March 17th, 2010 · Comments Off
جعلی اسلحہ لائسنسوں کے اجراء حوالے سے مقدمات کی تحقیقات کا سیکرٹری داخلہ اور ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کو کرنے کا حکم دیتے ہوئے 25 مارچ کو عدالت میں طلب کر لیا
وزارت داخلہ غیر متعلقہ افراد کو ایسے معاملات تک رسائی کیوں دیتی ہے
اداروں میں کھانے پینے والا حساب کتاب شروع ہے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے
چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس
اسلام آباد ‘ سپریم کورٹ نے وزارت داخلہ کی طرف سے جاری کئے گئے جعلی اسلحہ لائسنسوں کے اجراء حوالے سے مقدمات کی تحقیقات کا سیکرٹری داخلہ اور ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کو کرنے کا حکم دیتے ہوئے 25 مارچ کو عدالت میں طلب کر لیا ۔ بدھ کے روز چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں جسٹس چوہدری اعجاز احمد اور جسٹس خلیل الرحمان رمدے پر مشتمل تین رکنی بنچ نے وزارت داخلہ کی طرف سے جاری کئے گئے جعلی لائسنسوں کے مقدمہ کی سماعت کی ۔ اس موقع پر ریمارکس دیتے ہوئے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کا کہنا تھا کہ وزارت داخلہ غیر متعلقہ افراد کو ایسے معاملات تک رسائی کیوں دیتی ہے ۔ جعلی لائسنس جاری ہونے سے حکومت کو لاکھوں روپے کا نقصان ہوا ہے ۔ خرد برد کے معاملات میں پیسہ تو عوام کی جیبوں سے جاتا ہے ۔ اداروں میں کھانے پینے والا حساب کتاب شروع ہے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ۔ مقدمہ کی سماعت شروع ہوئی تو شہزاد احمد کے وکیل جسٹس ( ر ) طارق محمود ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ سال 2006 ء سے اب تک جتنے لائسنس بھی جاری ہوئے سب ممبران قومی اسمبلی وفاقی وزراء اور سینیٹرز کے احکامات پر جاری کئے گئے ہیں اور ہر لائسنس کی فیس 5 ہزار روپے وصول کی گئی ۔ ان کا کہنا تھا کہ 35 ہزار لائسنس جاری کئے گئے ہیں لیکن وزارت داخلہ کہتی ہے کہ ان میں سے سب جعلی نہیں ہیں ۔ جسٹس طارق محمود ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ اس وقت کے سیکشن افسران عبدالحکیم ہکڑو ‘ عی عبداللہ خالد اور ملک افتخار اس معاملے میں ملوث ہیں ۔ عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل علیم عباسی سے استفسار کیا کہ اس معاملے سے حکومت کو کتنا نقصان ہوا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ سات لاکھ روپے کا نقصان ہوا ہے جس پر چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے جوائنٹ سیکرٹری داخلہ شبیر احمد سے استفسار کیا کہ اب تک ان جعلی لائسنسوں میں سے کتنے لائسنس منسوخ کئے گئے ہیں ۔ تو انہوں نے کہا کہ اب تک ایک لائسنس بھی منسوخ نہیں کیا گیا ۔ اس موقع پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزارت کو خود لائسنس منسوخ کرنا چاہئیں ۔ عدالت اس بارے ہدایات کیوں جاری کرے ۔ آپ کے اقدامات سیس لگتا ہے کہ آپ تمام لوگ اس میں ملوث ہیں اس موقع پر جسٹس خلیل الرحمان رمدے کا کہنا تھا کہ وزارت کے سیکشن افسران اس معاملہ میں ملوث ہیں آپ نے کام دلالوں کے حوالے کر رکھا ہے ۔ وزارت داخلہ کیسے چل رہی ہے کہ جوائنٹ سیکرٹری شبیر احمد نے عدالت کو بتایا کہ ایف آئی آر کے مطابق 32148 لائسنس جاری کئے گئے ہیں ۔ اس موقع پر جسٹس خلیل الرحمان رمدے کا کہنا تھا کہ اتنے بڑے کام ہو رہے ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں جب عدالت کوئی حکم دیتی ہے تو شور بڑ جاتا ہے کہ عدالت مداخلت کر رہی ہے اور کہا جاتا ہے کہ عدالت کے بازو توڑ دیں گے ۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کا کہنا تھا کہ معاملہ اہم نوعیت کا ہے اس لئے سیکرٹری داخلہ اور ڈی جی ایف آئی اے اس کی تحقیقات کریں ۔ اور کسی ملوث شخص کو رعایت نہیں دی جانی چاہئے ۔ ایک تحقیقاتی افسر اپنے افسران کو گرفتار نہیں کر سکتا تو ہو کیسے تحقیقات کرے گا ۔ جسٹس خلیل الرحمان رمدے کا کہنا تھا کہ کسی اچھے افسر کو ایف آئی اے میں رہنے نہیں دیا جاتا ۔ عدالت نے سیکرٹری داخلہ سماعت 25 مارچ تک ملتوی کر دی
