Urdu News-Online Urdu Newspaper

The 3rd Largest Online Urdu Newspaper

Urdu News-Online Urdu Newspaper header image 4
Pages: Prev 1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 ...12 13 14 Next

حسن شرجیل گمشدگی کیس ‘ مقدمہ سے توجہ ہٹانے کے بجائے ایک ہفتہ میں بچہ بازیاب کرایا جائے ‘ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری

July 2nd, 2010 · No Comments

مغوی اگر کسی جرم میں ملوث ہے تو اسے عدالت میں پیش کیا جائے ‘ ہمارے پاس مجرموں کے لئے کوئی رعایت نہیں
اسلام آباد ‘ سپریم کورٹ آف پاکستان نے سینئر صحافی شکیل احمد ترابی کے 6 ماہ سے مغوی بیٹے حسن شرجیل کی عدم بازیابی کے حوالے سے لئے گئے ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران حکم دیا ہے کہ مقدمہ کی درست جانب تحقیقات سے توجہ ہٹانے کی کوششوں کی بجائے ایک ہفتہ میں بچے کو بازیاب کرایا جائے ۔ مزید سماعت 9 جولائی تک ملتوی ‘ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مغوی کے والد کو موصول ہونے والا خط معاملے سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے ۔ اگر مغوی کسی جرم میں شریک ہے تو اسے عدالت میں پیش کر کے سزا دلوائی جائے ۔ ہم کسی مجرم کو تحفظ نہیں دیں گے کیونکہ ہمارے پاس مجرموں کے لئے کوئی رعایت نہیں ہے ۔ ازخود نوٹس کی سماعت گزشتہ روز چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں جسٹس ناصرل الملک اور جسٹس طارق پرویز پر مشتمل عدالت عظمیٰ کے تین رکنی بنچ نے کی ۔ سماعت شروع ہوئی تو آئی جی اسلام آباد پولیس کلیم امام نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ پولیس کوشش کر رہی ہے اس حوالے سے ایک جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم ایس ایس پی طاہر عالم خان کی سربراہی میں قائم کی گئی ہے جو خفیہ ایجنسیوں کے تعاون سے بچے کو تلاش کر رہی ہے ۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کوششوں کی نہیں بلکہ نتیجہ کی ضرورت ہے ۔ مغوی کے باپ کا موقف ہے کہ اگر وہ کسی مقدمہ میں ملوث ہے تو اس کو عدالت میں پیش کر دیا جائے اور اسے سزا دی جائے ۔ اس کے ساتھ کوئی رعایت نہیں ہونی چاہئے ۔ کلیم امام نے عدالت کو بتایا کہ حسن شرجیل کے اغواء بارے تین ممکنات تھے جس میں ایک یہ تھا کہ اسے خفیہ اداروں نے اغواء کیا ہے جبکہ دوسری وجہ یہ تھی کہ ہو سکتا ہے کہ وہ خود گھر سے بھاگ گیا ہو لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ اسے تاوان کی غرض سے اغواء کیا گیا ہو ۔ کلیم امام کا کہنا تھا کہ تمام خفیہ اداروں نے تحریری طور پر بتایا ہے کہ حسن شرجیل ان کے پاس نہیں ہے ۔ اب دوسری ممکنات بارے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم جس میں آئی ایس آئی اور آئی بی کے لوگ بھی شامل ہیں تحقیقات کر رہے ہیں اور یہ ٹیم مغوی کے والد شکیل احمد ترابی کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے تحقیقات کر رہی ہے ۔ کلیم امام کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز ایک اور پیش رفت ہوئی ہے جس میں مغوی کے والد شکیل احمد ترابی کو ایک خط موصول ہوا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ حسن شرجیل کو تاوان کی غرض سے ایک افغان باشندے نے اغواء کیا ہے اور وہ اس وقت خوست میں ہے ۔ یہ خط ہمیں شکیل احمد ترابی نے دیا ہے ۔ جس پر جسٹس ناصر الملک نے کہا کہ کیا اغواء کار تاوان مانگ رہے ہیں جس پر کلیم امام نے کہا کہ تعجب کی بات ہے کہ ایسا نہیں ۔ جس پر چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ یہ سارے حربے معاملے سے توجہ ہٹانے کے لئے ہوتے ہیں ہم نے بھی اسی ماحول میں اپنے بال سفید کئے ہیں ۔ کلیم امام کا کہنا تھا کہ اس خط نے ہمیں حیرت میں ڈال دیا ہے لیکن اس سے ہم ایک (لیڈ) ملی ہے جس پر جسٹس ناصر الملک کا کہنا تھا کہ یہ (لیڈ )ہے یا مس (لیڈ) اگر بچہ کو تاوان کے لئے اغواء کیا گیا ہے تو انہوں نے تاوان کیوں طلب نہیں کیا ؟ اس موقع پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ملک میں جو کچھ روزانہ ہو رہا ہے یہ بدقسمتی ہے ۔ اگر آپ مغوی کو بازیاب نہیں کرا سکتے تو عدالت کو صاف صاف بتا دیں کہ یہ کام آپ نہیں کر سکتے ۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ مغوی کے والد کو پتہ چلنا چاہئے کہ اس کا بیٹا کہاں ہے ۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اب آپ کو عملی کام کرنا ہو گا ۔ پہلے ایک افسر تحقیقات کے لئے جاتا تھا اب آئی جی کلیم امام کی ذمہ داری ہے کہ وہ بھی ساتھ جائے ۔ آئی جی پولیس کلیم امام نے عدالت سے استدعا کی کہ حسن شرجیل کی بازیابی کے حوالے سے تحقیقات کے لئے مزید وقت دیا جائے جس پر عدالت نے وفاقی پولیس کو ایک ہفتہ کا وقت دیتے ہوئے ازخود نوٹس کی سماعت کو آئندہ جمعہ 9 جولائی تک ملتوی کر دیا ۔

