Urdu News-Online Urdu Newspaper

The 3rd Largest Online Urdu Newspaper

Urdu News-Online Urdu Newspaper header image 4
Pages: Prev 1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 ...12 13 14 Next

سپریم کورٹ کا بیرون ملک قید پاکستانیوں کی مدد کے لیے حکومت کو 4 رکنی کمیٹی تشکیل دینے کا حکم

May 20th, 2010 · No Comments

بیرون ملک قید پاکستانیوں کے حقوق کا تحفظ ہونے تک سپریم کورٹ چین سے نہیں بیٹھے گی ،جسٹس جاوید اقبال
اسلام آباد ‘ جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ بیرون ملک قید پاکستانیوں کے حقوق کا تحفظ ہونے تک سپریم کورٹ چین سے نہیں بیٹھے گی ۔ انہوںنے یہ بات جمعرات کولا پتہ افراد کے مقدمے کی سماعت کے دوران کہی۔ سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے بیرون ملک قید پاکستانیوں کی مدد کے لیے حکومت کو 4 رکنی کمیٹی تشکیل دینے کا حکم دیا ۔ اس کمیٹی میں داخلہ ، خارجہ اورخزانہ امور کے جوائنٹ سیکرٹریز اور کرائسس منیجمنٹ سیل کاایک رکن شامل ہوگا۔ سیکرٹری خزانہ نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ ان کی وزارت بیرون ملک پاکستانیوں کی وطن واپسی میںمالی وسائل فراہم کرنے کو تیار ہے ۔ اس کے بعد سماعت 4 ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی گئی

Tags: پاکستان

سپریم کورٹ نے شیخ زید ٹرسٹ اثاثہ جات کیس میں صدر زرداری ‘ نصرت بھٹو ‘ گلزار بیگم اور دیگر کو نوٹسز جاری کر دیئے

May 19th, 2010 · No Comments

بلاول ‘ بختاور اور آصفہ کو ملک سے باہر ہونے کی وجہ سے بذریعہ آصف علی زرداری نوٹسز جاری کئے گئے
اسلام آباد ‘ سپریم کورٹ نے شیخ زید ٹرسٹ اثاثہ جات کیس میں شریعت کورٹ کے اپلیٹ بنچ کے فیصلے کے خلاف صدر آصف علی زرداری ‘ نصرت بھٹو گلزار بیگم اور دیگر کو نوٹسز جاری کر دیئے ہیں ۔ تاہم بلاول ‘ بختاور اور آصفہ کو ملک سے باہر ہونے کی وجہ سے بذریعہ آصف علی زرداری نوٹسز جاری کئے گئے ہیں ۔ بدھ کو 4 رکنی بنچ جسٹس شاکر اللہ جان کی سربراہی میں جسٹس ایم اے شاہد صدیقی ‘ جسٹس ثاقب نثار اور جسٹس محمد الغزالی پر مشتمل تھا جس نے وفاقی شرعی عدالت کے اس فیصلے جس میں شیخ سلطان ٹرسٹ کے اثاثے بے نظیر بھٹو کے وارثوں صدر زرداری ‘ بلاول ‘ بختاور ‘ آصفہ اور دیگر کو منتقل کرنے کے فیصلے کے خلاف اسلم خاکی کی اپیل کی سماعت کی جس میں درخواست گزار نے موقف اختیار کیا ہے کہ وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ آئینی حدود سے تجاوز ہے اور وفاقی شرعی عدالت کو یہ حکم جاری کرنے کا اختیار نہیں تھا ۔ وفاقی شرعی عدالت کے خلاف انہوں نے یہ اپیل داخل کی تھی جس میں موقف اختیار کیا کہ وفاقی شرعی عدالت کی جانب سے آصف زرداری اور دیگر کو اثاثے منتقل کرنے کے اس فیصلہ کو کالعدم قرار دیا جائے کیونکہ وفاقی شرعی عدالت کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ ٹرسٹ کے بجائے ذاتی طور پر انہیں منتقل کر دے اس پر فاضل عدالت نے ان سے استفسار کیا کہ آپ کا اپیل داخل کرنے کا جو قانونی جواز ہے وہ کیسے بنتا ہے جس پر انہوں نے کہا کہ ٹرسٹ چونکہ پبلک ٹرسٹ ہے اس لحاظ سے بطور پاکستانی شہری کا حق ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل داخل کر سکیں جس پر عدالت نے انہیں کہا کہ اس پر نوٹسسز جاری کئے جائیں گے تاہم اسلم خاکی ایڈووکیٹ نے عدالت سے یہ بھی استدعا کی کہ وہ واضح طور پر وفاقی شرعی عدالت کے اس فیصلے کے خلاف حکم امتناعی جاری کرے ۔ جس پر عدالت کی طرف سے کہا گیا کہ دیگر فریقین کو سنے بغیر حکم امتناعی جاری نہیں کیا جا سکتا ۔ تاہم جسٹس شاکر اللہ جان کا یہ کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 203 بی کے تحت اگر وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے خلاف شرعی اپلیٹ بنچ میں اپیل داخل کر دی جائے تو خود بخود ہی وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ معطل ہو جاتا ہے ۔ فاضل عدالت نے کہا ہے کہ چونکہ شرعی اپلیٹ بنچ اس ہفتہ ختم ہو رہا ہے اور جب آئندہ شرعی اپلیٹ بنچ قائم ہو گا تو اس پر فوری اور جلد از جلد اس کی سماعت کی جائے گی ۔ تاہم سماعت غیر معینہ مدت تک کے لئے ملتوی کر دی گئی ہے ۔

