پرامن تعلقات کا خواہاں ہے لیکن ایسا تب تک نہیں ہو سکتاجب تک ایران جوہری ہتھیار بنانا بند نہیں کرتا۔قطر میں یو ایس اسلامک ورلڈ فورم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا مغربی ممالک ایران کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں کہ وہ اپنی خطرناک پالیسی پر نظرثانی کرے۔امریکی وزیر خارجہ ایران کے خلاف مزید سخت پابندیاں عائد کرنے کے سلسلے میں عرب دنیا کی حمایت حاصل کرنے کے لیے خطے کا دورہ کر رہی ہیں۔ اس دورے کے دوران امریکی وزیر خارجہ سعودی عرب بھی جائیں گی۔اوباما انتظامیہ خطے میں سفارتی لحاظ سے جارحانہ پالیسی اختیار کر کے ایران پر دباؤ بڑھانا چاہتی ہے۔ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام بجلی پیدا کرنے کے لیے ہے تاکہ وہ تیل اور گیس جیسے قیمتی وسائل برآمد کر سکے۔ دوسری طرف مغربی ممالک کو خدشہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار تیار کر رہا ہے۔واشنگٹن کی خواہش ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل ایران کے خلاف مزید سخت پابندیاں عائد کرے۔اس دورے کے دوران امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن ترکی کے وزیر اعظم رجب طیب اردگان سے بھی ملاقات کریں گی جن کا ملک ایسی پابندیوں کے خلاف ہے۔امید ہے کہ عرب اسرائیل امن بات چیت کا دوبارہ اجراء بھی ان کے دورے کا حصہ ہو گا۔سعودی عرب کے دورے کے دوران وہ شاہ عبداللہ اور وزیر خارجہ سعود الفیصل سے ملیں گی۔

Tags: مڈل ایسٹ

یمن کے داخلی معاملات میں ایران ملوث ہے‘ شہزادہ سعود الفیصل

January 14th, 2010 · 1 Comment

ریاض ۔سعودی وزیرِ خارجہ شہزادہ سعود الفیصل نے یمن میں مداخلت کے ایرانی الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ درحقیقت ایران یمن کے داخلی معاملات میں ملوث ہے۔یہ بات انہوں نے دارالحکومت ریاض میں اپنے چینی ہم منصب کے ساتھ ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہی۔ شہزادہ سعود الفیصل نے استفسار کیا کہ ایران کس بنیاد پر یمن میں زیدی فرقے پر جنگ مسلط کرنے کا الزام سعودی عرب پرلگارہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ حقیقت تو یہ ہے کہ ایران خود یمن کے داخلی معاملات میں مداخلت کر مرتکب ہورہا ہے۔ اس سے پہلے ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے سرکاری ٹی وی سے بات کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ سعودی حکومت یمن میں مسلمان بھائیوں کے درمیان امن قائم کرنے کے بجائے خود جنگ میں کود پڑا ہے اور اس کے ہتھیار مسلمانوں کے خلاف استعمال ہورہے ہیں۔ ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ اگر ان میں سے تھوڑے سے ہتھیار بھی اسرائیل کے خلاف استعمال ہوتے تو خطے میں اس کا وجود تک نہ ہوتا۔

Tags: مڈل ایسٹ