Tags: پاکستان

چیف جسٹس آف پاکستان نے ایساف کنٹینرز سے سامان غائب کیے جانے کے سیکنڈل کا از خود نوٹس لے لیا

June 30th, 2010 · No Comments

اسلام آباد ‘ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے انٹرنیشنل سیکورٹی فورس ان افغانستان (ایساف) کنٹینرز سے سامان غائب کیے جانے کے سیکنڈل کا از خود نوٹس لیتے ہوئے ڈی جی ایف آئی اے اور چیئر مین ایف بی آر سے 5 جولائی تک رپورٹس طلب کر لیں ۔ عدالت عظمیٰ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق چیف جسٹس نے یہ نوٹس پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سیکرٹری جنرل مشاہد حسین سید کی طرف سے ایک مقامی اخبار میں کی گئی اپیل پر لیا ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ملکی تاریخ کا سب سے بڑا غبن ہوا ہے جس سے 220 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے لہذا سپریم کورٹ اس کا از خود نوٹس لے جس پر چیف جسٹس نے کسٹم سکینڈل کیس کا از خود نوٹس لے لیا ہے اور ڈی جی ایف آئی اے اور چیئرمین ایف بی آر کو 5 جولائی کو رپورٹ طلب کر لی ہے اس رپورٹ کے بعد تحقیقات کاباقاعدہ آغاز کیا جائے گا اور کسٹم حکام اور دیگر ملوث افراد کو طلب کر کے انکوائری مکمل کی جائے گی ۔ یاد رہے 220 ارب روپے مالیت کا سامان افغانستان بھیجوایا جانا تھا مگر وہاں بھیجوانے کی بجائے کنٹینر ز پاکستان میں غائب کر دیئے گئے جس سے ایف بی آر کو 220 ارب روپے کا نقصان ہوا اخباروں میں بھی ایساف کے 11 ہزار 727 کنٹینروں کے غائب ہونے کی خبر شائع ہوئی تھی