Tags: پاکستان

لاپتہ افراد کیس‘ سپریم کورٹ کا بیرون ملک قید پاکستانیوں سے متعلق وزارت خارجہ کی رپورٹ پر اظہار عدم اطمینان

May 17th, 2010 · No Comments

سیکریٹری خارجہ،داخلہ اور خزانہ کو نوٹسز جاری کر کے 20مئی کو طلب کر لیا
ایم کیو ایم کے ارکان سمیت تمام لاپتہ افراد کے کیسز عدالتی کمیشن کو بھیجے جائیں گے‘ جسٹس جاوید اقبال
بیرون ملک قید پاکستانیوں کا تحفظ سفارتخانوں کی ذمہ داری ہے، سپریم کورٹ کی مداخلت سے حکومت کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہو گا
سماعت کے دوران ریمارکس

اسلام آباد ‘ سپریم کورٹ نے لاپتہ افراد کیس میں بیرون ملک قید پاکستانیوں سے متعلق وزارت خارجہ کی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے عدالت نے بیرون ملک قید پاکستانیوں کی وطن واپسی کے لئے سیکریٹری خارجہ، داخلہ اور خزانہ کو نوٹسز جاری کر کے 20مئی کو طلب کر لیا۔جسٹس جاوید اقبال کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کے ارکان سمیت تمام لاپتہ افراد کے کیسز عدالتی کمیشن کو بھیجے جائیں گے۔ جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں جسٹس سائر علی اور جسٹس انور ظہیر جمالی پر مشتمل تین سپریم کورٹ کے3 رکنی بنچ نے لاپتہ افراد کے مقدمہ کی سماعت کی ۔ وزارت خارجہ نے بیرون ملک قید پاکستانیوں سے متعلق رپورٹ پیش کی جس پر عدالت نے عدم اطمینان کا اظہار کیا۔رپورٹ کے مطابق افغانستان میں ایک سو سینتالیس،ملائیشیا میں چار سو پچیس اور تھائی لینڈ میں دو سو پاکستانی گرفتار ہیں۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے کے آغا نے عدالت کو بتایا کہ کہ چھ ہزار سے زیادہ پاکستانی بیرون ملک جیلوں میں قید ہیں۔ قیدیوں کی واپسی میں مالی مشکلات حائل ہیں جس پر عدالت نے سیکریٹری داخلہ، سیکریٹری خارجہ اور سیکریٹری خزانہ کو20مئی بروز جمعرات طلب کر لیا۔جسٹس جاوید اقبال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بیرون ملک قید پاکستانیوں کا تحفظ سفارتخانوں کی ذمہ داری ہے، سپریم کورٹ کی مداخلت سے حکومت کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہو گا۔جسٹس جاوید نے کہا کہ لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے عدالتی کمیشن نے باقاعدہ کام کا آغاز کر دیا ہے۔ایم کیو ایم کے لوگ بھی لاپتہ افراد کی فہرست میں آتے ہیں۔ عدالتی کمیشن تمام لاپتہ افراد سے متعلق کیسز پر کارروائی کرے گا۔