Tags: پاکستان
۔17 رکنی بینچ کے فیصلے پر من وعن عملدرآمد کرنے کاحکم
آئین کی تشریح کا اختیار صرف سپریم کورٹ کے پاس ہے ،چیئرمین نیب کو 16 دسمبر کو ہی ہٹ جانا چاہیے تھا
نیب اور وزارت میں صرف خط وکتابت ہو رہی ہے یہ کھیل ختم ہونا چاہیئے۔ جسٹس جاوید اقبال
پرایسکیوٹر جنرلز کو کس نے تعینات کیا ہے ، چیئرمین نیب سے تفصیلات طلب ، تمام ریکارڈ قبضہ میں لینے کا حکم
سوئز مقدمات کھولنے کیلئے سوئس عدالت کو خط لکھا جائے ، حکومت کے پاس فیصلے پرعملدرآمد کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے
عدالت کے پاس فیصلہ پرعملدرآمد کرانے کی طاقت موجود ہے ، اسے شخصیات سے کوئی دلچسپی نہیں
فیصلے پرعملدرآمد نہ ہونے کی ذمہ دار نیب پر ہوگی ، مشرف دور کے حوالے سے گمشدہ ریکارڈ کی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جائے ۔ جسٹس جاوید اقبال
بینکرز سٹی کا مالک لوگوں سے وصول کی گئی رقوم پندرہ روز میں واپس کردے ورنہ جیل جانا پڑے گا۔ عدالت
اسلام آباد ‘ سپریم کورٹ نے این آر او سے متعلق 17 رکنی بینچ کے فیصلہ پر عملدرآمد کے حوالے سے نیب کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے عدالتی فیصلے پر من و عن عمل درآمد کرنے کا حکم دیدیا جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں جسٹس سائر علی اور جسٹس طارق پرویز پر مشتمل تین رکنی بینچ نے آج بینکرز سٹی فراڈ کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران قائم مقام چیئرمین نیب عرفان ندیم نے این آر او کے فیصلہ پرعملدرآمد کے حوالے سے رپورٹ پیش کی جس میں کہا گیا تھا کہ سوئز مقدمات کے حوالے سے نیب نے وزارت قانون اور اٹارنی جنرل سے خط و کتابت کی ہے لیکن تاحال کوئی قانونی مشورہ نہیں دیا گیا ہے جس پر جسٹس جاوید اقبال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین کی تشریح کا اختیار صرف سپریم کورٹ کے پاس ہے ۔ چیئرمین نیب کو16 دسمبر کو ہی ہٹ جانا چاہیے تھا نیب اور وزارت میں صرف خط و کتابت ہو رہی ہے یہ کھیل ختم ہونا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ ا گر کسی کو استثنی حاصل ہے تو عدالت کو تحریری طور پر آگاہ کیا جائے عدالت ہی فیصلہ کرے گی ۔ این آر او کا فیصلہ کسی شخص کے خلاف نہیں اور نہ ہی عدالت کو شخصیات میں دلچسپی ہے۔نیب عدالت کے فیصلہ پرعملدرآمد کے حوالے سے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیوں کررہی ہے ۔ آئین کی شق 189 کے تحت عدالت عظمی کے فیصلے پرعملدرآمد تمام اداروں کی ذمہ داری ہے ۔ عدالت نے چیئرمین نیب سے مقدمات کی پیروی کے لیے تعینات کیے گئے نئے پراسیکیوٹر ز کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے حکم دیا کہ عدالت کو بتایا جائے کہ ان پرایسیکیویٹر جنرلز کو کس نے تعینات کیا ہے ۔ جسٹس جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ عدالت کے فیصلہ پرعملدرآمد کرانا حکومت اور نیب کا کام ہے ۔ عدالت کوبتایا جائے کہ کب تک اس میں تاخیر کرتے رہیں گے عدالت نے چیئرمین نیب کو تمام ریکارڈ قبضہ میں لینے کا حکم دیا جسٹس جاوید اقبال نے نیب حکام کو ہدایت کی کہ سوئز مقدمات کھولنے کے لیے سوئس عدالت کو خط لکھا جائے کیونکہ حکومت کے پاس فیصلے پرعملدرآمد کے سواکوئی چارہ نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کے پاس فیصلے پر عملدرآمد کرانے کی طاقت موجود ہے اور عدالت کو شخصیات سے کوئی دلچسپی نہیں ہے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کی ذمہ داری نیب پر ہو گی ۔ مشرف دور کے حوالے سے گمشدہ ریکارڈ کی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جائے سماعت کے دوران ڈپٹی پرایسکیوٹر جنرل نیب کی طرف سے بینکرز سٹی فراڈ کیس کے تحقیقاتی افسر طارق محمود بھٹی بھی عدالت میں پیش ہوئے۔ سماعت کے دوران بینکرز سٹی کے مالک سید راحت محمود قدوس عدالت میں موجود تھے ۔ انہیں عدالت نے ہدایت کی کہ جن لوگوں سے انہوں نے رقوم وصول کی ہیں پندرہ روز میں واپس کردیں ورنہا نہیں جیل جانا پڑے گاعدالت نے فریقین کو پندرہ روز کا وقت دیتے ہوئے مقدمہ کی سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کردی۔
Tags: پاکستان
اسلام آباد ‘ سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک کو توہین عدالت کیس میںحاضری سے استثنی دیتے ہوئے پاکستان سٹیل ملز کرپشن کے حوالے از خود نوٹس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی ۔کرپشن کیس میں ایف آئی اے کی تحقیقاتی رپورٹ غیر تسلی بخش قرار دے دی گئی۔ملزمان کی ضمانتیں منسوخ کروانے کے اقدامات کرنے اور رحمن ملک کو دوبارہ جواب داخل کرانے کا حکم دے دیا گیا ۔ پیر کے روز پاکستان سٹیل ملز کرپشن کیس کی سماعت جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں جسٹس سائر علی اور جسٹس طارق پرویز پر مشتمل تین رکنی بینچ نے کی۔ سماعت کے دوران وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک، اٹارنی جنرل انور منصور خان، ڈپٹی اٹارنی جنرل شاہ خاور، اورایف آئی اے حکام عدالت میں پیش ہوئے۔ اس موقع پر ریمارکس دیتے ہوئے جسٹس جاوید اقبال کا کہنا تھا پاکستان سٹیل ملز کرپشن ملکی تاریخ کی سب سے بڑی ڈکیتی ہے۔22ارب روپے کی کرپشن کی گئی ہے جن لوگوں نے کرپشن کی ان سے رقم ہر صورت برآمد کی جائے ،اس کے لیے چاہے ان کی جائیدایں بیچیں یا کوئی اور راستہ اختیار کیا جائے۔ سٹیل ملز اور ایف آئی اے میں تقرریاں میرٹ پر کی جانی چاہیئں۔ سٹیل ملز کرپشن میں صرف سابق چیرمین شریک نہیں بلکہ اس میں درجنوں لوگ ملوث ہیں سب کے خلاف ایکشن لیا جائے۔جسٹس جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ سٹیل ملز کرپشن کیس میں ضمانتوں پر رہا ہونے والے افراد کی ضمانتیں منسوخ کرانے کیلئے ایف آئی اے فوری اقدامات کرے۔ اور ایف آئی ااے میں سزا ہافتہ افراد کو تعینا ت کر دیا گیا ہے رحمن ملک اس کا بھی جائزہ لیں۔سماعت کے دوران وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک نے موقف اختیار کیا کہ انہوں نے اخبار میں شائع ہونے والی خبر پریہ محسوس کیا تھا کہ کرپشن کیس میں تمام پہلووںسے تحقیقات نہیں ہو رہی اس لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی اور انہوں نے یہ کام نیک نیتی کے ساتھ کیا تھا ،تاہم وہ خود کو عدالت کے رحم و کرم پر چھوڑتے ہیں اس موقع پر جسٹس جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ حکومت جس طرح چاہے اپنے اختیارات استعمال کرے لیکن نوعیت یہاں تک نہیں پہنچنی چاہیے کہ عدالت کو از خود نوٹس لینا پڑیں۔اس موقع پر اٹارنی جنرل انور منصور خان نے کہا کہ یہ ایک سنگین معاملہ ہے ہر کام آئینی طریقے سے کیا جانا چاہیے لیکن بد قسمتی سے ملک میں میرٹ کا کوئی نظام موجود نہیں۔ کیس کی سماعت کے دوران جسٹس طارق پرویز نے ریمارکس کے دوران کہا کہ تحقیقاتی اداروں کے پاس تحقیقات کے مختلف طریقے ہیں کہیں چھترول کیا جاتا ہے اور کہیںوی آئی پی پروٹو کول دیا جاتا ہے۔جسٹس سائر علی نے کہا کہ تحقیقات کے حوالے سے عدالت کے حکم پر عمل نہیں کیا گیا اب تک مقدمات کی سماعت کے دوران صرف وقت ضائع کیا گیا ہے۔اس موقع پر جسٹس جاوید اقبال نے رحمن ملک سے استفسار کیا کہ آپ نے گزشتہ پیشی پر وکیل کرنے کے لیے وقت مانگا تھا جس پر رحمن ملک نے موقف اختیار کیا کہ وہ خود جواب دیں گے۔ عدالت نے وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک کو حاضری سے استثنی دیتے ہوئے مقدمہ کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی
Tags: پاکستان
لاپتہ افراد سے متعلق وزیراعظم کی ہدایات پر کس حد تک عمل ہوا ہے ، سپریم کورٹ
جسٹس جاوید اقبال کا بیرون ملک قید پاکستانیوں کی فہرست عدالت کے بجائے اٹارنی جنرل آفس میں جمع کرانے پراظہار برہمی
اسلام آباد ‘ سپریم کورٹ میں لاپتہ افراد کے کیس کی سماعت کرنے والے بینچ نے استفسار کیا ہے کہ لاپتہ افراد سے متعلق وزیراعظم کی ہدایت پر کس حدتک عمل ہوا ہے ۔ کیس کی سماعت جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی ۔ سماعت کے دوران جسٹس جاوید اقبال نے استفسار کیا کہ ان افراد کی فہرستیں سامنے لائی جائیں جو ایران کی سرحد عبور کرتے ہوئے مارے گئے جن میں سے درجنوں کی لاشیں صحراؤں میں پڑی ہیں اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں ۔ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے کام کرنے والی تنظیم کی نمائندہ آمنہ مسعود جنجوعہ نے عدالت کو بتایا کہ مسعود جنجوعہ اور فیصل فراز پاکستانی اداروں کی تحویل میں ہیں اور عاصم قریشی نامی سیکورٹی افسر نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے اس کا اعتراف کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سی آئی اے کے دباؤ کے تحت ان لاپتہ افراد کو منظر عام پر نہیں لایا جا رہا۔سماعت کے دوران جسٹس جاوید اقبال نے بیرون ملک قید پاکستانیوں کی فہرست عدالت کے بجائے اٹارنی جنرل آفس میں جمع کرانے پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ فہرست سامنے آئی تو بہت سے لاپتہ افراد کا سراغ مل جائے گا۔
Tags: پاکستان
ملک میں 44 لاکھ گھروں کی کمی ہے ، ملازمین نے سرکاری گھر کرائے پر دے رکھے ہیں ، ایسی کالی بھیڑوں کے خلاف کارروائی کی ضرورت ہے ، سید خورشید شاہ
امن و امان کی صورت حال کی وجہ سے نئے ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی تعمیر میں تاخیر ہوئی ہے ، میر ہزار خان بجارانی
بدھا نوادرات کو غیر قانونی کھدائی کے ذریعے نکال کر سمگل کرنے والے دو ملزمان مفرور ہیں ، عنایت علی شاہ
کھیلوں کے فروغ کے لیے غیر ترقیاتی اخراجات 63 لاکھ 35 ہزار اور 4 کروڑ 71 لاکھ روپے کے ترقیاتی اخراجات ہوئے۔ اعجازحسین جاکھرانی
جنوری 2010 ء میں 1 کروڑ 60 لاکھ کلو گرام دھاگے کی برامد کی تحقیقات ہورہی ہیں ۔ رانا محمد فاروق سعید
گزشتہ دو سالوں کے دوران 170 خواتین کو اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرون ملک بھیجا گیا ، اب تک 24 خواتین تعلیم مکمل کر کے واپس آ چکی ہیں، غلام فرید کاٹھیا کا قومی اسمبلی میں اظہار خیال
اسلام آباد ‘ حکومت نے جمعہ کو وقفہ سوالات کے دوران کہا ہے کہ سپریم کورٹ ، سرکاری گھروں کو غیرقانونی قابضین سے وا گزار کرانے کے لیے از خود نوٹس لے ۔ ملک میں 44 لاکھ گھروں کی کمی ہے ۔ یاسمین رحمان کے سوال کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری عنایت علی شاہ نے کہا کہ بدھا نوادرات کو غیر قانونی کھدائی کے ذریعے نکال کر سمگل کرنے والے دو ملزمان مفرور ہیں ۔ راولپنڈی کسٹمز کے ذریعے انہیں تلاش کرنے کی کوششیں جاری ہیں ۔ یاسمین رحمان کے سوال کے جواب میں وزیر صنعت و پیداوار میر ہزار خان بجارانی نے کہا کہ امن و امان کی صورت حال کی وجہ سے نئے ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی تعمیر میں تاخیر ہوئی ہے ۔ تویرکی سٹیل مل تعمیراتی مرحلے میں ہے اس کی تکمیل کے بعد سالانہ 10 لاکھ ٹن کی پیداوار حاصل ہو گی ۔ بیمار صنعتوں کی بحالی کے لیے پالیسی بنائی گئی ہے۔ پروین مسعود بھٹی کے سوال کے جواب میں وزیر کھیل اعجاز حسین جھاکرانی نے کہا کہ گزشتہ دو سالوں کے دوران کھیلوں کے فروغ کے لیے غیر ترقیاتی اخراجات 63 لاکھ 35 ہزار اور 4 کروڑ 71 لاکھ روپے کے ترقیاتی اخراجات ہوئے ۔ماروی میمن کے سوال کے جواب میں وزیر ٹیکسٹائل انڈسٹری رانا محمد فاروق سعید نے کہا کہ ملک سے گزشتہ سال 46 فیصد دھاگہ برآمد کیا گیا تھا ۔ 2008-09 ء میں سوتی کپڑے کی برآمدات میں 4 فیصد اور بیڈ وےئر کی برآمد میں 10 فیصد کمی ہوئی ۔ دھاگہ کی برآمد کو ساڑھے تین کروڑ کلو گرام پر منجمد کر دیا گیا ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر ٹیکسٹائل نے کہا کہ جنوری 2010 ء میں 1 کروڑ 60 لاکھ کلو گرام دھاگے کی برآمد کی تحقیقات ہورہی ہیں ۔ کسٹم حکام سے بھی تفتیش ہو رہی ہے ۔ انہوںنے کہا کہ ملک میں 50 ہزار پاور لومز بند نہیں ہوئیں دھاگہ کے بحران کی وجہ سے برقی کھڈیاں مسائل کا شکار ضرور ہیں ۔ دو سالوں میں 70 کروڑ کلو گرام دھاگہ برآمد ہوا عبدالقادر پٹیل کے سوال کے جواب میں وزیر محنت و افرادی قوت سید خورشید شاہ نے کہا کہ پورے ملک میں 44 لاکھ گھروں کی کمی ہے ۔ اس وقت 17 کروڑ آبادی کے لیے 2 کروڑ 35 لاکھ گھر ہیں ۔ وزیر اعظم نے 10 لاکھ مکانات کی تعمیر کا اعلان کیا ہے ہدف کے مطابق ابھی تک 4 لاکھ مکانات تعمیر نہیں ہو سکے ہیں ۔ انہوںنے اعتراف کیا کہ ملازمین نے سرکاری گھر کرائے پر دے رکھے ہیں ۔ ایسی کالی بھیڑوں کے خلاف کارروائی کی ضرورت ہے۔ انہوںنے کہا کہ آب پارہ میں 200 فلیٹس مالکانہ حقوق کی بنیاد پر تعمیر کئے گئے تھے مکین ان میں منتقل نہیں ہوئے اوران فلیٹس پر پولیس اور دیگر نے قبضہ کر رکھا ہے ہر سال 5 لاکھ 20 ہزار گھر بننے چاہئیں ۔ صرف 3 لاکھ سالانہ ہیں 2 لاکھ کا شارٹ فال ہو رہا ہے ۔سرکاری ملازمین ہمیشہ کے لیے سرکاری گھروں پر قبضہ کر لیتے ہیں ۔ آزاد عدلیہ کو از خود اس کا نوٹس لے ۔ وہ حکم جاری کرے حکومت اس پر عمل کرے گی ۔ عبد القادر پٹیل کے سوال کے جواب میں وزیر مذہبی امور علامہ حامد سعید کاظمی نے کہا کہ حج 2009 کے لیے پاکستان سے 230 خدام الحجاج بھجوائے گئے تھے ۔ ان میں فوج سے 130 ، پولیس سے 50 اور پاکستان بوائے سکاؤٹس سے 50 افراد شامل ہیں۔ اس حوالے سے صوبوں کا کوٹہ نہیں ہوتا ۔ خدام الحجاج کے لیے وردی والے ملازمین کی نامزدگیاں جی ایچ کیو ، وزارت داخلہ انسپکٹر جنرل پولیس کے ذریعے ہوتی ہے ۔ سکاؤٹس کی نامزدگی وزارت تعلیم کرتی ہے ۔ اراکین نے شکایت کی کہ سعودی عرب میں خدام الحجاج تلاش کرنے کے باوجود نہیں ملتے ۔ تسنیم صدیقی کے سوال کے جواب میں وزیر مملکت تعلیم غلام فرید کاٹھیا نے کہا کہ گزشتہ دو سالوں کے دوران 170 خواتین کو اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرون ملک بھیجا گیا ہے ۔ اب تک 24 خواتین تعلیم مکمل کر کے واپس آ چکی ہیں ۔اس وقت سرکاری جامعات میں 20173 پروفیسر ز اور دیگر عملہ مامور ہے ۔ نثار تنویر کے سوال کے جواب میں وزیر مملکت و پیداوار میر ہزار خان بجارانی نے کہا کہ تقریباً ڈھائی سالوں میں یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن نے 653 انشورنس کلیمز فائل کئے ہیں ۔ 9 وےئر ہاوسز میں وسیع پیمانے پر چوریوں کی وارداتیں ہوئی ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ کراچی سٹیل ملز کے لیے 10 ارب روپے کا بیل آوٹ پیکج منظور کیا گیا ہے ۔اس میں رواں فنانسنگ کے لیے 2 ارب روپے اور ٹرم فنانس کے لیے 8 ارب روپے میں نیشنل بینک نے اس پیکج کو فنانس کیا ہے
Tags: پاکستان
اسلام آباد ‘ سپریم کورٹ میں وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی اہلیت کیس کے حوالے سے مقدمے کی سماعت منگل تک ملتوی کر دی گئی ہے۔ سماعت کے دوران اٹارنی جنرل انور منصور نے عدالت کو بتایا کہ ان کی طبعیت خراب ہے اس لیے وہ دلائل نہیں دے سکیں گے۔ پنجاب حکومت کے وکیل خواجہ حارث نے کہاکہ ان کے دلائل سن لیے جائیں۔ اس موقع پر ریمارکس دیتے ہوئے جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ یہ ایک اہم مقدمہ ہے جس کی نظیر اس سے پہلے موجود نہیں اس لیے عدالت کی ذمہ داری زیادہ ہے ۔ عدالت اس مقدمے کو تفصیل سے سنے گی ۔ اس کے بعد سماعت منگل تک کے لیے ملتوی کر دی گئی ۔