Tags: پاکستان

سپریم کورٹ، طلال بگٹی کی اپنے والد اکبر بگٹی کے قتل پر درخواست دائر کر دی

June 21st, 2010 · No Comments

اسلام آباد ‘ جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ طلال بگٹی نے اپنے والد اکبر بگٹی کے قتل کے ملزمان کی گرفتاری کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی ۔ طلال بگٹی نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ ہائی کورٹ کے حکم اورایف آئی آر درج ہونے کے باوجود ملزمان کو گرفتار نہیں کیا جارہا۔ ایف آئی آر میں سابق صدرپرویز مشرف،سابق وزیر اعظم شوکت عزیز ،سابق وزیر وزیر داخلہ آفتاب شیر پاؤ ،سابق وزیر اعلی بلوچستان جام یوسف اور سابق وزیرداخلہ بلوچستان شعیب نوشیروانی کو نامزد کیاگیاتھا۔

Tags: پاکستان

صدر زرداری کے 2 عہدوں کے خلاف وفاق اور صدر کے وکلاء نے مقدمہ کی پیروی کابائیکاٹ کردیا

June 21st, 2010 · No Comments

عدالت عالیہ نے اٹارنی جنرل کو 8 جولائی کیلئے نوٹس جاری کردیا
٭۔ ۔ ۔ درخواست قابل سماعت نہیں ہے لیکن فل بنچ ہمارا موقف سننے کیلئے تیار نہیںاس لئے صدر کی ہدایت پر مقدمہ کی پیروی سے الگ ہوگئے: خالد رضوی ایڈووکیٹ

لاہور‘ صدر آصف علی زرداری کی ہدایت پر وفاق اور ان کے وکلاء نے صدر کے 2 عہدوں کے خلاف درخواست کو ناقابل سماعت قرار دینے سے متعلق درخواستوں کو مسترد کئے جانے پر مقدمہ کی پیروی کا بائیکاٹ کردیا۔ تفصیلات کے مطابق صدر آصف علی زرداری کے 2 عہدوں کے خلاف درخواست اے کے ڈوگر ایڈووکیٹ کے توسط سے وکلاء الائنز نے دائر کی تھی۔ آج عدالت عالیہ کے پانچ رکنی فل بنچ نے جسٹس اعجاز چودھری کی سربراہی میں سماعت شروع کی تو صدر آصف علی زرداری کے وکلاء خالد رضوی‘ سیف الملوک اور رمضان چودھری وغیرہ نے موقف اختیار کیا کہ پہلے اس بات کا فیصلہ کیا جائے کہ صدر کے خلاف 2 عہدے رکھنے سے متعلق درخواست قابل سماعت بھی ہے یا نہیں۔ وکلاء کا موقف تھا کہ درخواست قابل سماعت نہیں ہے اس لئے اس پر بحث کی جائے اور انہیں تیاری کیلئے وقت دیا جائے۔ تاہم عدالت عالیہ نے صدر مملکت کے وکلاء سے اتفاق نہ کرتے ہوئے درخواستیں مسترد کردیں اور اے کے ڈوگر ایڈووکیٹ کو بحث کیلئے کہا۔ صدر کے وکلاء نے خالد رضوی کی قیادت میں مقدمہ کا بائیکاٹ کردیااور کہا کہ فیصلہ چاہے کچھ بھی آئے وہ آئندہ اس کیس میں فل بنچ کے سامنے پیش نہیں ہونگے جس پر عدالت عالیہ نے اٹارنی جنرل آف پاکستان کو 8 جولائی کیلئے نوٹس جاری کردیا۔ بعدازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر کے وکیل خالد رضوی نے کہا کہ صدر کے 2 عہدوں کے خلاف درخواست قابل سماعت نہیں ہے لیکن عدالت ان کا موقف سننے یا بحث کا موقع دینے کیلئے تیار نہیں ہے اس لئے اپنے موکل کی ہدایت پر اب وہ آئندہ فل بنچ کے سامنے پیش نہیں ہونگے۔

Tags: پاکستان

قرض معاف کرانے والے قومی دولت جمع کرائیں ورنہ جیل بھیج دئیے جائیں گے ، افتخار محمد چوہدری