Tags: پاکستان

سپریم کورٹ کی سینئر صحافی شکیل ترابی کے بیٹے کی عدم بازیابی کے حوالے سے از خودنوٹس کی سماعت ‘ مزید 10 دن کی مہلت

May 14th, 2010 · No Comments

وفاقی پولیس کی رپورٹ کو غیر تسلی بخش قرار دے کر بچے کی بازیابی کے لیے مزید 10 دن کی مہلت دے دی ، سماعت 26 مئی تک ملتوی
اگر آپ کو ذمہ دار شخص کاپتہ ہے تو بتاؤ ، عدالت اسے طلب کر لے گی آپ کیوں ڈر رہے ہیں ، بہادربنیں،
چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے ڈی آئی جی کومخاطب کرتے ہوئے ریمارکس

اسلام آباد ‘ سپریم کورٹ نے سینئر صحافی شکیل ترابی کے مغوی بیٹے کی عدم بازیابی کے حوالے سے ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران وفاقی پولیس کی رپورٹ کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے پولیس کو بچے کی بازیابی کے لیے مزید 10 دن کی مہلت دیدی ۔ جمعہ کے روز چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں جسٹس غلام ربانی اور جسٹس خلیل الرحمان رمدے پر مشتمل تین رکنی بینچ نے از خود نوٹس کی سماعت کی ۔ سماعت کے دوران آئی جی اسلام آباد پولیس کلیم امام ، ڈی آئی جی بنیامین اور دیگرپولیس حکام عدالت میں پیش ہوئے۔ ا ز خود نوٹس کی سماعت شروع ہوئی تو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ڈی آئی جی بنیامین سے استفسار کیا کہ مغوی حسن شرجیل کہاں ہے جس پر بنیامین کا کہنا تھا کہ انہوں نے بچے کی بازیابی کے لیے بڑی کوشش کی ہے اور سیکرٹری داخلہ کے توسط سے وزارت دفاع کو خط لکھا ہے کہ بچہ ایجنسیوں کے پاس ہے تو بتایا جائے تاکہ عدالت کو اس سے آگاہ کیا جا سکے ۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ ایجنسیاں ایسی ہیں جن تک ان کی رسائی نہیں ہے ۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ اگر آپ اس حوالے سے کچھ نہیں کر سکتے تو عدالت کو بتا دو ہم آئی جی پولیس کلیم امام سے کہیں گے کہ وہ اقدامات کریں ۔چیف جسٹس نے آئی جی پولیس کلیم امام کو مخاطب کرتے ہوئے اپنے ریمارکس میں کہا کہ جب تک پولیس افسران اس طرح کام کریں گے تو ڈسپلن قائم نہیں ہوسکے گا اگر آپ 99 کام پورے کریں اورایک کام نہ کریں تو یہ تصور کیا جائے گا کہ آپ نے کچھ نہیں کیا ۔ اس موقع پر آئی جی پولیس کلیم امام نے موقف اختیار کیا کہ وفاقی پولیس نے بہت سے افراد بازیاب کرائے ہیں انشاء اللہ اس معاملہ میں بھی کامیاب ہو جائیں گے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ پہلے ہم ڈی آئی جی بنیامین کی کارکردگی دیکھ رہے ہیں اگر انہوںنے کام نہ کیا تویہ آ پ کو رپورٹ کریں گے کہ یہ ناکام ہو چکے ہیں اور بعد میں پھر آپ کو وقت دیں گے ۔ اگر آپ بھی ناکام ہوئے تو پھر عدالت آپ کو بھی حکم دیگی کہ بالا حکام کو رپورٹ دیں کہ آپ ناکام افسر ہیں ۔ چیف جسٹس نے ڈی آئی جی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ کو ذمہ دار شخص کاپتہ ہے تو عدالت کو بتاؤ عدالت اسے طلب کر لے گی ۔ آپ کیوں ڈر رہے ہیں بہادر بنیں ۔ عدالت نے قرار دیا کہ اگر مغوی بچے کو دس دن میں ڈی آئی جی نہ لا سکے تو پھر آئی جی کو حکم دیا جائے گا۔ ورنہ پھر عدالت آپ لوگوں کے خلاف لکھے گی ۔ عدالت نے وفاقی پولیس کو مزیددس دن کی مہلت دیتے ہوئے از خود نوٹس کی سماعت 26 مئی تک ملتوی کر دی