Tags: پاکستان
این آراو فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے پر سپریم کورٹ نے چیئرمین نیب کی سرزنش کردی
چیئرمین نے کوئی کارروائی نہ کی تو تنخواہ بند کردی جائے گی ، چیئرمین نے 2 دن کی مہلت طلب کرلی
عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہ ہوا تو نیب پرایسکیوٹر ز کو عدالتوں میں پیش ہونے سے روک دیا جائے گا
اسلام آباد‘ ا ین آر او سے متعلق 16 دسمبر کے عدالتی فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے پر سپریم کورٹ نے چیئرمین نیب کی سخت سرزنش کی ہے ۔ چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا ہے کہ عدالت اپنے حکم پر عمل کرانا جانتی ہے تفصیلات کے مطابق جمعہ کو چیف جسٹس جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سہ رکنی بینچ نے بنکر سٹی کیس کی سماعت کی اس دران عدالتی احکام پر عملدرآمد نہ کرنے کے حوالے سے سپریم کورٹ نے پرایسیکوٹر سے وضاحت طلب کی لیکن پرایسکیوٹر قابل اعتماد جواب نہ دے سکے جس پر چیف جسٹس آف پاکستان نے چیئرمین نیب کو فوری طورپر عدالت میں طلب کر لیا ۔ جب چیئرمین نیب عدالت میںپیش ہوئے تو چیف جسٹس آف پاکستان نے ان کی سرزنش کی اور ان سے کہا کہ نیب نے 17 رکنی بینچ کے این آر او پر فیصلے پر عملدرآمد کیوں نہیں کیا ۔ اس پر چیئرین نیب نے کہا کہ وہ وفاقی حکومت اور اٹارنی جنرل سے اس حوالے سے ہدایات لے رہے ہیںجس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کیا فل کورٹ کے احکامات پر عمل درآمد کے لیے وفاقی حکومت سے ہدایات لینے کی کوئی ضرورت ہے ۔ جبکہ عدالت نے واضح احکامات دئیے ہیں لیکن سوئس مقدمات سمیت دیگر کئی مقدمات پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی اور اگر کوئی کارروائی ہوئی ہے تو اس کی تحریری رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے ۔ اس پر چیئرمین نیب نے عدالت کو یقین دلایا کہ سوئس مقدمات سمیت دیگر تمام مقدمات پر عدالتی احکامات پر کارروائی ایک سے دو دن کے اندر شروع کردی جائے گی ۔ چیف جسٹس نے حکم دیا کہ اس حوالے سے رپورٹ دو دن کے اندر سپریم کورٹ میں پیش کی جائے ۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے چیئرمین نیب کو وارننگ دی کہ اگر عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہ کیا گیا تو سپریم کورٹ نیب کے تمام پرایسکیوٹر ز کو عدالتوں میںپیش ہونے سے روک دے گی اور اس کی تمام ذمہ داری چیئرمین نیب پر ہو گی ۔ انہوں نے چیئرمین نیب کویہ حکم بھی دیا کہ ایڈیشنل پرایسکیوٹر جنرل نیب بصیر قریشی کی برطرفی آپ کے اختیار میں تھی اس پر بھی کارروائی کیوں نہیں کی گئی ۔ چیئرمین نیب نے عدالت سے دو دن کا وقت طلب کیا اور کہا کہ وہ سوئس مقدمات سمیت دیگر مقدمات شروع کردئیے جائیں گے اور دو دن میں رپورٹ جمع کرا دی جائے گی ۔ سپریم کورٹ نے چیئرمین نیب کو یہ بھی وارننگ دی کہ اگر چیئرمین نیب نے کوئی کارروائی نہ کی تو ان کی تنخواہ روک دی جائے گی ۔
Tags: بریکنگ نیوز , پاکستان