June 18th, 2010 · No Comments

قرضے معاف کر کے حکومت خود اپنے لیے مسائل کھڑے کر رہی ہے، اربوں کی لوٹ مار پر آنکھیں بند نہیں کر سکتے
چیف جسٹس کے ریمارکس
عدالت نے اٹارنی جنرل کو معاونت کے لیے نوٹس جاری کر دیا
۔1971 سے اب تک قرض معاف کرانے والوں کی صوبہ وار تفصیل جمع کرانے کی ہدایت

اسلام آباد ‘ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ قرضے معاف کرانے والے قومی دولت واپس جمع کرائیں ورنہ انہیں جیل بھیج دیں گے ۔ جمعہ کو سپریم کورٹ کے سہ رکنی بینچ نے 54 ارب روپے کے قرضے معاف کرانے والوں کے خلاف از خود نوٹس کیس کی سماعت کی۔چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قرضے معاف کر کے حکومت خود اپنے لیے مسائل کھڑے کر رہی ہے۔ انہوںنے کہا کہ قرض معاف کرانے والے تمام افراد کو عدالت میں بلایا جائے گا ۔ وہ قوم کا پیسہ واپس جمع کرائیں یا جیل جانے کے لیے تیار ہو جائیں ۔ عدالت نے اٹارنی جنرل کو معاونت کے لیے نوٹس جاری کر دیا ۔ بینک کی جانب سے پیروی کرتے ہوئے سلمان اکبر راجہ نے عدالت کو بتایا کہ 1971 ء سے 2009 ء تک 256 ارب روپے کے قرضے معاف کئے گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ با اثر افراد کو چھوڑ کر عام قرض داروں کے گھر تک نیلام کئے گئے ۔ عدالت نے حکم دیا کہ قرض کے بدلے میں رہن رکھی گئی جائیداد کے بارے میں آگاہ کیا جائے ۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اربوں کی لوٹ مار پر آنکھیں بند نہیں کر سکتے ۔ جسٹس خلیل الرحمان رمدے نے کہا کہ ایک مخصوص گروپ نے سب سے زیادہ قرضے معاف کرائے اور بڑے عہدوں پر بیٹھے لوگ بینک بنا کر کھا گئے ۔ عدالت نے 1971 ء سے اب تک قرض معاف کرانے والوں کی صوبہ وار تفصیل جمع کرانے کی ہدایت کی جس کے بعد مزید سماعت 2 اگست تک ملتوی کر دی گئی

Tags: پاکستان

سپریم کورٹ کا حسن شرجیل کی گمشدگی سے متعلق اسلام آباد پولیس کی طرف سے کسی بھی قسم کی وضاحت ماننے سے انکار

June 15th, 2010 · No Comments

لاپتہ افراد کے حوالے سے عدالت کو کوئی بلیک میل نہیں کر سکتا
ہر گھر سے ایک بچہ اغوا ہے لاپتہ افراد کے معاملے میں سیکرٹری داخلہ اور اٹارنی جنرل کو طلب کر یں گے
لوگ تڑپ رہے ہیں کون ان کے پیاروں کو واپس لے کر آئے گا
سینئر صحافی شکیل احمد ترابی کے بیٹے حسن شرجیل کی گمشدگی کے حوالے سے از خود نوٹس کی سماعت کے دوران ججز کے ریمارکس