Tags: پاکستان

این آر او کیس ‘ سپریم کورٹ نے وزیرقانون بابر اعوان کو عدالت میں طلب کرلیا

May 14th, 2010 · No Comments

سپریم کورٹ نے وزیرقانون بابر اعوان کو عدالت میں طلب کرلیا، این آر او کیس کی سماعت 25 مئی تک ملتوی
عدالت چاہتی تھی کہ کوئی حکومتی اہلکار اس حوالے سے وضاحت کرتا تاہم ایسا نہیں کیا گیا، جسٹس ناصر الملک
سیکرٹری قانون کی فیکس میں بیماری کی مکمل تاریخ بیان کی گئی اگر انکی طبیعت اتنی ناساز تھی تو انہیں یہ عہدہ قبول نہیں کرنا چاہیے تھا ، جسٹس راجہ فیاض
آپ نیب کے ترجمان ہیں حکومت کے نہیں ، حکومت کا موقف پیش کرنے کے لیے اٹارنی جنرل موجود ہیں
پراسیکیوٹر جنرل عرفان قادر کی طرف سے حکومت کی وکالت کی کوشش پر عدالت کے ریمارکس

اسلام آباد ‘ سپریم کورٹ آف پاکستان نے و فاقی وزیر قانون بابر اعوان کو عدالت میں طلب کرتے ہوئے این آر او عملدرآمد کیس کی سماعت 25 مئی تک ملتوی کردی۔ سیکرٹری قانون عاقل مرزا عدالت میں پیش نہیں ہوئے ۔ جمعہ کے روز جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں جسٹس راجہ فیاض ، جسٹس جواد ایس خواجہ ، جسٹس رحمت حسین جعفری اور جسٹس طارق پرویز پر مشتمل عدالت عظمیٰ کے پانچ رکنی بینچ نے این آر او پر عملدرآمد کے حوالے سے مقدمہ کی سماعت کی ۔ سماعت شروع ہوئی توایف آئی اے کے سابق ایڈیشنل ڈائریکٹر احمد ریاض شیخ کی طرف سے ڈاکٹر عبد الباسط ایڈووکیٹ پیش ہوئے ۔انہوں نے موقف اختیار کیا کہ ان کے موکل سزا مکمل کر چکے ہیں جبکہ ملازمت سے بھی فارغ کئے جا چکے ہیں ۔ لہذا اب روز روز ان کو عدالت میں طلب نہ کیا جائے کسی طرح ان کو روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے ٹرائل سے بچایا جائے ۔ اس موقع پر اٹارنی جنرل جسٹس ( ر ) انوار الحق نے عدالت میں سابق سیکرٹری عاقل مرزا کی علالت بارے رپورٹ عدالت میں جمع کراتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ عاقل مرزا نے اپنی بیماری بارے رپورٹ عدالت کو فیکس کی ہے جس پر بینچ کے رکن راجہ فیاض نے کہا کہ سیکرٹری قانون نے جو فیکس اپنی بیماری کے حوالے سے بھیجی ہے اس میں بیماری کی مکمل تاریخ بیان کی گئی اگر انکی طبیعت اتنی ناساز تھی تو انہیںیہ عہدہ قبول نہیں کرنا چاہیے تھا ۔ اس بات کی تمام ممبران بینچ نے تائید کی ۔ جسٹس ناصر الملک نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عدالت عظمی کے 14 رکنی بینچ نے این آر او پر عملدرآمد کے حوالے سے واضح ہدایات دی تھیں لیکن عدالت میں تین مختلف رپورٹس جمع کروائی گئی ہیں ۔ عدالت چاہتی تھی کہ کوئی حکومتی اہلکار اس حوالے سے وضاحت کرتا تاہم ایسا نہیں کیا گیا۔جسٹس ناصر الملک کا کہنا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ وزیر قانون کو عدالت میں طلب کیا جائے۔ اس موقع پر نیب کے پراسیکیوٹر جنرل عرفان قادر نے حکومت کی وکالت کی کوشش کی تو عدالت نے قرار دیا کہ آپ نیب کے ترجمان ہیں حکومت کے نہیں ۔ حکومت کا موقف پیش کرنے کے لیے ا ٹارنی جنرل عدالت میں موجود ہیں۔ جسٹس جوادایس خواجہ نے پراسیکیوٹر جنرل سے کہا کہ آپ وزیر قانون کی طرف سے عدالت میں پیش نہیں ہو رہے لہذا آپ اپنی سیٹ پر بیٹھ جائیں ۔ عدالت نے وفاقی وزیر قانون بابر اعوان کو طلب کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ سماعت پر وفاقی وزیر عدالت میں پیش ہو کر بات واضح کر یں۔ جسٹس ناصر الملک نے کہا کہ پہلے عدالت کو بتایا گیا کہ سوئز عدالتوں کو خط لکھ دئیے گئے ہیں بعد میں رپورٹ آئی کہ خط نہیں لکھے جا سکتے تیسری بار عدالت کو بتایا گیا کہ سیکرٹری مستعفی ہو چکے ہیں لہذا وفاقی وزیر کو عدالت میںآنے دیا جائے او روہ آ کر اس حوالے سے عدالت کو آگاہ کریں ۔ سپریم کورٹ نے مقدمہ کی مزید سماعت 25 مئی تک ملتوی کردی

Tags: بریکنگ نیوز , پاکستان

سپریم کورٹ نے ایف نائن کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا

May 13th, 2010 · No Comments

کل پارک کی جگہ ’’را‘‘ یا’’ موساد ‘‘‘کو دے دی جائے توکون جواب دے گا‘ جسٹس خلیل الرحمن رمدے
سی ڈی اے پبلک سروس کا ادارہ ہے اور شہر کی ایک ، ایک انچ کا محافظ ہے ‘ چیف جسٹس افتخار چوہدری

اسلام آباد ‘ سپریم کورٹ نے پبلک پارک ایف نائن میں تجارتی سرگرمیوں کے لئے سی ڈی اے کی جانب سے نظریہ پاکستان کونسل (این جی او)، گالف سٹیزن کلب اور میکڈونلڈ (سیزا فوڈ) کو دی جانے والی اراضی سے متعلق مقدمہ کی سماعت مکمل کر کے فیصلہ محفوظ کر لیا ۔ کیس کی سماعت چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔ سماعت کے دوران جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ کل پارک کی جگہ ’’را ‘‘یا ’’موساد ‘‘کو دے دی جائے توکون جواب دے گا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سی ڈی اے پبلک سروس کا ادارہ ہے اور شہر کی ایک ، ایک انچ کا محافظ ہے