اسلام آباد ‘ سپریم کورٹ و ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشنز نے اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تقرری میں تاخیر کے خلاف عدالت عظمیٰمیں آئینی درخواستیں دائر کر دیں۔سپریم کورٹ بار کی درخواست میں یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ میں ججز کی تقرری کے حوالے سے چیف جسٹس کا اختیار ہے اور اس اختیار کے حوالے سے ہدایات جاری کی جائیں اس آئینی درخواست میں 13 فروی کو جاری ہو نے والے ججوں کی تقرری کے دو نوٹیفکیشنوں کو چیلنج کیا گیا ہے اور عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ انہیں غیر آئینی و غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دیا جائے اور اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تقرری کے حوالے سے سپریم کورٹ بار نے یہ استدعا کی ہے کہ تمام تقرریاں جوڈیشنل کنسلٹیزکے مشورے سے کر نے کا پابند کیا جائے جبکہ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی طرف سے داخل کی گئی درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ آئین کے آرٹیکل 177 اور 182 کی خلاف ورزی کے خلاف جو نوٹیفکیشن جاری کئے گئے ہیں ان کا ریکارڈ طلب کیا جائے اور جو اشخاص آئین کی خلاف ورزی کے مرتکب قرار پائے ہیں عدالت ان کے لئے سزا بھی تجویز کرے۔
Tags: پاکستان
اسلام آباد ‘ سپریم کورٹ نے گریڈ 22 میں سیکرٹریوں کی ترقی کے خلاف مقدمہ میں سماعت مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا ۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں جسٹس چوہدری اعجاز احمد اورجسٹس غلام ربانی پر مشتمل بینچ نے مقدمہ کی سماعت کی ۔ ترقی پانے والے افسران نے فرداً فرداً عدالت کے روبرو اپنے موقف کا اظہار کیا ۔ڈی ایم جی گروپ کے ترقی پانے والے افسر نظر حسین مہر نے کہا کہ میرا معاملہ دیگر ترقی پانے والے افسران سے مختلف ہے ۔ میں نے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے لی تھی جس کے بعد حکومت نے مجھے دوبارہ تعینات کیا ۔ عدالت سے گزارش ہے کہ ہر کیس کے نکات کا اچھی طرح جائزہ لینے کے بعد فیصلہ صادر کیا جائے ۔ انہوںنے کہا کہ گریڈ 22 میں ترقی کے لیے کوئی طے شدہ معیار ہونا چاہیے تاکہ بعد کے آنے والے افسران کو ایسے حالات کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔ ڈی ایم جی گروپ کے جنید اقبال ، ایم ٹیلی سیکرٹری پنجاب حکومت محمد سمیع سعید ، چےئرمین ایف بی آر سہیل احمد ، چےئرمین سی ڈی اے امتیاز عنایت الہی ، ممبر بورڈ آف ریونیو سندھ غلام علی پاشا ، سید شبیر احمد شاہ ، سیکرٹری انسداد منشیات طارق کھوسہ ، سیکرٹری اطلاعات منصور سہیل ، آئی جی نیشنل ہائی ویز اتھارٹی اینڈ موٹر ویز پولیس ڈاکٹر وسیم احمد ، آئی جی پنجاب طارق سلیم ڈوگر اور آئی جی بلوچستان سید جاوید علی شاہ پیش ہوئے جب کہ سیکرٹریٹ گروپ کے ترقی پانے والے افسران سیکرٹری اقلیتی امور جاوید اختر ، خالد ادریس ، انعام خان ، عبد الشفیق ، اختر محمود زاہد ، بتول اقبال قریشی ، غلام رسول آفند ، چےئرمین ایگزیکٹو آفیسر پی آئی ڈی سی گل محمد رند ، سیکرٹری سپورٹس ڈویژن انیس الحسن موسوی ، آغا حسن قزلباش اور ایوب خان ترین پیش ہونے والوں میں شامل تھے۔ اٹارنی جنرل پاکستان انور منصور خان نے اپنے دلائل کا خلاصہ تحریری شکل میں عدالت میں پیش کیا ۔ سیکرٹری انسداد منشیات طارق کھوسہ نے کہا کہ سلیکشن پوسٹوں پر افسران کی ترقی کے لیے کوئی معیار نہیں ۔ حکام کو ہدایت کی جائے کہ وہ اس حوالہ سے قوانین وضع کریں ۔ ہم عوام کے خادم ہیں حکمرانوں کے نہیں ۔ ہمیں عدالت سے انصاف کی امید ہے ۔ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے میرٹ پر افسران کو ترقیاں دی ہیں ۔ گل محمد رند نے کہا کہ میں غیرت مند بلوچ ہوں میں استعفیٰ تو دے سکتا ہوں لیکن گریڈ 21 میں واپس نہیں جا سکتا ۔ مقدمہ میں فیڈریشن کی جانب سے عبد الحفیظ پیرزادہ اور ترقیوں کے خلاف درخواستیں دائر کرنے والے افسران کی جانب سے اکرم شیخ پہلے ہی دلائل دے چکے ہیں جب کہ عدالت نے ترقی پانے والے افسران کو سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کے ذریعے ہدایت کی تھی کہ اگر وہ چاہیں تو معاملہ میں عدالت کے روبرو ایک ہفتے میں اپنا موقف پیش کر سکتے ہیں ۔ 12 فروری کو 21 افسران عدالت میں حاضر ہوئے تھے اور 10 نے زبانی طور پر اپنی ترقیوں کے حق میں عدالت کے روبرو دلائل پیش کئے تھے تاہم عدالت کا وقت ختم ہو جانے پر مزید سماعت 15 فروری تک ملتوی کر دی گئی تھی ۔ یاد رہے کہ 54 افسران کو گریڈ 21 سے 22 میں ترقی دی گئی تھی جس پر متاثرہ افسران نے عدالت سے رجوع کیا تھا۔ عدالت نے کہا کہ معاملہ میں جلد فیصلہ سنایا جائے گا