اسلام آباد ‘ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ لاپتہ افراد کے حوالے سے عدالت کو کوئی بلیک میل نہیں کر سکتا ہر گھر سے ایک بچہ اغوا کیا گیا ہے لاپتہ افراد کے معاملے میں سیکرٹری داخلہ اور اٹارنی جنرل کو طلب کر سکتے ہیں ۔لوگ تڑپ رہے ہیں کون ان کے پیاروں کو واپس لے کر آئے گا۔ یہ ریمارکس سپریم کورٹ نے گزشتہ روز سینئر صحافی شکیل احمد ترابی کے بیٹے حسن شرجیل کے لاپتہ ہونے کے حوالے سے از خود نوٹس کی سماعت کے دوران دئیے ۔ عدالت کا اسلام آباد پولیس کی طرف سے کسی بھی قسم کی وضاحت ماننے سے انکار۔پولیس کو 24 گھنٹے میں حسن شرجیل کو بازیاب کر انے کی ہدایت۔سماعت آج بدھ 16جون کو دوبارہ ہو گی۔ منگل کو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سر براہی میں جسٹس غلام ربانی اور جسٹس خلیل الرحمن رمدے پر مشتمل تین رکنی بینچ نے از خود نوٹس کیس کی سماعت کی ۔ عدالت میں آئی جی اسلام آباد سید کلیم امام ، ڈی آئی جی بنیامین اور ایس ایس پی طاہر عالم خان پیش ہوئے ۔ مقدمے کی سماعت شروع ہوئی تو عدالت نے پولیس افسران کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ حسن شرجیل کہاں ہے اسے پیش کرو آپ نے اخبارات میں خبریں کیوں شائع کروائیں کیا آپ ہماری کارروائی پر اثر انداز ہونے کی کوشش کررہے ہیں۔ کوئی ہمیں اس طرح بلیک میل نہیں کر سکتا ۔ پچھلی سماعت پر آپ اخباروں میں اشتہارات دے کر آئے ا س دفعہ خبریں شائع کروا کر آئے ہو ۔ جاؤ جا کر سیکرٹری داخلہ کو رپورٹ کرو کہ آپ اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں ناکام ہو گئے ہیں ۔ جس پر پولیس افسران نے کہا کہ یہ خبر انہوں نے شائع نہیں کروائی ۔ جس پر عدالت نے کہا کہ آپ ہمیں حساس اداروں سے سرٹیفکیٹ لے کیوں دے رہے ہو کہ وہ حسن شرجیل کے لاپتہ کرنے میں ملوث نہیں ہیں۔لوگ تڑپ رہے ہیں ۔ کون ان کے پیاروں کو واپس لائے گا آپ ہمیں سرٹیفکیٹ لا کر دے رہے ہیں ۔ جس پر پولیس افسران نے عدالت سے وقت مانگا اور کہا کہ حسن شرجیل کی گمشدگی کا معاملہ پیچیدہ معاملہ ہے ہمیں وقت دیا جائے عدالت نے وقت دینے سے انکار کردیا اور کہا کہ اگر آپ نے کل تک پیش رفت نہ کی تو ہم (آج ) بدھ کو اپنا فیصلہ سنا دیں گے۔ عدالت نے کہا کہ ہم سیکرٹری داخلہ اور اٹارنی جنرل کو طلب کرکے پوچھیں گے کہ پولیس یہ کام نہیں کرتی تو کون یہ کام کرے گا۔ عدالت نے اسلام آباد پولیس کی طرف سے کسی قسم کی وضاحت ماننے سے انکار کردیا اور اپنے ریمارکس میں کہا کہ آپ کی ناک کے نیچے لوگ اسلام آباد کی زمینوں پر ناجائز قبضے کر رہے ہیں ۔ آپ خاموش اور بے بس نظر آرہے ہیں یہ آپ کے مفادات کی وجہ سے ہے یا کوئی دباؤ ہے ۔ ڈی آئی جی بنیامین نے عدالت سے کہا کہ عدالت میں حسن شرجیل کے والد موجود ہیں ۔ آپ ان سے پوچھیں کہ ان کا بچہ کہاں ہے ۔ جس پر عدالت نے کہا کہ اگر بچے کے والد عدالت میں نہ بھی ہوں تو بھی عدالت خود اس کیس کی مدعی ہے ۔ اس کیس کا کوئی درخواست گزار نہیں ہے عوام کی جیبوں سے آپ تنخواہیں اس لیے نہیں لیتے کہ ان کے بچوں کی حفاظت نہ کر سکیں۔ چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ میں بلوچستان سے ہو کر آیا ہوں ۔ وہاں بھی لوگوں کی یہی آہ و بکا تھی ۔ کہ ہمارے بچے اغوا کرلیے گئے ہیں اور ان کاکوئی پتہ نہیں چل رہا ہے ۔ کیا تماشا بنا ہو ہے ہمارے ملک میں۔ ہر آدمی کے گھر سے ایک بچہ غائب ہے ۔ جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے اپنے ریمارکس میں کہا ہم لوگوں کے حقوق کے محافظ ہیں پولیس صرف ناجائز قبضے اور عوام کو پریشان کر رہی ہے۔ اس موقع پر آئی جی کلیم امام نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے ایجنسیوں کے اعلیٰ حکام سے بھی رابطہ کیا ہے تاہم حسن شرجیل کے بارے کوئی معلومات حاصل نہیں ہو سکیں ۔ چیف جسٹس نے آئی جی کلیم امام سے مخاطب ہو کر کہا کہ بچے کی بازیابی آپ کی ذمہ داری ہے۔ سپریم کورٹ نے پولیس سے حتمی رپورٹ طلب کر تے ہوئے سماعت آج بدھ تک ملتوی کر دی۔