Tags: پاکستان

این آر او فیصلے پر عملدرآمد سے متعلق کیس کی سماعت کل تک کے لیے ملتوی

May 13th, 2010 · No Comments

مستعفی سیکرٹری قانون کی عدم پیشی ، سپریم کورٹ میں این آر او فیصلے پر عملدرآمد سے متعلق کیس کی سماعت کل تک کے لیے ملتوی
سابق ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل احمد ریاض شیخ کے معاملے میں بھی سیکرٹری داخلہ کو آج طلب کرلیا گیا

اسلام آباد ‘سپریم کورٹ میں این آر او فیصلے پر عملدرآمد سے متعلق کیس کی سماعت مستعفی سیکرٹری قانون کے پیش نہ ہونے کے باعث ملتوی کردی گئی ہے۔ 6 مئی کو ہونے والی سماعت میں 5 رکنی بینچ نے حکم دیا تھا کہ حکومتی عہدیداران کے بیانات میں تضاد کے باعث سیکرٹری قانون اور چےئرمین نیب عدالت میں آ کر وضاحت کریں لیکن اٹارنی جنرل مولوی انوار الحق کی جانب سے بتایا گیا کہ سیکرٹری قانون مستعفی ہو چکے ہیں جبکہ وہ بیمار بھی ہیں ۔ جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ کیا ان کا استعفیٰ منظور ہوچکا ہے جس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ استعفیٰ ابھی پروسیس میں ہے ۔ اس پر جسٹس ناصر الملک نے کہا کہ پھر انہیں عدالت میں پیش ہونا چاہیے تھا کیونکہ ان کی موجودگی ضروری تھی ۔ اس لیے سماعت ( کل ) جمعہ تک موخر کی جاتی ہے ۔ چےئرمین نیب نوید احسن اپنی رپورٹ ساتھ لے کر آئے تھے۔ لیکن اس رپورٹ کو بھی آج تک کے لیے موخر کر دیا گیا ۔ ایف آئی اے کے سابق ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل احمد ریاض شیخ کے بارے میں حکومتی رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی جس پر عدالت نے کہا کہ یہ 90 صفحات پر مشتمل رپورٹ پہلے پیش کرنی چاہیے تھی اب عدالت یہاں اس کی ورق گردانی نہیں کر سکتی ۔ اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے کے آغا نے معذرت کی اور کہا کہ آئندہ ایسا نہیں ہوگا جبکہ احمد ریاض شیخ کے معاملے میں آج سیکرٹری داخلہ کو بھی طلب کر لیا گیا۔

Tags: پاکستان

پی سی او ججز توہین عدالت کیس ، جسٹس ناصر الملک اور جسٹس راجہ فیاض بینچ سے الگ ہو گئے