Tags: پاکستان
وزیراعظم نے نواز شریف کو حالیہ ملاقات میں ججز کی تقرری کے بارے میں قانون پر عمل کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی
ملاقات کے 24 گھنٹے کے بعدہی وزیراعظم نے اپنی یقین دہانی کے برعکس اقدام اٹھالیا
وزیراعظم ہی صورت حال کو معمول پر لانے کیلئے اپنے کارڈ کھیل سکتے ہیں
اسلام آباد ‘ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کی ایڈوائس پر ہی ججز کی متنازعہ تقرری کے بارے میں صدارتی نوٹیفیکیشن جاری ہوئے تھے ۔ جبکہ وزیر اعظم نے پاکستان مسلم لیگ ( ن ) کے قائد نواز شریف کو حالیہ ملاقات میں ججز کی تقرری کے بارے میں قانون پر عمل کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی ۔ ملاقات کے 24 گھنٹے کے بعد ہی وزیر اعظم نے اپنی یقین دہانی کے برعکس اقدام اٹھا لیا ۔ یہ انکشاف پاکستان مسلم لیگ ( ن ) کے ممتاز راہنما خواجہ محمد آصف نے گزشتہ روز ایک انٹرویو میں کیا ۔ انہوں نے کہا کہ میاں محمد نواز شریف نے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کے ساتھ ملاقات میں ججز کی تقرری کا معاملہ اٹھایا تھا ۔ ملاقات میں وزیر اعظم نے یقین دہانی کرائی تھی کہ آئین قانون کے مطابق اس معاملے کو حل کیا جائے اور پسند نا پسند کی بنیاد پر ججز کی تقرری نہیں ہو گی ۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ سے تصادم ‘ نظام اور جمہوریت کے لئے خوش آئند نہیں ہو گا ۔ حکومت عدلیہ کے ساتھ نبرد آزما ہوئی تو ہم عدلیہ کے ساتھ کھڑے ہوں گے ۔ انہوں نے کہا کہ معاملات کو آئین کے مطابق حل کیا جائے تو کوئی تصادم نہیں ہو گا ۔ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی سے نواز شریف سے ملاقات کے 24 گھنٹے کے بعد اپنی یقین دہانی کے منافی اقدام اٹھا لیا ۔ انہوں نے کہا کہ صدارتی محل سے جاری ہونے والے نوٹیفیکیشن کے بارے میں وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی ہی نے سمری بجھوائی تھی ۔ وزیر اعظم کی ایڈوائس پر صدارتی نوٹیفیکیشن جاری ہوئے ہیں ۔ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی ہی کو صورت حال کو ڈی فیوز کرنے کے سلسلے میں کردار ادا کرنا ہو گا ۔ ورنہ آئین جمہوریت اور نظام کی بساط لپٹی جا سکتی ہے ۔ آئین کی عدم پاسداری ہی کی وجہ سے ہماری تاریخ قابل رشک نہیں ہے ۔ جس کی وجہ بار بار فوجی مداخلت ہوتی رہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری دانشمندی سے کام نہیں لے رہے ہیں ۔ وزیر اعظم نے سمری بجھوائی تھی انہوں نے صدر کو ایڈوائس کی تھی ۔ وزیر اعظم صورت حال کو معمول پر لانے کے لئے اپنے کارڈ کھیل سکتے ہیں ۔ ورنہ جمہوری نظام پر خطرہ منڈلاتا رہے گا ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ ( ن ) عدلیہ اور قانون کی حکمرانی کے ساتھ ہے ۔ فرد واحد کو ہم نے نہ پہلے سپورٹ کیا تھا نہ اب سپورٹ کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ میثاق جمہوریت کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے میثاق جمہوریت پر عمل نہیں کیا جا سکتا ۔ میثاق جمہوریت پر اس کی روح کے مطابق من و عن عمل کرنا ہو گا ۔ اس میں سترھویں ترمیم کی منسوخی بھی شامل ہے ۔ حکومت میٹھا میٹھا ہپ ہپ اور کڑوا کڑوا تھو اسی پالیسی پر گامزن ہے ۔ کون اس پر اعتماد کر سکتا ہے
Tags: پاکستان