Tags: پاکستان

نون لیگ کے نا اہل ایم پی اے رضوان گل کی اپیل خارج کردی ‘ درخواست گزار کیخلاف فوج داری مقدمہ دائر کیا جائے ۔سپریم کورٹ کا حکم

June 15th, 2010 · No Comments

اسلام آباد ‘ سپریم کورٹ نے مسلم لیگ نواز کے نا اہل ایم پی اے رضوان گل کی اپیل خارج کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو حکم دیا ہے کہ درخواست گزار کیخلاف فوج داری مقدمہ دائر کیا جائے ۔سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے چیف جسٹس کی سربراہی میں پی پی 34 سرگودھا کے سابق ایم پی اے رضوان گل کی اپیل کی سماعت کی ۔ اپیل میں انہوںنے لاہور ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کیا تھا جس میں انہیں مد مقابل امیدوار حامدرضا کی درخواست پر جعلی ڈگری رکھنے کے الزام میں نا اہل قرار دیا گیا تھا ۔سماعت کے موقع پر چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اب جعلسازی کے ذریعے پارلیمنٹ میں آنے کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے ۔بینچ کے رکن جسٹس خلیل الرحمان رمدے نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں شرم آتی ہے کہ لوگ جعلسازی کر کے ہماری پارلیمنٹ کا حصہ بن جاتے ہیں ۔عدالت نے رضوان گل کی اپیل خارج کرتے ہوئے ان پر جرمانہ عائد کر دیا اور الیکشن کمیشن کو حکم دیا کہ وہ جعلی دستاویزات دینے اور پھراس کو سچ ثابت کرنے کا اصرار کرنے پر رضوان گل کے خلاف فوج داری کے تحت مقدمہ درج کرائے تا کہ آئندہ کوئی ایسی حماقت کی کوشش نہ کر سکے ۔

Tags: پاکستان

این آراو عملدرآمد کیس ‘ سپریم کورٹ نے وزارت قانون کی سمری مسترد کردی

June 11th, 2010 · No Comments

منی لانڈرنگ اور سوئس مقدمات کھولنے کے لئے نئی سمری تیار کی جائے‘ عدالت عظمیٰ کا حکم
وزارت قانون کی سمری میں وزیراعظم کو بھی گمراہ کیا گیا ہے ‘ جسٹس طارق پرویز
سمری این آر اوفیصلے پر عملدرآمد نہ کرنے کی لگتی ہے‘ جسٹس ناصر الملک کے ریمارکس

اسلام آباد ‘ سپریم کورٹ نے این آر اوپر عملدرآمد سے متعلق مقدمے میں وزارت قانون کی جانب وزیر اعظم کو بھیجی جانے والی سمری پر اظہار عدم اطمینان کرتے ہوئے اسے مسترد کردیا اور کہا کہ وزارت قانون کی سمری میں وزیراعظم کو بھی گمراہ کیا گیا ہے عدالت عظمیٰ نے حکم دیا کہ منی لانڈرنگ اور سوئس مقدمات کھولنے کے لئے نئی سمری تیار کی جائے ۔ جمعہ کو مقدمہ کی سماعت جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں جسٹس راجہ فیاض ، جسٹس جواد ایس خواجہ ، جسٹس رحمت حسین جعفری اور جسٹس طارق پرویز پر مشتمل پانچ رکنی بینچ نے کی ۔ سماعت کے موقع پر اٹارنی جنرل نے این آر او مقدمات کھولنے سے متعلق سے وزارت قانون کی جانب سے وزیر اعظم کو بھیجی جانے والی سمری عدالت میں پیش کی جس پر عدالت کی جانب سے عدم اطمینان کا اظہار کیا گیا ۔ اس موقع پر جسٹس ناصر الملک نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ سمری این آر اوفیصلے پر عملدرآمد نہ کرنے کی لگتی ہے ۔جسٹس طارق پرویز کا کہنا تھا کہ وزارت قانون کی سمری میں وزیراعظم کو بھی گمراہ کیا گیا ہے ۔عدالت نے منی لانڈرنگ اور سوئس مقدمات کھولنے کے لئے وزارت قانون کو نئی سمری تیار کرنے کا حکم دیتے ہوئے مزید سماعت جولائی کے پہلے ہفتے تک ملتوی کر دی ۔