May 10th, 2010 · No Comments

نئے بینچ کی تشکیل تک مقدمے کی سماعت ملتوی ، جسٹس جہانزیب کے وکیل نعیم بخاری نے بینچ پر اعتراض کیا تھا
اسلام آباد ‘ سپریم کورٹ آف پاکستان کے دو ججوں نے وکلاء کے اعتراضات پرخود کو پی سی او ججزتوہین عدالت کیس کی سماعت سے الگ کر لیا۔معاملہ چیف جسٹس کو بھجوادیا دیا گیا سماعت نئے بینچ کی تشکیل تک ملتوی کر دی گئی۔پیر کے روز جسٹس ناصرالملک کی سربراہی میں جسٹس راجہ فیاض، جسٹس جواد ایس خواجہ،جسٹس طارق پرویز اورجسٹس خلجی عارف حسین پر مشتمل پانچ رکنی لارجر بینچ نے کی ۔ مقدمہ کی سماعت شروع ہوئی تو جسٹس جہانزیب کے وکیل نعیم بخاری نے بینچ کے تین ججز پر اعتراض کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ جسٹس ناصر الملک اور جسٹس راجہ فیاض 3نومبر کو ایمرجنسی کیخلاف فیصلہ دینے والے سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ میں شامل تھے اس لیے وہ مقدمہ کی سماعت نہ کریں۔ نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ بینچ کے رکن جسٹس طارق پرویز نے جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی سفاش پر حلف اٹھایا تھا اس لیے انھیں بھی بینچ سے الگ ہو جانا چاہیے۔ نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ کوڈ آف کنڈکٹ کے تحت ان تینوں جج اس کیس کی سماعت نہیں کر سکتے اور اس کیس کی سماعت وہ جج کریں جو کبھی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے مرتکب نہ ہوئے ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ہمارے ان اعتراضات کا فیصلہ سنایا جائے۔سماعت کے دوران ایس ایم ظفرایڈووکیٹ بھی عدالت میں پیش ہوئے۔ نعیم بخاری کے دلائل پر بینچ کے سربراہ جسٹس ناصرالملک اور جسٹس راجہ فیاض نے خود کو بینچ سے الگ کرتے ہوئے مقدمہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو بھجوادیا جبکہ مقدمہ کی سماعت نئے بینچ کی تشکیل تک ملتوی کر دی گئی۔سماعت کے بعد جسٹس جہانزیب کے وکیل نعیم بخاری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 3نومبر 2007کا فیصلہ سات ججوں کا نہیں تھا جسٹس بھگوان داس اور جسٹس غلام ربانی اس دن موجودنہیں تھے ۔ نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ توہین عدالت کے نوٹسز کی بجائے ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجا جانا چاہیے تھا۔ اگر سیکرٹری نے ابھی تک ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل کو نہیں بھیجا تو اس کیخلا ف توہین عدالت کی کاروائی کی جائے۔جبکہ ایس ایم ظفر ایڈووکیٹ نے کہا کہ نعیم بخاری کی طرف سے ابتدائی اعتراضات کی روشنی میں بینچ کی تحلیل خوش آئیند ہے۔3نومبر کے فیصلے کو جن ججز نے لکھا اور دستخط کیے وہ اس بینچ میں نہ بیٹھیں تو بہتر ہے۔31 جولائی کے فیصلے کی روشنی میں ججوں کا کیس سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجنا بہتر ہے۔ ججوں کے فیصلے میں ججوں کے ساتھ ساتھ باقی تیں شعبوں کو بھی حکم امتناعی دیا گیا تھا ان کے خلاف ابھی تک کوئی کاروائی نہیں کی گئی

Tags: پاکستان

آئین پر سمجھوتہ کرنا ہوتا تو این آر او کو تحفظ دے دیتے ، افتخار محمد چوہدری

May 10th, 2010 · No Comments

جب کوئی غلط کام کرتا ہے تو اسے ترقی دے دی جاتی ہے ، مقدمے کی سماعت کے دوران ریمارکس

اسلام آباد ‘ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ آئین پر سمجھوتہ کرنا ہوتا تو این آر او کو تحفظ دے دیتے ۔ ایف 9 پارک میں غیر ملکی ریستوران کی تعمیر کے خلاف کیس کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ہمیشہ آئین پر سمجھوتہ ہوتا رہا اور اسی وجہ سے آج ہم کہاں پہنچ گئے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ جب کوئی غلط کام کرتا ہے تو اسے ترقی دے دی جاتی ہے۔ سماعت کے دوران سی ڈی اے کے وکیل نے اعتراف کیا کہ میکڈونلڈ کا ٹھیکہ دیتے وقت آئین کے آرٹیکل 18 کی خلاف ورزی ہوئی ۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ وہ جانتے ہیں کہ آئین کی خلاف ورزی پر سی ڈی اے کو کیا سزا دی جا سکتی ہے اس سے قبل سماعت کے دوران جسٹس خلیل الرحمان رمدے نے کہا کہ چیف جسٹس کے بال نوچے جاتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ معافی دے دیں ۔ سب کو قید کر کے کہا جاتا ہے کہ معافی دے دیں کیا اس مقدس کام کے لیے صرف جج ہی باقی رہ گئے ہیں۔