Tags: پاکستان

حکومت کو این آر او کالعدم قرار دینے کے عدالتی فیصلے پر عملدر آمد کر نا ہوگا۔ ۔ ۔ سپریم کورٹ

June 10th, 2010 · No Comments

۔18ویں ترمیم کے تحت وزیر اعظم عدالتی فیصلے پر عملدر آمد کے پابند ہیں وزارت قانون رائے نہیں دیتی بلکہ عدالتی فیصلے پر عملدر آمد کرتی ہے
این آر او پر عملدر آمد کے حوالے سے وفاقی حکومت کا جواب مسترد
عدالت عظمیٰ نے وزارت قانون کے قائم مقام سیکرٹری کو ریکارڈ سمیت طلب کر کے سماعت آج تک کے لئے ملتوی کر دی

اسلام آباد ‘سپریم کورٹ آف پاکستان نے واضح کیا ہے کہ حکومت کو این آر او کاعلدم قرار دئیے جانے کے عدالتی فیصلے پر عملدر آمد کر نا ہو گا اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں جبکہ اٹھارہویں ترمیم کے تحت وزیر اعظم عدالتی فیصلے پر عملدر آمد کے پابند ہیں وزارت قانون رائے نہیں دیتی بلکہ عدالتی فیصلے پر عملدر آمد کر تی ہے این آر او پر عملدر آمد کے حوالے سے وفاقی حکومت کا جواب مسترد ۔ عدالت عظمیٰ نے وزارت قانون کے قائم مقام سیکرٹری سید سلطان شاہ کو ریکارڈ سمیت طلب کر تے ہوئے از خود نوٹس کی سماعت (آج) جمعہ تک ملتوی کر دی ۔ جمعرات کے روز جسٹس ناصر الملک کی سر براہی میں جسٹس راجہ فیاض،جسٹس سائر علی، جسٹس جواد ایس خواجہ اور جسٹس طارق پرویز پر مشتمل عدالت عظمی کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے مقدمہ کی سماعت کی سماعت کے دوران ایڈوووکیٹ آن ریکارڈ راجہ عبدالغفور نے عدالت میں وزارت قانون کی طرف سے جواب جمع کرایا تو جسٹس جواد ایس خواجہ سے ان سے استفسار کیا کہ آپ نے کس کی ہدایت پر عدالت میں جواب جمع کرایا ہے تو انہوں نے عدالت کو بتایا کہ وزارت قانون کے سیکشن افسر اظہر امین نے انہیں جواب داخل کر انے کی ہدایت کی تھی جس پر عدالت نے قرار دیا کہ عدالت میں وفاقی وزیر قانون کی جانب سے جواب داخل نہیں کرایا گیا حالانکہ عدالت نے وزیر قانون کو کہا تھا کہ وہ جو کچھ بھی کہنا چاہتے ہیں تحریری طور پر عدالت عظمیٰ میں جمع کرائیں اس موقع پر ریمارکس دیتے ہوئے جسٹس ناصر الملک کا کہنا تھا کہ حکومت کو سپریم کورٹ کی طرف سے این آر او کے خلاف دئیے گئے فیصلہ پر عملدر آمد کر نا ہو گا اس کے علاوہ دوسرا کوئی راستہ نہیں ہے عدالت نے اٹارنی جنرل مولوی انوار الحق کو ہدایت کر تے ہوئے کہا کہ وہ اس کیس کے مضمرات سے حکومت کو آگاہ کریں جبکہ ملک قیوم کے خط کے تناظر میں سوئز عدالتوں کو خط لکھا جائے اس موقع پر ریمارکس دیتے ہوئے بینچ کے رکن راجہ فیاض نے کہا کہ ملک کے انتظامی سر براہ کے طور پر وزیر اعظم کی