Tags: پاکستان

سوئس کیس کا معاملہ ختم ہو گیا ، حکومت کا سپریم کورٹ کو صاف جواب

May 6th, 2010 · No Comments

سپریم کورٹ کا اٹارنی جنرل کی جانب سے سوئس کیسز کا معاملہ ختم ہونے کے موقف پر اظہار برہمی
سیکرٹری قانون اور چیئرمین نیب کو 13 مئی کوطلب کرکے سماعت ملتوی کردی

اسلام آباد ‘ سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کی جانب سے صدر آصف علی زرداری سے متعلق سوئس کیسز کے حوالے سے سوئس حکام کو کسی قسم کا خط نہ بھیجنے اور معاملہ ختم ہونے کا موقف پیش کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سیکرٹری قانون اور چیئرمین نیب کو 13 مئی کو عدالت طلب کرکے سماعت ملتو ی کردی ۔ جمعرات کو اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ صدر آصف علی زرداری سے متعلق سوئس کیسز کا معاملہ ختم ہو چکا ہے اس پر عدالت کے پانچ رکنی بینچ کے ججوں نے برہمی کا اظہار کیا ہے جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے احمد ریاض شیخ اور این آر او کے عدالتی فیصلے پر عمدلرآمد کیس کی سماعت کی ۔ اٹارنی جنرل مولوی انوار الحق نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود 16 دسمبر سے آج تک سوئس حکام سے کسی قسم کی کوئی خط وکتابت نہیں کی گئی ۔ انہوںنے سیکرٹری قانون کی طرف سے لکھا گیاتحریری خط عدالت میں پیش کیا جس میں کہا گیاہ ے کہ سوئس کیسز کا معاملہ اب ختم ہو چکا ہے ۔ اس لیے سوئس حکام سے خط وکتابت کی ضرورت نہیںہے ۔ اس پر پانچ رکنی بینچ نے شدید برہمی کا اظہار کیااور اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ بتایا جائے کہ عدالت کے فیصلے پر عملدرآمد میں کون رکاوٹ ڈال رہا ہے لیکن اٹارنی جنرل کوئی جواب نہیں دے سکے ۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ حکومت کی نیت درست ہے اور فیصلے پرعملدرآمد کے لیے کارروائی کا آعاز کردیا گیا ہے ۔ جس پر جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہاکہ پانچ ماہ پہلے سنائے جانے والے فیصلے پر آج عدالت کو بتایا جا رہا ہے ۔ کہ حکومت کی نیت درست ہے حالانکہ اٹارنی جنرل انور منصور نے تحریری طورپر سپریم کورٹ کو آگاہ کیا تھا کہ وزیر قانون بابراعوان فیصلے پرعملدرآمد میں رکاوٹ ہیں ۔ بینچ کے سربراہ ناصر الملک نے بھی استفسار کیا کہ عدالتی فیصلے پرعملدرامد کی تفصیل بتائیں لیکن اٹارنی جنرل کوئی جواب نہ دے سکے جس پر عدالت نے سیکرٹری قانون اور چیئرمین نیب کو 13 مئی کو عدالت میں طلب کرلیا او رسماعت تیرہ مئی تک ملتوی کردی ۔ا یڈیشنل ڈارئریکٹر ایف آئی اے احمد ریاض شیخ کے حوالے سے ڈپٹی اٹارنی جنرل آغا طارق نے عدالت کو بتایا کہ وزیراعظم نے سیکرٹری کشمیر کونسل کی سربراہی میں انکوائری کمیٹی کمیشن تشکیل دیا ہے جو سات دن کے اندر رپورٹ دے گا کہ این آر او فیصلہ نظر انداز کرکے احمد ریاض شیخ کا ایف آئی میں کس طرح تقرر کیا گیا تھا۔

Tags: بریکنگ نیوز , پاکستان