ذمہ داری ہے کہ وہ عدالتی فیصلوں پر عملدر آمد کروائیں عدالت نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کر تے ہوئے کہا کہ حکومت کی طرف سے داخل کرائے گئے جواب میں وزیر اعظم کی آبزرویشن ہے اور لگتا ہے کہ وزیر اعظم کو وزارت قانون نے درست صورتحال سے آگاہ نہیں کیا عدالت نے قرار دیا کہ وزارت قانون کی طرف سے وزیر اعظم کو بھیجی گئی سمری بھی عدالت میں جمع نہیں کرائی عدالت نے قائم مقام سیکرٹری قانون سید سلطان شاہ کو اس حوالے سے ریکارڈ سمیت طلب کر لیا۔سماعت کے دوران ریمارکس جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا تھا کہ عدالت میں مختلف لوگ آ کر مختلف بیان دیتے ہیں اس لئے وزیر قانون کو طلب کیا تھا کیونکہ سیکرٹری استعفی دے کر چلا گیا تھا اداروں کا کام ہے کہ وہ اپنے دائرہ کار میں رہ کرکام کریں ان کا کہنا تھا کہ عدالت کے 17 رکنی بینچ نے فیصلہ دیا ہے لیکن چھ ماہ سے اس پر عملدر آمد نہیں ہوا جسٹس ناصر الملک کا کہنا تھا کہ حکومتی جواب میں وزیر اعظم نے کوئی موقف اختیار نہیں کیا صرف آبزرویشن دی ہے جبکہ وزارت قانون رائے نہیں دیتی بلکہ عدالتی فیصلے پر عملدر آمد کرتی ہے اس موقع پر جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا تھا کہ پتہ نہیں چل رہا کہ عملدر آمد کے عمل میں کون رکاوٹ ڈال رہا ہے کچھ لوگ تماشہ دیکھنے کے لئے تیار بیٹھے ہیں لیکن ہم احتیاط کر رہے ہیں ہم تو عملدر آمد چاہتے ہیں مگر ہمیں کوئی پکڑائی نہیں دیتا عدالت نے وزارت قانون کی جانب سے وزیر اعظم کو بھیجی گئی سمری کے حوالے سے تمام ریکارڈ سمیت قائم مقام سیکرٹری قانون و انصاف کو آج جمعہ کے روز عدالت میں طلب کیا ہے۔

Tags: پاکستان

سپریم کورٹ کے ججوں کا زیر التواء معاملات نمٹانے کے لئے گرمیوں کی چھٹیاں نہ کرنے کا فیصلہ

June 10th, 2010 · No Comments

اسلام آباد ‘ سپریم کورٹ آف پاکستان کے ججز نے زیر التواء مقدمات کو نمٹانے کے لئے گرمیوں کی چھٹیاں نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ۔ جمعرات کے روز عدالت عظمیٰ کی طرف سے جاری کئے گئے بیان کے مطابق سپریم کورٹ کے ججز نے متفقہ طور پر قرار دیا ہے کہ وہ گرمیوں میں ہونے والی تین ماہ کی چھٹیاں نہیں کریں گے تاکہ زیر التواء مقدمات کو نمٹایا جا سکے اور فریقین کو وقت پر انصاف فراہم کیا جا سکے ۔ بیان کے مطابق عدالت عظمیٰ کے طریقہ کار کے مطابق پرنسپل لسٹ اسلام آباد اور برانچ رجسٹریز میں بھی حسب روایت بنچ تشکیل دیئے جائیں گے ۔ اس حوالے سے فریقین اور ممبران بارز کو مطلع کر دیا گیا ہے ۔

Tags: پاکستان